7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف بھیجا ان کے بھائی ہود کو بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا سو کیا تم ڈرتے نہیں

خلاصہ تفسیر اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے (برادری یا وطن کے) بھائی (حضرت) ہود ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں (اور بت پرستی چھوڑ دو جیسا آگے وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَا سے معلوم ہوتا ہے) سو کیا تم (ایسے بڑے جرم عظیم یعنی شرک کے مرتکب ہو کر عذاب الٰہی سے) نہیں ڈرتے ان کی قوم میں جو آبرودار لوگ کافر تھے انہوں نے (جواب میں) کہا کہ ہم تم کو کم عقلی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں (کہ توحید کی تعلیم کر رہے ہو اور عذاب سے ڈرا رہے ہو) اور ہم بیشک تم کو جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں (یعنی نعوذ باللہ نہ تو توحید صحیح مسئلہ ہے اور نہ عذاب کا آنا صحیح ہے) انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم مجھ میں ذرا بھی کم عقل نہیں لیکن (چونکہ) میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں (انہوں نے مجھ کو تعلیم توحید اور انذار عذاب کا حکم کیا ہے اس لئے اپنا منصبی کام کرتا ہوں کہ) تم کو اپنے پروردگار کے پیغام (اور احکام) پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا خیر خواہ امانت دار ہوں (کیونکہ توحید و ایمان میں تمہارا ہی نفع ہے) اور (تم جو میرے بشر ہونے سے میری نبوت کا انکار کرتے ہو جیسا سورة ابراہیم میں بعد ذکر قوم نوح و عاد وثمود کے ہے (آیت) قالوا ان انتم الا بشر مثلنا اور سورة فصلت میں بعد ذکر عاد وثمود کے ہے (آیت) قالوا لوشاء ربنا لا نزل ملئکة الخ تو) کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت جو تمہاری ہی جنس کا (بشر) ہے کوئی نصیحت کی بات آگئی (وہ نصیحت کی بات وہی ہے جو مذکور ہوئی (آیت) يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ) تاکہ وہ شخص تم کو (عذاب الٰہی سے) ڈراوے (یعنی یہ تو کوئی تعجب کی بات نہیں کیا بشریت و نبوت میں منافاة ہے اوپر افلا تتقون میں ترہیب تھی آگے ترغیب ہے) اور (اے قوم) تم یہ حالت یاد کرو (اور یاد کرکے احسان مانو اور اطاعت کرو) کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح کے بعد (روئے زمین پر) آباد کیا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ (بھی) زیادہ دیا سو خدا تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو یاد کرو (اور یاد کرکے احسان مانو اور اطاعت کرو) تاکہ تم کو (ہر طرح کی) فلاح ہو وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا (خوب) آپ ہمارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کریں اور جن (بتوں) کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم ان (کی عبادت) کو چھوڑ دیں (یعنی ہم ایسا نہ کریں گے) اور ہم کو (نہ ماننے پر) جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو (جیسا افلا تتقون سے معلوم ہوتا ہے) اس (عذاب) کو ہمارے پاس منگوا دو اگر تم سچے ہو انہوں نے فرمایا کہ (تمہاری سرکشی کی جب یہ حالت ہے تو) بس اب تم پر خدا کی طرف سے عذاب اور غضب آیا ہی چاہتا ہے (پس عذاب کے شبہ کا جواب تو اس وقت معلوم ہوجائے گا اور باقی توحید پر جو شبہ ہے کہ ان بتوں کو معبود کہتے ہو جن کا نام تو تم نے معبود رکھ لیا ہے، لیکن واقع میں ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل ہی نہیں تو) کیا تم مجھ سے ایسے (بےحقیقت) ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو (یعنی وہ مسمیات بمنزلہ بعض اسماء کے ہیں) جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے (آپ ہی) ٹھہرا لیا ہے (لیکن) ان کے معبود ہونے کی خدا تعالیٰ نے کوئی دلیل (نقلی و عقلی) نہیں بھیجی (یعنی جدال میں مدعی کے ذمہ دلیل ہے اور مقابل کی دلیل کا جواب بھی، سو تم نہ دلیل قائم کرسکتے ہو نہ میری دلیل کا جواب دے سکتے ہو پھر جدال کا کیا معنی) سو تم (اب جدال ختم کرو اور عذاب الٰہی کے) منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں غرض (عذاب آیا اور) ہم نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو (یعنی مؤمنین کو) اپنی رحمت (وکرم) سے (اس عذاب سے) بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ (تک) کاٹ دی (یعنی بالکل ہلاک کردیا) جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وہ (بوجہ غایت قساوت کے) ایمان لانے والے نہ تھے (یعنی اگر ہلاک بھی نہ ہوتے جب بھی ایمان نہ لاتے اس لئے ہم نے بمقتضائے اس وقت کی حکمت کے خاتمہ ہی کردیا) معارف و مسائل عاد اور ثمود کی مختصر تاریخ عاد اصل میں ایک شخص کا نام ہے جو نوح ؑ کی پانچویں نسل اور ان کے بیٹے سام کی اولاد میں ہے۔ پھر اس شخص کی اولاد اور پوری قوم عاد کے نام سے مشہور ہوگئی۔ قرآن کریم میں عاد کی ساتھ کہیں لفظ عاد اولیٰ اور کہیں ارم ذات العماد بھی آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد کو ارم بھی کہا جاتا ہے۔ اور عاد اولیٰ کے مقابلہ میں کوئی عاد ثانیہ بھی ہے، اس کی تحقیق میں مفسرین اور مؤ رخین کے اقوال مختلف ہیں۔ زیادہ مشہور یہ ہے کہ عاد کے دادا کا نام اِرَم ہے اس کے ایک بیٹے یعنی عوص کی اولاد میں عاد ہے یہ عاد اولیٰ کہلاتا ہے اور دوسرے بیٹے جثو کا بیٹا ثمود ہے یہ عادثانی کہلاتا ہے۔ اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ عاد اور ثمود دونوں ارم کی دو شاخیں ہیں۔ ایک شاخ کو عاد اولیٰ اور دوسری کو ثمود یا عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے اور لفظ اِرَم عاد وثمود دونوں کے لئے مشترک ہے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ قوم عاد پر جس وقت عذاب آیا تو ان کا ایک وفد مکہ معظمہ گیا ہوا تھا وہ عذاب سے محفوظ رہا اس کو عاد اخری کہتے ہیں (بیان القرآن) اور ھود ؑ ایک نبی کا نام ہے یہ بھی نوح ؑ کی پانچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں قوم عاد اور حضرت ہود ؑ کا نسب نامہ چوتھی پشت میں سام پر جمع ہوجاتا ہے اس لئے ہود ؑ عاد کے نسبی بھائی ہیں اس لئے اخاہم ھوداً فرمایا گیا۔ قوم عاد کے تیرہ خاندان تھے۔ عمان سے لے کر حضرموت اور یمن تک ان کی بستاں تھیں۔ ان کی زمینیں بڑی سرسبز و شاداب تھیں۔ ہر قسم کے باغات تھے۔ رہنے کے لئے بڑے بڑے شاندار محلات بناتے تھے۔ بڑے قد آور قوی الجثہ آدمی تھے آیات مذکورہ میں وَّزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْۜطَةً کا یہی مطلب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ساری ہی نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دئیے تھے۔ مگر ان کی کج فہمی نے انھیں نعمتوں کو ان کے لئے وبال جان بنادیا۔ اپنی قوت و شوکت کے نشہ میں بدمست ہو کر (آیت) من اشد منا قوة کی ڈینگ مارنے لگے۔ اور رب العالمین جس کی نعمتوں کی بارش ان پر ہو رہی تھی اس کو چھوڑ کر بت پرستی میں مبتلا ہوگئے۔ حضرت ہود ؑ کا نسب نامہ اور بعض حالات اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ہود ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ جو خود انھیں کے خاندان سے تھے۔ اور ابولبرکات جونی جو انساب عرب کے بڑے ماہر مشہور ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ ہود ؑ کے بیٹے یعرب بن قحطان ہیں جو یمن میں جاکر آباد ہوئے اور یمنی اقوام انھیں کی نسل ہیں۔ اور عربی زبان کی ابتداء انھیں سے ہوئی اور یعرب کی مناسبت سے ہی زبان کا نام عربی اور اس کے بولنے والوں کو عرب کہا گیا۔ (بحر محیط) مگر صحیح یہ ہے کہ عربی زبان تو عہد نوح ؑ سے جاری تھی کشتی نوح ؑ کے ایک رفیق جرہم تھے جو عربی زبان بولتے تھے (بحر محیط) اور یہی جرہم ہیں جن سے مکہ معظمہ کی آبادی شروع ہوئی، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ یمن میں عربی زبان کی ابتدا یعرب بن قحطان سے ہوئی اور ابو البرکات کی تحقیق کا یہی مطلب ہو۔ حضرت ہود ؑ نے قوم عاد کو بت پرستی چھوڑ کر توحید اختیار کرنے اور ظلم و جور چھوڑ کر عدل و انصاف اختیار کرنے کی تلقین فرمائی، مگر یہ لوگ اپنی دولت و قوت کے نشہ میں سرشار تھے۔ بات نہ مانی جس کے نتیجہ میں ان پر پہلا عذاب تو یہ آیا کہ تین سال تک مسلسل بارش بند ہوگئی۔ ان کی زمینیں خشک ریگستانی صحرا بن گئی باغات جل گئے۔ مگر اس پر بھی یہ لوگ شرک و بت پرستی سے باز نہ آئے تو آٹھ دن اور سات راتوں تک ان پر شدید قسم کی آندھی کا عذاب مسلط ہوا جس نے ان کے رہے سہے باغات اور محلات کو زمین پر بچھا دیا ان کے آدمی اور جانور ہوا میں اڑتے اور پھر سر کے بل آکر گرتے تھے۔ اس طرح یہ قوم عاد پوری کی پوری ہلاک کردی گئی۔ آیات مذکورہ میں جو ارشاد ہے (آیت) وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا، یعنی ہم نے جھٹلانے والوں کی نسل قطع کردی اس کا مطلب بعض حضرات نے یہی قرار دیا ہے کہ اس وقت جو لوگ موجود تھے وہ سب فنا کردیئے گئے۔ اور بعض حضرات نے اس لفظ کے یہ معنی قرار دیئے ہیں کہ آئندہ کے لئے بھی قوم عاد کی نسل اللہ تعالیٰ نے منقطع کردی۔ حضرت ہود ؑ کی بات نہ ماننے اور کفر و شرک میں مبتلا رہنے پر جب ان کی قوم پر عذاب آیا تو ہود ؑ اور ان کے رفقاء نے ایک حَظِیرہ (گھیر) میں پناہ لی۔ یہ عجیب بات تھی کہ اس طوفانی ہوا سے بڑے بڑے محلات تو مہندم ہو رہے تھے مگر اس گھیر میں ہوا نہایت معتدل ہو کر داخل ہوتی تھی۔ ہود ؑ کے سب رفقاء عین نزول عذاب کے وقت بھی اسی جگہ مطمئن بیٹھے رہے ان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی۔ قوم کے ہلاک ہوجانے کے بعد مکہ معظمہ میں منتقل ہوگئے اور پھر یہیں وفات پائی (بحر محیط) قوم عاد کا عذاب ہوا کے طوفان کی صورت میں آنا قرآن مجید میں صراحةً مذکور اور منصوص ہے اور سورة مؤ منون میں قصہ نوح ؑ ذکر کرنے کے بعد جو ارشاد ہوا ہے (آیت) ثم انشانا من بعدھم قرنا آخرین، یعنی پھر ہم نے ان کے بعد ایک اور جماعت پیدا کی، ظاہر یہ ہے کہ اس جماعت سے مراد قوم عاد ہے۔ پھر اس جماعت کے اعمال و اقوال بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) فاخذتھم الصیحة بالحق، یعنی پکڑ لیا ان کو ایک سخت آواز نے۔ اس ارشاد قرآنی کی بنا پر بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ قوم عاد پر سخت قسم کی ہیبت ناک آواز کا عذاب مسلط ہوا تھا مگر ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہوسکتا ہے کہ سخت آواز بھی ہوئی ہو اور ہوا کا طوفان بھی۔ یہ مختصر واقعہ ہے قوم عاد اور حضرت ہود ؑ کا اس کی تفصیل قرآنی الفاظ کے ساتھ یہ ہے۔ پہلی (آیت) میں وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ، یعنی ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ؑ کو ہدایت کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم تم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں۔ قوم عاد سے پہلے قوم نوح ؑ کا عذاب عظیم ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے غائب نہ ہوا تھا اس لئے حضرت ہود ؑ کو عذاب کی شدت و عظمت بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی صرف اتنا فرمانا کافی سمجھا کہ کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں۔
Ayah 7:66

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم میں ہم تو دیکھتے ہیں تجھ کو عقل نہیں اور ہم تو تجھ کو جھوٹا گمان کرتے ہیں

دوسری (آیت) میں ہے قال الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖٓ اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ، یعنی قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم آپ کو بےوقوفی میں مبتلا پاتے ہیں اور ہمارا گمان یہ ہے کہ آپ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں۔ یہ تقریباً ایسا ہی معارضہ ہے جیسا حضرت نوح ؑ کی قوم نے ان سے کیا تھا صرف بعض الفاظ کا فرق ہے۔
Ayahs 7:67–68

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

بولا اے میری قوم میں کچھ بےعقل نہیں لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا،

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں اطمینان کے لائق

تیسری اور چوتھی آیت میں اس کا جواب بھی تقریباً اسی انداز کا ہے جیسا نوح ؑ نے دیا تھا۔ یعنی یہ کہ مجھ میں بےوقوفی کچھ نہیں بات صرف اتنی ہے کہ میں رب العالمین کی طرف سے رسول اور پیغمبر بن کر آیا ہوں اس کے پیغامات تمہیں پہنچاتا ہوں۔ اور میں واضح طور پر تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اس لئے تمہاری آبائی جہالتوں اور غلطیوں میں تمہارا ساتھ دینے کے بجائے میں تمہارے طبائع کے خلاف حق بات تمہیں پہنچاتا ہوں جس سے تم برا مانتے ہو۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو تعجب ہوا کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک مرد کی زبانی جو تم ہی میں سے ہے تاکہ تم کو ڈرائے، اور یاد کرو جب کہ تم کو سردار کردیا پیچھے قوم نوح کے اور زیادہ کردیا تمہارے بدن کا پھیلاؤ، سو یاد کرو اللہ کے احسان تاکہ تمہارا بھلا ہو،

پانچویں آیت میں قوم عاد کا وہی اعتراض ذکر کیا گیا ہے جو ان سے پہلے قوم نوح ؑ نے پیش کیا تھا کہ ہم کسی اپنے ہی جیسے بشر اور انسان کو کیسے اپنا بڑا اور پیشوا مان لیں کوئی فرشتہ ہوتا تو ممکن تھا کہ ہم مان لیتے۔ اس کا جواب بھی قرآن کریم نے وہی ذکر کیا جو نوح ؑ نے دیا تھا کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کوئی انسان اللہ کا نبی و رسول ہو کر لوگوں کو ڈرانے کے لئے آجائے۔ کیونکہ در حقیت انسان کے سمجھانے بجھانے کے لئے انسان ہی کا پیغمبر ہونا موثر ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد ان کو وہ انعامات یاد دلائے جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر مبذول فرمائے ہیں ارشاد فرمایا واذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ یعنی اس بات کو یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح کے بعد زمین کا مالک و متصرف بنادیا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ بھی زیادہ دیا۔ اس کی ان نعمتوں کو یاد کرو تو تمہارا بھلا ہوگا۔ مگر اس سرکش بدمست قوم نے ایک نہ سنی اور وہی جواب دیا جو عام طور پر گمراہ لوگ دیا کرتے ہیں کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم سے ہمارے باپ دادا کا مذہب چھڑا دو اور سارے دیوتاؤں کو چھوڑ کر ہم صرف ایک خدا کو ماننے لگیں۔ یہ تو ہم سے نہ ہوگا۔ آپ جس عذاب کی دھمکی ہمیں دے رہے ہیں اس عذاب کو بلا لو اگر تم سچے ہو۔
Ayahs 7:70–71

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

بولے کیا تو اس واسطے ہمارے پاس آیا کہ ہم بندگی کریں اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے، پس تولے آ ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے اگر تو سچا ہے ،

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

کہا تم پر واقع ہوچکا ہے تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ، کیوں جھگڑتے ہو مجھ سے ان ناموں پر کہ رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے، نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند، سو منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں ،

چھٹی آیت میں ہود ؑ نے جواب دیا کہ جب تمہاری سرکشی اور بےہوشی کی یہ حالت ہے تو اب تم پر خدا تعالیٰ کا غضب اور عذاب آیا ہی چاہتا ہے تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی اب اسی کا انتظار کرتے ہیں۔ قوم کے اس اشتعال آمیز جواب پر عذاب آنے کی خبر تو دے دی لیکن پیغمبرانہ شفقت و نصیحت نے پھر مجبور کیا کہ اس کلام کے دوران میں یہ بھی فرما دیا کہ افسوس ہے تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے بےعقل بےجان چیزوں کو اپنا معبود بنا لیا جن کے معبود ہونے پر نہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور پھر تم ان کی عبادت میں ایسے پختہ ہوگئے کہ ان کی حمایت میں مجھ سے جھگڑا کر رہے ہو۔
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے اور جڑ کاٹی ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے۔

آخری آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہود ؑ کی ساری جدوجہد اور عاد قوم کی سرکشی کا آخری انجام یہ ہوا کہ ہم نے ہود ؑ کو اور ان لوگوں کو جو ان پر ایمان لائے تھے عذاب سے محفوظ رکھا اور جھٹلانے والوں کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔ اس قصہ میں غافل انسانوں کے لئے خدا کی یاد اور اطاعت میں لگ جانے کی ہدایت اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے سامان عبرت اور مبلغین و مصلحین کے لئے پیغمبرانہ طریقہ تبلیغ و اصلاح کی تعلیم ہے۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف بھیجا ان کے بھائی صالح کو، بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا، تم کو پہنچ چکی ہے دلیل تمہارے رب کی طرف سے، یہ اونٹنی اللہ کی ہے تمہارے لئے نشانی سو اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں اور اس کو ہاتھ نہ لگاؤ بری طرح، پھر تم کو پکڑے گا عذاب درد ناک ،

خلاصہ تفسیر اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم تم (صرف) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں (انہوں نے ایک خاص معجزہ کی درخواست کی کہ اس پتھر میں سے ایک اونٹنی پیدا ہو تو ہم ایمان لائیں چناچہ آپ کی دعا سے ایسا ہی ہوا کہ وہ پتھر پھٹا اور اس کے اندر سے ایک بڑی اونٹنی نکلی۔ رواہ محمد اسحق۔ آپ نے فرمایا کہ) تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل (میرے رسول ہونے کی) آچکی ہے (آگے اس کا بیان ہے) یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل (بنا کر ظاہر کی گئی) ہے (اور اسی لئے اللہ کی اونٹنی کہلائی کہ اللہ کی دلیل ہے) سو (علاوہ اس کے کہ میری رسالت پر دلیل ہے خواہ اس کے بھی کچھ حقوق ہیں منجملہ ان کے یہ ہے کہ) اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں (گھاس چارہ) کھاتی پھرا کرے (اسی طرح اپنی باری کے دن پانی پیتی رہے جیسا دوسری آیت میں ہے) اور اس کو برائی (اور تکلیف دہی) کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کبھی تم کو دردناک عذاب آپکڑے اور (اے قوم) تم یہ حالت یاد کرو (اور یاد کرکے احسان مانو اور اطاعت کرو) کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو (قوم) عاد کے بعد (روئے زمین پر) آباد کیا اور تم کو زمین پر رہنے کو (دلخواہ) ٹھکانا دیا کہ نرم زمین پر (بھی بڑے بڑے) محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں (بھی) گھر بناتے ہو سو خدا تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو (اور دوسری نعمتوں کو بھی) یاد کرو (اور کفر و شرک کے ذریعہ) زمین میں فساد مت پھیلاؤ (یعنی ایمان لے آؤ مگر باوجود اس قدر فہمائش کے کچھ غرباء ایمان لائے اور ان میں اور رئیسوں میں یہ گفتگو ہوئی یعنی) ان کی قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے غریب لوگوں سے جو کہ ان میں سے ایمان لے آئے تھے پوچھا کہ کیا تم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح ؑ اپنے رب کی طرف سے (پیغمبر بنا کر) بھیجے ہوئے (آئے) ہیں انہوں نے (جواب میں) کہا کہ بیشک ہم تو اس (حکم) پر پورا یقین رکھتے ہیں جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے وہ متکبر لوگ کہنے لگے کہ تم جس چیز پر یقین لائے ہوئے ہو ہم تو اس کے منکر ہیں۔ معارف و مسائل ان آیات میں حضرت صالح ؑ اور ان کی قوم ثمود کے حالات کا تذکرہ ہے جیسے اس سے پہلے قوم نوح اور قوم ہود ؑ کا ذکر آچکا ہے اور سورة اعراف کے آخر تک بھی انبیاء سابقین اور ان کی قوموں کے احوال انبیاء کی دعوت حق پر ان کے کفر و انکار کے انجام بد کا بیان ہے۔ آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا، اس سے پہلے قوم عاد کے تذکرہ میں بیان ہوچکا ہے کہ عاد وثمود ایک ہی دادا کی اولاد میں دو شخصوں کا نام ہے ان کی اولاد بھی ان کے نام سے موسوم ہو کردو قومیں بن گئیں ایک قوم عاد دوسری قوم ثمود کہلاتی ہے۔ عرب کے شمال مغرب میں بستے تھے اور ان کے بڑے شہر کا نام حجر تھا جس کو اب عموماً مدائن صالح کہا جاتا ہے۔ قوم عاد کی طرح قوم ثمود بھی دولت مند، قوی اور بہادر قوم اور سنگ تراشی اور فن تعمیر میں ماہر تھی کھلی زمین پر پڑے پڑے محلات بنانے کے علاوہ پہاڑوں کو کھود کر ان میں طرح طرح کی عمارتیں بناتے تھے۔ ارض القرآن میں مولانا سید سلیمان صاحب رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ان کی تعمیری یادگاریں اب تک باقی ہیں ان پر اِرَمِی اور ثمودی خط میں کتبے منقوش ہیں۔ دنیا کی دولت و ثروت کا نتیجہ عموماً یہی ہوتا ہے کہ ایسے لوگ خدا و آخرت سے غافل ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتے ہیں، قوم ثمود کا بھی یہی حال ہوا۔ حالانکہ ان سے پہلے قوم نوح ؑ کے عذاب کے واقعات کا تذکرہ ابھی تک دنیا میں موجود تھا اور پھر ان کے بھائی قوم عاد کی ہلاکت کے واقعات تو تازہ ہی تھے۔ مگر دولت و قوت کے نشہ کا خاصہ ہی یہ ہے کہ ابھی ایک شخص کی بنیاد منہدم ہوتی ہے دوسرا اس کی خاک کے ڈھیر پر اپنی تعمیر کھڑی کرلیتا ہے اور پہلے کے واقعات کو بھول جاتا ہے۔ قوم عاد کی تباہی اور ہلاکت کے بعد قوم ثمود ان کے مکانات اور زمینوں کی وارث بنی اور انھیں مقامات پر اپنے عشرت کدے تیار کئے جن میں ان کے بھائی ہلاک ہوچکے تھے اور ٹھیک وہ ہی اعمال و افعال شروع کردیئے جو قوم عاد نے کئے تھے کہ خدا و آخرت سے غافل ہو کر شرک و بت پرستی میں لگ گئے اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت مستمرہ کے مطابق ان کی ہدایت کے لئے حضرت صالح ؑ کو رسول بنا کر بھیجا۔ صالح ؑ نسب و وطن کے اعتبار سے قوم ثمود ہی کے ایک فرد تھے۔ کیونکہ یہ بھی سام کی اولاد میں سے تھے اسی لئے قرآن کریم میں ان کو قوم ثمود کا بھائی فرمایا ہے اخاھم صلحا، صالح ؑ نے اپنی قوم کو جو دعوت دی وہ وہی دعوت ہے جو آدم ؑ سے لے کر اس وقت تک سب انبیاء (علیہم السلام) دیتے چلے آئے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (آیت) ولقد بعثنا فی کل امة تا الطاغوت، یعنی ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ وہ لوگوں کو یہ ہدایت کرے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور بت پرستی سے بچو۔ عام انبیاء سابقین کی طرح صالح ؑ نے بھی قوم سے یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب اور خالق ومالک سمجھو اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں۔ فرمایا (آیت) يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا قَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ یعنی اب تو ایک کھلا ہوا نشان بھی تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آپہنچا ہے۔ اس نشان سے مراد ایک عجیب و غریب ناقہ ہے جس کا اجمالی ذکر اس آیت میں بھی ہے اور قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں اس کی مزید تفصیلات مذکور ہیں۔ واقعہ اس ناقہ کا یہ تھا کہ حضرت صالح ؑ نے اپنی جوانی کے زمانہ سے اپنی قوم کو دعوت توحید شروع کی اور برابر اس میں لگے رہے یہاں تک کہ بڑھاپہ کے آثار شروع ہوگئے۔ صالح ؑ کے بار بار اصرار سے تنگ ہو کر ان کی قوم نے یہ قرار دیا کہ ان سے کوئی ایسا مطالبہ کرو جس کو یہ پورا نہ کرسکیں اور ہم ان کی مخالفت میں سرخرو ہوجائیں۔ مطالبہ یہ کیا کہ اگر آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ہماری فلاں پہاڑی جس کا نام کاتبہ تھا اس کے اندر سے ایک ایسی اونٹنی نکال دیجئے جو دس مہینہ کی گابھن ہو اور قوی و تندرست ہو۔ صالح ؑ نے اول ان سے عہد لیا کہ اگر میں تمہارا یہ مطالبہ پورا کرا دوں تو تم سب مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لے آؤ گے۔ جب سب نے معاہدہ کرلیا تو صالح ؑ نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ کے لئے تو کوئی کام دشوار نہیں ان کا مطالبہ پورا فرما دیں۔ دعا کرتے ہی پہاڑی کے اندر جنبش پیدا ہوئی اور اس کی ایک بڑی چٹان پھٹ کر اس میں سے ایک اونٹنی اسی طرح کی نکل آئی جیسا مطالبہ کیا تھا۔ صالح ؑ کا یہ کھلا ہوا حیرت انگیز معجزہ دیکھ کر ان میں سے کچھ لوگ تو مسلمان ہوگئے۔ اور باقی تمام قوم نے بھی ارادہ کرلیا کہ ایمان لے آئیں۔ مگر قوم کے چند سردار جو بتوں کے خاص پجاری اور بت پرستی کے امام تھے انھوں نے ان کو بہکا کر اسلام قبول کرنے سے روک دیا۔ حضرت صالح ؑ نے جب دیکھا کہ قوم نے عہد شکنی کی اور خطرہ ہوا کہ ان پر کوئی عذاب آجائے تو پیغمبرانہ شفقت کی بنا پر ان کو یہ نصیحت فرمائی کہ اس اونٹنی کی حفاظت کرو، اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ تو شاید تم عذاب سے محفوظ رہو ورنہ فوراً تم پر عذاب آجائے گا یہی مضمون آیت مذکورہ کے ان جملوں میں ارشاد ہوا ہے (آیت) ۭهٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ، یعنی یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرا کرے۔ اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا ورنہ تم کو عذاب الیم آپکڑے گا اس ناقہ کو ناقۃ اللہ اس لئے کہا گیا کہ اللہ کی قدرت کاملہ کی دلیل اور صالح ؑ کے معجزہ کے طور پر حیرت انگیز طریق سے پیدا ہوئی۔ جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کو روح اللہ فرمایا گیا کہ ان کی پیدائش بھی معجزانہ انداز سے ہوئی تھی۔ تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس ناقہ کے کھانے پینے میں تمہاری ملک اور تمہارے گھر سے کچھ نہیں جاتا زمین اللہ کی ہے اس کی پیداوار کا پیدا کرنے والا وہی ہے اس کی اونٹنی کو اس کی زمین میں آزاد چھوڑ دو کہ عام چراگاہوں میں کھاتی رہے۔ قوم ثمود جس کنوئیں سے پانی پیتے پلاتے تھے اسی سے یہ اونٹنی بھی پانی پیتی تھی مگر یہ عجیب الخلقة اونٹنی جب پانی پیتی تو پورے کنوئیں کا پانی ختم کردیتی تھی۔ حضرت صالح ؑ نے باذن ربانی یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ ایک دن یہ اونٹنی پانی پیے گی اور دوسرے دن قوم کے سب لوگ پانی لیں گے اور جس روز یہ اونٹنی پانی پیے گی تو دوسروں کو پانی کے بجائے اونٹنی کا دودھ اتنی مقدار میں مل جاتا تھا کہ وہ اپنے سارے برتن اس سے بھر لیتے تھے۔ قرآن میں دوسری جگہ اس تقسیم کا ذکر اس طرح آیا ہے (آیت) ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم کل شرب محتضر، یعنی صالح ؑ آپ اپنی قوم کو بتلا دیں کہ کنوئیں کا پانی ان کے اور ناقہ اللہ کے درمیان تقسیم ہوگا ایک دن اونٹنی کا اور دوسرے دن پوری قوم کا اور اس تقسیم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کی نگرانی مسلط ہوگی کہ کوئی اس کے خلاف نہ کرسکے۔ اور ایک دوسری آیت میں ہے (آیت) ھذہ ناقة لہاشرب ولکم شرب یوم معلوم، یعنی یہ اللہ کی اونٹنی ہے ایک دن پانی کا حق اس کا اور دوسرے دن کا پانی تمہارے لئے معین و مقرر ہے۔
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ تم کو سردار کردیا عاد کے پیچھے اور ٹھکانا دیا تم کو زمین میں کہ بناتے ہو نرم زمین میں محل اور تراشتے ہو پہاڑوں کے گھر، سو یاد کرو احسان اللہ کے اور مت مچاتے پھرو زمین میں فساد،

دوسری آیت میں اس وعدہ فراموش قوم کی خیر خواہی اور ان کو عذاب الٰہی سے بچانے کے لئے پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات یاد دلائے کہ اب بھی یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز آجائیں فرمایا (آیت) وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَكُمْ فِي الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُيُوْتًا ۚ اس میں خلفاء خلیفہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں قائمقام اور نائب اور قصود قصر کی جمع اونچی علیشان عمارت اور محل کو کہا جاتا ہے تنحتون، نحت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں سنگ تراشی۔ جبال جبل کی جمع ہے بمعنی پہاڑ بیوتا بیت کی جمع ہے جو گھر کے کمرے کے لئے بولا جاتا ہے۔ معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے قوم عاد کو ہلاک کرکے ان کی جگہ تم کو بسایا۔ ان کی زمین اور مکانات تمہارے قبضہ میں دے دیئے اور تم کو یہ صنعت سکھلا دی کہ کھلی زمین میں بڑے بڑے محلات بنا لیتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر ان میں کمرے اور مکانات بنا لیتے ہو۔ آخر آیت میں فرمایا فاذْكُرُوْٓا اٰلَاۗءَ اللّٰهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ ، یعنی اللہ کی نعمتیں یاد کرو اور ان کا احسان مانو، اس کی اطاعت اختیار کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔ احکام و مسائل آیات مذکورہ سے چند اصولی اور فروعی مسائل معلوم ہوئے۔ اول یہ کہ اصول عقائد میں تمام انبیاء (علیہم السلام) متفق ہیں اور ان کی شریعتیں متحد ہیں سب کی دعوت توحید کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا اور اس کی خلاف ورزی پر عذاب دنیا و آخرت سے ڈرانا ہے۔ دوسرے یہ کہ تمام پچھلی امتوں میں ہوتا بھی رہا ہے کہ قوموں کے بڑے دولت مند آبرو دار لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول نہیں کیا اور اس کے نتیجہ میں دنیا میں بھی ہلاک و برباد ہوئے اور آخرت میں بھی مستحق عذاب ہوئے۔ تیسرے تفسیر قرطبی میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں دنیا میں کافروں پر بھی مبذول ہوتی ہیں۔ جیسا کہ قوم عاد وثمود پر اللہ تعالیٰ نے دولت و قوت کے دروازے کھول دئیے تھے۔ چوتھے تفسیر قرطبی ہی میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ بڑے بڑے محلات اور عالیشان مکانات کی تعمیر بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں اور ان کا بنانا جائز ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ انبیاء و اولیاء اللہ نے اس کو اس لئے پسند نہیں فرمایا کہ یہ چیزیں انسان کو غفلت میں ڈال دینے والی ہیں۔ رسول کریم ﷺ سے جو اونچی تعمیرات کے بارے میں ارشادات منقول ہیں وہ اسی انداز کے ہیں۔
Ayahs 7:75–76

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

کہنے لگے سردار جو متکبر تھے اس کی قوم میں غریب لوگوں کو کہ جو ان میں ایمان لا چکے تھے کیا تم کو یقین ہے کہ صالح کو بھیجا ہے اس کے رب نے، بولے ہم کو تو جو وہ لے کر آیا اس پر یقین ہے ،

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

کہنے لگے وہ لوگ جو متکبر تھے جس پر تم کو یقین ہے ہم اس کو نہیں مانتے۔

تیسری اور چوتھی آیت میں وہ مکالمہ اور مباحثہ ذکر کیا گیا ہے جو قوم ثمود کے دو گروہوں کے درمیان ہوا۔ ایک وہ گروہ جو صالح ؑ پر ایمان لے آیا تھا، دوسرا منکرین و کفار کا گروہ۔ ارشاد فرمایا (آیت) قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ ، یعنی کہا قوم صالح ؑ میں سے ان لوگوں نے جنہوں نے تکبر کیا ان لوگوں سے جن کو حقیر و ضعیف سمجھا جاتا تھا یعنی جو ایمان لائے تھے۔ امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا کہ اس جگہ ان دونوں گروہوں کے دو وصف قرآن کریم نے بتلائے مگر کفار کا وصف بصیغہ معروف بتلایا استکبروا اور مومنین کا وصف بصیغہ مجہول بتلایا استضعفوا اس میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ کفار کا یہ حال کہ وہ تکبر کرتے تھے خود ان کا اپنا فعل تھا جو قابل مواخذہ و ملامت اور انجام کار موجب عذاب ہوا۔ اور مومنین کا جو وصف یہ لوگ بیان کرتے تھے کہ وہ ذلیل و حقیر اور ضعیف ہیں۔ یہ کفار کا کہنا ہے خود مومنین کا واقعی حال اور وصف نہیں جس پر کوئی ملامت ہوسکے بلکہ ملامت ان لوگوں پر ہے جو بلاوجہ ان کو حقیر و ضعیف کہتے اور سمجھتے ہیں۔ آگے وہ مکالمہ جو دونوں گروہوں میں ہوا یہ ہے کہ کفار نے مومنین سے کہا کہ کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح ؑ اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ تفسیر کشاف میں ہے کہ قوم ثمود کے مومنین نے کیسا بلیغ جواب دیا ہے کہ تم جس بحث میں پڑے ہوئے ہو کہ یہ رسول ہیں یا نہیں یہ بات قابل بحث ہی نہیں بلکہ بدیہی اور یقینی ہے اور یہ بھی یقینی ہے کہ وہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لایا ہوا پیغام ہے۔ بات کچھ ہو سکتی ہے تو یہ کہ کون ان پر ایمان لاتا ہے کون نہیں، سو تم تو بحمد اللہ ان کی لائی ہوئی سب ہدایات پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر ان کے بلیغ جواب پر بھی قوم نے وہی سرکشی کی بات کی جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔ دنیا کی محبت اور دولت و قوت کے نشہ سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے کہ وہ انسان کی آنکھوں کا پردہ بن جاتے ہیں اور وہ بدیہی چیزوں کا انکار کرنے لگتا ہے۔
Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

پھر انہوں نے کاٹ ڈالا اونٹنی کو اور پھرگئے اپنے رب کے حکم سے اور بولے اے صالح لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا تھا اگر تو رسول ہے

خلاصہ تفسیر۔ غرض (نہ صالح ؑ پر ایمان لائے اور نہ اونٹنی کے حقوق ادا کئے بلکہ) اس اونٹنی کو (بھی) مار ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم (ماننے) سے (بھی) سرکشی کی (وہ حکم اعتقاد توحید و رسالت تھا) اور (اس پر یہ بیباکی کہ) کہنے لگے کہ اے صالح جس (عذاب) کی آپ ہم کی دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں (کیونکہ پیغمبر کا صادق ہونا لازم ہے) پس پکڑا ان کو زلزلہ نے سو اپنے گھر میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے اس وقت صالح ؑ ان سے منہ موڑ کر چلے اور (بطورحسرت کے فرضی خطاب کر کے) فرمانے لگے کہ اے میری قوم میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچا دیا تھا (جس پر عمل کرنا موجب فلاح تھا) اور میں نے تمہاری (بہت) خیر خواہی کی (کہ کس طرح شفقت سے سمجھایا) لیکن (افسوس تو یہ ہے کہ) تم لوگ (اپنے) خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے (اس لئے ایک نہ سنی اور آخر روز بد دیکھا)۔ معارف و مسائل پچھلی آیات میں آچکا ہے کہ حضرت صالح ؑ کی دعا سے پہاڑ کی ایک بڑی چٹان شق ہو کر اس سے ایک عجیب و غریب اونٹنی پیدا ہوگئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کو بھی اس قوم کے لئے آخری امتحان اس طرح بنادیا تھا کہ جس کنویں سے ساری بستی کے لوگ اور ان کے مویشی پانی حاصل کرتے تھے یہ اس کا سارا پانی پی جاتی تھی اس لئے صالح ؑ نے ان کے لئے باری مقرر کردی تھی کہ ایک دن یہ اونٹنی پانی پیئے دوسرے دن بستی والے۔ قوم ثمود اس اونٹنی کی وجہ سے ایک تکلیف میں مبتلا تھے۔ اور چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ ہلاک ہوجائے مگر خود ایسی حرکت کرنے سے ڈرتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب آجائے گا۔ شیطان کا سب سے بڑا وہ فریب جس میں مبتلا ہو کر انسان اپنی ہوش و عقل کھو بیٹھتا ہے وہ عورت کا فتنہ ہے۔ قوم کی دو حسین و جمیل عورتوں نے یہ بازی لگا دی کہ جو شخص اس ناقہ کو قتل کر دے گا ہم اور ہماری لڑکیوں میں سے جس کو چاہے وہ اس کی ہے۔ قوم کے دو نوجوان۔ مِصدع اور قذار اس نشہ میں مدہوش ہو کر اس ناقہ کو قتل کرنے کے لئے نکلے اور ناقہ کے راستہ میں ایک پتھر کی چٹان کے نیچے چھپ کر بیٹھ گئے۔ جب ناقہ سامنے آئی تو مصدع نے تیر کا وار کیا اور قذار نے تلوار سے اس کی ٹانگیں کاٹ کر قتل کردیا۔ قرآن کریم نے اسی کو قوم ثمود کا سب سے بڑا شقی اور بدبخت قرار دیا ہے۔ (آیت) اذ انبعث اشقھا۔ کیونکہ اس کے سبب پوری قوم عذاب میں گرفتار ہوگئی۔ حضرت صالح ؑ نے ناقہ کے قتل کا واقعہ معلوم ہونے کے بعد قوم کو بحکم خداوندی بتلا دیا کہ اب تمہاری زندگی کے صرف تین دن باقی ہیں۔ (آیت) تمتعوا فی دارکم ثلاثۃ ایام ذالک وعد غیر مکذوب، یعنی تین دن اور اپنے گھروں میں آرام کرلو (اس کے بعد عذاب آنے والا ہے) اور یہ وعدہ سچا ہے اس میں خلاف کا امکان نہیں۔ مگر جس قوم کا وقت خراب آجاتا ہے اس کے لئے کوئی نصیحت و تنبیہ کارگر نہیں ہوتی۔ حضرت صالح ؑ کے اس ارشاد پر بھی ان بدبخت لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کیا اور کہنے لگے کہ یہ عذاب کیسے اور کہاں سے آئے گا اور اس کی علامت کیا ہوگی۔ حضرت صالح ؑ نے فرمایا کہ لو عذاب کی علامات بھی سن لو، کل جمعرات کے روز تم سب کے چہرے شدید سیاہ ہوجائیں گے۔ اور یہ دن تمہاری زندگی کا آخری دن ہوگا۔ بدنصیب قوم نے یہ سن کر بھی بجائے اس کے کہ توبہ و استغفار کی طرف متوجہ ہوجاتے یہ فیصلہ کیا کہ صالح ؑ ہی کو قتل کردیا جائے۔ کیونکہ اگر یہ سچے ہیں اور ہم پر عذاب آنا ہی ہے تو ہم اپنے سے پہلے ان کا کام تمام کیوں نہ کریں اور اگر جھوٹے ہیں تو اپنے جھوٹ کا خمیازہ بھگتیں۔ قوم کے اس ارادہ کا تذکرہ قرآن میں دوسری جگہ تفصیل سے موجود ہے۔ قوم کے اس متفقہ فیصلہ کے ماتحت کچھ لوگ رات کو حضرت صالح ؑ کے مکان پر قتل کے ارادہ سے گئے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے راستہ ہی میں ان پر پتھر برساکر ہلاک کردیا۔ (آیت) ومکروا مکرا ومکرنا مکرا وھم لا یشعرون، یعنی انھوں نے بھی ایک خفیہ تدبیر کی اور ہم نے بھی ایسی تدبیر کی کہ ان کو اس کی خبر نہ ہوئی۔ اور جب جمعرات کی صبح ہوئی تو صالح ؑ کے کہنے کے مطابق سب کے چہرے ایسے زرد ہوگئے جیسے گہرا زرد رنگ پھیر دیا گیا ہو۔ عذاب کی پہلی علامت کے سچا ہونے کے بعد بھی ظالموں کو اس طرف کوئی توجہ نہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے۔ اور اپنی غلط کاریوں سے باز آجاتے۔ بلکہ ان کا غیظ و غضب حضرت صالح ؑ پر اور بڑھ گیا اور پوری قوم ان کے قتل کی فکر میں پھرنے لگی۔ اللہ تعالیٰ اپنے قہر سے بچائے اس کی بھی علامات ہوتی ہیں کہ قلوب و دماغ اوندھے ہوجاتے ہیں نفع کو نقصان اور نقصان کو نفع۔ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتے ہیں۔ بالآخر دوسرا دن آیا تو پیش گوئی کے مطابق سب کے چہرے سرخ ہوگئے اور تیسرے دن سخت سیاہ ہوگئے۔ اب تو یہ سب کے سب اپنی زندگی سے مایوس ہو کر انتظار کرنے لگے کہ عذاب کس طرف سے کس طرح آتا ہے۔ اسی حال میں زمین سے ایک شدید زلزلہ آیا اور اوپر سے سخت ہیبت ناک چیخ اور شدید آواز ہوئی جس سے سب کے سب بیک وقت بیٹھے بیٹھے اوندھے گر کر مر گئے۔ زلزلہ کا ذکر تو ان آیات میں موجود ہے جو اوپر مذکور ہوئی ہیں فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ۔ رجفہ کے معنی ہیں زلزلہ۔
Ayahs 7:78–79

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پس آپکڑا ان کو زلزلہ نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اوندھے پڑے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح الٹا پھرا ان سے اور بولا اے میری قوم میں پہنچا چکا تم کو پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تمہاری لیکن تم کو محبت نہیں خیر خواہوں سے۔

اور دوسری آیات میں فَاَخَذَتْهُمُ الصَیحَہ بھی آیا ہے صیحہ کے معنی ہیں چیخ اور شدید آواز۔ دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ دونوں طرح کے عذاب ان پر جمع ہوگئے تھے۔ زمین سے زلزلہ اور اوپر سے صیحہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ مصدر جثوم سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بےحس و حرکت ہو کر ایک جگہ پڑجانا یا بیٹھ رہنا (قاموس)۔ معنی یہ ہیں کہ جو جس حال میں تھا وہیں ڈھیر ہوگیا۔ نعوذ باللّٰہ۔ قوم ثمود کے اس قصہ کے اہم اجزاء تو خود قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں مذکور ہیں اور کچھ اجزاء روایات حدیث میں مذکور ہیں۔ کچھ وہ بھی ہیں جو مفسرین نے اسرائیلی روایات سے لئے ہیں مگر ان پر کسی واقعہ اور حقیقت کے ثبوت کا مدار نہیں۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر میں رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا گزر اس مقام حجر پر ہوا جہاں قوم ثمود پر عذاب آیا تھا۔ تو آپ نے صحابہ کرام کو ہدایت فرمائی کہ اس عذاب زدہ بستی کی زمین میں کوئی اندر نہ جائے اور نہ اس کے کنوئیں کا پانی استعمال کرے (مظہری) اور بعض روایات میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قوم ثمود پر جب عذاب آیا تو ان میں بجز ایک شخص ابورغال کے کوئی نہیں بچا۔ یہ شخص اس وقت حرم مکہ میں پہنچا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حرم مکہ کے احترام کے سبب اس وقت اس کو عذاب سے بچا لیا اور بالآخر جب یہ حرم سے نکلا تو وہی عذاب جو اس کی قوم پر آیا تھا اس پر بھی آگیا اور یہیں ہلاک ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو مکہ سے باہر ابورغال کی قبر کا نشان بھی دکھلایا اور یہ بھی فرمایا کہ اس کے ساتھ ایک سونے کی چھڑی بھی دفن ہوگئی تھی۔ صحابہ کرام نے قبر کھولی تو سونے کی چھڑی مل گئی وہ نکال لی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ طائف کے باشندے بنو ثقیف اسی ابورغال کی اولاد ہیں۔ (مظہری) ان معذب قوموں کی بستیوں کو اللہ تعالیٰ نے آنے والی نسلوں کے لئے عبرت کدے بنا کر قائم رکھا ہے اور قرآن کریم نے عرب کے لوگوں کو بار بار اس پر متنبہ کیا ہے کہ تمہارے سفر شام کے راستہ پر یہ مقامات آج بھی داستان عبرت بنے ہوئے ہیں۔ (آیت) لم تسکن من بعدھم الا قلیلا، قوم صالح ؑ کے واقعہ عذاب کے آخر میں ارشاد ہے (آیت) فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّيْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِيْنَ یعنی قوم پر عذاب نازل ہونے کے بعد حضرت صالح ؑ اور ان پر ایمان لانے والے مؤمنین بھی اس جگہ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے گئے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت صالح ؑ کے ساتھ چار ہزار مؤمنین تھے ان سب کو لے کر یمن کے علاقہ حضرموت میں چلے گئے اور وہیں حضرت صالح ؑ کی وفات ہوئی اور بعض روایات سے ان کا مکہ معظمہ چلے جاتا اور وہیں وفات ہونا معلوم ہوتا ہے۔ ظاہر عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صلح ؑ نے چلتے وقت اپنی قوم کو خطاب کرکے فرمایا کہ اے میری قوم میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر افسوس تم خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔ یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ جب ساری قوم عذاب سے ہلاک ہوچکی تو اب ان کو خطاب کرنے سے کیا فائدہ۔ جواب یہ ہے کہ ایک فائدہ تو یہی ہے کہ اس سے لوگوں کو عبرت ہو اور یہ خطاب ایسا ہی ہے جیسے رسول کریم ﷺ نے غزوہ بدر میں مرے ہوئے قریشی مشرکین کو خطاب کرکے کچھ کلمات ارشاد فرمائے تھے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت صالح ؑ کا یہ فرمانا نزول عذاب اور ہلاکت قوم سے پہلے ہوا ہو اگرچہ بیان میں اس کو مؤ خر ذکر کیا ہے۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور بھیجا لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم کو کیا تم کرتے ہو ایسی بےحیائی کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط ؑ کو (چند بستیوں کی طرف پیغمبر بنا کر) بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم (یعنی اپنی امت) سے فرمایا کیا تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا (یعنی) تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اور اس کام کے ارتکاب میں یہ نہیں کہ تم کو کوئی دھوکہ ہوگیا ہو) بلکہ (اس باب میں) تم حد (انسانیت) ہی سے گزر گئے ہو اور (ان مضامین کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ (آخر میں بیہودگی کی راہ سے) آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو (یعنی لوط ؑ کو اور ان کے ساتھی مومنین کو) تم اپنی (اس) بستی سے نکال دو (کیونکہ) یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں (اور ہم کو گندہ بتاتے ہیں پھر گندوں میں پاکوں کا کیا کام، یہ بات انہوں نے براہ تمسخر کہی تھی) سو (جب یہاں تک نوبت پہنچی تو) ہم نے (اس قوم پر عذاب نازل کیا اور) لوط ؑ کو اور ان کے متعلقین کو (یعنی ان کے گھر والوں کو اور دوسرے ایمان والوں کو بھی اس عذاب سے) بچا لیا (اس طرح کہ وہاں سے نکل جانے کا پہلے ہی حکم ہوگیا) بجز ان کی بیوی کے کہ وہ (بوجہ ایمان نہ لانے کے) ان ہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے اور (وہ عذاب جو ان پر نازل ہوا یہ تھا کہ) ہم نے ان پر ایک نئی طرح کا مینہ برسایا (کہ وہ پتھروں کی بارش تھی) سو (اے دیکھنے والے) دیکھ تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا ہوا (اگر تو غور سے دیکھے گا تو تعجب کرے گا اور سمجھے گا کہ نافرمانی کا کیا انجام ہوتا ہے)۔ معارف و مسائل انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے قصص کا جو سلسلہ اوپر سے چل رہا ہے اس کا چوتھا قصہ حضرت لوط ؑ کا ہے۔ لوط ؑ حضرت خلیل اللہ ابراہیم ؑ کے بھتیجے ہیں۔ دونوں کا اصل وطن مغربی عراق میں بصرہ کے قریب ارض بابل کے نام سے معروف تھا اس میں بت پرستی کا عام رواج تھا۔ خلیل اللہ ؑ کا گھرانہ خود بت پرستی میں مبتلا تھا۔ حق تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ابراہیم ؑ کو رسول بنا کر بھیجا۔ قوم نے مخالفت کی جس کی نوبت آتش نمرود تک پہنچی۔ خود والد نے گھر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں۔ اپنے گھرانہ میں سے صرف زوجہ محترمہ حضرت سارہ اور بھتیجے حضرت لوط ؑ مسلمان ہوئے۔ (آیت) فامن لہ لوط، بالآخر انھیں دونوں کو ساتھ لے کر وطن سے ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی۔ نہر اردن پر پہنچنے کے بعد بحکم خداوندی حضرت ابراہیم ؑ علاقہ کنعان میں جاکر مقیم ہوئے جو بیت المقدس کے قریب ہے۔ اور لوط ؑ کو بھی حق تعالیٰ نے نبوت عطا فرما کر اردن اور بیت المقدس کے درمیان مقام سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔ یہ علاقہ پانچ اچھے بڑے شہروں پر مشتمل تھا۔ جن کے نام سدوم، عمورہ، ادمہ، صبوبیم اور بالع یا صوغر تھے ان کے مجموعہ کو قرآن کریم نے موتفکہ اور موتفکات کے الفاظ میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ سدوم ان شہروں کا دار الحکومة اور مرکز سمجھا جاتا تھا۔ حضرت لوط ؑ نے یہیں قیام فرمایا۔ زمین سرسبز و شاداب تھی ہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی۔ (یہ تاریخی تفصیلات بحر محیط، مظہری، ابن کثیر، المنار وغیرہ میں مذکور ہیں)۔ انسان کی عام عادت قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے (آیت) کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی، یعنی انسا سرکشی کرنے لگتا ہے جب یہ دیکھتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں رہا۔ ان لوگوں پر بھی حق تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے تھے۔ عام انسانی عادت کے تحت دولت و ثروت کے نشہ میں مبتلا ہو کر عیش و عشرت اور ہوا و ہوس کے اس کنارے پر پہنچ گئے کہ انسانی غیرت و حیاء اور اچھے برے کی فطری تمیز بھی کھو بیٹھے۔ ایسے خلاف فطرت فواحش میں مبتلا ہوگئے جو حرام اور گناہ ہونے کے علاوہ فطرت سلیمہ کے لئے نفرت اور ایسے گھن کے کام ہیں کہ عام جانور بھی اس کے پاس نہیں جاتے۔ حضرت لوط ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے مامور فرمایا۔ انہوں نے اپنی قوم کو خطاب کرکے فرمایا۔ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ یعنی بطور تنبیہ کے فرمایا، کیا تم ایسا فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کیا۔ زنا کے بارے میں تو قرآن کریم نے انہ کان فاحشة بغیر الف لام کے ذکر کیا ہے اور یہاں الف لام کے ساتھ الفاحشہ فرما کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ خلاف فطرت بدکاری گو یا تمام فواحش کا مجموعہ اور زنا سے زیادہ شدید جرم ہے۔ پھر یہ فرمایا کہ یہ بدکاری تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کی۔ عمرو بن دینار نے فرمایا کہ اس قوم سے پہلے دنیا میں کبھی ایسی حرکت نہ دیکھی گئی تھی (مظہری) اور نہ اہل سدوم سے پہلے کسی برے سے برے انسان کا ذہن اس طرف گیا تھا۔ اموی خلیفہ عبدالمالک نے کہا کہ اگر قرآن میں قوم لوط ؑ کا واقعہ مذکور نہ ہوتا تو میں بھی گمان نہیں کرسکتا تھا کہ کوئی انسان ایسا کام کرسکتا ہے (ابن کثیر) اس میں ان کی بےحیائی پر دو حیثیت سے تنبیہ کی گئی اول تو یہ کہ بہت سے گناہوں میں انسان اپنے ماحول یا اپنے اسلاف کی تقلید کی وجہ سے مبتلا ہوجاتا ہے گو وہ بھی کوئی شرعی عذر نہیں۔ مگر عرفاً اس کو کسی نہ کسی درجہ میں معذور کہا جاسکتا ہے، مگر ایسا گناہ جو پہلے کسی نے نہیں کیا نہ اس کے لئے خاص مقتضیات ہیں یہ اور بھی زیادہ وبال ہے۔ دوسرے اس حیثیت سے کہ کسی برے کام یا بری رسم کو جو شخص ایجاد کرتا ہے اس پر اپنے فعل کا گناہ اور عذاب تو ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ ان تمام لوگوں کا عذاب و وبال بھی اسی کی گردن پر ہوتا ہے جو قیامت تک اس کے فعل سے متاثر ہو کر مبتلا گناہ ہوجاتے ہیں۔
Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم تو دوڑتے ہو مردوں پر شہوت کے مارے عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے

دوسری آیت میں ان کی اس بےحیائی کو زیادہ واضح الفاظ میں اس طرح بیان فرمایا کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو۔ اس میں اشارہ کردیا کہ انسان کی طبعی اور فطری خواہش کی تسکین کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک حلال اور جائز طریقہ عورتوں سے نکاح کرنے کا مقرر فرما دیا ہے اس کو چھوڑ کر غیر فطری طریقہ کو اختیار کرنا نری خباثت نفس اور گندہ ذہنی کا ثبوت ہے۔ اسی لئے صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین نے اس جرم کو عام بدکاری سے زیادہ شدید جرم و گناہ قرار دیا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ایسا فعل کرنے والے کو ایسی ہی سزا دینا چاہئے جیسے قوم لوط کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی کہ آسمان سے پتھراؤ کردیا جائے۔ مسند احمد ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ میں بروایت ابن عباس ؓ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کام کرنے والوں کے بارے میں فرمایا فاقتلوا الفاعل والمفعول بہ، یعنی اس کام کے فاعل و مفعول دونوں کو قتل کردیا جائے (ابن کثیر) آخر آیت میں فرمایا بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ یعنی تم ایسی قوم ہو جو انسانیت سے گزر گئی ہے۔ یعنی تمہارا اصل مرض یہ ہے کہ تم ہر کام میں اس کی حد سے نکل جاتے ہو۔ جنسی خواہش کے بارے میں بھی ایسا ہی ہوا کہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے نکل کر خلاف وضع فطری میں مبتلا ہوگئے۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اور کچھ جواب نہ دیا اس کی قوم نے مگر یہی کہا کہ نکالو ان کو اپنے شہر سے یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ،

تیسری آیت میں حضرت لوط ؑ کی نصیحت کے جواب میں ان کی قوم کا جواب اس طرح ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کوئی معقول جواب تو بن نہیں سکا ضد میں آکر آپس میں یہ کہنے لگے کہ یہ لوگ بڑی پاکی اور صفائی کے مدعی ہیں ان کا علاج یہ ہے کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو۔
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو مگر اس کی عورت کہ رہ گئی وہاں کے رہنے والوں میں ،

تیسری اور چوتھی آیتوں میں قوم سدوم کی اس کجروی اور بےحیائی کی سزا آسمانی کا ذکر ہے اور یہ کہ اس پوری قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا صرف لوط ؑ اور ان کے چند ساتھی عذاب سے محفوظ رہے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ آیا ہے یعنی ہم نے لوط اور ان کے اہل کو عذاب سے نجات دی۔ یہ اہل کون لوگ تھے۔ بعض حضرات مفسرین کا قول ہے کہ اہل میں دو لڑکیاں تھیں جو مسلمان ہوئی تھیں۔ بیوی بھی مسلمان نہ ہوئی تھی۔ قرآن مجید کی ایک دوسری (آیت) میں فما وجدنا فیہا غیر بیت من المسلمین مذکور ہے کہ ان تمام بستیوں میں ایک گھر کے سوا کوئی مسلمان نہ تھا۔ اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ لوط ؑ کے صرف گھر کے آدمی مسلمان تھے جن کو عذاب سے نجات ملی ان میں بھی بیوی داخل نہ تھی۔ اور مفسرین نے فرمایا کہ اہل سے مراد عام ہے اپنے گھر والے اور دوسرے متعلقین جو مسلمان ہوچکے تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ گنے چنے چند مسلمان تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے عذاب سے بچانے کے لئے حضرت لوط ؑ کو حکم دے دیا کہ بیوی کے سوا دوسرے اہل و متعلقین کو لے کر آخر رات میں اس بستی سے نکل جائیں اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ کیونکہ جس وقت آپ بستی سے نکل جائیں گے تو بستی والوں پر فوراً عذاب آجائے گا۔ حضرت لوط ؑ نے حکم خدا وندی کی تعمیل کی اپنے اہل و متعلقین کو لے کر آخر شب میں سدوم سے نکل گئے۔ بیوی کے متعلق دو روایتیں ہیں ایک یہ کہ وہ ساتھ چلی ہی نہیں دوسری یہ کہ کچھ دور تک ساتھ چلی مگر حکم خداوندی کے خلاف پیچھے مڑ کر بستی والوں کا حال دیکھنا چاہتی تھی تو اس کو عذاب نے پکڑ لیا۔ قرآن مجید کے مختلف مقامات میں اس واقعہ کو مجمل اور مفصل بیان فرمایا گیا ہے۔ یہاں تیسری آیت میں صرف اتنا مذکور ہے کہ ہم نے لوط ؑ اور ان کے اہل و متعلقین کو عذاب سے نجات دے دی مگر ان کی بیوی عذاب میں رہ گئی۔ نجات دینے کی یہ صورت کہ یہ لوگ آخر رات میں بستی سے نکل جائیں اور مڑ کر نہ دیکھیں دوسری آیات میں مذکور ہے۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور برسایا ہم نے ان کے اوپر مینہ یعنی پتھروں کا، پھر دیکھ کیا ہوا انجام گنہگاروں کا۔

چوتھی آیت میں اس قوم پر نازل ہونے والے عذاب کو مختصر لفظوں میں صرف اتنا ذکر کیا گیا ہے کہ ان پر عجیب قسم کی بارش بھیجی گئی۔ اور سورة ہود میں اس عذاب کی مفصل کیفیت یہ بیان فرمائی ہے۔ (آیت) فلما جاء امرنا تا ببعید، یعنی جب ہمارا عذاب آپہنچا تو کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے اور برسائے ان پر پتھر کنکر کے تہ بہ تہ، نشان کئے ہوئے تیرے رب کے پاس اور نہیں ہے وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور۔ اس سے معلوم ہوا کہ اوپر سے پتھروں کی بارش بھی ہوئی اور نیچے سے زمین کے پورے طبقہ کو جبرئیل امین نے اٹھا کر اوندھا پلٹ دیا۔ اور جن پتھروں کی بارش برسی وہ تہ بہ تہ تھے یعنی ایسی مسلسل بارش ہوئی کہ تہ بہ تہ جمع ہوگئے اور یہ پتھر نشان کئے ہوئے تھے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر ایک پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کی ہلاکت کے لئے پھینکا گیا تھا۔ اور سورة حجر کی آیات میں اس عذاب سے پہلے یہ بھی مذکور ہے (آیت) فاخذتھم الصیحة مشرقین، یعنی آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے آسمان سے کوئی سخت آواز چنگھاڑ کی صورت میں آئی پھر اس کے بعد دوسرے عذاب آئے۔ ظاہر الفاظ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ چنگھاڑ کے بعد پہلے زمین کا تختہ الٹ دیا گیا پھر اس پر ان کی مزید تذلیل و تحقیر کے لئے پتھراؤ کیا گیا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے پتھراؤ کیا گیا ہو بعد میں زمین کا تختہ الٹا دیا گیا ہو۔ کیونکہ قرآنی اسلوب بیان میں یہ ضروری نہیں کہ جس چیز کا ذکر پہلے ہوا ہو وہ وقوع کے اعتبار سے بھی پہلے ہو۔ قوم لوط ؑ کے ہولناک عذابوں میں سے زمین کا تختہ الٹ دینے کی سزا ان کے فحش و بےحیائی عمل کے ساتھ خاص مناسبت بھی رکھتی ہے کہ انہوں نے قلب موضوع کا ارتکاب کیا ہے۔ سورة ہود کی آیات کے آخر میں قرآن کریم نے اہل عرب کی مزید تنبیہ کے لئے یہ بھی فرمایا کہ (آیت) وما ہی من الظلمین ببعید۔ یعنی یہ الٹی ہوئی بستیاں ان ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ سفر شام کے راستہ پر ہر وقت ان کے سامنے آتی ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ یہ اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اور یہ منظر صرف نزول قرآن کے زمانہ میں نہیں آج بھی موجود ہے بیت المقدس اور نہر اردن کے درمیان آج بھی یہ قطعہ زمین بحر لوط یا بحر میت کے نام سے موسوم ہے۔ اس کی زمین سطح سمندر سے بہت زیادہ گہرائی میں ہے اور اس کے ایک خاص حصہ پر ایک دریا کی صورت میں ایک عجیب قسم کا پانی موجود ہے جس میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی لئے اس کو بحر میت بولتے ہیں۔ یہی مقام سدوم کا بتلایا جاتا ہے۔ نعوذ باللّہ من عذابہ و غضبہ۔