7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ کے لئے ہیں سب اچھے نام سو اس کو پکارو وہی نام کہہ کر اور چھوڑ دو ان کو جو کج راہ چلتے ہیں اس کے نام میں، وہ بدلہ پا رہیں گے اپنے کئے کا۔

خلاصہ تفسیر اور اچھے اچھے (مخصوص) نام اللہ ہی کے لئے (خاص) ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور (دوسروں پر ان ناموں کا اطلاق مت کیا کرو بلکہ) ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے (مذکورہ) ناموں میں کج روی کرتے ہیں (اس طرح سے کہ غیر اللہ پر ان کا اطلاق کرتے ہیں جیسا وہ لوگ ان کو معبود اور الہ اعتقاد کے ساتھ کہتے تھے) ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔ معارف و مسائل پچھلی آیات میں اہل جہنم کا ذکر تھا جنہوں نے اپنی عقل و حواس کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے دیکھنے، سننے اور سمجھنے سوچنے میں صرف نہیں کیا اور آخرت کی دائمی اور لازوال زندگی کے لئے کوئی سامان فراہم نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوگیا کہ وہ خداداد عقل و بصیرت کو ضائع کرکے ذکر اللہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح و فلاح سے غافل ہوگئے اور جانوروں سے زیادہ گمراہی اور بےوقوفی میں مبتلا ہوگئے۔ مذکورہ آیت میں ان کے مرض کا علاج اور درد کی دوا بتلائی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا اور ذکر اللہ کی کثرت ہے، فرمایا (آیت) وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا، یعنی اللہ ہی کے لئے ہیں اچھے نام، تو تم پکارو اس کو انہی ناموں سے۔ اسماء حسنی کی تشریح اچھے نام سے مراد وہ نام ہیں جو صفات کمال کے اعلی درجہ پر دلالت کرنے والے ہیں، اور ظاہر ہے کہ کسی کمال کا اعلی درجہ جس سے اوپر کوئی درجہ نہ ہوسکے وہ صرف خالق کائنات جل و عل شانہ ہی کو حاصل ہے اس کے سوا کسی مخلوق کو یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر کامل سے دوسرا شخص اکمل اور فاضل سے افضل ہوسکتا ہے (آیت) فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ، کا یہی مطلب ہے کہ ہر ذی علم سے بڑھ کر کوئی دوسرا علیم ہوسکتا ہے۔ اسی لئے اس آیت میں ایسی عبارت اختیار کی گئی جس سے معلوم ہو کہ یہ اسماء حسنی صرف اللہ ہی کی خصوصیت ہے دوسروں کو حاصل نہیں، (آیت) فَادْعُوْهُ بِهَا، یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اسماء حسنی ہیں اور وہ اسماء اسی کی ذات کے ساتھ خاص ہیں تو لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو اور انہی اسماء حسنی کے ساتھ پکارو۔ پکارنا یا بلانا دعا کا ترجمہ ہے، اور دعا کا لفظ قرآن میں دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے، ایک اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کی حمد و ثنا، تسبیح و تمجید کے ساتھ، دوسرے حاجات و مشلات کے وقت اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت طلب کرنا اور مصائب وآفات سے نجات اور مشکلات کی آسانی کی درخواست کرنا، اس آیت میں فادْعُوْهُ بِهَا کا لفظ دونوں معنی کو شامل ہے تو معنی آیت کے یہ ہوئے کہ حمد و ثنا اور تسبیح کے لائق بھی صرف اسی کی ذات پاک ہے اور مشکلات و مصائب سے نجات اور حاجت روائی بھی صرف اسی کے قبضہ میں ہے، اس لئے حمد و ثنا کرو تو اسی کی کرو اور حاجت روائی، مشکل کشائی کے لئے پکارو تو اسی کو پکارو۔ اور پکارنے کا طریقہ بھی یہ بتلا دیا کہ انہی اسماء حسنی کے ساتھ پکارو جو اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں۔ دعا کے بعض آداب اس لئے اس آیت سے دو ہدایتیں امت کو ملیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ذات حقیقی حمد و ثنا یا مشکل کشائی اور حاجت روائی کے لئے پکارنے کے لائق نہیں، دوسرے یہ کہ اس کے پکارنے کے لئے بھی ہر شخص آزاد نہیں کہ جو الفاظ چاہے اختیار کرلے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں وہ الفاظ بھی بتلا دیئے جو اس کے شایاں ہیں اور ہمیں پابند کردیا کہ انہی الفاظ کے ساتھ اس کو پکاریں، اپنی تجویز سے دوسرے الفاظ نہ بدلیں کیونکہ انسان کی قدرت نہیں کہ تمام پہلوؤں کی رعایت کرکے شایان شان الفاظ بنا سکے۔ بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے (99) نام ہیں جو شخص ان کو محفوظ کرلے وہ جنت میں داخل ہوگیا، یہ ننانوے نام امام ترمزی اور حاکم نے تفصیل کے ساتھ بتلائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہ ننانوے نام پڑھ کر جس مقصد کے لئے دعا کی جائے قبول ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے (آیت) ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی تم مجھے پکارو توں میں تمہاری دعا قبول کروں گا، حاجات و مشکلات کے لئے دعا سے بڑھ کر کوئی تدبیر ایسی نہیں جس میں کسی ضرر کا خطرہ نہ، ہو اور نفع یقینی ہو، اپنی حاجات کے لئے اللہ جل شانہ سے دعا کرنے میں کسی نقصان کا تو کوئی احتمال ہی نہین، اور ایک نفع نقد ہے کہ دعا ایک عبادت ہے، اس کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے، حدیث میں ہے الد عاء مخ العبادة یعنی دعا کرنا عبادت کا مغز ہے اور جس مقصد کے لئے اس نے دعا کی ہے اکثر تو وہ مقصد بعینہ پورا ہوجاتا ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس چیز کو اس نے اپنا مقصد بنایا تھا وہ اس کے حق میں مفید نہ تھی، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی دعا کو دوسری طرف پھیر دیتے ہیں جو اس کے لئے مفید ہو، اور حمد و ثنا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ایمان کی غذا ہے جس کے نیتجہ میں انسان کی رغبت و محبت اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہوجاتی ہے اور دنیا کی تکلیفیں اگر پیش بھی آویں تو حقیر اور آسان ہوجاتی ہیں۔ اسی لئے بخاری، مسلم، ترمذی نسائی کی صحیح احادیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو کوئی غم یا بےچینی یا مہم کام پیش آئے اس کو چاہئے کہ یہ کلمات پڑھے، سب مشکلات آسان ہوجائیں گی وہ کلمات یہ ہیںلآ الہ الا اللہ العظیم الحلیم، لآ الہ الا الہ اللہ رب العرش العظیم، لآ الہ الا الہ اللہ رب السموب والارض ورب العرش الکریم، اور مستدرک حاکم میں بروایت انس ؓ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ زہراء سے فرمایا کہ تمہارے لئے اس سے کیا چیز مانع ہے کہ تم میری وصیت کو سن لو (اور اس پر عمل کیا کرو) وہ وصیت یہ ہے کہ صبح شام یہ دعا کرلیا کرویاحی یاقیوم برحمتک استغیث اصلح لی شانی کلہ ولا تکلنی الی نفسی طرفة عین۔ یہ دعا بھی تمام حاجت و مشکلات کے لئے بےنظیر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آیت مذکورہ کے اس جملہ میں دو ہدایتیں امت کو دی گئیں، ایک یہ کہ حمد و ثنا اور مشکلات و حاجات کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کو پکارو مخلوقات کو نہیں، دوسرے یہ کہ اس کو انہی ناموں سے پکارو جو اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں، اس کے الفاظ نہ بدلو۔ آیت کے اگلے جملہ میں اسی کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی چھوڑ یے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں الحاد یعنی کجروی کرتے ہیں، ان کو ان کی کجروی کا بدلہ مل جائے گا، الحاد کے معنی لغت میں میلان اور درمیانی راہ سے ہٹ جانے کے آتے ہیں، اسی لئے قبر کی لحد کو لحد کہا جاتا ہے کیونکہ وہ درمیانی راہ ہٹی ہوئی ہوتی ہے، قرآن کریم میں لفظ الحاد قرآن کریم کے صحیح معانی کو چھوڑ کر ادھرا دھر کی تاویل و تحریف کرنے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے تعلق بھی چھوڑدیں جو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں الحاد یعنی تحریف اور کجروی سے کام لیتے ہیں۔ اسماء الہیہ میں کجروی کی ممانعت اور اس کی مختلف صورتیں اسماء الہیہ میں تحریف یا کجروی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں وہ سب اس آیت کے مضمون میں داخل ہیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے وہ نام استعمال کیا جائے جو قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت نہیں، علماء حق کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام اور صفات میں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ جو چاہے نام رکھ دے یا جس صفت کے ساتھ چاہے اس کی حمد و ثنا کرے بکہ صرف وہی الفاظ ہونا ضروری ہیں جو قرآن وسنت میں اللہ تعالیٰ کے لئے بطور نام یا صفت کے ذکر کئے گئے ہیں، مثلا اللہ تعالیٰ کو کریم کہہ سکتے ہیں، سخی نہیں کہہ سکتے، نور کہہ سکتے ہیں ابیض نہیں کہہ سکتے، شافی کہہ سکتے ہیں طبیب نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ دوسرے الفاظ منقول نہیں، اگرچہ انہی الفاظ کے ہم معنی ہیں۔ دوسری صورت الحاد فی الاسماء کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو نام قرآن وسنت سے ثابت ہیں ان میں سے کسی نام کو نامناسب سمجھ کر چھوڑ دے، اس کا بےادبی ہونا ظاہر ہے۔ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے مخصوص نام سے موسوم یا مخاطب کرنا جائز نہیں تیسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص ناموں کو کسی دوسرے شخص کے لئے استعمال کرے، مگر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اسماء حسنی میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قرآن و حدیث میں دوسرے لوگوں کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے، اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، تو جن ناموں کا استعمال غیر اللہ کے لئے قرآن و حدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسے رحیم، رشید، علی، کریم، عزیز وغیرہ، اور اسماء حسنی میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ان کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا الحاد مذکور میں داخل اور ناجائز و حرام ہے مثلا رحمن، سبحان، رزاق، خالق، غفار، قدوس وغیرہ۔ پھر ان مخصوص ناموں کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا اگر کسی غلط عقیدہ کی بناء پر ہے کہ اس کو ہی خالق یا رازق سمجھ کر ان الفاظ سے خطاب کررہا ہے تب تو ایسا کہنا کفر ہے اور اگر عقیدہ غلط نہیں محض بےفکری یا بےسمجھی سے کسی شخص کو خالق، رازق یا رحمن، سبحان کہہ دیا تو یہ اگرچہ کفر نہیں مگر مشرکانہ الفاظ ہونے کی وجہ سے گناہ شدید ہے۔ افسوس ہے کہ آج کل عام مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں، کچھ لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے اسلامی نام ہی رکھنا چھوڑ دیئے، ان کی صورت و سیرت سے تو پہلے بھی مسلمان سمجھنا ان کا مشکل تھا، نام سے پتہ چل جاتا تھا، اب نئے نام انگریزی طرز کے رکھے جانے لگے، لڑکیوں کے نام خواتین اسلام کے طرز کے خلاف خدیجہ، عائشہ، فاطمہ کے بجائے نسیم، شمیم، شہناز، نجمہ، پروین ہونے لگے، اس سے زیادہ افسوس ناک یہ ہے کہ جن لوگوں کے اسلامی نام ہیں، عبدالرحمن، عبدالخالق عبدالرزاق، عبدالغفار، عبدالقدوس وغیرہ، ان میں تخفیف کا یہ غلط طریقہ اختیار کرلیا گیا کہ صرف آخری لفظ ان کے نام کی جگہ پکارا جاتا ہے، رحمن، خالق، رزاق، غفار کا خطاب انسانوں کو دیا جارہا ہے اور اس سے زیادہ غضب کی بات یہ ہے کہ قدرت اللہ کو اللہ صاحب اور قدرت خدا کو خدا صاحب کے نام سے پکارا جاتا ہے یہ سب ناجائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے، جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں رہتا۔ یہ گناہ بےلذت اور بےفائدہ ایسا ہے جس کو ہمارے ہزاروں بھائی اپنے شب و روز کا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں اور کوئی فکر نہیں کرتے کہ اس ذرا سی حرکت کا انجام کتنا خطرناک ہے جس کی طرف آیت مذکورہ کے آخری جملہ میں تنبیہ فرمائی گئی ہے، (آیت) سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی ان کو اپنے کئے کا بدلہ دیا جائے گا، اس بدلہ کی تعیین نہیں کی گئی، اس ابہام سے عذاب شدید کی طرف اشارہ ہے۔ جن گناہوں میں کوئی دنیوی فائدہ یا لذت و راحت ہے ان میں تو کوئی کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں اپنی خواہش یا ضرورت سے مجبور ہوگیا، مگر افسوس یہ ہے کہ آج مسلمان ایسے بہت سے فضول گناہوں میں بھی اپنی جہالت یا غفلت سے مبتلا نظر آتے ہیں جن میں نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہے نہ ادنی درجہ کی کوئی راحت ولذت ہے وجہ یہ ہے کہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی طرف دھیان ہی نہ رہا۔ نعوذبا للہ منہ۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ان لوگوں میں کہ جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ایک جماعت ہے کہ راہ بتلاتے ہیں سچی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں

خلاصہ تفسیر اور ہماری مخلوق جن و انس میں (سب گمراہ ہی نہیں بلکہ) ایک جماعت (ان میں) ایسی بھی ہے جو (دین) حق (یعنی السلام) کے موافق (لوگوں کو) ہدایت (بھی) کرتے ہیں اور اسی کے موافق (اپنے اور غیروں کے معاملات میں) انصاف بھی کرتے ہیں اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو بتدریج (جہنم کی طرف) لئے جارہے ہیں اس طور کہ ان کو خبر بھی نہیں اور (دنیا میں عذاب نازل کر ڈالنے سے) ان کو مہلت دیتا ہوں، بیشک میری تدبیر بہت مضبوط ہے کیا ان لوگوں نے اس بات میں غور نہ کیا کہ ان کا جن سے سابقہ ہے ان کو ذرا بھی جنون نہیں وہ تو صرف ایک صاف صاف (عذاب سے) ڈرانے والے ہیں (جو کہ اصالةً پیغمبر کا کام ہوتا ہے) اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور (نیز) دوسری چیزوں میں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں (تاکہ ان کو توحید کا علم استدلالی حاصل ہوجاتا) اور اس بات میں (بھی غور نہیں کیا) کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آپہنچی ہو (تاکہ احتمال عذاب سے ڈرتے اور اس سے بچنے کی فکر کرتے اور اس فکر سے دین حق مل جاتا اور امکان قرب اجل ہر وقت ہے اور جب قرآن جیسے موثر کلام سے ان کی فکر تک کو حرکت نہیں ہوتی تو) پھر قرآن کے بعد کونسی بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ معارف و مسائل پچھلی آیات میں اہل جہنم کے حالات وصفات اور ان کی گمراہی کا یہ سبب بیان کیا تھا کہ انہوں نے خداداد عقل و بصیرت اور فطری قوتوں کو ان کے اصلی کام میں نہ لگایا اور ضائع کردیا پھر اس کے بعد ان کے مرض کا علاج اسماء الہیہ اور ذکر اللہ کے ذریعہ بتلایا گیا تھا، مذکورہ آیات سے پہلی آیت میں ان کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل حق کا ذکر ہے جنہوں نے عقل خداداد سے کام لے کر صحیح راستہ اختیار کیا، ارشاد ہے (آیت) وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ، یعنی جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایک امت ایسی ہے جو حق کے موافق ہدایت کرتے ہیں یعنی لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، اور جب ان کے آپس میں کوئی نزاع یا مقدمہ پیش آئے تو اپنے جھگڑوں کا فیصلہ بھی حق یعنی قانون الہی کے ماتحت کرتے ہیں۔ امام تفسیر ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو تلاوت کرکے ارشاد فرمایا کہ یہ امت جس کا ذکر اس آیت میں ہے، میری امت ہے، جو اپنے سب جھگڑوں کے فیصلے حق و انصاف یعنی قانون الہی کے مطابق کریں گے اور لینے دینے کے تمام معاملات میں حق و انصاف کو سامنے رکھیں گے۔ اور عبد بن حمید کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو خطاب کرکے فرمایا کہ یہ آیت تمہارے حق میں آئی ہے اور تم سے پہلے بھی ایک امت کو یہ صفات عطا ہوچکی ہیں، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی، (آیت) وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ، مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی امت میں بھی ایک جماعت ان صفات کی حامل تھی کہ لوگوں کی رہنمائی میں اور باہمی جھگڑوں کے تصفیہ میں حق یعنی شریعت الہیہ کا مکمل اتباع کرتی تھی، اور امت محمدیہ کو بھی حق تعالیٰ نے ان صفات میں خصوصی امتیاز بخشا ہے۔ خلاصہ اس کا دو خصلتیں ہیں ایک یہ کہ دوسرے لوگوں کی قیادت اور رہنمائی یا مشورہ میں شریعت کا اتباع کریں، دوسرے یہ کہ اگر کوئی جھگڑا آپس میں پیش آجائے تو اس کا فیصلہ شریعت کے قانون کے مطابق کریں۔ غور کیا جائے تو یہی دو صفتیں ہیں جو کسی قوم اور جماعت کی خیر و خوبی اور فلاح دنیا و آخرت کی ضامن ہوسکتی ہیں کہ صلح و جنگ اور دوستی اور عداوت کی ہر حالت میں ان کا نصب العین حق و انصاف ہی ہو، اپنے دوستوں اور رفیقوں کو جو طریقہ کار بتلائیں اس میں بھی حق کا اتباع ہو اور دشمنوں اور حریفوں کے جھگڑوں میں بھی حق کے آگے اپنے سارے خیالات و خواہشات کو ترک کردیں، جس کا خلاصہ ہے حق پر ستی۔ امت محمدیہ کی دوسری تمام امتوں پر فضیلت اور فوقیت کا راز اور ان کا طغرائے امتیاز یہی حق پرستی ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کو حق کے تابع بنایا، جس جماعت یا پارٹی کی قیادت اور رہنمائی کی وہ بھی خالص حق کے تقاضوں کے مطابق کی، اپنی ذاتی خواہشات اور خاندانی یا قومی رسوم کو اس میں مطلق دخل نہیں دیا، اور باہمی نزاعات میں بھی ہمیشہ حق کے سامنے گردن جھکا دی، صحابہ وتابعین کی پوری تاریخ اس کی آئینہ دار ہے۔ اور جب سے اس امت میں ان دو خصلتوں کے اندر خلل اور نقصان آیا اسی وقت سے اس کا تنزل و انحطاط شروع ہوگیا۔ نہایت رنج و افسوس کا مقام ہے کہ آج یہی حق پرست امت خالص ہوا پرست بن کر رہ گئی ہے، اس کی پارٹیاں اور جماعتیں بنتی ہیں تو وہ بھی خالص نفسانی اغراض اور دنیا کی حقیر و ذلیل منفعت کی بنیادوں پر بنتی ہیں، ایک دوسرے کو جن امور کی پابندی طرف دعوت دی جاتی ہے وہ بھی خالص اہواء نفسانی یا خاندانی رسوم ہوتی ہیں، کوئی ان کے خلاف کرنے لگے تو سب اس کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں، لیکن حق و شریعت کے مطابق چلنے کا نہ کہیں معاہدہ ہوتا ہے نہ کوئی اس کی پیروی کرنے کے لئے کسی کو کہتا ہے نہ اس کی خلاف ورزی کرنے سے کسی کی پیشانی پر بل آتا ہے۔ اسی طرح باہیمی جھگڑوں اور نزاعی مقدمات میں دنیا کے چند روزہ موہوم نفع کی خاطر اللہ کے قانون کو چھوڑ کر طاغوتی قوانین کے ذریعہ فیصلہ کرانے پر راضی ہیں۔ اسی کا یہ انجام بد ہے جو ہر جگہ ہر ملک میں مشاہدہ میں آرہا ہے کہ یہ امت ہر جگہ ذلیل و خوار نظر آتی ہے، الا ماشاء اللہ، انہوں نے حق سے منہ موڑا، حق نے ان کی نصرت و امداد سے رخ پھیرلیا۔ حق پرستی کے بجائے ہَوا پرستی اختیار کرکے شخصی طور پر کسی کسی فرد کو جو دنیوی منافع مل گئے وہ اس پر مگن ہیں، مگر پوری قوم و ملت کی تباہی جو اس کا لازمی نتیجہ ہے اس کا کوئی دیکھنے سننے والا نہیں، اگر پوری امت کی فلاح و ترقی پیش نظر ہو تو اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ ان قرآنی اصول کو مضبوطی سے پکڑا جائے، خود بھی اس پر عمل کیا جائے اور دوسروں کو بھی اس کا پابند بنانے کی کوشش کی جائے۔
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی،

دوسری آیت میں اس شبہ کا جواب ہے کہ جب قومی ترقی کا مدار حق پرستی اور حق و انصاف کی پیروی پر ہے تو دوسری غیر مسلم قومیں جو حق سے سراسر دور ہیں وہ کیوں دنیا میں پھلتی پھولتی نظر آتی ہیں، جواب یہ ہے (آیت) وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ، یعنی ہم اپنی آیات کے جھٹلانے والوں کو اپنی حکمت و رحمت کی بناء پر دفعةً نہیں پکڑتے بلکہ آہستہ آہستہ تدریجا پکڑتے ہیں جس کی ان کو خبر بھی نہیں ہوتی، اس لئے دنیا میں کفار و فجار کی مالداری یا عزت و جاہ سے دھوکہ نہ کھایا جائے، کیونکہ وہ درحقیقت ان کے لئے کوئی بھلائی کا سامان نہیں، بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے استدراج ہے، استدراج کے معنی درجہ بدرجہ، آہستہ آہستہ کوئی کام کرنے کے آتے ہیں، اصطلاح قرآن و سنت میں استدراج اس کو کہا جاتا ہے کہ بندہ کے گناہ پر دنیا میں کوئی تکلیف و مصیبت نہ آئے بلکہ جوں جوں وہ گناہ میں آگے بڑھتا جائے، دنیاوی مال و اسباب اور بڑھتے جائیں، جس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنی بدکرداری پر کسی وقت تنبیہ نہیں ہوتی اور غلفت سے آنکھ نہیں کھلتی اور اپنے برے اعمال اس کو برے نظر نہیں آتے کہ وہ ان سے بازآنے کی فکر کرے۔ انسان کی یہ حالت اس مریض لاعلاج کے مشابہ ہے جو بیماری ہی کو شفاء اور زہر ہی کو تریاق سمجھ کر استعمال کرنے لگے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کبھی تو دنیا میں ہی یہ شخص دفعۃً عذاب میں پکڑ لیا جاتا ہے اور کبھی موت تک یہ سلسلہ چلتا ہے بالآخر موت ہی اس کی مستی اور بےہوشی کا خاتمہ کرتی ہے اور دائمی عذاب اس کا ٹھکانہ بن جاتا ہے۔ قرآن کریم نے مخلتف سورتوں اور آیتوں میں اس استدراج کا ذکر فرمایا ہے، ارشاد ہے (آیت) فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ ، یعنی جب یہ لوگ اس چیز کو بھلا بیٹھے جو ان کو یاد دلائی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے، یہاں تک کہ یہ اپنی ملی ہوئی نعمت و دولت پر اکڑ گئے تو ہم نے ان کو اچانک عذاب میں پکڑ لیا تو وہ خلاصی سے ناامید ہو کر رہ گئے۔ یہ استدراج کفار کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور مسلمان گنہگار کے ساتھ بھی، اسی لئے صحابہ اور سلف صالحین کو جب کبھی دنیا کی نعمت و دولت حق تعالیٰ نے عطا فرمائی تو غلبہ خوف کی وجہ سے استدراج سے ڈرا کرتے تھے کہ کہیں یہ دنیا کی دولت ہمارے لئے استدراج نہ ہو۔
Ayah 7:183

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو ڈھیل دوں گا بیشک میرا داؤ پکا ہے،

تیسری آیت میں اسی استدراج کا بیان ہے ښوَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ، یعنی میں ان گناہگاروں کو مہلت دتیا رہتا ہوں، میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا کہ ان کے رفیق کو کچھ بھی جنون نہیں، وہ تو ڈرانے والا ہے صاف،

چوتھی آیت میں کفار کے اس لغو خیال کی تردید ہے کہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ جنون میں مبتلا ہیں، فرمایا(آیت) اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ، یعنی کیا ان لوگوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کا جن سے سابقہ ہے ان کو ذرا بھی جنون نہیں، ان کی عقل و حکمت کے سامنے تو ساری دنیا کے عقلا و حکماء حیران ہیں، ان کے بارے میں جنون کا گمان کرنا خود جنون ہے، آنحضرت ﷺ تو صاف صاف حقائق کو بیان کرکے آخرت اور عذاب خداوندی سے ڈرانے والے ہیں۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے نظر نہیں کی سلطنت میں آسمان اور زمین کی اور جو کچھ پیدا کیا ہے اللہ نے ہر چیز سے اور اس میں کہ شاید قریب آگیا ہو ان کا وعدہ، سو اس کے پیچھے کس بات پر ایمان لائیں گے۔

پانچویں آیت میں ان کو دو چیزوں کی طرف دعوت فکر دی گئی ہے، اول اللہ تعالیٰ کی مخلوقات آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی بیشمار مصنوعات عجیبہ میں غور و فکر۔ دوسرے اپنی مدت عمر اور فرصت پر نظر۔ مصنوعات قدرت میں ذرا بھی عقل و فہم کے ساتھ غور کیا جائے تو ایک موٹی سمجھ والے انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کی شان قدرت کی معرفت اور نظارہ ہونے لگتا ہے، اور ذرا گہری نظر کرنے والے کے لئے تو عالم کا ذرہ ذرہ قادر مطلق اور حکیم کی حمد و ثنا کا تسبیح خوان نظر آنے لگتا ہے، جس کے بعد اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ایک فطری تقاضہ بن جاتا ہے۔ اور اپنی مدت عمر میں غور و فکر کا یہ نتیجہ ہے کہ جب انسان یہ سمجھ لے کہ موت کا وقت معلوم نہیں کب آجائے تو ضروری کاموں کے پورا کرنے میں غفلت سے باز آجاتا ہے، اور مستعدی سے کام کرنے لگتا ہے، موت سے غفلت ہی انسان کو تمام خرافات اور جرائم میں مبتلا رکھتی ہے، اور موت کا استحضار ہی وہ چیز ہے جو انسان کو بہت سے جرائم سے بچنے پر آمادہ کردیتا ہے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اکثروا ذکر ھاذم اللذات الموت یعنی تم اس چیز کو کثرت سے یاد کیا کرو جو سب لذتوں کو ختم کردینے والی ہے یعنی موت۔ اسی لئے آیت مذکورہ میں فرمایا گیا (آیت) اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ، لفظ ملکوت ملک کے معنی میں مبالغہ کے لئے بولا جاتا ہے اس کے معنی ہیں ملک عظیم، معنی آیت کے یہ ہیں کہ ان منکرین نے کیا اللہ تعالیٰ کے ملک عظیم میں غور نہیں کیا جو آسمانوں اور زمینوں اور بیشمار اشیاء پر محیط ہے، اور کیا اس پر نظر نہیں کی کہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی موت قریب ہو جس کے بعد ایمان و عمل کی فرصت ختم ہوجائے گی۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤ ْمِنُوْنَ ، یعنی جو لوگ قرآن کریم کی ایسی واضح نشانیوں سے بھی ایمان نہیں لاتے وہ اور کس چیز پر ایمان لائیں گے۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس کو اللہ بچلائے اس کو کوئی نہیں راہ دکھلانے والا، اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو ان کی شرارت میں سرگرداں،

خلاصہ تفسیر جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا (پھر غم لاحاصل) اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے (تاکہ ایک دفعہ ہی پوری سزا دے دے) لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا، آپ فرما دیجئے کہ اس کا (یہ) علم (کہ کب واقع ہوگی) صرف میرے رب ہی کے پاس ہے (دوسرے کسی کو اس کی اطلاع نہیں) اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ظاہر نہ کرے گا (اور وہ ظاہر کرنا یہ ہوگا کہ اس کو واقع کردے گا اس وقت سب کو پوری خبر ہوجائے گی اس کے قبل ویسے کسی کو بتلانے کے طور پر بھی اس کو ظاہر نہ کیا جائے گا کیونکہ) وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری حادثہ ہوگا (اس لئے) وہ تم پر محض اچانک (بےخبری میں) آپڑے گی (تاکہ وہ جس طرح اجسام پر ان کو متغیر و متفرق کردینے میں بھاری ہے اسی طرح قلوب پر بھی اس کا بھاری اثر ہوگا اور پہلے سے بتلادینے میں یہ بات نہیں رہتی اور پوچھنا بھی تو ان کا معمولی طور پر نہیں بلکہ) وہ آپ سے اس طرح (اصرار و مبالغہ سے) پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں (اور تحقیقات کے بعد آپ کو اس کا پورا احاطہ ہوگیا ہے) آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم (مذکور) خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے (کہ بعض علوم حق تعالیٰ نے اپنے خزانہ علم میں مکنون رکھے ہیں انبیاء کو بھی تفصیلا اطلاع نہیں دی، پس اس کے نہ جاننے سے کسی نبی کے عدم اطلاع تعین قیامت کو معاذ اللہ دلیل نفی نبوت کی سمجھتے ہیں، اس طرح سے کہ نبوت کے لئے یہ علم لازم ہے اور انتفاء لازم مستلزم انتفاء ملزوم ہے، حالانکہ مقدمہ محض غلط ہے) معارف و مسائل ان سے پہلی آیات میں کفار و منکرین کی ضد و ہٹ دھرمی اور کھلی ہوئی آیت قدرت کے ہوتے ہوئے ایمان نہ لانے کا ذکر تھا، یہ مضمون رسول اللہ ﷺ کیلئے امت اور عام مخلوق کے ساتھ غایت شفقت و رحمت کی بناء پر انتہائی رنج و غم کا سبب ہوسکتا تھا، اس لئے متذکرہ تین آیات میں سے پہلی آیت میں آپ کو تسلی دینے کے لئے ارشاد فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور قبول حق سے اعراض پر آپ رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ آپ کا فریضہ منصبی اتنا ہی تھا کہ حق بات کو صاف صاف مؤ ثر انداز میں پہنچا دیں وہ آپ پورا کرچکے، آپ کی ذمہ داری ختم ہوچکی اب کسی کا ماننا یا نہ ماننا یہ ایک تقدیری امر ہے جس میں آپ کو دخل نہیں پھر آپ غمگین کیوں ہوں۔ اس سورت کے مضامین میں سے تین مضمون بہت اہم تھے، تو حید، رسالت، آخرت، اور یہی تین چیزیں ایمان اور اسلام کی اصل بنیادیں ہیں، ان میں سے توحید و رسالت کا مضمون پچلھی آیتوں میں تفصیل کے ساتھ آچکا ہے، مذکورہ آیتوں میں سے آخری دو آیتیں مضمون آخرت و قیامت کے بیان میں ہیں جن کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے جو امام تفسیر ابن جریر اور عبد بن حمید نے بروایت قتادہ نقل کیا ہے کہ قریش مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے بطور استہزاء و تمسخر کے دریا فت کیا کہ آپ قیامت کے آنے کی خبریں دیتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہیں اگر آپ سچے ہیں تو متعین کرکے بتلا یئے کہ قیامت کس سن اور کس تاریخ میں آنے والی ہے تاکہ ہم اس کے آنے سے پہلے کچھ تیاری کرلیں، آپ کے اور ہمارے درمیان جو تعلقات رشتہ داری ہیں ان کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ اگر آپ عام طور سے لوگوں کو بتلانا نہیں چاہتے تو کم ازکم ہمیں بتلا دیجئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں قیامت کو کہ کب ہے اس کے قائم ہونے کا وقت، تو کہہ اس کی خبر تو میرے رب ہی کے پاس ہے، وہی کھول دکھائے گا اس کو اس کے وقت پر وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں، جب تم پر آئے گی تو بیخبر آئے گی، تجھ سے پوچھنے لگتے ہیں کہ گویا تو اس کی تلاش میں لگا ہوا ہے، تو کہہ دے اس کی خبر ہے خاص اللہ کے پاس لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔

(آیت) يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ۔ اس میں لفظ ساعة عربی لغت میں تھوڑے سے زمانہ کے لئے بولا جاتا ہے جس کی کوئی خاص تحدید لغت کے اعتبار سے نہیں ہے، اور اہل نجوم کی اصطلاح میں رات اور دن کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ کا نام ساعة ہے جس کو اردو میں گھنٹہ کہا جاتا ہے، اور قرآن کی اصطلاح میں یہ لفظ اس دن کے لئے بولا جاتا ہے جو ساری مخلوقات کی موت کا دن ہوگا اور اس دن کے لئے بھی جس میں ساری مخلوقات دوبارہ زندہ ہو کر رب العالمین کے دربار میں حاضر ہوں گی۔ اَيَّانَ کے معنی کب اور مُرْسٰى کے معنی ٹھہرنے اور قائم ہونے کے ہیں۔ لَا يُجَلِّيْهَا، تجلة سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کھولنے اور ظاہر کرنے کے، بَغْتَةً کے معنی اچانک۔ حَفِيٌّ کے معنی حضرت عبداللہ بن عباس نے عالم اور باخبر کے بیان کئے ہیں، اور اصل میں اس شخص کو حَفِيٌّ کہا جاتا ہے جو سوالات کرکے کسی معاملہ کی پوری تحقیق کرلے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اس کی تعیین کا صحیح علم صرف میرے رب کے پاس ہے، نہ پہلے سے اور کسی کو معلوم ہے اور عین وقت پر بھی کسی کو پہلے معلوم نہ ہوگا جب وقت مقدر آجائے گا تو خود اللہ تعالیٰ ہی اس کو ظاہر فرماویں گے، کوئی واسطہ درمیان میں نہ ہوگا، یہ حادثہ قیامت آسمانوں اور زمین پر بہت بھاری واقعہ ہوگا کہ ان کے ٹکڑے ہو کر اڑ جائیں گے اس لئے تقاضائے حکمت یہ ہے کہ ایسے شدید واقعہ کا اظہار پہلے سے نہ کیا جائے ورنہ یقین کرنے والوں کی زندگی تلخ ہوجائے گی اور منکرین کو مزید استہزاء و تمسخر کا موقع ملے گا، اس لئے فرمایا (آیت) لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ، یعنی قیامت تمہارے پاس اچانک ہی آئے گی۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے دفعۃً اور اچانک آنے کے متعلق یہ بیان فرمایا کہ لوگ اپنے اپنے کاروبار میں مشغول ہوں گے، ایک شخص نے گاہک کو دکھلانے کے لئے کپڑے کا تھان کھولا ہوا ہوگا وہ ابھی معاملہ طے نہ کر پائیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ کرلے چلے گا اور ابھی اس کو استعمال کرنے نہ پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، کوئی شخص اپنے حوض کی مرمت کر رہا ہوگا اس سے فارغ نہ ہوپائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، کوئی شخص کھانے کا لقمہ ہاتھ میں اٹھائے گا ابھی منہ تک نہ پہنچے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی، (روح المعانی) مقصد اس کا یہ ہے کہ جس طرح انسان کی شخصی موت کی تاریخ اور وقت کو غیر معین و مبہیم رکھنے میں بڑی حکمتیں ہیں اسی طرح قیامت کو جو پورے عالم کی اجتماعی موت کا نام ہے اس کو مخفی اور مبہم رکھنے میں بھی بڑی حکمتیں ہیں، اول تو یہی ہے کہ یقین کرنے والوں کے لئے اس صورت میں زندگی دو بھر اور دنیا کے کام مشکل ہوجائیں گے اور منکرین کو طویل میعاد سن کر استہزاء و تمسخر کا بہانہ ملے گا اور انکی سرکشی میں اور اضافہ ہوگا۔ اس لئے بتقاضائے حکمت اس کی تاریخ مبہم رکھا گیا تاکہ لوگ اس کے ہو لناک واقعات سے ہمیشہ ڈرتے رہیں اور یہ ڈر ہی انسان کو جرائم سے باز رکھنے کا سب سے زیادہ موثر علاج ہے، اس لئے ان آیات سے تعلیم یہ دی گئی کہ جب اس کا یقین ہے کہ قیامت کسی روز آئے گی اور رب العالمین کے سامنے سب کی پیشی ہوگی، ان کے عمر بھر کے چھوٹے بڑے اچھے برے سب اعمال کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے نتیجہ میں یا جنت کی ناقابل قیاس اور لازوال نعمتیں ملیں گی اور یا پھر معاذ اللہ جہنم کا وہ شدید عذاب ہوگا جس کے تصور سے بھی پتہ پانی ہونے لگتا ہے، تو پھر ایک عقلمند کا کام یہ نہیں ہونا چاہئے کہ فرصت عمل کے وقت کو ان بحثوں میں ضائع کرے کہ یہ واقعہ کب کسی سن اور کس تاریخ میں ہوگا، بلکہ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ فرصت عمر کو غنیمت جان کر اس دن کے لئے تیاری میں مشغول ہوجائے، رب العالمین کے احکام کی خلاف ورزی سے ایسا ڈرے جیسے آگ سے ہر انسان ڈرتا ہے۔ آیت کے آخر میں پھر ان لوگوں کے سوال کا اعادہ کرکے فرمایا (آیت) يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا، پہلا سوال تو اس بات سے متعلق تھا کہ جب ایسا اہم واقعہ ہونے والا ہے تو ہمیں اس کا پورا پورا صحیح تاریخ اور وقت کے ساتھ علم ہونا چاہئے، جس کا جواب دے دیا گیا کہ یہ سوال بےعقلی اور بےوقوفی سے پیدا ہوا ہے، عقل کا تقاضہ ہی یہ ہے کہ اس کی تعیین کی کسی کو خبر نہ کی جائے تاکہ ہر عمل کرنے والا ہر وقت عذاب آخرت سے ڈر کر نیک عمل کے اختیار کرنے اور برے اعمال سے باز رہنے میں پوری توجہ دے۔ اور اس دوسرے سوال کا منشاء ان لوگوں کا یہ سمجھنا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ضرور قیامت کی صحیح تاریخ اور وقت معلوم ہے اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے تحقیق کرکے اس کا علم ضرور حاصل کرلیا ہے مگر آپ کسی وجہ سے بتاتے نہیں، اس لئے اپنی قرابت و رشتہ داری کا واسط دے کر آپ سے سوال کیا کہ ہمیں قیامت کا پورا پتہ بتلا دیں، اس سوال کے جواب میں ارشاد ہوا، (آیت) اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ یعنی آپ لوگوں کو بتلا دیں کہ حقیقت یہی ہے کہ قیامت کی صحیح تاریخ کا سوائے اللہ جل شانہ کے کسی فرشتہ یا نبی کو بھی علم نہیں ہے، مگر بہت سے لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں کہ بہت سے علوم اللہ تعالیٰ صرف اپنے لئے محفوظ رکھتے ہیں جن کا کسی فرشتہ یا پیغمبر کو بھی پتہ نہیں ہوتا، لوگ اپنی جہالت سے یہ سمجھتے ہیں کہ تاریخ قیامت کا علم نبوت و رسالت کے لئے لازمی ہے اور پھر اس کا یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ کو اس کا پورا علم نہیں تو یہ علامت اس کی ہے کہ معاذ اللہ آپ نبی نہیں، مگر اوپر معلوم ہوچکا کہ یہ خیال سرے سے غلط ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایسے سوالات کرنے والے بڑے بیوقوف اور بیخبر ہیں، نہ ان کو مسئلہ کی حقیقت معلوم ہے نہ اس کی حکمت اور نہ سوال کرنے کا طریقہ۔ ہاں نبی کریم ﷺ کو قیامت کی کچھ علامات کا علم دیا گیا تھا اور یہ کہ وہ اب قریب ہے، اس کو آنحضرت ﷺ نے بہت سی احادیث صحیحہ میں واضح طور پر بیان فرمادیا ہے، ارشاد فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت اس طرح ملی ہوئی ہیں جیسے ہاتھ کی دو انگلیاں (ترمذی) اور بعض اسلامی کتابوں میں جو پوری دنیا کی عمر سات ہزار سال بتلائی ہے یہ کوئی آنحضرت ﷺ کی حدیث نہیں، بلکہ اسرائیلی روایات سے لیا ہوا مضمون ہے۔ علماء طبقات الا رض نے جو نئی تحقیقات سے دنیا کی عمر لاکھوں سال بتلائی ہے یہ نہ کسی قرآنی آیت سے ٹکراتی ہے نہ کسی حدیث صحیح سے، اسلامی روایات میں ایسی کچی بےسند باتوں کو داخل کردینے کا مقصد ہی شاید اسلام کے خلاف بد گمانیاں پیدا کرنا ہو، جن کی تردید خود صحیح احادیث میں موجود ہے، ایک صحیح حدیث میں خود رسول کریم ﷺ کا اپنی امت کو مخاطب کر کے ارشاد ہے کہ تمہاری مثال پچھلی امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے سیاہ بیل کے بدن پر ایک سفید بال ہو، اس سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نظر میں دنیا کی عمر کتنی دراز ہے کہ اس کا اندازہ لگانا بھی دشوار ہے، اسی لئے حافظ ابن حزم اندلسی نے فرمایا کہ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ دنیا کی عمر کا کوئی صحیح اندازہ نہیں کیا جاسکتا، اس کا صحیح علم صرف پیدا کرنے والے ہی کو ہے۔ (مراغی)
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے، اور اگر میں جان لیا کرتا غیب کی بات تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کرلیتا، اور مجھ کو برائی کبھی نہ پہنچتی، میں تو بس ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں ایماندار لوگوں کو،

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے (بھی چہ جائے کہ دوسرے کے لئے) کسی نفع (تکوینی کے حاصل کرنے) کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر (تکوینی کے دفع کرنے) کا (اختیار رکھتا ہوں) مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا ہو (کہ مجھ کو اختیار دے دیں اور جس امر میں اختیار نہیں دیا اس میں بعض اوقات منافع فوت ہوجاتے ہیں اور مضار واقع ہوجاتے ہیں ایک مقدمہ تو یہ ہوا) اور (دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ) اگر میں غیب کی باتیں (امور اختیار کے متعلق) جانتا ہوتا تو میں (اپنے لئے) بہت سے منافع حاصل کرلیا کرتا اور کوئی مضرت ہی مجھ پر واقع نہ ہوتی (کیونکہ علم غیب کے سبب معلوم ہوجاتا کہ فلاں امر میرے لئے یقینا نافع ہوگا اس کو اختیار کرلیا کرتا اور فلاں امر میرے لئے یقینا مضر ہوگا اس سے احتراز کرتا اور اب چونکہ علم غیب نہیں اس لئے بعض اوقات نافع کا علم نہیں ہوتا کہ اس کو اختیار کروں اسی طرح مضر کا علم نہیں ہوتا کہ اس سے بچوں بلکہ گاہے بالعکس نافع کو مضر اور مضر کو نافع سمجھ لیا جاتا ہے، حاصل استدلال کا یہ ہوا کہ علم غیب کے لئے نفع و ضرر کا مالک ہونا لازم تھا، یہ مقدمہ ذکر میں موخر ہے اور لازم منتفی ہے یہ مقدمہ ذکر میں مقدم ہے پس ملزوم یعنی علم غیب منتفی ہے اور یہ مطلوب ہے، غرض میں ایسے امور کا علم نہیں رکھتا) میں تو محض (احکام شرعیہ بتلا کر ثواب کی) بشارت دینے والا اور (عذاب سے) ڈرانے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں (خلاصہ یہ کہ نبوت کا اصلی مقصود امور تکوینیہ کا احاطہ نہیں اس لئے ان امور کا علم جن میں تعیین قیامت بھی داخل ہے نبی کو ملنا ضروری نہیں البتہ نبوت کا اصل مقصود امور تشریعیہ کا علم وافی ہے سو وہ مجھ کو حاصل ہے) وہ اللہ ایسا (قادر اور منعم) ہے جس نے تم کو ایک تن واحد (یعنی آدم ؑ سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا (مراد حوا جسکی کیفیت شروع تفسیر سورة نساء میں گزر چکی) تاکہ وہ اس اپنے جوڑے سے انس حاصل کرے (پس جب وہ خالق بھی ہے اور محسن بھی تو عبادت اسی کا حق ہے) پھر (اگے ان کی والاد بڑھی اور ان میں بھی میاں بی بی ہوئے لیکن ان میں بعض کی یہ حالت ہوئی ہے کہ) جب میاں نے بی بی سے قربت کی تو اس کو حمل رہ گیا (جو اول اول) ہلکا سا (رہا) سو وہ اس کو (پیٹ میں) لئے ہوئے (بےتکلف) چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ (حاملہ اس حمل کے بڑھ جانے سے) بوجھل ہوگئی (اور دونوں میاں بی بی کو یقین ہوگیا کہ حمل ہے) تو (اس وقت ان کو طرح طرح کے احتمالات و توہمات ہونے لگے جسیا کہ بعضے حمل میں خطرات پیش آتے ہیں اس لئے) دونوں میاں بی بی اللہ سے جو کہ ان کا مالک ہے دعا کرنے لگے کہ اگر آپ نے ہم کو صحیح سالم اولاد دے دی تو ہم خوب شکر گزرای کریں گے (جیسا عام عادت ہے کہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے بڑے بڑے عہد و پیمان ہوا کرتے ہیں) سو جب اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے (مختلف طور پر کسی نے اعتقاد سے کہ یہ اولاد فلاں زندہ یا مردہ نے دی ہے، کسی نے عمل سے کہ اس کے نام کی نذر و نیاز کرنے لگے یا بچہ کو لے جا کر اس کے سامنے اس کا ماتھا ٹیک دیا، یا قول سے کہ اس کی بندگی پر نام رکھ دیا جیسے عبد شمس یا بندہ علی وغیرہما، یعنی یہ حق تو تھا خدا کا جو کہ منعم اور خالق اور قادر و محسن ہے اور صرف کیا اس کو دوسرے معبودوں کے لئے) سو اللہ تعالیٰ پاک ہے ان کے شرک سے (یہاں تک تو حق تعالیٰ کی صفات مذکور تھیں جو مقتضی ہیں اس کے استحقاق معبودیت کو، آگے آلہہ باطلہ کے نقائص کا ذکر ہے جو مقتضی ہیں ان کے عدم استحقاق معبودیت کو پس فرماتے ہیں کہ) کیا (اللہ تعالیٰ کے ساتھ) ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بنا نہ سکیں اور (بلکہ) وہ خود ہی بنائے جاتے ہوں (چناچہ ظاہر ہے کہ بت پرست خود ان کو تراشتے تھے) اور (کسی چیز کا بنانا تو بڑی بات ہے) وہ (تو ایسے عاجز ہیں کہ اس سے آسان کام بھی نہیں کرسکتے مثلا) ان کو کسی قسم کی مدد (بھی) نہیں دے سکتے، اور (اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ) وہ خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے (اگر کوئی حادثہ ان کو پیش آجائے مثلا کوئی شخص ان کو توڑنے پھوڑنے ہی لگے) اور (اس سے بھی بڑھ کر سنو کہ) اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں (اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ تم ان کو پکارو کہ وہ تم کو کوئی بات بتلائیں تو تمہارا کہنا نہ کریں یعنی نہ بتلائیں اور دوسرے اس سے زیادہ یہ کہ تم ان کو پکارو کہ آؤ ہم تم کو کچھ بتلائیں تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہ کرسکیں بہرحال) تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواہ تم ان کو پکارو (وہ جب نہیں سنتے) اور یا تم خاموش رہو (جب تو نہ سننا ظاہر ہی ہے، خلاصہ یہ ہے کہ جو کام سب سے سہل تر ہے کہ کوئی بات بتلانے کے لئے پکارے تو سن لینا وہ اسی سے عاجز ہیں تو جو اس سے مشکل ہے کہ اپنی حفاظت کریں اور پھر جو اس سے مشکل ہے کہ دوسروں کی امداد کرنا اور پھر ان سب سے جو دشوار تر ہے کہ کسی شئے کو پیدا کرنا ان سے تو بدرجہ اولی زیادہ تر عاجز ہوں گے پھر ایسے عاجز محتاج کب معبودیت کے لائق ہو سکتے ہیں) معارف و مسائل پہلی آیت میں مشرکین اور عوام کے اس غلط عقیدہ کی تردید ہے جو ان لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں قائم کر رکھا تھا کہ وہ غیب دان ہوتے ہیں، ان کا علم اللہ تعالیٰ کی طرح تمام کائنات کے ذرہ ذرہ پر حاوی ہوتا ہے، نیز یہ کہ وہ ہر نفع اور نقصان کے مالک ہوتے ہیں جس کو جو چاہیں نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اور اسی عقیدہ کے سبب وہ رسول اللہ ﷺ سے قیامت کی معین تاریخ بتلانے کا مطالبہ کرتے تھے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں گزر چکا ہے۔ اس آیت نے ان کے اس مشرکانہ عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے بتلادیا کہ علم غیب اور تمام کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم محیط صرف اللہ جل شانہ کی مخصوص صفت ہے اس میں کسی مخلوق کو شریک ٹھہرانا خواہ وہ فرشتہ ہو یا نبی و رسول شرک اور ظلم عظیم ہے، اسی طرح ہر نفع نقصان کا مالک ہونا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفت خاص ہے اس میں کسی کو شریک ٹھہرانا بھی شرک ہے، جس کے مٹانے ہی کے لئے قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے۔ قرآن کریم نے بیشمار آیات میں بار بار اس کو واضح فرما دیا ہے کہ علم غیب اور علم محیط جس سے کوئی ذرہ چھپا نہ رہے یہ صرف اللہ جل شانہ کی صفت خاص ہے اسی طرح قدرت مطلقہ کہ ہر نفع نقصان قبضہ میں ہو یہ بھی صفت خاص ہے حق تعالیٰ شانہ کی، ان صفتوں میں غیر اللہ کو شریک قرار دینا شرک ہے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اس کا اعلان کریں کہ میں اپنے نفس کے لئے بھی نفع نقصان کا مالک نہیں، دوسروں کے نفع نقصان کا تو کیا ذکر ہے۔ اسی طرح یہ بھی اعلان کردیں کہ میں عالم الغیب نہیں ہوں کہ ہر چیز کا علم ہونا میرے لئے ضروری ہو، اور اگر مجھے علم غیب ہوتا تو میں ہر نفع کی چیز کو ضرور حاصل کرلیا کرتا اور کوئی نفع میرے ہاتھ سے فوت نہ ہوتا، اور ہر نقصان کی چیز سے ہمیشہ محفوظ ہی رہتا اور کبھی کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا، حالانکہ یہ دونوں باتیں نہیں ہیں، بہت سے کام ایسے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حاصل کرنا چاہا مگر حاصل نہیں ہوئے، اور بہت سی تکلیفیں اور مضرتیں ایسی ہیں جن سے آنحضرت ﷺ نے بچنے کا ارادہ کیا مگر وہ مضرت و تکلیف پہنچ گئی، غزوہ حدیبیہ کے موقع پر آپ صحابہ کرام کے ساتھ احرام باندھ کر عمرہ کا ارادہ کرکے حدود حرم تک پہنچ گئے مگر حرم میں داخل اور عمرہ کی ادائیگی اس وقت نہ ہوسکی سب کو احرام کھول کر واپس ہو ناپڑا۔ اسی طرح غزوہ احد میں آنحضرت ﷺ کو زخم پہنچا اور مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی، اسی طرح کے اور بہت سے واقعات ہیں جو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں معروف و مشہور ہیں۔ اور شاید ایسے واقعات کے ظاہر کرنے کا مقصد ہی یہ ہو کہ لوگوں پر عملا یہ بات واضح کردی جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول اور افضل خلائق ہیں مگر پھر بھی وہ خدائی علم وقدرت کے مالک نہیں تاکہ لوگ اس غلط فہمی کے شکار نہ ہوجائیں جس میں عیسائی اور نصرانی مبتلا ہوگئے کہ اپنے رسول کو خدائی صفات کا مالک سمجھ بیٹھے اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوگئے۔ اس آیت نے بھی یہ واضح کردیا کہ انبیاء (علیہم السلام) نہ قادر مطلق ہوتے ہیں نہ عالم الغیب بلکہ ان کو علم وقدرت کا اتنا ہی حصہ حاصل ہوتا ہے جتنا من جانب اللہ ان کو دے دیا جائے۔ ہاں اس میں شک و شبہ نہیں کہ جو حصہ علم کا ان کو عطا ہوتا ہے وہ ساری مخلوقات سے بڑھا ہوا ہوتا ہے خصوصا ہمارے رسول کریم ﷺ کو اولین و آخرین کا علم عطا فرمایا گیا تھا، یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کو جتنا علم دیا گیا تھا وہ سب اور اس سے بھی زیادہ آپ کو عطا فرمایا گیا تھا، اور اسی عطا شدہ علم کے مطابق آپ نے ہزاروں غیب کی باتوں کی خبریں دیں جن کی سچائی کا ہر عام و خاص نے مشاہدہ کیا، اس کی وجہ سے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ہزاروں لاکھوں غیب کی چیزوں کا علم عطا کیا گیا تھا مگر اس کو اصطلاح قرآن میں علم غیب نہیں کہہ سکتے اور اس کی وجہ سے رسول کو عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤ ْمِنُوْنَ ، یعنی آنحضرت ﷺ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا فریضہ منصبی صرف یہ ہے کہ میں بدکاروں کو عذاب سے ڈراؤں اور نیک لوگوں کو ثواب عظیم کی خوشخبری سناؤں۔
Ayah 7:189

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے، پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانکا حمل رہا ہلکا سا حمل تو چلتی پھرتی رہی اس کے ساتھ، پھر جب بوجھل ہوگئی تو دونوں نے پکارا اللہ اپنے رب کو کہ اگر تو ہم کو بخشے چنگا بھلا تو ہم تیرا شکر کریں،

دوسری آیت میں عقیدہ توحید کا ذکر ہے جو اسلام کا سب سے بڑا بنیادی عقیدہ ہے اور اس کے ساتھ شرک کے باطل اور نامعقول ہونے کا بیان کسی قدر تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ شروع آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ایک مظہر حضرت آدم و حواء کی پیدائش سے اس طرح بیان فرمایا (آیت) هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا، یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے جس نے سارے بنی آدم کو ایک ذات آدم سے پیدا کیا اور انہیں سے ان کی بی بی حضرت حواء کو پیدا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ آدم ؑ کو ایک ہم جنس ہم دم کے ذریعہ سکون حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ کی اس صنعت عجیبہ کا تقاضہ یہی تھا کہ تمام اولاد آدم ہمیشہ اس کی شکر گزار ہوتی اور کسی مخلوق کو اس کی صفات کاملہ میں شریک نہ ٹھہراتی، مگر غفلت شعار انسان نے معاملہ اس کے خلاف کیا جس کا بیان اسی آیت کے دوسرے جملہ اور بعد کی آیت میں اس طرح فرمایا (آیت) فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی اولاد آدم نے اپنی غفلت و ناشکری سے اس معاملہ میں عمل یہ کیا کہ جب نر و مادہ کے باہمی اختلاط سے حمل قرار پایا تو شروع شروع میں جب تک حمل کا کوئی بوجھ نہ تھا عورت آزادی کے ساتھ چلتی پھرتی رہی پھر جب حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے تین اندھیریوں کے اندر اس حمل کی تربیت کرکے اس کو بڑھایا اور اس کا بوجھ محسوس ہونے لگا تو اب ماں باپ فکر میں پڑگئے اور یہ خطرے محسوس کرنے لگے کہ اس حمل سے کیسی اولاد پیدا ہوگی کیونکہ بعض اوقات انسان ہی کے پیٹ سے عجیب عجیب طرح کی مخلوق بھی پیدا ہوجاتی ہے اور بعض اوقات ناقص الخلقت بچہ پیدا ہوجاتا ہے، اندھا یا بہرا یا گونگا یا ہاتھ پیر سے معذور، ان خطرات کے سبب ماں باپ یہ دعائیں مانگنے لگے کہ یا اللہ ہمیں صحیح سالم بچہ عنایت فرمایئے اگر صحیح سالم بچہ پیدا ہوا تو ہم شکر گزار ہوں گے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں سن لیں اور بچہ صحیح سالم عطا کردیا تو اب شکر گزاری کے بجائے شرک میں مبتلا ہوگئے اور یہ اولاد ہی ان کے شرک میں مبتلا ہونے کا سبب بن گئی، جس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، کبھی تو عقیدہ ہی فاسد ہوتا ہے، یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ بیٹا کسی ولی یا بزرگ نے دیا ہے، کبھی یہ ہوتا ہے کہ عملا اس بچہ کو کسی زندہ یا مردہ بزرگ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ان کے نام کی نذر و نیاز کرنے لگتے ہیں یا بچہ کو لے جا کر ان کے سامنے اس کا ماتھا ٹیک دیتے ہیں اور کبھی بچہ کا نام رکھنے میں مشرکانہ انداز اختیار کرتے ہیں، عبد اللات، عبد العزی یا عبد الشمس یا بندہ علی وغیرہ ایسے نام رکھ دیتے ہیں جن سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بچہ اللہ تعالیٰ کے بجائے ان بتوں یا ان بزرگوں کا پیدا کیا ہوا بندہ ہے یہ سب مشرکانہ عقائد و اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کے مقابلہ میں شکر کے بجائے ناشکری کی مختلف صورتیں ہیں۔
Ayahs 7:190–193

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

پھر جب ان کو دیا چنگا بھلا تو بنانے لگے اس کے لئے شریک اس کی بخشی ہوئی چیز میں، سو اللہ برتر ہے ان کے شریک بنانے سے

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا شریک بناتے ہیں ایسوں کو جو پیدا نہ کریں چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں،

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہیں کرسکتے ان کی مدد، اور نہ اپنی مدد کریں،

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو پکارو رستہ کی طرف تو نہ چلیں تمہاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ ان کو پکارو یا چپکے رہو۔

تیسری آیت کے آخر میں ان لوگوں کی بےراہی اور کجروی کو واضح کرنے کیلئے فرمایا (آیت) فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی پاک ہے اللہ تعالیٰ اس شرک سے جس کو ان لوگوں نے اختیار کیا۔ آیات مذکورہ کی اس تفسیر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس آیت کے پہلے جملہ میں حضرت آدم و حواء کا ذکر کرکے اولاد آدم کو ان کے اتباع اور شکر گزری کی تعلیم دی گئی ہے، اور آخری جملوں میں بعد کی آنے والی اولاد آدم کی گمراہی اور کجروی کا بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے بجائے شکر گزاری کے شرک کو اختیار کرلیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شرک اختیار کرنے والوں کے معاملہ کا تعلق حضرت آدم و حواء سے مطلق نہیں جس کے سبب حضرت آدم ؑ کی عصمت پر کوئی شبہ ہو، بلکہ اس کا تعلق بعد کی آنے والی نسلوں کے عمل سے ہے، اور یہ تفسیر جو ہم نے اخیتار کی ہے تفسیر درمنثور میں بروایت ابن المنذر و ابن ابی حاتم مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے۔ ترمذی اور حاکم کی روایات میں جو ایک قصہ حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) کا اور شیطان کے فریب دینے کا مذکور ہے اس کو بعض نے اسرائیلی روایات قرار دے کر ناقابل اعتماد بتلایا ہے لیکن بہت سے محدثین نے اس کی توثیق بھی کی ہے، متذکرہ تفسیر پر اگر اس قصہ کی روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی آیت کی تفسیر میں کوئی اشکال و شبہ باقی نہیں رہتا۔ اس آیت سے چند احکام و فوائد حاصل ہوئے اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عورت و مرد کے جوڑے کو ہم جنس بنایا تاکہ طبعی موافقت اور پورا انس ایک دوسرے کے ساتھ حاصل ہوسکے اور ازدواجی زندگی سے جو تعمیر عالم کے فوائد وابستہ ہیں وہ پوری طرح انجام پاسکیں۔ دوسرے یہ کہ ازدواجی زندگی کے جتنے حقوق و فرائض زوجین پر عائد ہوتے ہیں ان سب کا خلاصہ اور اصل مقصد سکون ہے، دنیا کی نئی معاشرت اور نئی رسموں میں جو چیزیں سکون کو برباد کرنے والی ہیں وہ ازدواجی تعلق کی بنیادی دشمن ہیں، اور آج کی مہذب دنیا میں جو گھریلو زندگی عموما تلخ نظر آتی ہے اور چار طرف طلاقوں کی بھرمار ہے، اس کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ معاشرت میں ایسی چیزوں کو مستحسن سمجھ لیا گیا ہے جو گھریلو زندگی کے سکون کو سراسر برباد کرنے والی ہیں، عورت کی آزادی کے نام پر اس کی بےپردگی اور بےحیائی جو طوفان کی طرح عالمگیر ہوتی جاتی ہے اس کو ازدواجی سکون کے برباد کرنے میں بڑا دخل ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ جوں جوں یہ بےپردگی اور بےحیائی عورت میں بڑھتی جاتی ہے اسی رفتار سے گھریلو سکون و اطمینان ختم ہوتا جاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ بچوں کے ایسے نام رکھنا جن سے مشرکانہ مفہوم لیا جاسکتا ہو، چاہے نام رکھنے والوں کی نیت یہ نہ ہو، وہ بھی ایک مشرکانہ رسم ہونے کے سبب گناہ عظیم ہے جیسے عبد الشمس عبد العزی وغیرہ نام رکھنا۔ چوتھے یہ کہ بچوں کے نام رکھنے میں بھی اداء شکر کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے نام اللہ و رسول کے ناموں پر رکھے جائیں، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن، عبداللہ وغیرہ کو زیادہ پسند فرمایا ہے۔ افسوس ہے کہ آج مسلمانوں میں سے یہ رہی سہی اسلامی رسم بھی ختم ہوتی جاتی ہے، اول تو نام ہی غیر اسلامی رکھے جاتے ہیں، اور کہیں اسلامی نام رکھ بھی دیئے تو ان کو بھی انگریزی کے مخفف حروف میں منتقل کرکے ختم کردیا جاتا ہے، سیرت و صورت سے تو کسی کا مسلمان سمجھنا پہلے ہی مشکل ہوچکا تھا، ناموں کے اس نئے طرز نے اسلام کی اس آخری علامت کو بھی رخصت کردیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا فہم اور اسلام کی محبت عطا فرمائے۔ آمین