Ayah 7:28خلاصہ تفسیر
اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں (یعنی ایسا کام جس کی برائی کھلی ہوئی ہو اور انسانی فطرت اس کو برا سمجھتی ہو، جیسے ننگے ہو کر طواف کرنا) تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داد کو اسی طریق پر پایا ہے اور (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی ہم کو یہی بتلایا ہے (اے رسول اللہ ﷺ ان کے جاہلانہ استدلال کے جواب میں) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ فحش کام کی کبھی تعلیم نہیں دیتا، کیا (تم ایسا دعویٰ کرکے) خدا کے ذمہ ایسی باتیں لگاتے ہو جس کی تم کوئی سند نہیں رکھتے، آپ ﷺ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (تم نے جن فحش اور غلط کاموں کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے وہ تو غلط ہے، اب وہ بات سنو جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے واقعی طور پر دیا ہے وہ یہ ہے کہ) میرے رب نے تو حکم دیا ہے انصاف کرنے کا، اور یہ کہ تم ہر سجدہ (یعنی عبادت) کے وقت اپنا رخ سیدھا (اللہ کی طرف) رکھا کرو (یعنی کسی مخلوق کو اس کی عبادت میں شریک نہ کرو) اور اللہ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھا کرو (اس مختصر جملہ میں تمام مامورات شرعیہ اجمالاً آگئے، قسط میں حقوق العباد، اقیموا میں اعمال وطاعت، مخلصین میں عقائد) تم کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم (ایک وقت) پھر دوبارہ پیدا ہوگے، بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے (دنیا میں) ہدایت کی ہے، (ان کو اس وقت جزاء ملے گی) اور بعض پر گمراہی کا ثبوت ہوچکا ہے (ان کو سزا ملے گی) ان لوگوں نے شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور (باوجود اس کے پھر اپنی نسبت) خیال رکھتے ہیں کہ وہ راہ راست پر ہیں، اے اولاد آدم تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت (نماز کے لئے ہو یا طواف کے لئے) اپنا لباس پہن لیا کرو اور (جس طرح ترک لباس گناہ تھا، ایسے ہی حلال چیزوں کے کھانے پینے کو ناجائز سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے، اس لئے حلال چیزوں کو) خوب کھاؤ اور پیو اور حد شرعی سے مت نکلو، بیشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے حد سے نکل جانے والوں کو
معارف و مسائل
اسلام سے پہلے جاہلیت عرب کے زمانہ میں شیطان نے لوگوں کو جن شرمناک اور بیہودہ رسموں میں مبتلا کر رکھا تھا ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ قریش کے سوا کوئی شخص بیت اللہ کا طواف اپنے کپڑوں میں نہیں کرسکتا تھا، بلکہ یا وہ کسی قریشی سے اس کا لباس عاریت کے طور پر مانگے یا پھر ننگا طواف کرے۔
اور ظاہر ہے کہ سارے عرب کے لوگوں کو قریش کے لوگ کہاں تک کپڑے دے سکتے تھے، اس لئے ہوتا یہی تھا کہ یہ لوگ اکثر ننگے ہی طواف کرتے تھے، مرد بھی عورتیں بھی، اور عورتیں عموماً رات کے اندھیرے میں طواف کرتی تھیں، اور اپنے اس فعل کی شیطانی حکمت یہ بیان کرتے تھے کہ ”جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں انہی کپڑوں میں بیت اللہ کے گرد طواف کرنا خلاف ادب ہے اور عقل کے اندھے یہ نہ سمجھتے تھے کہ ننگے طواف کرنا اس سے زیادہ خلاف ادب اور خلاف انسانیت ہے، صرف قریش کا قبیلہ بوجہ خدام حرم ہونے کے اس عریانی کے قانون سے مستثنیٰ سمجھا جاتا تھا“۔
آیات مذکورہ میں پہلی آیت اسی بیہودہ رسم کو مٹانے اور اس کی خرابی کو بتلانے کے لئے نازل ہوئی ہے، اس آیت میں فرمایا کہ جب یہ لوگ کوئی فحش کام کرتے تھے تو جو لوگ ان کو اس فحش کام سے منع کرتے تو ان کا جواب یہ ہوتا تھا کہ ہمارے باپ دادا اور بڑے بوڑھے یونہی کرتے آئے ہیں، ان کے طریقہ کو چھوڑنا عار اور شرم کی بات ہے، اور یہ بھی کہتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔ (ابن کثیر)
اس آیت میں فحش کام سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک یہی ننگا طواف ہے اور اصل میں فحش، فحشاء، فاحشہ ہر ایسے برے کام کو کہا جاتا ہے جس کی برائی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو، اور عقل و فہم اور فطرت سلیمہ کے نزدیک بالکل واضح اور کھلی ہوئی ہو (مظہری) اور اس درجہ میں حسن و قبح کا عقلی ہونا سب کے نزدیک مسلّم ہے (روح)
پھر ان لوگوں نے اس بیہودہ رسم کے جواز کے لئے دو دلیلیں پیش کیں، ایک تقلید آبائی کہ باپ داداوں کا اتباع کوئی معقول چیز نہیں، ذرا سی عقل و ہوش رکھنے والا انسان بھی اس کو سمجھ سکتا ہے، کہ کسی طریقہ کے جواز کی یہ کوئی دلیل نہیں ہوسکتی کہ باپ دادا ایسا کرتے تھے، کیونکہ اگر کسی طریقہ اور کسی عمل کی صحت اور جواز کے لئے باپ داداوں کا طریقہ ہونا کافی سمجھا جاوے تو دنیا میں مختلف لوگوں کے باپ دادا مختلف اور متضاد طریقوں پر عمل کیا کرتے تھے اس دلیل سے تو دنیا بھر کے سارے گمراہ کن طریقے جائز اور صحیح قرار پاتے ہیں، غرض ان جاہلوں کی یہ دلیل کچھ قابل توجہ تھی، اس لئے یہاں قرآن کریم نے اس کا جواب دینا ضروری سمجھا اور دوسری روایات میں اس کا بھی جواب یہ دیا گیا ہے کہ اگر باپ دادا کوئی جہالت کا کام کریں تو وہ کس طرح قابل تقلید و اتباع ہوسکتا ہے۔
دوسری دلیل ان لوگوں نے اپنے ننگے طواف کے جواز پر یہ پیش کی کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہی ایسا حکم دیا ہے، یہ سراسر بہتان اور حق تعالیٰ کے حکم کے خلاف اس کی طرف ایک غلط حکم کو منسوب کرنا ہے، اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا(آیت) قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاْمُرُ بالْفَحْشَاۗءِ یعنی آپ ﷺ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی فحش کام کا حکم نہیں دیا کرتے، کیونکہ ایسا حکم دینا حکمت اور شان قدوسی کے خلاف ہے، پھر ان لوگوں کے اس بہتان و افتراء علی اللہ اور باطل خیال کو پوری طرح ادا کرنے کے لئے ان لوگوں کو اس طرح تنبیہ کی گئی، ۭاَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ، یعنی کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی چیزوں کو منسوب کرتے ہو جس کا تم کو علم نہیں، یعنی جس کے یقین کرنے کے لئے تمہارے پاس کوئی حجت نہیں، اور ظاہر ہے کہ بلا تحقیق کسی شخص کی طرف بھی کسی کام کو منسوب کرنا انتہائی دلیری اور ظلم ہے تو اللہ جل شانہ کی طرف کسی نقل کی ایسی غلط نسبت کرنا کتنا بڑا جرم اور ظلم ہوگا، حضرات مجتہدین آیات قرآنی سے بذریعہ اجتہاد جو احکام نکالتے اور بیان کرتے ہیں وہ اس میں داخل نہیں، کیونکہ ان کا استخراج قرآن کے الفاظ و ارشادات سے ایک حجت کے ماتحت ہوتا ہے۔
Ayah 7:29دوسری آیت میں رشاد فرمایا (آیت) قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بالْقِسْطِ ، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ننگے طواف کے جائز کرنے کی غلط نسبت کرنے والے جاہلوں سے آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ قسط کا حکم دیا کرتے ہیں، قسط کے اصلی معنی انصاف و اعتدال کے ہیں، اور اس جگہ قسط سے مراد وہ عمل ہے جو افراط وتفریط سے خالی ہو یعنی نہ اس میں کوتاہی ہو اور نہ مقررہ حد سے تجاوز ہو، جیسا کہ تمام احکام شرعیہ کا یہی حال ہے، اس لئے لفظ قسط کے مفہوم میں تمام عبادات اور طاعات اور عام احکام شرعیہ داخل ہیں (روح المعانی)
اس آیت میں قسط یعنی انصاف و اعتدال کا حکم بیان کرنے کے بعد ان لوگوں کی گمراہی اور بےراہی کے مناسب احکام شرعیہ سے دو حکم خصوصیت کے ساتھ بیان فرمائے گئے، ایک (آیت) ۣوَاَقِيْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ، اور دوسرا وَّادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ، پہلا حکم انسان کے ظاہری افعال سے متعلق ہے، اور دوسرا اس کے قلب اور باطن سے تعلق رکھتا ہے، پہلے حکم میں لفظ مسجد اکثر مفسرین کے نزدیک بمعنی سجدہ و عبادت آیا ہے، اور معنی یہ ہیں کہ ہر عبادت و نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھاکرو، اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا ٹھیک قبلہ کی طرف کرنے کا اہتمام کرو، اور رخ سیدھا کرنے کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اپنے ہر قول و فعل اور ہر عمل میں اپنا رخ اپنے رب کے حکم کے تابع رکھو، اس سے ادھر ادھر نہ ہونے پاوے، اس معنی کے لحاظ سے یہ حکم صرف نماز کے لئے خاص نہیں، بلکہ تمام عبادات و معاملات پر حاوی ہے۔
اور دوسرے حکم کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس طرح پکارو کہ عبادت خالص اسی کی ہو اس میں کسی دوسرے کی شرکت کسی حیثیت سے نہ ہو، یہاں تک کہ شرک خفی یعنی ریاء ونمود سے بھی پاک ہو۔
ان دونوں حکموں کو ساتھ ذکر کرنے سے اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ اپنے ظاہر و باطن دونوں کو احکام شریعت کے مطابق درست کرے، نہ صرف ظاہری اطاعت بغیر اخلاص کے کافی ہے، اور نہ محض اخلاص باطنی بغیر ظاہری اتباع شریعت کے کافی ہوسکتا ہے، بلکہ ہر شخض پر لازم ہے کہ اپنے ظاہر کو بھی شریعت کے مطابق درست کرے اور باطن کو بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص رکھے، اس سے ان لوگوں کی غلطی واضح ہوتی ہے جو شریعت و طریقت کو مختلف طریقے سمجھتے ہیں، اور خیال کرتے ہیں کہ طریقت کے مطابق باطن کو درست کرلینا کافی ہے، گو شریعت کے خلاف کرتے رہیں، یہ کھلی گمراہی ہے۔
آخر آیت میں ارشاد فرمایا كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمہیں اول پیدا فرمایا تھا اسی طرح قیامت کے روز دوبارہ تمہیں زندہ کرکے کھڑا کردیں گے، اس کی قدرت کامل کے آگے یہ کوئی مشکل چیز نہیں، اور شاید اسی آسانی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے یعیدکم کے بجائے تَعُوْدُوْنَ فرمایا کہ دوبارہ پیدا ہونے کے لئے کسی خاص عمل وسعی کی ضرورت نہیں (روح)
اس جملہ کو اس جگہ لانے کا ایک فائدہ بھی ہے کہ احکام شرعیہ پر پوری طرح قائم رہنا انسان کے لئے آسان ہوجائے، کیونکہ عالم آخرت اور قیامت اور اس میں اچھے برے اعمال کی جزاء و سزاء کا تصور ہی وہ چیز ہے جو انسان کے لئے ہر مشکل کو آسان اور ہر تکلیف کو راحت بنا سکتی ہے، اور تجربہ شاہد ہے کہ جب تک انسان پر یہ خوف مسلط نہ ہو کوئی وعظ وپند اس کو سیدھا کرسکتا ہے، اور نہ کسی قانون کی پابندی اس کو جرائم سے روک سکتی ہے۔
Ayah 7:30تیسری آیت میں فرمایا کہ بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور بعض پر گمراہی کا ثبوت ہوچکا ہے، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق اور دوست بنا لیا، اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ راہ پر ہیں۔
مراد یہ ہے کہ اگرچہ اللہ جل شانہ کی ہدایت عام تھی مگر ان لوگوں نے اس ہدایت سے منہ موڑا اور شیطانوں کا اتباع کرنے لگے، اور ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ یہ اپنی بیماری ہی کو صحت اور گمراہی کو ہدایت خیال کرنے لگے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ احکام شرعیہ سے جہل اور ناواقفیت کوئی عذر نہیں، ایک شخص اگر غلط راستہ کو صحیح سمجھ کر پورے اخلاص کے ساتھ اختیار کرلے تو وہ اللہ کے نزدیک معذور نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو ہوش و حواس اور عقل و دانش اسی لئے دی ہے کہ وہ اس سے کام لے کر کھڑے کھوٹے اور غلط صحیح کو پہچانے، پھر اس کو صرف اس کی عقل و دانش پر نہیں چھوڑا اپنے انبیاء بھیجے، کتابیں نازل فرمائیں، جن کے ذریعے صحیح و غلط اور حق و باطل کو خوب کھول کر واضح کردیا۔
اگر کسی شخص کو اس پر شبہ ہو کہ ایک شخص جو واقع میں اپنے کو حق پر سمجھتا ہو گو غلطی پر ہو پھر اس پر کیا الزام ہے، وہ معزور ہونا چاہئے، کیونکہ اس کو اپنی غلطی کی اطلاع ہی نہیں، جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل و ہوش پھر انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم عطا فرما دی ہیں، جن کے ذریعے کم از کم اس کو اپنے اختیار کئے ہوئے طریقہ کے خلاف کا احتمال اور تردد ضرور ہوجانا چاہئے، اب اس کا قصور یہ ہے کہ اس نے ان چیزوں کی طرف کوئی دھیان نہ دیا، اور جس غلط طریقہ کو اختیار کرلیا تھا اس پر جما رہا۔
البتہ جو شخص طلب حق میں اپنی پوری کوشش خرچ کرچکا، اور پھر بھی اس کی نظر صحیح راستہ اور حق بات کی طرف نہ پہنچی وہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزور ہو، جیسا کہ امام غزالی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب التفرقة بین الاسلام والزندقة میں فرمایا ہے، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Ayah 7:31چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا”اے اولاد آدم ! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ نکلو، بیشک اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے“۔ زمانہ جاہلیت کے عرب جیسا کہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرنے کو صحیح عبادت اور بیت اللہ کا احترام سمجھتے تھے اسی طرح ان میں یہ رسم بھی تھی کہ ایام حج میں کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے، صرف اتنا کھاتے تھے جس سے سانس چلتا رہے، خصوصاً گھی، دودھ اور پاکیزہ غذاؤں سے بالکل اجتناب کرتے تھے (ابن جریر)
ان کے اس بیہودہ طریقہ کار کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، جس نے بتلایا کہ ننگے ہو کر طواف کرنا بےحیائی اور سخت بےادبی ہے، اس سے اجتناب کریں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پاکیزہ غذاؤں سے بلاوجہ اجتناب کرنا بھی دین کی بات نہیں بلکہ اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرانا گستاخی اور عبادت میں حد سے تجاوز کرنا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے، اس لئے ایام حج میں خوب کھاؤ پیو، ہاں اسراف نہ کرو، حلال غذاؤں سے بالکل اجتناب کرنا بھی اسراف میں داخل ہے، اور حج کے اصل مقاصد اور ذکر اللہ سے غافل ہو کر کھانے پینے ہی میں مشغول رہنا بھی اسراف میں داخل ہے۔
یہ آیت اگرچہ جاہلیت عرب کی ایک خاص رسم عریانی کو مٹانے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کو وہ طواف کے وقت بیت اللہ کی تعظیم کے نام پر کیا کرتے تھے، لیکن ائمہ تفسیر اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی حکم کے کسی خاص واقعہ میں نازل ہونے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ حکم اسی واقعہ کے ساتھ خاص ہے، بلکہ اعتبار عموم الفاظ کا ہوتا ہے جو چیزیں ان الفاظ کے عموم میں شامل ہوتی ہیں سب پر یہی حکم عائد ہوتا ہے۔
نماز میں ستر پوشی فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی
اسی لئے اس آیت سے جمہور صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین نے کئی احکام نکالے ہیں، اول یہ کہ اس میں جس طرح ننگے طواف کو منع کیا گیا ہے، اسی طرح ننگے نماز پڑھنا بھی حرام اور باطل ہے، کیونکہ حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہےالطواف بالبیت صلوة، اس کے علاوہ خود اسی آیت میں جب کہ لفظ مسجد سے جمہور مفسرین کے نزدیک مراد سجدہ ہے، تو بحالت سجدہ عریانی کی ممانعت خود آیت میں صراحت سے آجاتی ہے، اور جب سجدہ میں ممنوع ہوئی تو رکوع اور قیام و قعود اور نماز کے تمام افعال میں اس کا لازم ہونا ظاہر ہے۔
پھر رسول کریم ﷺ کے ارشادات نے اس کو اور بھی واضح کردیا، ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ کسی بالغ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے جائز نہیں (ترمذی)
اور نماز کے علاوہ دوسرے حالات میں بھی ستر پوشی کا فرض ہونا دوسری آیات و روایات سے ثابت ہے، جن میں سے ایک آیت اسی سورت میں گزر چکی ہے، (آیت) یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم
خلاصہ یہ ہے کہ ستر پوشی انسان کے لئے پہلا انسانی اور اسلامی فرض ہے جو ہر حالت میں اس پر لازم ہے نماز اور طواف میں بدرجہ اولیٰ فرض ہے۔
نماز کے لئے اچھا لباس
دوسرا مسئلہ اس آیت میں یہ ہے کہ لباس کو لفظ زینت سے تعبیر کرکے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ نماز میں افضل و اولیٰ یہ ہے کہ صرف ستر پوشی پر کفایت نہ کی جائے بلکہ اپنی وسعت کے مطابق لباس پہنتے تھے، اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جمال کو پسند فرماتے ہیں، اس لئے میں اپنے رب کے لئے زینت و جمال اختیار کرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے(آیت) خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ
معلوم ہوا کہ اس آیت سے جیسا کہ نماز میں ستر پوشی کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے اسی طرح بقدر استطاعت صاف ستھرا اچھا لباس اختیار کرنے کی فضیلت اور استحباب بھی ثابت ہوتا ہے۔
نماز میں لباس کے متعلق چند مسائل
تیسرا مسئلہ اس جگہ یہ ہے کہ ستر جس کا چھپانا انسان پر ہر حال میں اور خصوصاً نماز و طواف میں فرض ہے، اس کی حد کیا ہے ؟ قرآن کریم نے اجمالاً ستر پوشی کا حکم دے کر اس کی تفصیلات کو رسول اللہ ﷺ کے حوالہ کیا، آپ ﷺ نے تفصیل کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک اور عورت کا ستر سارا بدن صرف چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں اور قدم مستثنیٰ ہیں۔
روایات حدیث میں یہ سب تفصیل مذکور ہے، مرد کے لئے ناف سے نیچے کا بدن یا گٹھنے کھلے ہوں تو ایسا لباس خود بھی گناہ ہے اور نماز بھی اس میں ادا نہیں ہوتی، اسی طرح عورت کا سر گردن یا بازو یا پنڈلی کھلی ہو تو ایسے لباس میں رہنا خود بھی ناجائز ہے اور نماز بھی ادا نہیں ہوتی، ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جس مکان میں عورت ننگے سر ہو وہاں نیکی کے فرشتے نہیں آتے۔
عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں اور قدم جو ستر سے مستثنیٰ قرار دیئے گئے، اس کے یہ معنی ہیں کہ نماز میں اس کے یہ اعضاء کھلے ہوں تو نماز میں کوئی خلل نہیں آئے گا، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غیر محرموں کے سامنے بھی وہ بغیر شرعی عذر کے چہرہ کھول کر پھرا کرے۔
یہ حکم تو فریضہ ستر کے متعلق ہے، جس کے بغیر نماز ہی ادا نہیں ہوتی اور چونکہ نماز میں صرف ستر پوشی ہی مطلوب نہیں، بلکہ لباس زینت اختیار کرنے کا ارشاد ہے، اس لئے مرد کو ننگے سر نماز پڑھنا یا مونڈھے یا کہنیاں کھول کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، خواہ قمیص ہی نیم آستین ہو یا آستین چڑھائی گئی ہو بہر حال نماز مکروہ ہے، اسی طرح ایسے لباس میں بھی نماز مکروہ ہے جس کو پہن کر آدمی اپنے دوستوں اور عوام کے سامنے جانا قابل شرم و عار سمجھے، جیسے صرف بنیان بغیر کرتے کے، اگرچہ پوری آستین بھی ہو، یا سر پر بجائے ٹوپی کے کوئی کپڑا یا چھوٹا دستی رومال باندھ لینا کہ کوئی سمجھدار آدمی اپنے دوستوں یا دوسروں کے سامنے اس ہیئت میں جانا پسند نہیں کرتا، تو اللہ رب العالمین کے دربار میں جانا کیسے پسندیدہ ہوسکتا ہے، سر، مونڈھے، کہنیاں کھول کر نماز کا مکروہ ہونا آیت قرآنی کے لفظ زینت سے بھی مستفاد ہے اور رسول کریم ﷺ کی تصریحات سے بھی۔
جس طرح آیت کا پہلا جملہ جاہلیت عرب کی رسم عریانی کو مٹانے کے لئے نازل ہوا، مگر عموم الفاظ سے اور بہت سے احکام و مسائل اس سے معلوم ہوئے، اسی طرح دوسرا جملہ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا بھی اگرچہ جاہلیت عرب کی اس رسم کو مٹانے کے لئے نازل ہوا کہ ایام حج میں اچھی غذا کھانے پینے کو گناہ سمجھتے تھے، لیکن عموم الفاظ سے یہاں بھی بہت سے احکام و مسائل ثابت ہوتے ہیں۔
کھانا پینا بقدر ضرورت فرض ہے
اول یہ کہ کھانا پینا شرعی حیثیت سے بھی انسان پر فرض و لازم ہے، باوجود قدرت کے کوئی شخص کھانا پینا چھوڑ دے، یہاں تک کہ مر جائے، یا اتنا کمزور ہوجائے کہ واجبات بھی ادا نہ کرسکے تو یہ شخص عند اللہ مجرم و گناہگار ہوگا۔
اشیاء عالم میں اصل اباحت و جواز ہے جب تک کسی دلیل سے حرمت ممانعت ثابت نہ ہو کوئی چیز حرام نہیں ہوتی
ایک مسئلہ اس آیت سے احکام القرآن جصاص کی تصریح کے مطابق یہ نکلا کہ دنیا میں جتنی چیزیں کھانے پینے کی ہیں، اصل ان میں یہ ہے کہ وہ سب جائز و حلال ہیں، جب تک کسی خاص چیز کی حرمت و ممانعت کسی دلیل شرعی سے ثابت نہ ہوجائے ہر چیز کو جائز و حلال سمجھا جائے گا، اس کی طرف اشارہ اس بات سے ہوا کہ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا کا مفعول ذکر نہیں فرمایا کہ کیا چیز کھاؤ پیو، اور علماء عربیت کی تصریح ہے کہ ایسے مواقع پر مفعول ذکر نہ کرنا اس کے عموم کی طرف اشارہ ہوا کرتا ہے کہ ہر چیز کھا پی سکتے ہو بجز ان اشیاء کے جن کو بالتصریح حرام کردیا گیا ہے (احکام القرآن، جصاص)
کھانے پینے میں اسراف جائز نہیں
آیت کے آخری جملہ وَلَا تُسْرِفُوْا سے ثابت ہوا کہ کھانے پینے کی تو اجازت ہے، بلکہ حکم ہے، مگر ساتھ ہی اسراف کرنے کی ممانعت ہے، اسراف کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا، پھر حد سے تجاوز کرنے کی کئی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ حلال سے تجاوز کرکے حرام تک پہنچ جائے، اور حرام کو کھانے پینے برتنے لگے اس کا حرام ہونا ظاہر ہے۔
دوسرے یہ کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو بلاوجہ شرعی حرام سمجھ کر چھوڑ دے جس طرح حرام کا استعمال جرم و گناہ ہے اسی طرح حلال کو حرام سمجھنا بھی قانون الٓہی کی مخالفت اور سخت گناہ ہے۔ (ابن کثیر، مظہری، روح المعانی)
اسی طرح یہ بھی اسراف ہے کہ بھوک اور ضرورت سے زیادہ کھائے پئے، اسی لئے فقہاء نے پیٹ بھرنے سے زائد کھانے کو ناجائز لکھا ہے (احکام القرآن وغیرہ) اسی طرح یہ بھی اسراف کے حکم میں ہے کہ باوجود قدرت و اختیار کے ضرورت سے اتنا کم کھائے جس سے کمزور ہو کر ادائے واجبات کی قدرت نہ رہے، ان دونوں قسم کے اسراف کو منع کرنے کے لئے قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے(آیت)
ان المبذرین کانو اخوان الشیطین
”یعنی فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں“۔
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا(آیت) والذین اذا انفقوا تا قواما۔
”یعنی اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو خرچ کرنے میں تو سط اور میانہ روی رکھتے ہیں نہ حد ضرورت سے زیادہ خرچ کریں اور نہ اس سے کم خرچ کریں“۔
کھانے پینے میں اعتدال ہی نافع دین و دنیا ہے
حضرت فاروق اعظم ؓ نے فرمایا کہ بہت کھانے پینے سے بچو، کیونکہ وہ جسم کو خراب کرتا ہے، بیماریاں پیدا کرتا ہے، عمل میں سستی پیدا کرتا ہے، بلکہ کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کرو کہ وہ جسم کی صحت کے لئے بھی مفید ہے اور اسراف سے دور ہے، اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فربہ جسم عالم کو پسند نہیں فرماتے (مراد یہ ہے کہ جو زیادہ کھانے سے اختیاری طور پر فربہ ہوگیا ہو) اور فرمایا کہ آدمی اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات کو دین پر ترجیح نہ دینے لگے (روح عن ابی نعیم)
سلف صالحین نے اس بات کو اسراف میں داخل قرار دیا ہے کہ آدمی ہر وقت کھانے پینے ہی کے دھندے میں مشغول رہے، یا اس کو دوسرے اہم کاموں میں مقدم جانے، جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس کا مقصد زندگی یہی کھانا پینا ہے، انہی حضرات کا مشہور مقولہ ہے کہ ”خوردن برائے زیستن ست نہ زیستین برائے خوردن“۔ یعنی کھانا اس لئے ہے کہ زندگی قائم رہے، یہ نہیں کہ زندگی کھانے پینے ہی کے لئے ہو۔
ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ نے اس کو بھی اسراف میں داخل فرمایا ہے کہ جب کسی چیز کو جی چاہئے اس کو ضرور پورا کرلے، ان من الاسراف ان تاکل کل ما اشتھیت (ابن ماجہ عن انس)
اور بیہقی رحمة اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ دن میں دو مرتبہ کھانا تناول فرمایا، تو ارشاد فرمایا اے عائشہ ! کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہارا شغل صرف کھانا ہی رہ جائے۔
اور میانہ روی کا یہ حکم جو کھانے پینے کے متعلق اس آیت میں مذکور ہے صرف کھانے پینے کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ پہننے اور رہنے سہنے کے ہر کام میں درمیانی کیفیت پسند اور محبوب ہے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جو چاہو کھاؤ پیو، اور جو چاہو پہنو، صرف دو باتوں سے بچو، ایک یہ کہ اس میں اسراف یعنی قدر ضرورت سے زیادتی نہ ہو، دوسرے فخر و غرور نہ ہو۔
ایک آیت سے آٹھ مسائل شرعیہ
خلاصہ یہ ہے کہ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا، کے کلمات سے آٹھ مسائل شرعیہ نکلے۔ اول یہ کہ کھانا پینا بقدر ضرورت فرض ہے، دوسرے یہ کہ جب تک کسی چیز کی حرمت کسی دلیل شرعی سے ثابت نہ ہوجائے ہر چیز حلال ہے، تیسرے یہ کہ جن چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ممنوع کردیا اس کا استعمال اسراف اور ناجائز ہے، چوتھے یہ کہ جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی اسراف اور سخت گناہ ہے، پانچویں یہ کہ پیٹ بھر جانے کے بعد اور کھانا ناجائز ہے، چھٹے یہ کہ اتنا کم کھانا جس سے کمزور ہو کر ادائے واجبات کی قدرت نہ رہی، درست نہیں ہے، ساتویں یہ کہ ہر وقت کھانے پینے کی فکر میں رہنا بھی اسراف ہے، آٹھویں یہ بھی اسراف ہے کہ جب کبھی کسی چیز کو جی چاہے تو ضروری ہی اس کو حاصل کرے۔
یہ تو اس آیت کے فوائد دینیہ ہیں اور اگر طبی طور پر غور کیا جائے تو صحت و تندرستی کے لئے اس سے بہتر کوئی نسخہ نہی، کھانے پینے میں اعتدال، ساری بیماریوں سے امان ہے۔
تفسیر روح المعانی اور مظہری وغیرہ میں ہے کہ امیر المؤ منین ہارون رشید کے پاس ایک نصرانی طبیب علاج کے لئے رہتا تھا، اس نے علی بن حسین بن واقد سے کہا کہ تمہاری کتاب یعنی قرآن میں علم طب کا کوئی حصہ نہیں، حالانکہ دنیا میں دو ہی علم علم ہیں، ایک علم ادیان دوسرا علم ابدان جس کا نام طب ہے، علی بن حسین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سارے فن طب و حکمت کو آدھی آیت قرآن میں جمع کردیا ہے، وہ یہ کہ ارشاد فرمایا کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا (اور تفسیر ابن کثیر میں یہ قول بعض سلف کے حوالہ سے بھی نقل کیا ہے) ، پھر اس نے کہا کہ اچھا تمہارے رسول ﷺ کے کلام میں بھی طب کے متعلق کچھ ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے چند کلمات میں سارے فن طب کو جمع کردیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ معدہ بیماریوں کا گھر ہے، اور مضر چیزوں سے پرہیز دواء کی اصل ہے اور ہر بدن کو وہ چیز دو جس کا وہ عادی ہے (کشاف، روح) نصرانی طبیب نے یہ سن کر کہا کہ تمہاری کتاب اور تمہارے رسول ﷺ نے جالینوس کے لئے کوئی طب نہیں چھوڑی۔
بیہقی نے شعب الایمان میں بروایت ابی ہریرہ ؓ نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ معدہ بدن کا حوض ہے، سارے بدن کی رگیں اسی حوض سے سیراب ہوتی ہیں، اگر معدہ درست ہے تو ساری رگیں یہاں سے صحت مند غذا لے کر لوٹیں گی، اور وہ خراب ہے تو ساری رگیں بیماری لے کر بدن میں پھیلیں گی۔
محدثین نے ان روایات حدیث کے الفاظ میں کچھ کلام کیا ہے، لیکن کم کھانے اور محتاط رہنے کی تاکیدات جو بیشمار احادیث میں موجود ہیں اس میں سب کا اتفاق ہے (روح)
Ayah 7:32خلاصہ تفسیر
(جو لوگ اللہ کی حلال کی ہوئی چیزیں ملبوسات اور مطعومات و مشروبات کو بےدلیل بلکہ خلاف دلیل حرام سمجھ رہے ہیں ان سے) آپ ﷺ فرما دیجئے کہ (یہ بتلاؤ) اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے کپڑوں کو جو اس نے اپنے بندوں کے (استعمال کے) واسطے بنائے ہیں اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو (جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے) کسی شخص نے حرام کیا ہے (یعنی حلال و حرام قرار دینا تو خالق ومالک کائنات کا کام ہے، تم اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال یا حرام کہنے والے کون ہو ؟ آیات مذکورہ میں لباس اور کھانے پینے کی چیزوں کو انعام خدا وندی قرار دیا ہے، اس سے کفار کو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ یہ انعام تو ہمیں خوب مل رہا ہے، اگر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوتا اور ہمارے عقائد و اعمال اس کے خلاف ہوتے تو یہ انعام ہمیں کیوں ملتا، اس شبہ کے جواب کیلئے فرمایا کہ اے محمد ﷺ آپ ﷺ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ (انعامات الٓہیہ کے متعلق استعمال کی اجازت دلیل مقبولیت نہیں، ہاں جس استعمال کے بعد کوئی وبال نہ ہو وہ استعمال کرتے ہیں اتنا ہی ان کا وبال اور عذاب آخرت بڑھتا رہتا ہے، اس لئے فرمایا کہ) یہ اشیاء (لباس اور کھانے پینے کی چیزیں) اس طور پر کہ قیامت کے روز (بھی کدورات سے اور عذاب سے) خالص رہیں دنیوی زندگی میں خاص اہل ایمان ہی کے لئے ہیں (بخلاف کفار کے کہ گو دنیا میں انہوں نے اللہ کی نعمتوں کو استعمال کرکے عیش و عشرت میں بسر کیا، مگر چونکہ ان نعمتوں کا شکر ایمان و اطاعات کے ذریعہ ادا نہیں کیا، اس لئے وہاں یہ نعمتیں وبال اور عذاب بن جاویں گی) ہم اسی طرح تمام آیات کو سمجھداروں کے واسطے صاف صاف بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) فرمائیے کہ (تم نے جن حلال چیزوں کو بلا وجہ حرام سمجھ رکھا ہے وہ تو اللہ نے حرام نہیں کی) البتہ میرے رب نے صرف (ان چیزوں کو جن میں سے اکثر میں تم مبتلا ہو) حرام کیا ہے (مثلاً) تمام فحش باتوں کو ان میں جو علانیہ ہیں وہ بھی (جیسے ننگے ہو کر طواف کرنا) اور ان میں جو پوشیدہ ہیں وہ بھی (جیسے بدکاری) اور ہر گناہ کی بات کو (حرام کیا ہے) اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو (حرام کیا ہے) اور اس بات کو (حرام کیا ہے) کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک (عبادت) ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند (اور دلیل) نازل نہیں فرمائی (نہ کلیاً نہ جزئیاً) اور اس بات کو (حرام کیا ہے) کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کی تمہارے پاس کوئی سند نہ ہو (جس طرح (آیت) قل امر ربی بالقسط میں تمام مامورات جن پر عمل کرنا مشروع ہے داخل ہوگئے، اسی طرح اِنَّمَا حَرَّمَ میں تمام منہیات جن کی ممانعت ہے شامل ہوگئے) اور (اگر ان محرمات کے ارتکاب کرنے والوں کو فوراً سزا نہ ہونے سے ان کی تحریم میں کسی کو شبہ ہوجاوے تو اس کا جواب یہ ہے کہ علم الٰہی میں) ہر گروہ (کے ہر فرد کی سزا) کے لئے (بمقتضائے حکمت) ایک میعاد معیّن ہے سو جس وقت ان کی (وہ) میعاد معین (نزدیک) آ جاوے گی اس وقت ایک ساعت نہ (اس سے) پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے (بلکہ فوراً ہی سزا جاری ہوجاوے گی اس میعاد کے قبل سزا نہ ہونا اس کی دلیل نہیں کہ ان محرکات پر سزا نہ ہوگی)
معارف و مسائل
پہلی آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو عبادات میں غلو اور خود ایجاد تنگیاں پیدا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرنے اور اپنے اوپر حرام قرار دینے کو عبادت و اطاعت سمجھتے ہیں جیسے مشرکین مکہ ایام حج میں بوقت طواف لباس پہننا ہی جائز نہ سمجھتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کی حلال اور اچھی غذاؤں سے پرہیز کرنے کو عبادت جانتے تھے۔
ایسے لوگوں کو زجر اور سرزش کے انداز میں تنبیہ کی گئی کہ اللہ کی زینت یعنی عمدہ لباس جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمایا ہے، اور پاکیزہ عمدہ غذائیں جو اللہ نے عطا فرمائی ہیں ان کو کس نے حرام کیا۔
عمدہ لباس اور لذیز کھانے سے پرہیز اسلام کی تعلیم نہیں
مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو حلال و حرام ٹھہرانا صرف اس ذات پاک کا حق ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے، کسی دوسرے کی اس میں مداخلت جائز نہیں، اس لئے وہ لوگ قابل عتاب و عذاب ہیں جو اللہ کی حلال کی ہوئی عمدہ پوشاک یا پاکیزہ اور لذیز خوراک کو حرام سمجھیں، وسعت ہوتے ہوئے پھٹے حالوں گندہ پراگندہ رہنا نہ کوئی اسلام کی تعلیم ہے، نہ کوئی اسلام میں پسندیدہ چیز ہے، جیسا کہ بہت سے جاہل خیال کرتے ہیں۔
سلف صالحین اور ائمہ اسلام میں بہت سے اکابر جن کو اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت عطا فرمائی تھی اکثر عمدہ اور پیش قیمت لباس استعمال فرماتے تھے، خواجہ دوعالم آنحضرت ﷺ نے بھی جب وسعت ہوئی عمدہ سے عمدہ لباس بھی زیب تن فرمایا ہے، ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ کے بدن مبارک پر ایسی چادر تھی جس کی قیمت ایک ہزار درہم تھی، امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے کہ چار سو گنّی کی قیمت کی چادر استعمال فرمائی، اسی طرح حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہ ہمیشہ نفیس اور عمدہ لباس استعمال فرماتے تھے، ان کے لئے تو کسی صاحب نے سال بھر کے لئے تین سو ساٹھ جوڑوں کا سالانہ انتظام اپنے ذمہ لیا ہوا تھا، اور جو جوڑا امام رحمة اللہ علیہ کے بدن پر ایک مرتبہ پہنچتا تھا دوبارہ استعمال نہ ہوتا تھا، کیونکہ صرف ایک روز استعمال کرکے کسی غریب طالب علم کو دیدتے تھے۔
وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو اپنی نعمت اور وسعت عطا فرماویں تو اللہ تعالیٰ اس کو پسند فرماتے ہیں کہ اس کی نعمت کا اثر اس کے لباس وغیرہ میں دیکھا جائے، اس لئے کہ اظہار نعمت بھی ایک قسم کا شکر ہے، اس کے بالمقابل وسعت ہوتے ہوئے پھٹے پرانے یا میلے کچیلے کپڑے استعمال کرنا ناشکری ہے۔
ہاں ضروری بات یہ ہے کہ دو چیزوں سے بچے، ایک ریاء و نمود، دوسرے فخر و غرور، یعنی محض لوگوں کو دکھلانے اور اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے لباس فاخر استعمال نہ کرے، اور ظاہر ہے کہ سلف صالحین ان دونوں چیزوں سے بری تھے۔
اور رسول اللہ ﷺ اور سلف صالحین میں حضرت فاروق اعظم ؓ اور بعض دوسرے صحابہ سے جو عام حالات میں معمولی قسم کا لباس یا پیوند زدہ کپڑے استعمال کرنا منقول ہے اس کی دو وجہ تھیں، ایک تو یہ کہ اکثر جو کچھ مال آتا وہ فقراء، مساکین اور دینی کاموں میں خرچ کر ڈالتے تھے، اپنے لئے باقی ہی نہی رہتا تھا، جس سے عمدہ لباس آسکے، دوسرے یہ کہ آپ مقتدائے خلائق تھے، اس سادہ اور سستی پوشاک کے رکھنے سے دوسرے امراء کو اس کی تلقین کرنا تھا، تاکہ عام غرباء فقراء پر ان کی مالی حیثیت کا رعب نہ پڑے۔
اسی طرح صوفیائے کرام جو مبتدیوں کو لباس زینت اور عمدہ لذیز کھانوں سے روکتے ہیں، اس کا منشاء بھی یہ نہیں کہ ان چیزوں کو دائمی طور پر ترک کرنا کوئی کار ثواب ہے، بلکہ نفس کی خواہشات پر قابو پانے کے لئے ابتداء سلوک میں ایسے مجاہدے بطور علاج ودواء کے کردیئے جاتے ہیں، اور جب وہ اس درجہ پر پہنچ جائے کہ خواہشات نفسانی پر قابو پالے کہ اس کا نفس اس کو حرام و ناجائز کی طرف نہ کھینچ سکے، تو اس وقت تمام صوفیائے کرام عام سلف صالحین کی طرح عمدہ لباس اور لذیز کھانوں کو استعمال کرتے ہیں، اور اس وقت یہ طیبات رزق ان کے لئے معرفت خداوندی اور درجات قرب میں رکاوٹ کے بجائے اضافہ اور تقرّب کا ذریعہ بنتے ہیں۔
خوراک و پوشاک میں سنت رسول اللہ ﷺ
خوراک و پوشاک کے بارے میں خلاصہ سنت رسول اللہ ﷺ اور صحابہ وتابعین کا یہ ہے کہ ان چیزوں میں تکلف نہ کرے، جیسی پوشاک و خوراک بآسانی میسر ہو اس کو شکر کے ساتھ استعمال کرے، موٹا کپڑا، خشک غذا ملے تو یہ تکلف نہ کرے کہ کسی نہ کسی طرح اچھا ہی حاصل کرے خواہ قرض لینا پڑے، یا اس کی فکر میں اپنے آپ کو کسی دوسری مشکل میں مبتلا کرنے کی نوبت آئے۔
اسی طرح عمدہ نفیس لباس یا لذیز کھانا میسر آئے تو یہ تکلف نہ کرے کہ اس کو جان بوجھ کر خراب کرلے یا اس کے استعمال سے پرہیز کرے، جس طرح بڑھیا لباس اور غذا کی جستجو تکلف ہے اسی طرح بڑھیا کو خراب کرنا یا اس کو چھوڑ کر گھٹیا استعمال کرنا بھی تکلف و مذموم ہے۔
آیت کے اگلے جملہ میں اس کی ایک خاص حکمت یہ بتلائی گئی کہ دنیا کی تمام نعمتیں نفیس اور عمدہ لباس، پاکیزہ اور لذیز غذائیں دراصل اطاعت شعار مؤمنین ہی کے لئے پیدا کی گئی ہیں، دوسرے لوگ ان کے طفیل میں کھا پی رہے ہیں، کیونکہ یہ دنیا دار العمل ہے، دار الجزاء نہیں یہاں کھڑے کھوٹے اور اچھے برے کا امتیاز دنیا کی نعمتوں میں نہیں کیا جاسکتا، بلکہ رحمن دنیا کی نعمتوں کا یہ دسترخوان عام یہاں سب کے لئے یکساں کھلا ہوا ہے، بلکہ دنیا میں عادة اللہ یہ ہے کہ اگر مومن و فرمانبردار بندوں سے اطاعت شعاری میں کچھ کمی ہوجاتی ہے تو دوسرے لوگ ان پر غالب آکر دنیوی نعمتوں کے جزائن پر قابض ہوجاتے ہیں اور یہ فقر و فاقہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
مگر یہ قانون صرف اسی دار العمل دنیا کے اندر ہے، اور آخرت میں ساری نعمتیں اور راحتیں صرف اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اطاعت شعار بندوں کے لئے مخصوص ہوں گی، یہی معنی ہیں آیت کے اس جملہ کے (آیت) قُلْ هِىَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ، یعنی آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ دنیا کی سب نعمتیں حیات دنیا میں بھی دراصل مؤمنین ہی کا حق ہیں، اور قیامت کے دن تو خالص انہی کے ساتھ مخصوص ہوں گی۔
اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس جملہ کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ دنیا کی ساری نعمتیں اور راحتیں اس خاص کیفیت کے ساتھ کہ وہ آخرت میں وبال جان نہ بنیں صرف فرمانبردار مؤمنین کا حصہ ہے، بخلاف کفار و فجار کے کہ گو دنیا میں نعمتیں ان کو بھی ملتی ہیں بلکہ زیادہ ملتی ہیں، مگر ان کی یہ نعمتیں آخرت میں وبال جان اور عذاب دائمی بننے والی ہیں، اس لئے نتیجہ کے اعتبار سے ان کے لئے یہ کوئی عزت و راحت کی چیز نہ ہوئی۔
اور بعض حضرات مفسرین نے اس کے یہ معنی قرار دئیے کہ دنیا میں ساری نعمتوں اور راحتوں کے ساتھ محنت و مشقت اور پھر زوال کا خطرہ اور پھر طرح طرح کے رنج و غم لگے ہوئے ہیں، خالص نعمت اور خالص راحت کا یہاں وجود ہی نہیں، البتہ قیامت میں جس کو یہ نعمتیں ملیں گی وہ خالص ہو کر ملیں گی، نہ ان کے ساتھ کوئی محنت و مشقت ہوگی، اور نہ ان کے زوال یا نقصان کا کوئی خطرہ، اور نہ ان کے بعد کوئی رنج و مصیبت، تینوں مفہوم آیت کے اس جملہ میں کھپ سکتے ہیں، اور اسی لئے مفسرین صحابہ وتابعین نے ان کو اختیار کیا ہے۔
آخر آیت میں فرمای آكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ، ”یعنی ہم اپنی قدرت کامل کی نشانیاں سمجھدار لوگوں کے لئے اسی طرح تفصیل و وضاحت سے بیان کیا کرتے ہیں“۔ جس سے ہر عالم و جاہل سمجھ لے، اس آیت میں لوگوں کے غلو اور ان جاہلانہ خیالات کی تردید تھی کہ اچھا لباس اور اچھا کھانا ترک کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔
Ayah 7:33اس کے بعد دوسری آیت میں کچھ ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ ان کو ترک کرنے ہی سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے، اور اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ دوہری جہالت میں مبتلا ہیں، ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی عمدہ اور نفیس چیزوں کو اپنے اوپر بلاوجہ حرام کرکے ان نعمتوں سے محروم ہوگئے، اور دوسری طرف جو چیزیں حقیقةً حرام تھیں، اور جن کے استعمال سے اللہ تعالیٰ کا غضب اور آخرت کا عذاب نتیجہ میں آنے والا ہے، ان کے استعمال میں مبتلا ہو کر آخرت کا وبال خرید لیا، اور اس طرح دنیا و آخرت دونوں جگہ نعمتوں سے محروم ہو کر خسران دنیا و آخرت کا مورد بن گئے، ارشاد فرمایا
اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔
”یعنی جن چیزوں کو تم نے خواہ مخواہ حرام ٹھہرا لیا وہ تو حرام نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے تمام بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے خواہ وہ کھلے ہوئے ہوں یا چھپے ہوئے، اور ہر گناہ کے کام کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بلا دلیل کسی کو شریک ٹھہرانے کو اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگا دو جس کی تم سند نہ رکھو“۔
اس تفصیل میں لفظ اثم کے تحت وہ تمام گناہ آگئے جن کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے، اور بَغُی میں وہ گناہ جن کا تعلق دوسروں کے معاملات اور حقوق سے ہو، اور شرک اور افتراء علی اللہ یہ عقیدہ کا گناہ عظیم ظاہری ہے۔
اس خاص تفصیل کا ذکر اس لئے بھی کیا گیا کہ اس میں تقریباً ہر طرح کے محرکات اور گناہ پورے آگئے، خواہ عقیدہ کے گناہ ہوں یا عمل کے، اور پھر ذاتی عمل کے گناہ ہوں یا لوگوں کے حقوق، اور اس لئے بھی کہ یہ اہل جاہلیت ان سے جرائم اور محرمات میں مبتلا تھے، اس طرح ان کی دوسری جہالت کو کھولا گیا کہ حلال چیزوں سے پرہیز کرتے اور حرام کے استعمال سے نہیں جھجکتے۔
اور دین میں غلو اور نو ایجاد بدعات کا یہ لازمی خاصہ ہے کہ جو شخص ان چیزوں میں مبتلا ہوتے ہیں وہ دین کی اصل اور اہم ضروریات سے عادة غافل ہوجاتے ہیں، اس لئے غلو فی الدین اور بدعت کا نقصان دوہرا ہوتا ہے، ایک خود غلو اور بدعت میں مبتلا ہونا گناہ ہے، دوسرے اس کے بالمقابل صحیح دین اور سنت کے طریقوں سے محروم ہونا۔ نعوذ باللہ منہ
Ayah 7:34پہلی اور دوسری دونوں آیتوں میں مشرکین و مجرمین کے دو غلط کاموں کا ذکر تھا، ایک حلال کو حرام ٹھہرانا دوسرے حرام کو حلال قرار دینا، تیسری آیت میں ان کے انجام بد اور آخرت کی سزا و عذاب کا بیان ہے، ارشاد فرمایا (آیت) وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ یعنی یہ مجرمین جو ہر طرح کی سرکشی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں پل رہے ہیں، اور دنیا میں بظاہر ان پر کوئی عذاب آتا نظر نہیں آتا اس عادة اللہ سے غافل نہ رہیں کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو اپنی رحمت سے ڈھیل دیتے رہتے ہیں، کہ کسی طرح یہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں اس ڈھیل اور مہلت کی ایک میعاد معین ہوتی ہے، جب وہ میعاد آپہنچتی ہے تو ایک گھڑی بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی، اور یہ عذاب میں پکڑ لئے جاتے ہیں، کبھی دنیا ہی میں کوئی عذاب آجاتا ہے اور اگر دنیا میں عذاب نہ آیا تو مرتے ہی عذاب میں داخل ہوجاتے ہیں۔
اس آیت میں میعاد معیّن سے آگے پیچھے نہ ہونے کا جو ذکر ہے یہ ایسا ہی محاورہ ہے جیسے ہمارے عرف میں خریدار ودکاندار سے کہتا ہے کہ قیمت میں کچھ کمی زیادتی ہو سکتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ قیمت کی زیادتی اس کو مطلوب نہیں صرف کمی کو پوچھتا ہے، مگر تبعاً اس کے ساتھ زیادتی کا ذکر کیا جاتا ہے، اسی طرح یہاں اصل مقصد تو یہ ہے کہ میعاد معیّن کے بعد تاخیر نہیں ہوگی، اور تقدیم کا ذکر تاخیر کے ساتھ بطور محاورہ عوام کے کردیا گیا۔
Ayahs 7:35–39خلاصہ تفسیر
(ہم نے عالم ارواح ہی میں کہہ دیا تھا) اے اولاد آدم کی اگر تمہارے پاس پیغمبر آویں جو تم ہی میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے سو (ان کے آنے پر) جو شخص (تم میں ان آیات کی تکذیب سے) پرہیز رکھے اور (اعمال کی) درستی کرے (مراد یہ کہ کامل اتباع کرے) سو ان لوگوں پر (آخرت میں) نہ کچھ اندیشہ (کی بات واقع ہونے والی) ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ (تم میں سے) ہمارے ان احکام کو جھوٹا بتادیں گے اور ان (کے قبول کرنے) سے تکبر کریں گے وہ لوگ دوزخ (میں رہنے) والے ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (جب تکذیب کرنے والوں کا مستحق وعید شدید ہونا اجمالاً معلوم ہوگیا سو اب تفصیل سنو کہ) اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے (یعنی جو بات خدا کی کہی ہوئی نہ ہو اس کو خدا کی کہی ہوئی کہے) یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلا دے (یعنی جو بات خدا کی کہی ہوئی ہو اس کو بےکہی بتلا دے) ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ (رزق اور عمر) ہے وہ تو ان کو (دنیا میں) مل جاوے گا (لیکن آخرت میں مصیبت ہی مصیبت ہے) یہاں تک کہ (برزخ میں مرنے کے وقت تو ان کی یہ حالت ہوگی کہ) جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی جان قبض کرنے آویں گے تو (ان سے) کہیں گے کہ (کہو) وہ کہاں گئے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے (اب اس مصیبت میں کیوں نہیں کام آتے) وہ (کفار) کہیں گے کہ ہم سے سب غائب ہوگئے (یعنی واقعی کوئی کام نہ آیا) اور (اس وقت) اپنے کافر ہونے کا اقرار کرنے لگیں گے (لیکن اس وقت کا اقرار محض بےکار ہوگا، اور بعض آیات میں ایسے ہی سوال و جواب کا وقوع قیامت میں بھی مذکور ہے سو دونوں موقعوں پر ہونا ممکن ہے، اور قیامت میں ان کا یہ حال ہوگا کہ) اللہ تعالیٰ فرماوے گا کہ جو فرقے (کفار کے) تم سے پہلے گزر چکے ہیں جنّات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ (چنانچہ آگے پیچھے سب کفار اس میں داخل ہوں گے، اور یہ کیفیت واقع ہوگی کہ) جس وقت بھی کوئی جماعت (کفار کی) داخل (دوزخ) ہوگی اپنی جیسی دوسری جماعت کو بھی (جو انہی جیسی کافر ہوں گے اور ان سے پہلے دوزخ میں جا چکے ہوں گے) لعنت کرے گی (یعنی باہم ہمدردی نہ ہوگی، بلکہ بوجہ انکشاف حقائق کے ہر شخص دوسرے کو بری نظر سے دیکھے گا اور برا کہے گا) یہاں تک کہ جب اس (دوزخ) میں سب جمع ہوجاویں گے تو (اس وقت) پچھلے لوگ (جو بعد میں داخل ہوئے ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو کفر میں دوسروں کے تابع تھے) پہلے (داخل ہونے والے) لوگوں کی نسبت (یعنی ان لوگوں کی نسبت جو بوجہ رئیس و پیشوائے کفر ہونے کے دوزخ میں پہلے داخل ہوں گے یہ) کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا، سو ان کو دوزخ کا عذاب (ہم سے) دوگنا دیجئے، (اللہ تعالیٰ) ارشاد فرمائیں گے کہ (ان کو دوگنا ہونے سے تم کو کون سی تسلی و راحت ہوجائے گی، بلکہ چونکہ تمہارا عذاب بھی ہمیشہ آناً فاناً بڑھتا جاوے گا، اس لئے تمہارا عذاب بھی ان کے دوگنے عذاب ہی جیسا ہوگیا، پس اس حساب سے) سب ہی کا (عذاب) دوگنا ہے، لیکن (ابھی) تم کو (پوری) خبر نہیں (کیونکہ ابھی تو عذاب کی ابتداء ہی ہے، اس تزاید کو دیکھا نہیں اس لئے ایسی باتیں بنا رہے ہو جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کے تضاعف عذاب کو اپنے لئے موجب شفاء غیظ و باعث تسلی سمجھ رہے ہو) اور پہلے (داخل ہونے والے) لوگ پچھلے (داخل ہونے والے) لوگوں سے (خدا تعالیٰ کے اس جواب سے مطلع ہوکر) کہیں گے (کہ جب سب کی سزا کی یہ حالت ہے تو) پھر تم کو ہم پر (تخفیف عذاب کے بارے میں) کوئی فوقیت نہیں (کیوں کہ تخفیف نہ ہم کو نہ تم کو) سو تم بھی اپنے کردار (بد) کے مقابلے میں عذاب (متزاید) کا مزہ چکھتے رہو۔