7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

پکارو اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے اس کو خوش نہیں آتے حد سے بڑھنے والے

خلاصہ تفسیر تم لوگ (ہر حالت میں اور ہر حاجت میں) اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو تذلل ظاہر کرکے بھی اور چپکے چپکے بھی (البتہ یہ بات) واقعی (ہے کہ) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں جو (دعاء میں) حد (ادب) سے نکل جاویں (مثلاً محالات عقلیہ یا محرمات شرعیہ کی دعا مانگنے لگیں) اور دنیا میں بعد اس کے کہ (تعلیم توحید اور بعثت انبیاء کے ذریعہ) اس کی اصلاح اور درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاو (یعنی امور حقہ توحید وغیرہ کے ماننے اور ان پر چلنے سے جن کی اوپر تعلیم ہے عالم میں امن قائم ہوتا ہے تم تعلیم مذکور کو چھوڑ کر نقض امن مت کرو) اور (جیسا تم کو اوپر خاص دعا کرنے کا حکم ہوا ہے اسی طرح بقیہ عبادات کا حکم کیا جاتا ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ کی عبادت (جس طریق سے تم کو بتلا دیا ہے) کیا کرو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے (یعنی عبادت کرکے نہ تو ناز ہو اور نہ مایوسی ہو، آگے عبادت کی ترغیب ہے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت نزدیک ہے نیک کام کرنے والوں سے معارف و مسائل آیات مذکورہ سے پہلی آیات میں حق تعالیٰ کی قدرت کامل کے خاص خاص مظاہر اور اہم انعامات کا ذکر تھا، ان آیات میں اس کا بیان ہے کہ جب قدرت مطلقہ کا مالک اور تمام احسانات و انعامات کا کرنے والا صرف رب العالمین ہے تو مصیبت اور حاجت کے وقت اسی کو پکارنا اور اسی سے دعا کرنا چاہئے، اس کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف متوجہ ہونا جہالت اور محرومی ہے۔ اسی کے ساتھ ان آیات میں دعاء کے بعض آداب بھی بتلا دیئے گئے، جن کی رعایت کرنے سے قبولیت دعاء کی امید زیادہ ہوجاتی ہے۔ لفظ دعا عربی زبان میں کسی کو حاجت روائی کے لئے پکارنے کے معنی میں بھی آتا ہے، اور مطلق یاد کرنے کے معنی میں بھی، اور یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں، آیت میں ارشاد ہےاُدْعُوْا رَبَّكُمْ یعنی پکارو اپنے رب کو اپنی حاجات کے لئے، یا یاد کرو اور عبادت کرو اپنے رب کی۔ پہلی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اپنی حاجات صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو اور دوسری صورت میں یہ کہ ذکر و عبادت صرف اسی کی کرو، یہ دونوں تفسیریں سلف صالحین ائمہ تفسیر سے منقول بھی ہیں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ، تضرّع کے معنی عجز و انکسار اور اظہار تذلل کے ہیں، اور خفیہ کے معنی پوشیدہ چھپا ہوا، جیسا کہ اردو زبان میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں بولا جاتا ہے۔ ان دونوں لفظوں میں دعا و ذکر کے لئے دو اہم آداب کا بیان ہے، اول یہ کہ قبولیت دعا کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے عجز و انکسار اور تذلل کا اظہار کرکے دعا کرے، اس کے الفاظ بھی عجز و انکسار کے مناسب ہوں، لب و لہجہ بھی تواضع و انکسار کا ہو، ہیئت دعا مانگنے کی بھی ایسی ہی ہو، اس سے معلوم ہوا کہ آج کل عوام جس انداز سے دعا مانگتی ہیں اول تو اس کو دعا مانگنا ہی نہیں کہا جاسکتا، بلکہ پڑھنا کہنا چاہئے، کیونکہ اکثر یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہم جو کلمات زبان سے بول رہے ہیں ان کا مطلب کیا ہے، جیسا کہ آج کل عام مساجد میں اماموں کا معمول ہوگیا ہے کہ کچھ عربی زبان کے کلمات دعائیہ انھیں یاد ہوتے ہیں ختم نماز پر انھیں پڑھ دیتے ہیں، اکثر تو خود ان اماموں کو بھی ان کلمات کا مطلب و مفہوم معلوم نہیں ہوتا اور اگر ان کو معلوم ہو تو کم از کم جاہل مقتدی تو اس سے بالکل بیخبر ہوتے ہیں، وہ بےسمجھے بوجھے امام کے پڑھے ہوئے کلمات کے پیچھے آمین آمین کہتے ہیں، اس سارے تماشہ کا حاصل چند کلمات کا پڑھنا ہوتا ہے، دعا مانگنے کی جو حقیقت ہے یہاں پائی ہی نہیں جاتی، یہ دوسری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے ان بےجان کلمات ہی کو قبول فرما کر قبولیت دعا کے آثار فرما دیں، مگر اپنی طرف سے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ دعا پڑھی نہیں جاتی بلکہ مانگی جاتی ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ مانگنے کے ڈھنگ سے مانگا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے کلمات کے معنی بھی معلوم ہوں اور سمجھ کر ہی کہہ ریا ہو تو اگر اس کے ساتھ عنوان اور لب و لہجہ اور ہیئت ظاہری تواضع و انکسار کی نہ ہو تو یہ دعا نرا ایک مطالبہ رہ جاتا ہے، جس کا کسی بندے کو کوئی حق نہیں۔ غرض پہلے لفظ میں روح دعا بتلا دی گئی کہ وہ عاجزی و انکساری اور اپنی ذلت و پستی کا اظہار کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت مانگنا ہے، دوسرے لفظ میں ایک دوسری ہدایت یہ دی گئی کہ دعا کا خفیہ اور آہستہ مانگنا افضل اور قرین قبول ہے، کیونکہ بآواز بلند دعا مانگنے میں اول تو تواضع و انکسار باقی رہنا مشکل ہے، ثانیاً اس میں ریاء و شہرت کا بھی خطرہ ہے، ثالثاً اس کی صورت عمل ایسی ہے کہ گویا یہ شخص یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ سمیع علیم ہیں، ہمارے ظاہر و باطن کو یکساں جانتے ہیں، ہر بات خفیہ ہو یا جہر اس کو سنتے ہیں، اسی لئے غزوہ خیبر کے موقع پر صحابہ کرام کی آواز دعا میں بلند ہوگئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو جو اتنی بلند آواز سے کہتے ہو، بلکہ اہل سمیع و قریب تمہارا مخاطب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ، (اس لئے آواز بلند کرنا فضول ہے) خود اللہ جل شانہ نے ایک مرد صالح کی دعا کا ذکر ان الفاظ سے فرمایا ہے (آیت) اذ نادی ربہ نداء خفیا، یعنی ”جب انہوں نے رب کو پکارا آہستہ آواز سے“ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو دعا کی یہ کیفیت پسند ہے کہ پست اور آہستہ آواز سے دعا مانگی جائے۔ حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علانیہ اور جہراً دعا کرنے میں اور آہستہ پست آواز سے کرنے میں ستر درجہ فضیلت کا فرق ہے، سلف صالحین کی عادت یہ تھی کہ ذکر و دعا میں بڑا مجاہدہ کرتے اور اکثر اوقات مشغول رہتے تھے مگر کوئی ان کی آواز نہ سنتا تھا، بلکہ ان کی دعائیں صرف ان کے اور ان کے رب کے درمیان رہتی تھیں، ان میں بہت سے حضرات پورا قرآن حفظ کرتے اور تلاوت کرتے رہتے تھے، مگر کسی دوسرے کو خبر نہ ہوتی تھی، اور بہت سے حضرات بڑا علم دین حاصل کرتے، مگر لوگوں پر جتلاتے نہ پھرتے تھے، بہت سے حضرات راتوں کو اپنے گھروں میں طویل طویل نمازیں ادا کرتے مگر آنے والوں کو کچھ خبر نہ ہوتی تھی، اور فرمایا کہ ہم نے ایسے حضرات کو دیکھا ہے کہ وہ تمام عبادات جن کو وہ پوشیدہ کرکے ادا کرسکتے تھے کبھی نہیں دیکھا گیا کہ اس کو ظاہر کرکے ادا کرتے ہوں، ان کی آوازیں دعاؤں میں نہایت پست ہوتی تھیں (ابن کثیر، مظہری) ابن جریج نے فرمایا کہ دعاء میں آواز بلند کرنا اور شور کرنا مکروہ ہے، امام ابو جصاص حنفی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعا کا آہستہ مانگنا بہ نسبت اظہار کے افضل ہے، حضرت حسن بصری اور ابن عباس ؓ سے ایسا ہی منقول ہے، اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں سورة فاتحہ کے ختم پر جو آمین کہی جاتی ہے اس کو بھی آہستہ کہنا افضل ہے، کیونکہ آمین بھی ایک دعا ہے۔ ہمارے زمانہ کے ائمہ مساجد کو اللہ تعالیٰ ہدایت فرما دیں کہ قرآن و سنت کی اس تلقین اور بزرگان سلف کی ہدایت کو یکسر چھوڑ بیٹھے، ہر نماز کے بعد دعا کی ایک مصنوعی سی کاروائی ہوتی ہے، بلند آواز سے کچھ کلمات پڑھے جاتے ہیں جو آداب دعا کے خلاف ہونے کے علاوہ ان نمازیوں کی نماز میں بھی خلل انداز ہوتے ہیں جو مسبوق ہونے کی وجہ سے امام کے فارغ ہونے کے بعد اپنی باقی ماندہ نماز پوری کر رہے ہیں، غلبہ رسوم نے اس کی برائی اور مفاسد کو ان کی نظروں سے اوجھل کردیا ہے، کسی خاص موقع پر خاص دعا پوری جماعت سے کرانا مقصود ہو ایسے موقع پر ایک آدمی کسی قدر آواز سے دعا کے الفاظ کہے اور دوسرے آمین کہیں اس کا مضائقہ نہیں، شرط یہ ہے کہ دوسروں کی نماز و عبادت میں خلل کا موجب نہ بنیں، اور ایسا کرنے کی عادت نہ ڈالیں کہ عوام یہ سمجھنے لگیں کہ دعا کرنے کا طریقہ یہی ہے جیسا کہ آج کل عام طور سے ہو رہا ہے۔ یہ بیان اپنی حاجات کے لئے دعا مانگنے کا تھا، اگر دعا کے معنی اس جگہ ذکر و عبادت کے لئے جاویں تو اس میں بھی علماء سلف کی تحقیق یہی ہے کہ ذکر سر ذکر جہر سے افضل ہے، اور صوفیائے کرام میں مشائخ چشتیہ جو مبتدی کو ذکر جہر کی تلقین فرماتے ہیں وہ اس شخص کے حال کی مناسبت سے بطور علاج کے ہے، تاکہ جہر کے ذریعہ کسل اور غفلت دور ہوجائے، اور قلب میں ذکر اللہ کے ساتھ ایک لگاؤ پیدا ہوجائے، ورنہ فی نفسہ ذکر میں جہر کرنا ان کے یہاں بھی مطلوب نہیں گو جائز ہے اور جواز اس کا بھی حدیث سے ثابت ہے بشرطیکہ اس میں ریا و نمود نہ ہو۔ امام احمد بن حنبل، ابن حیان، بیہقی وغیرہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خیر الذکر الخفی وخیر الرزق ما یکفی ”یعنی بہترین ذکر خفی ہے، اور بہترین رزق وہ ہے جو انسان کے لئے کافی ہو جائے“ ہاں خاص خاص حالات اور اوقات میں جہر ہی مطلوب اور افضل ہے ان اوقات و حالت کی تفصیل رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے واضح فرما دی ہے، مثلاً اذان و اقامت کا بلند آواز سے کہنا، جہری نمازوں میں بلند آواز سے تلاوت قرآن کرنا، تکبیرات نماز، تکبیرات تشریق، حج میں تلبیہ بلند آواز سے کہنا وغیرہ، اسی لئے فقہاء رحمہم اللہ نے فیصلہ اس باب میں یہ فرمایا ہے کہ کن خاص حالات اور مقامات میں رسول کریم ﷺ نے قولاً یا عملاً جہر کرنے کی تلقین فرمائی ہے وہاں تو جہر ہی کرنا چاہئے، اس کے علاوہ دوسرے حالات و مقامات میں ذکر خفی اولیٰ وانفع ہے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ معتدین، اعتداء سے مشتق ہے اعتداء کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا، معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتے، حد سے آگے بڑھنا خواہ دعا میں ہو یا کسی دوسرے عمل میں سب کا یہی حال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو دین اسلام نام ہی حدود وقیود کی پابندی اور فرمانبرداری کا ہے، نماز، روزہ، حج، زکوٰة اور تمام معاملات میں حدود شرعیہ سے تجاوز کیا جائے تو وہ بجائے عبادت کے گناہ بن جاتے ہیں۔ دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی کئی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ دعا میں لفظی تکلفات قافیہ وغیرہ کے اختیار کئے جائیں جس سے خشوع خضوع میں فرق پڑے، دوسرے یہ کہ دعا میں غیر ضروری قیدیں شرطیں لگائی جائیں، جیسے حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نے دیکھا کہ ان کے صاحبزادے اس طرح دعا مانگ رہے ہیں کہ یا اللہ میں آپ سے جنت میں سفید رنگ کا داہنی جانب والا محل طلب کرتا ہوں، تو موصوف نے ان کو روکا، اور فرمایا کہ دعا میں ایسی قیدیں شرطیں لگانا حد سے تجاوز ہے، جس کو قرآن و حدیث میں ممنوع قرار دیا گیا ہے (مظہری) تیسری صورت حد سے تجاوز کی یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لئے بددعا کرے یا کوئی ایسی چیز مانگے جو عام لوگوں کے لئے مضر ہو، اسی طرح ایک صورت حد سے تجاوز کی یہ بھی ہے جو اس جگہ مذکور ہے کہ دعا میں بلا ضرورت آواز بلند کی جائے (تفسیر مظہری، احکام القرآن)
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور مت خرابی ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد اور پکارو اس کو ڈر اور توقع سے بیشک اللہ کی رحمت نزدیک ہے نیک کام کرنے والوں سے۔

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا(آیت) وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا اس میں دو لفظ متضاد اور متقابل آئے ہیں صلاح اور فساد، صلاح کے معنی درستی اور فساد کے معنی خرابی کے آتے ہیں، امام راغب رحمة اللہ علیہ نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ فساد کہتے ہیں کسی چیز کے اعتدال سے نکل جانے کو خواہ یہ نکلنا تھوڑا سا ہو یا زیادہ، اور ہر فساد میں کمی بیشی کا مدار اسی اعتدال سے خروج پر ہے، جس قدر خروج بڑھے گا فساد بڑھے گا فساد کے معنی خرابی پیدا کرنا اور اصلاح کے معنی درستی کرنا ہے اس لئے وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا کے معنی یہ ہوئے کہ ”زمین میں خرابی نہ پیدا کرو بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی درستی فرما دی ہے“۔ امام راغب رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کی اصلاح کرنا اس کی کئی صورتیں ہوتی ہیں، ایک یہ کہ اس کو اول ہی ٹھیک ٹھیک اور درست پیدا فرمایا، جیسے (آیت) واصلح بالہم دوسرے یہ کہ اس میں جو فساد آگیا تھا اس کو دور کردیا، جیسے (آیت) یصلح لکم اعمالکم، تیسری یہ کہ اس کو صلاح کا حکم دیا جائے، اس آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین کی اصلاح و درستی فرما دی تو اس کے بعد تم اس میں فساد اور خرابی نہ ڈالو، اس میں زمین کی درستی کرنے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، ایک ظاہری درستی کہ زمین کو کھیتی اور درخت اگانے کے قابل بنایا، اس پر بادلوں سے پانی برسا کر زمین سے پھل پھول نکالے، انسان اور دوسرے جانداروں کے لئے زمین سے ہر قسم کی ضروریات زندگی اور آسائش کے سامان پیدا فرمائے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ زمین کی باطنی اور معنوی اصلاح فرمائی، اس طرح کہ زمین پر اپنے رسول اپنی کتابیں اور ہدایات بھیج کر اس کو کفر و شرک اور گمراہی سے پاک کیا اور ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں مفہوم یعنی ظاہری اور باطنی ہر طرح کی اصلاح اس آیت میں مراد ہو، تو اب معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ظاہری اور باطنی طور پر درست فرما دیا ہے، اب تم اس میں اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کے ذریعے فساد نہ مچاؤ، اور خرابی پیدا نہ کرو۔ زمین کی درستی اور خرابی کیا ہے اور لوگوں کے گناہوں کا اس میں کیا دخل ہے جس طرح اصلاح کی دو قسمیں ظاہری اور باطنی ہیں اسی طرح فساد کی بھی دو قسمیں ہیں، زمین کی ظاہری اصلاح تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسا جسم بنایا ہے کہ نہ پانی کی طرح نرم ہے جس پر قرار نہ ہوسکے، اور نہ پتھر لوہے کی طرح سخت ہے جس کو کھودا نہ جاسکے، ایک درمیانی حالت میں رکھا گیا ہے، تاکہ انسان اس کو نرم کرکے اس میں کھیتی اور درخت اور پھول پھل اگاسکے، اور کھود کر اس میں کنویں اور خندقیں، نہریں بنا سکیں، مکانات کی بنیادیں مستحکم کرسکیں، پھر اس زمین کے اندر اور باہر ایسے سامان پیدا فرما دیئے جن سے زمین کی آبادی ہو، اس میں سبزی اور درخت اور پھول پھل اگ سکیں، باہر سے ہوا، روشنی، گرمی، سردی پیدا کی، اور پھر بادلوں کے ذریعے اس پر پانی برسایا جس سے درخت پیدا ہو سکیں، مختلف ستاروں اور سیاروں کی سرد گرم کرنیں ان پر ڈالی گئیں جن سے پھولوں پھلوں میں رنگ اور رس بھرے گئے، انسان کو فہم و عقل عطا کی گئی، جس کے ذریعہ اس نے زمین سے نکلنے والے کام مواد لکڑی، لوہا، تانبہ، پیتل، ایلومینیم وغیرہ کے جوڑ توڑ لگا کر مصنوعات کی ایک نئی دنیا بنا ڈالی، یہ سب زمین کی اصلاح ظاہری ہے جو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے فرمائی۔ اور اصلاح باطنی و روحانی کا مدار ذکر اللہ، تعلق مع اللہ اور اس کی اطاعت پر ہے، اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اول تو ہر انسان کے قلب میں ایک مادّہ اور جذبہ خدا کی اطاعت اور یاد کا رکھ دیا ہے (آیت) فالھمھا فجورھا وتقوھا، اور انسان کے گردوپیش کے ہر ذرے ذرے میں اپنی قدرت کاملہ اور صنعت عجیبہ کے ایسے مظاہر رکھے کہ ان کو دیکھ کر معمولی فہم و ادراک رکھنے والا بھی بول اٹھے کہ (آیت) فتبرک اللّٰہ احسن الخلقین، اس کے علاوہ اپنے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں جن کے ذریعہ مخلوق کا رشتہ خالق کے ساتھ جوڑنے کا پورا انتظام فرمایا۔ اس طرح گویا زمین کی مکمل اصلاح ظاہری اور باطنی ہوگئی، اب حکم یہ ہے کہ ہم نے اس زمین کو درست کردیا ہے تم اس کو خراب نہ کرو۔ جس طرح اصلاح کی دو قسمیں ظاہری اور باطنی بیان کی گئی ہیں اسی طرح اس کے بالمقابل فساد کی بھی دو قسمیں ظاہری اور باطنی ہیں، اور اس ارشاد ربانی کے ذریعہ دونوں ہی کی ممانعت کی گئی ہے۔ اگرچہ قرآن اور رسول کریم ﷺ کا اصل وظیفہ اور فرض منصبی اصلاح باطنی ہے، اور اس کے بالمقابل فساد باطنی سے روکنا ہے، لیکن اس دنیا میں ظاہر و باطن کے اصلاح و فساد میں ایک ایسا ربط ہے کہ ایک کا فساد دوسرے کے فساد کا موجب بن جاتا ہے، اس لئے شریعت قرآن نے جس طرح باطنی فساد کے دروازے بند کئے ہیں اسی طرح ظاہری فساد کو بھی منع فرمایا چوری ڈاکہ، قتل اور بےحیائی کے تمام طریقے دنیا میں ظاہری اور باطنی ہر طرح کا فساد پیدا کرتے ہیں، اس لئے ان چیزوں پر خصوصیت سے پابندیاں اور سخت سزائیں مقرر فرمائی، اور عام گناہوں اور جرائم کو بھی ممنوع قرار دیا، کیونکہ ہر جرم و گناہ کہیں ظاہری فساد کا موجب ہوتا ہے کہیں باطنی فساد کا، اور اگر غور سے دیکھا جائے تو ظاہری فساد باطنی فساد کا سبب بنتا ہے، اور ہر باطنی فساد ظاہری فساد کا موجب ہوتا ہے۔ ظاہری فساد کا باطنی کے لئے مستلزم ہونا تو اس لئے ظاہر ہے کہ وہ اطاعت احکام الٓہیہ کی خلاف ورزی ہے، اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی ہی کا دوسرا نام فساد باطنی ہے، البتہ فساد باطنی کس طرح فساد ظاہری کا سبب بنتا ہے، اس کا پہچاننا کسی قدر غور و فکر کا محتاج ہے، وجہ یہ ہے کہ یہ سارا جہان اور اس کی ہر چھوٹی بڑی چیز سب مالک الملک و الملکوک کی بنائی ہوئی اور اس کے تابع فرمان ہے، جب تک انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگے تو دنیا کی ساری چیزیں در پردہ انسان کی نافرمان ہوجاتی ہیں، جس کو بظاہر انسان اپنی آنکھ سے نہیں دیکھتا، لیکن ان چیزوں کے آثار و خواص اور نتائج و فوائد میں غور کرنے سے بدیہی طور پر اس کا ثبوت مل جاتا ہے۔ ظاہر میں تو یہ دنیا کی ساری چیزیں انسان کے استعمال میں رہتی ہیں، پانی اس کے حلق میں اترے تو پیاس بجھانے سے انکار نہیں کرتا، کھانا اس کی بھوک رفع کرنے سے نہیں رکتا، لباس اور مکان اس کی سردی گرمی کی آسائشوں کو مہیا کرنے سے انکار نہیں کرتا۔ لیکن عواقب اور نتائج کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز اپنا کام پورا نہیں کر رہی، کیونکہ اصل مقصد ان تمام چیزوں اور ان کے استعمال کا یہ ہے کہ انسان کو آرام و راحت میسر آئے، اس کی پریشانی اور تکلیف دور ہو اور بیماریوں کو شفاء ہو۔ ان دنیا کے حالات پر نظر ڈالئے تو معلوم ہوگا کہ آج کل سامان راحت اور سامان شفاء کی زائد از قیاس فراوانی کے باوجود انسانوں کی اکثریت انتہائی پریشانیوں اور بیماریوں کا شکار ہے، نئے نئے امراض، نئی نئی مصیبتیں برس رہی ہیں، کوئی بڑے سے بڑا انسان اپنی جگہ مطمئن اور آسودہ نہیں ہے، بلکہ جوں جوں یہ سامان بڑھتے جاتے ہیں اسی انداز سے مصائب و آفات اور امراض اور پریشانیاں بڑھتی جاتی ہیں ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ آج کا انسان جس کو برق و بھاپ اور دوسری مادی رنگینیوں نے مسحور بنا رکھا ہے، ذرا ان چیزوں سے بلند ہو کر سوچے تو اس کو معلوم ہوگا کہ ہماری ساری کوششیں اور ساری مصنوعات و ایجادات ہمارے اصل مقصد یعنی اطمینان و راحت کے حاصل کرنے میں فیل اور ناکام ہیں، اس کی وجہ بجز اس معنوی اور باطنی سبب کے نہیں ہے کہ ہم نے اپنے رب اور مالک کی نافرمانی اختیار کی تو اس کی مخلوقات نے معنوی طور پر ہم سے نافرمانی شروع کردی چوں از وگشتی ہمہ چیز از تو گشت کہ ہمارے لئے حقیقی آرام و راحت مہیا نہیں کرتی، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا ہے خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن وتو مردہ باحق زندہ اند یعنی دنیا کی یہ سب چیزیں اگرچہ ظاہر میں بےجان و بےشعور نظر آتی ہیں، مگر حقیقت میں اتنا ادراک ان میں بھی ہے کہ مالک کے تابع فرمان کام کرتی ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب غور سے دیکھا جائے تو ہر گناہ اور خدا تعالیٰ سے غفلت اور اس کی ہر نافرمانی دنیا میں نہ صرف باطنی فساد پیدا کرتی ہے بلکہ ظاہری فساد بھی اس کا لازمی ثمرہ ہوتا ہے، اسی کو مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے ابرنا یداز پئے منع زکوٰة وززنا افتد و بااندر جہات اور یہ کوئی شاعرانہ تخیل نہیں، بلکہ وہ حقیقت ہے جس پر قرآن و حدیث ناطق ہے، لیکن سزا کا ہلکا سا نمونہ اس دنیا میں امراض، وباؤ ں، طوفانوں، سیلابوں کی صورت میں سامنے آتا رہتا ہے۔ اس لئے (آیت) وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا کے مفہوم میں جیسے وہ جرائم اور گناہ داخل ہیں جن سے ظاہری طور پر دنیا میں فساد پیدا ہوتا ہے اسی طرح ہر نافرمانی اور خدا تعالیٰ سے غفلت و معصیت بھی اس میں شامل ہے، اسی لئے آیت مذکورہ میں اس کے بعد فرمایا وادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا یعنی اللہ تعالیٰ کو پکارو خوف اور امید کے ساتھ، یعنی اس طرح کہ ایک طرف دعا کے ناقابل قبول ہونے کا خوف لگا ہو اور دوسری طرف اس کی رحمت سے پوری امید بھی لگی ہوئی ہو، اور یہی امید و بیم طریق استقامت میں روح انسانی کے دو بازو ہیں، جن سے وہ پرواز کرتی اور درجات عالیہ حاصل کرتی ہے۔ اور ظاہر اس عبارت سے یہ ہے کہ امید وبیم دونوں مساوی درجہ میں ہونا چاہئے، اور بعض علماء نے فرمایا کہ مناسب یہ ہے کہ حیات اور تندرستی کے زمانہ میں خوف کو غالب رکھے، تاکہ اطاعت میں کوتاہی نہ ہو، اور جب موت کا وقت قریب آئے تو امید کو غالب رکھے، کیونکہ اب عمل کی طاقت رخصت ہوچکی ہے، امید رحمت ہی اس کا عمل رہ گیا ہے۔ (بحر محیط) اور بعض محققین نے فرمایا کہ اصل مقصد دین کے صحیح راستہ پر قائم رہنا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مداومت کرنا ہے، اور مزاج و طبائع انسانوں کے مختلف ہوتے ہیں، کسی کو غلبہ خوف سے یہ مقام استقامت اور دوام اطاعت حاصل ہوتا ہے، کسی کو غلبہ محبت ورجا سے سو جس کو جس حالت سے اس مقصد میں مدد ملے اس کو حاصل کرنے کی فکر کرے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دعا کے دو آداب اس سے پہلی آیت میں بتلائے گئے، ایک عاجزی اور تضرع کے ساتھ ہونا، دوسرے خفیہ و آہستہ ہونا، یہ دونوں صفتیں انسان کے ظاہر جسد سے متعلق ہیں، کیونکہ تضرع سے مراد یہ ہے کہ اپنی ہیئت بوقت دعا عاجزانہ، فقیرانہ بنالے، متکبرانہ یا بےنیاز نہ ہو، اور خفیہ ہونے کا تعلق بھی منہ اور زبان سے ہے۔ اس آیت میں دعا کے لئے دو آداب باطنی اور بتلائے گئے، جن کا تعلق انسان کے دل سے ہے وہ یہ کہ دعا کرنے والے کے دل میں اس کا خطرہ بھی ہونا چاہئے کہ شاید میری دعا قبول نہ ہو، اور امید بھی ہونی چاہئے کہ میری دعا قبول ہوسکتی ہے، کیونکہ اپنی خطاؤں اور گناہوں سے بےفکر ہوجانا بھی ایمان کے خلاف ہے، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت واسعہ سے مایوس ہوجانا بھی کفر ہے، قبولیت دعا کی جب ہی توقع کی جاسکتی ہے جب کہ دونوں حالتوں کے درمیان درمیان رہے۔ پھر آخر میں فرمایا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ ”یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت قریب ہے نیک عمل کرنے والوں سے“۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اگرچہ بوقت دعا خوف اور امید دونوں ہی حالتیں ہونی چاہیئں، لیکن ان دونوں حالتوں میں سے امید ہی کی جانب راجح ہے، کیونکہ رب العالمین اور رحیم الرحماء کے جو دو احسان میں نہ کوئی کمی ہے نہ بخل، وہ برے سے برے انسان بلکہ شیطان کی بھی دعا قبول کرسکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قریب ہونے کے لئے محسن یعنی نیک عمل ہونا درکار ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض آدمی لمبے لمبے سفر کرتے ہیں، اور اپنی ہیئت فقیرانہ بناتے ہیں، اور اللہ کے سامنے دعا کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں، مگر ان کا کھانا بھی حرام ہے اور پینا بھی حرام ہے، اور لباس بھی حرام کا ہے، سو ایسے آدمی کی دعا کہاں قبول ہو سکتی ہے۔ (مسلم، ترمذی، عن ابی ہریرہ) اور ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بندہ کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، اور جلد بازی نہ کرے، صحابہ کرام نے دریافت کیا، جلد بازی کا کیا مطلب ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ یوں خیال کر بیٹھے کہ میں اتنے عرصہ سے دعا مانگ رہا ہوں اب تک قبول نہیں ہوئی، یہاں تک کہ مایوس ہو کر دعا چھوڑ دے (مسلم، ترمذی) اور ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے جب دعا مانگو تو اس حالت میں مانگو کہ تمہیں اس کے قبول ہونے میں کوئی شک نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ رحمت خدا وندی کی وسعت کو سامنے رکھ کر دل کو اس پر جماؤ کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی، یہ اس کے منافی نہیں کہ اپنے گناہوں کے شامت کے سبب یہ خطرہ بھی محسوس کرے کہ شاید میرے گناہ دعاء کی قبولیت میں آڑے آجائیں۔ و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا وسلم۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی ہے کہ چلاتا ہے ہوائیں خوش خبری لانے والی مینھ سے پہلے یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں اٹھا لاتی ہیں بھاری بادلوں کو تو ہانک دیتے ہیں ہم اس بادل کو ایک شہر مردہ کی طرف پھر ہم اتارتے ہیں اس بادل سے پانی پھر اس سے نکالتے ہیں سب طرح کے پھل اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم غور کرو

خلاصہ تفسیر اور وہ (اللہ) ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ (بارش کی امید دلا کر دل کو) خوش کردیتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی خشک زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں، پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں، (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور قدرت مطلقہ مردوں کو زندہ کرنے کی ثابت ہوتی ہے، اس لئے فرمایا) یوں ہی (قیامت کے روز) ہم مردوں کو (زمین سے) نکال کھڑا کریں گے (یہ سب اس لئے سنایا) تاکہ تم سمجھو (اور قرآن اور رسول ﷺ کی ہدایت اگرچہ سب کے لئے عام ہے مگر اس سے فائدہ اٹھانے والے کم لوگ ہوتے ہیں اس کی مثال اسی بارش سے سمجھ لو کہ بارش تو ہر زمین پر برستی ہے، مگر کھیتی اور درخت ہر جگہ نہیں پیدا ہوتے صرف ان زمینوں میں پیدا ہوتے ہیں جن میں صلاحیت ہے، اسی لئے فرمایا کہ) جو زمین ستھری ہوتی ہے اس کی پیداوار تو خدا کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس کی پیداوار (اگر نکلی بھی تو) بہت کم نکلتی ہے اسی طرح ہم (ہمیشہ) دلائل کو طرح طرح سے بیان کرتے رہتے ہیں (مگر وہ سب) انہی لوگوں کیلئے (نافع ہوتے ہیں) جو (ان کی) قدر کرتے ہیں۔ معارف و مسائل سابقہ آیات میں حق تعالیٰ نے اپنی خاص خاص اور بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے، جس میں آسمان زمین، رات دن، چاند سورج اور عام ستاروں کی پیدائش اور ان کا انسان کی ضرورت مہیا کرنے اور اس کی خدمت میں لگے رہنے کا تذکرہ کرکے اس پر تنبیہ فرمائی ہے کہ جب ہماری ساری ضروریات اور ساری راحتوں کا سامان کرنے والی ایک ذات پاک ہے، تو ہر حاجت و ضرورت میں ہمیں دعا و درخواست بھی اسی سے کرنا چاہئے، اور اسی کی طرف رجوع کرنے کو اپنے لئے کلید کامیابی سمجھنا چاہئے۔ مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں بھی اسی قسم کی اہم اور بڑی نعمتوں کا ذکر ہے، جن پر انسان اور زمین کی کل مخلوقات کی حیات وبقاء کا مدار ہے، مثلاً بارش اور اس سے پیدا ہونے والے درخت اور کھیتیاں، ترکاریاں وغیرہ، فرق یہ ہے کہ پچھلی آیات میں نعمتوں کا ذکر تھا، جو عالم علوی سے متعلق ہیں، اور اس میں ان نعمتوں کا تذکرہ ہے جو عالم سفلی سے متعلق ہیں (بحر محیط) اور دوسری آیت میں ایک خاص بات یہ بتلائی گئی ہے کہ ہماری یہ عظیم الشان نعمتیں اگرچہ زمین کے ہر حصہ پر عام ہیں، بارش جب برستی ہے تو دریا پر بھی برستی ہے پہاڑ پر بھی، بنجر اور خراب زمین اور عمدہ اور بہتر زمین سب پر یکساں برستی ہے، لیکن کھیتی، درخت، سبزی صرف اسی زمین میں پیدا ہوتی ہے جس میں اگانے کی صلاحیت ہے، پتھریلی اور ریتلی زمینیں اس بارش کے فیض سے مستفید نہیں ہوتیں۔ پہلی آیت سے یہ نتیجہ نکال کر بتلایا گیا کہ جو ذات پاک مردہ زمین میں نشوونما کی زندگی عطا فرما دیتی ہے، اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ جو انسان پہلے سے زندہ تھے پھر مرگئے، ان میں دوبارہ زندگی پیدا فرما دے، اسی نتیجہ کو اس آیت میں واضح طور پر بتلا دیا گیا، اور دوسری آیت سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت، آسمانی کتابیں اور انبیاء (علیہم السلام) پھر ان کے نائب، علماء و مشائخ کی تعلیم و تربیت بھی بارش کی طرح ہر انسان کے لئے عام ہے، مگر جس باران رحمت سے ہر زمین فائدہ نہیں اٹھاتی، اسی طرح اس روحانی بارش کا فائدہ بھی صرف وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جن میں یہ صلاحیت ہے، اور جن لوگوں کے قلوب پتھریلی یا ریتلی زمین کی طرح نشوونما کی قابلیت نہیں رکھتے وہ تمام واضح ہدایات اور آیات بینات کے باوجود اپنی گمراہی پر جمے رہتے ہیں۔ اس نتیجہ کی طرف دوسری آیت کے آخری جملہ سے اشارہ فرمایا (آیت) كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ ، یعنی ہم اسی طرح اپنے دلائل کو طرح طرح سے بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو قدر کرتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اگرچہ فی الواقع یہ بیان تو سب ہی کے لئے تھا مگر نتیجہ کے طور پر مفید ہونا، انہی لوگوں کے لئے ثابت ہوا جن میں اس کی صلاحیت ہے، اور وہ اس کی قدر و منزلت پہچانتے ہیں، اس طرح مذکورہ دو آیتیں مبدا و معاد کے اہل مسائل پر مشتمل ہوگئیں، اب ان دونوں آیتوں کو تفصیل کے ساتھ سمجھنے کے لئے سنئے پہلی آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ، اس میں ریاح ریح کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ہوا، اور بشرا کے معنی بشارت اور خوش خبری، اور رحمت سے مراد باران رحمت ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بھیجتا ہے باران رحمت سے پہلے ہوائیں خوش خبری دینے کے لئے۔ مطلب یہ ہے کہ عام عادة اللہ یہ ہے کہ بارش سے پہلے ایسی ٹھنڈی ہوائیں بھیجتے ہیں جن سے خود بھی انسان کو راحت و بشاشت ہوتی ہے، اور وہ گویا آنے والی بارش کی خبر بھی پہلے دیدیتی ہیں، اس لیے یہ ہوائیں دو نعمتوں کا مجموعہ ہے، خود بھی انسان اور عام مخلوقات کے لئے نافع و مفید ہیں، اور بارش کے آنے سے پہلے بارش کی وجہ سے بند ہوجاتی ہیں، جب بارش کی اطلاع کچھ پہلے مل جائے تو وہ اپنا انتظام کرلیتا ہے، اس کے علاوہ خود اس کا وجود اور اس کا سامان بارش کا متحمل نہیں، وہ بارش کے آثار دیکھ کر اپنے سامان اور اپنی جان کی حفاظت کا سامان کرلیتا ہے۔ اس کے بعد فرمایاحَتّٰى اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا کے معنی بادل اور ثقال ثقیل کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں بھاری، یعنی جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں بھاری بادلوں سے مراد پانی سے بھرے ہوئے بادل ہیں، جو ہوا کے کاندھوں پر سوار ہو کر اوپر جاتے ہیں، اور اس طرح یہ ہزاروں من کا وزنی پانی ہوا پر سوار ہو کر اوپر پہنچ جاتا ہے، اور حیرت انگیز یہ بات ہے کہ نہ اس میں کوئی مشین کام کرتی ہے نہ کوئی انسان اس میں محنت کرتا ہے، جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوجاتا ہے تو خود بخود دریا سے بخارات (مان سون) اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں، اور اوپر جاکر بادل بنتا ہے، اور یہ ہزاروں بلکہ لاکھوں گیلن پانی سے بھرا ہو جہاز خود بخود ہوا کے دوش پر سوار ہو کر آسمان کی طرف چڑھتا ہے۔ اس کے بعد فرمایاسُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ ، سَوق کے معنی کسی جانور کو ہانکنے اور چلانے کے ہیں، اور بَلَد کے معنی شہر اور بستی کے ہیں، میّت کے معنی مردہ۔ معنی یہ ہیں کہ ”جب ہواؤں نے بھاری بادلوں کو اٹھا لیا تو ہم نے ان بادلوں کو ہانک دیا، ایک مرے ہوئے شہر کی طرف“۔ مرے ہوئے شہر سے مراد وہ بستی ہے جو پانی نہ ہونے کے سبب ویران ہو رہی ہے، اور اس جگہ بجائے عام زمین کے خصوصیت سے شہر اور بستی کا ذکر کرنا اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اصل مقصد برق و باراں اور ان سے زمین کی سیرانی کا انسان کی ضروریات مہیا کرنا ہے جس کا مسکن شہر ہے، ورنہ جنگل کی سرسبزی خود کوئی مقصد نہیں۔ یہاں تک آیت مذکورہ کے مضمون سے چند اہم چیزیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ بارش بادلوں سے برستی ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جن آیات میں آسمان سے بارش برسنا مذکور ہے، وہاں بھی لفظ سماء سے بادل مراد ہے، اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ کسی وقت دریائی مان سون کی بجائے براہ راست آسمان سے بادل پیدا ہوجائیں اور ان سے بارش ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ بادلوں کا کسی خاص سمت اور خاص زمین کی طرف جانا یہ براہ راست حکم خداوندی سے متعلق ہے وہ جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں جس قدر چاہتے ہیں بارش برسانے کا حکم دیدیتے ہیں، بادل فرمان الٓہی کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس کا مشاہدہ ہر جگہ اس طرح ہوتا رہتا ہے کہ بسا اوقات کسی شہر یا بستی پر بادل چھایا رہتا ہے، اور وہاں بارش کی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن وہ بادل یہاں ایک قطرہ پانی کا نہیں دیتا، بلکہ جس شہر یا بستی کا کوٹہ بحکم الٓہی مقرر ہوچکا ہے وہیں جاکر برستا ہے، کسی کی مجال نہیں کہ اس شہر کے علاوہ کسی اور جگہ اس بادل کا پانی حاصل کرلے۔ قدیم و جدید فلاسفہ نے مان سون اور ہواؤں کی حرکت کے لئے کچھ ضابطے اور اصول نکال رکھے ہیں، جن کے ذریعہ وہ بتلاتے ہیں کہ فلاں مان سون جو فلاں سمندر سے اٹھا ہے کس طرف جائے گا، کہاں جاکر برسے گا، کتنا پانی برسائے گا، عام ممالک میں موسمیات کے محکمے اسی قسم کی معلومات مہیا کرنے کے لئے قائم کئے جاتے ہیں، لیکن تجربہ شاہد ہے کہ محکمہ موسمیات کی دی ہوئی خبریں بکثرت غلط ہوجاتی ہیں، اور جب امر الٓہی ان کے خلاف ہوتا ہے تو ان کے سارے ضابطے قاعدے دھرے رہ جاتے ہیں، ہوائیں اور مان سون اپنا رخ ان کی دی ہوئی خبروں کے خلاف کسی دوسرے سمت کو پھیر لیتی ہیں، اور موسمیات کے محکمے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو ضابطے قاعدے ہواؤں کی حرکت کے لئے فلاسفہ نے تجویز کئے ہیں وہ بھی کچھ اس کے منافی نہیں ہیں کہ بادلوں کا حمل و نقل فرمان الٓہی کے تابع ہے، کیونکہ عادت اللہ تعالیٰ کی اس عالم کے تمام کاروبار میں یہی ہے کہ حکم خداوندی اسباب طبیعہ کے پردوں میں ظاہر ہوتا ہے، ان اسباب طبیعہ سے انسان کوئی ضابطہ قاعدہ بنا لیتا ہے، ورنہ حقیقت وہی ہے جو حافظ شیرازی رحمة اللہ علیہ نے بتلائی ہے کہ کار زلف تست مشک افشانی اماّ عاشقاں مصلحت راتہمتی برآ ہوئے چیں بستہ اند اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاۗءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ یعنی ہم نے اس مردہ شہر میں پانی برسایا پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل پھول نکالے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا کذلک نخرج، ”یعنی ہم اسی طرح نکالیں گے مردوں کو قیامت کے روز، شاید تم سمجھو“۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا اور اس میں سے درخت اور پھل پھول نکالے اسی طرح بروز قیامت مردوں کو دوبارہ زندہ کرکے نکال کھڑا کریں گے، اور یہ مثالیں ہم نے اس لئے بیان کی ہیں کہ تمہیں سوچنے اور غور کرنے کا موقع ملے۔ بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت میں صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا، پہلے صور پر تمام عالم فنا ہوجائے گا کوئی چیز زندہ باقی نہ رہے گی، اور دوسری صور پر پھر از سر نو نیا عالم پیدا ہوگا، اور سب مردے زندہ ہوجائیں گے، حدیث مذکور میں ہے کہ ان دونوں مرتبہ کے صور کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہوگا، اور ان چالیس سال میں مسلسل بارش ہوتی رہے گی، اسی عرصہ میں ہر مردہ انسان اور جانور کے اجزاء بدن اس کے ساتھ جمع کرکے ہر ایک کا مکمل ڈھانچہ بن جائے گا، اور پھر دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے وقت ان لاشوں کے اندر روح آجائے گی، اور زندہ ہو کر کھڑے ہوجائیں گے، اس روایت کا اکثر حصہ بخاری و مسلم میں موجود ہے، بعض اجزاء ابن ابی داؤد کی کتاب البعث سے لئے گئے ہیں۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کا سبزہ نکلتا ہے اس کے رب کے حکم سے، اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر ناقص یوں پھیر پھیر کر بتلاتے ہیں ہم آیتیں حق ماننے والے لوگوں کو۔

دوسری آیت میں ارشاد ہے(آیت) وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۚ وَالَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا، نَکِد کہتے ہیں اس چیز کو جو بےفائدہ بھی ہو اور پھر مقدار میں بھی قلیل ہو، معنی یہ ہیں کہ اگرچہ باران رحمت کا فیض ہر شہر ہر زمین پر یکساں ہوتا ہے، لیکن نتائج اور ثمرات کے اعتبار سے زمین کی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک عمدہ اور اچھی زمین جس میں نشوونما کی صلاحیت ہے، اس میں تو ہر طرح کے پھول پھل نکلتے ہیں اور فوائد حاصل ہوتے ہیں، دوسری وہ سخت یا کھاری زمین جس میں روئیدگی کی صلاحیت نہیں، اس میں اول تو کچھ پیدا ہی نہیں ہوتا، پھر اگر کچھ ہوا بھی تو وہ بہت کم مقدار میں ہوتا ہے، اور جتنا پیدا ہوتا ہے وہ بھی بیکار اور خراب ہوتا ہے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ ”یعنی ہم اپنے دلائل قدرت طرح طرح سے بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو قدر کرنے والے ہیں“۔ اس میں اشارہ ہے کہ اگرچہ باران رحمت کے فیضان عام کی طرح ہدایت ربانی اور آیات بینات کا فیض بھی سب ہی انسانوں کے لئے عام ہے، مگر جس طرح ہر زمین بارش سے فائدہ نہیں اٹھاتی اسی طرح ہر انسان ہدایت ربانی سے نفع حاصل نہیں کرتا، بلکہ نفع صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو شکر گزار اور قدر شناس ہیں۔
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

بیشک بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف پس اس نے کہا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی، کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا، میں خوف کرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے

خلاصہ تفسیر ہم نے نوح ؑ کو (پیغمبر بنا کر) ان کی قوم کی طرف بھیجا سو انہوں نے (اس قوم سے) فرمایا کہ اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں (اور بتوں کی پرستش چھوڑ دو جن کا نام سورة نوح میں ہے وَد اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) مجھ کو تمہارے لئے (در صورت میرا کہنا نہ ماننے کے) ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے (کہ وہ یوم قیامت ہے یا یوم طوفان) ان کی قوم کے آبرودار لوگوں نے کہا کہ ہم تم کو صریح غلطی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں (کہ توحید کی تعلیم کر رہے ہو اور عذاب کا ڈراوا دکھلا رہے ہو) انہوں نے (جواب میں) فرمایا کہ اے میری قوم مجھ میں تو ذرا بھی غلطی نہیں لیکن (چونکہ) میں پروردگار عالم کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں (انہوں نے مجھ کو توحید پہنچانے کا حکم کیا ہے اس لئے اپنا منصبی کام کرتا ہوں کہ) تم کو اپنے پروردگار کے پیغام (اور احکام) پہنچاتا ہوں (اور اس پہنچانے میں میری کوئی دنیوی غرض نہیں بلکہ محض) تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں (کیونکہ توحید میں تمہارا ہی نفع ہے) اور (عذاب یوم عظیم سے جو تم کو تعجب ہوتا ہے تو تمہاری غلطی ہے کیونکہ) میں خدا کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جن کی تم کو خبر نہیں (تو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بتلا دیا ہے کہ ایمان نہ لانے سے عذاب یوم عظیم واقع ہوگا) اور (تم کو جو میرے رسول ہونے پر بوجہ میرے بشر ہونے کے انکار ہے جیسا سورة مومنون میں تصریح ہے (آیت) ما ھذا الا بشر مثلکم یرید تا ملئکۃ الخ) کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت جو تمہاری ہی جنس کا (بشر) ہے کوئی نصیحت کی بات آگئی (وہ نصیحت کی بات یہی ہے جو مذکور ہوئی (آیت) يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ الی قولہ انی اخاف) تاکہ وہ شخص تم کو (بحکم خداوندی عذاب سے) ڈراوے اور تاکہ تم (اس کے ڈرانے سے) ڈر جاؤ اور تاکہ (ڈرنے کی وجہ سے مخالفت چھوڑ دو جس سے) تم پر رحم کیا جائے سو (باوجود اس تمام تر فہائش کے) وہ لوگ ان کی تکذیب ہی کرتے رہے تو ہم نے نوح ؑ کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے (طوفان کے عذاب سے) بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو ہم نے (طوفان میں) غرق کردیا بیشک وہ لوگ اندھے ہو رہے تھے (حق و باطل، نفع نقصان کچھ نہ سوجھتا تھا)۔ معارف و مسائل سورة اعراف کے شروع سے یہاں تک اصول اسلام توحید، رسالت، آخرت کا مختلف عنوانات اور دلائل سے اثبات اور لوگوں کو اتباع کی ترغیب اور اس کی مخالفت پر وعید اور ترہیب اور اس کے ضمن میں شیطان کے گمراہ کن مکر و فریب وغیرہ کا بیان تھا اب آٹھویں رکوع سے تقریباً آخر سورت تک چند انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کا ذکر ہے جس میں تمام انبیاء (علیہم السلام) کا متفقہ طور پر اصول مذکورہ توحید، رسالت، آخرت کی طرف اپنی اپنی امتوں کو دعوت دینا اور ماننے والوں کے اجر وثواب اور نہ ماننے والوں پر طرح طرح کے عذاب اور ان کے انجام بد کا مفصل بیان تقریباً چودہ رکوع میں آیا ہے۔ جس کے ضمن میں سینکڑوں اصولی اور فروعی مسائل بھی آگئے ہیں، اور موجودہ اقوام کو پچھلی قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی کا سامان ہوگیا کہ پہلے سب رسولوں کے ساتھ ایسے ہی معاملات ہوتے رہے ہیں۔ آیات مذکورہ سورة اعراف کا آٹھواں رکوع پورا ہے، اس میں حضرت نوح ؑ اور ان کی امت کے حالات و مقالات کا بیان ہے۔ سلسلہ انبیاء میں سب سے پہلے ہی اگرچہ آدم ؑ ہیں، لیکن ان کے زمانہ میں کفر و ضلالت کا مقابلہ نہ تھا ان کی شریعت میں زیادہ تر احکام بھی زمین کی آباد کاری اور انسانی ضرورت کے متعلق تھے۔ کفر اور کافر کہیں موجود نہ تھے۔ کفر و شرک کا مقابلہ حضرت نوح ؑ سے شروع ہوا۔ اور رسالت و شریعت کی حیثیت سے دنیا میں وہ سب سے پہلے رسول ہیں، اس کے علاوہ طوفان میں پوری دنیا غرق ہوجانے کے بعد جو لوگ باقی رہے وہ حضرت نوح ؑ اور ان کے رفقاء سفینہ تھے انھیں سے نئی دنیا آباد ہوئی اسی لئے ان کو آدم اصغر کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قصص انبیاء کا آغاز بھی انہیں سے کیا گیا ہے جس میں ساڑھے نو سو برس کی طویل عمر میں ان کی پیغمبرانہ جدوجہد اور اس پر اکثر امت کی کجروی اور اس کے نتیجہ میں بجز تھوڑے سے مؤمنین کے باقی سب کا غرق ہونا بیان ہوا ہے، تفصیل اس کی یہ ہے۔ پہلی آیت میں رشاد ہے لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ نوح ؑ آدم ؑ کی آٹھویں پشت میں ہیں۔ مستدرک حاکم میں بروایت ابن عباس ؓ منقول ہے کہ آدم ؑ اور نوح ؑ کے درمیان دس قرن گزرے ہیں، اور یہی مضمون طبرانی نے بروایت ابی ذر ؓ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے (تفسیر مظہری) قرن عام طور پر ایک سو سال کو کہا جاتا ہے اس لئے ان دونوں کے درمیان اس روایت کے مطابق ایک ہزار سال کا عرصہ ہوگیا، ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ نوح ؑ کی ولادت حضرت آدم ؑ کی وفات سے آٹھ سو چھبیس سال بعد ہوئی ہے اور بتصریح قرآن ان کی عمر نو سو پچاس سال ہوئی، اور آدم ؑ کی عمر کے متعلق ایک حدیث میں ہے کہ چالیس کم ایک ہزار سال ہے اس طرح آدم ؑ کی پیدائش سے نوح ؑ کی وفات تک کل دو ہزار آٹھ سو چھپن سال ہوجاتے ہیں (مظہری) نوح ؑ کا اصلی نام شاکر اور بعض روایات میں سَکَن اور بعض میں عبدالغفار آیا ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ ان کا زمانہ حضرت ادریس ؑ سے پہلے ہے یا بعد میں اکثر صحابہ کا قول یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ ادریس ؑ سے پہلے ہیں (بحر محیط) مستدرک حاکم میں بروایت ابن عباس ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نوح ؑ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ اور طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے۔ آیت قرآن لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ ، سے ثابت ہے کہ نوح ؑ کی بعثت و نبوت صرف اپنی قوم کے لئے تھی ساری دنیا کے لئے عام نہ تھی اور ان کی قوم عراق میں آباد بظاہر مہذب مگر شرک میں مبتلا تھی۔ حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کو جو دعوت دی وہ یہ تھی (آیت) يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ یعنی اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا خطرہ ہے۔ اس کے پہلے جملہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت ہے جو اصل اصول ہے، دوسرے جملہ میں شرک و کفر سے پرہیز کرنے کی تلقین ہے جو اس قوم میں وباء کی طرح پھیل گیا تھا۔ تیسرے جملہ میں اس عذاب عظیم کے خطرہ سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور دنیا میں طوفان کا عذاب بھی۔ (کبیر)
Ayah 7:60

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

بولے سردار اس کی قوم کے ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا

ان کی قوم نے اس کے جواب میں کہا۔ (آیت) قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖٓ اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ لفظ ملائ قوم کے سرداروں اور برادریوں کے چودھریوں کے لئے بولا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ کی اس دعوت کے جواب میں قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں کہ ہمارے باپ دادوں کے دین سے ہم کو نکالنا چاہتے ہیں اور قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے اور جزا و سزا پانے کے خیالات یہ سب اوہام ہیں۔
Ayahs 7:61–62

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

بولا اے میری قوم میں ہرگز بہکا نہیں و لیکن میں بھیجا ہوا ہوں جہان کے پروردگار کا ،

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور نصیحت کرتا ہوں تم کو اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے۔

اس دل آزاد و دلخراش گفتگو کے جواب میں حضرت نوح ؑ نے پیغمبرانہ لہجہ میں جو جواب دیا وہ مبلغین اور مصلحین کے لئے ایک اہم تعلیم اور ہدایت ہے کہ اشتعال کی بات پر مشتعل اور غضبناک ہونے کے بجائے۔ سادہ لفظوں میں ان کے شبہات کا ازالہ فرما رہے ہیں۔ (آیت) قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ ضَلٰلَةٌ وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنْصَحُ لَكُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی اے میری قوم مجھ میں کوئی گمراہی نہیں مگر بات یہ ہے کہ میں تمہاری طرح آبائی رسوم جہالت کا پابند نہیں بلکہ میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں جو کچھ کہتا ہوں ہدایت ربی سے کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام تم کو پہنچاتا ہوں جس میں تمہارا ہی بھلا ہے نہ اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی فائدہ اور نہ میری کوئی غرض۔ اس میں رب العالمین کا لفظ عقیدہ شرک پر ضرب کاری ہے کہ اس میں غور کرنے کے بعد نہ کوئی دیوی اور دیوتا ٹھہر سکتا ہے نہ کوئی یزدان و اہرمن۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم کو جو قیامت کے عذاب میں شبہات ہیں اس کی وجہ تمہارا بیخبر ی اور ناواقفیت ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا علم یقین دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ان کے دوسرے شبہ کا جواب ہے جو سورة مومنون میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ (آیت) ما ھذا الا بشر ملئکۃ الخ۔ یعنی ان کی قوم نے نوح ؑ کی دعوت پر ایک شبہ یہ بھی کیا کہ یہ تو ہماری ہی طرح ایک بشر اور انسان ہیں ہماری ہی طرح کھاتے پیتے سوتے جاگتے ہیں ان کو ہم کیسے اپنا مقتدا مان لیں اگر اللہ تعالیٰ کو ہمارے لئے کوئی پیغام بھیجنا تھا تو وہ فرشتوں کو بھیجتے جن کا امتیاز اور بڑائی ہم سب پر واضح ہوتی۔ اب تو اس کے سوا کوئی بات نہیں کہ ہماری قوم اور نسل کا ایک آدمی ہم پر اپنا تفوق اور بڑائی قائم کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 7:63

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم کو تعجب ہوا کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک مرد کی زبانی جو تم ہی میں سے ہے تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم بچو اور تاکہ تم پر رحم ہو۔

اس کے جواب میں فرمایا (آیت) اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ یعنی کیا تمہیں اس پر تعجب ہے کہ تمہارے رب کا پیغام تمہاری طرف ایک ایسے شخص کی معرفت آیا جو تمہاری ہی جنس کا ہے تاکہ وہ تمہیں ڈراوے اور تاکہ تم ڈرجاو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یعنی اس کے ڈرانے سے تم متنبہ ہو کر مخالفت چھوڑ دو جس کے نتیجہ میں تم پر رحمت نازل ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بشر کو رسول بنایا جائے۔ اول تو حق تعالیٰ مختار مطلق ہیں جس کو چاہیں اپنی نبوت و رسالت عطا فرمائیں اس میں کسی کو چوں چرا کی مجال نہیں۔ اس کے علاوہ اصل معاملہ کرو تو واضح ہوجائے کہ عام انسانوں کی طرف رسالت و نبوت کا مقصد بشر ہی کے ذریعہ پورا ہوسکتا ہے فرشتوں سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اصل مقصد رسالت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت اور عبادت پر لوگوں کو قائم کردیا جائے اور اس کے احکام کی مخالفت سے بچایا جائے۔ اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ ان کی جنس بشر کا کوئی شخص نمونہ عمل بن کر ان کو دکھلائے کہ بشری تقاضوں اور خواہشوں کے ساتھ بھی احکام الٰہیہ کی اطاعت اور اس کی عبادت جمع ہو سکتی ہے۔ اگر فرشتے یہ دعوت لے کر آتے اور اپنی مثال لوگوں کے سامنے رکھتے تو سب لوگوں کا یہ عذر ظاہر تھا کہ فرشتے تو بشری خواہشات سے پاک ہیں نہ ان کو بھوک پیاس لگتی ہے نہ نیند آتی ہے نہ تھکان ہوتا ہے ان کی طرح ہم کیسے بن جائیں۔ لیکن جب اپنا ہی ایک ہم جنس بشر تمام بشری خواہشات اور خصوصیات رکھنے کے باوجود ان احکام الٰہیہ کی مکمل اطاعت کرکے دکھلائے تو ان کے لئے کوئی عذر نہیں رہ سکتا۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے فرمایا لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوْا، مطلب یہ ہے کہ جس کے ڈرانے سے متاثر ہو کر لوگ ڈر جائیں وہ وہی ہوسکتا ہے جو ان کا ہم جنس اور ان کی طرح بشری خصوصیات کا جامع ہو۔ یہ شبہ اکثر امتوں کے کفار نے پیش کیا کہ کوئی بشر نبی اور رسول نہیں ہونا چاہئے اور قرآن نے سب کا یہی جواب دیا ہے۔ افسوس ہے کہ قرآن کی اتنی تصریحات کے باوجود آج بھی کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کی بشریت کا انکار کرنے کی جرأت کرتے ہیں۔ مگر جاہل انسان اس حقیقت کو نہیں سمجھتا وہ کسی اپنے ہم جنس کی برتری کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے ہمعصر اولیاء اور علماء سے ان کی معاصرت کی بنا پر نفرت و حقارت کا برتاؤ جاہلوں کا ہمیشہ شیوہ رہا ہے۔ قوم نوح ؑ کے دل خراش کلام کے جواب میں حضرت نوح ؑ کا یہ مشفقانہ اور ناصحانہ رویہ بھی ان کی بےحس قوم پر اثر انداز نہ ہوا بلکہ اندھے بن کر جھٹلانے ہی میں لگے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفان کا عذاب بھیج دیا۔
Ayah 7:64

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس کو جھٹلایا پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو کہ جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، بیشک وہ لوگ تھے اندھے۔

ارشاد فرمایا، (آیت) فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ فِي الْفُلْكِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۭاِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ یعنی نوح ؑ کی ظالم قوم نے ان کی نصیحت و خیر خواہی کی کوئی پروا نہ کی اور برابر اپنی تکذیب پر جمع رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں سوار کرکے طوفان سے نجات دے دی اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کردیا۔ بیشک یہ لوگ اندھے ہو رہے تھے۔ حضرت نوح ؑ کا قصہ اور ان کی قوم کی غرقابی اور کشتی والوں کی نجات کی پوری تفصیل سورة نوح اور سورة ہود میں آئے گی۔ اس جگہ بتقاضائے مقام اس کا خلاصہ بیان ہوا ہے۔ حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ قوم نوح پر طوفان کا عذاب اس وقت آیا جب کہ وہ اپنی کثرت و قوت کے اعتبار سے بھرپور تھے۔ عراق کی زمین اور اس کے پہاڑ ان کی کثرت کے سبب تنگ ہو رہے تھے۔ اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ نافرمان لوگوں کو ڈھیل دیتے رہتے ہیں۔ عذاب اس وقت بھیجتے ہیں جب وہ اپنی کثرت، قوت اور دولت میں انتہاء کو پہنچ جائیں اور اس میں بدمست ہوجائیں (ابن کثیر) حضرت نوح ؑ کے ساتھ کشتی میں کتنے آدمی تھے اس میں روایات مختلف ہیں۔ ابن کثیر رحمة اللہ نے بروایت ابن ابی حاتم حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اسی (80) آدمی تھے جن میں ایک کا نام جرُہم تھا یہ عربی زبان بولتا تھا (ابن کثیر) بعض روایات میں یہ تفصیل بھی آئی ہے کہ اسی (80) کے عدد میں چالیس مرد اور چالیس عورتیں تھیں۔ طوفان کے بعد یہ سب حضرات موصل میں جس جگہ مقیم ہوئے اس بستی کا نام ثمانون مشہور ہوگیا۔ غرض اس جگہ نوح ؑ کا مختصر قصہ بیان فرما کر ایک تو یہ بتلا دیا کہ تمام انبیاء قدیم کی دعوت اور اصول عقائد ایک ہی تھے۔ دوسرے یہ بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی تائید و حمایت کس طرح حیرت انگیز طریقہ پر کرتے ہیں کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ جانے والے طوفان میں بھی ان کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ تیسرے یہ واضح کردیا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب عذاب الٓہی کو دعوت دینا ہے جس طرح پچھلی امتیں تکذیب انبیاء کے سبب عذاب میں گرفتار ہوگئیں آج کے لوگوں کو بھی اس سے بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔