7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

تو کہہ اے لوگو میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امّی پر جو کہ یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ۔

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ اے (دنیا جہان کے) لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (پیغمبر) ہوں جس کی بادشاہت ہے تمام آسمانوں اور زمین میں، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے وہی موت دیتا ہے، اس لئے اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر (بھی ایمان لاؤ) جو کہ (خود بھی) اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں (یعنی جب باوجود اس رتبہ عظیمہ کے ان کو اللہ اور سب رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانے سے عار نہیں تو تم کو اللہ و رسول پر ایمان لانے سے کیوں انکار ہے) اور ان (نبی) کا اتباع کرو تاکہ تم راہ (راست) پر آجاؤ اور (اگرچہ بعض لوگوں نے آپ کی مخالفت کی لیکن) قوم موسیٰ میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو دین حق (یعنی اسلام) کے موافق (لوگوں کو) ہدایت بھی کرتے ہیں اور اسی کے موافق (اپنے اور غیروں کے معاملات میں) انصاف بھی کرتے ہیں (مراد اس سے عبداللہ بن سلام وغیرہ ہیں) معارف و مسائل اس آیت میں اسلام کے اصولی مسائل میں سے مسئلہ رسالت کے ایک اہم پہلو کا بیان ہے کہ ہمارے رسول کریم ﷺ کی رسالت دنیا کے تمام جن و بشر کے لئے اور ان میں بھی قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے عام ہے۔ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو یہ اعلان عام کردینے کا حکم ہے کہ آپ لوگوں کو بتلا دیں کہ میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، میری بعثت و رسالت پچلھے انبیاء کی طرح کسی مخصوص قوم یا مخصوص خطہ زمین یا خاص وقت کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے لئے دنیا کے ہر خطہ ہر ملک ہر آبادی کے لئے اور موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لئے قیامت تک کے واسطے عام ہے، اور انسانوں کے علاوہ جنات بھی اس میں شریک ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت تمام عالم کیلئے تا قیامت ہے، اسی لئے آپ پر نبوت ختم ہے یہی اصلی راز ہے مسئلہ ختم نبوت کا، کیونکہ جب آنحضرت ﷺ کی نبوت قیامت تک آنے والی سب نسلوں کے لئے عام ہے تو پھر کسی دوسرے رسول اور نبی کے مبعوث ہونے کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش، اور یہی راز ہے امت محمدیہ کی اس خصوصیت کا کہ اس میں ارشاد نبوی کے مطابق ہمیشہ ایک ایسی جماعت قائم رہے گی جو دین میں پیدا ہونے والے سارے فتنوں کا مقابلہ اور دینی معاملات میں پیدا ہونے والے سارے رخنوں کا انسداد کرتی رہے گی، کتاب و سنت کی تعبیر و تفسیر میں جو غلطیاں رائج ہوں گی یہ جماعت ان کو بھی دور کرے گی اور حق تعالیٰ کی خاص نصرت و امداد اس جماعت کو حاصل ہوگی جس کے سبب یہ سب پر غالب آکر رہے گی، کیونکہ درحقیقت یہ جماعت ہی آنحضرت ﷺ کے فرائض رسالت ادا کرنے میں آپ کی قائم مقام ہوگی۔ امام رازی نے آیت كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ کے تحت میں بتلایا ہے کہ اس آیت میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اس امت میں صادقین کی ایک جماعت ضرور باقی رہے گی ورنہ دنیا کو صادقین کی معیت وصحبت کا حکم ہی نہ ہوتا اور اسی سے امام رازی نے ہر دور میں اجماع امت کا حجت شرعیہ ہونا ثابت کیا ہے، کیونکہ صادقین کی جماعت کے موجود ہوتے ہوئے کسی غلط بات یا گمراہی پر سب کا اجماع و اتفاق نہیں ہوسکتا۔ امام ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین اور آخری پیغمبر ہونے کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ جب آپ کی بعثت و رسالت قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے اور پورے عالم کے لئے عام ہوئی تو اب کسی دوسرے جدید نبی و رسول کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اسی لئے آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ ؑ تشریف لائیں گے تو وہ بھی اپنی جگہ اپنی نبوت پر برقرار ہونے کے باوجود شریعت محمدی پر عمل کریں گے، جیسا کہ صحیح روایات حدیث سے ثابت ہے۔ رسول کریم ﷺ کی بعثت و رسالت ساری دنیا اور قیامت تک کے لئے عام ہونے پر یہ آیت بھی بہت واضح ثبوت ہے، اس کے علاوہ قرآن کریم کی متعدد آیات اس پر شاہد ہیں۔ مثلا ارشاد ہے (آیت) وَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ۔ یعنی یہ قرآن مجھ پر بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ میں تم کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں اور ان لوگوں کو بھی جن کو میرے بعد یہ قرآن پہنچے۔ آنحضرت ﷺ کی چند اہم خصوصیات اور ابن کیثر نے بحوالہ مسند احمد سند قوی کے ساتھ روایت کیا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر رسول کریم ﷺ نماز تہجد میں مشغول تھے، صحابہ کرام کو خوف ہوا کہ کوئی دشمن حملہ نہ کردے اس لئے آپ کے گرد جمع ہوگئے، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ آج کی رات مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی رسول و نبی کو نہیں ملیں، اول یہ کہ میری رسالت و نبوت کو ساری دنیا کی کل اقوام کے لئے عام کیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے جتنے انبیاء آئے ان کی دعوت و بعثت صرف اپنی اپنی قوم کے ساتھ مخصوص ہوئی تھی، دوسری بات یہ ہے کہ مجھے میرے دشمن کے مقابلہ میں ایسا رعب عطا کیا گیا ہے کہ وہ مجھ سے ایک مہینہ کی مسافت پر ہو تو میرا رعب اس پر چھا جاتا ہے، تیسرے یہ کہ میرے لئے کفار سے حاصل شدہ مال غنیمت حلال کردیا گیا حالانکہ پچھلی امتوں کے لئے حلال نہ تھا بلکہ اس کا استعمال کرنا گناہ عظیم سمجھا جاتا تھا، ان کے مال غنیمت کا صرف یہ مصرف تھا کہ آسمان سے ایک بجلی آئے اور اس کو جلا کر خاک کردے، چوتھے یہ کہ میرے لئے تمام زمین کو مسجد اور پاک کرنے کا ذریعہ بنادیا کہ ہماری نماز زمین پر ہر جگہ ہوجاتی ہے مسجد کے ساتھ مخصوص نہیں بخلاف پہلی امتوں کے کہ ان کی عبادت صرف ان کے عبادت خانوں کے ساتھ مخصوص تھی اپنے گھروں میں یا جنگل وغیرہ میں ان کی نماز و عبادت نہ ہوتی تھی، نیز یہ کہ جب پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو، خواہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے یا کسی بیماری کے سبب تو وضو کے بجائے مٹی سے تیمم کرنا اس امت کے لئے طہارت و وضو کے قائم مقام ہوجاتا ہے، پچھلی امتوں کے لئے یہ آسانی نہ تھی، پھر فرمایااور پانچویں چیز کا تو کچھ پوچھنا ہی نہیں وہ خود ہی اپنی نظیر ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر رسول کو ایک دعا کی قبولیت ایسی عطا فرمائی ہے کہ اس کے خلاف نہیں ہوسکتا اور ہر رسول و نبی نے اپنی اپنی دعا کو اپنے خاص مقصدوں کے لئے استعمال کرلیا وہ مقصد حاصل ہوگئے مجھ سے یہی کہا گیا کہ آپ کوئی دعا کریں، میں نے اپنی دعا کو آخرت کے لئے محفوظ کرادیا، وہ دعا تمہارے اور قیامت تک جو شخص لآ الہ الا اللہ کی شہادت دینے والا ہوگا اس کے کام آئے گی۔ نیز امام احمد کی ایک روایت حضرت ابو موسیٰ اشعری سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میرا مبعوث ہونا سنے خواہ وہ میری امت میں ہو یا یہودی نصرانی ہو اگر وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے گا تو جہنم میں جائے گا۔ اور صحیح بخاری میں اسی آیت کے تحت میں بروایت ابو درداء نقل کیا ہے کہ ابوبکر و عمر ؓ کے درمیان کسی بات میں اختلاف ہوا، حضرت عمر ؓ ناراض ہو کر چلے گئے، یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر ؓ بھی ان کو منانے کے لئے چلے، مگر حضرت عمر نے نہ مانا، یہاں تک کہ اپنے گھر میں پہنچ کر دروازہ بند کرلیا، مجبورا صدیق اکبر واپس ہوئے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، ادھر کچھ دیر کے بعد حضرت عمر کو اپنے اس فعل پر ندامت ہوئی اور یہ بھی گھر سے نکل کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور اپنا واقعہ عرض کیا، ابو الدرداء کا بیان ہے کہ اس پر رسول اللہ ﷺ ناراض ہوگئے، جب صدیق اکبر نے دیکھا کہ حضرت عمر پر عتاب ہونے لگا تو عرض کیا یا رسول اللہ زیادہ قصور میرا ہی تھا، رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ میرے ایک ساتھی کو اپنی ایذاؤں سے چھوڑ دو ، کیا تم نہیں جانتے کہ جب میں نے باذن خداوندی یہ کہا کہ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا تو تم سب نے مجھے جھٹلایا صرف ابوبکر ہی تھے جنہوں نے پہلی بار میری تصدیق کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے آنحضرت ﷺ کا تمام موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے اور ہر ملک ہر خطہ کے باشندوں کے لئے اور ہر قوم و برادری کے لئے رسول عام ہونا ثابت ہوا اور یہ کہ آپ کی بعثت کے بعد جو شخص آپ پر ایمان نہیں لایا وہ اگرچہ کسی سابق شریعت و کتاب کا یا کسی اور مذہب و ملت کا پورا پورا اتباع تقوی و احتیاط کے ساتھ بھی کررہا ہو وہ ہرگز نجات نہیں پائے گا۔ آخر آیت میں بتلایا کہ میں اس ذات پاک کی طرف سے رسول ہوں جس کی ملک میں ہیں تمام آسمان اور زمین، وہ ہی زندہ کرتا ہے وہی مارتا ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا(آیت) فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤ ْمِنُ باللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔ یعنی جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ آنحضرت ﷺ تمام اقوام عالم کے لئے رسول و نبی ہیں، ان کے اتباع کے بغیر کوئی چارہ نہیں، تو ضروری ہے کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر جو خود بھی اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان لاتے ہیں، اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم صحیح راستہ پر قائم رہو۔ اللہ کے کلمات سے مراد اللہ تعالیٰ کی کتابیں تورات، انجیل، قرآن وغیرہ ہیں، ایمان کے حکم کے بعد پھر اتباع کا مزید حکم دے کر اس کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ محض ایمان لانا یا زبانی تصدیق کرنا آپ کی شریعت کا اتباع کرنے کے بغیر ہدایت کے لئے کافی نہیں۔ حضرت جنید بغدادی نے فرمایا کہ مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے کل راستے بند ہیں بجز اس راستہ کے جو نبی کریم ﷺ نے بتلایا ہے۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ہے جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں۔

حضرت موسیٰ ؑ کی قوم میں ایک حق پرست جماعت دوسری آت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ، یعنی موسیٰ ؑ کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو خود بھی حق کا اتباع کرتی ہے اور اپنے نزاعی معاملات کے فیصلوں میں حق کے موافق فیصلے کرتی ہے۔ سابقہ آیات میں حضرت موسیٰ ؑ کی قوم کی کجروی، کج بحثی اور گمراہی کا بیان ہوا تھا، اس آیت میں بتلایا گیا کہ پوری قوم بنی اسرائیل ایسی نہیں بلکہ ان میں کچھ لوگ اچھے بھی ہیں جو حق کا اتباع کرتے ہیں، اور حق فیصلے کرتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے تورات و انجیل کے زمانہ میں ان کی ہدایات کے موافق پورا عمل کیا، اور جب خاتم الانبیاء ﷺ مبعوث ہوئے تو تورات و انجیل کی بشارت کے موافق آپ پر ایمان لائے اور آپ کا اتباع کیا، بنی اسرائیل کی اس حق پرست جماعت کا ذکر بھی قرآن میں بار بار آیا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) من اھل الکتب امۃ قآئمة یتلون ایت اللہ انآء الیل وھم یسجدون، یعنی اہل کتاب میں ایک ایسی جماعت بھی ہے جو حق پر قائم ہے، اللہ کی آیات کو رات بھر تلاوت کرتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یؤ منون یعنی وہ لوگ جن کو آنحضرت ﷺ سے پہلے کتاب (تورات و انجیل دی گئی تھی وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ نے اس جگہ ایک عجیب حکایت نقل کی ہے کہ اس جماعت سے وہ جماعت مراد ہے جو بنی اسرائیل کی گمراہی اور بد اعمالیوں، قتل انبیاء وغیرہ سے تنگ آکر ان سے الگ ہوگئی تھی بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے ایک قبیلہ تھا جنہوں نے اپنی قوم سے تنگ آکر یہ دعا کی کہ یا اللہ ہمیں ان لوگوں سے دور کہیں اور بسا دیجئے تاکہ ہم اپنے دین پر پختگی سے عمل کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ان کو ڈیڑھ سال کی مسافت پر مشرق بعید کی کسی زمین میں پہنچا دیا جہاں وہ خالص عبادت میں مشغول رہے، اور رسول کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد بھی نیرنگ قدرت سے ان کے مسلمان ہونے کا یہ سامان ہوا کہ شب معراج میں جبریل امین رسول اللہ ﷺ کو اس طرف لے گئے وہ لوگ آپ پر ایمان لائے آپ نے ان کو کچھ قرآن کی سورتیں پڑھائیں اور ان سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس ناپ تول کا کچھ انتظام ہے اور تم لوگوں کے معاش کا کیا سامان ہے ؟ جواب دیا کہ ہم زمین میں غلہ بوتے ہیں جب تیار ہوجاتا ہے کاٹ کر وہیں ڈھیر لگا دیتے ہیں ہر شخص کو جتنی ضرورت ہوتی ہے وہاں سے لے آتا ہے، ناپنے تولنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم میں کوئی شخص جھوٹ بھی بولتا ہے ؟ عرض کیا کہ نہیں، کیونکہ اگر کوئی ایسا کرے تو فورا ایک آگ آکر اسے جلا دیتی ہے، آپ نے دریافت کیا کہ تم سب کے مکانات بالکل یکساں کیوں ہیں ؟ عرض کیا اس لئے کہ کسی کو کسی پر بڑائی جتلانے کا موقع نہ ملے، پھر دریافت کیا کہ تم نے اپنے مکانات کے سامنے اپنی قبریں کیوں بنا رکھی ہیں ؟ عرض کیا تاکہ ہمیں موت ہر وقت مسحضر رہے، پھر رسول اللہ ﷺ جب معراج سے واپس مکہ میں تشریف لائے تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ، تفسیر قرطبی نے اسی روایت کو اصل قرار دیا ہے اور دوسرے احتمالات بھی لکھے ہیں، ابن کثیر نے اس کو حکایت عجیبہ تو فرمایا مگر رد نہیں کیا، البتہ تفسیر قرطبی میں اس کو نقل کر کے کہا ہے کہ غلبا یہ روایت صحیح نہیں۔ بہرحال اس آیت سے یہ مفہوم ہوا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم میں ایک جماعت ایسی ہے جو ہمیشہ حق پر قائم رہی خواہ یہ وہ لوگ ہوں جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کی خبر پاکر مشرف باسلام ہوگئے، یا وہ بنی اسرائیل کا بارہواں قبیلہ ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے کسی خاص حصہ میں رکھا ہوا ہے جہاں دوسروں کی رسائی نہیں۔ واللہ اعلم
Ayahs 7:160–162

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور جدا جدا کردئیے ہم نے ان کے بارہ دادوں کی اولاد بڑی بڑی جماعتیں اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے کہ مار اپنی لاٹھی اس پتھر پر تو پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے، پہچان لیا ہر قبیلہ نے اپنا گھاٹ، اور سایہ کیا ہم نے ان پر ابر کا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلوٰی، کھاؤ ستھری چیزیں جو ہم نے روزی دی تم کو، اور انہوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے رہے،

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور جب حکم ہوا ان کو کہ بسو اس شہر میں اور کھاؤ اس میں جہاں سے چاہو اور کہو ہم کو بخش دے اور داخل ہو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے تو بخش دیں گے ہم تمہاری خطائیں البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

سو بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے دوسرا لفظ اس کے سوا جو ان سے کہہ دیا گیا تھا پھر بھیجا ہم نے ان پر عذاب آسمان سے بسبب ان کی شرارت کے۔

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (ایک انعام بنی اسرائیل پر یہ کیا کہ انکی اصلاح و انتظام کے لئے) ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کردی (اور ہر ایک پر ایک سردار نگرانی کیلئے مقرر کردیا، جن کا ذکر مائدہ کے رکوع سوم میں (آیت) (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا) اور (ایک انعام یہ کہ) ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا جبکہ انکی قوم نے ان سے پانی مانگا (اور انہوں نے حق تعالیٰ سے دعا کی، اس وقت یہ حکم ہوا) کہ اپنے اس عصاء کو فلاں پتھر پر مارو (اس سے پانی نکل آوے گا) بس (مارنے کی دیر تھی) فورا اس سے بارہ چشمے (بعدد ان بارہ خاندانوں کے) پھوٹ نکلے (چنانچہ) ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کرلیا اور (ایک انعام یہ کیا کہ) ہم نے ان پر ابر کو سایہ افگن کیا اور (ایک انعام یہ کیا کہ) ان کو (خزانہ غیب سے) ترنجبین اور بٹیریں پہنچائیں، (اور اجازت دی کہ) کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں (لیکن وہ لوگ اس میں بھی ایک بات خلاف حکم کر بیٹھے) اور (اس سے) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا، لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے، (یہ واقعات وادی تیہ کے ہیں جن کی تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی) اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جاکر رہو اور کھاؤ اس (کی چیزوں میں) سے جس جگہ تم رغبت کرو اور (یہ بھی حکم دیا گیا کہ جب اندر جانے لگو تو) زبان سے یہ کہتے جانا کہ توبہ ہی (توبہ ہے اور (عاجزی سے) جھکے جھکے دروازے میں داخل ہونا ہم تمہاری (پچھلی) خطائیں معاف کردیں گے (یہ تو سب کیلئے ہوگا اور) جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید براں اور دیں گے، سو بدل ڈالا ان ظالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس (کے کہنے) کی ان سے فرمائش کی گئی تھی، اس پر ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی، اس وجہ سے کہ وہ حکم کو ضائع کرتے تھے۔
Ayahs 7:163–166

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور پوچھ ان سے حال اس بستی کا جو تھی دریا کے کنارے جب حد سے بڑھنے لگے ہفتہ کے حکم میں جب آنے لگیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتہ کے دن پانی کے اوپر اور جس دن ہفتہ نہ ہو تو نہ آتی تھیں اس طرح ہم نے ان کو آزمایا اسلئے کہ وہ نافرمان تھے،

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب بولا ان میں سے ایک فرقہ کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جن کو اللہ چاہتا ہے کہ ہلاک کرے یا ان کو عذاب دے سخت وہ بولے الزام اتارنے کی غرض سے تمہارے رب کے آگے اور اس لئے کہ شاید وہ ڈریں

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پھر جب وہ بھول گئے اس کو جو ان کو سمجھایا تھا تو نجات دی ہم نے ان کو جو منع کرتے تھے برے کام سے اور پکڑا گنہگاروں کو برے عذاب میں بسبب ان کی نافرمانی کے

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پھر جب بڑھنے لگے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے تو ہم نے حکم کیا کہ ہوجاؤ بندر ذلیل۔

خلاصہ تفسیر اور آپ ان (اپنے ہمعصر یہودی) لوگوں سے (بطور تنبیہ کے) اس بستی (والوں) کا جو کہ دریائے شور کے قریب آباد تھے (اور اس میں یہودی رہتے تھے جن کو ہفتہ کے روز شکار کرنا ممنوع تھا) اس وقت کا حال پوچھئے جب کہ وہ (وہ ان کے بسنے والے) ہفتہ (کے متعلق جو حکم تھا اس) کے بارے میں حد (شرعی) سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان (کے دریا) کی مچھلیاں (پانی سے سر نکال نکال) ظاہر ہو ہو کر (سطح دریا پر) ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں (بلکہ وہاں سے دور کہیں چلی جاتی تھیں اور وجہ اس کی یہ تھی کہ) ہم ان کی اس طرح پر (شدید) آزمائش کرتے تھے (کہ کون حکم پر ثابت رہتا ہے کون نہیں رہتا اور یہ آزمائش) اس سبب سے (تھی) کہ وہ (پہلے سے) بےحکمی کیا کرتے تھے (اسی لئے ایسے سخت حکم سے ان کی آزمائش کی اور اہل اطاعت کی آزمائش لطف اور توفیق اور تائید سے مقرون ہوا کرتی ہے) اور (اس وقت کا حال پوچھئے) جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے (جو کہ ان کو نصیحت کرتے کرتے اثر و نفع ہونے سے مایوس ہوگئے تھے ایسے لوگوں سے جو اب بھی نصیحت کئے چلے جارہے تھے اور اس قدر مایوس بھی نہ ہوئے تھے جیسا (آیت) لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ سے معلوم ہوتا ہے) یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کئے جاتے ہو جن (سے قبول کی کچھ امید نہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان) کو اللہ تعالیٰ بالکل ہلاک کرنے والے ہیں یا (ہلاک نہ ہوئے تو) ان کو (کوئی اور طرح کی) سخت سزا دینے والے ہیں (یعنی ایسوں کے ساتھ کیوں دماغ خالی کرتے ہو) انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے (اور اپنے) رب کے روبرو عذر کرنے کے لئے (ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ اللہ کے روبرو کہہ سکیں کہ اے اللہ ہم نے تو کہا تھا مگر انہوں نے نہ سنا ہم معذور ہیں) اور (نیز) اس لئے کہ شاید ڈر جائیں (اور عمل کرنے لگیں مگر وہ کب عمل کرتے تھے) سو (آخر) جب وہ اس امر کے تارک ہی رہے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا (یعنی نہ مانا) تو ہم نے ان لوگوں کو تو (عذاب سے) بچا لیا جو اس بری بات سے منع کیا کرتے تھے (خواہ برابر منع کرتے رہے اور خواہ بوجہ عذر یاس کے بیٹھ رہے) اور ان لوگوں کو جو کہ (حکم مذکور میں) زیادتی کرتے تھے ان کی (اس عدول حکمی کی وجہ سے) ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا یعنی جب وہ جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے (یہ تو تفسیر ہوئی نسیان مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ کی تو ہم نے ان کو (براہ قہر) کہہ دیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ یہ تفسیر ہوئی عذاب بئیس کی) واقعات مندرجہ آیات مذکورہ بھی معارف القرآن جلد اول سورة بقرہ میں تفصیل و تشریح کے ساتھ آچکے ہیں، اس کے متعلق ضروری باتیں وہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب خبر دی تھی تیرے رب نے کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو کہ دیا کرے ان کو برا عذاب، بیشک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے، اور وہ بخشنے والا مہربان ہے،

خلاصہ تفسیر اور وہ وقت یاد کرنا چاہئے کہ جب آپ کے رب نے (انبیاء بنی اسرائیل کی معرفت) یہ بات بتلا دی کہ وہ ان یہود پر (ان کی گستاخیوں اور نافرمانیوں کی سزا میں) قیامت (کے قریب) تک ایسے (کسی نہ کسی) شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سزائے شدید (ذلت و خواری و محکومیت) کی تکلیف پہنچاتا رہے گا (چنانچہ مدت سے یہودی کسی نہ کسی سلطنت کے محکوم و مقہور ہی چلے آتے ہیں) بلا شبہ آپ کا رب واقعی (جب چاہے) جلدی ہی سزادے دیتا ہے اور بلاشبہ وہ واقعی (اگر باز آجاوے تو) بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا (بھی) ہے اور ہم نے دنیا میں ان کی متفرق جماعتیں کردیں (چنانچہ) بعضے ان میں نیک (بھی) تھے اور بعضے ان میں اور طرح کے تھے (یعنی بد تھے) اور ہم (نے ان بدوں کو بھی اپنی عنایت اور تربیت و اصلاح کے اسباب جمع کرنے سے کبھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ ہمیشہ) ان کو خوش حالیوں (یعنی صحت و غنا) اور بد حالیوں (یعنی بیماری و فقر) سے آزماتے رہے کہ شاید (اسی سے) باز آجائیں (کیونکہ گاہے حسنات سے ترغیب ہوجاتی ہے اور گاہے سیئات سے ترہیب ہوجاتی ہے، یہ حال تو ان کے سلف کا ہوا) پھر (سلف) کے بعد ایسے لوگ ان کے جا نشین ہوئے کہ کتاب (یعنی تورات) کو (تو) ان سے حاصل کیا (لیکن اس کے ساتھ ہی حرام خور ایسے ہیں کہ احکام کتاب کے عوض میں) اس دنیائے دنی کا مال متاع (اگر ملے تو بےتکلف اس کو) لے لیتے ہیں (اور بیباک ایسے ہیں کہ اس گناہ کو حقیر سمجھ کر) کہتے ہیں کہ ہماری ضرور مغفرت ہوجاوے گی (کیونکہ ہم ابناء اللہ و احبآء اللہ ہیں ایسے گناہ ہماری مقبو لیت کے روبرو کیا چیز ہیں) حالانکہ (اپنی بیباکی اور اسخفاف معصیت پر مصر ہیں حتی کہ) اگر ان کے پاس (پھر) ویسا ہی (دین فروشی کے عوض) مال متاع آنے لگے تو (اسی بیباکی کے ساتھ پھر) اس کو لے لیتے ہیں (اور استخفاف معصیت کا خود کفر ہے، جس پر مغفرت کا احتمال بھی نہیں، تا بہ یقین چہ رسد، چناچہ آگے یہی ارشاد ہے کہ) کیا ان سے اس کتاب کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا کہ خدا کی طرف بجز حق (اور واقعی) بات کے اور کسی بات کی نسبت نہ کریں (مطلب یہ ہے کہ جب کسی آسمانی کتاب کو مانا جاتا ہے تو اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ ہم اس کے سب مضامین مانیں گے) اور (عہد بھی کوئی اجمالی عہد نہیں لیا گیا جس میں احتمال ہو کہ شاید اس مضمون خاص کا اس کتاب میں ہونا ان کو معلوم نہ ہوگا بلکہ تفصیلی عہد لیا گیا چنانچہ) انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ (لکھا) تھا اس کو پڑھ (بھی) لیا (جس سے وہ احتمال بھی جاتا رہا پھر بھی یہ ایسی بڑی بات کا دعوی کرتے ہیں کہ باوجود استخفاف معصیت کے مغفرت کا اعتقاد کئے ہوئے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ پر محض تہمت ہے) اور (انہوں نے یہ سب قصہ دنیا کے لئے کیا، باقی) آخرت والا گھر ان لوگوں کے لئے (اس دنیا سے) بہتر ہے جو (ان عقائد و اعمال قبیحہ سے) پرہیز رکھتے ہیں پھر کیا (اے یہود) تم (اس بات کو) نہیں سمجھتے۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ سے پہلی آیات میں حضرت موسیٰ ؑ کا بقیہ قصہ ذکر کرنے کے بعد ان کی امت (یہود) کے غلط کار لوگوں کی مزمت اور ان کے انجام بد کا بیان آیا ہے، ان آیتوں میں بھی ان کی سزا اور برے انجام کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں ان کی دو سزاؤں کا بیان ہے جو دنیا ہی میں ان پر مسلط کردی گئی ہیں۔ اول یہ کہ قیامت تک اللہ تعالیٰ ان پر کسی ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت سزا دیتا رہے اور ذلت و خواری میں مبتلا رکھے، چناچہ اس وقت سے آج تک ہمیشہ یہود ہر جگہ مقہور و مغلوب اور محکوم رہے، آج کل کی اسرائیلی حکومت سے اس پر شبہ اس لئے نہیں ہوسکتا کہ جاننے والے جانتے ہیں کہ درحقیقت آج بھی اسرائیل کی نہ اپنی کوئی قوت ہے نہ حکومت، وہ روس اور امریکہ کی اسلام دشمن سازش کے نتیجہ میں انہیں کی ایک چھاؤ نی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور آج بھی وہ بدستور انہیں کے محکوم و مقہور ہیں، جس دن جس وقت یہ دونوں اس کی امداد سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اسی روز اسرائیل کا وجود دنیا سے ختم ہوسکتا ہے۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور متفرق کردیا ہم نے ان کو ملک میں فرقے فرقے، بعض ان میں نیک اور بعض اور طرح کے اور ہم نے ان کی آزمائش کی خوبیوں میں اور برائیوں میں تاکہ وہ پھر آئیں ،

دوسری آیت میں یہودیوں پر ایک اور سزا کا ذکر ہے، جو اسی دنیا میں ان کو دی گئی وہ یہ کہ ان کی آبادی دنیا کے مختلف حصوں میں منتشر اور متفرق ہوگئی، کسی جگہ ایک ملک میں ان کا اجتماع نہ رہا، (آیت) وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا کا یہی مطلب ہے قَطَّعنَا، مصدر تقطیع سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں ٹکڑے ٹکڑے کردینا، اور امم، امة کی جمع ہے جسکے معنی ہیں، ایک جماعت یا ایک فرقہ، مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہود کی قوم کے ٹکڑے ٹکرے زمین کے مختلف حصوں میں متفرق کردیئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی قوم کا ایک جگہ اجتماع اور اکثریت اللہ تعالیٰ کا انعام و احسان ہے اور اس کا مختلف جگہوں میں منتشر ہوجانا ایک طرح کا عذاب الہی، مسلمانوں پر حق تعالیٰ کا یہ انعام ہمیشہ رہا ہے اور انشاء اللہ تا قیامت رہے گا کہ وہ جس جگہ رہے ان کی ایک زبردست اجتماعی قوت وہاں پیدا ہوگئی، مدینہ طیبہ سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور مشرق و مغرب میں اسی کیفیت کے ساتھ حیرت انگیز طریقہ پر بھیلا، مشرق بعید میں، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ مستقل اسلامی حکومتیں اسی کے نتیجہ میں بنیں، اس کے بالمقابل یہودیوں کا حال ہمیشہ یہ رہا کہ مختلف ملکوں میں منتشر رہے، مالدار کتنے بھی ہوں مگر اقتدار و اختیار ان کے ہاتھ نہ آیا۔ چند سال سے فلسطین کے ایک حصہ میں ان کے اجتماع اور مصنوعی اقتدار سے دھوکہ نہ کھایا جائے اجتماع تو ان کا اس جگہ میں آخری زمانہ میں ہونا ہی چا ہئے تھا کیونکہ صادق مصدوق رسول کریم ﷺ کی احادیث صحیحہ میں قرب قیامت کے لئے یہ خبر دی گئی ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے، نصاری سب مسلمان ہوجائیں گے اور یہودیوں سے جہاد کر کے ان کو قتل کریں گے، خدا کا مجرم وارنٹ اور پولیس کے ذریعہ پکڑ کر نہیں بلایا جاتا بلکہ وہ تکوینی اسباب ایسے جمع کردیتے ہیں کہ مجرم اپنے پاؤں چل کر ہزاروں کوششیں کرکے اپنی قتل گاہ پر پہنچتا ہے، حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ملک شام دمشق میں ہونے والا ہے، یہودیوں کے ساتھ معرکہ بھی یہیں بننا ہے تاکہ عیسیٰ ؑ کے لئے ان کا قلع قمع کردینا سہل ہو، قدرت نے دنیا کی پوری عمر میں تو یہیودیوں کو مختلف ملکوں میں منتشر رکھ کر محکومیت اور بےقدری کا عذاب چکھا یا اور آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ ؑ کی آسانی کے لئے ان کو ان کے مقتل میں جمع فرمادیا اس لئے یہ اجتماع اس عذاب کے منافی نہیں۔ رہا ان کی موجودہ حکومت اور مصنوعی اقتدار کا قضیہ سو یہاں ایک ایسا دھوکہ ہے جس پر آج کی مہذب دنیا نے اگرچہ بہت خوبصورت ملمع کا پردہ چڑھایا ہوا ہے لیکن کوئی دنیا کی سیاست سے باخبر انسان ایک منٹ کے لئے بھی اس سے دھوکہ نہیں کھا سکتا کیونکہ آج جس خطہ کو اسرائیل مملکت کا نام دیا جاتا ہے وہ در حقیقت روس، امریکہ اور انگلینڈ کی ایک مشترک چھاؤ نی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی وہ محض ان حکومتوں کی امداد سے زندہ ہے اور ان کے تابع فرمان رہنے ہی میں اس کے وجود کا راز مضمر ہے، ظاہر ہے کہ اس حقیقی غلامی کو مجازی حکومت کا نام دے دینے سے اس قوم کو کوئی اقتدار حاصل نہیں ہوجاتا، قرآن کریم نے ان کے بارے میں تا قیامت رسوائی اور خواری کے جس عذاب کا ذکر کیا ہے وہ آج بھی بدستور موجود ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے، (آیت) وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ، یعنی جب کہ آپ کے رب نے پختہ ارادہ کرلیا کہ ان لوگوں پر کسی ایسی طاقت کو قیامت تک مسلط کردے گا جو ان کو برا عذاب چکھائے۔ جیسا کہ اول سلیمان ؑ کے ہاتھ سے پھر بخت نصر کے ذریعہ اور آخر میں رسول کریم ﷺ کے ہاتھ سے اور باقیماندہ حضرت فاروق اعظم کے ذریعہ ہر جگہ سے ذلت و خواری کے ساتھ ان کا نکالا جانا مشہور و معروف اور تاریخ کے مسلمات میں سے ہے۔ اس آیت کا دوسرا جملہ یہ ہے (آیت) مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ، یعنی ان لوگوں میں کچھ لوگ نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے، دوسری طرح سے مراد کفار فجار بدکار لوگ ہیں مطلب یہ ہے کہ یہودیوں میں سب ایک ہی طرح کے لوگ نہیں، کچھ نیک بھی ہیں، مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو تورات کے زمانہ میں احکام تورات کے پورے پابند رہے، نہ ان کی نافرمانی میں مبتلا ہوئے نہ کسی تاویل و تحریف کے درپے ہوئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ حضرات ہوں جو نزول قرآن کے بعد قرآن کے تایع ہوگئے، اور رسول کریم ﷺ پر ایمان لے آئے، اس کے بالمقابل وہ لوگ ہیں جنہوں نے تورات کو آسمانی کتاب ماننے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کی یا اس کے احکام میں تحریف کرکے اپنی آخرت کو دنیا کی گندی چیزوں کے بدلہ میں بیچ ڈالا۔ آخر آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ، یعنی ہم نے اچھی بری حالتوں سے ان کا امتحان لیا تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔ اچھی حالتوں سے مراد ان کو مال و دولت کے ذخیرے اور عیش و عشرت کے سامان دینا ہے، اور بری حالتوں سے مراد یا تو ذلت و خواری کے وہ واقعات ہیں جو ہر زمانہ میں مختلف صورتوں سے پیش آتے رہے اور یا کسی وقت کا قحط و افلاس جو ان پر ڈالا گیا وہ مراد ہے، بہرحال مطلب یہ ہے کہ انسان کی فرماں برداری یا سرکشی کا امتحان لینے کے دو ہی طریقے ہیں، دونوں استعمال کر لئے گئے ایک یہ کہ احسانات و انعامات کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ احسان کرنے والے اور انعام دینے والے کے شکر گزار فرمانبردار ہر تے ہیں یا نہیں، دوسرے یہ کہ ان کو مختلف تکلیفوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع ہوتے اور اپنی بد اعمالیوں سے توبہ کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن قوم یہود ان دونوں امتحانوں میں فیل ہوگئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر نعمت کے دروازے کھولے، مال و دولت کی فراوانی عطا فرمائی تو کہنے لگے (آیت) اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ ، یعنی (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ فقیر ہیں اور ہم غنی، اور جب ان کو افلاس و ناداری سے آزمایا گیا تو کہنے لگے ید اللہ مغلولة، یعنی اللہ کا ہاتھ تنگ ہوگیا۔ فوائد اس آیت سے ایک فائدہ تو یہ حاصل ہوا کہ کسی قوم کا ایک جگہ اجتماع اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا منتشر ہونا عذاب، دوسرا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ اس دنیا کی راحت و کلفت اور خوشی و غم درحقیقت خداوندی امتحان کے مختلف پرچے ہیں جن کے ذریعے اس کے ایمان اور خدا پرستی کی آزمائش کی جاتی ہے، نہ یہاں کی تکلیف کچھ زیادہ رونے دھونے کی چیز ہے نہ کوئی راحت مسرور و غرور ہوجانے کا سامان، عاقبت اندیش عقلمند کے لئے یہ دونوں چیزیں قابل توجہ نہیں۔ نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے بہ پیش ہمت ماہر چہ آمد بود مہمانے
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے آئے ناخلف جو وارث بنے کتاب کے لے لیتے ہیں اسباب اس ادنیٰ زندگانی کا اور کہتے ہیں کہ ہم کو معاف ہوجائے گا اور اگر ایسا ہی اسباب ان کے سامنے پھر آئے تو اس کو لے لیویں کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوا سچ کے اور انہوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے، اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے کیا تم نہیں سمجھتے۔

تیسری آیت میں ارشاد ہے (آیت) فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ يَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَيَقُوْلُوْنَ سَيُغْفَرُ لَنَا ۚ وَاِنْ يَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ يَاْخُذُوْهُ ، اس میں پہلا لفظ خَلَفَ مصدر خلافت سے مشتق ماضی کا صیغہ ہے جس کے معنی مقام اور خلیفہ ہوگئے، اور دوسرا لفظ خَلْفٌ مصدر ہے جو قائم مقام اور خلیفہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مفرد اور جمع دونوں کے لئے یکساں بولا جاتا ہے، لیکن خلف بسکون اللام اکثر برے خلیفہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اپنے بڑوں کے طرز کے خلاف برائیوں میں مبتلا ہو، اور خلف بفتح لام اس کے مقابل نیک اور قابل خلیفہ کو کہا جاتا ہے جو اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلے اور ان کے مقصد کی تکمیل کرے، اس لفظ کا اکثری استعمال اسی طرح ہے کہیں کہیں اس کے خلاف بھی استعمال ہوا ہے۔ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ وارث سے مشتق ہے، وہ چیز جو مرنے والوں کے بعد زندہ رہنے والوں کو ملتی ہے اس کو میراث یا وراثت کہا جاتا ہے، معنی یہ ہیں کہ کتاب تورات ان لوگوں کو اپنے بڑوں سے وراثت میں مل گئی یعنی ان کے مرنے کے بعد ان لوگوں کے ہاتھ آئی۔ لفظ عَرَضَ سامان کے معنی میں بولا جاتا ہے جو نقد کے بدلہ میں خریدا جاتا ہے اور کبھی مطلقا مال کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے خواہ نقد ہو یا سامان، تفسیر مظہری میں ہے کہ اس جگہ یہی عام معنی مراد ہیں، اور اس جگہ مال کو لفظ عرض سے تعبیر کرنے میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا کا مال کتنا ہی ہو، ناپائیدار اور عارضی ہے کیونکہ عرض کا لفظ اصل میں جوھر کے بالمقابل ناپائیدار چیز کے لئے مستعمل ہوتا ہے جس کا اپنا کوئی مستقل وجود نہ ہو بلکہ وہ اپنے وجود میں دوسری کسی چیز کا تابع ہو، اسی لئے عارض کا لفظ بادل کے معنی میں آتا ہے کیونکہ اس کا وجود قائم رہنے والا نہیں، جلد زائل اور ختم ہوجاتا ہے، قرآن کریم میں ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا اسی معنی کے لئے آیا ہے۔ هٰذَا الْاَدْنٰى میں لفظ ادنی، دُنُوٌ بمعنی قرب سے بھی مشتق کہا جاسکتا ہے، اس صورت میں ادنی کے معنی اقرب کے ہوجائیں گے، اسی کا مؤ نث دنیا ہے جس کے معنی قریب کے ہیں، آخرت کے مقابلہ میں یہ جہان انسان سے زیادہ قریب ہے اس لئے اس کو ادنی اور دنیا کہا جاتا ہے، اور دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ لفظ دناءة بمعنی ذلت سے مشتق ہو تو اس کے معنی ذلیل و حقیر کے ہوجائیں گے، دنیا اور اس کے سب سامان بمقابلہ آخرت کے حقیر و ذلیل ہیں اس لئے اس کو ادنی اور دنیا کہا گیا۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ پہلے دور کے یہودیوں میں تو دو قسم کے لوگ تھے کچھ نیک صالح، پابند شریعت تورات، اور کچھ نافرمان گنہگار، مگر ان کے بعد جو لوگ ان کی نسل میں ان کے خلیفہ اور قائم مقام اور تورات کے وارث بنے، انہوں نے یہ حرکت اختیار کی کہ اللہ کی کتاب کو سوداگری کا مال بنالیا کہ اہل غرض سے رشوت لے کر اللہ کے کلام میں تحریف کرکے ان کے مطلب کے موافق بنانے لگے۔ (آیت) وَيَقُوْلُوْنَ سَيُغْفَرُ لَنَا، اس پر مزید جرأت یہ کہ یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ ہم نے گناہ کیا ہے مگر یہ گناہ ہمارا بخش دیا جائے گا، حق تعالیٰ نے ان کی غلطی پر اگلے جملے میں اس طرح تنبیہ فرمائی (آیت) وَاِنْ يَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ يَاْخُذُوْهُ ، یعنی ان کا حال یہ ہے کہ اگر اس وقت بھی ان کو تحریف کلام اللہ کے بدلہ میں کوئی مال ملنے لگے تو یہ اب بھی مال لے کر تحریف کرنے سے باز نہ آئیں، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور بخشش بجا اور حق ہے مگر انہیں لوگوں کے لئے جو اپنے کئے پر نادم ہوں اور آئندہ اس کے چھوڑنے کا پختہ عزم کرلیں جس کا اصطلاحی نام توبہ ہے۔ یہ لوگ اپنے جرم پر اصرار کے باوجود مغفرت کے امیدوار ہیں حالانکہ اس وقت ان کو پیسہ ملے تو تحریف کرنے میں کوتاہی نہ کریں، گناہ پر اصرار فرتے ہوئے مغفرت کی امید رکھنا خود فریبی سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ کیا ان لوگوں سے تورات میں یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے حق کے سوا کوئی بات نہ کہیں گے اور ان لوگوں نے اس معاہدہ کو تورات میں پڑھا پڑھایا بھی ہے، سب ان کی عاقبت نااندیشی ہے، بات یہ ہے کہ دار آخرت ہی پرہیزگاروں کے لئے بہترین لازوال دولت ہے کیا وہ اتنی بات کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ خوب پکڑ رہے ہیں کتاب کو اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، بیشک ہم ضائع نہ کریں گے ثواب نیکی والوں کا،

خلاصہ تفسیر اور (ان میں سے) جو لوگ کتاب (یعنی تورات) کے پابند ہیں (جس میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا بھی حکم ہے پس پابندی یہی ہے کہ مسلمان ہوگئے) اور (عقائد کے ساتھ اعمال صالحہ کے بھی پابند ہیں چنانچہ) نماز کی پابندی کرتے ہیں، ہم ایسے لوگوں کا جو اپنی (اس طرح) اصلاح کریں ثواب ضائع نہ کریں گے اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر چھت کی طرح ان (بنی اسرائیل) کے اوپر (محاذات میں) معلق کردیا اور ان کو یقین ہوا کہ اب ان پر گرا اور (اس وقت) کہا کہ (جلدی) قبول کرو جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے (یعنی تورات اور) مضبوطی کے ساتھ قبول کرو) اور یاد رکھو جو احکام اس (کتاب) میں ہیں جس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔ معارف و مسائل سابقہ آیات میں ایک عہد و میثاق کا ذکر تھا جو خصوصی طور پر علماء بنی اسرائیل سے تورات کے متعلق لیا گیا تھا کہ اس میں کوئی تصرف و تغیر نہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بجز حق اور صحیح بات کے کوئی چیز منسوب نہ کریں گے، اور یہ بات پہلے بیان ہوچکی تھی کہ ان علماء بنی اسرائیل نے عہد شکنی کی اور اہل غرض سے رشوتیں لے کر تورات کے احکام بدلے اور ان کی غرض کے مطابق کرکے بتلائے اب بعض وہ بھی اسی مضمون کا تکملہ ہے کہ علماء بنی اسرائیل سب کے سب ایسے نہیں، ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہوں نے تورات کے احکام کو مضبوطی سے تھاما، اور ایمان کے ساتھ عمل کے بھی پابند ہوئے، اور نماز کو پورے آداب کے ساتھ قائم کیا، ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے، تو جن لوگوں نے ایمان و عمل کے دونوں فرائض ادا کرکے اپنی اصلاح کرلی ان کا اجر ضائع نہیں ہوسکتا۔ اس آیت میں چند فوائد قابل غور ہیں، اول یہ کہ کتاب سے مراد اس میں وہی کتاب ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے یعنی تورات، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہر آسمانی کتاب تورات، انجیل، قرآن سب مراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو صرف اپنے پاس احتیاط اور تعظیم کے ساتھ رکھ لینے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے احکام کی پابندی مطلوب ہے شاید اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اس آیت میں کتاب کے لینے یا پڑھنے کا ذکر نہیں، ورنہ يَاْخُذُوْنَ یا یقرَءُونَ کا لفظ ہوتا اس کی جگہ يُمَسِّكُوْنَ کا لفظ اختیار کیا گیا جس کے معنی ہیں مضبوطی کے ساتھ پوری طرح تھامنا یعنی اس کے احکام کی تعمیل کرنا۔ تیسری بات قابل غور یہ ہے کہ یہاں احکام تورات کی تعمیل اور پابندی کا ذکر تھا اور احکام تورات سینکڑوں ہیں، ان میں سے اس جگہ صرف اقامت صلوة کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا، اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ کتاب اللہ کے احکام میں سب سے زیادہ اہم اور افضل و اعلی نماز ہے نیز یہ کہ نماز کی پابندی احکام الہیہ کی پابندی کی خاص نشانی اور علامت بھی ہے کہ اس کے ذریعہ فرمانبردار اور نافرمان کی پہچان ہوتی ہے اور اس کی پابندی میں یہ خاصیت بھی ہے کہ جو نماز کا پابند ہوگا اس کے لئے دوسرے احکام خداوندی کی پابندی بھی سہل ہوجاتی ہے اور جس نے نماز کی پابندی نہ کی اس سے دوسرے احکام کی پابندی بھی نہ ہوسکے گی، جیسا کہ حدیث صحیح میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ نماز دین کا عمود ہے جس پر اس کی تعمیر کھڑی ہوئی ہے جس نے اس عمود کو قائم کرلیا اس نے دین کو قائم کرلیا اور جس نے اس کو منہدم کردیا اس نے پورے دین کی عمارت منہدم کردی۔ اسی لئے اس آیت میں (آیت) وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ فرما کر یہ بتلا دیا کہ کتاب سے تمسک کرنے والا اور اس کی پابندی کرنے والا صرف اسی کو سمجھا جائے گا جو نماز کو اس کے آداب و شرائط کے ساتھ پابندی سے ادا کرے، اور جو نماز میں کوتاہی کرے وہ کتنے ہی وظائف پڑھے یا مجاہدے کرے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ نہیں اگرچہ اس سے کشف و کرامت کا صدور بھی ہوتا ہو۔ یہاں تک بنی اسرائیل کو ان کی عہد شکنی اور احکام تورات میں تحریف کرنے پر تنبیہ کا بیان تھا اس کے بعد دوسری آیت میں بنی اسرائیل ہی کے ایک خاص عہد کا ذکر ہے جو ان سے احکام تورات کی پابندی کے لئے ڈرا دھمکا کر گویا زبردستی لیا گیا تھا، جس کا ذکر سورة بقرہ میں بھی آچکا ہے۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر مثل سائبان کے اور ڈرے کہ وہ ان پر گرے گا، ہم نے کہا پکڑو جو ہم نے تم کو دیا ہے زور سے اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم بچتے رہو۔

اس آیت میں لفظ نَتَقْنَا، نتق سے مشتق ہے جس کے معنی کھینچنے اور اٹھانے کے ہیں، سورة بقرہ میں اسی واقعہ کا ذکر لفظ رَفَعنَا سے کیا گیا ہے اس لئے یہاں بھی حضرت ابن عباس نے نَتَقْنَا کی تفسیر رَفَعنَا سے فرمائی ہے۔ اور لفظ ظُلَّـةٌ، ظل بمعنی سایہ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں سائبان، مگر لفظ سائبان عرف میں ایسی چیز کیلئے بولا جاتا ہے جس کا سایہ سر پر پڑتا ہو مگر وہ کسی عمود پر قائم ہو، اور اس واقعہ میں پہاڑ ان کے سر پر معلق کردیا گیا تھا سائبان کی صورت میں نہ تھا اسی لئے اس کو حرف تشبیہ کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ ہم نے بنی اسرائیل کے سروں پر پہاڑ کو اٹھا کر معلق کردیا جس سے وہ سمجھنے لگے کہ اب ہم پر پہاڑ گرا چاہتا ہے، اس حالت میں ان سے کہا گیا (آیت) خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ یعنی مضبوط پکڑو ان احکام کو جو ہم نے تمہیں دیئے ہیں اور یاد رکھو تورات کی ہدایات کو تاکہ تم برے اعمال و اخلاق سے باز آجاؤ۔ واقعہ اس کا یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل کی خواہش اور فرمائش کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے کتاب و شریعت مانگی اور حسب الحکم اس سلسلہ میں چالیس راتوں کا اعتکاف کوہ طور پر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی یہ کتاب ملی اور بنی اسرائیل کو سنائی تو اس میں بہت سے احکام ایسے پائے جو ان کی طبیعت اور سہولت کے خلاف تھے ان کو سن کر انکار کرنے لگے کہ ہم سے تو ان احکام پر عمل نہیں ہوسکتا، اس وقت حق تعالیٰ نے جبریل امین کو حکم دیا انہوں نے کوہ طور کو اس بستی کے اوپر معلق کردیا جس میں بنی اسرائیل آباد تھے، اس کا رقبہ تاریخی روایتوں میں تین مربع میل بیان کیا گیا ہے، اس طرح ان لوگوں نے موت کو اپنے سامنے کھڑا دیکھا تو سب سجدہ میں گر گئے اور احکام تورات کی پابندی کا عہد کرلیا، لیکن اس کے باوجود پھر بار بار خلاف ورزی ہی کرتے رہے دین میں جبر واکراہ نہیں اس کا صحیح مطلب اور شبہ کا جواب یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن کریم کا عام اعلان ہے (آیت) لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ یعنی دین میں جبر واکراہ نہیں کہ کسی کو زبردستی دین حق کے قبول کرنے پر مجبور کیا جائے، اور اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو دین کے قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ لیکن ذرا غور کیا جائے تو فرق کھلا ہوا ہے کہ کسی غیر مسلم کو اسلام کے قبول کرنے پر کبھی کہیں مجبور نہیں کیا گیا، لیکن جو شخص مسلمان ہو کر اسلامی عہد و میثاق کا پابند ہوگیا اس کے بعد وہ اگر احکام اسلام کی خلاف ورزی کرنے لگے تو اس پر ضرور جبر کیا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں سزا دی جائے گی، اسلامی تعزیرات میں بہت سی سزائیں ایسے لوگوں کے لئے مقرر ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ (آیت) لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کا تعلق غیر مسلموں سے ہے کہ ان کو بجبر مسلمان نہیں بنایا جائے گا، اور بنی اسرائیل کے اس واقعہ میں کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا گیا بلکہ ان لوگوں نے مسلمان ہونے کے باوجود احکام تورات کی پابندی سے انکار کردیا، اس لئے ان پر جبر واکراہ کرکے پابندی کرنا (آیت) لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کے خلاف نہیں۔