7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو اور اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب بولے ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں، کبھی کہنے لگو قیامت کے دن ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی

خلاصہ تفسیر (ان سے اس وقت کا واقعہ ذکر کیجئے) جب کہ آپ کے رب نے (عالم ارواح میں آدم ؑ کی پشت سے تو خود ان کی اولاد کو اور) اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور (ان کو سمجھ عطا کرکے) ان سے انہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے (اس عقل خداداد سے حقیقت امر کو سمجھ کر) جواب دیا کہ کیوں نہیں (واقعی آپ ہمارے رب ہیں، حق تعالیٰ نے وہاں جتنے ملائکہ اور مخلوقات حاضر تھے سب کو گواہ کرکے سب کی طرف سے فرمایا) ہم سب واقعہ کے) گواہ بنتے ہیں (اور یہ اقرار اور شہادت سب اس لئے ہوا کہ) تاکہ تم لوگ (یعنی جو تم میں ترک توحید اور اختیار شرک پر سزا پائیں) قیامت کے روز یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس (توحید) سے محض بیخبر تھے یا یوں کہنے لگو کہ (اصل) شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ان کے نسل میں ہوئے (اور عادةً نسل عقائد و خیالات میں تابع اپنی اصل کے ہوتی ہے اس لئے ہم بےخطا ہیں، پس ہمارے فعل پر تو ہم کو سزا ہو نہیں سکتی، اگر ہوگی تو لازم آتا ہے کہ ان بڑوں کی خطا میں ہم ماخوذ ہوں) سو کیا ان غلط راہ (نکالنے) والوں کے فعل پر آپ ہم کو ہلاکت میں ڈالے دیتے ہیں (سو اب اس اقرار و اشہاد کے بعد تم یہ عذر نہیں پیش کرسکتے پھر اس کے بعد ان سب سے وعدہ کیا گیا کہ یہ عہد تم کو دنیا میں پیغمبروں کے ذریعہ سے یاد دلایا جائے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا یہاں بھی اول میں اِذْ اَخَذَ کے ترجمہ سے معلوم ہوا کہ آپ کو اس واقعہ کے ذکر کا حکم ہوا) آخر میں بھی اس یاد دھانی کو جتلاتے ہیں کہ) ہم اسی طرح (اپنی) آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں (تاکہ ان کو اس عہد کا ہونا معلوم ہوجائے) اور تاکہ (معلوم ہونے کے بعد شرک وغیرہ سے) وہ باز آجائیں۔ معارف و مسائل عہد الست کی تفصیل و تحقیق ان آیتوں میں اس عظیم الشان عالمگیر عہد و پیمان کا ذکر ہے جو خالق و مخلوق اور عبد و معبود کے درمیان اس وقت ہوا جب کہ مخلوق اس جہان کون و فساد میں آئی بھی نہ تھی، جس کو عہد ازل یا عہد الست کہا جاتا ہے۔ اللہ جل شانہ سارے عالموں کا خالق ومالک ہے، زمین و آسمان اور ان کے درمیان اور ان کے ماسوا جو کچھ ہے اس کی مخلوق اور ملک ہے، نہ اس پر کوئی قانون کسی کا چل سکتا ہے، نہ اس کے کسی فعل پر کسی کو کوئی سوال کرنے کا حق ہے۔ لیکن اس نے محض اپنے فضل و کرم سے عالم کا نظام ایسا بنایا ہے کہ ہر چیز کا ایک ضابطہ اور قانون ہے، قانون کے موافق چلنے والوں کے لئے ہر طرح کی دائمی راحت اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے ہر طرح کا عذاب مقرر ہے۔ پھر خلاف ورزی کرنے والے مجرم کو سزا دینے کے لئے اس کا ذاتی علم محیط کافی تھا جو عالم کے ذرہ پر حاوی ہے اور اس کے لئے کھلے اور چھپے ہوئے تمام اعمال و افعال بلکہ دلوں میں پوشیدہ ارادے تک بالکل ظاہر ہیں اس لئے کوئی ضرورت نہ تھی کہ نگران مقرر کئے جائیں، اعمال نامے لکھے جائیں، اعمال تولے جائیں اور گواہ کھڑے کئے جائیں۔ لیکن اسی نے خالص اپنے فضل و کرم سے یہ بھی چاہا کہ کسی کو اس وقت تک سزا نہ دیں جب تک دستاویزی ثبوت اور ناقابل انکار شہادتوں سے اس کا جرم اس کے سامنے اس طرح کھل کر نہ آجائے کہ وہ خود بھی اپنے مجرم ہونے کا اعتراف کرلے اور اپنے آپ کو مستحق سزا سمجھ لے۔ اس کے لئے ہر انسان کے ساتھ اس کے ہر عمل اور قول کو لکھنے والے فرشتے مقرر فرما دیئے (آیت) مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَـدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ، یعنی کوئی کلمہ انسان کی زبان سے نہیں نکلتا جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نگرانی کرنے والا فرشتہ مقرر نہ ہو، پھر محشر میں میزان عدل قائم فرما کر انسان کے اعمال نیک و بد کو تولا جائے گا، اگر نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگیا تو نجات پائے گا اور گناہوں اور جرائم کا پلہ بھاری ہوگیا تو گرفتار عذاب ہوگا۔ اس کے علاوہ جب احکم الحاکمین کا دربار عام محشر میں قائم ہوگا تو ہر ایک کے عمل پر شہادتیں بھی لی جائیں گی بعض مجرم گواہوں کی تکذیب کریں گے تو اس کے ہاتھ پاؤں اور اعضاء وجوارح سے اور اس زمین و مکان سے جس میں یہ افعال کئے گئے گواہی لی جائے گی وہ سب بحکم خداوندی گویا ہو کر صحیح صحیح واقعات بتلا دیں گے یہاں تک کہ مجرمین کو انکار و تکذیب کا کوئی موقع باقی نہ رہے گا وہ اعتراف و اقرار کریں گے، (آیت) فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ۔ پھر رؤف و رحیم مالک نے اس نظام عدل و انصاف کے قائم کرنے ہی پر اکتفاء نہیں فرمایا، اور دنیا کی حکومتوں کی طرح نرا ایک ضابطہ اور قانون ان کو نہیں دے دیا بلکہ قانون کے ساتھ ایک نظام تربیت قائم کیا جیسے بلا تشبیہ کے کوئی شفیق باپ اپنے گھریلو معاملات کو درست رکھنے اور اہل و عیال کو تہذیب و ادب سکھانے کے لئے کوئی گھریلو قانون اور ضابطہ بناتا ہے کہ جو شخص اس کے خلاف کرے گا اس کو سزا ملے گی، مگر اس کی شفقت و عنایت اس کو اس پر بھی آمادہ کرتی ہے کہ ایسا انتظام کرے جس کے سبب ان میں سے کوئی سزا کا مستحق نہ ہو بلکہ سب کے سب اس ضابطہ کے مطابق چلیں، بچہ کے لئے اگر صبح کو اسکول جانے کی ہدایت اور اس کے خلاف کرنے پر سزا مقرر کردی ہے تو باپ سویرے اس کی بھی فکر کرتا ہے کہ بچہ اس کام کے لئے وقت سے پہلے تیار ہوجائے۔ رب العالمین کی رحمت اپنی مخلوق پر ماں اور باپ کی شفقت و رحمت سے کہیں زائد ہے اس لئے اس نے اپنی کتاب کو محض قانون اور تعزیرات نہیں بنایا بلکہ ایک ہدایت نامہ بنایا ہے اور ہر قانون کے ساتھ ایسے طریقے بھی سکھائے ہیں جن کے ذریعہ قانون پر عمل سہل ہوجائے۔ اسی نظام ربوبیت کے تقاضے سے اپنے انبیاء بھیجے ان کے ساتھ آسمانی یدایت نامے بھیجے، فرشتوں کی بہت بڑی تعداد نیکیوں کی طرف ہدایت کرنے اور مدد کرنے کے لئے مقرر فرمادی۔ اسی نظام ربوبیت کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ ہر قوم اور ہر فرد کو غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے رب کریم کو یاد کرنے کے لئے مختلف قسم کے سامان پیدا کئے، زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اور دن رات کے تغیرات اور خود انسان کے اپنے وجود کی کائنات میں اپنی یاد دلانے والی ایسی نشانیاں رکھ دیں کہ اگر ذرا بھی ہوش سے کام لے تو کسی وقت اپنے مالک کو نہ بھولے، (آیت) وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ ، وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ، یعنی زمین میں اہل بصیرت کے لئے ہماری نشانیاں ہیں، اور خود تمہارے وجود میں بھی، کیا پھر بھی تم نہیں دیکھتے۔ اسی طرح غافل انسان کو بیدار کرنے اور عمل صا لح پر لگانے کے لئے ایک انتظام رب العالممین نے یہ بھی فرمایا ہے کہ افراد اور جماعتوں اور قوموں سے مختلف اوقات اور حالات میں اپنے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ عہد و پیمان لے کر ان کو قانون کی پابندی کے لئے تیار کیا گیا۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں بہت سے معاہدات و مواثیق کا ذکر کیا گیا ہے جو مختلف جماعتوں سے مختلف اوقات و حالات میں لئے گئے، انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا گیا کہ جو کچھ ان کو حق تعالیٰ کی طرف سے پیغام رسالت ملے وہ اپنی اپنی امتوں کو ضرور پہنچا دیں گے، اس میں ان کے لئے کسی کا خوف اور لوگوں کی ملامت و توہین کا اندیشہ حائل نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ کی اس مقدس جماعت نے اپنے اس معاہدہ کا پورا حق ادا کردیا، پیغام رسالت کے پہنچانے میں اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ اسی طرح ہر رسول و نبی کی امت سے اس کا معاہدہ لیا گیا کہ وہ اپنے اپنے انبیاء کا اتباع کریں گے، پھر خاص خاص اہم معاملات میں خصوصیت کے ساتھ اس کے پورا کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرنے کا عہد لیا گیا، جس کو کسی نے پورا کیا کسی نے نہیں کیا۔ انہی معاہدات میں سے ایک اہم معاہدہ وہ ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) سے ہمارے رسول کریم محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں لیا گیا کہ سب انبیاء نبی امی خاتم الانبیاء ﷺ کا اتباع کریں گے، اور جب موقع پائیں گے ان کی مدد کریں گے جس کا ذکر اس آیت میں ہے(آیت) وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ، یہ تمام عہود و مواثیق حق تعالیٰ کی رحمت کاملہ کے مظاہر ہیں اور مقصد ان کا یہ ہے کہ انسان جو کثیر النسیان ہے اکثر اپنے فرائض کو بھول جاتا ہے، اس کو بار بار ان معاہدات کے ذریعہ ہوشیار کیا گیا تاکہ وہ ان کی خلاف ورزی کرکے تباہی میں نہ پڑجائے۔ بیعت لینے کی حقیقت انبیاء علہیم السلام اور ان کے نائب علماء و مشائخ میں بھی جو بیعت لینے کا دستور رہا ہے وہ بھی اسی سنت الہیہ کا اتباع ہے، خود رسول کریم ﷺ نے بہت سے معاملات میں صحابہ کرام سے بیعت لی، جن میں سے بیعت رضوان کا تذکرہ قرآن کریم میں ان لفاظ کے ساتھ موجود ہے (آیت) لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤ ْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، یعنی اللہ راضی ہوگیا ان لوگوں سے جنہوں نے ایک خاص درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ہجرت سے پہلے انصار مدینہ کی بیعت عقبہ بھی اسی قسم کے معاہدات میں سے ہے۔ بہت سے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے ایمان اور عمل صالح کی پابندی پر بیعت لی۔ صوفیائے کرام میں جو بیعت مروّج ہے وہ بھی ایمان اور عمل صالح کی پابندی اور گناہوں سے بچنے کے اہتمام کا عہد ہے اور اسی سنت اللہ اور سنت الانبیاء کا اتباع ہے، اسی وجہ سے اس میں خاص برکات ہیں کہ انسان کو گناہوں سے بچنے اور احکام شرعیہ بجا لانے کی ہمت اور توفیق بڑھ جاتی ہے۔ بیعت کی حقیقت معلوم ہونے سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جس طرح کی بیعت عام طور پر ناواقف جاہلوں میں رواج پاگئی ہے کہ کسی بزرگ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دینے ہی کو نجات کے لئے کافی سمجھ بیٹھتے ہیں، یہ سراسر جہالت ہے، بیعت ایک معاہدہ کا نام ہے، اس کا فائدہ جبھی ہے جب اس معاہدہ کو عملا پورا کیا جائے ورنہ وبال کا خطرہ ہے۔ سورة اعراف کی گذشتہ آیت میں ان معاہدات کا ذکر تھا جو بنی اسرائیل سے احکام تورات کی پابندی کے سلسلے میں لئے گئے تھے، مذکور الصدر آیات میں اس عالمگیر معاہدہ کا بیان ہے جو تمام اولاد آدم سے اس عالم دنیا میں آنے سے بھی پہلے ازل میں لیا گیا جو عام زبانوں پر عہد الست کے نام سے معروف و مشہور ہے۔ (آیت) وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ، ان آیتوں میں اولاد آدم کے لئے لفظ ذریت استعمال فرمایا ہے، امام راغب اصفہانی نے فرمایا کہ یہ لفظ دراصل لفظ ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں پیدا کرنے کے، قرآن کریم میں کئی جگہ یہ لفظ اس معنی کے لئے استعمال ہوا ہے (آیت) وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا، وغیرہ، اس لئے ذریت کا لفظی ترجمہ مخلوق کا ہوا، اس لفظ سے اشارہ کردیا گیا کہ یہ عہد ان تمام لوگوں کے لئے عام و شامل تھا جو آدم ؑ کے واسطہ سے اس دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ روایات حدیث میں اس عہد ازل کی مزید کچھ تفصیلات آئی ہیں امام مالک، ابوداؤد، ترمزی اور امام احمد نے بروایت مسلم بن یسار نقل کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت فاروق اعظم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تھا، آپ سے جو جواب میں نے سنا ہے وہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم ؑ کو پیدا فرمایا، پھر اپنا دست قدرت ان کی پشت پر پھیرا تو ان کی پشت سے جو نیک انسان پیدا ہونے والے تھے وہ نکل آئے تو فرمایا کہ ان کو میں نے جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جنت ہی کے کام کریں گے، پھر دوسری مرتبہ ان کی پشت پر دست قدرت پھیرا تو جتنے گناہ گار بد کردار انسان ان کی نسل سے پیدا ہونے والے تھے ان کو نکال کھڑا کیا اور فرمایا کہ ان کو میں نے دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخ میں جانے ہی کے کام کریں گے۔ صحابہ میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ جب پہلے ہی جنتی اور دوزخی متعین کردیئے تو پھر عمل کس مقصد کے لئے کرایا جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو جنت کے لئے پیدا فرماتے ہیں تو وہ اہل جنت ہی کے کام کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس کا خاتمہ کسی ایسے ہی کام پر ہوتا ہے جو اہل جنت کا کام ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی کو دوزخ کے لئے بناتے ہیں تو وہ دوزخ ہی کے کام میں لگ جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا خاتمہ بھی کسی ایسے ہی کام پر ہوتا ہے جو اہل جہنم کا کام ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ جب انسان کو معلوم نہیں کہ وہ کس طبقہ میں داخل ہے تو اس کو اپنی توانائی اور قدرت و اختیار ایسے کاموں میں خرچ کرنا چاہئے جو اہل جنت کے کام ہیں اور یہی امید رکھنا چاہئے کہ وہ انہی میں سے ہوگا۔ اور امام احمد کی روایت میں یہی مضمون بروایت حضرت ابوالدرداء ؓ منقول ہے، اس میں اتنا اور زیادہ ہے کہ پہلی مرتبہ جو لوگ آدم ؑ کی پشت سے نکلے وہ سفید رنگ کے تھے جن کو اہل جنت فرمایا، اور دوسری مرتبہ سیاہ رنگ کے تھے جن کو اہل جہنم قرار دیا۔ اور ترمذی میں یہی مضمون بروایت ابوہریرہ ؓ منقول ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ اس طرح قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم جو ظہور میں آئی ان میں سے ہر ایک کی پیشانی پر ایک خاص قسم کی چمک تھی۔ اب غور طلب یہ ہے کہ ان احادیث میں تو ذریت کو آدم ؑ کی پشت سے لینے اور نکالنے کا ذکر ہے اور قرآن کریم کے الفاظ میں بنی آدم یعنی اولاد آدم کی پشت سے نکالنا مذکور ہے۔ تطبیق اس کی یہ ہے کہ آدم ؑ کی پشت سے ان لوگوں کو نکالا گیا جو بلا واسطہ آدم ؑ سے پیدا ہونے والے تھے، پھر ان کی نسل کی پشت سے دوسروں کو اور اسی طرح جس ترتیب سے اس دنیا میں اولاد آدم پیدا ہونے والی تھی اسی ترتیب سے ان کو پشتوں سے نکالا گیا۔ حدیث میں سب کو حضرت آدم ؑ کی پشت سے نکالنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدم ؑ سے ان کی اولاد کو پھر اس اولاد سے ان کی اولاد کو ترتیب وار پیدا کیا گیا۔ قرآن مجید میں اس سب ذریت آدم سے اپنی ربوبیت کا اقرار لینے میں اس کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ یہ ذریت آدم جو اس وقت پشتوں سے نکالی گئی تھی صرف ارواح نہیں تھیں بلکہ روح اور جسم کا ایسا مرکب تھا جو جسم کے لطیف ترین ذرات سے بنایا گیا تھا، کیونکہ ربوبیت اور تربیت کی ضرورت زیادہ تر وہیں ہوتی ہے جہاں جسم و روح کا مرکب ہو اور جس کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف ترقی کرنا ہو، ارواح کی یہ شان نہیں وہ تو اول سے آخر تک ایک ہی حال پر ہوتی ہیں، اس کے علاوہ احادیث مذکورہ میں جو ان کے رنگ سفید و سیاہ مذکور ہیں یا ان کی پیشانی کی چمک مذکور ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ صرف روح بلا جسم نہیں تھی ورنہ روح کا تو کوئی رنگ نہیں ہوتا، جسم ہی کے ساتھ یہ اوصاف متعلق ہوتے ہیں۔ اور اس پر کوئی تعجب نہ کیا جائے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے سارے انسان ایک جگہ میں کس طرح سما گئے، کیونکہ حضرت ابوالدرداء کی حدیث مذکور میں اس کی بھی تصریح ہے کہ اس وقت جو ذریت پشت آدم ؑ سے نکالی گئی تھی وہ اپنے اس ڈیل ڈول کے ساتھ نہیں تھی جس میں وہ دنیا میں آئیں گے بلکہ چھوٹی چیونٹی کے جثہ میں تھی، اور سائنس کی اس ترقی کے زمانہ میں تو کسی سمجھ دار انسان کو کوئی اشکال اس میں ہونا ہی نہیں چاہئے کہ اتنے بڑے ڈیل ڈول کا انسان ایک چیونٹی کے جثہ میں کیسے ظاہر ہوا، آج تو ایٹم کے اندر تمام نظام شمسی کے موجود ہونے کا تجربہ کیا جا رہا ہے، فلم کے ذریعہ بڑی سے بڑی چیز کو ایک نقطہ کی مقدار دکھلایا جاسکتا ہے، اس لئے یہ کیا مشکل ہے کہ حق تعالیٰ نے اس عہد و میثاق کے وقت تمام بنی آدم کو بہت چھوٹے جثہ میں وجود عطا فرمایا ہو۔ عہد ازل کے متعلق چند سوال و جواب اس عہد ازل کے متعلق چند چیزیں اور قابل غور ہیں اول یہ کہ عہد و اقرار کس جگہ اور کس وقت لیا گیا ؟ دوسرے یہ کہ جب اقرار اس حال میں لیا گیا کہ آدم ؑ کے سوا کوئی دوسرا انسان پیدا بھی نہ ہوا تھا تو ان کو یہ عقل و علم کیسے حاصل ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پہچانیں اور اس کے رب ہونے کا اقرار کریں، کیونکہ ربوبیت کا اقرار وہ کرسکتا ہے جس نے شان تربیت کا مشاہدہ کیا ہو اور یہ مشاہدہ اس دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ہی ہوسکتا ہے ؟ پہلا سوال کہ یہ عہد و اقرار کس جگہ اور کس وقت لیا گیا، اس کے متعلق مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو روایت بسند قوی امام احمد، نسائی اور حاکم نے نقل کی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ عہد و اقرار اس وقت لیا گیا جب آدم ؑ کو جنت سے زمین پر اتارا گیا، اور مقام اس اقرار کا وادی نعمان ہے جو میدان عرفات کے نام سے معروف و مشہور ہے (تفسیر مظہری) رہا دوسرا سوال کہ یہ نئی مخلوق جس کو ابھی وجود عنصری بھی پوری طرح عطا نہیں ہوا وہ کیا سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارا کوئی پیدا کرنے والا اور پروردگار ہے، ایسی حالت میں ان سے سوال کرنا بھی ایک قسم کی ناقابل برداشت تکلیف ہے، اور وہ جواب بھی کیا دے سکتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خالق کا ئنات جس کی قدرت کاملہ نے تمام انسانوں کو ایک ذرہ کی صورت میں پیدا فرمایا اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ اس نے ان کو عقل و فہم اور شعور و ادراک بھی اس وقت بقدر ضرورت دے دیا ہو، اور یہی حقیقت ہے کہ اللہ جل شانہ نے اس مختصر وجود میں انسان کے تمام قوٰی کو جمع فرما دیا تھا جن میں سب سے بڑی قوت عقل و شعور کی ہے۔ انسان کے اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ شانہ کی عظمت وقدرت کی وہ بیشمار نشانیاں ہیں جن پر ذرا بھی غور کرنے والا اللہ تعالیٰ کی معرفت سے غافل نہیں رہ سکتا، قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ ، وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ، یعنی زمین میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لئے اور خود تمہارے وجود میں بھی، کیا پھر بھی تم نہیں دیکھتے۔ یہاں ایک تیسرا سوال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ازلی عہد و پیمان کتنا ہی یقینی اور صحیح کیوں نہ ہو مگر کم از کم یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اس دنیا میں آنے کے بعد یہ عہد کسی کو یاد نہیں رہا تو پھر عہد کا فائدہ کیا ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو اسی نوع بنی آدم میں بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے یہ اقرار کیا ہے کہ ہمیں یہ عہد پوری طرح یاد ہے، حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا کہ یہ عہد و میثاق مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں، اور بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جس وقت یہ اقرار لیا گیا میرے آس پاس میں کون کون لوگ موجود تھے، ہاں یہ ظاہر ہے کہ ایسے افراد شاذ و نادر کے درجہ میں ہیں، اس لئے عام لوگوں کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو بالخاصہ اثر رکھتے ہیں، چاہے وہ کام کسی کو یاد رہے یا نہ رہے بلکہ اس کی خبر بھی نہ ہو مگر وہ اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں، یہ عہد و اقرار بھی ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے کہ دراصل اس اقرار نے ہر انسان کے دل میں معرفت حق کا ایک بیج ڈال دیا جو پرورش پارہا ہے چاہے اس کو خبر ہو یا نہ ہو، اور اسی بیج کے پھل پھول ہیں کہ ہر انسان کی فطرت میں حق تعالیٰ کی محبت و عظمت پائی جاتی ہے خواہ اس کا ظہور بت پرستی اور مخلوق پرستی کے کسی غلط پیرایہ میں ہو، وہ چند بدنصیب لوگ جن کی فطرت ہی مسخ ہو کر ان کا عقلی ذائقہ خراب ہوگیا اور میٹھے کڑوے کی پہچان جاتی رہی ان کے علاوہ باقی ساری دنیا کے اربوں انسان اللہ تعالیٰ کی دھن اور خیال اور عظمت سے خالی نہیں، پھر چاہے مادی خواہشات میں مبتلا ہو کر یا کسی گمراہ سوسائٹی میں پڑ کر وہ اس کو بھلا دیں، رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کل مولود یولد علی الفطرة، وفی بعض الروایات علی ھذہ الملة (اخرجہ البخاری ومسلم) یعنی ہر پیدا ہونے والا دین فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو دوسرے خیالات میں مبتلا کردیتے ہیں، اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو حنیف یعنی ایک خدا کا ماننے والا پیدا کیا ہے پھر شیاطین ان کے پیچھے لگ گئے اور ان کو اس صحیح راستہ سے دور لے گئے۔ اسی طرح بالخاصہ اثر رکھنے والے بہت سے اعمال و اقوال ہیں جو اس دنیا میں بھی انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم سے جاری ہیں جن کا اثر یہ ہے کہ ان کو کوئی سمجھے یا نہ سمجھے اور یاد رکھے یا نہ رکھے وہ بہرحال اپنا کام کرتے اور اپنا اثر دکھلاتے ہیں۔ مثلا بچہ پیدا ہونے کے ساتھ ہی اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت و تکبیر کہنے کی جو سنت، ہر مسلمان جانتا ہے اور الحمداللہ پورے عالم اسلام میں جاری ہے، اگرچہ بچہ نہ کلمات کے معنی سمجھتا ہے نہ اس کو بڑا ہونے کے بعد یاد رہتا ہے کہ میرے کان میں کیا الفاظ کہے گئے تھے، اس کی حکمت یہی تو ہے کہ اس کے ذریعہ اس اقرار ازلی کو قوت پہنچا کر کانوں کی راہ سے دل میں ایمان کی تخم ریزی کی جاتی ہے، اور اسی کا یہ اثر مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ بڑا ہونے کے بعد اگرچہ یہ اسلام اور اسلامیات سے کتنا ہی دور ہوجائے مگر اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور مسلمانوں کی فہرست سے الگ ہونے کو انہتائی برا سمجھتا ہے، اسی طرح جو لوگ قرآن کی زبان نہیں جانتے ان کو بھی تلاوت قرآن کا حکم شاید اسی حکمت پر مبنی ہے کہ اس سے بھی کم از کم یہ مخفی فائدہ ضرور پہنچ جاتا ہے کہ انسان کے قلب میں نور ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ اسی لئے آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ یعنی یہ اقرار ہم نے اس لئے لیا ہے کہ تم قیامت کے دن یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس سے غافل تھے، اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اس ازلی سوال و جواب سے تمہارے دلوں میں ایمان کی بنیاد ایسی قائم ہوگئی کہ ذرا بھی غور و فکر سے کام لو تو اللہ جل شانہ کی ربوبیت کے اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا۔
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا کہنے لگو کہ شرک تو نکالا تھا ہمارے باپ دادوں نے ہم سے پہلے اور ہم ہوئے ان کی اولاد ان کے پیچھے، تو کیا ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو کیا گمراہوں نے

اس کے بعد دوسری آیت میں ارشاد فرمایا، (آیت) اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤ ُ نَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ، یعنی یہ اقرار ہم نے اس لئے بھی لیا ہے کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ عذر نہ کرنے لگو کہ شرک وبت برستی تو دراصل ہمارے بڑوں نے اختیار کرلی تھی اور ہم تو ان کے بعد ان کی اولاد تھے، کھرے کھوٹے اور صحیح غلط کو نہیں پہچانتے تھے اس لئے بڑوں نے جو کچھ کیا ہم نے بھی اسی کو اختیار کرلیا تو بڑوں کے جرم کی سزا ہمیں کیوں دی جائے۔ حق تعالیٰ نے بتلا دیا کہ دوسروں کے فعل کی سزا تم کو نہیں دی گئی بلکہ خود تمہاری غفلت کی سزا ہے کیونکہ اس اقرار ازلی نے انسان میں ایک ایسی عقل و بصیرت کا تخم ڈال دیا تھا کہ ذرا بھی غور و فکر سے کام لیتا تو اتنی بات سمجھ لینا کچھ مشکل نہیں تھا کہ یہ پتھر جن کو ہم نے اپنے ہاتھوں تراشا ہے، یا آگ اور پانی، اور درخت یا کوئی انسان، ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کو کوئی انسان اپنا پیدا کرنے والا اور پروردگار یا حاجت روا مشکل کشا یقین کرسکے۔
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور یوں ہم کھول کر بیان کرتے ہیں باتیں تاکہ وہ پھر آئیں۔

تیسری آیت میں اسی مضمون کا بیان اس طرح آیا ہے، (آیت) وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ، یعنی ہم اسی طرح اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کیا کرتے ہیں تاکہ لوگ غفلت اور کجروی سے باز آجائیں، مراد یہ ہے کہ آیات الہیہ میں ذرا بھی غور کریں تو وہ اس عہد و میثاق کی طرف لوٹ آئیں جو ازل میں کیا گیا تھا یعنی اللہ جل شانہ کی ربوبیت کا اعتراف کرنے لگیں اور اس کے نتیجہ میں اس کی اطا عت کو لازم سمجیں۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور سنا دے ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے دی تھیں اپنی آیتیں پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا پھر اس کے پیچھے لگا شیطان تو وہ ہوگیا گمراہوں میں

خلاصہ تفسیر اور ان لوگوں کو (عبرت کے واسطے) اس شخص کا حال پڑھ کر سنایئے کہ اس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں (یعنی احکام کا علم دیا) پھر وہ ان (آیتوں) سے بالکل ہی نکل گیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا، سو وہ گمراہ لوگوں میں داخل ہوگیا اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں (کے مقتضا پر عمل کرنے) کی بدولت بلند مرتبہ کردیتے (یعنی اگر وہ ان آیتوں پر عمل کرتا جس کا وابستہ قضاء و قدر ہونا امر معلوم ہے تو اس کا رتبہ قبول بڑھتا) لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور (اس میلان کے سبب) اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا (اور آیات و احکام پر عمل چھوڑ دیا) سو (آیات کو چھوڑ کر جو پریشانی اور ذلت دائمی اس کو نصیب ہوئی اس کے اعتبار سے) اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرے (اور مار کر نکال دے) تب بھی ہانپے یا اس کو (اس کی حالت) پر چھوڑ دے تب بھی ہانپے (کسی حالت میں اس کو راحت نہیں، اسی طرح یہ شخص ذلت میں تو کتے کے مشابہ ہوگیا اور پریشانی میں کتے کی اس صفت میں شریک ہوا پس جیسی اس شخص کی حالت ہوئی) یہی حالت (عام طور پر) ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو (جو کہ توحید و رسالت پر دال ہیں) جھٹلایا (کہ وضوح حق کے بعد محض ہوٰی پرستی کے سبب حق کو ترک کرتے ہیں) سو آپ اس حال کو بیان کردیجئے شاید وہ لوگ (اس کو سن کر) کچھ سوچیں، (حقیقت میں) ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے جو ہماری آیات (دالہ علی التوحید والرسالة) کو جھٹلاتے ہیں اور (اس تکذیب سے) وہ اپنا (ہی) نقصان کرتے ہیں۔ معارف و مسائل مذکورہ آیات میں بنی اسرائیل کا ایک عبرت ناک قصہ مذکور ہے جس میں بنی اسرائیل کے ایک بڑے عالم اور مشہور مقتدا کا علم و معرفت کے اعلی معیار پر ہونے کے بعد دفعة گمراہ و مردود ہوجانے کا واقعہ مع اس کے اسباب کے بیان کیا گیا ہے اور اس میں بہت سی عبرتیں ہیں۔ اور مناسبت اس واقعہ کی پچھلی آیتوں سے یہ ہے کہ ان میں عہد و میثاق کا ذکر تھا جو ازل میں حق تعالیٰ نے تمام بنی آدم سے اور پھر خاص خاص حالات میں خاص خاص اقوام یہود و نصاری وغیرہ سے لئے تھے، اور مذکورہ آیات میں اس کا بھی ذکر آیا تھا کہ عہد کرنے والوں میں بہت سے لوگ اس عہد پر قائم نہیں رہے، جیسے یہود کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے اس دنیا میں تشریف لانے سے پہلے آپ کے آنے کا انتظار کرتے اور آپ کی صفات و شمائل لوگوں سے بیان کیا کرتے اور ان کی تصدیق کیا کرتے تھے، مگر جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو دنیا کی ذلیل اغراض کی خاطر آپ پر ایمان لانے اور آپ کا اتباع کرنے سے باز رہے۔ بنی اسرائیل کے ایک عالم مقتدا کی گمرای کا عبرتناک واقعہ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ واقعہ پڑھ کر سنائیے جس میں بنی اسرائیل کے ایک بڑے عالم و عارف اور مشہور پیشوا کا ایسا ہی حال عروج کے بعد تنزل اور ہدایت کے بعد گمراہی کا مذکور ہے کہ وسیع علم اور پوری معرفت حاصل ہونے کے باوجود، جب نفسانی اغراض اس پر غالب آئیں تو یہ سب علم و معرفت اور مقبولیت ختم ہو کر گمراہ اور ذلیل و خوار ہوگیا۔ قرآن کریم میں اس شخص کا نام اور کوئی تشخص مذکور نہیں، ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین سے اس کے بارے مختلف روایتیں مذکور ہیں، جن میں زیادہ مشہور اور جمہور کے نزدیک قابل اعتماد روایت وہ ہے جو حضرت ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کی ہے کہ اس شخص کا نام بلعم بن باعوراء ہے یہ ملک شام میں بیت المقدس کے قریب کنعان کا رہنے والا تھا، اور ایک روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل میں سے تھا، اللہ تعالیٰ کی بعض کتابوں کا علم اس کو حاصل تھا، قرآن کریم میں جو اس کی صفت میں (آیت) الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فرمایا ہے اس سے اسی علم کی طرف اشارہ ہے۔ جب غرق فرعون اور فتح مصر کے بعد حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کو قوم جبارین سے جہاد کرنے کا حکم ملا اور جبارین نے دیکھا کہ موسیٰ ؑ تمام بنی اسرائیل کا لشکر لے کر پہنچ گئے اور ان کے مقابل قوم فرعون کا غرق و غارت ہونا ان کو پہلے سے معلوم ہوچکا تھا تو ان کو فکر ہوئی اور جمع ہو کر بلعم بن با عوراء کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ ؑ سخت آدمی ہیں اور ان کے ساتھ بہت سے لشکر ہیں اور وہ اس لئے آئے ہیں کہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال دیں، آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ ان کو ہمارے مقابلہ سے واپس کردیں، وجہ یہ تھی کہ بلعم بن باعوراء کو اسم اعظم معلوم تھا وہ اس کے ذریعہ جو دعا کرتا تھا قبول ہوتی تھی۔ بلعم نے کہا افسوس ہے تم کیسی بات کہتے ہو، وہ اللہ کے نبی ہیں ان کے ساتھ اللہ کے فرشتے ہیں میں ان کے خلاف بددعا کیسے کرسکتا ہوں حالانکہ ان کا مقام جو اللہ کے نزدیک ہے وہ بھی میں جانتا ہوں اگر میں ایسا کروں گا تو میرا دین دنیا دونوں تباہ ہوجائیں گے۔ ان لوگوں نے بےحد اصرار کیا تو اس پر بلعم نے کہا کہ اچھا میں اپنے رب سے اس معاملہ میں معلوم کرلوں کہ ایسی دعا کرنے کی اجازت ہے یا نہیں، اس نے اپنے معمول کے مطابق معلوم کرنے کے لئے استخارہ یا کوئی عمل کیا، خواب میں اس کو بتلایا گیا کہ ہرگز ایسا نہ کرے، اس نے قوم کو بتلا دیا کہ مجھے بددعا کرنے سے منع کردیا گیا ہے، اس وقت قوم جبارین نے بلعم کو کوئی بڑا ہدیہ پیش کیا جو درحقیقت رشوت تھی، اس نے ہدیہ قبول کرلیا تو پھر اس قوم کے لوگ اس کے پیچھے پڑگئے کہ آپ ضرور یہ کام کردو اور الحاح و اصرار کی حد نہ رہی، بعض روایات میں ہے کہ اس کی بیوی نے مشورہ دیا کہ یہ رشوت قبول کرلیں اور ان کا کام کردیں، اس وقت بیوی کی رضا جوئی اور مال کی محبت نے اس کو اندھا کردیا تھا، اس نے حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کے خلاف بددعا کرنا شروع کی۔ اس وقت قدرت الہیہ کا عجیب کرشمہ یہ ظاہر ہوا کہ وہ جو کلمات بددعا کے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کے لئے کہنا چاہتا تھا اس کی زبان سے وہ الفاظ بددعا خود اپنی قوم جبارین کے لئے نکلے، وہ چلا اٹھے کہ تم تو ہمارے لئے بددعا کر رہے ہو، بلعم نے جواب دیا کہ یہ میرے اختیار سے باہر ہے میری زبان اس کے خلاف پر قادر نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس قوم پر بھی تباہی نازل ہوئی اور بلعم کو یہ سزا ملی کہ اس کی زبان اس کے سینہ پر لٹک گئی، اور اب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ میری تو دنیا و آخرت تباہ ہوگئی اب دعا تو میری چلتی نہیں لیکن میں تمہیں ایک چال بتاتا ہوں جس کے ذریعہ تم موسیٰ ؑ کی قوم پر غالب آسکتے ہو۔ وہ یہ ہے کہ تم اپنی حسین لڑکیوں کو مزین کر کے بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیج دو اور ان کو یہ تاکید کردو کہ بنی اسرائیل کے لوگ ان کے ساتھ جو کچھ کریں کرنے دیں، رکاوٹ نہ بنیں، یہ لوگ مسافر ہیں، اپنے گھروں سے مدت کے نکلے ہوئے ہیں، اس تدبیر سے ممکن ہے کہ یہ لوگ حرام کاری میں مبتلا ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک حرام کاری انتہائی مبغوض چیز ہے جس قوم میں یہ ہوا، اس پر ضرور قہر و عذاب نازل ہوتا ہے، وہ فاتح و کامران نہیں ہوسکتی۔ بلعم کی یہ شیطانی چال ان کی سمجھ میں آگئی، اس پر عمل کیا گیا، بنی اسرائیل کا ایک بڑا آدمی اس چال کا شکار ہوگیا، حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو اس وبال سے روکا مگر وہ باز نہ آیا، اور شیطانی جال میں مبتلا ہوگیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل میں سخت قسم کا طاعون پھیلا جس سے ایک روز میں ستر ہزار اسرئیلی مرگئے، یہاں تک کہ جس شخص نے برا کام کیا تھا اس جوڑے کو بنی اسرائیل نے قتل کرکے منظر عام پر ٹانگ دیا کہ سب لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور توبہ کی، اس وقت یہ طاعون رفع ہوا۔ قرآن مجید کی مذکور الصدر آیات میں اس کے متعلق فرمایا (آیت) فَانْسَلَخَ مِنْهَا یعنی ہم نے اپنی آیات اور ان کا علم و معرفت اس شخص کو عطا کیا تھا لیکن وہ اس سے نکل گیا، انسلاخ کا لفظ اصل میں جانور کے کھال کے اندر سے یا سانپ کا کیچلی کے اندر سے نکل جانے کے لئے بولا جاتا ہے اس جگہ علم آیات کو ایک لباس یا کھال کے ساتھ تشبیہ دے کر یہ بتلایا گیا کہ یہ شخص علم و معرفت سے بالکل جدا ہوگیا، (آیت) فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ یعنی پیچھے لگ گیا اس کے شیطان، مطلب یہ ہے کہ جب تک علم آیات اور ذکر اللہ اس کے ساتھ تھا، شیطان کا قابو اس پر نہ چل سکتا تھا جب وہ جاتا رہا تو شیطان اس پر قابو یافتہ ہوگیا (آیت) فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ ، یعنی پھر ہوگیا وہ گمراہوں میں سے، مطلب یہ ہے کہ شیطان کے قابو میں آنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہوں میں شامل ہوگیا۔
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تو بلند کرتے اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت، لیکن وہ تو ہو رہا زمین کا اور پیچھے ہولیا اپنی خواہش کے تو اس کا حال ایسا ہے جیسے کتا، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو سو بیان کر یہ احوال تاکہ وہ دھیان کریں

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ، یعنی اگر ہم چاہتے تو انہی آیات کے ذریعہ اس کو بلند مرتبہ کردیتے، لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے لگا، لفظ اَخْلَدَ ، اخلاد سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز کی طرف میلان کے یا کسی جگہ کو لازم پکڑنے کے اور ارض کے اصلی معنی زمین کے ہیں، دنیا کی جتنی چیزیں ہیں وہ سب یا خود زمین ہے یا زمین سے متعلق گھر، جائیداد، کھیتی، باغ وغیرہ ہیں، یا زمین سے ہی پیدا ہونے والی کروڑوں چیزیں ہیں جو انسان کی زندگی اور عیش کا مدار ہیں، اس لئے لفظ ارض بول کر اس جگہ پوری دنیا مراد لی گئی ہے، اس آیت میں اس طرف اشارہ کردیا گیا کہ آیات الہیہ اور ان کا علم ہی اصل میں سر بلندی اور ترقی کا سبب ہیں، لیکن جو شخص ان آیات کا احترام نہ کرے اور دنیا کی ذلیل خواہشات کو آیات الہیہ پر مقدم جانے اس کے لئے یہی علم ایک وبال بن جاتا ہے۔ اسی وبال کا ذکر آیت میں اس طرح کیا گیا ہے، (آیت) فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ، لفظ لھث کے اصل معنی یہ ہیں کہ زبان نکال کر سختی کے ساتھ سانس لیا جائے۔ ہر جاندار اپنی زندگی میں اس کا محتاج ہے کہ اندر کی گرم اور زہریلی ہوا کو باہر پھینکے اور باہر سے تازہ ہوا حلق اور ناک کے راستہ سے اندر لے جائے، اسی پر جاندار کی زندگی کا مدار ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کیلئے اس اہم کام کو ایسا آسان کردیا ہے کہ بلا ارادہ اور بلا محنت اس کی ناک کے نتھنوں سے اندر کی ہوا باہر اور باہر کی تازہ ہوا اندر جاتی ہے، اس میں نہ اس کو کوئی زور لگانا پڑتا ہے نہ کسی اختیاری عمل کی ضرورت پڑتی ہے، قدرتی اور فطری طور پر یہ کام مسلسل خود بخود ہوتا رہتا ہے۔ جانداروں میں صرف کتا ایسا جانور ہے جس کو اپنے سانس کی آمد و رفت میں زبان نکال کر زور لگانا اور محنت کرنی پڑتی ہے، اور دوسرے جانوروں کی یہ کیفیت صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ ان پر کوئی حملہ کرے یا وہ تھک جائیں یا کوئی اتفاقی محنت ان پر پڑجائے۔ قرآن کریم نے اس شخص کی کتے کے ساتھ مثال دی، وجہ یہ ہے کہ حکم خداوندی کی خلاف ورزی کرنے کی اس کو یہ سزا ملی تھی کہ زبان منہ سے نکل کر سینہ پر لٹک گئی تھی اور وہ برابر کتے کی طرح ہانپتا تھا خواہ کوئی اس پر حملہ کرے یا نہ کرے وہ ہر حال میں ہانپتا رہتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا، یعنی یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ مراد اس سے اہل مکہ ہیں جو ہمیشہ سے یہ تمنا کیا کرتے تھے کہ ان کے پاس کوئی ہادی اور رہبر آئے جو ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف بلائے اور اطاعت کے صحیح طریقے سکھائے، پھر جب وہ رہبر آگئے اور ایسی کھلی نشانیوں کے ساتھ آئے کہ ان کے صدق و حقانیت میں ذرا بھی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہی تو ان کی تکذیب کرنے اور آیات الہیہ سے روگردانی کرنے لگے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جو بعثت نبوی سے پہلے آپ کی علامات و خصوصیات تورات میں پڑھ کر لوگوں کو بتلایا کرتے اور آپ کی تشریف آوری کا انتظار کیا کرتے تھے، مگر جب آپ تشریف لائے تو سب سے زیادہ دشمنی اور مخالفت انہی لوگوں نے کی اور تورات کے احکام سے ایسے صاف نکل گئے جیسے بلعم بن باعوراء نکل گیا تھا۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ، یعنی آپ اس شخص کا واقعہ ان لوگوں کو سنا دیجئے، شاید یہ کچھ سوچیں اور اس کے واقعہ سے عبرت حاصل کریں۔
Ayah 7:177

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

بری مثال ہے ان لوگوں کی کہ جھٹلایا انہوں نے ہماری آیتوں کو اور وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔

تیسری آیت میں فرمایا کہ آیات الہیہ کو جھٹلانے والوں کا برا حال ہے اور یہ لوگ اپنی ہی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں اور کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے۔ آیات مذکورہ اور ان میں بیان کئے ہوئے واقعہ اہل فکر کے لئے بہت سے فوائد اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اول یہ کہ کسی شخص کو اپنے علم و فضل اور زہد و عبادت پر باز نہیں کرنا چاہئے، حالات بدلتے اور بگڑتے ہوئے دیر نہیں لگتی، جیسے بلعم بن باعوراء کا حشر ہوا، اطاعت و عبادت کے ساتھ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور استقامت کی دعا اور اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہئے۔ دوسرے یہ کہ ایسے مواقع اور ان کے مقدمات سے بھی آدمی کو پرہیز کرنا چاہئے جہاں اس کو اپنے دین کی خرابی کا اندیشہ ہو، خصوصا مال اور اہل و عیال کی محبت میں اس انجام بد کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ تیسرے یہ کہ مفسد اور گمراہ لوگوں کے ساتھ تعلق اور ان کا ہدیہ یا دعوت وغیرہ قبول کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہئے، بلعم اس بلاء میں ان کا ہدیہ قبول کرنے کے سبب مبتلا ہوا۔ چوتھے یہ کہ بےحیائی اور حرام کاری پوری قوم کے لئے تباہی اور بربادی کا سامان ہوتی ہے، جو قوم اپنے آپ کو بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ رکھنا چاہے اس پر لازم ہے کہ اپنی قوم کو بےحیائی کے کاموں سے پورے اہتمام کے ساتھ روکے ورنہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینا ہوگا۔ پانچویں یہ کہ آیات الہیہ کی خلاف ورزی خود بھی ایک عذاب ہے اور اس کی وجہ سے شیطان اس پر غالب آکر ہزاروں خرابیوں میں بھی مبتلا کردیتا ہے، اس لئے جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے علم دین عطا کیا ہو اس کو چاہئے کہ اس کی قدر کرے اور اصلاح عمل کی فکر سے کسی وقت فارغ نہ ہو۔
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو اللہ رستہ دے وہ ہی رستہ پاوے اور جس کو وہ بچلاوے سو وہی ہیں ٹوٹے میں،

خلاصہ تفسیر جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے والا وہی ہوتا ہے اور جس کو گمراہ کردے سو ایسے ہی لوگ (ابدی) خسارہ میں پڑجاتے ہیں (پھر ان سے توقع ہدایت کی کرنا اور ہدایت نہ ہونے سے مغموم ہونا بیکار) اور (جب وہ لوگ اپنے قوٰی مُدرکہ سے کام ہی نہیں لیتے تو ہدایت کہاں سے ہو، سو ان کے نصیب میں تو دوزخ ہی ہے چنانچہ) ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ (ہی میں رہنے) کے لئے پیدا کئے ہیں جن کے (نام کو تو) دل (ہیں مگر) ایسے ہیں جن سے (حق بات کو) نہیں سمجھتے (چونکہ اس کا ارادہ ہی نہیں کرتے) اور جن کے (نام کو تو) آنکھیں (ہیں مگر) ایسی ہیں جن سے (نظر استدلال کے طور پر کسی چیز کو) نہیں دیکھتے اور جن کے (نام کو تو) کان (ہیں مگر) ایسے ہیں جن سے (متوجہ ہو کر حق بات کو) نہیں سنتے (غرض) یہ لوگ (آخرت کی طرف متوجہ ہونے میں) چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (اس حیثیت سے کہ چوپایوں کو آخرت کی طرف متوجہ ہونے کا مکلف تو نہیں بنایا گیا سو ان کا متوجہ نہ ہونا مذموم نہیں اور ان کو تو اس کا حکم ہے پھر بھی بےتوجہی کرتے ہیں سو اس اعتبار سے) یہ لوگ (ان چوپایوں سے بھی) زیادہ بےراہ ہیں (کیونکہ) یہ لوگ (باوجود توجہ دلانے کے آخرت سے) غافل ہیں (بخلاف چوپایوں کے، جیسا اوپر بیان ہوا) معارف و مسائل پہلی آیت کا مضمون یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے صحیح راستہ کی ہدایت کردی وہ ہی ہدایت پانے والا ہے اور جن کو گمراہ کردیا تو وہ ہی خسارے اور نقصان میں پڑنے والے ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید کی بہت سی آیات میں بار بار آیا ہے، جس میں بتلایا گیا ہے کہ ہدایت اور گمراہی اور ہر خیر و شر، اچھے برے کا خالق صرف اللہ جل شانہ ہے، انسان کے سامنے اچھے برے، صحیح غلط دونوں راستے کردیئے گئے ہیں اور اس کو ایک خاص قسم کا اختیار دیا گیا ہے وہ اپنے اس اختیار کو اگر اچھے اور صحیح راستہ میں خرچ کرتا ہے تو ثواب اور جنت کا مستحق ہوتا ہے، برے اور غلط راستے میں لگاتا ہے تو عذاب اور جہنم میں ٹھکانا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہدایت پانے والے کو بصیغہ مفرد ذکر کیا گیا اور گمراہی اختیار کرنے والوں کو بصیغہ جمع، اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ہدایت کا راستہ صرف ایک ہی دین حق ہے جو آدم ؑ سے شروع ہو کر خاتم الانبیاء ﷺ تک سب انبیاء (علیہم السلام) کا طریق رہا ہے، اصول سب کے مشترک اور ایک ہیں، اس لئے حق کی پیروی کرنے والے خواہ کسی زمانہ میں اور کسی نبی کی امت میں اور کسی دین و مذہب سے متعلق ہوں وہ سب ایک ہیں۔ اور گمراہی کے ہزاروں راستے الگ الگ ہیں اس لئے گمراہوں کو بصیغہ جمع (آیت) فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ فرمایا گیا۔ نیز اس آیت میں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ گمراہی اختیار کرنے والوں کی سزا اور انجام بد کا ذکر کیا گیا کہ وہ لوگ خسارہ میں پڑنے والے ہیں، اس کے بالمقابل ہدایت یافتہ حضرات کی کسی خاص جزاء کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ہدایت ایسی عظیم الشان نعمت ہے جو دین و دنیا کی ساری نعمتوں اور رحمتوں پر حاوی ہے، دنیا میں حیات طیبہ اور آخرت میں جنت کی لازوال نعمتیں سب ہدایت ہی کے ساتھ وابستہ ہیں، اس لحاظ سے ہدایت خود ایک بھاری نعمت اور بہت بڑا انعام ہے جس کے بعد ان نعمتوں کے شمار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی جو ہدایت کے صلہ میں ملنے والی ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کوئی بڑی حکومت و سطلنت کا مالک کسی شخص کو یہ کہہ دے کہ تم ہمارے مقرب ہو ہم تمہاری بات سنیں اور مانیں گے تو ہر جاننے والا جانتا ہے کہ اس سے بڑا کوئی عہدہ و منصب یا کوئی دولت اس کے لئے نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو ہدایت یافتہ کا خطاب دے دیا تو اس کو دین و دنیا کی ساری نعمتیں حاصل ہوگئیں، اسی لئے بزرگان سلف نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر و عبادت خود ہی اپنی جزاء اور اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان عطا ہے، جو شخص ذکر اللہ میں مشغول ہے وہ اسی وقت اللہ تعالیٰ کا انعام نقد پارہا ہے، آخرت و جنت کا انعام دوسری نعمت ہے، اسی سے قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم بھی سمجھ میں آجاتا ہے جس میں فرمایا (آیت) جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَاۗءً ، کہ ایک ہی چیز کو جزاء بھی فرمایا گیا اور عطاء بھی، حالانکہ دونوں چیزیں الگ الگ ہیں، جزاء کسی عمل کا معاوضہ ہوتا ہے اور عطاء بلا معاوضہ۔ اس میں جزاء وعطاء کی حقیقت بتلادی کہ جس چیز کو تم جزاء اور عمل کا بدلہ سمجھتے ہو وہ بھی درحقیقت ہماری عطاء و انعام ہی ہے کیونکہ جس عمل کا یہ بدلہ ملا ہے وہ عمل خود ہمارا انعام تھا۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے پیدا کئے دوزخ کے واسطے بہت سے جن اور آدمی، ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں، اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں، اور کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں، وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ، وہی لوگ ہیں غافل۔

دوسری آیت میں بھی اسی مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ ہدایت اور گمراہی دونوں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کو ہدایت مل گئی اس سے سارے کام ہدایت ہی کے مناسب سرزد ہوتے ہیں خرد چون دفتر تلقین کشاید زمن آن در وجود آید کہ باید اور جو گمراہی میں پڑگیا اس کے سارے کام اسی انداز کے ہوتے ہیں۔ اس لئے فرمایا (آیت) وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَ آ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا، یعنی ہم نے جہنم کے لئے پیدا کیا ہے بہت سے جنات اور انسانوں کو جن کی علامات یہ ہیں کہ ان کے پاس سمجھنے کے لئے قلوب اور دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سننے کے لئے کان سب کچھ موجود ہیں، جن کو وہ صحیح استعمال کریں تو صراط مستقیم کو پالیں اور نفع نقصان کو سمجھ لیں، لیکن ان کا یہ حال ہے کہ نہ وہ قلوب سے بات سمجھتے ہیں، نہ آنکھوں سے دیکھنے کی چیزوں کو دیکھتے ہیں اور نہ کانوں سے سننے کی چیزوں کو سنتے ہیں۔ اس میں یہ بتلا دیا کہ اگرچہ تقدیر الہی ایک راز سربستہ ہے جس کا کسی کو اس دنیا میں علم نہیں ہوتا لیکن اس کی علامات سے کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اہل جہنم کی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں کو ان کے صحیح کاموں میں نہ لگائیں، صحیح علم و مغفرت کے لئے جو اللہ جل شانہ نے عقل اور آنکھ کان عطا فرمائے ہیں ان کو وہ بےمصرف چیزوں میں لگاتے ہیں اور اصل مقصد جس کے ذریعہ دائمی اور لازوال راحت و دولت مل سکتی تھی اس کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ آیت میں کافروں سے سمجھنے، دیکھنے، سننے کی نفی جو بظاہر مشاہدہ کے خلاف ہے، کس حقیقت پر مبنی ہے ؟ اس آیت میں ان لوگوں کی سمجھ بوجھ اور بینائی و شنوائی سب چیزوں کی بالکل نفی کی گئی ہے کہ یہ نہ کچھ سمجھتے ہیں نہ کوئی چیز دیکھتے ہیں نہ کوئی کلام سنتے ہیں، حالانکہ واقعہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہ پاگل و دیوانے ہوتے ہیں کہ کچھ نہ سنیں، بلکہ مشاہدہ یہ ہے کہ دنیا کے کاموں میں یہ اکثر لوگوں سے زیادہ چالاک اور ہوشیار نظر آتے ہیں۔ مگر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے ہر مخلوق کے اندر اس کی ضرورت کے مطابق اور اس کے مقصد حیات کے مناسب عقل و شعور رکھا ہے، جن چیزوں کو ہم بےعقل اور بےحسن و بےشعور کہتے اور سمجھتے ہیں درحقیقت وہ بھی حس و ادراک اور عقل و شعور سے خالی نہیں، البتہ یہ چیزیں ان میں اسی مقدار سے ہیں جو مقدار ان کے مقصد وجود کو پورا کرنے کے لئے کافی ہو، سب سے کم عقل و شعور اور حس جمادات یعنی مٹی اور پھتر وغیرہ میں ہے، جن کو نہ کچھ بڑھنا ہے نہ اپنی جگہ سے نکلنا اور چلنا پھرنا، وہ اتنی قلیل ہے کہ ان میں حیات کے آثار کا پہچاننا بھی بہت دشوار ہے، اس سے کچھ زائد نباتات میں ہے جن کے مقصد وجود میں بڑھنا، پھلنا پھولنا داخل ہے، اسی کے مناسب عقل و ادراک ان کو دے دیا گیا، اس کے بعد حیوانات کا نمبر ہے، جن کے مقصد وجود میں بڑھنا بھی داخل ہے چلنا پھرنا بھی اور چل پھر کر اپنی غذا حاصل کرنا بھی اور مضر و مہلک چیزوں سے بچنا بھاگنا بھی اور نسل پیدا کرنا بھی، اس لئے ان کو جو عقل و شعور ملا وہ اوروں سے زیادہ ملا مگر اتنا ہی جس سے وہ اپنے کھانے پینے پیٹ بھرنے سونے جاگنے وغیرہ کا انتظام کرلیں اور دشمن سے اپنی جان بچالیں، سب کے بعد انسان کا نمبر ہے جس کا مقصد وجود سب چیزوں سے آگے یہ ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے کو پہچانے، اس کی مرضی کے مطابق چلے، اس کی ناپسند چیزوں سے پرہیز کرے، ساری مخلوقات کے حقائق پر نظر ڈالے اور ان سے کام لے اور ہر چیز کے نتائج اور عواقب کو سمجھے، کھرے کھوٹے اچھے برے کو پرکھے، برائیوں سے بچے، اچھائیوں کو اختیار کرے، اسی نوع انسانی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کو ترقی کرنے کا بڑا میدان ملا ہے جو دوسری نوع کو حاصل نہیں، یہ جب ترقی کرتا ہے تو فرشتوں کی صف سے آگے مقام پاتا ہے، اسی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے اعمال و افعال پر جزاء و سزا ہے، اسی لئے اس کو عقل و شعور تمام انواع مخلوقات سے زائد ملا ہے تاکہ وہ عام حیوانات کی سطح سے بلند ہو کر اپنے مقصد وجود کے مناسب کاموں میں لگے، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مخصوص عقل و شعور اور اس کی بخشی ہوئی بینائی و شنوائی کو اسی کام میں صرف کرے۔ جب یہ حقیقت سامنے آگئی تو ایک انسان کا سمجھنا، دیکھنا، سننا دوسرے جانوروں کے سمجھنے، دیکھنے، سننے سے مختلف ہونا چاہئے اگر اس نے بھی صرف انہی چیزوں میں اپنی عقل اور بینائی و شنوائی کی طاقتوں کو لگا دیا جن میں دوسرے جانور لگاتے ہیں اور جو کام انسان کے لئے مخصوص تھا کہ ہر چیز کے نتائج و عواقب پر نظر رکھے اور برائیوں سے بچے بھلائیوں کو اختیار کرے، ان پر دھیان نہ دیا، اس کو باوجود عقل رکھنے کے بےعقل، باوجود بینا ہونے نابینا، باوجود سننے والا ہونے کے بہرا ہی کہا جائے گا، اسی لئے قرآن کریم نے دوسرے جگہ ایسے لوگوں کو (آیت) ۻ بُكْمٌ عُمْىٌ، یعنی بہرے گونگے، اندھے فرمایا ہے۔ اس میں اس کا بیان نہیں کہ وہ اپنے کھانے پینے، رہنے سہنے اور سونے جاگنے کی ضروریات کو سمجھتے نہیں، یا یہ کہ ان کے متعلق چیزوں کو دیکھتے سنتے نہیں بلکہ خود قرآن کریم نے ان لوگوں کے بارے میں ایک جگہ فرمایا، (آیت) يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ ، اور فرعون و ہامان اور ان کی قوموں کے بارے میں فرمایا (آیت) وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ ، یعنی یہ لوگ بڑے روشن خیال تھے مگر چونکہ ان کی دانائی و بینائی کا سارا مصرف صرف اتنا ہی رہا جتنا عام جانوروں کا ہوتا ہے کہ اپنے تن بدن کی خدمت کرلیں، روح کی خدمت اور اس کی راحت کے متعلق کچھ نہ سوچا نہ دیکھا، اس لئے وہ ان معاشیات اور عمرانیات میں کتنی ہی ترقی کرلیں، چاند اور مریخ کو فتح کرلیں، مصنوعی سیاروں سے دنیا کی فضا کو بھر دیں لیکن یہ سب خدمت صرف تن بدن کے ڈھانچہ اور پیٹ ہی کی ہے، اس سے آگے نہیں جو روح کے لئے دائمی چین و راحت کا سامان بنے، اس لئے قرآن کریم ان کو اندھا بہرا کہتا ہے اور اس آیت میں ان کے سمجھنے، سننے کی نفی کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو سمجھنا چاہئے تھا وہ نہیں سمجھے جو دیکھنا چاہئے تھا وہ نہیں دیکھا جو سننا چاہئے تھا وہ نہیں سنا، اور جو کچھ سمجھا اور دیکھا اور سنا وہ عام حیوانات کی سطح کی چیزیں تھیں جن میں گدھا گھوڑا، بیل بکری سب شریک ہیں۔ اسی لئے آیت مذکورہ کے آخر میں ان لوگوں کے متعلق فرمایا، (آیت) اُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ ، کہ یہ لوگ چوپاؤں کی طرح ہیں کہ بدن کے صرف موجودہ ڈھانچہ کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں، روٹی اور پیٹ ان کے فکر کی آخری معراج ہے، پھر فرمایا (آیت) بَلْ هُمْ اَضَلُّ بلکہ یہ لوگ چوپاؤں اور جانوروں سے بھی زیادہ بیوقوف ہیں، وجہ یہ ہے کہ جانور احکام شرعیہ کے مکلف نہیں، ان کے لئے جزاء و سزاء نہیں، ان کا مقصد اگر صرف موجودہ زندگی اور اس کے ڈھانچہ کی درستی تک رہے تو صحیح ہے، مگر انسان کو تو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور اس پر جزاء و سزا ہونے والی ہے، اس لئے اس کا ان کاموں کو اپنا مقصد سمجھ بیٹھنا جانوروں سے زیادہ بےوقوفی ہے، اس کے علاوہ جانور اپنے آقا ومالک کی خدمت پوری بجا لاتے ہیں اور نافرمان انسان اپنے رب اور مالک کی خدمت میں قصور کرتا ہے اس لئے وہ جانوروں سے زیادہ بیوقوف اور غافل ٹھہرا، اسی لئے فرمایا (آیت) اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔