7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب لوٹ آیا موسیٰ اپنی قوم میں غصہ میں بھرا ہوا افسوسناک بولا کیا بری نیابت کی تم نے میری میرے بعد کیوں جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے اور ڈال دیں وہ تختیاں اور پکڑا سر اپنے بھائی کا لگا کھینچنے اس کو اپنی طرف وہ بولا اے میری ماں کے جنے لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا اور قریب تھے کہ مجھ کو مارڈالیں سو مت ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ ملا مجھ کو گنہگار لوگوں میں

پانچویں آیت میں اس واقعہ کی تفصیل ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ کوہ طور سے تورات لے کر واپس آئے اور قوم کو گوسالہ پرستی میں مبتلا دیکھا تو اگرچہ قوم کی اس گمراہی کی خبر حق تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو کوہ طور ہی پر کردی تھی، لیکن سننے اور دیکھنے میں فرق ہوتا ہے جب ان لوگوں کو دیکھا کہ گائے کی پوجا پاٹ کر رہے تو غصہ کی انتہا نہ رہی۔ پہلے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ یعنی تم نے میرے بعد یہ بڑی نامعقول حرکت کی ہے اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ کیا تم نے اپنے رب کا حکم آنے سے جلد بازی کی، یعنی اللہ کی کتاب تورات کے آنے کا انتظار تو کرلیتے، تم نے اس سے جلد بازی کرکے یہ گمراہی اختیار کرلی، اور بعض مفسرین نے اس جملہ کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ کیا تم نے جلد بازی کرکے یہ قرار دے لیا تھا کہ میری موت آگئی۔ اس کے بعد حضرت ہارون ؑ کی طرف متوجہ ہوئے کہ ان کو اپنا خلیفہ بنا کر گئے تھے انہوں نے اس گمراہی سے ان لوگوں کو کیوں نہ روکا، ان کی طرف ہاتھ بڑھانے کے لئے ہاتھ کو خالی کرنے کی فکر ہوئی تو تورات کی تختیاں جو ہاتھ میں لئے ہوئے تھے جلدی سے رکھ دیں اسی کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا وَاَلْقَى الْاَلْوَاحَ ، القاء کے لغوی معنی ڈال دینے کے ہیں، اور الواح، لوح کی جمع ہے جس کے معنی ہیں تختی، یہاں لفظ القاء سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے غصہ کی حالت میں تورات کی تختیوں کی بےادبی کی کہ ان کو ڈال دیا۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ الواح تورات کو بےادبی کے ساتھ ڈال دینا گناہ عظیم ہے اور انبیاء (علیہم السلام) سب گناہوں سے معصوم ہیں، اس لئے مراد آیت کی یہی ہے کہ اصل مقصود حضرت ہارون ؑ کو پکڑنے کے لئے اپنا ہاتھ خالی کرنا تھا اور غصہ کی حالت میں جلدی سے ان کو رکھا، جس سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ ڈال دیا، اس کو قرآن کریم نے بطور تنبیہ کے ڈالنے کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ (بیان القرآن)
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

بولا اے میرے رب معاف کر مجھ کو اور میرے بھائی کو اور داخل کر ہم کو اپنی رحمت میں اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

اس کے بعد اس خیال پر کہ حضرت ہارون ؑ نے اپنے فرائض قائم مقامی میں کوتاہی کی ہے ان کے بال پکڑ کر کھینچنے لگے تو حضرت ہارون ؑ نے عرض کیا کہ میرا قصور نہیں قوم نے میرا کوئی اثر نہ لیا اور میری بات نہ سنی بلکہ قریب تھا کہ وہ مجھے قتل کر ڈالتے اس لئے آپ میرے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کریں جس سے میرے دشمن خوش ہوں اور آپ مجھے ان گمراہوں کے ساتھ نہ سمجھیں، تب حضرت موسیٰ ؑ کا غصہ فرو ہوا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ، یعنی اے میرے پروردگار مجھے بھی معاف فرما دیجئے اور میرے بھائی کو بھی اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما دیجئے اور آپ تو سب رحمت کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ اس میں اپنے بھائی ہارون کے لئے تو اس بناء پر دعائے مغفرت کی کہ شاید ان سے کوئی کوتاہی قوم کو گمراہی سے روکنے میں ہوئی ہو اور اپنے لئے دعائے مغفرت یا تو اس بنا پر کی کہ جلدی کے ساتھ الواح تورات کو رکھ دینا جس کو قرآن کریم نے ڈال دینے سے تعبیر کرکے ایک غلطی پر متنبہ فرمایا ہے اس سے مغفرت طلب کرنا مقصود تھا۔ اور یا یہ کہ دعا کا ادب ہی یہ ہے کہ دوسرے کے لئے دعا کرے تو اپنے آپ کو بھی اس میں شامل کرے تاکہ اس کا استغناء محسوس نہ ہو یعنی یہ کہ یہ اپنے آپ کو دعا کا محتاج نہیں سمجھتا۔
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

البتہ جنہوں نے بچھے کو معبود بنالیا ان کو پہنچے کا غضب ان کے رب کا اور ذلت دنیا کی زندگی میں اور یہی سزادیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو

خلاصہ تفسیر (پھر حق تعالیٰ نے ان گوسالہ پرستوں کے متعلق موسیٰ ؑ سے فرمایا کہ) جن لوگوں نے گوسالہ پرستی کی ہے (اگر اب بھی توبہ نہ کریں گے تو) ان پر بہت جلد ان کے رب کی طرف سے غضب اور ذلت اس دنیاوی زندگی ہی میں پڑے گی اور (کچھ ان ہی کی تخصیص نہیں) (تو) افتراء پردازوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں کہ (دنیا ہی میں مغضوب اور ذلیل ہوجاتے ہیں گو کسی عارض سے اس ذلت کا گاہے ظہور نہ ہو یا دیر میں ہو، چناچہ سامری نے جو توبہ نہ کی اس پر غضب اور ذلت کا نزول ہوا جس کا قصہ سورة طہ میں ہے، قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ (الایة) اور جن لوگوں نے گناہ کے کام کئے (مثلا گوسالہ پرستی ان سے سرزد ہوگئی مگر) پھر وہ ان (گناہوں) کے (کرنے کے) بعد توبہ کریں اور (اس کفر کو چھوڑ کر) ایمان لے آئیں، تمہارا رب اس توبہ کے بعد (ان کے) گناہ کا معاف کردینے والا (اور ان کے حال پر) رحمت کرنے والا ہے (گو تکمیل توبہ کے لئے اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ کا بھی حکم ہوا ہو کیونکہ اصل رحمت آخرت کی ہے۔ چناچہ تائبین کی خطا اسی طرح معاف ہوئی) اور جب (ہارون ؑ کی یہ معذرت سن کر) موسیٰ ؑ کا غصہ فرو ہوا تو ان تختیوں کو اٹھا لیا اور ان (تختیوں) کے مضامین میں ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدیت اور رحمت تھی (مراد احکام ہیں کہ ان پر عمل کرنے سے موصوف بہدایت اور موعود برحمت ہوتا ہے) اور (جب گوسالہ کا قصہ تمام ہوا تو موسیٰ ؑ نے اطمینان سے تورات کے احکام سنائے، ان لوگوں کی عادت تھی ہی شبہات نکالنے کی، چناچہ اس میں بھی شبہ نکالا کہ ہم کو کیسے معلوم ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں، ہم سے اللہ تعالیٰ خود کہہ دیں تو یقین کیا جائے، آپ نے حق تعالیٰ سے عرض کیا، وہاں سے حکم ہوا کہ ان میں کے کچھ آدمی جن کو یہ لوگ معتبر سمجھتے ہوں منتخب کر کے ان کو کوہ طور پر لے آؤ ہم خود ان سے کہہ دیں گے کہ یہ ہمارے احکام ہیں اور اس لانے کے لئے ایک وقت معین کیا گیا چنا نچہ) موسیٰ ؑ نے ستر آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے وقت معین (پر لانے) کے لئے منتخب کئے (چناچہ وہاں پہنچ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا تو اس میں ایک شاخ نکالی اور کہنے لگے کہ خدا جانے کون بول رہا ہوگا ہم تو جب یقین لائیں کہ اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھ سے دیکھ لیں، لقولہ تعالیٰ لَنْ نُّؤ ْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً ، اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی کی سزا دی نیچے سے زلزلہ شدید شروع ہوا اوپر سے ایسی کڑک بجلی ہوئی کہ سب وہاں ہی رہ گئے) سو جب ان کو زلزلہ (وغیرہ) نے آپکڑا تو موسیٰ ؑ ڈرے کہ بنی اسرائیل جاہل اور بدگمان تو ہیں ہی یوں سمجھیں گے کہ کہیں لے جاکر کسی طریق سے ان سب کا کام تمام کردیا ہے گھبرا کر) عرض کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار (یہ مجھ کو یقین ہے کہ ان لوگوں کو محض سنرا دینا منظور ہے خاص ہلاک کرنا مقصود نہیں کیونکہ) اگر آپ کو یہ منظور ہوتا تو آپ اس کے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کردیتے (کیونکہ ان کا اس وقت ہلاک ہونا بنی اسرائیل کے ہاتھوں میرا ہلاک ہونا ہے سو اگر آپ کو یہ مقصود ہوتا تو آپ پہلے بھی ایسا کرسکتے تھے مگر جب ایسا نہیں کیا تو معلوم ہوگیا کہ ان کو بھی ہلاک کرنا مقصود نہیں کیونکہ اس سے میری ہلاکت بھی ہے اور بدنامی کے ساتھ، آپ سے امید ہے کہ مجھ کو بدنام نہ کریں گے اور بھلا) کہیں آپ ہم میں کے چند بیوقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کردیں گے (کہ بےوقوفی تو کریں یہ لوگ کہ ایسی گستاخی کریں اور ساتھ میں بنی اسرائیل کے ہاتھ سے ہلاک ہوں میں بھی، آپ سے امید ہے کہ آپ ایسا نہ کریں گے پس ثابت ہوا کہ) یہ واقعہ (رجفہ اور صاعقہ کا) محض آپ کی طرف سے ایک امتحان ہے، ایسے امتحانات سے جس کو آپ چاہیں گمراہی میں ڈال دیں (کہ حق تعالیٰ کی شکایت اور ناشکری کرنے لگے) اور جس کو آپ چاہیں ہدایت پر قائم رکھیں (کہ اس کی حکمتوں اور مصلحتوں کو سمجھتا ہے سو میں آپ کے فضل و کرم سے آپ کے حکیم ہونے کا علم رکھتا ہوں لہذا اس امتحان میں مطمئن ہوں اور) آپ ہی تو ہمارے خبر گیراں ہیں ہم پر مغفرت اور رحمت فرمایئے اور آپ سب معافی دینے والوں سے زیادہ ہیں (سو ان کی گستاخی بھی معاف کردیجئے چناچہ وہ لوگ صحیح سالم اٹھ کھڑے ہوئے سورة بقرہ میں تفصیل ملاحظہ ہو) اور (اس دعا کے ساتھ آپ نے تفصیل رحمت کے لئے یہ بھی دعا کی کہ) ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دیجئے اور (اسی طرح) آ خرت میں بھی (کیونکہ) ہم آپ کی طرف (خلوص و اطاعت کے ساتھ) رجوع کرتے ہیں (اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی دعا قبول کی اور) فرمایا کہ (اے موسیٰ اول تو مطلقا میری رحمت میرے غضب پر سابق ہے چنانچہ) میں اپنا عذاب (اور غضب) تو اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں (گو مستحق عذاب ہر نافرمان ہوتا ہے لیکن پھر بھی سب پر واقع نہیں کرتا بلکہ ان میں سے خاص خاص لوگوں پر واقع کرتا ہوں جو غایت درجہ سرکش اور متمرد ہوتے ہیں) اور میری رحمت (ایسی عام ہے کہ) تمام اشیاء کو محیط ہو رہی ہے (باوجودیکہ ان میں بہت سی مخلوق مثلا سرکش ومعاند لوگ اس کے مستحق نہیں مگر ان پر بھی ایک گونہ رحمت ہے گو دنیا ہی میں ہی سہی، پس جب مری رحمت غیر مستحقین کے لئے بھی عام ہے) تو وہ رحمت ان لوگوں کے نام تو (کامل طور پر) ضرور ہی لکھوں گا جو کہ (اس کے حسب وعدہ مستحق بھی ہیں بوجہ اس کی کہ وہ اطاعت کرتے ہیں چنانچہ) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں (جو منجملہ اعمال قلب سے ہے) اور زکوة دیتے ہیں (جو کہ اعمال جوارح سے ہے) اور جو کہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں (جو کہ عقائد میں سے ہے، تو ایسے لوگ تو پہلے سے مستحق رحمت ہیں گو آپ درخواست بھی نہ کرتے اور اب تو آپ درخواست بھی کرتے ہیں ارحمنا واکتب لنا، پس ہم بشارت قبول دیتے ہیں کیونکہ آپ تو ایسے ہیں ہی اور آپ کی قوم میں بھی جو مورد رحمت بننا چاہے وہ ایسے ہی اوصاف اختیار کرے کہ مستحق ہوجائے) معارف و مسائل یہ سورة اعراف کا انیسواں رکوع ہے، اس کی پہلی آیت میں گوسالہ پرستی کرنے والے اور اس پر قائم رہنے والے بنی اسرائیل کے انجام بد کا ذکر ہے کہ آخرت میں ان کو رب العالمین کے غضب سے سابقہ پڑے گا جس کے بعد کہیں پناہ کی جگہ نہیں اور دنیا میں اس کو ذلت و خواری نصیب ہوگی۔ بعض گناہوں کی کچھ سزا دنیا میں بھی ملتی ہے جیسے سامری اس کے ساتھیوں کا حال ہے کہ انہوں نے گوسالہ پرستی سے صحیح توبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں ہی خوار و ذلیل کردیا کہ اس کو موسیٰ ؑ نے یہ حکم دے دیا کہ وہ سب لوگوں سے الگ رہے نہ وہ کسی کو ہاتھ لگائے نہ کوئی اس کو ہاتھ لگائے، چناچہ وہ عمر بھر اسی طرح جانوروں کے ساتھ پھرتا رہا کوئی انسان اس کے پاس نہ آتا تھا۔ تفسیر قرطبی میں بروایت قتادہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ عذاب مسلط کردیا تھا کہ جب کوئی اس کو ہاتھ لگائے یا وہ کسی کو ہاتھ لگائے تو فورا دونوں کو بخار چڑھ جاتا تھا (قر طبی) اور تفسیر روح البیان میں ہے کہ یہ خاصیت اس کی نسل میں بھی آج تک باقی ہے، اور آخر آیت میں ارشاد فرمایا وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْنَ یعنی جو لوگ اللہ پر افتراء کرتے ہیں ان کو ایسی ہی سزا دی جاتی ہے، سفیان بن عینیہ نے فرمایا کہ جو لوگ دین میں بدعت اختیار کرتے ہیں وہ بھی اس افتراء علی اللہ کے مجرم ہو کر اس سزا کے مستحق ہوتے ہیں (مظہری) امام مالک نے اسی آیت سے استدلال کرکے فرمایا کہ دین میں اپنی طرف سے بدعات ایجاد کرنے والوں کی یہی سزا ہے کہ آخرت میں غضب الہی کے مستحق ہوں گے اور دنیا میں ذلت کے (قرطبی)
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے کئے برے کام پھر توبہ کی اس کے بعد اور ایمان لائے تو بیشک تیرا رب توبہ کے پیچھے البتہ بخشنے والا مہربان ہے

دوسری آیت میں ان لوگوں کا حال مذکور ہے جنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی تنبیہ کے بعد اپنے اس جرم سے توبہ کرلی اور توبہ کے لئے جو کڑی شرط اللہ تعالیٰ کی طرف سے لگائی گئی تھی کہ یہ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں تب ان کی توبہ قبول ہوگئی، یہ لوگ حکم بجا لائے تو موسیٰ ؑ نے بحکم خداوندی ان کو بلایا کہ تم سب کی توبہ قبول ہوگئی، اس قتل عام میں جو لوگ مارے گئے وہ شہید ہوئے جو باقی رہے ان کی مغفرت ہوگئی، اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ جو لوگ برے اعمال کے مرتکب ہوں، خواہ کیسے ہی بڑے گناہ کفر و معصیت کے ہوں اگر وہ اس کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان کو درست کرلیں یعنی مقتضائے ایمان کے مطابق اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی رحمت سے معاف فرمادیں گے، اس لئے انسان کو چاہئے کہ جب کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو فورا توبہ کی طرف رجوع کرے۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب تھم گیا موسیٰ کا غصہ تو اس نے اٹھا لیا تختیوں کو اور جو ان میں لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت اور رحمت تھی اس کے واسطے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

تیسری آیت میں اس کا بیان ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ کا غصہ فرو ہوا تو تورات کی تختیاں جو جلدی سے رکھ دی تھیں پھر اٹھالیں، اور اس کے نسخہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت تھی۔ لفظ نسخہ اس تحریر کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کتاب وغیرہ سے نقل کی جائے، بعض روایات میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ نے تورات کی تختیاں جلدی سے رکھیں تو وہ ٹوٹ گئی تھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی دوسری چیز میں لکھا ہوا عطا فرمایا، اس کو نسخہ کہا گیا ہے۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور چن لئے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے وعدہ کے وقت پر لانے کو، پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑا تو بولا اے رب میرے اگر تو چاہتا تو پہلے ہی ہلاک کردیتا ان کو اور مجھ کو کیا ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو کیا ہماری قوم کے احمقوں نے یہ سب تیری آزمائش ہے بچلاوے اس میں جس کو تو چاہے اور سیدھا رکھے جس کو چاہے تو ہی ہے ہمارا تھامنے والا سو بخش دو ہم کو اور رحمت کر ہم پر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے

ستر بنی اسرائیل کا انتخاب اور ان کی ہلاکت کا واقعہ چوتھی آیت میں ایک خاص واقعہ کا ذکر ہے کہ موسیٰ ؑ نے جب اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات لاکر بنی اسرائیل کو دی تو اپنی کجروی اور حیلہ جوئی کی وجہ سے کہنے لگے کہ ہمیں یہ کیسے یقین آئے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے، ممکن ہے آپ اپنی طرف سے لکھ لائے ہوں، ان کو اطمینان دلانے کے لئے موسیٰ ؑ نے دعا کی تو حق تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد ہوا کہ اس قوم کے منتخب آدمیوں کو آپ کوہ طور پر لے آئیں تو ہم ان کو بھی خود اپنا کلام سنا دیں گے جس سے ان کو یقین آجائے، موسیٰ ؑ نے ان میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب کیا اور کوہ طور پر لے گئے، حسب وعدہ انہوں نے اپنے کانوں اللہ تعالیٰ کا کلام سن لیا، مگر جب یہ حجت بھی پوری ہوگئی تو کہنے لگے ہمیں کیا معلوم یہ آواز اللہ تعالیٰ ہی کی ہے یا کسی اور کی، ہم تو جب یقین کریں جب کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیں، ان کا یہ سوال چونکہ ہٹ دھرمی اور جہالت پر مبنی تھا، اس پر غضب الہی متوجہ ہوا، ان کے نیچے سے زلزلہ آیا اور اوپر سے بجلی کی کڑک آئی جس سے یہ بیہوش ہو کر گر گئے اور بظاہر مردہ ہوگئے، سورة بقرہ میں اس جگہ صاعقہ کا لفظ آیا ہے اور یہاں رجفہ کا، صاعقہ کے معنی بجلی کی کڑک اور رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں، اس میں کوئی بعد نہیں کہ دونوں چیزیں جمع ہوگئی ہوں۔ بہرحال یہ لوگ ایسے ہو کر گرگئے جیسے مردے ہوتے ہیں خواہ حقیقة مر ہی گئے ہوں یا ظاہر میں مردہ نظر آتے ہوں، حضرت موسیٰ ؑ کو اس واقعہ سے سخت صدمہ پہنچا، اول تو اس لئے کہ یہ لوگ اپنی قوم کے منختب لوگ تھے، دوسرے اس لئے کہ اب اپنی قوم میں جاکر کیا جواب دیں گے وہ یہ تہمت لگائیں گے کہ موسیٰ ؑ نے ان سب کو کہیں لے جاکر قتل کرادیا ہے اور اس تہمت کے بعد یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کر ڈالیں گے اس لئے اللہ جل شانہ سے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں جانتا ہوں کہ اس واقعہ سے آپ کا مقصود ان کو ہلاک کرنا نہیں کیونکہ اگر یہ مقصود ہوتا تو اب سے پہلے بہت سے واقعات تھے جن میں یہ ہلاک کئے جاسکتے تھے، فرعون کے ساتھ غرق کردیئے جاتے یا گوسالہ پرستی کے وقت سب کے سامنے ہلاک کردیئے جاتے اور آپ چاہتے تو مجھے بھی ان کے ساتھ ہلاک کردیتے مگر آپ نے یہ نہیں چاہا تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی ان کا ہلاک کرنا مقصود نہیں بلکہ سزا دینا اور تنبیہ کرنا مقصود ہے اور کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ہم سب کو چند بیوقوفوں کے عمل کی وجہ سے ہلاک کردیں۔ اس جگہ اپنے آپ کو ہلاک کرنا اس لئے ذکر کیا کہ ان ستر آدمیوں کی اس طرح غائبانہ ہلاکت کا نتیجہ یہی تھا کہ موسیٰ ؑ اپنی قوم کے ہاتھوں ہلاک کئے جائیں۔ پھر عرض کیا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ محض آپ کا امتحان ہے جس کے ذریعہ آپ بعض لوگوں کو گمراہ کردیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی شکایت و ناشکری کرنے لگیں، اور بعض کو ہدایت پر قائم رکھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں اور مصلحتوں کو سمجھ کر مطمئن ہوجاتے ہیں میں بھی آپ کے فضل سے آپ کے حکیم ہونے کا علم رکھتا ہوں لہذا اس امتحان میں مطمئن ہوں اور آپ ہی تو ہمارے خبرگیراں ہیں، ہم پر مغفرت اور رحمت فرمائیے اور آپ سب معافی دینے والوں سے زیادہ معافی دینے والے ہیں اس لئے ان کی اس گستاخی کو بھی معاف کر دیجئے۔ چناچہ وہ سب لوگ صحیح سالم اٹھ کھڑے ہوئے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ستر آدمی جن کا ذکر اس آیت میں ہے وہ نہیں جنہوں نے ارنا اللہ جھرة کی درخواست کی تھی اور اس پر صاعقہ کے ذریعہ ہلاک کئے گئے تھے بلکہ یہ وہ لوگ تھے جو خود تو گوسالہ پرستی میں شریک نہ تھے مگر قوم کو اس حرکت سے روکنے کی کوئی کوشش بھی نہ کی تھی اس کی سزا میں ان پر زلزلہ آیا اور بیہوش ہوگئے، واللہ اعلم۔ بہر حال یہ لوگ حضرت موسیٰ ؑ کی دعا سے زندہ ہو کر کھڑے ہوگئے۔
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور لکھ دے ہمارے لئے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں ہم نے رجوع کیا تیری طرف فرمایا میرا عذاب ڈلاتا ہوں میں اس کو جس پر چاہوں اور میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لئے جو ڈر رکھتے ہیں اور دیتے ہیں زکوٰة اور جو ہماری باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔

پانچویں آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی اس دعا کا تکملہ یہ بھی مذکور ہے، وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ ، یعنی اے ہمارے پروردگار آپ ہمارے لئے اس دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دیجئے اور آخرت میں بھی، کیونکہ ہم آپ کی طرف خلوص و اطاعت سے رجوع کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَاۗءُ ۚ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۭ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤ ْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤ ْمِنُوْنَ یعنی اے موسیٰ اول تو میری رحمت مطلقا میرے غضب پر سابق ہے چناچہ میں اپنا عذاب اور غضب تو صرف اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اگرچہ مستحق عذاب ہر نافرمان ہوتا ہے لیکن پھر بھی سب پر عذاب واقع نہیں کرتا، بلکہ ان میں سے خاص خاص لوگوں پر عذاب واقع کرتا ہوں جو انتہائی سرکش اور متمرد ہوتے ہیں، اور میری رحمت ایسی عام ہے کہ سب اشیاء کو محیط ہو رہی ہے باوجودیکہ ان میں سے بہت سے لوگ مثلا سرکش اور نافرمان اس کے مستحق نہیں مگر ان پر بھی ایک گونہ رحمت ہے گو دنیا ہی میں سہی، پس جب میری رحمت سب غیر مستحقین کے لئے بھی عام ہے تو وہ رحمت ان لوگوں کے لئے تو کامل طور پر ضرور ہی لکھ دوں گا جو حسب وعدہ اس کے مستحق بھی ہیں بوجہ اس کے کہ اطاعت کرتے ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور زکوة دیتے ہیں اور جو کہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں، تو یہ لوگ پہلے ہی سے مستحق رحمت ہیں اس لئے آپ کو قبول دعا بشارت دیتے ہیں۔ اس جواب کی تقریر میں حضرات مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، کیونکہ یہاں صاف لفظوں میں قبولیت دعا مذکور نہیں، جیسے دوسرے مواقع میں صاف فرما دیا گیا قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤ ْلَكَ يٰمُوْسٰى یعنی اے موسیٰ و ہارون آپ کا سوال پورا کردیا گیا، اور دوسری جگہ ارشاد ہے اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا یعنی اے موسیٰ و ہارون آپ دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، یہاں اس طرح کی کوئی صراحت نہیں، اس لئے بعض حضرات نے ان آیات کا مفہوم یہ قرار دیا کہ موسیٰ ؑ کی یہ درخواست اپنی امت کے بارے میں تو قبول نہ ہوئی البتہ امت محمدیہ کے حق میں قبول کرلی گئی جن کا ذکر بعد کی آیات میں وضاحت کے ساتھ آرہا ہے، مگر تفسیر روح المعانی میں اس احتمال کو بعید قراردیا ہے، اس لئے جواب کی صحیح تقریر یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعا کے دو جزء تھے ایک یہ کہ جن لوگوں پر عتاب و عذاب ہوا ہے ان کو معافی دی جائے اور ان پر رحمت کی جائے، دوسرا یہ کہ میرے لئے اور میری پوری قوم کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی مکمل لکھ دی جائے، پہلی دعاء کا جواب اس آیت میں مذکور ہے اور دوسری دعا کا جواب دوسری آیت میں مذکور ہے، پہلی آیت کا حاصل یہ ہے کہ میری عادت ہی یہ ہے کہ میں ہر گناہ گار پر عذاب نہیں کرتا بلکہ صرف ان پر جن کو میں (بوجہ انتہائی سرکشی کے) عذاب ہی دینا چاہتا ہوں اس لئے ان لوگوں کو بھی عذاب نہ دیا جائے گا آپ بےفکر رہیں، رہی رحمت کی درخواست سو میری رحمت تو ہر چیز پر حاوی اور محیط ہے انسان ہو یا غیر انسان، مومن ہو یا کافر، فرماں بردار ہو یا نافرمان، بلکہ جن کو دنیا میں کوئی عذاب و تکلیف دی جاتی ہے وہ بھی رحمت سے خالی نہیں ہوتے کم ازکم یہ کہ جس مصیبت میں مبتلا ہیں اس سے بڑی مصیبت ان پر نہیں ڈالی گئی حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اس پر بھی قدرت تھی۔ استاذ محترم حضرت مولانا انور شاہ صاحب نے فرمایا کہ وسعت رحمت کے یہ معنی ہیں کہ رحمت کا دائرہ کسی سے تنگ نہیں، اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر چیز مرحوم ہے جیسا ابلیس ملعون نے کہا کہ میں بھی ایک شئی ہوں ہر شئی مرحوم ہے لہذا میں بھی مرحوم ہوں، قرآن کریم کے الفاظ میں اس طرف اشارہ موجود ہے کہ یوں نہیں فرمایا کہ ہر شئی پر رحمت کی جائے گی بلکہ یہ فرمایا کہ صفت رحمت تنگ نہیں وسیع ہے جس پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمانا چاہیں فرما سکتے ہیں، قرآن کریم میں اس کی شہادت دوسری جگہ اس طرح آئی ہے فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ ۚ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ ، یعنی اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو ان سے فرما دیجئے کہ تمہارا پروردگار وسیع رحمت والا ہے مگر مجرمین سے ان کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا، اس میں بتلا دیا کہ وسعت رحمت مجرمین پر عذاب کے منافی نہیں۔ خلاصہ یہ کہ موسیٰ ؑ کی یہ دعا ان لوگوں کے حق میں بلا کسی شرط کے قبول کرلی گئی یعنی مغفرت و معافی کی بھی اور رحمت کی بھی۔ اور دوسری دعا جس میں دنیا و آخرت کی مکمل بھلائی ان کے لئے لکھ دینے کی درخواست تھی اس کے متعلق چند شرائط لگائی گئیں، مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو ہر مومن و کافر پر رحمت عام ہوسکتی ہے مگر عالم آخرت اچھے برے کے امتیاز کا مقام ہے یہاں رحمت کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو چند شرائط کو پورا کریں اول یہ کہ وہ تقوٰی اور پرہیزگاری اختیار کریں یعنی تمام واجبات شرعیہ کو ادا کریں اور ناجائز کاموں سے دور رہیں، دوسرے یہ کہ وہ اپنے اموال میں سے اللہ تعالیٰ کے لئے زکوة نکالیں، تیسرے یہ کہ ہماری سب آیات پر بلا کسی استثناء اور تاویل کے ایمان لائیں، یہ موجودہ لوگ بھی اگر یہ صفات پوری اپنے اندر پیدا کرلیں تو ان کے لئے بھی دنیا وآخرت کی مکمل بھلائی لکھ دی جائے گی۔ لیکن اس کے بعد کی آیت میں اس طرف اشارہ کردیا کہ ان صفات کو پوری جامعیت کے ساتھ حاصل کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو ان کے بعد آخر زمانہ میں آئیں گے اور نبی امی کا اتباع کریں گے اور اس کے نتیجہ میں وہ مکمل فلاح کے مستحق ہوں گے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ جب آیت وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ نازل ہوئی تو ابلیس نے کہا کہ میں اس رحمت میں داخل ہوں لیکن بعد کے جملوں میں بتلا دیا کہ رحمت آخرت ایمان وغیرہ کی شرائط کے ساتھ مشروط ہے اس کو سن کر ابلیس مایوس ہوگیا مگر یہود ونصارٰی نے دعوی کیا کہ ہم میں تو یہ صفات بھی موجود ہیں یعنی تقوٰی اور اداء زکوٰة اور ایمان مگر اس کے بعد جو شرط نبی امی پر ایمان لانے کی بیان ہوئی تو اس سے وہ یہود ونصارٰی نکل گئے جو حضور ﷺ پر ایمان نہیں لائے۔ غرض اس اسلوب بدیع میں حضرت موسیٰ ؑ کی قبولیت دعا کا بیان بھی ہوگیا اور امت محمدیہ کے مخصوص فضائل کا ذکر بھی۔
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے کہ جس کو پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس توریت اور انجیل میں وہ حکم کرتا ہے ان کو نیک کام کا، منع کرتا ہے برے کام سے، اور حلال کرتا ہے ان کے لئے سب پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں جو ان پر تھیں، سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی رفاقت کی اور اس کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو اس کے ساتھ اترا ہے وہی لوگ پہنچے اپنی مراد کو۔

خلاصہ تفسیر جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (جن کی صفت یہ بھی ہے کہ) وہ ان کو نیک کاموں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بتلاتے ہیں (گو وہ پہلی شرائع میں حرام تھیں) اور گندی چیزوں کو (بدستور) ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو (پہلے شرائع میں) بوجھ اور طوق (لدے ہوئے) تھے (یعنی سخت اور شدید احکام جن کا ان کو پابند کیا ہوا تھا) ان کو دور کرتے ہیں (یعنی ایسے سخت احکام ان کی شریعت میں منسوخ ہوجاتے ہیں) سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے (یعنی قرآن) ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں (کہ ابدی عذاب سے نجات پائیں گے) معارف و مسائل خاتم النبین محمد مصطفیٰ ﷺ اور ان کی امت کے مخصوص صفات و فضائل پچھلی آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعا کے جو اب میں ارشاد ہوا تھا کہ یوں تو اللہ کی رحمت ہر چیز ہر شخص کے لئے وسیع ہے آپ کی موجودہ امت بھی اس سے محروم نہیں، لیکن مکمل نعمت و رحمت کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو ایمان وتقوی اور زکوة وغیرہ کی مخصوص شرائط کو پورا کریں۔ اس آیت میں ان لوگوں کا پتہ دیا گیا ہے کہ ان شرائط پر پورے اترنے والے کون لوگ ہوں گے اور بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو رسول امی ﷺ کا اتباع کریں، اس ضمن میں آنحضرت ﷺ کے چند خصوصی فضائل و کمالات اور علامات کا بھی ذکر فرما کر آپ پر صرف ایمان لانے کا نہیں بلکہ آپ کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ فلاح آخرت کے لئے ایمان کے ساتھ اتباع شریعت وسنت ضروری ہے۔ الرسول النبی الامی اس جگہ رسول اور نبی کے دو لقبوں کے ساتھ آپ کی ایک تیسری صفت امی بھی بیان کی گئی ہے، امی کے لفظی معنی ان پڑھ کے ہیں جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو، عام قوم عرب کو قرآن میں ا میین اسی لئے کہا گیا ہے کہ ان میں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت کم تھا اور امی ہونا کسی انسان کے لئے کوئی صفت مدح نہیں بلکہ ایک عیب سمجھا جاتا ہے، مگر رسول کریم ﷺ کے علوم و معارف اور خصوصیات اور حالات و کمالات کے ساتھ امی ہونا آپ کے لئے بڑی صفت کمال بن گئی ہے، کیونکہ اگر علمی عملی اخلاقی کمالات کسی لکھے پڑھے آدمی سے ظاہر ہوں تو وہ اس کی تعلیم کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن ایک امی محض سے ایسے بیش بہا علوم اور بےنظیر حقائق و معارف کا صدور اس کا ایک ایسا کھلا ہوا معجزہ ہے جس سے کوئی پرلے درجے کا معاند و مخالف بھی انکار نہیں کرسکتا، خصوصا جبکہ آپ کی عمر شریف کے چالیس سال مکہ مکرمہ میں سب کے سامنے اس طرح گزرے کہ کسی سے نہ ایک حرف پڑھا نہ سیکھا ٹھیک چالیس سال کی عمر ہونے پر یکایک آپ کی زبان مبارک پر وہ کلام جاری ہوا جس کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی مثال لانے سے ساری دنیا عاجز ہوگئی، تو ان حالات میں آپ کا امی ہونا آپ کے رسول من جانب اللہ ہونے اور قرآن کے کلام الہی ہونے پر ایک بہت بڑی شہادت ہے، اس لئے امی ہونا اگرچہ دوسروں کے لئے کوئی صفت مدح نہیں مگر رسول اللہ ﷺ کے لئے بہت بڑی صفت مدح و کمال ہے، جیسے متکبر کا لفظ عام انسانوں کے لئے صفت مدح نہیں بلکہ عیب ہے مگر حق تعالیٰ شانہ کے لئے خصوصیت سے صفت مدح ہے۔ آیت میں چوتھی صفت رسول کریم ﷺ کی یہ بیان فرمائی کہ وہ لوگ آپ کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے، یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کی صفات و حالات کو لکھا ہوا پائیں گے بلکہ يَجِدُوْنَهٗ کا لفظ اختیار کیا گیا جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کو لکھا ہوا پائیں گے، اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ تورات و انجیل میں رسول کریم ﷺ کی صفات ایسی تفصیل و وضاحت کے ساتھ ہوں گی کہ ان کو دیکھنا ایسا ہوگا جیسے خود آنحضرت ﷺ کو دیکھ لیا، اور تورات و انجیل کی تخصیص یہاں اس لئے کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل انہیں دو کتابوں کے قائل ہیں ورنہ آنحضرت ﷺ کے حالات وصفات کا ذکر زبور میں بھی موجود ہے۔ آیت مذکورہ کے اصل مخاطب موسیٰ ؑ ہیں جس میں ان کو بتلایا گیا ہے کہ دنیا و آخرت کی مکمل فلاح آپ کی امت کے ان لوگوں کا حصہ ہے جو نبی امی خاتم الانبیاء علیہ الصلوة والسلام کا اتباع کریں جن کا ذکر وہ تورات و انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے۔ تورات و انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی صفات اور علامات موجودہ تورات و انجیل بیشمار تحریفات اور تغیر و تبدل ہوجانے کے سبب قابل اعتماد نہیں رہی، اس کے باوجود اب بھی ان میں ایسے کلمات موجود ہیں جو رسول کریم ﷺ کا پتہ دیتے ہیں، اور اتنی بات بالکل واضح ہے کہ جب قرآن کریم نے یہ اعلان کیا کہ خاتم الانبیاء کی صفات و علامات تورات و انجیل میں لکھی ہوئی ہیں، اگر یہ بات واقعہ کے خلاف ہوتی تو اس زمانہ کے یہود و نصارٰی کے لئے تو اسلام کے خلاف ایک بہت بڑا ہتھیار ہاتھ آجاتا کہ اس کے ذریعہ قرآن کی تکذیب کرسکتے تھے کہ تورات و انجیل میں کہیں نبی امی کے حالات کا ذکر نہیں، لیکن اس وقت کے یہود و نصارٰی نے اس کے خلاف کوئی اعلان نہیں کیا، یہ خود اس پر شاہد ہے کہ اس وقت تورات و انجیل میں رسول کریم ﷺ کی صفات و علامات واضح طور پر موجود تھیں جس نے ان لوگوں کی زبانوں پر مہر لگادی۔ خاتم الانبیاء ﷺ کی جو صفات تورات و انجیل میں لکھی تھیں ان کا کچھ بیان تو قرآن کریم میں بحوالہ تورات و انجیل آیا ہے اور کچھ روایات حدیث میں ان حضرات سے منقول ہے جنہوں نے اصلی تورات و انجیل کو دیکھا اور ان میں آنحضرت ﷺ کا ذکر مبارک پڑھ کر ہی وہ مسلمان ہوئے۔ بیہقی نے دلائل النبوة میں نقل کیا ہے کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا وہ اتفاقا بیمار ہوگیا تو آپ اس کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے گئے تو دیکھا کہ اس کا باپ اس کے سرہانے کھڑا ہوا تورات پڑھ رہا ہے، آنحضرت ﷺ نے اس سے کہا کہ اے یہودی میں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ ؑ پر تورات نازل فرمائی ہے کہ کیا تو تورات میں میرے حالات اور صفات اور میرے ظہور کا بیان پاتا ہے ؟ اس نے انکار کیا تو بیٹا بولا یا رسول اللہ یہ غلط کہتا ہے، تورات میں ہم آپ کا ذکر اور آپ کی صفات پاتے ہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں آنحضرت اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اب یہ مسلمان ہے انتقال کے بعد اس کی تجہیز وتکفین مسلمان کریں، باپ کے حوالہ نہ کریں (مظہری) اور حضرت علی مرتضی فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے ذمہ ایک یہودی کا قرض تھا، اس نے آکر اپنا قرض مانگا آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں کچھ مہلت دو ، یہودی نے شدت کے ساتھ مطالبہ کیا اور کہا کہ میں آپ کو اس وقت تک نہ چھوڑوں گا جب تک میرا قرض ادا نہ کردو، آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ تمہیں اختیار ہے میں تمہارے پاس بیٹھ جاؤں گا، چناچہ رسول کریم ﷺ اسی جگہ بیٹھ گئے اور ظہر، مغرب عشاء کی اور پھر اگلے روز صبح کی نماز یہیں ادا فرمائی، صحابہ کرام یہ ماجرا دیکھ کر رنجیدہ اور غضبناک ہو رہے تھے اور آہستہ آہستہ یہودی کو ڈرا دھمکا کر یہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ دے، رسول اللہ ﷺ نے اس کو تاڑ لیا اور صحابہ سے پوچھا یہ کیا کرتے ہو ؟ تب انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ہم اس کو کیسے برداشت کریں کہ ایک یہودی آپ کو قید کرے، آپ نے فرمایا کہ ”مجھے میرے رب نے منع فرمایا ہے کہ کسی معاہد وغیرہ پر ظلم کروں، یہودی یہ سب ماجرا دیکھ اور سن رہا تھا۔ صبح ہوتے ہی یہودی نے کہا اشھد ان لآ الہ الا اللہ واشھد انک رسول اللہ، اس طرح مشرف باسلام ہو کر اس نے کہا کہ یا رسول اللہ میں نے اپنا آدھا مال اللہ کے راستہ میں دے دیا، اور قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں نے اس وقت جو کچھ کیا اس کا مقصد صرف یہ امتحان کرنا تھا کہ تورات میں جو آپ کی صفات بتلائی گئی ہیں وہ آپ میں صحیح طور پر موجود ہیں یا نہیں، میں نے تورات میں آپ کے متعلق یہ الفاظ پڑھے ہیںمحمد بن عبدللہ، ان کی ولادت مکہ میں ہوگی اور) ہجرت طیبہ کی طرف اور ملک ان کا شام ہوگا، نہ وہ سخت مزاج ہوں گے نہ سخت بات کرنے والے نہ بازاروں میں شور کرنے والے فحش اور بےحیائی سے دور ہوں گے۔ اب میں نے ان تمام صفات کا امتحان کرکے آپ میں صحیح پایا، اس لئے شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ میرا آدھا مال ہے آپ کو اختیار ہے جس طرح چاہیں خرچ فرمائیں، اور یہ یہودی بہت مالدار تھا، آدھا مال بھی ایک بڑی دولت تھی۔ اس روایت کو تفسیر مظہری میں بحوالہ دلائل النبوة بیہقی نقل فرمایا ہے۔ اور امام بغوی نے اپنی سند کے ساتھ کعب احبار سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ تورات میں آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ لکھا ہوا ہے کہ محمد اللہ کے رسول اور منتخب بندے ہیں، نہ سخت مزاج ہیں نہ بیہودہ گو، نہ بازاروں میں شور کرنے والے، بدی کا بدلہ بدی سے نہیں دیتے بلکہ معاف فرما دیتے ہیں اور درگزر کرتے ہیں، ولادت آپ کی مکہ میں اور ہجرت طیبہ میں ہوگی، ملک آپ کا شام ہوگا اور امت آپ کی حمادین ہوگی، یعنی راحت وکلفت دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد وشکر ادا کرے گی، ہر بلندی پر چڑھنے کے وقت وہ تکبیر کہا کرے گی، وہ آفتاب کے سایوں پر نظر رکھے گی تاکہ اس کے ذریعہ اوقات کا پتہ لگا کر نمازیں اپنے اپنے وقت میں پڑھا کرے) وہ اپنے نچلے بدن پر تہبند استعمال کریں گے اور اپنے ہاتھ پاؤں کو وضو کے ذریعہ پاک صاف رکھیں گے) ان کا اذان دینے والا فضا میں آواز بلند کرے گا، جہاد میں ان کی صفیں ایسی ہوں گی جیسے نماز جماعت میں، رات کو ان کی تلاوت اور ذکر کی آوازیں اس طرح گونجیں گی جیسے شہد کی مکھیوں کا شور ہوتا ہے“ (مظہری) ابن سعد اور ابن عساکر نے حضرت سہل مولی خیثمہ سے سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حضرت سہل نے فرمایا کہ میں نے خود انجیل میں محمد مصطفیٰ ﷺ کی یہ صفات پڑھی ہیں کہ ”وہ نہ پست قد ہوں گے نہ بہت دراز قد، سفید رنگ دو زلفوں والے ہوں گے ان کے دونوں شانوں کے درمیان ایک مہر نبوت ہوگی، صدقہ قبول نہ کریں گے، حمار اور اونٹ پر سوار ہوں گے، بکریوں کا دودھ خود دوہ لیا کریں گے پیوند زدہ کرتہ استعمال فرماویں گے اور جو ایسا کرتا ہے وہ تکبر سے بری ہوتا ہے، وہ اسماعیل ؑ کی ذریت میں ہوں گے، ان کا نام احمد ہوگا۔“ اور ابن سعد نے طبقات میں، دارمی نے اپنے مسند میں، بیہقی نے دلائل نبوت میں حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت نقل کی ہے، جو یہود کے سب سے بڑے عالم اور تورات کے ماہر مشہور تھے، انہوں نے فرمایا کہ تورات میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ الفاظ مذکور ہیں، اے نبی ! ہم نے آپ کو بھیجا ہے سب امتوں پر گواہ بنا کر اور نیک عمل کرنے والوں کو بشارت دینے والا برے اعمال والوں کو ڈرانے والا بنا کر اور امیین یعنی عرب کی حفاظت کرنے والا بنا کر، آپ میرے بندے اور رسول ہیں، میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے، نہ آپ سخت مزاج ہیں نہ جھگڑالو اور نہ بازاروں میں شور کرنے والے برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف کردیتے ہیں اور درگزر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو اس وقت تک وفات نہ دیں گے جب تک ان کے ذریعہ ٹیڑھی قوم کو سیدھا نہ کردیں یہاں تک کہ وہ لآ الہ الا اللہ کے قائل ہوجائیں اور اندھی آنکھوں کو کھول دیں اور بہرے کانوں کو سننے کے قابل بنادیں اور بندھے ہوئے دلوں کو کھول دیں“ اس جیسی ایک روایت بخاری میں بروایت عبداللہ بن عمرو بن عاص بھی مذکور ہے۔ اور کتب سابقہ کے بڑے ماہر عالم حضرت وہب بن منبہ سے بیہقی نے دلائل النبوة میں نقل کیا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے زبور میں حضرت داؤد ؑ کی طرف یہ وحی فرمائی کہ اے داؤد ! آپ کے بعد ایک نبی آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا، میں ان پر کبھی ناراض نہ ہوں گا اور وہ کبھی میری نافرمانی نہ کریں گے اور میں نے ان کے لئے سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کردی ہیں، ان کی امت امت مرحومہ ہے، میں نے ان کو وہ نوافل دیئے ہیں جو انبیاء کو عطا کی تھیں اور ان پر وہ فرائض عائد کئے ہیں جو پچھلے انبیاء (علیہم السلام) پر لازم کئے گئے تھے یہاں تک کہ وہ محشر میں میرے سامنے اس حالت میں آئیں گے کہ ان کا نور انبیاء علہیم السلام کے نور کی مانند ہوگا، اے داؤد میں نے محمد اور ان کی امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی ہے، میں نے ان کو چھ چیزیں خصوصی طور پر عطا کی ہیں جو دوسری امتوں کو نہیں دی گئیں۔ اول یہ کہ خطا و نسیان پر ان کو عذاب نہ ہوگا، جو گناہ ان سے بغیر قصد کے صادر ہوجائے اگر وہ اس کی مغفرت مجھ سے طلب کریں تو میں معاف کردوں گا، اور جو مال وہ اللہ کی راہ میں بطیب خاطر خرچ کریں گے تو میں دنیا ہی میں ان کو اس سے بہت زیادہ دے دوں گا، اور جب ان پر کوئی مصیبت پڑے اور وہ انا للہ وانا الیہ رجعون کہیں تو میں ان پر اس مصیبت کو صلوة و رحمت اور جنت کی طرف ہدایت بنادوں گا، وہ جو دعا کریں گے میں قبول کروں گا کبھی اس طرح کہ جو مانگا ہے وہی دے دوں اور کبھی اس طرح کہ اس دعا کو ان کی آخرت کا سامان بنا دوں۔ (روح المعانی) سینکڑوں میں سے یہ چند روایات تورات، انجیل، زبور کے حوالہ سے نقل کی گئی ہیں پوری روایات کو محدثین نے مستقل کتابوں میں جمع کیا ہے۔ تورات و انجیل میں خاتم الانبیاء ﷺ اور آپ کی امت مرحومہ کے خاص فضائل وصفات اور علامات کی تفصیل پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں، اس آخری دور میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب اظہار الحق میں اس کو بڑے شرح و بسط اور تفصیل و تحقیق کے ساتھ لکھا ہے، اس میں موجودہ زمانے کی تورات و انجیل جس میں بےانتہا تحریفات ہوچکی ہیں ان میں بھی بہت سی صفات و فضائل کا ذکر موجود ہونا ثابت کیا ہے، اس کا عربی سے اردو میں ترجمہ حال میں شائع ہوچکا ہے، قابل دید ہے۔ سابقہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی ان صفات و علامات کا تفصیلی بیان تھا جو تورات و انجیل اور زبور میں لکھی ہوئی تھیں، اس میں آحضرت ﷺ کی کچھ مزید صفات بھی مذکور ہیں۔ جن میں پہلی صفت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، معروف“ کے لفظی معنی جانا پہچانا ہوا، اور منکر کے لغوی معنی اوپرا، اجنبی جو پہچانا نہ جائے، اس جگہ معروف سے وہ نیک کام مراد ہیں جو شریعت اسلام میں جانے پہچانے ہوئے ہیں اور منکر سے وہ برے کام جو دین و شریعت سے اجنبی ہیں۔ اس جگہ اچھے کاموں کو معروف کے لفظ سے اور برے کاموں کو منکر کے لفظ سے تعبیر کرنے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ دین میں نیک کام صرف اس کو سمجھا جائے گا جو قرن اول کے مسلمانوں میں رائج ہوا اور جانا پہچانا گیا اور جو ایسا نہ ہو وہ منکر کہلائے گا، اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ وتابعین نے جس کام کو نیک نہیں سمجھا وہ خواہ کتنا ہی بھلا معلوم ہو ازروئے شریعت وہ بھلا نہیں، احادیث صحیحہ میں اسی لئے ان کاموں کو جن کی تعلیم آنحضرت ﷺ اور صحابہ وتابعین کی طرف سے نہیں پائی جاتی ان کو محدثات الامور اور بدعت فرما کر گمراہی قرار دیا ہے، معنی آیت کے اس جملہ کے یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ لوگوں کو نیک کاموں کا حکم کریں گے اور برے کاموں سے منع فرمادیں گے۔ یہ صفت اگرچہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عام ہے اور ہونا ہی چاہئے کیونکہ ہر نبی اور رسول اسی کام کے لئے بھیجے جاتے ہیں کہ لوگوں کو نیک کاموں کی طرف ہدایت کریں اور برے کاموں سے منع کریں، لیکن اس جگہ رسول کریم ﷺ کی خصوصیات کے موقع پر اس کا بیان کرنا اس کی خبر دیتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس صفت میں دوسرے انبیاء (علیہم السلام) سے کوئی خاص امتیاز اور خصوصیت حاصل ہے اور وہ امتیاز کئی وجہ سے ہے، اول اس کام کا خاص سلیقہ کہ ہر طبقہ کے لوگوں کو ان کے مناسب حال طریق سے فہمائش کرنا جس سے بات ان کے دل میں اتر جائے اور بھاری نہ معلوم ہو، رسول کریم ﷺ کی تعلیمات میں غور کیا جائے تو اس کا مشاہدہ ہوگا کہ آپ کو حق تعالیٰ نے اس میں خصوصی اور امتیازی سلیقہ عطا فرمایا تھا، عرب کے بدوی جو اونٹ اور بکری چرانے کے سوا کچھ نہیں جانتے تھے ان سے ان کے انداز فہم پر گفتگو فرماتے اور دقیق علمی مضامین کو ایسے سادہ الفاظ میں سمجھا دیتے تھے کہ ان پڑھ لوگوں کی بھی سمجھ میں آجائے اور قیصر و کسری اور دوسرے ملوک عجم اور ان کے بیھجے ہوئے ذی علم و فہم سفراء سے ان کے انداز کے مطابق گفتگو ہوتی تھی اور بلا استثناء سب ہی اس گفتگو سے متاثر ہوتے تھے، دوسرے آپ کی اور آپ کے کلام کی خداداد مقبولیت اور دلوں میں تاثیر بھی ایک معجزانہ انداز رکھتی ہے بڑے سے بڑا دشمن بھی جب آپ کا کلام سنتا تو متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔ اوپر بحولہ تورات جو صفات رسول کریم ﷺ کی بیان کی گئی تھیں ان میں یہ بھی تھا کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اندھی آنکھوں کو بینا اور بہرے کانوں کو سننے والا بنا دے گا اور بند دلوں کو کھول دے گا، یہ اوصاف شاید اسی خصوصیت کا نتیجہ ہوں کہ رسول کریم ﷺ کو حق تعالیٰ نے صفت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا امتیازی سلیقہ عطا فرمایا تھا۔ دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ لوگوں کے لئے پاکیزہ اور پسندیدہ چیزوں کو حلال فرماویں گے اور گندی چیزوں کو حرام، مراد یہ ہے کہ بہت سی پاکیزہ اور پسندیدہ چیزیں جو بنی اسرائیل پر بطور سزا کے حرام کردی گئی تھیں، رسول کریم ﷺ ان کی حرمت کو ختم کردیں گے۔ مثلا حلال جانوروں کی چربی وغیرہ جو بنی اسرائیل کی بدکاریوں کی سزا میں ان پر حرام کردی گئی تھی آنحضرت ﷺ نے اس کو حلال قرار دیا، اور گندی چیزوں میں خون اور مردار جانور، شراب اور تمام حرام جانور داخل ہیں اور تمام حرام ذرائع آمدنی بھی مثلا سود، رشوت جوا وغیرہ، (السراج المنیر) اور بعض حضرات نے برے اخلاق و عادات کو بھی گندی چیزوں میں شمار فرمایا ہے۔ تیسری صفت یہ بیان فرمائی گئی (آیت) وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ یعنی آنحضرت ﷺ ہٹا دیں گے لوگوں سے اس بوجھ اور بند کو جو ان پر مسلط تھی۔ لفظ اصر کے معنی بارگراں کے ہیں جو آدمی کو حرکت کرنے سے روک دے اور اغلال غل کی جمع ہے، اس ہتھکڑی کو غل کہتے ہیں جس کے ذریعہ مجرم کے ہاتھوں کو اس کی گردن کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے اور وہ بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ اصر اور اغلال یعنی بار گراں اور قید سے مراد اس آیت میں وہ احکام شاقہ اور دشوار واجبات ہیں جو اصل دین میں مقصود نہ تھے بلکہ بنی اسرائیل پر بطور سزا کے لازم کردیئے گئے تھے، مثلا کپڑا ناپاک ہوجائے تو پانی سے دھو دینا بنی اسرائیل کے لئے کافی نہ تھا بلکہ یہ واجب تھا کہ جس جگہ نجاست لگی ہے اس کو کاٹ دیا جائے، اور کفار سے جہاد کرکے جو مال غنیمت ان کو ہاتھ آئے، ان کے لئے حلال نہیں تھا بلکہ آسمان سے ایک آگ آکر اس کو جلا دیتی تھی، ہفتہ کے دن شکار کھیلنا ان کے لئے حرام تھا جن اعضاء سے کوئی گناہ صادر ہو ان اعضاء کو کاٹ دینا واجب تھا کسی کا قتل خواہ عمد ہو یا خطاء دونوں صورتوں میں قصاص یعنی قاتل کا قتل کرنا واجب تھا خون بہا دینے کا قانون نہ تھا۔ ان احکام شاقة کو جو بنی اسرائیل پر نافذ تھے قرآن میں اصر اور اغلال فرمایا اور یہ خبر دی کہ رسول کریم ﷺ ان سخت احکام کو منسوخ کرکے سہل احکام جاری فرماویں گے۔ اسی کو آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ میں نے تم کو ایک سہل اور آسان شریعت پر چھوڑا ہے جس میں نہ کوئی مشقت ہے نہ گمراہی کا اندیشہ۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے الدین یسر یعنی دین آسان ہے، قرآن کریم نے فرمایا، (آیت) وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر دین کے معاملہ میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔ نبی امی ﷺ کی مخصوص صفات کمال بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا، (آیت) فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ، یعنی تورات و انجیل میں نبی آخر الزمان کی واضح صفات و علامات بتلا دینے کا نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی تعظیم کریں اور مدد کریں اور اس نور کا اتباع کریں جو آپ کے ساتھ بھیجا گیا ہے یعنی قرآن عظیم تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔ یہاں فلاح پانے کے لئے چار شرطیں ذکر کی گئی ہیں، اول آنحضرت ﷺ پر ایمان دوسرے آپ کی تعظیم و تکریم، تیسرے آپ کی امداد، چوتھے قرآن کریم کا اتباع۔ تعظیم و تکریم کے لئے اس جگہ لفظ عَزَّرُوْهُ لایا گیا ہے جو تعزیر سے مشتق ہے، تعزیر کے اصلی معنی شفقت کے ساتھ منع کرنے، حفاظت کرنے کے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس نے عَزَّرُوْهُ کے معنی تعظیم و تکریم کرنے کے بتلائے ہیں اور مبرد نے کہا کہ اعلی درجہ کی تعظیم کو تعزیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کی عظمت و محبت کے ساتھ آپ کی تائید و حمایت اور مخالفین کے مقابلہ میں آپ کی مدد کریں وہ مکمل فلاح پانے والے ہیں، زمانہ نبوت میں تو یہ تائید ونصرت آپ کی ذات کے ساتھ متعلق تھی اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی شریعت اور آپ کے دین کی تائید و نصرت ہی آنحضرت ﷺ کی تائید و نصرت کا مصداق ہے۔ قرآن کریم کو اس آیت میں نور سے تعبیر کیا گیا ہے، وجہ یہ ہے کہ جس طرح نور کے نور ہونے پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں، نور خود اپنے وجود کی دلیل ہوتا ہے، اسی طرح قرآن کریم خود اپنے کلام ربانی اور کلام حق ہونے کی دلیل ہے کہ ایک امی محض کی زبان سے ایسا اعلی وابلغ کلام آیا جس کی مثال لانے سے ساری دنیا عاجز ہوگئی، یہ خود قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کی دلیل ہے۔ نیز جس طرح نور خود بھی روشن ہوتا ہے اور دوسری اندھیریوں میں بھی اجالا کردیتا ہے اسی طرح قرآن کریم نے اندھیریوں میں پھنسی ہوئی دنیا کو تاریکیوں سے نکالا۔ قرآن کے ساتھ سنت کا اتباع بھی فرض ہے اس آیت کے شروع میں یہ (آیت) يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ فرمایا تھا اور آخر میں واتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ فرمایا۔ ان میں سے پہلے جملہ میں نبی امی کے اتباع کا حکم ہے اور آخری جملہ میں قرآن کے اتباع کا۔ اس سے ثابت ہوا کہ نجات آخرت کتاب اور سنت دونوں کے اتباع پر موقوف ہے کیونکہ نبی امی کا اتباع ان کی سنت ہی کے اتباع کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔ رسول کا صرف اتباع بھی کافی نہیں، ادب و احترام اور محبت بھی فرض ہے اور ان دونوں جملوں کے درمیان عَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ آنحضرت ﷺ کے احکام کا ایسا اتباع مقصود نہیں جیسے عام دنیا کے حکام کا اتباع جبرا قہرا کرنا پڑتا ہے بلکہ وہ اتباع مقصود ہے جو عظمت و محبت کا نتیجہ ہو یعنی رسول اللہ ﷺ کی عظمت و محبت دل میں اتنی ہو کہ اس کی وجہ سے آپ کے احکام کے اتباع پر مجبور ہو، کیونکہ امت کو اپنے رسول سے مختلف قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک یہ کہ وہ امیر و حاکم ہے اور امت محکوم و رعیت، دوسرے یہ کہ رسول محبوب ہے اور پوری امت ان کی محب۔ ایک یہ کہ رسول اپنے کمالات علمی، عملی، اخلاقی کی بناء پر صاحب عظمت ہے، اور ساری امت ان کے مقابلہ میں پست اور عاجز۔ ہمارے رسول کریم ﷺ میں سب شانیں درجہ کمال میں پائی جاتی ہیں اس لئے امت پر لازم ہے کہ ہر شان کا حق ادا کریں، بحیثیت محبوب ہونے کے ان کے ساتھ گہری محبت رکھیں اور بحیثیت کمالات نبوت ان کی تعظیم و تکریم بجا لائیں۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اتباع تو امت پر فرض ہونا ہی چاہئے تھا کیونکہ انبیاء کے بھیجنے کا مقصد ہی اس کے بغیر پورا نہیں ہوتا، لیکن حق تعالیٰ نے ہمارے رسول مقبول ﷺ کے بارے میں صرف اسی پر اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ امت پر آپ کی تعظیم و توقیر اور احترام و ادب کو بھی لازم قرار دیا ہے اور قرآن کریم میں جابجا اس کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ اس آیت میں تو عَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ کے الفاظ سے اس کی طرف ہدایت کی گئی ہے اور ایک دوسری آیت میں بھی وَتُعَزِّرُوہٗ وَتُوَقِّرُوہٗ آیا ہے، اور کئی آیتوں میں اس کی ہدایت کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سامنے ایسی بلند آواز سے بات نہ کریں کہ آپ کی آواز سے بڑھ جائے (آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ۔ اور ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ، یعنی اے مسلمانو ! اللہ اور اس کے رسول سے پیش قدمی نہ کرو، یعنی جس مجلس میں حضور تشریف فرما ہوں اور کوئی معاملہ پیش آئے تو آپ سے پہلے کوئی نہ بولے۔ حضرت سہل بن عبداللہ نے اس آیت کے معنی یہ بتلائے ہیں کہ آپ سے پہلے نہ بولیں اور جب آپ کلام کریں تو سب خموش ہو کر سنیں۔ ایک آیت قرآن میں اس کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو پکارنے کے وقت ادب کا لحاظ رکھیں اس طرح نہ پکاریں جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں۔ (آیت) لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا، آخر آیت میں اس پر متنبہ کیا گیا ہے کہ اس کے خلاف کوئی کام بےادبی کا کیا گیا تو سارے اعمال حبط اور برباد ہوجائیں گے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باوجودیکہ ہر وقت، ہر حال میں آنحضرت ﷺ کے شریک کار رہتے تھے اور ایسی حالت میں احترام و تعظیم کے آداب ملحوظ رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن ان کا یہ حال تھا کہ آیت مذکورہ کے نازل ہونے کے بعد حضرت صدیق اکبر جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں کچھ عرض کرتے تو اس طرح بولتے تھے جیسے کوئی پوشیدہ بات کو آہستہ کہا کرتا ہے، یہی حال حضرت فاروق اعظم کا تھا، (شفاء) حضرت عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کوئی مجھے دنیا میں محبوب نہ تھا اور میرا یہ حال تھا کہ میں آپ کی طرف نظر بھر کر دیکھ بھی نہ سکتا تھا، اور اگر کوئی مجھ سے آپ کا حلیہ مبارک دریافت کرے تو میں بیان کرنے پر اس لئے قادر نہیں کہ میں نے کبھی آپ کو نظر بھر کر دیکھا ہی نہیں۔ ترمذی نے حضرت انس سے نقل کیا ہے کہ مجلس صحابہ میں جب آنحضرت ﷺ تشریف لاتے تھے تو سب نیچی نظریں کرکے بیٹھتے تھے، صرف صدیق اکبر اور فاروق اعظم آپ کی طرف نظر کرتے اور آپ ان کی طرف نظر فرما کر تبسم فرماتے تھے۔ عروہ بن مسعود کو اہل مکہ نے جاسوس بنا کر مسلمانوں کا حال معلوم کرنے کے لئے مدینہ بھیجا اس نے صحابہ کرام کو پروانہ وار آنحضرت ﷺ پر گرتا اور فدا ہوتا ہوا دیکھ کر واپسی میں یہ رپورٹ دی کہ میں نے کسری و قیصر کے دربار بھی دیکھے ہیں اور ملک نجاشی سے بھی ملا ہوں مگر جو حال میں نے اصحاب محمد کا دیکھا وہ کہیں نہیں دیکھا، میرا خیال یہ ہے کہ تم لوگ ان کے مقابلہ میں ہرگز کامیاب نہ ہوگے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ کی حدیث میں ہے کہ جب آپ گھر میں تشریف فرما ہوتے تھے تو صحابہ کرام باہر سے آواز دے کر آنحضرت ﷺ کو بلانا بےادبی سمجھتے تھے دروازہ پر دستک بھی صرف ناخن سے دیتے تھے تاکہ زیادہ کھڑکا اور شور نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد بھی صحابہ وتابعین کا معمول یہ تھا کہ مسجد نبوی میں کبھی بلند آواز سے بات کرنا تو درکنار کوئی وعظ تقریر بھی زیادہ بلند آواز سے پسند نہ کرتے تھے، اکثر حضرات کا عالم یہ تھا کہ جب کسی نے آنحضرت ﷺ کا نام مبارک لیا تو رونے لگے اور ہیبت زدہ ہوگئے۔ اسی تعظیم و توقیر کی برکت تھی کہ ان حضرات کو کمالات نبوت سے خاص حصہ ملا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء کے بعد سب سے اونچا مقام عطا فرمایا۔