Ayahs 7:194–195خلاصہ تفسیر
(غرض) واقعی تم خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم ہی سے (اللہ کے مخلوق) بندے ہیں (یعنی تم سے بڑھ کر نہیں خواہ گھٹے ہوئے ہوں) سو (ہم تو تم کو سچا جب جانیں کہ) تم (تو) ان کو پکارو (اور) پھر ان کو چاہئے کہ تمہارا کہنا کردیں، اگر تم (ان کے اعتقاد الوہیت میں) سچے ہو (اور وہ بیچارے تمہارا کہنا تو کیا کریں گے، کہنا ماننے کے آلات تک ان کو نصیب نہیں، دیکھ لو) کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے کسی چیز کو تھام سکیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں (جب ان میں قوٰی فاعلہ تک نہیں تو کوئی فعل ان سے کیا صادر ہوگا اور) آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (جس طرح وہ اپنے معتقدین کو نفع پہنچانے سے عاجز ہیں اسی طرح اپنے مخالفین کو ضرر بھی نہیں پہنچا سکتے، جیسا تم کہا کرتے ہو کہ ہمارے بتوں کی بےادبی نہ کیا کرو ورنہ وہ تم پر کوئی آفت نازل کردیں گے۔ اخرجہ فی اللباب عن عبد الرزاق فی قولہ تعالیٰ (آیت) وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ، اور اگر تم سمجھتے ہو کہ وہ مجھ کو ضرر پہنچا سکتے ہیں تو) تم (اپنا ارمان نکال لو اور) اپنے سب شرکاء کو بلا لو پھر (سب مل کر) میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر (جب تدبیر بن جائے تو) مجھ کو ذرا مہلت مت دو (بلکہ فورا اس کو نافذ کردو، دیکھوں کیا ہوتا ہے اور خاک بھی نہیں ہوگا کیونکہ شرکاء تو مہمل محض ہیں، رہ گئے تم جو کچھ ہاتھ پاؤں ہلا سکتے ہو تو تم میرا اس لئے کچھ نہیں کرسکتے کہ) یقینا میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس (کے مددگار اور رفیق ہونے کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ اس) نے (مجھ پر) یہ کتاب (مبارک جامع خیر دارین) نازل فرمائی (اور اگر میرا رفیق و معین نہ ہوتا تو اتنی بڑی نعمت کیوں عطا فرماتا) اور (علاوہ اس دلیل خاص کے ایک عام قاعدہ سے بھی اس کا مددگار ہونا معلوم ہے وہ قاعدہ یہ ہے کہ) وہ (عموما) نیک بندوں کی مدد کیا کرتا ہے (تو انبیاء تو ان نیک بندوں میں فرد کامل ہیں اور میں نبی ہوں تو میرا بھی ضرور مددگار ہوگا، غرض یہ کہ جن کے ضرر سے ڈراتے ہو وہ عاجز اور جو مجھ کو ضرر سے بچاتا ہے وہ قادر، پھر اندیشہ کا ہے کا) اور (گو ان کا عاجز ہونا اوپر بابلغ وجوہ بیان ہوچکا ہے لیکن چونکہ وہاں بیان عجز مقصود بالغیر تھا اور مقصود بالذات نفی استحقاق معبودیت تھی اس لئے آگے مقصود بیان عجز کا فرماتے ہیں کہ) تم جن لوگوں کی خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ (تمہارے دشمن کے مقابلہ میں جیسا میں ہوں) تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ (اپنے دشمن کے مقابلہ میں جیسا میں ہوں) اپنی مدد کرسکتے ہیں اور (مدد کرنا تو بڑی بات ہے) ان کو (تو) اگر کوئی بات بتلانے کو پکارو تو اس کو (بھی تو) نہ سنیں (اس کے بھی وہی مذکورہ بالا دونوں معنی ہو سکتے ہیں) اور (جیسے ان کے پاس سننے کا آلہ نہیں اسی طرح دیکھنے کا آلہ بھی نہیں اور ان کی تصویر میں جو آنکھیں بنادی جاتی ہیں وہ محض نام ہی کی ہوتی ہیں کام کی نہیں چنانچہ) ان (بتوں) کو آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں (کیونکہ شکل تو آنکھوں کی سی بنی ہوئی ہے) اور وہ (واقع میں) کچھ بھی نہیں دیکھتے (کیونکہ حقیقت میں تو وہ آنکھیں نہیں اسی پر دوسرے قوٰی فاعلہ ایدی و ارجل کی نفی سمجھ لینا چاہئے، پس ایسے عاجز کا کیا ڈراوا دکھلاتے ہو)
Ayahs 7:196–198معارف و مسائل
(آیت) اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ، یہاں ولی کے معنی محافظ و مددگار کے ہیں، اور کتاب سے مراد قرآن اور صالحین سے مراد بقول ابن عباس وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو برابر نہ کریں، اس میں انبیاء (علیہم السلام) سے لے کر عام نیک مسلمانوں تک سب داخل ہیں۔
اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ مجھے تمہاری مخالفت کی اس لئے پرواہ نہیں کہ میرا محافظ و مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے مجھ پر قرآن نازل کیا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ کی سب صفات میں سے قرآن نازل کرنے کو خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا کہ تم جو میری عداوت و مخالفت پر جمے ہو، اس کی وجہ قرآن کی تعلیم و دعوت ہے جو میں تمہیں دیتا ہوں تو جس نے مجھ پر یہ قرآن نازل کیا ہے وہ ہی میرا مددگار و محافظ ہے اس لئے مجھے کیوں فکر ہو۔
اس کے بعد آخری جملے میں عام ضابطہ بتلا دیا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی تو بڑی شان ہے عام صالح اور نیک مسلمانوں کا بھی اللہ متولی اور کفیل ہوتا ہے، ان کی مدد کرتا ہے اس لئے ان کو کسی دشمن کی مخالفت اور دشمنی مضر نہیں ہوتی، اکثر اوقات تو دنیا ہی میں وہ ان پر غالب کردیا جاتا ہے اور اگر کسی وقت بتقاضائے حکمت غالب بھی نہ ہو تو بھی اس کے اصل مقصد میں کوئی خلل نہیں پڑتا وہ ظاہر میں ناکام ہو کر بھی مقصد کے لحاظ سے کامیاب ہی ہوتا ہے کیونکہ مومن صالح کا اصل مقصد ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا اور اس کی اطاعت کرنا ہے، اگر وہ دنیا میں کسی وجہ سے ناکام بھی ہوجائے تو رضائے الہی کا اصل مقصد پھر بھی اس کو حاصل ہوتا ہے اور وہ کامیاب ہی ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 7:199خلاصہ تفسیر
لوگوں سے یہ برتاؤ رکھئے کہ ان کے اعمال و اخلاق میں سے) سرسری (نظر میں جو) برتاؤ معقول و مناسب معلوم ہوں ان) کو قبول کرلیا کیجئے (ان کی تہ اور حقیقت کی تلاش نہ کیجئے بلکہ ظاہری نظر میں سرسری طور پر جو کام کسی سے اچھا ہو اس کو بھلائی پر محمول کیجئے، باطن کا حال اللہ کے سپرد کیجئے کیونکہ پورا اخلاص و نیز شرائط قبول کی جامعیت اخص الخواص کا حصہ ہے، حاصل یہ کہ معاشرت میں سہولت رکھئے تشدد نہ کیجھئے، یہ برتاؤ تو اچھے کاموں میں ہے) اور (جو کام ظاہر نظر میں بھی برا ہو اس میں یہ برتاؤ رکھئے کہ اس باب میں) نیک کام کی تعلیم کردیا کیجئے اور جاہلوں سے ایک کنارہ ہوجایا کیجئے (اور ان کے بہت درپے نہ ہوجئے) اور اگر (اتفاقا ان کی جہالت پر) آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے (غصہ کا) آنے لگے (جس میں احتمال ہو کہ کوئی بات خلاف مصلحت کے صادر ہوجائے) تو (ایسی حالت میں فورا) اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئے بلا شبہ وہ خوب جاننے والا ہے (آپ کے استعاذہ کو سنتا ہے، آپ کے مقصود کو جانتا ہے وہ آپ کو اس سے پناہ دے گا اور جس طرح استعاذہ و توجہ الی اللہ آپ کے لئے نافع ہے اسی طرح تمام خدا ترس لوگوں کے لئے بھی نافع ہے چنانچہ) یقینا (یہ بات ہے کہ) جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے (غصہ کا یا اور کسی امر کا) آجاتا ہے تو وہ (فورا خدا کی) یاد میں لگ جاتے ہیں (جیسے استعاذہ و دعا اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و عذاب وثواب کو یاد کرنا) سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں (اور حقیقت امر ان پر منکشف ہوجاتی ہے جس سے وہ خطرہ اثر نہیں کرتا) اور (برخلاف اس کے) جو شیاطین کے تابع ہیں وہ (شیاطین) ان کو گمراہی میں کھینچتے چلے جاتے ہیں پس وہ (تابعین گمراہی سے) باز نہیں آتے (نہ وہ استعاذہ کریں نہ محفوظ رہیں، سو وہ مشرکین تو شیطان کے تابع ہیں یہ کب بازآئیں گے اس لئے ان کے غم و غصہ میں پڑنا بےکار ہے)
معا رف ومسائل
اخلاق قرآنی کا ایک جامع ہدایت نامہ
آیات مذکورہ قرآنی اخلاق فاضلہ کا ایک جامع ہدایت نامہ ہے جس کے ذریعہ رسول کریم ﷺ کی تربیت کرکے آپ کو تمام اولین و آخرین میں صاحب خلق عظیم کا خطاب دیا گیا ہے۔
پچھلی آیتوں میں دشمنان اسلام کی کجروی، ہٹ دھرمی اور بد اخلاقیوں کا ذکر کرنے کے بعد ان آیات میں اس کے بالمقابل رسول اللہ ﷺ کو اخلاق فاضلہ کی ہدایت دی گئی ہے جس کے تین جملے ہیں، پہلا جملہ خُذِ الْعَفْوَ ہے، عربی لغت کے اعتبار سے لفظ عفو کے کئی معنی ہوسکتے ہیں اور اس موقع پر ہر معنی کی گنجائش ہے، اسی لئے علماء تفسیر کی مختلف جماعتوں نے مختلف معنی لئے ہیں، جمہور مفسرین نے جس کو اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ عفو کہا جاتا ہے ہر ایسے کام کو جو آسانی کے ساتھ بغیر کسی کلفت اور مشقت کے ہوسکے، تو معنی اس جملہ کے یہ ہوئے کہ آپ قبول کرلیا کریں اس چیز کو جو لوگ آسانی سے کرسکیں یعنی واجبات شرعیہ میں آپ لوگوں سے اعلی معیار کا مطالبہ نہ کریں بلکہ وہ جس پیمانہ پر آسانی سے عمل پیرا ہوسکیں آپ اتنے ہی درجہ کو قبول کرلیا کریں، مثلا نماز کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ بندہ ساری دنیا سے منقطع اور یکسو ہو کر اپنے رب کے سامنے ہاتھ بانھدے ہوئے اس لئے کھڑا ہے کہ حمد و ثنا کے ساتھ اپنے معروضات کو بلاواسطہ بارگاہ الہی میں خود پیش کررہا ہے گویا وہ اس وقت براہ راست حق تعالیٰ شانہ سے مخاطب ہے، اس کے جو آثار خشوع، خضوع ادب و احترام کے ہونا چاہئیں، ظاہر ہے کہ لاکھوں نمازیوں میں سے کسی کسی اللہ کے بندے کو نصیب ہوتے ہیں عام لوگ اس درجہ کو نہیں پاسکتے تو اس آیت نے آنحضرت ﷺ کو یہ تعلیم دی کہ آپ ان لوگوں سے اس اعلی معیار کا مطالبہ ہی نہ رکھیں، بلکہ جس درجہ کو وہ آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں وہ ہی قبول فرما لیں، اسی طرح دوسری عبادات زکوة، روزہ، حج اور عام معاملات و معاشرت کے واجبات شرعیہ میں جو لوگ پورا پورا حق ادا نہیں کرسکتے ان سے سرسری اطاعت و فرمانبرداری ہی کو قبول کرلیا جائے۔
صحیح بخاری میں بروایت عبداللہ بن زبیر خود آنحضرت ﷺ سے آیت کے یہی معنی نقل کئے گئے ہیں۔
اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے نازل ہونے پر فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اعمال و اخلاق میں سرسری اطاعت قبول کرنے کا حکم دیا ہے، میں نے عزم کرلیا ہے کہ جب تک میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں ایسا ہی عمل کروں گا (ابن کثیر)
ائمہ تفسیر کی ایک بڑی جماعت حضرت عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر، صدیقہ عائشہ اور مجاہد رضوان اللہ علیھم اجمعین وغیرہ نے اس جملہ کے بھی یہی معنی قرار دیئے ہیں۔
دوسرے معنی عفو کے معافی اور درگزر کرنے کے بھی آتے ہیں، علماء تفسیر کی ایک جماعت نے اس جگہ یہی معنی مراد لے کر اس جملہ کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ آپ گناہگاروں خطاکاروں کے گناہ و قصور کو معاف کردیا کریں۔
امام تفسیر ابن جریر طبری نے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے جبریل امین سے آیت کا مطلب پوچھا، جبریل امین نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کرنے کے بعد یہ مطلب بتلایا کہ اس آیت میں آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جو شخص آپ پر ظلم کرے آپ اس کو معاف کریں اور جو آپ کو کچھ نہ دے آپ اس پر بخشش کریں اور جو آپ سے تعلق قطع کرے آپ اس سے بھی ملا کریں۔
اس جگہ ابن مردویہ نے بروایت سعد بن عبادہ نقل کیا ہے کہ غزوہ احد میں جب آنحضرت کے چچا حضرت حمزہ کو شہید کیا گیا اور بڑی بےدردی سے ان کے اعضاء کاٹ کر لاش کی بےحرمتی کی گئی تو آنحضرت ﷺ نے لاش کو اس ہیئت میں دیکھ کر فرمایا کہ جن لوگوں نے حمزہ کے ساتھ ایسا معاملہ کیا ہے میں ان کے ستر آدمیوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرکے چھوڑوں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں آپ کو بتلایا گیا کہ آپ کا یہ مقام نہیں، آپ کے شایان شان یہ ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیں۔
اس مضمون کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد نے عقبہ بن عامر کی روایت سے نقل کی ہے کہ ان کو رسول اللہ ﷺ نے جو مکارم اخلاق کی تعلیم دی وہ وہی تھی کہ جو شخص تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردو، جو تم سے قطع تعلق کردے تم اس سے ملا کرو، جو تمہیں محروم کردے تم اس کو بخشش دیا کرو۔
اور بیہقی نے بروایت علی مرتضی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں تم کو اولین و آخرین کے اخلاق سے بہتر اخلاق کی تعلیم دیتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جو شخص تم کو محروم کرے تم اس پر بخشش کرو، جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو، جو تم سے تعلق قطع کرے تم اس سے بھی ملا کرو۔
لفظ عفو کے پہلے اور دوسرے معنی میں اگرچہ فرق ہے لیکن حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کہ لوگوں کے اعمال و اخلاق میں سرسری اطاعت و فرمانبرداری کو قبول فرمالیا کریں، زیادہ تجس اور تفتیش میں نہ پڑیں، اور ان سے اعلی معیار کی اطاعت کا مطالبہ نہ کریں اور ان کی خطاؤں اور قصور سے درگزر فرمائیں، ظلم کا انتقام نہ لیں، چناچہ رسول کریم ﷺ کے اعمال و اخلاق ہمیشہ اسی سانچے میں ڈھلے رہے، جس کا پورا مظاہرہ اس وقت ہوا جب مکہ فتح ہو کر آپ کے جانی دشمن آپ کے قبضہ میں آئے تو آپ نے سب کو آزاد کرکے فرما دیا کہ تمہارے مظالم کا بدلہ لینا تو کیا ہم تمہیں پچھلے معاملات پر ملامت بھی نہیں کرتے۔
دوسرا جملہ اس ہدایت نامہ کا وَاْمُرْ بالْعُرْفِ ہے، عرف بمعنی معروف ہر اچھے اور مستحسن کام کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آپ کے ساتھ برائی اور ظلم سے پیش آئیں آپ ان سے انتقام نہ لیں بلکہ معاف کردیں مگر ساتھ ہی ان کو نیک کام کی ہدایت بھی کرتے رہیں، گویا بدی کا بدلہ نیکی سے ظلم کا بدلہ صرف انصاف ہی سے نہیں بلکہ احسان سے دیں۔
تیسرا جملہ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جاہلوں سے آپ کنارہ کش ہوجائیں، مطلب یہ ہے کہ ظلم کا انتقام چھوڑ کر آپ ان کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا معاملہ کریں اور نرمی کے ساتھ ان کو حق بات بتلائیں مگر بہت سے جاہل ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس شریفانہ معاملہ سے متاثر نہیں ہوتے، اس کے باوجود جہالت اور سختی سے پیش آتے ہیں تو ایسے لوگوں کے ساتھ آپ کا معاملہ یہ ہونا چاہئے کہ ان کے دلخراش اور جاہلانہ کلام سے متاثر ہو کر انہیں جیسی سخت گفتگو نہ کریں بلکہ ان سے کنارہ کش ہوجائیں۔
امام تفسیر ابن کیثر نے فرمایا کہ کنارہ کش ہونے کا بھی مطلب یہ ہے کہ ان کی برائی کا جواب برائی سے نہ دیں، یہ معنی نہیں کہ ان کو ہدایت کرنا چھوڑ دیں کہ یہ وظیفہ رسالت و نبوت کے شایان شان نہیں۔
صحیح بخاری میں اس جگہ ایک واقعہ حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ حضرت فاروق اعظم کی خلافت کے زمانہ میں عیینہ ابن حصن مدینہ میں آیا اور اپنے بھتیجہ حر ابن قیس کا مہمان ہوا، حضرت حر بن قیس ان اہل علم حضرات میں سے تھے جو حضرت فاروق اعظم کی مجلس مشاورت میں شریک ہوا کرتے تھے، عیینہ نے اپنے بھتیجہ حر بن قیس سے کہا کہ تم امیر المومنین کے مقرب ہو میرے لئے ان سے ملاقات کا کوئی وقت لے لو، حر بن قیس نے فاروق اعظم سے درخواست کی کہ میرا چچا عیینہ آپ سے ملنا چاہتا ہے، آپ نے اجازت دے دی۔
مگر عیینہ نے فاروق اعظم کی مجلس میں پہنچ کر نہایت غیر مہذب اور غلط گفتگو کی کہ نہ آپ ہمیں ہمارا پورا حق دیتے ہیں نہ ہمارے ساتھ انصاف کرتے ہیں، فاروق اعظم کو اس پر غصہ آیا تو حر بن قیس نے عرض کیا کہ امیر المومنین، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ، اور یہ شخص بھی جاہلین میں سے ہے، یہ آیت سنتے ہی فاروق اعظم کا سارا غصہ ختم ہوگیا اور اس کو کچھ نہیں کہا، حضرت فاروق اعظم کی یہ عادت معروف و مشہور تھی کہ کان وقافا عند کتاب اللہ عز وجل یعنی کتاب اللہ کے احکام کے آگے گردن ڈالتے تھے۔
یہ آیت مکارم اخلاق کی جامع آیت ہے، بعض علماء نے اس کا خلاصہ یہ بیان فرمایا ہے کہ لوگ دو قسم کے ہیں ایک محسن یعنی اچھے کام کرنے والے، دوسرے بدکار ظالم، اس آیت نے دونوں طبقوں کے ساتھ اخلاق کریمانہ برتنے کی یہ ہدایت دی ہے کہ نیک کام کرنے والوں سے ان کی ظاہری نیکی کو قبول کرلو، زیادہ تفتیش و تجسس میں نہ پڑو، اور نیکی کے اعلی معیار کا ان سے مطالبہ نہ کرو بلکہ جتنا وہ آسانی سے کرسکیں اس کو کافی سمجھو، اور بدکاروں کے معاملہ میں یہ ہدایت کی کہ ان کو نیک کام سکھلاؤ اور نیکی کا راستہ بتلاؤ، اگر وہ اس کو قبول نہ کریں اور اپنی گمراہی اور غطلی پر جمے رہیں اور جاہلانہ گفتگو سے پیش آئیں تو ان سے علیحدہ ہوجائیں اور ان کی جاہلانہ گفتگو کا جواب نہ دیں، اس طرز سے یہ امید ہے کہ ان کو کسی وقت ہوش آئے اور اپنی غطلی سے باز آجائیں۔
Ayahs 7:200–202دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ، یعنی اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ سے پناہ مانگ لیں، وہ سننے والا جاننے والا ہے۔
درحقیقت یہ آیت بھی پہلی آیت کے مضمون کی تکمیل ہے کیونکہ اس میں جو ہدایت دی گئی ہے کہ ظلم کرنے والوں اور جہالت سے پیش آنے والوں کی خطا سے درگزر کریں، ان کی برائی کا جواب برائی سے نہ دیں، یہ بات انسانی طبیعت کے لئے سب سے زیادہ بھاری اور شاق ہے، خصوصا ایسے مواقع میں شیطان اچھے بھلے انسان کو بھی غصہ دلا کر لڑنے جھگڑنے پر آمادہ کر ہی دیتا ہے، اس لئے دوسری آیت میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ اگر ایسے صبر آزما موقع میں غصہ کے جذبات زیادہ مشتعل ہوتے نظر آئیں تو سمجھ لو کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ لو۔
حدیث میں ہے کہ دو شخص آنحضرت ﷺ کے سامنے لڑ جھگڑ رہے تھے اور ایک شخص غصہ میں بےقابو ہو رہا تھا، آپ نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص وہ کلمہ کہہ لے یہ اشتعال جاتا رہے، فرمایا وہ کلمہ یہ ہے، اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، اس شخص نے آنحضرت ﷺ سے سن کر فورا یہ کلمہ پڑھ لیا تو فورا ہی سارا غصہ اور اشتعال ختم ہوگیا۔
فائدہ عجیبہ
امام تفسیر ابن کثیر نے اس جگہ ایک عجیب بات یہ لکھی ہے کہ پورے قرآن میں تین آیتیں اخلاق فاضلہ کی تعلیم و تلقین کے لئے جامع آئی ہیں اور تینوں کے آخر میں شیطان سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے، ایک تو یہی سورة اعراف کی آیت ہے، دوسری سورة مؤ منون کی یہ آیت ہے، (آیت) اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ۔ وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ ، وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ ، (مؤ منون 97) یعنی دفع کرو برائی کو بھلائی سے، ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ کہا کرتے ہیں اور آپ یوں دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے دباؤ سے اور میرے پروردگار میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ شیاطین میرے پاس آئیں۔
تیسری آیت سورة حم سجدہ کی یہ ہے، (آیت) وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۔ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْ آ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ ، وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔
یعنی نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، آپ نیک برتاؤ سے ٹال دیا کریں، پھر یکایک آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہوجاوے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے اور یہ بات انہیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے مستقل مزاج ہیں، اور یہ بات اسی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑا صاحب نصیب ہے، اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کچھ وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔
ان تینوں آیتوں میں غصہ دلانے والوں سے عفو و درگزر اور برائی کے بدلہ میں بھلائی کرنے کی ہدایت کے ساتھ ساتھ شیطان سے پناہ مانگنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کو انسان جھگڑوں سے خاص دلچسپی ہے، جہاں جھگڑے کا کوئی موقعہ پیش آتا ہے شیاطین اس کو اپنی شکار گاہ بنالیتے ہیں، اور بڑے سے بڑے بردبار باوقار آرمی کو غصہ دلاکر حدود سے نکال دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس کا علاج یہ ہے کہ جب غصہ قابو میں نہ آتا دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ شیطان مجھ پر غالب آرہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر اس سے پناہ مانگیں تب مکارم اخلاق کی تکمیل ہوسکے گی، اسی لئے بعد کی تیسری اور چوتھی آیت میں بھی شیطان سے پناہ مانگنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
Ayah 7:203خلاصہ تفسیر
اور جب آپ (ان کے فرمائشی معجزات میں سے جن کی فرمائش براہ عناد کرتے تھے) کوئی معجزہ ان کے سامنے ظاہر نہیں کرتے (بوجہ اس کے کہ حق تعالیٰ اس معجزہ کو بمقتضائے حکمت پیدا نہیں کرتے) تو وہ لوگ (بقصد نفی رسالت آپ سے) کہتے ہیں کہ آپ (اگر نبی ہیں تو) یہ معجزہ کیوں نہ (ظہور میں) لائے، آپ فرما دیجئے کہ (میرا کام معجزات باختیار خود لانا نہیں بلکہ میرا اصلی کام یہ ہے کہ میں اس کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر میرے رب کی طرف سے حکم بھیجا گیا ہے (اس میں تبلیغ بھی آگئی البتہ نبوت کے اثبات کے لئے نفس معجزہ ضروری ہے سو ان کا وقوع ہوچکا ہے چناچہ ان میں سب سے اعظم ایک یہی قرآن ہے جس کی شان یہ ہے کہ) یہ (بجائے خود) گویا بہت سی دلیلیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے (کیونکہ اس کی ہر مقدار سورت مثلا ایک معجزہ ہے تو اس حساب سے مجموعہ قرآن کتنی دلیلیں ہوا اور اس کا یہ دلیل ہونا تو عام ہے) اور (رہا اس کا نفع بالفعل تو وہ خاص ہے ماننے والوں کے ساتھ چناچہ وہ) ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو (اس پر) ایمان رکھتے ہیں اور (آپ ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ) جب قرآن پڑھا جایا کرے (مثلا جناب رسول اللہ ﷺ اس کی تبلیغ فرمائیں) تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو (تاکہ اس کا معجز ہونا اور اس کی تعلیم کی خوبی سمجھ میں آئے جس سے) امید ہے کہ تم پر رحمت ہو (جدید یا مزید)
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں رسول کریم ﷺ کے رسول برحق ہونے کا ثبوت اور اس پر مخالفین کے شبہات کا جواب اور ان دونوں کے ضمن میں چند احکام شرعیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
رسالت کے ثبوت کے لئے تمام انبیاء (علیہم السلام) کو معجزات دیئے جاتے ہیں، سید الانبیاء ﷺ کو اسی مناسبت سے اتنے معجزات عطا کئے گئے جو پچھلے انبیاء کے معجزات سے بہت زائد بھی ہیں اور واضح بھی۔
رسول کریم ﷺ کے معجزات جو قرآن مجید اور صحیح روایات حدیث سے ثابت ہیں ان کی بڑی تعداد ہے، علماء نے اس پر مستقل کتابیں لکھی ہیں، علامہ سیوطی ؒ کی کتاب خصائص کبری دو ضخیم جلدوں میں اسی موضوع پر لکھی ہوئی مشہور و معروف ہے۔
مگر رسول اللہ ﷺ کے بیشمار معجزات سامنے آنے کے باوجود مخالفین اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنی طرف سے متعین کرکے نئے نئے معجزات دکھلانے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے جس کا ذکر اسی سورت میں پہلے بھی آچکا ہے۔
متذکرہ دو آیتوں میں سے پہلی آیت میں ان کا ایک اصولی جواب دیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر کا معجزہ اس کی رسالت کی ایک شہادت اور ثبوت ہوتا ہے اور جب مدعی کا دعوی کسی معتبر شہادت سے ثابت ہوجائے اور فریق مخالف نے اس پر کوئی جرح بھی نہ کی ہو تو اس کو دنیا کی کسی عدالت میں یہ حق نہیں دیا جاتا کہ وہ مدعی سے اس کا مطالبہ کرے کہ فلاں فلاں مخصوص لوگوں کی شہادت پیش کرے تو ہم مانیں گے موجودہ شہادت پر کوئی جرح پیش کئے بغیر ہم تسلیم نہیں کرتے، اس لئے بہت سے واضح معجزات کے دیکھنے کے بعد مخالفین کا یہ کہنا کہ فلاں قسم کا خاص معجزہ دکھلایئے تو ہم آپ کو رسول مانیں۔ یہ ایک معاندانہ مطالبہ ہے جس کو کوئی عدالت صحیح تسلیم نہیں کرسکتی۔
چانچہ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب آپ ان لوگوں کا متعین کیا ہوا کوئی خاص معجزہ نہیں دکھلاتے تو یہ آپ کی رسالت کا انکار کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ آپ نے فلاں معجزہ کیوں نہیں دکھلایا، تو آپ ان کو یہ جواب دے دیجئے کہ میرا کام باختیار خود معجزات دکھلانا نہیں بلکہ میرا اصلی کام یہ ہے کہ میں ان احکام کا اتباع کروں جو مجھ پر میرے رب کی طرف سے بذریعہ وحی بھیجے جاتے ہیں جن میں تبلیغ بھی شامل ہے اس لئے میں اپنے اصلی کام میں مشغول ہوں اور رسالت کے لئے وہ دوسرے معجزات بھی کافی ہیں جو تم سب لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آچکے ہیں، ان کے دیکھنے کے بعد کسی خاص معجزہ کا مطالبہ ایک معاندانہ مطالبہ ہے جو قابل التفات نہیں۔
اور جو معجزات دکھلائے گئے ہیں ان میں سے قرآن خود ایک عظیم معجزہ ہے جس نے ساری دنیا کو اپنا بلکہ اپنی ایک چھوٹی سی سورت کا مثل لانے کا کھلا چیلنج دیا اور ساری دنیا باوجود پوری کوششوں کے اس کا مثل لانے سے عاجز ہوگئی جو نہایت واضح علامت اس بات کی ہے کہ قرآن کسی بشر کا کلام نہیں بلکہ اللہ جل شانہ کا بےمثل کلام ہے۔
اس لئے فرمایا (آیت) هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ ، یعنی یہ قرآن تمہارے رب کی طرف سے بہت سی دلیلوں اور معجزوں کا مجموعہ ہے، جن میں ادنی غور کرنے والا یہ یقین کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ شانہ کا ہی ہے، کسی مخلوق کا اس میں کوئی دخل نہیں، اس کے بعد فرمایا (آیت) وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤ ْمِنُوْنَ ، یعنی یہ قرآن دلیل حق تو سارے جہاں کیلئے ہے مگر مقصد تک پہنچانے والا اور رحمت حق تعالیٰ کا مستحق بنانے والا صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اس پر ایمان لائیں۔
Ayah 7:204دوسری آیت میں بتلایا گیا کہ قرآن مجید مومنین کے لئے رحمت ہے مگر اس رحمت سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے کچھ شرائط وآداب ہیں جن کو خطاب عام کے ساتھ اس طرح ذکر فرمایا، (آیت) وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا، یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو تم اس پر کان لگاؤ اور خاموش رہو۔
اس آیت کے شان نزول میں روایات مختلف ہیں کہ یہ حکم نماز کی قرأت کے بارے میں آیا ہے یا خطبہ کے یا مطلقا قرأت قرآن کے خواہ نماز یا خطبہ میں ہو یا دوسرے حالات میں، لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ جس طرح الفاظ آیت کے عام ہیں اسی طرح اس کا حکم بھی سب حالات کے لئے عام ہے بجز خاص استثنائی مواقع کے۔
اسی لئے حنفیہ نے اس آیت سے اس پر استدلال کیا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدیوں کو قرأت نہیں کرنا چاہئے، اور جن فقہاء نے مقتدی کو فاتحہ پڑھنے کی ہدایت کی ہے ان میں بھی بعض نے اس کی رعایت رکھی ہے کہ امام کے سکتہ کے وقت فاتحہ پڑھی جائے یہاں اس بحث کا موقعہ نہیں، اس بحث میں علماء نے مستقل کتابیں چھوٹی بڑی بہت لکھی ہیں ان کا مطالعہ کیا جائے۔
اصل مضمون آیت کا یہ ہے کہ قرآن کریم جن لوگوں کے لئے رحمت قرار دیا گیا اس کی شرط یہ ہے کہ وہ قرآن کے ادب و احترام کو پہچانیں اور اس پر عمل کریں، اور بڑا ادب قرآن کا یہ ہے کہ جب وہ پڑھا جائے تو سننے والے اپنے کان اس پر لگائیں اور خاموش رہیں۔
کان لگانے میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کو سنیں اور یہ بھی کہ اس کے احکام پر عمل کرنے کی جد و جہد کریں، (مظہری و قرطبی) آخر آیت میں لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ قرآن کا رحمت ہونا اس کے مذکورہ آداب بجا لانے پر موقوف ہے۔
تلاوت قرآن کے وقت خاموش رہ کر سننے کے متعلق چند ضروری مسائل
اس کے بالمقابل یہ خود ظاہر ہے کہ اگر کسی نے اس کی خلاف ورزی کرکے قرآن کی بےحرمتی کی تو وہ رحمت کے بجائے قہر و غضب کا مستحق ہوگا۔
نماز کے اندر قرآن کی طرف کان لگانا اور خاموش رہنا تو عام طور پر مسلمانوں کو معلوم ہے گو عمل میں کوتاہی کرتے ہیں کہ بعض لوگوں کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ امام نے کونسی سورت پڑھی ہے، ان پر لازم ہے کہ وہ قرآن کی عظمت کو پہچانیں اور سننے کی طرف دھیان رکھیں، خطبہ جمعہ وغیرہ کا بھی شرعا یہی حکم ہے، علاوہ اس آیت کے رسول کریم ﷺ کا ارشاد خاص طور سے خطبہ کے متعلق یہ آیا ہے کہ
اذا خرج الامام فلا صلوة ولا کلام " یعنی جب امام خطبہ کے لئے نکل آئے تو نہ نماز ہے نہ کلام "۔
اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت کوئی شخص دوسرے کو نصیحت کے لئے زبان سے یہ بھی نہ کہے کہ خاموش رہو (کرنا ہی ہو تو ہاتھ سے اشارہ کردے) غرض دوران خطبہ میں کسی طرح کا کلام، تسبیح، درود یا نماز وغیرہ جائز نہیں۔
فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو حکم خطبہ جمعہ کا ہے وہی عیدین کے خطبہ کا اور نکاح وغیرہ کے خطبہ کا ہے کہ اس وقت کان لگانا اور خاموش رہنا واجب ہے۔
البتہ نماز اور خطبہ کے علاوہ عام حالات میں کوئی شخص بطور خود تلاوت کر رہا ہے تو دوسروں کو خاموش رہ کر اس پر کان لگانا واجب ہے یا نہیں، اس میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں، بعض حضرات نے اس صورت میں بھی کان لگانے اور خاموش رہنے کو واجب اور اس کے خلاف کرنے کو گناہ قرار دیا ہے، اور اسی لئے ایسی جگہ جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں یا آرام کرتے ہوں کسی کے لئے بآواز بلند قرآن پڑھنے کو جائز نہیں رکھا، اور جو شخص ایسے مواقع میں قرآن بآواز بلند پڑھتا ہے اس کو گناہگار فرمایا ہے، خلاصتہ الفتاوی وغیرہ میں ایسا ہی لکھا ہے۔
لیکن بعض دوسرے فقہاء نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ کان لگانا اور سننا صرف ان جگہوں میں واجب ہے جہاں قرآن کو سنانے ہی کے لئے پڑھا جارہا ہو، جیسے نماز و خطبہ وغیرہ میں، اور اگر کوئی شخص بطور خود تلاوت کر رہا ہے یا چند آدمی کسی ایک مکان میں اپنی تلاوت کر رہے ہیں تو دوسرے کی آواز پر کان لگانا اور خاموش رہنا واجب نہیں، کیونکہ احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک سفر میں رات کو پڑاؤ ڈالنے کے بعد صبح کو فرمایا کہ میں نے اپنے اشعری رفقائے سفر کو ان کی تلاوت کی آوازوں سے رات کے اندھیرے میں پہچان لیا کہ ان کے خیمے کس طرف اور کہاں ہیں، اگرچہ دن میں مجھے ان کے جائے قیام کا علم نہیں تھا۔
اس واقعہ میں بھی رسول کریم ﷺ نے ان اشعری حضرات کو اس سے منع نہیں فرمایا کہ بلند آواز سے کیوں قرأت کی اور نہ سونے والوں کو ہدایت فرمائی کہ جب قرآن پڑھا جارہا ہو تو تم سب بیٹھو اور قرآن سنو۔
اس قسم کی روایات سے فقہاء نے خارج نماز کی تلاوت کے معاملہ میں کچھ گنجائش دی ہے، لیکن اولی اور بہتر سب کے نزدیک یہی ہے کہ خارج نماز بھی جب کہیں سے تلاوت قرآن کی آواز آئے تو اس پر کان لگائے اور خاموش رہے اور اسی لئے ایسے مواقع میں جہاں لوگ سونے میں یا اپنے کاروبار میں مشغول ہوں تلاوت قرآن بآواز بلند کرنا مناسب نہیں۔
اس سے ان حضرات کی غلطی معلوم ہوگئی جو تلاوت قرآن کے وقت ریڈیو ایسے مجامع میں کھول دیتے ہیں جہاں لوگ اس کے سننے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، اسی طرح رات کو لاؤڈ اسپیکر لگا کر مسجدوں میں تلاوت قرآن اس طرح کرنا کہ اس کی آواز سے باہر کے سونے والوں کی نیند یا کام کرنے والوں کے کام میں خلل آئے، درست نہیں۔
علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ جس وقت امام نماز میں یا خطیب خطبہ میں کوئی مضمون جنت و دوزخ کے متعلق پڑھ رہا ہو تو اس وقت جنت کی دعاء یا دوزخ سے پناہ مانگنا بھی جائز نہیں، کیونکہ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وعدہ اس شخص کے لئے ہے جو تلاوت قرآن کے وقت خاموش رہے، اور جو خاموش نہ رہے اس سے وعدہ نہیں، البتہ نفل نمازوں میں ایسی آیات کی تلاوت کے بعد آہستہ دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے اور موجب ثواب ہے (مظہری)
Ayah 7:205خلاصہ تفسیر
اور (آپ ہر شخص سے یہ بھی کہہ دیجئے) اے شخص اپنے رب کی یاد کیا کر (قرآن سے یا تسبیح وغیرہ سے خواہ) اپنے دل میں (یعنی آہستہ آواز سے) عاجزی کے ساتھ اور (خواہ) زور کی آواز نسبت کم آواز کے ساتھ (اسی عاجزی اور خوف کے ساتھ) صبح و شام (یعنی علی الدوام) اور (دوام کا مطلب یہ ہے کہ) اہل غفلت میں شمار مت ہونا (کہ اذکار مامور بہا بھی ترک کردو) یقینا جو (ملائکہ) تیرے رب کے نزدیک (مقرب) ہیں اس کی عبادت سے (جس میں اصلی عقائد ہیں) تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں (جو کہ اطاعت لسانی ہے) اور اس کو سجدہ کرتے ہیں (جو کہ اعمال جوارح سے ہے)۔
معارف و مسائل
ان سے پہلی آیات میں قرآن مجید سننے کا ذکر اور اس کے آداب کا بیان تھا، ان دو آیتوں میں جمہور کے نزدیک مطلق ذکر اللہ کا حکم اور اس کے آداب کا بیان ہے جس میں تلاوت قرآن بھی شامل ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس کے نزدیک اس میں بھی ذکر سے مراد قرآن ہی ہے اور جو آداب اس میں بیان ہوئے ہیں وہ بھی تلاوت قرآن ہی سے متعلق ہیں، لیکن یہ کوئی اختلاف نہیں کیونکہ علاوہ قرآن کے دوسرے اذکار کا بھی سب کے نزدیک یہی حکم اور یہی آداب ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں انسان کو اللہ کی یاد اور ذکر کا حکم اور اس کے ساتھ اس کے اوقات اور آداب کا بیان ہے۔
ذکر خفی اور ذکر جہر کے احکام
پہلا ادب ذکر کے آہستہ یا بلند آواز سے کرنے کے متعلق ہے اس کے بارے میں قرآن کریم نے اس آیت میں دو طرح کا اختیار دیا ہے، ذکر خفی اور ذکر جہر۔ ذکر خفی کے بارے میں فرمایا (آیت) وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ یعنی اپنے رب کو یاد کیا کرو اپنے دل میں، اس کی بھی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بغیر زبان کی حرکت کے صرف دل میں دھیان اور خیال اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا رکھے جس کو ذکر قلبی یا تفکر کہا جاتا ہے، دوسرے یہ کہ اس کے ساتھ زبان سے بھی آہستہ آواز میں اسماء الہیہ کے حروف ادا کرے، سب سے افضل اور بہتر صورت یہی ہے کہ جو ذکر کررہا ہے اس کے مفہوم کو سمجھ کر دل میں بھی اس کا پورا استحضار اور دھیان ہو اور زبان سے بھی ادا کرے کیونکہ اس صورت میں قلب کے ساتھ زبان بھی ذکر میں شریک ہوجاتی ہے اور اگر صرف دل میں دھیان اور تفکر میں مشغول رہے زبان سے کوئی حرف ادا نہ کرے وہ بھی بڑا ثواب ہے اور سب سے کم درجہ اس کا ہے کہ صرف زبان پر ذکر ہو اور قلب اس سے خالی اور غافل ہو، ایسے ہی ذکر کو مولانا رومی نے فرمایا ہے
بر زباں تسبیح و در دل گاؤ خر ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر
اور مقصد مولانا رومی کا یہ ہے کہ قلب غافل کے ذکر کرنے سے ذکر کے آثار و برکات کامل حاصل نہیں ہوتے، اس کا انکار نہیں کہ یہ صرف زبانی ذکر بھی ثواب اور فائدہ سے خالی نہیں، کیونکہ بعض اوقات یہ زبانی ذکر ہی قلبی ذکر کا ذریعہ اور سبب بن جاتا ہے، زبان سے کہتے کہتے قلب بھی متاثر ہونے لگتا ہے اور کم از کم ایک عضو تو ذکر میں مشغول ہے ہی، وہ بھی ثواب سے خالی نہیں، اس لئے جن لوگوں کو ذکر و تسبیح میں دل جمعی اور دھیان اور استحضار نہیں ہوتا وہ بھی ایسے ذکر کو بےفائدہ سمجھ کر چھوڑیں نہیں، جاری رکھیں اور استحضار کی کوشش کرتے رہیں۔
دوسرا طریقہ ذکر کا اسی آیت میں یہ بتلایا (آیت) وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ ، یعنی زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ یعنی ذکر اللہ میں مشغول ہونے والے کو یہ بھی اختیار ہے کہ آواز سے ذکر کرے مگر اس کا ادب یہ ہے کہ بہت زور سے چیخ کر نہ کرے متوسط آواز کے ساتھ کرے جس میں ادب و احترام ملحوظ رہے، بہت زور سے ذکر و تلاوت کرنا اس کی علامت ہوتی ہے کہ مخاطب کا ادب و احترام اس کے دل میں نہیں، جس ہستی کا ادب و احترام اور رعب انسان کے دل میں ہوتا ہے اس کے سامنے طبعی طور پر انسان بہت بلند آواز سے نہیں بول سکتا، اس لئے عام ذکر اللہ ہو یا تلاوت قرآن جب آواز سے پڑھا جائے تو اس کی رعایت رکھنا چاہئے کہ ضرورت سے زائد آواز بلند نہ ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے ذکر اللہ اور تلاوت قرآن کے تین طریقے حاصل ہوئے، ایک یہ کہ صرف ذکر قلبی یعنی معانی قرآن اور معانی ذکر کے تصور اور تفکر پر اکتفاء کرے، زبان کو بالکل حرکت نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس کے ساتھ زبان کو بھی حرکت دے مگر آواز بلند نہ ہو جس کو دوسرے آدمی سن سکیں، یہ دونوں طریقے ذکر کے ارشاد ربانی (آیت) وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ میں داخل ہیں اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ استحضار قلب اور دھیان کے ساتھ زبان کی حرکت بھی ہو اور آواز بھی، مگر اس طریق کے لئے ادب یہ ہے کہ آواز کو زیادہ بلند نہ کرے، متوسط حد سے آگے نہ بڑھائے، یہ طریقہ ارشاد قرآنی (آیت) وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ میں تلقین فرمایا گیا ہے، قرآن کریم کی ایک دوسرے آیت نے اس کی مزید وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے، (آیت) ۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا، اس میں آنحضرت ﷺ کو حکم ہے کہ اپنی قرأت میں نہ زیادہ جہر کیا کریں اور نہ بالکل اخفاء بلکہ جہر اور اخفاء کے درمیانی کیفیت رکھا کریں۔
نماز میں قرأت قرآن کے متعلق آنحضرت ﷺ نے حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم ؓ کو یہی ہدایت فرمائی۔
صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ آخر رات میں گھر سے نکلے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ نماز میں مشغول تھے مگر تلاوت آہستہ کررہے تھے، پھر حضر عمر بن خطاب ؓ کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ بہت بلند آواز سے تلاوت کر رہے تھے، جب صبح کو یہ دونوں حضرات حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے صدیق اکبر سے فرمایا کہ میں رات تمہارے پاس گیا تو دیکھا کہ تم پست آواز سے تلاوت آپ کر رہے تھے، صدیق نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے جس ذات کو سنانا تھا اس نے سن لیا یہ کافی ہے، اسی طرح فاروق اعظم سے فرمایا کہ آپ بلند آواز سے تلاوت کررہے تھے، انہوں نے عرض کیا کہ قرأت میں جہر کرنے سے میرا مقصد یہ تھا کہ نیند کا غلبہ نہ رہے اور شیطان اس کی آواز سے بھاگے، آنحضرت ﷺ نہ فیصلہ فرمایا کہ صدیق اکبر کو یہ ہدایت کی کہ ذرا کچھ آواز بلند کیا کریں اور فاروق اعظم کو یہ کہ کچھ پست کیا کریں۔ (ابوداؤد)
ترمذی میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ سے آنحضرت ﷺ کی تلاوت کے بارے میں بعض حضرات نے سوال کیا کہ جہرا کرتے تھے یا سِرًّا ؟ انہوں نے فرمایا کہ کبھی جہرا کبھی سرا دونوں طرح تلاوت فرماتے تھے۔
رات کی نفل نماز میں اور خارج نماز تلاوت میں بعض حضرات نے جہر پسند کیا بعض نے آہستہ کو، اسی لئے امام اعظم ابوحنیفہ نے فرمایا کہ تلاوت کرنے والے کو اختیار ہے جس طرح چاہے تلاوت کرے، البتہ آواز سے تلاوت کرنے میں چند شرائط سب کے نزدیک ضروری ہیں، اول یہ کہ اس میں نام و نمود اور ریاء کا اندیشہ نہ ہو، دوسرے اس کی آواز سے دوسرے لوگوں کا حرج یا تکلیف نہ ہو، کسی دوسرے شخص کی نماز و تلاوت یا کام میں یا آرام میں خلل انداز نہ ہو، اور جہاں نام و نمود اور ریاء کا یا دوسرے لوگوں کے کام یا آرام میں خلل کا اندیشہ ہو تو سب کے نزدیک آہستہ ہی پڑھنا افضل ہے۔
اور جو حکم تلاوت قرآن کا ہے وہی دوسرے اذکار و تسبیح کا ہے کہ آہستہ اور بلند آواز سے دونوں طرح جائز ہے بشرطیکہ آواز اتنی بلند نہ ہو جو خشوع و خضوع اور ادب کے خلاف ہو نیز اس کی آواز سے دوسرے لوگوں کے کام یا آرام میں خلل نہ آتا ہو۔
اور اس کا فیصلہ کہ سراً اور جہراً میں سے افضل کیا ہے، اشخاص اور حالات کے اعتبار سے مختلف ہے، بعض لوگوں کے لئے جہر بہتر ہوتا ہے بعض کے لئے آہستہ، نیز بعض اوقات جہر بہتر ہوتا ہے بعض وقت سرا، (تفسیر مظہری و روح البیان وغیرہ)
دوسرا ادب تلاوت اور ذکر کا یہ ہے کہ عاجزی اور تضرع کے ساتھ ذکر کیا جاوے جو نتیجہ اس کا ہوتا ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ کی عظمت و جلال مستحضر ہو اور جو ذکر کررہا ہے اس کے معنی و مفہوم پر نظر ہو۔
تیسرا ادب اسی آیت میں لفظ خیفہ سے یہ بتلایا گیا کہ ذکر و تلاوت کے وقت انسان پر ہیبت اور خوف کی کیفیت ہونا چاہئے، خوف اس کا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور عظمت کا حق ادا نہیں کرسکتے، ممکن ہے کہ ہم سے کوئی بےادبی ہوجائے، نیز اپنے گناہوں کے استحضار سے عذاب الہی کا خوف نیز انجام اور خاتمہ کا خوف کہ معلوم نہیں ہمارا خاتمہ کس حال پر ہونا ہے، بہرحال ذکر و تلاوت اس طرح کیا جائے جیسے کوئی ہیبت زدہ ڈرنے والا کیا کرتا ہے۔
یہی آداب دعا اسی سورة اعراف کے شروع میں بھی ایک آیت میں اس طرح آئے ہیں (آیت) اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ، اس میں خیفة کے بجائے خفیة کا لفظ آیا ہے جس کے معنی آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے ہیں، گویا ذکر و تلاوت کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ آہستہ پست آواز سے کیا جائے، لیکن اس آیت نے اس کے معنی بھی واضح کردیئے کہ اگرچہ آواز سے ذکر کرنا بھی ممنوع نہیں، مگر شرط یہ ہے کہ ضرورت سے زائد آواز بلند کرے، نیز اتنی بلند نہ کرے جس میں خشوع خضوع اور عاجزی و تضرع کی کیفیت جاتی رہے۔
آخر آیت میں ذکر و تلاوت کے اوقات بتلائے کہ صبح و شام ہونا چاہئے اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ کم از کم دن میں دو مرتبہ صبح اور شام ذکر اللہ میں مشغول ہونا چاہئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صبح شام بول کر مراد تمام لیل و نہار کے اوقات ہوں جیسے مشرق مغرب بول کر سارا عالم مراد لیا جاتا ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ انسان پر لازم ہے کہ ہمیشہ ہر حال میں ذکر و تلاوت کا پابند رہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت ہر حال میں اللہ کی یاد میں مشغول رہتے تھے۔
آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ ، یعنی اللہ کی یاد کو چھوڑ کر غفلت والوں میں شامل نہ ہوجانا کہ یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔
دوسری آیت میں لوگوں کی عبرت و نصیحت کے لئے مقربان بارگاہ الہی کا ایک مخصوص حال بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ کے پاس ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا مقبول ہونا ہے، جس میں سب فرشتے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین امت شامل ہیں، اور تکبر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھ کر ان عبادات میں قصور نہیں کرتے بلکہ اپنے کو عاجز و محتاج سمجھ کر ہمیشہ اللہ کی یاد اور عبادت میں مشغول اور تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے رہتے ہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو دائمی عبادت اور یاد خدا کی توفیق ہوتی ہے تو یہ اس کی علامت ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کے پاس ہیں اور اللہ تعالیٰ کی معیت ان کو حاصل ہے۔
Ayah 7:206سجدہ کے بعض فضائل اور احکام
یہاں عبادت نماز میں سے صرف سجدہ کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ تمام ارکان نماز میں سجدہ کو خاص فضیلت حاصل ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت ثوبان ؓ سے کہا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جس سے میں جنت میں جاسکوں، حضرت ثوبان خاموش رہے، اس نے پھر سوال کیا، پھر بھی خاموش رہے، جب تیسری مرتبہ سوال کو دھرایا تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا، آپ نے مجھے یہ وصیت فرمائی کہ کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ جب تم ایک سجدہ کرتے ہو تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارا ایک درجہ بڑھا دیتے ہیں اور ایک گناہ معاف فرما دیتے ہیں، یہ شخص کہتے ہیں کہ حضرت ثوبان کے بعد میں حضرت ابوالدرداء ؓ سے ملا تو ان سے بھی یہی سوال کیا، انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
اور صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ اپنے رب کے ساتھ سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب کہ بندہ سجدہ میں ہو، اس لئے تم سجدہ کی حالت میں خوب دعا کیا کرو کہ اس کے قبول ہونے کی بڑی امید ہے۔
یاد رہے کہ تنہا سجدہ کی کوئی عبادت معروف نہیں، اس لئے امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک کثرت سجود سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے نوافل پڑھا کریں، جتنی نفلیں زیادہ ہوں گی سجدے زیادہ ہوں گے۔
لیکن اگر کوئی شخص تنہا سجدہ ہی کرکے دعا کرلے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں اور سجدہ میں دعا کرنے کی ہدایت نفلی نمازوں کے لئے مخصوص ہے فرائض میں نیہں۔
سورة اعراف ختم ہوئی، اس کی آخری آیت سجدہ ہے، صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ متقول ہے کہ جب کوئی آدم کا بیٹا کوئی آیت سجدہ پڑھتا ہے اور پھر سجدہ تلاوت کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا بھاگتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس انسان کو سجدہ کرنے کا حکم ملا اور اس نے تعمیل کرلی تو اس کا ٹھکانہ جنت ہوا، اور مجھے سجدہ کا حکم ہوا میں نے نافرمانی کی تو میرا ٹھکانہ جہنم ہوا۔