7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 7:40–41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا نہ کھولے جائیں گے ان کے لئے دروازے آسمان کے اور نہ داخل ہوں گے جنت میں یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں گنہگاروں کو

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے واسطے دوزخ کا بچھونا ہے اور اوپر سے اوڑھنا، اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو

خلاصہ تفسیر (یہ حالت تو کفار کے دخول نار کی ہوئی، اب حرمان جنت کی کیفیت سنو کہ) جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور ان (کے ماننے) سے تکبر کرتے ہیں ان (کی روح کے صعود) کے لئے (مرنے کے بعد) آسمان کے دروازے نہ کھولے جاویں گے (یہ تو حالت مرنے کے بعد برزخ میں ہوئی) اور (قیامت کے روز) وہ لوگ کبھی جنت میں نہ جاویں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر سے نہ چلا جاوے (اور یہ محال ہے تو ان کا جنت میں داخل ہونا بھی محال ہے) اور ہم ایسے مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں (یعنی ہم کو کوئی عداوت نہ تھی جیسا کیا ویسا بھگتا، اور اوپر جو دوزخ میں جانا مذکور ہوا ہے وہ آگ ان کو ہر چہار طرف سے محیط ہوگی کہ کسی طرف سے کچھ راحت نہ ملے، چناچہ یہ حال ہوگا کہ) ان کے لئے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا ہوگا، اور ہم ایسے ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں (جن کا ذکر (آیت) فمن اظلم ممن۔ میں اوپر آیا ہے) اور جو لوگ (آیات الٓہیہ پر) ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے (اور یہ نیک کام چنداں مشکل نہیں، کیونکہ ہماری عادت ہے کہ) ہم کسی شخص کو اس قدرت سے زیادہ کوئی کام نہیں بتلاتے (یہ جملہ معترضہ تھا غرض) ایسے لوگ جنت (میں جانے) والے ہیں، (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور ان کی حالت اہل دوزخ کی سی نہ ہوگی کہ وہاں بھی ایک دوسرے کو لعنت ملامت کرتے رہیں گے، بلکہ ان کی یہ کیفیت ہوگی کہ) جو کچھ ان کے دلوں میں (کسی معاملہ کی وجہ سے دنیا میں باقتضائِ طبعی) غبار (اور رنج) تھا ہم اس کو (بھی) دور کردیں گے (کہ باہم الفت و محبت سے رہیں گے اور) ان کے (مکانات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور وہ لوگ (غایت فرح و سرور سے) کہیں گے اللہ تعالیٰ کا (لاکھ لاکھ) احسان ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا اور ہماری کبھی (یہاں تک) رسائی نہ ہوتی اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نہ پہنچاتے (اس میں یہ بھی آگیا کہ یہاں تک پہنچنے کا جو طریقہ تھا ایمان اور اعمال وہ ہم کو بتلایا اور اس پر چلنے کی توفیق دی) واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے (چنانچہ انہوں نے جن اعمال پر جنت کا وعدہ کیا تھا وہ سچا ہوا) اور ان سے پکار کر کہا جاوے گا کہ یہ جنت تم کو دی گئی ہے تمہارے اعمال (حسنہ) کے بدلے۔ معارف و مسائل چند آیات میں پہلے ایک عہد و میثاق کا ذکر ہے جو ہر انسان سے اس کی اس دنیا میں پیدائش سے پہلے عالم ارواح میں لیا گیا تھا، کہ جب ہمارے رسول تمہارے پاس ہماری ہدایات اور احکام لے کر آئیں تو ان کو دل و جان سے ماننا اور ان کے مطابق عمل کرنا، اور یہ بھی بتلا دیا گیا تھا کہ جو شخص دنیا میں آنے کے بعد اس عہد پر قائم رہ کر اس کے مقتضیات کو پورا کرے گا وہ ہر رنج و غم سے نجات پائے گا اور دائمی راحت و آرم کا مستحق ہوگا، اور جو انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب یا ان کے احکام سے سرکشی کرے اس کے لئے جہنم کا دائمی عذاب مقرر ہے، مذکور الصدر آیات میں اس صورت واقعہ کا اظہار ہے جو اس دنیا میں آنے کے بعد انسانوں کے مختلف گروہوں نے اختیار کی، کہ بعض نے عہد و میثاق کو بھلا دیا، اور اس کی خلاف ورزی کی اور بعض اس پر قائم رہے، اور اس کے مطابق اعمال صالحہ انجام دئیے، ان دونوں فریقوں کے انجام اور عذاب وثواب کا بیان ان چار آیات میں ہے۔ پہلی اور دوسری آیت میں عہد شکنی کرنے والے منکرین و مجرمین کا ذکر ہے، اور آخری دو آیتوں میں عہد پورا کرنے والے مؤمنین ومتقین کا۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلایا اور ہماری ہدایات اور آیات کے مقابلہ میں تکبر کے ساتھ پیش آئے ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔ تفسیر بحر محیط میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس کی ایک تفسیر یہ نقل فرمائی ہے کہ نہ ان لوگوں کے اعمال کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے نہ ان کی دعاؤں کیلئے، مطلب یہ ہے کہ ان کی دعا قبول نہ کی جائے گی، اور ان کے اعمال اس مقام پر جانے سے روک دیئے جائیں گے جہاں اللہ کے نیک بندوں کے اعمال محفوظ رکھے جاتے ہیں، جس کا نام قرآن کریم نے سورة مطففین میں علّیتین بتلایا ہے، اور قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں بھی اس مضمون کی طرف اشارہ ہے، جس میں ارشاد ہے(آیت) الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ، یعنی انسان کے کلمات طیبات اللہ تعالیٰ کے پاس لیجائے جاتے ہیں، اور ان کا نیک عمل ان کو اٹھاتا ہے، یعنی انسان کے اعمال صالحہ اس کا سبب بنتے ہیں کہ اس کے کلمات طیبات حق تعالیٰ کی بارگاہ خاص میں پہنچائے جاتے ہیں۔ اور ایک روایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور دوسرے صحابہ کرام سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ منکرین و کفار کی ارواح کیلئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے، یہ روحیں نیچے پٹک دی جائیں گی، اور اس مضمون کی تائید حضرت براء بن عازب ؓ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ اور امام احمد رحمة اللہ علیہ نے مفصل نقل کیا ہے، جس کا اختصار یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی انصاری صحابی کے جنازہ میں تشریف لے گئے، ابھی قبر کی تیاری میں کچھ دیر تھی تو ایک جگہ بیٹھ گئے، اور صحابہ کرام آپ ﷺ کے گرد خاموش بیٹھ گئے، آپ نے سر مبارک اٹھا کہ فرمایا کہ مومن بندہ کے لئے جب موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے سفید چمکتے ہوئے چہروں والے فرشتے آتے ہیں، جن کے ساتھ جنت کا کفن اور خوشبو ہوتی ہے، اور وہ مرنے والے کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، پھر فرشتہ موت عزرائیل ؑ آتے ہیں، اور اس کی روح کو خطاب کرتے ہیں کہ اے نفس مطمئنہ رب کی مغفرت اور خوشنودی کے لئے نکلو، اس وقت اس کی روح اس طرح بدن سے بآسانی نکل جاتی ہے جیسے کسی مشکیزہ کا دہانہ کھول دیا جائے تو اس کا پانی نکل جاتا ہے، اس کی روح کو فرشتہ موت اپنے ہاتھ میں لے کر ان فرشتوں کے حوالے کردیتا ہے، یہ فرشتے اس کو لے کر چلتے ہیں، جہاں ان کو کوئی فرشتوں کا گروہ ملتا ہے وہ پوچھتے ہیں یہ پاک روح کسی کی ہے، یہ حضرات اس کا وہ نام و لقب لیتے ہیں، جو عزت و احترام کے لئے اس کے واسطے دنیا میں استعمال کیا جاتا تھا، اور کہتے ہیں کہ یہ فلاں ابن فلاں ہے، یہاں تک یہ فرشتے بھی ان کے ساتھ ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں اس وقت حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے اس بندے کا اعمال نامہ علییّن میں لکھو، اور اس کو واپس کردو، یہ روح پھر لوٹ کر قبر میں آتی ہے، اور قبر میں حساب لینے والے فرشتے آکر اس کو اٹھاتے اور سوال کرتے ہیں، کہ تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے اور دین اسلام ہے، پھر سوال ہوتا ہے کہ یہ بزرگ جو تمہارے لئے بھیجے گئے ہیں کون ہیں وہ کہتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں، اس وقت ایک آسمانی ندا آتی ہے کہ میرا بندہ سچا ہے، اس کے لئے جنت کا فرش بچھا دو اور جنت کا لباس پہنا دو اور جنت کی طرف اس کا دروازہ کھول دو ، اس دروازہ سے اس کو جنت کی خوشبوئیں اور ہوائیں آنے لگتی ہیں، اور اس کا نیک عمل ایک حسین صورت میں اس کے پاس اس کو مانوس کرنے کے لئے آجاتا ہے۔ اس کے بالمقابل کافر ومنکر کا جب وقت موت آتا ہے تو آسمان سے سیاہ رنگ مہیب صورت فرشتے خراب قسم کا ٹاٹ لے کر آتے ہیں، اور بالمقابل بیٹھ جاتے ہیں، پھر فرشتہ موت اس کی روح اس طرح نکالتا ہے جیسے کوئی خار دار شاخ گیلی اون میں لپٹی ہوئی ہو اس میں سے کھینچی جائے یہ روح نکلتی ہے تو اس کی بدبو مردار جانور کی بدبو سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہے، فرشتے اس کو لے کر چلتے ہیں راہ میں جو دوسرے فرشتے ملتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ یہ کس کی خبیث روح ہے، یہ حضرات اس وقت اس کا وہ برے سے برا نام و لقب ذکر کرتے ہیں جن کے ساتھ وہ دنیا میں پکارا جاتا تھا کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک کہ سب سے پہلے آسمان پر پہنچ کر دروازہ کھولنے کے لئے کہتے ہیں تو اس کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا، بلکہ حکم یہ ہوتا ہے کہ اس بندہ کا اعمال نامہ سجیّن میں رکھو، جہاں نافرمان بندوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں، اور اس روح کو پھینک دیا جاتا ہے، وہ بدن میں دوبارہ آتی ہے فرشتے اس کو بٹھا کر اس سے بھی وہی سوالات کرتے ہیں جو مومن بندہ سے کئے تھے، یہ سب کا جواب یہ دیتا ہے ھاہ ھاہ لا ادری، یعنی میں کچھ نہیں جانتا، اس کے لئے جہنم کا فرش، جہنم کا لباس دے دیا جاتا ہے، اور جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے جس سے اس کو جہنم کی آنچ اور گرمی پہنچتی رہتی ہے، اور اس کی قبر اس پر تنگ کردی جاتی ہے، نعوذ باللہ منہ خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ منکرین و کفار کی ارواح آسمان تک لیجائی جاتی ہیں آسمان کا دروازہ ان کے لئے نہیں کھلتا تو وہیں سے پھینک دی جاتی ہے، آیت مذکورہ (آیت) لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَاب السَّمَاۗء کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ بوقت موت ان کی ارواح کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ آخر آیت میں ان لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ ، اس میں لفظ یلج ولوج سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں تنگ جگہ میں گھسنا، اور جمل اونٹ کو کہا جاتا ہے اور سَمّ سوئی کے روزن کو، معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک اونٹ جیسا عظیم الجثہ جانور سوئی کے روزن میں داخل نہ ہوجائے، مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوئی کے روزن میں اونٹ کا داخل ہونا عادةً محال ہے اسی طرح ان کا جنت میں جانا محال ہے، اس سے ان لوگوں کا دائمی عذاب جہنم بیان کرنا مقصود ہے، اس کے بعد ان لوگوں کے عذاب جہنم کی مزید شدت کا بیان ان الفاظ سے کیا گیا (آیت) لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ، مہاد کے معنی فرش، اور غواش، غاشیة کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں ڈھانپ لینے والی چیز کے، مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا اوڑھنا بچھونا سب جہنم کا ہوگا، اور پہلی آیت جس میں جنت سے محرومی کا ذکر تھا اس کے ختم پر (آیت) ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِيْنَ ، فرمایا اور دوسری آیت میں عذاب جہنم کا ذکر ہے، اس کے ختم پر (آیت) ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ ارشاد فرمایا، کیونکہ یہ اس سے زیادہ اشد ہے۔
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور کیں نیکیاں ہم بوجھ نہیں رکھتے کسی پر مگر اس کی طاقت کے موافق وہی ہیں جنت میں رہنے والے، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے ،

تیسری آیت میں احکام خداوندی کی پیروی اور پابندی کرنے والوں کا ذکر ہے، کہ یہ لوگ جنت والے ہیں اور جنت ہی میں ہمیشہ رہیں گے۔ احکام شریعت میں سہولت کی رعایت لیکن ان کے لئے جہاں یہ شرط ذکر کی گئی ہے کہ وہ ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں، اس کے ساتھ ہی رحمت و کرم سے یہ بھی فرما دیا (آیت) لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر کوئی ایسا بوجھل کام نہیں ڈالتے جو اس کی طاقت سے باہر ہو، مقصود یہ ہے کہ اعمال صالحہ جن کو دخول جنت کے لئے شرط کہا گیا ہے وہ کوئی بہت مشکل کام نہیں جو انسان نہ کرسکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے احکام شریعت کو ہر شعبہ میں نرم اور آسان کردیا ہے، بیماری، کمزوری، سفر اور دوسری انسانی ضروریات کا ہر حکم میں لحاظ رکھ کر آسانیاں دی گئی ہیں۔ اور تفسیر بحر محیط میں ہے کہ جب انسان کو اعمال صالحہ کا حکم دیا گیا تو یہ احتمال تھا کہ اس کو یہ حکم اس لئے بھاری معلوم ہو کہ تمام اعمال صالحہ ہر جگہ ہر حال میں بجا لانا تو انسان کے بس میں نہیں، اس لئے اس کے شبہ کو ان الفاظ سے دور کردیا گیا کہ ہم تمام انسانی زندگی کے مختلف ادوار اور حالات کا جائزہ لے کر ہر حال میں اور ہر وقت اور ہر جگہ کے لئے مناسب احکام دیتے ہیں جن پر عمل کرنا کوئی دشوار کام نہیں ہے۔
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی تھی بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں، اور کہیں گے شکر اللہ کا جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا اور ہم نہ تھے راہ پانے والے اگر نہ ہدایت کرتا ہم کو اللہ بیشک لائے تھے رسول ہمارے رب کی سچی بات اور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے، وارث ہوئے تم اس کے بدلے میں اپنے اعمال کے۔

اہل جنت کے دلوں سے باہمی کدورتیں نکال دی جائیں گی چوتھی آیت میں اہل جنت کے دو خاص حال بیان کئے گئے، ایک یہ کہ (آیت) وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْھٰرُ ”یعنی جنتی لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کی طرف سے کوئی رنجش یا کدورت ہوگی تو ہم اس کو ان کے دلوں سے نکال دیں گے، یہ لوگ ایک دوسرے سے بالکل خوش بھائی بھائی ہو کر جنت میں جائیں گے، اور بسیں گے“۔ صحیح بخاری میں ہے کہ مومنین جب پل صراط سے گزر کر جہنم سے نجات حاصل کرلیں گے تو ان کو جنت دوزخ کے درمیان ایک پل کے اوپر روک لیا جائے گا، اور ان کے آپس میں اگر کسی سے کسی کو رنجش تھی، یا کسی پر کسی کا حق تھا تو یہاں پہنچ کر ایک دوسرے سے انتقام لے کر معاملات صاف کرلیں گے، اور اس طرح حسد، بغض، کینہ وغیرہ سے پاک صاف ہو کر جنت میں داخل ہوں گے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ یہ پل بظاہر پل صراط کا آخری حصہ ہوگا، جو جنت سے متصل ہے، علامہ سیوطی رحمة اللہ علیہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور اس مقام پر جو حقوق کے مطالبات ہوں گے ان کی ادائیگی ظاہر ہے کہ روپیہ پیسہ سے نہ ہوسکے گی، کیونکہ وہ وہاں کسی کے پاس مال نہ ہوگا، بلکہ بخاری و مسلم کی ایک حدیث کے مطابق یہ ادائیگی اعمال سے ہوگی، حقوق کے بدلہ میں اس کے عمل صاحب حق کو دیدئے جائیں گے، اور اگر اس کے اعمال اس طرح سب ختم ہوگئے اور لوگوں کے حقوق ابھی باقی رہے تو پھر صاحب حق کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ایسے شخص کو سب سے بڑا مفلس قرار دیا ہے جس نے دنیا میں اعمال صالحہ کئے لیکن لوگوں کے حقوق کی پروا نہیں کی، اس کے نتیجہ میں تمام اعمال سے خالی مفلس ہو کر وہ گیا۔ اس روایت حدیث میں ادائے حقوق اور انتقام کا عام ضابطہ بیان کیا گیا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ سب کو یہی صورت پیش آئے، بلکہ ابن کثیر اور تفسیر مظہری کی روایت کے مطابق وہاں یہ صورت بھی ممکن ہوگی کہ بدوں انتقام لئے آپس کے کینے کدورتیں دور ہوجائیں۔ جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ یہ لوگ جب پل صراط سے گزر لیں گے تو پانی کے ایک چشمہ پر پہنچیں گے اور اس کا پانی پئیں گے، اس پانی کا خاصہ یہ ہوگا کہ سب کے دلوں سے باہمی کینہ و کدورت دھل جائے گی، امام قربطی رحمة اللہ علیہ نے آیت کریمہ (آیت) وسقھم ربھم شرابا طھورا کی تفسیر بھی یہی نقل کی ہے کہ جنت کے اس پانی سے سب کے دلوں کی رنجشیں اور کدورتیں دھل جائیں گی۔ حضرت علی مرتضیٰ نے ایک مرتبہ یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ ہم اور عثمان اور طلحہ اور زبیر انہی لوگوں میں سے ہوں گے جن کے سینے دخول جنت سے پہلے کدورتوں سے صاف کردیئے جائیں گے (ابن کثیر)۔ دوسرا حال اہل جنت کا اس آیت میں یہ بیان کیا گیا کہ جنت میں پہنچ کر یہ لوگ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے کہ اس نے ان کے لئے جنت کی طرف ہدایت کی اور اس کا راستہ آسان کردیا، اور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو ہماری مجال نہ تھی کہ ہم یہاں پہنچ سکتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی انسان محض اپنی کوشش سے جنت میں نہیں جاسکتا، جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اس پر نہ ہو، کیونکہ کوشش خود اس کے قبضہ میں نہیں وہ بھی محض اللہ تعالیٰ کی رحمت و فضل ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ ہدایت کے مختلف درجات ہیں جس کا آخری درجہ دخول جنت ہے امام راغب اصفہانی نے لفظ ہدایت کی تشریح میں بڑی مفید اور اہم بات فرمائی ہے کہ ہدایت کا لفظ بہت عام ہے، اس کے درجات مختلف ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا راستہ ملنے کا نام ہے، اس لئے تقرب الی اللہ کے درجات بھی جتنے مختلف اور غیر متناہی ہیں، اسی طرح ہدایت کے درجات بھی بےحد متفادت ہیں، ادنی درجہ ہدایت کا کفر و شرک سے نجات اور ایمان ہے جس سے انسان کا رخ غلط راستہ سے پھر کر اللہ تعالیٰ کی طرف ہوجاتا ہے، پھر بندہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جس قدر فاصلہ ہے اس کو طے کرنے کے ہر درجہ کا نام ہدایت ہے، اس لئے ہدایت کی طلب سے کسی وقت کوئی انسان یہاں تک کہ انبیاء اور رسل بھی مستغنی نہیں ہیں، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے آخر عمر تک (آیت) اھدنا الصراط المستقیم کی تعلیم جس طرح امت کو دی خود بھی اس دعا کا اہتمام جاری رکھا، کیونکہ تقرب الی اللہ کے درجات کی کوئی انتہا نہیں، یہاں تک کہ جنت کے داخلہ کو بھی اس آیت میں لفظ ہدایت سے تعبیر کیا گیا کہ یہ ہدایت کا آخری مقام ہے۔
Ayahs 7:44–45

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور پکاریں گے جنت والے دوزخ والوں کو کہ ہم نے پایا جو ہم سے وعدہ کیا تھا ہمارے رب نے سچا سو تم نے بھی پایا اپنے رب کے وعدے کو سچا، وہ کہیں گے کہ ہاں پھر پکارے گا ایک پکارنے والا ان کے بیچ میں کہ لعنت ہے اللہ کی ان ظالموں پر

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور ڈھونڈھتے تھے اس میں کجی، اور وہ آخرت سے منکر تھے

خلاصہ تفسیر اور (جب اہل جنت جنت میں جا پہنچیں گے اس وقت وہ) اہل جنت اہل دوزخ کو (اپنی حالت پر خوشی ظاہر کرنے کو اور ان کی حسرت بڑھانے کو) پکاریں گے کہ ہم سے جو ہمارے رب نے وعدہ فرمایا تھا (ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے سے جنت دیں گے) ہم نے اس کو واقع کے مطابق پایا سو (تم بتلاؤ کہ) تم سے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا (کہ کفر کے سبب دوزخ میں پڑو گے) تم نے بھی اس کو مطابق واقع کے پایا (یعنی اب تو حقیقت اللہ اور رسول ﷺ کے صدق اور اپنی گمراہی کی معلوم ہوئی) وہ (اہل دوزخ جواب میں) کہیں گے ہاں (واقعی سب باتیں اللہ اور رسول ﷺ کی ٹھیک نکلیں) پھر (ان دوزخیوں کی حسرت اور جنتیوں کی مسرت بڑھانے کو) ایک پکارنے والا (یعنی کوئی فرشتہ) دونوں (فریق) کے درمیان میں (کھڑا ہوکر) پکارے گا کہ اللہ تعالیٰ کی مار ہو ان ظالموں پر جو اللہ کی راہ (یعنی دین حق) سے اعراض کیا کرتے تھے اور اس (دین حق) میں (ہمیشہ بزعم خود) کجی (کی باتیں) تلاش کرتے رہتے تھے (کہ اس میں عیب اور اعتراض پیدا کریں) اور وہ لوگ (اس کے ساتھ) آخرت کے بھی منکر تھے (جس کا نتیجہ آج بھگت رہے ہیں، یہ کلام تو اہل جنت کا اور ان کی تائید میں اس سرکاری منادی کا مذکور ہوا، آگے اعراف والوں کا ذکر ہے) اور ان دونوں (فریق یعنی اہل جنت اور اہل دوزخ) کے درمیان آڑ (یعنی دیوار) ہوگی (جس کا ذکر سورة حدید میں ہے(آیت) فضرب بینھم بسور الخ اس کا خاصہ یہ ہوگا کہ جنت کا اثر دوزخ تک اور دوزخ کا اثر جنت تک نہ جانے دے گی، رہا یہ کہ پھر گفتگو کیونکر ہوگی، سو ممکن ہے کہ اس دیوار میں جو دروازہ ہوگا، جیسا سورة حدید میں ہے (آیت) بسور لہ باب، اس باب میں سے یہ گفتگو ہوجاوے، یا ویسے ہی آواز پہنچ جاوے) اور (اس دیوار کا یا اس کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے اور اس پر سے جنتی اور دوزخی سب نظر آویں گے سو) اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہوں گے (جن کی حسنات اور سیئات میزان میں برابر وزن کی ہوئیں) جو لوگ (اہل جنت اور اہل دوزخ میں سے) ہر ایک کو (علاوہ جنت اور دوزخ کے اندر ہونے کی علامت کے) ان کے قیافہ سے (بھی) پہچانیں گے (قیافہ یہ کہ اہل جنت کے چہروں پر نورانیت اور اہل دوزخ کے چہروں پر ظلمت اور کدورت ہوگی، جیسا دوسری (آیت) میں ہے وجوہ یؤ مئذ مسفرۃ ضاحکۃ الخ) اور یہ اہل اعراف اہل جنت کو پکار کر کہیں گے، السلام علیکم، ابھی یہ اہل اعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، اور اس کے امیدوار ہوں گے (چنانچہ حدیثوں میں آیا ہے کہ ان کی امید پوری کردی جاوے گی اور جنت میں جانے کا حکم ہوجاوے گا) اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف جا پڑیں گی (اس وقت ہول کھا کر) کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ (عذاب میں) شامل نہ کیجئے اور (جیسے ان اہل اعراف نے اوپر اہل جنت سے سلام و کلام کیا اسی طرح) اہل اعراف (دوزخیوں میں سے) بہت سے آدمیوں کو (جو کہ کافر ہوں گے اور) جن کو ان کے قیافہ (ظلمت و کدورت چہرہ) سے پہچانیں گے (کہ یہ کافر ہیں) پکاریں گے (اور) کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا (اور انبیاء کا اتباع نہ کرنا) تمہارے کچھ کام نہ آیا (اور تم اسی تکبر کی وجہ سے مسلمانوں کو حقیر سمجھ کر یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ بیچارے کیا مستحق فضل و کرم ہوتے، جیسا (آیت) اھوالاء من اللّٰہ علیہم من بیننا سے بھی یہ مضمون مفہوم ہوتا ہے، تو ان مسلمانوں کو اب تو دیکھو) کیا یہ (جو جنت میں عیش کر رہے ہیں) وہی (مسلمان ہیں) جن کی نسبت تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت نہ کرے گا (تو ان پر تو اتنی بڑی رحمت ہوئی کہ) ان کو یہ حکم ہوگیا کہ جاؤ جنت میں (جہاں) تم پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ تم مغموم ہوگے (اور اس کلام میں جو رجالاً کی تخصیص کی، غالباً وجہ اس کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہنوز عصاة مؤمنین بھی دوزخ میں پڑے ہوں گے، قرینہ اس کا یہ ہے کہ جب اہل اعراف امید جنت میں ہیں مگر داخل جنت نہیں ہوئے ہوں گے، تو گنہگار لوگ جن کے سیئات اہل اعراف کے سیئات سے زیادہ ہیں، ظاہراً بدرجہ اولیٰ دوزخ سے ابھی نہ نکلے ہوں گے، مگر ایسے لوگ اس کلام کے مخاطب نہ ہوں گے، واللہ اعلم۔ معارف و مسائل جب اہل جنت جنت میں اور دوذخ والے دوزخ میں اپنے اپنے مستقر پر پہنچ جائیں گے، اور ظاہر ہے کہ ان دونوں مقامات میں ہر حیثیت سے بعد بعید حائل ہوگا، لیکن اس کے باوجود قرآن مجید کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں کہ ان دونوں مقامات کے درمیان کچھ ایسے راستے ہوں گے جن سے ایک دوسرے کو دیکھ سکے گا، اور ان کے آپس میں مکالمات اور سوال و جواب ہوں گے۔ سورة صافات میں دو شخصوں کا ذکر مفصل آیا ہے جو دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے لیکن ایک مومن دوسرا کافر تھا، آخرت میں جب مومن جنت میں اور کافر جہنم میں چلا جائے گا تو یہ ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور باتیں کریں گے ارشاد ہے(آیت) فاطلع فراہ فی سواء الجحیم تا نحن بمعذبین، جس کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ جنتی ساتھی جھانک کر دوزخی ساتھی کو دیکھے گا تو اس کو وسط جہنم میں پڑا ہوا پائے گا، اور کہے گا کہ کمبخت تو یہ چاہتا تھا کہ میں بھی تیری طرح برباد ہوجاؤ ں، اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو آج میں بھی تیرے ساتھ جہنم میں پڑا ہوتا، اور تو جو مجھ سے یہ کہا کرتا تھا کہ اس دنیا کی موت کے بعد کوئی زندگی اور کوئی حساب کتاب یا ثواب عذاب ہونے والا نہیں، اب دیکھ لو کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ آیات مذکورہ اور ان کے بعد بھی تقریباً ایک رکوع تک اسی قسم کے مکالمات اور سوال و جواب کا تذکرہ ہے، جو اہل جنت اور اہل جہنم کے آپس میں ہوں گے۔ اور یہ جنت و دوزخ کے درمیان ایک دوسرے کو دیکھنے اور باتیں کرنے کے راستے بھی در حقیقت اہل جہنم کے لئے ایک اور طرح کا عذاب ہوگا کہ چار طرف سے ان پر ملامت ہوتی ہوگی، اور وہ اہل جنت کی نعمتوں اور راحتوں کو دیکھ کر جہنم کی آگ کے ساتھ حسرت کی آگ میں بھی جلیں گے، اور اہل جنت کے لئے نعمت و راحت میں ایک نئی طرح کا اضافہ ہوگا کہ دوسرے فریق کی مصیبت دیکھ کر اپنی راحت و نعمت کی قدر زیادہ ہوگی، اور جو لوگ دنیا میں دینداروں پر ہنسا کرتے تھے اور ان کا استہزاء کیا کرتے تھے، اور یہ کوئی انتقام نہ لیتے تھے، آج ان لوگوں کو ذلت و خواری کے ساتھ عذاب میں مبتلا دیکھیں گے تو یہ ہنسیں گے کہ ان کے عمل کی ان کو سزا مل گئی، قرآن کریم میں یہی مضمون سورة مطففین میں اس طرح ارشاد ہوا ہے (آیت) فالیوم الذین امنوا من الکفار یضحکون تا یفعلون۔ اہل جہنم کو ان کی گمراہی پر تنبیہ اور ان کے احمقانہ کلمات پر ملامت فرشتوں کی طرف سے بھی ہوگی، وہ ان کو مخاطب کرکے کہیں گے (آیت) ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون تا تبصرون ”یعنی یہ ہے وہ آگ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے، اب دیکھو کہ کیا یہ جادو ہے یا تمہیں نظر نہیں آتا“۔ اسی طرح آیات مذکورہ میں پہلی آیت میں ہے کہ اہل جنت اہل جہنم سے سوال کریں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جن نعمتوں اور راحتوں کا وعدہ کیا تھا ہم نے تو ان کو بالکل سچا اور پورا پایا تم بتلاؤ کہ تمہیں جس عذاب سے ڈرایا گیا تھا وہ بھی تمہارے سامنے آگیا یا نہیں، وہ اقرار کریں گے کہ بیشک ہم نے بھی اس کا مشاہدہ کرلیا۔ ان کے اس سوال و جواب کی تائید میں اللہ جل شانہ کی طرف سے کوئی فرشتہ یہ منادی کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہے ظالموں پر جو لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے، اور یہ چاہتے تھے کہ ان کا راستہ بھی سیدھا نہ رہے، اور وہ آخرت کا انکار کیا کرتے تھے اہل اعراف کون لوگ ہیں جنت و دوزخ والوں کے باہمی مکالمات کے ضمن میں ایک اور بات تیسری آیت میں یہ بتلائی گئی ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو جہنم سے تو نجات پاگئے مگر ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے، البتہ اس کے امیدوار ہیں کہ وہ بھی جنت میں داخل ہوجائیں، ان لوگوں کو اہل اعراف کہا جاتا ہے۔ اعراف کیا چیز ہے، اس کی تشریح سورة حدید کی آیات سے ہوتی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں لوگوں کے تین گروہ ہوں گے، ایک کھلے کافر و مشرک ان کو تو پل صراط پر چلنے کی نوبت ہی نہ آئے گی، پہلے ہی جہنم کے دروازوں سے اس میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ دوسرے مؤمنین ان کے ساتھ نور ایمان کی روشنی ہوگی۔ تیسرے منافقین، یہ چونکہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ لگے رہے وہاں بھی شروع میں ساتھ لگے رہیں گے، اور پل صراط پر چلنا شروع ہوں گے، اس وقت ایک سخت اندھیری سب کو ڈھانپ لے گی، مؤمنین اپنے نور ایمان کی مدد سے آگے بڑھ جائیں گے اور منافقین پکار کر ان کو کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھائیں، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کہنے والا کہے گا کہ پیچھے لوٹو وہاں روشنی تلاش کرو، مطلب یہ ہوگا کہ یہ روشنی ایمان اور عمل صالح کی ہے، جس کے حاصل کرنے کا مقام پیچھے گزر گیا، جن لوگوں نے وہاں ایمان و عمل کے ذریعہ یہ روشنی حاصل نہیں کی، ان کو آج روشنی کا فائدہ نہیں ملے گا، اسی حالت میں منافقین اور مؤمنین کے درمیان ایک دیوار کا حصار حائل کردیا جائے گا، جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس دروازہ کے باہر تو سارا عذاب ہی عذاب نظر آئے گا، اور دروازہ کے اندر جہاں مؤمنین ہوں گے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مشاہدہ اور جنت کی فضا سامنے ہوگی، یہی مضمون اس آیت کا ہے (آیت) یوم یقول المنفقون المنفقت تا قبلہ العذاب اس آیت میں وہ حصار جو اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان حائل کیا جائے گا اس کو لفظ سور سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ لفظ دراصل شہر پناہ کے لئے بولا جاتا ہے، جو بڑے شہروں کے گرد غنیم سے حفاظت کے لئے بڑی مضبوط، مستحکم چوڑی دیوار سے بنائی جاتی ہے، ایسی دیواروں میں فوج کے حفاظتی دستوں کی کمین گاہیں بھی بنی ہوتی ہیں، جو حملہ آوروں سے باخبر رہتے ہیں۔
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور دونوں کے بیچ میں ہوگی ایک دیوار اور اعراف کے اوپر مرد ہونگے کہ پہچان لیں گے ہر ایک کو اس کی نشانی سے اور وہ پکاریں گے جنت والوں کو کہ سلامتی ہے تم پر وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اور وہ امیدوار ہیں

سورة اعراف کی آیت مذکورہ میں ہے (آیت) وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ، ابن جریر اور دوسرے ائمہ تفسیر کی تحریر کے مطابق اس آیت میں لفظ حجاب سے وہی حصار مراد ہے جس کو سورة حدید کی آیت میں لفظ سور سے تعبیر کیا گیا ہے، اس حصار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے، کیونکہ اعراف عرف کی جمع ہے، اور عرف ہر چیز کے اوپر والے حصہ کو کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ دور سے معروف و ممتاز ہوتا ہے، اس تشریح سے معلوم ہوا کہ جنت و دوزخ کے درمیان حائل ہونے والے حصار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے، اور آیت اعراف میں یہ بتلایا گیا ہے کہ محشر میں اس مقام پر کچھ لوگ ہوں گے جو جنت و دوزخ دونوں طرف کے حالات کو دیکھ رہے ہوں گے، اور دونوں طرف رہنے والوں سے مکالمات اور سوال و جواب کریں گے۔ اب یہ کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور اس درمیانی مقام میں ان کو کیوں روکا جائے گا اس میں مفسرین کے اقوال مختلف اور روایات حدیث متعدد ہیں، لیکن صحیح اور راجح جمہور مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ یہ وہ لوگ جن کے حسنات اور سیئات کے دونوں پلے میزان عمل میں برابر ہوجائیں گے، اپنے حسنات کے سبب جہنم سے تو نجات پالیں گے، لیکن سیئات اور گناہوں کے سبب ابھی جنت میں ان کا داخلہ نہ ہوا ہوگا، اور بالآخر رحمت خداوندی سے یہ لوگ بھی جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت حذیفہ، ابن مسعود، ابن عباد ؓ کا اور دوسرے صحابہ وتابعین کا یہی قول ہے، اور اس میں تمام روایات حدیث بھی جمع ہوجاتی ہیں، جو مختلف عنوانات سے منقول ہیں، امام ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے بروایت حذیفہ ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اہل اعراف کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی، اس لئے جہنم سے تو نجات ہوگئی، مگر جنت میں ابھی داخل نہیں ہوئے، ان کو اس مقام اعراف پر روک لیا گیا، یہاں تک کہ تمام اہل جنت اور اہل دوزخ کا حساب اور فیصلہ ہوجانے کے بعد ان کا فیصلہ کیا جائے گا، اور بالآخر ان کی مغفرت ہوجائے گی، اور جنت میں داخل کئے جائیں گے (ابن کثیر) اور ابن مردویہ نے بروایت حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اھل اعراف کون لوگ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے والدین کی مرضی اور اجازت کے خلاف جہاد میں شریک ہوگئے، اور اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے، تو ان کو جنت کے داخلہ سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم کے داخلہ سے شہادت فی سبیل اللہ نے روک دیا۔ اس حدیث اور پہلی حدیث میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ یہ حدیث ایک مثال ہے ان لوگوں کی جن کی نیکیاں اور گناہ برابر درجہ کے ہوں، کہ ایک طرف شہادت فی سبیل اللہ اور دوسری طرف ماں باپ کی نافرمانی، دونوں پلّے برابر ہوگئے۔ (کذا قالہ ابن کثیر) سلام کا مسنون لفظ اہل اعراف کی تشریح اور تعریف معلوم ہونے کے بعد اب اصل آیت کا مضمون دیکھئے، جس میں ارشاد ہےاہل اعراف اہل جنت کو آواز دے کر کہیں گے سَلٰمُ عَلَیکُم یہ لفظ دنیا میں بھی باہمی ملاقات کے وقت بطور تحفہ و اکرام کے بولا جاتا ہے اور مسنون ہے اور بعد موت کے قبروں کی زیارت کے وقت بھی، اور پھر محشر اور جنت میں بھی، لیکن آیات اور روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں تو السلام علیکم کہنا مسنون ہے اور اس دنیا سے گذرنے کے بعد بغیر الف لام کے سلام علیکم کا لفظ مسنون ہے زیارت قبور کے لیے جو کلمہ قرآن مجید میں مذکور ہے وہ بھی (آیت) سلم علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار۔ آیا ہے اور فرشتے جب اہل جنت کا اسقبال کریں گے اس وقت بھی یہ لفظ اسی عنوان سے آیا ہے (آیت) سلم علیکم طبتم فادخلوھا خالدین، اور یہاں بھی اہل اعراف اہل جنت کو اسی لفظ کے ساتھ کلام کریں گے۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب پھرے گی ان کی نگاہ دوزخ والوں کی طرف تو کہیں گے اے رب ہمارے مت کر ہم کو گنہگار لوگوں کے ساتھ ،

آگے اہل اعراف کا یہ حال بتلایا ہے کہ وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہیں اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَاۗءَ اَصْحٰبِ النَّارِ ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ، یعنی جب اہل اعراف کی نظر اہل جہنم پر پڑے گی، اور ان کے عذاب و مصیبت کا مشاہدہ کریں گے تو اللہ سے پناہ مانگیں گے کہ ہمیں ان ظالموں کے ساتھ نہ کیجئے۔
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور پکاریں گے اعراف والے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہیں ان کی نشانی سے، کہیں گے نہ کام آئی تمہارے جماعت تمہاری اور جو تم تکبر کیا کرتے تھے

پانچویں آیت میں یہ بھی مذکور ہے کہ اہل اعراف اہل جہنم کو خطاب کرکے بطور علامت کے یہ کہیں گے کہ دنیا میں تم کو جس مال و دولت اور جماعت اور جتھہ پر بھروسہ تھا اور جن کی وجہ سے تم تکبر و غرور میں مبتلا تھے آج وہ کچھ تمہارے کام نہ آیا۔
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

اب یہ وہی ہیں کہ تم قسم کھایا کرتے تھے کہ نہ پہنچے گی ان کو اللہ کی رحمت چلے جاؤ جنت میں نہ ڈر ہے تم پر اور نہ تم غمگین ہو گے۔

چھٹی (آیت) میں مذکور ہے اَهٰٓؤ ُ لَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ۭ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ اس کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اہل اعراف کا سوال و جواب اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کے ساتھ ہوچکے گا، اس وقت رب العالمین اہل دوزخ کو خطاب کرکے یہ کلمات اہل اعراف کے بارے میں فرمائیں گے کہ تم لوگ قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ان کی مغفرت نہ ہوگی اور ان پر کوئی رحمت نہ ہوگی، سو اب دیکھو ہماری رحمت اور اس کے ساتھ ہی اہل اعراف کو خطاب ہوگا کہ جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ نہ تم پر پچھلے معاملات کا کوئی خوف ہونا چاہئے اور نہ آئندہ کا کوئی غم و فکر (ابن کثیر)
Ayahs 7:50–53

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور پکاریں گے دوزخ والے جنت والوں کو کہ بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی، یا کچھ اس میں سے جو روزی تم کو دی اللہ نے، کہیں گے اللہ نے ان دونوں کو روک دیا ہے کافروں سے

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے ٹھہرایا اپنا دین تماشا اور کھیل اور دھوکہ میں ڈالا ان کو دنیا کی زندگی نے سو آج ہم ان کو بھلا دیں گے جیسا انہوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں سے منکر تھے

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے پاس پہنچا دی ہے کتاب جس کو مفصل بیان کیا ہے ہم نے خبرداری سے راہ دکھانے والی اور رحمت ہے ایمان والوں کیلئے ،

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا اب اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہوجاوے جس دن ظاہر ہوجائے گا اس کا مضمون کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے بیشک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات سو اب کوئی ہماری سفارش والے ہیں تو ہماری سفارش کریں، یا ہم لوٹا دیئے جائیں تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے، بیشک تباہ کیا انہوں نے اپنے آپ کو اور گم ہوجائے گا ان سے جو وہ افتراء کیا کرتے تھے۔

خلاصہ تفسیر اور (جس طرح اوپر جنت والوں نے دوزخ والوں سے گفتگو کی اسی طرح) دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ (ہم مارے بھوک اور پیاس اور گرمی کے بےدم ہوئے جاتے ہیں، خدا کے واسطے) ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو (شاید کچھ تسکین ہوجائے) یا اور ہی کچھ دیدد، جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دے رکھا ہے (اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ امید کرکے مانگیں گے، کیونکہ غایت اضطراب میں بعید از توقع باتیں بھی منہ سے نکلا کرتی ہیں) جنت والے (جواب میں) کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی (یعنی جنت کے کھانے اور پینے کی) کافروں کے لئے بندش کر رکھی ہے، جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو (جس کا قبول کرنا ان کے ذمہ واجب تھا) لہو و لعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیوی زندگانی نے دھوکہ (اور غفلت) میں ڈال رکھا تھا (اس لئے دین کی کچھ پرواہی نہ کی، اور یہ دار الجزاء ہے، جب دین نہیں اس کا ثمرہ کہاں، آگے حق تعالیٰ اہل جنت کے اس جواب کی تصدیق و تائید میں فرماتے ہیں) سو (جب ان کی دنیا میں یہ حالت تھی تو) ہم بھی آج (قیام) کے روز ان کا نام نہ لیں گے (اور کھانا پینا خاک نہ دیں گے) جیسا انہوں نے اس (عظیم الشان) دن کا نام نہ لیا، اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے، اور ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے (یعنی قرآن) جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت ہی واضح واضح کرکے بیان کردیا ہے (اور یہ بیان سب کے سنانے کو کیا ہے لیکن) ذریعہ ہدایت اور رحمت ان (ہی) لوگوں کے لئے (ہوا) ہے جو (اس کو سن کر) ایمان لے آتے ہیں (اور جو باوجود اتمام حجت کے ایمان نہیں لاتے، ان کی حالت سے ایسا مترشح ہوا ہے کہ) ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف اس (قرآن) کے بتلائے ہوئے اخیر نتیجہ (یعنی وعدہ سزا) کا انتظار ہے (یعنی قبل از عذاب وعید سے نہیں ڈرتے تو خود عذاب کا وقوع چاہتے ہوں گے سو) جس روز اس کا (بتلایا ہوا) اخیر نتیجہ پیش آئے گا (جس کی تفصیل دوزخ وغیرہ کی اوپر مذکور ہوئی) اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے (مضطر ہو کر یوں کہنے) لگیں گے واقعی ہمارے رب کے پیغمبر (دنیا میں) سچی سچی باتیں لائے تھے (مگر ہم سے حماقت ہوئی) سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ وہ ہماری سفارش کر دے یا کیا ہم پھر (دنیا میں) واپس بھیجے جاسکے ہیں، تاکہ ہم لوگ (پھر دنیا میں جاکر) ان اعمال (بد) کے جن کو ہم کیا کرتے تھے برخلاف دوسرے اعمال (نیک) کریں (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اب کوئی صورت نجات کی نہیں) بیشک ان لوگوں نے اپنے کو (کفر کے) خسارے میں ڈال دیا اور یہ جو جو باتیں تراشتے تھے (اس وقت) سب گم ہوگیا (اب بجز سزا کے اور کچھ نہ ہوگا)
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین چھ دن میں پھر قرار پکڑا عرش پر اڑھاتا ہے رات پر دن کہ وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا اور پیدا کئے سورج اور چاند اور تارے تابعدار اپنے حکم کے سن لو اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا، بڑی برکت والا ہے اللہ جو رب ہے سارے جہان کا۔

خلاصہ تفسیر بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز (کے برابر وقت) میں پیدا کیا، پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے) چھپا دیتا ہے شب (کی تاریکی) سے دن (کی روشنی) کو (یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی پوشیدہ اور زائل ہوجاتی ہے) ایسے طور پر کہ وہ شب دن کو جلدی سے آ لیتی ہے (یعنی دن آناً فاناً گزرتا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ دفعةً رات آجاتی ہے) اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا، ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم (تکوینی) کے تابع ہیں، یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑے کمالات والے ہیں اللہ تعالیٰ جو تمام عالم کے پروردگار ہیں۔ معارف و مسائل مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں آسمان و زمین اور سیارات و نجوم کے پیدا کرنے اور ایک خاص نظام محکم کے تابع اپنے اپنے کام میں لگے رہنے کا ذکر اور اس کے ضمن میں حق تعالیٰ کی قدرت مطلقہ کا بیان کرکے ہر اہل عقل انسان کو اس کی دعوت فکر دی گئی ہے کہ جو ذات پاک اس عظیم الشان عالم کو عدم سے وجود میں لانے اور حکیمانہ نظام کے ساتھ چلانے پر قادر ہے اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ ان چیزوں کو معدوم کرکے قیامت کے روز دوبارہ پیدا فرما دے، اس لئے قیامت کا انکار چھوڑ کر صرف اسی ذات کو اپنا رب سمجھیں اسی سے اپنی حاجات طلب کریں، اسی کی عبادت کریں، مخلوق پرستی کی دلدل سے نکلیں اور حقیقت کو پہچانیں اس میں ارشاد فرمایا کہ ”تمہارا رب اللہ ہی ہے، جس نے آسمان اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا“۔ آسمان و زمین کی تخلیق میں چھ روز کی مدت کیوں ہوئی دوسرا سوال یہ ہے کہ دن اور رات کا وجود آفتاب کی حرکت سے پہچانا جاتا ہے، آسمان اور زمین کی پیدائش سے پہلے جب نہ آفتاب تھا نہ ماہتاب، چھ دنوں کی تعداد کس حساب سے ہوئی۔ اس لئے بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ مراد چھ دن سے اتنا وقت اور زمانہ ہے جس میں چھ دن رات اس دنیا میں ہوتے ہیں، لیکن صاف اور بےغبار بات یہ ہے کہ دن اور رات کی یہ اصلاح کہ طلوع آفتاب سے غروب تک دن اور غروب سے طلوع تک رات، یہ تو اس دنیا کی اصطلاح ہے، پیدائش عالم سے پہلے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کی دوسری علامات مقرر فرما رکھی ہیں، جیسے جنت میں ہوگا کہ وہاں کا دن اور رات حرکت آفتاب کے تابع نہیں ہوگا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ چھ دن جس میں زمین و آسمان بنائے گئے وہ ہمارے چھ دن کے برابر ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ اس سے بڑے ہوں، جیسے آخرت کے دن کے بارے میں ارشاد قرآنی ہے کہ ایک ہزار سال کے برابر ایک دن ہوگا۔ ابو عبداللہ رازی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ فلک اعظم کی حرکت اس دنیا کی حرکات کے مقابلہ میں اتنی تیز ہے کہ ایک دوڑنے والا انسان ایک قدم اٹھا کر زمین پر رکھنے نہیں پاتا کہ فلک اعظم تین ہزار میل کی مسافت طے کرلیتا ہے۔ (بحر محیط) امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ اور مجاہد رحمة اللہ علیہ کا قول یہی ہے کہ یہاں چھ دن سے آخرت کے چھ دن مراد ہیں، اور بروایت ضحاک رحمة اللہ علیہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی یہی منقول ہے۔ اور یہ چھ دن جن میں پیدائش عالم وجود میں آئی ہے، صحیح روایات کے مطابق اتوار سے شروع ہو کر جمعہ پر ختم ہوتے ہیں، یوم السبت یعنی ہفتہ کے اندر تخلیق عالم کا کام نہیں ہوا، بعض علماء نے فرمایا کہ سبت کے معنی قطع کرنے کے ہیں، اس روز کا یوم السبت اسی لئے نام رکھا گیا کہ اس پر کام ختم ہوگیا (تفسیر ابن کثیر) آیت مذکورہ میں زمین و آسمان کی تخلیق چھ روز میں مکمل ہونے کا ذکر ہے اس کی تفصیل سورة حم سجدہ کی نویں اور دسویں آیات میں اس طرح آئی ہے کہ دو دن میں زمین بنائی گئی، پھر دو دن میں زمین کے اوپر پہاڑ، دریا، معاون، درخت، نباتات، اور انسان و حیوان کے کھانے پینے کی چیزیں بنائی گئیں، کل چار دن ہوگئے، ارشاد فرمایا(آیت) خلق الارض فی یومین اور پھر فرمایا (آیت) قدر فیہا اقو تھا فی اربعۃ ایام۔ پہلے دو دن جس میں زمین بنائی گئی، اتوار اور پیر ہیں، اور دوسرے دو دن جن میں زمین کی آبادی کا سامان پہاڑ، دریا بنائے گئے وہ منگل اور بدھ ہیں، اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) فقضھن سبع سموات فی یومین، یعنی پھر ساتوں آسمان بنائے دو دن میں، ظاہر ہے کہ یہ دو دن جمعرات اور جمعہ ہوں گے، اس طرح جمعہ تک چھ دن ہوگئے۔ آسمان و زمین کی تخلیق کا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ۔ یعنی پھر عرش پر قائم ہوا، استویٰ کے لفظی معنی قائم ہونے اور عرش شاہی تخت کو کہا جاتا ہے اب یہ عرش رحمن کیسا اور کیا ہے، اور اس پر قائم ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کے متعلق بےغبار اور صاف و صحیح وہ مسلک ہے جو سلف صالحین صحابہ وتابعین سے اور بعد میں اکثر حضرات صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ انسانی عقل اللہ جل شانہ کی ذات وصفات کی حقیقت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہے، اس کی کھوج میں پڑنا بیکار بلکہ مضر ہے ان پر اجمالاً یہ ایمان لانا چاہئے کہ ان الفاظ سے جو کچھ حق تعالیٰ کی مراد ہے وہ صحیح اور حق ہے، اور خود کوئی معنی متعین کرنے کی فکر نہ کرے۔ حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہ سے ایک شخص نے یہی سوال کیا کہ استواء علی العرش کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے کچھ دیر تامل فرمانے کے بعد فرمایا کہ لفظ استواء کے معنی تو معلوم ہیں اور اس کی کیفیت اور حقیقت کا ادراک عقل انسانی نہیں کرسکتی، اور ایمان لانا اس پر واجب ہے، اور اس کے متعلق کیفیت و حقیقت کا سوال کرنا بدعت ہے، کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے سوالات نہیں کئے، سفیان ثوری، امام اوزاعی، لیث بن سعد، سفیان ابن عینیہ، عبداللہ بن مبارک رحمة اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا کہ جو آیات اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق آئی ہیں ان کو جس طرح وہ آئی ہیں اسی طرح بغیر کسی تشریح و تاویل کے رکھ کر ان پر ایمان لانا چاہئے (مظہری) اس کے بعد آیت مذکور میں فرمایا يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ ، یعنی اللہ تعالیٰ ڈھانپ دیتے ہیں رات کو دن پر اس طرح کہ رات جلدی کے ساتھ دن کو آ لیتی ہے، مراد یہ ہے کہ رات اور دن کا یہ انقلاب عظیم کہ پورے عالم کو نور سے اندھیرے میں یا اندھیرے سے نور میں لے آتا ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کے تابع اتنی جلدی اور آسانی سے ہوجاتا ہے کہ ذرا دیر نہیں لگتی۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا وّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ یعنی پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے آفتاب اور چاند اور تمام ستاروں کو اس حال پر کہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے امر و حکم کے تابع چل رہے ہیں۔ اس میں ایک ذی عقل انسان کے لئے دعوت فکر ہے جو مخلوق کی بنائی ہوئی مصنوعات کا ہر وقت مشاہدہ کرتا ہے کہ بڑے بڑے ماہرین کی بنائی مشینوں میں اول تو کچھ نقائص رہتے ہیں، اور نقائص بھی نہ رہیں تو کیسی فولادی مشینیں اور کَل پرزے ہوں چلتے چلتے گھستے ہیں، ڈھیلے ہوتے ہیں، مرمت کی ضرورت ہوتی ہے، گریسنگ کی حاجت پیش آتی ہے، اور اس کیلئے کئی کئی دن بلکہ ہفتوں اور مہینوں مشین معطل رہتی ہے، لیکن ان خدائی مشینوں کو دیکھو کہ جس طرح اور جس شان سے پہلے دن ان کو چلایا تھا اسی طرح چل رہی ہیں، نہ کبھی ان کی رفتار میں ایک منٹ سیکنڈ کا فرق آتا ہے، نہ کبھی ان کا کوئی پرزہ گھستا ٹوٹتا ہے، نہ کبھی ان کو ورکشاپ کی ضرورت پڑتی ہے، وجہ یہ ہے کہ وہ مستخرات بامرہ، چل رہی ہیں، یعنی ان کے چلنے چلانے کے لئے نہ کوئی بجلی کا پاور درکار ہے، نہ کسی انجن کی مدد ضروری ہے، وہ صرف امر الٓہی سے چل رہی ہیں، اسی کے تابع ہیں، اس میں کوئی فرق آنا ناممکن ہے، ہاں جب خود قادر مطلق ہی ان کے فنا کرنے کا ارادہ ایک معیّن وقت پر کریں گے تو یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا، جس کا نام قیامت ہے۔ ان چند مثالوں کے ذکر کے بعد حق تعالیٰ کی قدرت قاہرہ مطلقہ کا بیان ایک کلی قاعدے کی صورت میں اس طرح کیا گیا الا لہ الخلق والامر، خلق کے معنی پیدا کرنا اور امر کے معنی حکم کرنا ہیں، معنی یہ ہیں کہ اسی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، اس کے سوا کوئی دوسرا نہ کسی ادنی، چیز کو پیدا کرسکتا ہے اور نہ کسی کو کسی پر حکم کرنے کا حق ہے، (بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حکم کا کوئی خاصہ شعبہ کسی کے سپرد کردیا جائے تو وہ بھی حقیقت کے اعتبار سے اللہ ہی کا حکم ہے) اس لئے مراد آیت کی یہ ہوئی کہ یہ ساری چیزیں پیدا کرنا بھی اسی کا کام تھا، اور پیدا ہونے کے بعد ان سے کام لینا بھی کسی دوسرے کے بس کی بات نہ تھی وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ہے۔ صوفیاء کرام نے فرمایا کہ خلق اور امر دو عالم ہیں، خلق کا تعلق مادّہ اور مادّیات سے ہے، اور امر کا تعلق مجردات لطیفہ کے ساتھ ہے، (آیت) قل الروح من امر ربی۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ روح کو امر رب سے فرمایا، خلق اور امر دونوں کا اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہونے کا مطلب اس صورت میں یہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان جتنی چیزیں ہیں یہ تو سب مادی ہیں، ان کی پیدائش کو خلق کہا گیا، اور ما فوق السموٰات جو مادہ اور مادّیت سے بری ہیں ان کی پیدائش کو لفظ امر سے تعبیر کیا گیا (مظہری) آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ اس میں لفظ تبارک، برکت سے بنا ہے اور لفظ برکت، بڑھنے، زیادہ ہونے، ثابت رہنے وغیرہ کے کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، اس جگہ لفظ تَبَارَکَ کے معنی بلند وبالا ہونے کے ہیں، جو بڑھنے کے معنی سے بھی لیا جاسکتا ہے، اور ثابت رہنے کے معنی سے بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ قائم اور ثابت بھی ہیں، اور بلند وبالا بھی، بلند ہونے کے معنی کی طرف حدیث کے ایک جملہ میں بھی اشارہ کیا گیا ہے تبارکت وتعالیت یا ذا الجلال، یہاں تَبَارَکتَ کی تفسیر تَعَالَیتَ کے لفظ سے کردی گئی ہے۔