7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 7:133–135

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے بھیجا ان پر طوفان اور ٹڈی اور چچڑی اور مینڈک اور خون بہت سی نشانیاں جدی جدی، پھر بھی تکبر کرتے رہے اور تھے وہ لوگ گنہگار،

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب پڑتا ان پر کوئی عذاب تو کہتے اے موسیٰ دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے جیسا کہ اس نے بتلارکھا ہے تجھ کو اگر تو نے دور کردیا ہم سے یہ عذاب تو بیشک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب اٹھا لیا ان سے عذاب ایک مدت تک کہ ان کو اس مدت تک پہنچنا تھا اسی وقت عہد توڑڈالتے،

خلاصہ تفسیر (جب ایسی سرکشی اختیار کی تو) پھر ہم نے (ان دو بلاؤں کے علاوہ یہ بلائیں مسلط کیں کہ (3) ان پر (کثرت بارش کا) طوفان بھیجا (جس سے مال وجان تلف ہونے کا اندیشہ ہوگیا) اور (اس سے گھبرائے تو موسیٰ ؑ سے عہد و پیمان کیا کہ ہم سے یہ بلا دور کر ایئے تو ہم ایمان لائیں اور جو آپ کہیں اطاعت کریں پھر جب وہ بلا دور ہوئی اور دل خواہ غلہ وغیرہ نکلا پھر بےفکر ہوگئے کہ اب تو جان بھی بچ گئی مال بھی خوب ہوگا ور بدستور اپنے کفر و طغیان پر اڑے رہے تو ہم نے ان کے کھیتوں پر (4) ٹڈیاں (مسلط کیں) اور (جب پھر کھیتوں کو تباہ ہوتے دیکھا تو گھبرا کر پھر ویسے ہی عہد و پیمان کئے اور پھر جب آپ کی دعا سے وہ بلا دور ہوئی اور غلہ وغیرہ تیار کرکے اپنے گھر لے آئے پھر بےفکر ہوگئے کہ اب تو غلہ قابو میں آگیا اور بدستور اپنے کفر و مخالفت پر جمے رہے تو ہم نے اس غلہ میں (5) گھن کا کیڑا (پیدا کردیا) اور (جب گھبرا کر پھر اسی طرح عہد و پیمان کرکے دعا کرائی اور وہ بلا بھی دور ہوئی اور اس سے مطمئن ہوگئے کہ اب پیس کوٹ کر کھائیں پئیں گے، پھر وہی کفر اور وہی مخالفت، تو اس وقت ہم نے ان کے کھانے کو یوں بےلطف کردیا کہ ان پر (6) مینڈک (ہجوم کرکے ان کے کھانے کے برتنوں میں ہنڈیوں میں گرنا شروع ہوئے جس سے سب کھانا غارت ہو اور ویسے بھی گھر میں بیٹھنا مشکل کردیا) اور (پینا یوں بےلطف کردیا کہ (7) ان کا پانی) خون (ہوجاتا، منہ میں لیا اور خون بنا، غرض ان پر یہ بلائیں مسلط ہوئیں) کہ یہ سب (موسیٰ ؑ کے) کھلے کھلے معجزے تھے (کہ ان کی تکذیب و مخالفت پر ان کا ظہور ہوا اور یہ ساتوں عصا اور ید بیضاء ملا کر آیات تسعہ کہلاتے ہیں) سو (چاہئے تھا کہ ان معجزات وآیات قہر کو دیکھ کر ڈھیلے پڑجاتے مگر) وہ (پھر بھی) تکبر (ہی) کرتے رہے اور وہ لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ (کہ اتنی سختی پر بھی باز نہ آتے تھے) اور جب ان پر کوئی عذاب (مذکورہ بلاؤں میں سے) واقع ہوتا تو یوں کہتے، اے موسیٰ ! ہمارے لئے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے (وہ بات قہر کا دور کردینا ہے ہمارے باز آجانے پر، ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی رہا کرکے آپ کے ہمراہ کردیں گے پھر جب (ببرکت دعائے موسیٰ ؑ ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے تو وہ فورا ہی عہد شکنی کرنے لگتے (جیسا اوپر بیان ہوا) پھر (جب ہر ہر طرح دیکھ لیا کہ وہ اپنی شرارت سے باز ہی نہیں آتے تب اس وقت) ہم نے ان سے (پورا) بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کردیا (جیسا دوسری جگہ ہے) اس سبب سے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی بےتوجہی کرتے تھے (اور تکذیب و غفلت بھی ایسی ویسی نہیں بلکہ اصرار وعناد کے ساتھ کہ اطاعت کا وعدہ کرلیں اور توڑدیں)۔ معارف و مسائل آیات متذکرہ میں قوم فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا باقی قصہ مذکور ہے کہ فرعون کے جادوگر حضرت موسیٰ ؑ کے مقابلہ میں ہار گئے اور ایمان لائے، مگر قوم فرعون اسی طرح اپنی سرکشی اور کفر پر جمی رہی۔ اس واقعہ کے بعد تاریخی روایات کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ بیس (20) سال مصر میں مقیم رہ کر ان لوگوں کو اللہ کا پیغام سناتے اور حق کی طرف دعوت دیتے تھے، اور اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو نو 9 معجزات عطا فرمائے، جن کے ذریعہ قوم فرعون کو متنبہ کر کے راستہ پر لانا مقصود تھا، قرآن کریم میں وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍ میں انہی نو معجزات کا بیان ہے۔ ان نو معجزات میں سے سب سے پہلے دو معجزے، عصا اور ید بیضاء کا ظہور فرعون کے دربار میں ہوا اور انہی دو معجزوں کے ذریعہ جادوگروں کے مقابلہ میں موسیٰ ؑ نے فتح حاصل کی، اس کے بعد ایک معجزہ وہ تھا جس کا ذکر اس سے پہلی آیات میں آچکا ہے کہ قوم فرعون پر ان کی ضد اور کجروی کے سبب قحط مسلط کردیا گیا، ان کی زمینوں اور باغوں میں پیداوار بہت گھٹ گئی جس سے یہ سخت پریشان ہوئے اور بالآخر حضرت موسیٰ ؑ سے قحط رفع ہونے کے لئے دعا کرائی، مگر جب قحط رفع ہوگیا تو پھر اپنی سرکشی میں مبتلا ہوگئے اور لگے یہ کنے کہ یہ قحط تو موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کے سبب ہوا تھا، اب جو قحط رفع ہوا یہ ہمارے حال کا تقاضا ہے) باقی چھ آیات و معجزات کا بیان مذکورہ آیتوں میں ہےفَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ ، یعنی پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون۔ اس میں قوم فرعون پر مسلط ہونے والے پانچ قسم کے عذابوں کا ذکر ہے اور ان کو اس آیت میں اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فرمایا ہے جس کے معنی حضرت عبداللہ بن عباس کی تفسیر کے مطابق یہ ہیں کہ ان میں سے ہر عذاب ایک معین وقت تک رہا پھر موقوف ہوگیا، اور کچھ مہلت دی گئی اس کے بعد دوسرا اور تیسرا عذاب، اسی طرح الگ الگ ہو کر ان پر آیا۔ اسی کو ترجمہ شیخ الہند میں اختیار کیا گیا ہے۔ ابن منذر نے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت سے نقل کیا ہے کہ ان میں سے ہر عذاب قوم فرعون پر سات روز تک مسلط رہتا تھا، ہفتہ کے دن شروع ہو کر دوسرے ہفتہ کے دن رفع ہوجاتا اور پھر تین ہفتے کی مہلت ان کو دی جاتی تھی۔ امام بغوی نے بروایت ابن عباس نقل کیا ہے کہ جب پہلی مرتبہ قوم فرعون پر قحط کا عذاب مسلط ہوا، اور موسیٰ ؑ کی دعا سے رفع ہوگیا مگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! یہ ایسے سرکش لوگ ہیں کہ عذاب قحط سے بھی متاثر نہ ہوئے اور معاہدہ کر کے پھرگئے، اب ان پر کوئی ایسا عذاب مسلط فرمادیجئے جو ان کے لئے دردناک ہو، اور ہماری قوم کے لئے ایک وعظ کا کام دے اور بعد میں آنے والوں کے لئے درس عبرت بنے، تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ان پر طوفان کا عذاب بھیج دیا۔ مشہور مفسرین کے نزدیک طوفان سے مراد پانی کا طوفان ہے، قوم فرعون کے سب گھروں اور زمینوں کو پانی کے طوفان نے گھیر لیا نہ کہیں بیٹھنے لیٹنے کی جگہ رہی نہ زمین میں کچھ کاشت وغیرہ کرنے کی، اور عجیب بات یہ تھی کہ قوم فرعون کے مکانات اور زمینوں کے ساتھ ہی بنی اسرئیل کے مکانات اور زمینیں تھیں، بنی اسرائیل کے مکانات اور زمینیں سب بدستور خشک تھیں کہیں طوفان کا پانی نہ تھا اور قوم فرعون کے سارے گھر اور زمین اس طوفان سے لبریز تھے۔ اس طوفان سے گھبرا کر قوم فرعون نے موسیٰ ؑ سے التجا کی کہ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہم سے دور فرمادیں تو ہم ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آزاد کردیں گے، حضرت موسیٰ ؑ کی دعا سے یہ طوفان دور ہوا۔ اور اس کے بعد ان کی کھیتیاں پہلے سے زیادہ ہری بھری ہوگئیں، تو اب یہ کہنے لگے کہ درحقیقت یہ طوفان کوئی عذاب نہیں تھا بلکہ ہمارے فائدے کے لئے آیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری زمینوں کی پیداوار بڑھ گئی، اس لئے موسیٰ ؑ کا اس میں کچھ دخل نہیں اور یہ کہہ کر سب عہد و پیمان نظر انداز کردیئے۔ اس طرح یہ لوگ ایک مہینہ امن و عافیت سے رہتے رہے، اللہ نے ان کو غور وفکر کی مہلت دی مگر یہ ہوش میں نہ آئے تو اب دوسرا عذاب ٹڈیوں کا ان پر مسلط کردیا گیا، ٹڈی دل نے ان کی ساری کھیتیوں اور باغوں کو کھالیا، بعض روایات میں ہے کہ لکڑی کے دروازوں اور چھتوں کو اور گھریلو سب سامان کو ٹڈیاں کھا گئیں، اور اس عذاب کے وقت بھی موسیٰ ؑ کا یہ معجزہ سامنے تھا کہ یہ سارا ٹڈی دل صرف قبطی یعنی قوم فرعون کے باغوں، کھیتیوں، گھروں پر چھایا ہوا تھا، پاس ملے ہوئے اسرائیلیوں کے مکانات، زمینیں، باغ سب اس سے محفوظ تھے۔ اس وقت پھر قوم فرعون چلا اٹھی اور حضرت موسیٰ ؑ سے درخواست کی کہ اس مرتبہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کردیں یہ عذاب، ہٹ جائے تو ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں کہ ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آزاد کردیں گے، موسیٰ ؑ نے پھر دعا کی اور یہ عذاب ہٹ گیا، مگر عذاب کے ہٹنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ہمارے پاس اب بھی اتنا ذخیرہ غلہ کا موجود ہے کہ ہم سال بھر کھا سکتے ہیں تو پھر سرکشی اور عہد شکنی پر آمادہ ہوگئے، نہ ایمان لائے نہ بنی اسرائیل کو آزاد کیا۔ ایک مہینہ پھر اللہ تعالیٰ نے مہلت دی، اس مہلت کے بعد تیسرا عذاب قمل کا مسلط ہوا، لفظ قمل اس جوں کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو انسان کے بالوں اور کپڑوں میں پیدا ہوجاتی ہے، اور اس کیڑے کو بھی کہتے ہیں جو غلہ میں لگ جاتا ہے جس کو گھن بھی کہا جاتا ہے۔ قمل کا یہ عذاب ممکن ہے کہ دونوں قسم کے کیڑوں پر مشتمل ہو کہ غلوں میں گھن لگ گیا اور انسانوں کے بدن اور کپڑوں میں جوؤں کا طوفان امڈ آیا۔ غلوں کا حال اس گھن نے ایسا کردیا کہ دس سیر گیہوں پیسنے کے لئے نکالیں تو اس میں تین سیر آٹا بھی نہ نکلے۔ اور جوؤں نے ان کے بال اور پلکیں اور بھویں تک کھالیں۔ آخر پھر قوم فرعون بلبلا اٹھی اور موسیٰ ؑ سے فریاد کی کہ اب کی مرتبہ ہرگز وعدہ سے نہ پھریں گے آپ دعا کردیں، حضرت موسیٰ ؑ کی دعا سے یہ عذاب بھی ٹل گیا، مگر جن بدنصیبوں کو ہلاک ہی ہونا تھا وہ کہاں عہد کو پورا کرتے، پھر عافیت ملتے ہی سب کچھ بھول گئے اور منکر ہوگئے۔ پھر ایک ماہ کی مہلت ایسی آرام و راحت کے ساتھ ان کو دی گئی مگر اس مہلت سے بھی کوئی فائدہ نہ اٹھایا تو چوتھا عذاب مینڈکوں کا ان پر مسلط کردیا گیا، اور اس کثرت سے مینڈک ان کے گھروں میں پیدا ہوگئے کہ جہاں بیٹھتے تو ان کے گلے تک مینڈکوں کا ڈھیر لگ جاتا، سونے کے لئے لیٹتے تو سارا بدن ان سے دب جاتا کروٹ لینا ناممکن ہوجاتا، پکتی ہوئی ہنڈیا میں، رکھے ہوئے کھانے میں، آٹے میں اور ہر چیز میں مینڈک بھر جاتے، اس عذاب سے عاجز آکر سب رونے لگے اور پہلے سے پختہ وعدوں کے ساتھ معاہدہ کیا تو پھر حضرت موسیٰ ؑ کی دعا سے یہ عذاب بھی رفع ہوگیا۔ مگر جس قوم پر قہر الہی مسلط ہو اس کی عقل اور ہوش و حواس کام نہیں دیتے، اس واقعہ کے بعد بھی عذاب سے نجات پا کر یہ پھر اپنی ہٹ دھرمی پر جم گئے اور کہنے لگے کہ اب تو ہمیں اور بھی یقین ہوگیا۔ موسیٰ ؑ بڑے جادوگر ہیں یہ سب ان کے جادو کے کرشمے ہیں رسول نبی کچھ نہیں۔ پھر ایک ماہ کی مہلت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی مگر اس مہلت سے بھی کوئی کام نہ لیا تو پانچواں عذاب خون کا مسلط کردیا گیا کہ ان کے ہر کھانے اور پینے کی چیز خون بن گئی، کنویں سے، حوض سے، جہاں کہیں سے پانی نکالیں خون بن جائے، کھانا پکانے کے لئے رکھیں خون بن جائے اور ان سب عذابوں میں حضرت موسیٰ ؑ کا یہ معجزہ مسلسل تھا کہ ہر عذاب سے اسرئیلی حضرات بالکل مامون و محفوظ تھے، خون کے عذاب کے وقت قوم فرعون کے لوگوں نے بنی اسرائیل کے گھروں سے پانی مانگا جب وہ ان کے ہاتھ میں گیا تو خون ہوگیا، ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر قبطی اور اسرائیلی کھانا کھاتے تو جو لقمہ اسرائیلی اٹھاتا وہ اپنی حالت پر کھانا ہوتا اور جو لقمہ یا پانی کا گھونٹ قبطی کے منہ میں جاتا خون بن جاتا، یہ عذاب بھی بدستور سابق سات روز رہا۔ بالآخر پھر یہ بدکار بدعہد قوم چلا اٹھی اور حضرت موسیٰ ؑ سے فریاد کی اور پہلے سے زیادہ موثق وعدے کئے، دعا کی گئی عذاب ہٹ گیا مگر یہ لوگ اپنی اسی ہٹ دھرمی پر جمے رہے، اس طرح یہ پانچ عذاب مسلسل ان پر آتے رہے مگر یہ لوگ اپنی گمراہی پر قائم رہے اسی کو قرآن کریم نے فرمایافَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ یعنی ان لوگوں نے تکبر سے کام لیا اور یہ لوگ بڑے عادی مجرم تھے۔
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

پھر ہم نے بدلہ لیا ان سے سو ڈبو دیا ان کو دریا میں اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے تغافل کرتے تھے۔

اس کے بعد ایک چھٹے عذاب کا ذکر بعد کی آیت میں رجز کے نام سے آیا ہے، یہ لفظ اکثر طاعون کے لئے بولا جاتا ہے، چیچک وغیرہ وبائی امراض کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، تفسیری روایات میں ہے کہ ان لوگوں پر طاعون کی وباء مسلط کردی گئی، جس میں ان کے ستر ہزار آدمی ہلاک ہوگئے۔ اس وقت پھر ان لوگوں نے فریاد کی اور پھر دعا کرنے پر یہ عذاب ہٹا اور پھر بدستور ان لوگوں نے عہد شکنی کی، اتنی مسلسل آزمائشوں اور مہلتوں کے بعد جب ان میں کوئی احساس پیدا ہی نہ ہوا تو اب آخری عذاب آگیا کہ سب کے سب اپنے مکان زمینیں سامان کو چھوڑ کر موسیٰ ؑ کے تعاقب میں نکلے اور بالآخر دریائے قلزم کا لقمہ بن گئے، فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے، اس زمین کے مشرق اور مغرب کا کہ جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہوگیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر، بسبب ان کے صبر کرنے کے، اور خراب کردیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے اور جو اونچا کر کے چھایا تھا،

خلاصہ تفسیر اور (فرعون اور اہل فرعون کو غرق کرکے) ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کیے جاتے تھے (یعنی بنی اسرائیل) اس سرزمین کے پورب پچھم (یعنی تمام حدود) کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی ہے (ظاہری برکت کثرت پیداوار سے اور باطنی برکت ذی فضائل و مدفن ومسکن انبیاء (علیہم السلام) ہونے سے) اور آپ رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا (جس کا حکم انہیں دیا گیا تھا اصبِرُوْا) اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے ساختہ پر داختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے سب کو درہم برہم کردیا اور (جس دریا میں فرعون کو غرق کیا گیا) ہم نے بنی اسرائیل کو (اس دریا سے پار اتار دیا (جس کا قصہ سورة شعراء میں ہے) پھر (پار ہونے کے بعد) ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کو لگے بیٹھے تھے (یعنی ان کی پوجا پاٹ کر رہے تھے) کہنے لگے اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایک (مجسم) معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے جیسے ان کے یہ معبود ہیں، آپ نے فرمایا واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے، یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں (یہ من جانب اللہ بھی) تباہ کیا جائے گا (جیسا کہ عادة اللہ ہمیشہ سے جاری ہے کہ حق کو باطل پر غالب کر کے اس کو درہم برہم کردیتے ہیں) اور ان کا یہ کام محض بےبنیاد ہے (کیونکہ شرک کا بطلان یقینی وبدیہی ہے) اور) فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو تمہارا معبود بنادوں حالانکہ اس نے تم کو (بعض نعمتوں میں) تمام دنیا جہاں والوں پر فوقیت دی ہے اور (اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کے قول کی تائید کے لئے ارشاد فرمایا کہ) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون والوں (کے ظلم و ایذاء) سے بچالیا جو تم کو بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے کہ تمہارے بیٹوں کو بکثرت قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو (اپنی بیگار اور خدمت کے لئے) زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس (واقعہ) میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزائش تھی۔ معارف و مسائل پچھلی آیات میں قوم فرعون کی مسلسل سرکشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف عذابوں کے ذریعہ ان کی تنبیہات کا بیان تھا، مذکورہ آیات میں ان کے انجام بد اور بنی اسرائیل کی فتح و کامرانی کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد ہے وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا، یعنی جس قوم کو کمزور ضعیف سمجھا جاتا تھا ان کو ہم نے اس زمین کے مشرق ومغرب کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکات رکھی ہیں۔ الفاظ قرآن میں غور کیجئے، یہ نہیں فرمایا کہ جو قوم ضعیف و کمزور تھی بلکہ یہ فرمایا کہ جس کو قوم فرعون نے ضعیف و کمزور سمجھا تھا، اشارہ اس کی طرف ہے اللہ تعالیٰ جس قوم کی مدد پر ہوں وہ حقیقت میں کبھی کمزور و ذلیل نہیں ہوتی گو کسی وقت اس کے ظاہر حال سے دوسرے لوگ دھوکہ کھائیں اور ان کو کمزور سمجھیں مگر انجام کار پر سب کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کمزور و ذلیل نہ تھے، کیونکہ در حقیقت قوت وعزت حق تعالیٰ شانہ کے قبضہ میں ہے، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ۔ اور زمین مالک بنانے کے لئے لفظ اَوْرَثْنَا ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان کو وارث بنادیا، اس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ جس طرح وارث ہی اپنے مورث کے مال کا مستحق ہوتا ہے، باپ کی حیات ہی میں ہر شخص یہ جان لیتا ہے کہ اس کے مال و جائیداد کی مالک آخر کار اس کی اولاد ہے، اسی طرح علم الہی میں بنی اسرائیل پہلے ہی سے قوم فرعون کے ملک ومال کے مستحق تھے۔ مَشَارِقَ مشرق کی جمع ہے اور مَغَارِبَ مغرب کی، سردی گرمی کے مختلف موسموں میں مغرب سے مشرق کے بدلنے کی وجہ سے جمع کا لفظ لایا گیا، اور زمین سے مراد اس جگہ جمہور مفسرین کے قول کے مطابق ملک شام اور مصر کی سرزمین ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو قوم فرعون اور قوم عمالقہ کے ہلاک ہونے کے بعد قبضہ اور حکومت عطا فرمائی۔ اور الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا سے یہ بتلا دیا کہ ان زمینوں میں اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے اپنی برکات نازل فرمائی ہیں، ملک شام کے بارے میں تو قرآن کریم کی متعدد آیات میں محل برکات ہونے کا ذکر ہے الَّتِيْ بٰرَكْنَا حَولَھَا میں اسی کا بیان ہے، اسی طرح ارض مصر کے بارے میں بھی محل برکات وثمرات ہونا متعدد روایات سے نیز مشاہدات سے ثابت ہے، حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ مصر کا دریائے نیل سید الانہار یعنی دریاؤں کا سردار ہے، اور حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ برکات کے دس حصوں میں سے نو مصر میں ہیں اور باقی ایک پوری زمین میں (بحر محیط) خلاصہ یہ ہے کہ جس قوم کو غرور و پندار کے نشہ والوں نے اپنی کوتاہ نظری سے ذلیل و کمزور سمجھ رکھا تھا، ہم نے اسی کو ان متکبرین کی دولت و سلطنت اور ملک ومال کا مالک بنا کر دکھلا دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا وعدہ سچا ہوتا ہے، ارشاد فرمایا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ یعنی آپ کے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہوگیا۔ اس اچھے وعدے سے مراد یا تو وہ وعدہ ہے جو موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کیا تھا، عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ یعنی قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور ان کی زمین کا تمہیں مالک بنا دے۔ اور یا وہ وعدہ ہے جو قرآن کریم میں دوسری جگہ خود حق تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا ہےوَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ۔ وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَحْذَرُوْنَ ، یعنی ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس قوم پر احسان کریں جن کو اس ملک میں کمزور و ذلیل سمجھا گیا ہے، اور ان کو ہی سردار اور حکام بنادیں اور ان کو ہی اس زمین کا وارث قرار دیں اور اس زمین پر تصرفات کرنے کا حق دیں اور فرعون وہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز واقع کرکے دکھلا دیں جس کے ڈر سے وہ موسیٰ ؑ کے خلاف طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں وعدے ایک ہی ہیں، اللہ تعالیٰ کے وعدے ہی کی بناء پر موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے وعدہ کیا تھا، اس آیت میں اس وعدہ کا پورا ہونا لفظ تمت سے بیان کیا گیا۔ کیونکہ وعدہ کا اتمام و تکمیل اسی وقت ہوتی ہے جب وہ پورا ہوجائے۔ اس کے ساتھ ہی بنی اسرائیل پر اس انعام و احسان کی وجہ بیان فرمادی بِمَا صَبَرُوْا یعنی اس وجہ سے کہ ان لوگوں نے اللہ کے راستہ میں تکلیفیں برداشت کیں اور ان پر ثابت قدم رہے اس میں اشارہ کردیا کہ ہمارا یہ احسان و انعام کچھ بنی اسرائیل ہی کے ساتھ مخصوص نہ تھا بلکہ ان کے عمل صبر وثابت قدمی کا نتیجہ تھا جو شخص یا جو قوم اس عمل کو اختیار کرے ہمارا انعام ہر جگہ ہر وقت اس کے لئے موجد ہے۔ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی حضرت موسیٰ ؑ نے جب نصرت الہی کا وعدہ اپنی قوم سے کیا تھا اس وقت بھی انہوں نے قوم کو یہی بتلایا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا اور مصائب وآفات کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہی کلید کامیابی ہے۔ حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ اس آیت میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ جب انسان کا مقابلہ کسی ایسے شخص یا جماعت سے ہو جس کا دفاع کرنا اس کی قدرت میں نہ ہو تو ایسے وقت کامیابی اور فلاح کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ مقابلہ نہ کرے بلکہ صبر کرے، انہوں نے فرمایا کہ جب کوئی آدمی کسی کی ایذاء کا مقابلہ اس کی ایذاء سے کرتا ہے یعنی اپنا انتقام خود لینے کی فکر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اسی کے حوالے کردیتے ہیں کامیاب ہو یا ناکام، اور جب کوئی شخص لوگوں کی ایذاء کا مقابلہ صبر اور نصرت الہی کے انتظار سے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کے لئے راستے کھول دیتے ہیں۔ اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے صبر وثابت قدمی پر یہ وعدہ فرمایا تھا کہ ان کو دشمن پر فتح اور زمین پر حکومت عطا کریں گے اسی طرح امت محمدیہ سے بھی وعدہ فرمایا ہے جو سورة نور میں مذکور ہے، وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ ، اور جس طرح بنی اسرائیل نے وعدہ خداوندی کا مشاہدہ کرلیا تھا، امت محمدیہ نے ان سے زیادہ واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی مدد کا مشاہدہ کیا کہ پوری زمین پر ان کی حکومت و سلطنت عام ہوگئی (روح البیان) یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بنی اسرائیل نے تو صبر سے کام نہیں لیا، بلکہ جب موسیٰ ؑ نے صبر کی تلقین فرمائی تو خفا ہو کر کہنے لگے اوذینَا، وجہ یہ ہے کہ اول تو ان کا صبر بمقابلہ فرعونی ایذاؤں کے اور ایمان پر ثابت قدم رہنا مسلسل ثابت ہے اگر ایک دفعہ لفظ شکایت نکل بھی گیا تو اس پر نظر نہیں کی گئی، دوسرے یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ قول بطور شکایت نہ ہو بلکہ بطور اظہار رنج وغم کے ہو۔ آیت متذکرہ میں اس کے بعد فرمایا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ، یعنی ہم نے تباہ و برباد کردیا ان سب چیزوں کو جو فرعون اور اس کی قوم بنایا کرتی تھی اور ان عمارتوں یا درختوں کو جن کو وہ بلند کیا کرتی تھی۔ فرعون اور قوم فرعون کی بنائی ہوئی چیزوں میں ان کے مکانات وعمارات اور گھریلو ضرورت کے سامان، نیز وہ مختلف قسم کی تدبیریں جو وہ موسیٰ ؑ کے مقابلہ کے لئے کرتے تھے سب داخل ہیں، اور وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ، یعنی جس کو وہ بلند کرتے تھے، اس میں بلند محلات ومکانات بھی داخل ہیں اور بلند درخت اور وہ انگور کی بیلیں بھی جن کو چھتوں پر چڑھایا جاتا ہے۔ یہاں تک قوم فرعون کی تباہی کا ذکر تھا، آگے بنی اسرائیل کی فتح و کامرانی کے بعد ان کی سرکشی اور جہالت اور کجروی کا بیان شروع ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں کے مشاہدہ کے باوجود ان لوگوں سے سرزد سوئی، جس کا مقصد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ پچھلے انبیاء نے اپنی امت کے ہاتھوں کیسی کیسی تکلیفیں اٹھائی ہیں، ان کو سامنے رکھنے سے موجود سرکشوں کی ایذاء ہلکی ہوجائے گی۔
Ayahs 7:138–141

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے تو پہنچے ایک قوم پر جو پوجنے میں لگ رہے تھے اپنے بتوں کے کہنے لگے اے موسیٰ بنا دے ہماری عبادت کے لئے بھی ایک بن جیسے ان کے بت ہیں، کہا تم لوگ تو جہل کرتے ہو،

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کررہے ہیں،

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

کہا، کیا اللہ کے سوا ڈھونڈوں تمہارے واسطے کوئی اور معبود، حالانکہ اس نے تم کو بڑائی دی تمام جہانوں پر

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب نجات دی ہم نے تم کو فرعون والوں سے کہ دیتے تھے تم کو برا عذاب کہ مارڈالتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور جیتا رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو اور اس میں احسان ہے تمہارے رب کا بڑا۔

وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ ، یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا، بنی اسرائیل کو قوم فرعون کے مقابلہ میں معجزانہ کامیابی حاصل ہوئی اور اطمینان ملا تو اس کا وہی اثر ہوا جو عام قوموں پر عیش و عشرت اور عزت و دولت کا ہوا کرتا ہے کہ ان میں جاہلا نہ چیزیں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ واقعہ یہ پیش آیا کہ یہ قوم ابھی ابھی اعجاز موسوی کے ساتھ دریا سے پار ہوئی اور پوری قوم فرعون کے غرق دریا ہونے کا تماشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا آگے بڑھی تو ایک قبیلہ پر گزر ہوا جو مختلف بتوں کی پرستش میں مبتلا تھا، بنی اسرائیل کو کچھ ان کا ہی طریقہ پسند آنے لگ موسیٰ ؑ سے درخواست کی کہ جیسے ان لوگوں کے بہت سے معبود ہیں آپ ہمارے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجئے کہ ہم بھی ایک محسوس چیز کو سامنے رکھ کر عبادت کیا کریں) اللہ تعالیٰ کی ذات تو سامنے نہیں، موسیٰ ؑ نے فرمایا، اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـهَلُوْنَ ، یعنی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے، یہ لوگ جن کے طریقہ کو تم نے پسند کیا ان کے اعمال سب ضائع و برباد ہیں یہ باطل کے پیرو ہیں تمہیں ان کی حرص نہ کرنا چاہئے، کیا میں تمہارے لئے اللہ کے سوا کسی کو معبود بنادوں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہی تم کو تمام جہاں والوں پر فضیلت بخشی ہے، مراد اس وقت کے اہل عالم ہیں کہ اس وقت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے والے ہی دوسرے سب لوگوں سے افضل واعلی تھے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کو ان کی پچھلی حالت یاد دلائی گئی کہ وہ فرعون کے ہاتھوں میں ایسے مجبور و مقہور تھے کہ ان کے لڑکوں کو قتل کیا جاتا تھا صرف لڑکیاں اپنی خدمت کے لئے رکھی جاتی تھیں، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی برکت ودعاء سے اس عذاب سے نجات دی کیا اس احسان کا اثر یہ ہونا چاہئے کہ تم اسی رب العالمین کے ساتھ دنیا کے ذلیل ترین پتھروں کو شریک ٹھہراؤ، یہ کیسا ظلم عظیم ہے، اس سے توبہ کرو۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس رات کو اور پورا کیا ان کو اور دس سے پس پوری ہوگئی مدت تیرے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہ میرا خلیفہ رہ میری قوم میں اور اصلاح کرتے رہنا اور مت چلنا مفسدوں کی راہ۔

خلاصہ تفسیر اور (جب بنی اسرائیل سب پریشانیوں سے مطمئن ہوگئے تو موسیٰ ؑ سے درخواست کی کہ اب ہم کو کوئی شریعت ملے تو اس پر اطمینان کے ساتھ عمل کریں، موسیٰ ؑ نے حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ اس کا قصہ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ ؑ سے تیس را توں کا وعدہ کیا (کہ طور پر آکر اعتکاف کریں تو آپ کو شریعت اور کتاب تورات دی جائے گی) اور دس راتیں مزید ان تیس را توں کا تتمہ بنادیا (یعنی تورات دے کر ان میں دس راتیں عبادت کے لئے اور بڑھا دیں جس کی وجہ سورة بقرہ میں مذکور ہوچکی ہے) اس طرح ان کے پروردگار کا (مقرر کیا ہوا) وقت (سب مل کر) پوری چالیس راتیں ہوگیا اور موسیٰ ؑ کوہ طور آنے لگے تو چلتے وقت) اپنے بھائی ہارون ؑ سے کہہ دیا تھا کہ میرے بعد ان لوگوں کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بدنظم لوگوں کی رائے پر عمل نہ کرنا۔ معارف و مسائل اس آیت میں موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کا وہ واقعہ مذکور ہے جو غرق فرعون اور بنی اسرائیل کے مطمئن ہونے کے بعد پیش آیا کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے درخواست کی کہ اب ہم مطمئن ہیں، اب ہمیں کوئی کتاب اور شریعت ملے تو ہم بےفکری کے ساتھ اس پر عمل کریں، حضرت موسیٰ ؑ نے حق تعالیٰ سے دعا کی۔ اس میں لفظ وٰعَدْنَا وعدہ سے مشتق ہے، اور وعدہ کی حقیقت یہ ہے کہ کسی کو نفع پہنچانے سے پہلے اس کا اظہار کردینا کہ ہم تمہارے لئے فلاں کام کریں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ پر اپنا کلام نازل کرنے کا وعدہ فرمایا اور اس کے لئے یہ شرط لگائی کہ تیس راتیں کوہ طور پر اعتکاف اور ذکر اللہ میں گزار دیں اور پھر ان تیس پر اور دس راتوں کا اضافہ کر کے چالیس کردیا۔ لفظ وٰعَدْنَا کے اصلی معنی دو طرف سے وعدے اور معاہدے کے آتے ہیں، یہاں بھی حضرت حق جل شانہ کی طرف سے عطاء تورات کا وعدہ تھا اور موسیٰ ؑ کی طرف سے تیس چالیس راتوں کے اعتکاف کا، اس لئے بجائے وَعَدنَا کے وٰعَدْنَا فرمایا۔ اس آیت میں چند مسائل اور احکام قابل غور ہیں اول یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہی یہ تھا کہ اعتکاف چالیس راتوں کا کرایا جائے تو پہلے تیس اور بعد میں دس کا اضافہ کرکے چالیس کرنے میں کیا حکمت تھی، پہلے ہی چالیس راتوں کے اعتکاف کا حکم دے دیا جاتا تو کیا حرج تھا، سو اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا احاطہ تو کون کرسکتا ہے، بعض حکمتیں علماء نے بیان کی ہیں۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ اس میں ایک حکمت تدریج اور آہستگی کی ہے کہ کوئی کام کسی کے ذمہ لگایا جائے تو اول ہی زیادہ مقدار کام کی اس پر نہ ڈالی جائے تاکہ وہ آسانی سے برداشت کرے، پھر مزید کام دیا جائے۔ اور تفسیر قرطبی میں ہے کہ اس طرز میں حکام اور اولوالامر کو اس کی تعلیم دینا ہے کہ اگر کسی کو کوئی کام ایک معین وقت میں پورا کرنے کا حکم دیا جائے اور اس معین میعاد میں وہ پورا نہ کرسکے تو اس کو مزید مہلت دی جائے، جیسا کہ موسیٰ ؑ کے واقعہ میں پیش آیا کہ تیس راتیں پوری کرنے کے بعد جس کیفیت کا حاصل ہونا مطلوب تھا وہ پوری نہ ہوئی اس لئے مزید دس راتوں کا اضافہ کیا گیا کیونکہ ان دس راتوں کے اضافہ کا جو واقعہ مفسرین نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ تیس راتوں کے اعتکاف میں موسیٰ ؑ نے حسب قاعدہ تیس روزے بھی مسلسل رکھے بیچ میں افطار نہیں کیا، تیسواں روزہ پورا کرنے کے بعد افطار کرکے مقررہ مقام طور پر حاضر ہوئے تو حق تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ روزہ دار کے منہ سے جو ایک خاص قسم کی رائحہ معدہ کی تبخیر سے پیدا ہوجاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، آپ نے افطار کے بعد مسواک کر کے اس رائحہ کو زائل کردیا، اس لئے مزید دس روزے اور رکھیے تاکہ وہ رائحہ پھر پیدا ہوجائے۔ اور بعض روایات تفسیر میں جو اس جگہ یہ منقول ہے کہ تیسویں روزہ کے بعد موسیٰ ؑ نے مسواک کرلی تھی جس کے ذریعہ وہ رائحہ صوم زائل ہوگیا تھا، اس سے اس بات پر استدلال نہیں ہوسکتا کہ روزہ دار کے لئے مسواک کرنا مکروہ یا ممنوع ہے کیونکہ اول تو اس روایت کی کوئی سند مذکور نہیں، دوسرے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حکم حضرت موسیٰ ؑ کی ذات سے متعلق ہو عام لوگوں کے لئے نہ ہو یا شریعت موسوی میں ایسا ہی حکم سب کے لئے ہو کہ روزہ کی حالت میں مسواک نہ کی جائے، لیکن شریعت محمد یہ میں تو بحالت روزہ مسواک کرنے کا معمول حدیث سے ثابت ہے جس کو بیہقی نے بروایت عائشہ ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، خیر خصائل الصائم السواک یعنی روزہ دار کا بہترین عمل مسواک ہے۔ اس روایت کو جامع صغیر میں نقل کر کے حسن فرمایا ہے۔ فائدہ اس روایت پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ جب تلاش خضر میں سفر کر رہے تھے تو آدھے دن بھوک پر صبر نہ ہوسکا اور اپنے ساتھی سے فرمانے لگے اٰتِنَا غَدَاۗءَنَا ۡ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا یعنی ہمارا ناشتہ لاؤ کیونکہ اس سفر نے ہم کو تکان میں ڈال دیا اور کوہ طور پر مسلسل تیس روزے اس طرح رکھے کہ رات کو بھی افطار نہیں، یہ عجیب بات ہے ؟ تفسیر روح البیان میں ہے کہ یہ فرق ان دونوں سفروں کی نوعیت کے سبب سے تھا، پہلا سفر مخلوق کے ساتھ مخلوق کی تلاش میں تھا، اور کوہ طور کا سفر مخلوق سے علیحدہ ہو کر ایک ذات حق سبحانہ کی جستجو میں، اس کا یہی اثر ہونا تھا کہ بشری تقاضے نہایت مضمحل ہوگئے، کھانے پینے کی حاجت اتنی گھٹ گئی کہ تیس روز تک کوئی تکلیف محسوس نہیں فرمائی۔ عبادات میں قمری حساب معتبر ہے، دنیوی معاملات میں شمسی حساب کی گنجا ئش ہے ایک اور مسئلہ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کے شرائع میں تاریخ کا حساب رات سے ہوتا ہے، کیونکہ اس آیت میں بھی تیس دن کے بجائے تیس راتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ شرائع انبیاء میں مہینے قمری معتبر ہیں اور قمری مہینہ کا شروع چاند دیکھنے سے ہوتا ہے، وہ رات ہی میں ہوسکتا ہے اس لئے مہینہ رات سے شروع ہوتا ہے پھر اس کی ہر تاریخ غروب آفتاب سے شمار ہوتی ہے، جتنے آسمانی مذہب ہیں ان سب کا حساب اسی طرح قمری مہینوں سے اور شروع تاریخ غروب آفتاب سے اعتبار کی جاتی ہے۔ قرطبی نے بحوالہ ابن عربی نقل کیا ہے کہ حساب الشمس للمنافع و حساب القمر للمناسک یعنی شمسی حساب دنیوی منافع کے لئے ہے اور قمری حساب اداء عبادات کے لئے۔ اور یہ تیس راتیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق ماہ ذی القعدہ کی راتیں تھیں اور پھر ان پر دس راتیں ذی الحجہ کی بڑھائی گئیں، اس سے معلوم ہوا کہ تورات کا عطیہ حضرت موسیٰ ؑ کو یوم النحر (یعنی عیدالاضحی) کے دن ملا (قرطبی) ایک مسئلہ اصلاح نفسی میں چالیس دن رات کو خاص دخل ہے۔ اس آیت کے اشارہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چالیس راتوں کو باطنی حالات کی اصلاح میں کوئی خاص دخل ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص چالیس روز اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے قلب سے حکمت کے چشمے جاری فرمادیتے ہیں۔ (روح البیان) انسان کو اپنے سب کاموں میں تدریج اور آہستگی کی تعلیم اس آیت سے ثابت ہوا کہ اہم کاموں کے لئے ایک خاص میعاد مقرر کرنا، اور سہولت و تدریج سے انجام دینا سنت الہیہ ہے، عجلت اور جلد بازی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ سب سے پہلے خود حق تعالیٰ نے اپنے کام یعنی پیدائش عالم کے لئے ایک میعاد چھ روز کی متعین فرماکر یہ اصول بتلادیا ہے، حالانکہ حق تعالیٰ کو آسمان زمین اور سارے عالم کو پیدا کرنے کے لئے ایک منٹ کی بھی ضرورت نہیں جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنے کے لئے فرمادیں کہ ہوجا وہ فورا ہوجاتی ہے مگر اس خاص طرز عمل میں مخلوق کو یہ ہدایت دینا تھی کہ اپنے کاموں کو غور وفکر اور تدریج کے ساتھ انجام دیا کریں، اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کو تورات عطا فرمائی تو اس کے لئے بھی ایک میعاد مقرر فرمائی اس میں اسی اصول کی تعلیم ہے۔ (قرطبی) اور یہی وہ اصول تھا جس کو نظر انداز کردینا بنی اسرائیل کی گمراہی کا سبب بنا کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ سابق حکم خداوندی کے مطابق اپنی قوم سے یہ کہہ کر گئے تھے کہ تیس روز کے لئے جارہا ہوں یہاں جب دس روز کی مدت بڑھ گئی تو اپنی جلدبازی کے سبب لگے یہ کہنے کہ موسیٰ ؑ تو کہیں گم ہوگئے، اب ہمیں کوئی دوسرا پشیوا بنالینا چاہئے۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ سامری کے دام میں پھنس کر " گوسالہ " پرستی شروع کردی، اگر غور و فکر اور اپنے کاموں میں تدریج و تامل کے عادی ہوتے تو یہ نوبت نہ آتی (قرطبی) آیت کے دوسرے جملہ میں ارشاد ہے وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ ، اس جملہ سے بھی چند مسائل اور احکام نکلتے ہیں۔ ضرورت کے وقت ناظم امور کو اپنا قائم مقام تجویز کرنا۔ اول یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق کوہ طور پر جاکر اعتکاف کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ساتھی حضرت ہارون ؑ سے فرمایا اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ یعنی میرے پیچھے آپ میری قوم میں میری قائم مقامی کے فرائض انجام دیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص کسی کام کا ذمہ دار ہو وہ اگر کسی ضرورت سے کہیں جائے تو اس پر لازم ہے کہ اس کام کا انتظام کر کے جائے۔ نیز یہ ثابت ہوا کہ حکومت کے ذمہ دار حضرات جب کہیں سفر کریں تو اپنا قائم مقام اور خلیفہ مقرر کر کے جائے۔ رسول کریم ﷺ کی عام عادت یہی تھی کہ جب کبھی مدینہ سے باہر جانا ہوا تو کسی شخص کو خلیفہ بنا کر جاتے تھے، ایک مرتبہ حضرت علی مرتضی کو خلیفہ بنایا، ایک مرتبہ عبداللہ بن ام مکتوم کو، اسی طرح مختلف اوقات میں مختلف صحابہ کو مدینہ میں خلیفہ بنا کر باہر تشریف لے گئے۔ (قرطبی) موسیٰ ؑ نے ہارون ؑ کو خلیفہ بنانے کے وقت ان کو چند ہدایات دیں، اس سے معلوم ہوا کہ جس کو قائم مقام بنایا جائے اس کی سہولت کار کے لئے ضروری ہدایات دے کر جائے، ان ہدایات میں پہلی ہدایت یہ ہے کہ اَصْلِحْ ، اس میں اَصْلِحْ کا مفعول ذکر نہیں فرمایا کہ کس کی اصلاح کرو، اس سے اشارہ اس عموم کی طرف ہے کہ اپنی بھی اصلاح کرو اور اپنی قوم کی بھی، یعنی جب ان میں کوئی بات فساد کی محسوس کرو تو ان کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرو، دوسری ہدایت یہ دی کہ لَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ یعنی فساد کرنے والوں کے راستہ کا اتباع نہ کرو، ظاہر ہے کہ ہارون ؑ اللہ کے نبی ہیں، ان سے فساد میں مبتلا ہونے کا تو خطرہ نہ تھا اس لئے اس ہدایت کا مطلب یہ تھا کہ مفسدین کی مدد یا ہمت افزائی کا کوئی کام نہ کرو۔ چنانچہ حضرت ہارون ؑ نے جب قوم کو دیکھا کہ سامری کے پیچھے چلنے لگے یہاں تک کہ اس کے کہنے سے گوسالہ پرستی شروع کردی تو قوم کو اس بےہودگی سے روکا اور سامری کو ڈانٹا۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے واپسی کے بعد جب یہ خیال کیا کہ ہارون ؑ نے میرے پیچھے اپنے فرض ادا کرنے میں کوتاہی کی تو ان سے مواخذہ فرمایا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس واقعہ سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہئے جو بد نظمی اور بےفکری ہی کو سب سے بڑی بزرگی سمجھتے ہیں۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب پہنچا موسیٰ ہمارے وعدہ پر اور کلام کیا اس سے اس کے رب نے بولا اے میرے رب تو مجھ کو دکھا میں تجھ کو دیکھوں فرمایا تو تو مجھ کو ہرگز نہ دیکھے گا لیکن تو دیکھتا رہ پہاڑ کی طرف اگر وہ اپنی جگہ ٹہرا رہا تو تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب تجلّی کی اس کے رب نے پہاڑ کی طرف کردیا اس کو ڈھا کر برابر اور گر پڑا موسیٰ بےہوش ہو کر پھر جب ہوش میں آیا تیری ذات پاک ہے، میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں سب سے پہلے یقین لایا،

خلاصہ تفسیر اور جب موسیٰ (علیہ السلام اس واقعہ میں) ہمارے وقت (موعود) پر آئے (تھے جس کا قصہ بیان ہورہا ہے) اور ان کے رب نے ان سے (بہت سی لطف و عنایت کی) باتیں کیں تو (شدت انبساط سے دیدار کا اشتیاق پیدا ہوا) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اپنا دیدار مجھ کو دکھلا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں۔ ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو دنیا میں) ہرگز نہیں دیکھ سکتے (کیونکہ یہ آنکھیں تاب جمال نہیں لاسکتیں، کما فی المشکوة عن مسلم لاحرقت سبحات وجھہ) لیکن (تمہاری تشفی کے لئے یہ تجویز کرتے ہیں کہ) تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو (ہم اس پر ایک جھلک ڈالتے ہیں) سو اگر یہ اپنی جگہ برقرار رہا تو (خیر) تم بھی دیکھ سکو گے (غرض موسیٰ ؑ اس کی طرف دیکھنے لگے) پس ان کے رب نے جو اس پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس (پہاڑ) کے پرخچے اڑادیئے اور موسیٰ ؑ بیہوش ہو کر گرپڑے، پھر جب افاقہ میں آئے تو عرض کیا بیشک آپ کی ذات (ان آنکھوں کی برداشت سے) منزہ (اور بلند) ہے میں آپ کی جناب میں (اس مشتاقانہ درخواست سے) معذرت کرتا ہوں اور (جو کچھ حضور کا ارشاد ہے کہ لن ترنی) سب سے پہلے میں اس پر یقین کرتا ہوں، ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ ؑ ! (یہی بہت ہے کہ) میں نے (تم کو) اپنی (طرف سے) پیغمبری (کا عہدہ دے کر) اور اپنے (ساتھ) ہم کلامی (کا شرف بخش کر اس) سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو (اب) جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے (رسالت و ہم کلامی و توریت) اس کو لو اور شکر کرو اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی (ضروری) نصیحت اور (احکام ضروریہ کے متعلق) ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کردی (یہی تختیاں تورات ہیں، پھر حکم ہوا کہ جب کہ تختیاں ہم نے دی ہیں) تو ان کو کوشش کے ساتھ (خود بھی) عمل میں لاؤ اور اپنی قوم کو (بھی) حکم کرو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر (یعنی سب پر کہ سب ہی اچھے ہیں) عمل کریں میں اب بہت جلد تم لوگوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو) ان بےحکموں کا (یعنی فرعونیوں کا یا عمالقہ کا) مقام دکھلاتا ہوں (اس میں بشارت اور وعدہ لے کہ مصر یا شام پر عنقریب تسلط ہوا چاہتا ہے، مقصود اس سے ترغیب دینا ہے اطاعت کی کہ اطاعت احکام الہیہ کے یہ برکات ہیں) معارف و مسائل لَنْ تَرٰىنِيْ ، (یعنی آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے) اس میں اشارہ ہے کہ رؤ یت ناممکن نہیں مگر مخاطب بحالت موجودہ اس کو برداشت نہیں کرسکتا، ورنہ اگر رؤ یت ممکن ہی نہ ہوتی تو لَنْ تَرٰىنِيْ کے بجائے لَنْ اَرٰی کہا جاتا کہ میری رؤ یت نہیں ہو سکتی (مظہری) اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار دنیا میں بھی عقلا ممکن تو ہے مگر اس آیت سے اس کا ممتنع الوقوع ہونا بھی ثابت ہوگا اور یہی مذہب ہے جمہور اہل سنت کا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رؤ یت عقلا ممکن ہے مگر شرعا ممتنع، جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے لن یری احد منکم ربہ حتی یموت، یعنی تم میں سے کوئی شخص مرنے سے پہلے اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتا۔ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ ، اس میں اس امر کی شہادت ہے کہ بحالت موجودہ مخاطب رؤ یت الہی کو برداشت نہیں کرسکتا اس لئے پہاڑ پر ادنی سی جھلک ڈال کر بتلا دیا گیا کہ وہ بھی برداشت نہیں کرسکتا، انسان تو ضعیف الخلقت ہے وہ کیسے برداشت کرے۔ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ تجلی کے معنی عربی لغت میں ظاہر اور منکشف ہونے کے ہیں، اور صوفیہ کرام کے نزدیک تجلی کے معنی کسی چیز کو بالواسطہ دیکھنے کے ہیں، جسے کوئی چیز بواسطہ آئینہ کے دیکھی جائے، اسی لئے تجلی کو رؤ یت نہیں کہہ سکتے، خود اسی آیت میں اس کی شہادت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رؤ یت کی تو نفی فرمائی اور تجلی کا اثبات۔ امام احمد، ترمذی، حاکم نے بروایت انس ؓ نقل کیا ہے اور اس کی سند کو ترمذی وحاکم نے صحیح قرار دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آیت کی تلاوت فرما کر ہاتھ کی چھوٹی انگلی (خنصر) کے سرے پر انگوٹھا رکھ کر اشارہ فرمایا کہ اللہ جل شانہ کے نور کا صرف اتنا سا حصہ ظاہر کیا گیا تھا جس سے پہاڑ کے ٹکڑے اڑ گئے، یہ ضروری نہیں کہ سارے پہاڑ کے ٹکڑے ہوگئے ہوں بلکہ جس حصہ پر حق تعالیٰ نے یہ تجلی فرمائی وہ حصہ ہی اس سے متاثر ہوا ہو۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھ کو امتیاز دیا لوگوں سے اپنے پیغام بھیجنے کا اور اپنے کلام کرنے کا سو لے جو میں نے تجھ کو دیا اور شاکر رہ

موسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ کا کلام اتنی بات تو قرآن کے واضح الفاظ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، پھر اس کلام میں بھی ایک تو وہ ہے جو اول عطاء نبوت کے وقت ہوا تھا، دوسرا کلام یہ ہے جو عطاء تورات کے وقت ہوا اور جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ آیت کے الفاظ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دوسرے کلام کو بہ نسبت پہلے کے کچھ مزید خصوصیت حاصل تھی، لیکن حقیقت اس کلام کی کیا اور کس طرح تھی اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہو سکتا، اس میں جتنے احتمالات عقلیہ ایسے ہوں جو شریعت کے کسی حکم کے خلاف نہ ہوں سب کی گنجائش ضرور ہے مگر ان احتمالات میں کسی ایک کو متعین کرنا بلادلیل درست نہیں، اور سلف صالحین صحابہ وتابعین ہی کا مسلک اس معاملہ میں اسلم ہے کہ اس معاملہ کو حوالہ خدا کیا جائے، احتمالات نکالنے کی فکر میں نہ پڑیں (بیان القرآن)
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور لکھ دی ہم نے اس کو تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور تفصیل ہر چیز کی، سو پکڑ لے ان کو زور سے اور حکم کر اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں عنقریب میں تم کو دکھلاؤں گا گھر نافرمانوں کا۔

سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ ، اس جگہ دار الْفٰسِقِيْنَ سے کیا مراد ہے، اس میں دو قول ہیں، ایک ملک مصر، دوسرا ملک شام، کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ کے فتح کرنے سے پہلے مصر پر فرعون اور اس کی قوم حکمران اور غالب تھی اس کی وجہ سے مصر کو دار الْفٰسِقِيْنَ اور ملک شام پر عمالقہ کا قبضہ تھا وہ بھی کافر فاسق تھے اس لئے اس وقت شام بھی دار الْفٰسِقِيْنَ تھا، ان دونوں میں سے اس جگہ کونسا ملک مراد ہے، اس میں اختلاف اس بنیاد پر ہے کہ غرق فرعون کے بعد بنی اسرائیل مصر میں واپس چلے گئے تھے یا نہیں، اگر اس وقت مصر میں واپس گئے اور مملکت مصر پر قابض ہوئے جیسا کہ آیت وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ سے اس کی تائید ہوئی تو مصر پر قبضہ اور غلبہ اس واقعہ تجلی طور سے پہلے ہوچکا ہے اس میں سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ کا مفہوم ملک شام متعین ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس وقت واپس نہیں گئے تو دونوں ملک مراد ہو سکتے ہیں۔ وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات کی تختیاں لکھی لکھائی حضرت موسیٰ ؑ کے سپرد کی گئی تھی، انہی تختیوں کے مجموعہ کا نام تورات ہے۔
Ayahs 7:146–147

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

میں پھیردوں گا اپنی آیتوں سے ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں ساری نشانیاں ایمان نہ لائیں ان پر اور اگر دیکھیں رستہ ہدایت کا تو نہ ٹہرائیں اس کو راہ اور اگر دیکھیں رستہ گمراہی کا تو اس کو ٹہرالیں راہ یہ اس لئے کہ انہوں نے جھوٹ جانا ہماری آیتوں کو اور رہے ان سے بیخبر

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھوٹ جانا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو برباد ہوئیں ان کی محنتیں وہی بدلہ پائیں گے جو کچھ عمل کرتے تھے

خلاصہ تفسیر (اب ترغیب اطاعت کے بعد ترہیب مخالفت کے لئے ارشاد ہے کہ) میں لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں (احکام ماننے سے) تکبر کرتے ہیں جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں (کیونکہ اپنے کو بڑا سمجھنا حق اس کا ہے جو واقع میں بڑا ہو، اور وہ ایک خدا کی ذات ہے) اور (برگشتگی کا ان پر یہ اثر ہوگا کہ) اگر تمام (دنیا بھر کی) نشانیاں (بھی دیکھ لیں تب بھی (غایت قسادت سے) ان پر ایمان نہ لاویں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں (یعنی حق کے قبول نہ کرنے سے پھر دل سخت ہوجاتا ہے اور برگشتگی اس حد تک پہنچ جاتی ہے) یہ (اس درجہ کی برگشتگی) اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو (تکبر کی وجہ سے) جھوٹا بتلایا اور ان (کی حقیقت میں غور کرنے) سے غافل رہے (یہ سزا تو دنیا میں ہوئی کہ ہدایت سے محروم رہے) اور (آخرت میں یہ سنرا ہوگی کہ) یہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو اور قیامت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے سب کام (جن سے ان کو توقع نفع کی تھی) غارت گئے (اور انجام اس خبط کا جہنم ہے) ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ یہ کرتے تھے اور (جب موسیٰ ؑ طور پر تورات لانے تشریف لے گئے تو) موسیٰ ؑ کی قوم (یعنی بنی اسرائیل) نے ان کے (جانے کے) بعد اپنے (مقبوضہ) زیوروں کا (جو کہ قبطیوں سے مصر سے نکلتے وقت یہ بہانہ شادی کے مانگ لیا تھا) ایک بچھڑا (بناکر جس کا قصہ سورة طہ میں ہے، اس کو معبود) ٹھہرایا جو کہ (صرف اتنی حقیقت رکھتا تھا کہ) ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی (اور اس میں کوئی کمال نہ تھا، جس سے کسی عاقل کو اس کی معبودیت کا شبہ ہو سکے) کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ (اس میں آدمی کے برابر بھی تو قدرت نہ تھی چنانچہ) وہ ان سے بات تک نہیں کرتا تھا اور نہ ان کو (دنیا یا دین کی) کوئی راہ بتلاتا تھا (اور خدا کی سی صفات تو اس میں کیا ہوتیں، غرض یہ کہ) اس لئے (بچھڑے) کو انہوں نے معبود قرار دیا اور (چونکہ اس میں اصلا کوئی شبہ کی وجہ نہ تھی اس لئے انہوں نے) بڑا ڈھنگا کام کیا اور (بعد رجوع موسیٰ ؑ کے جس کا قصہ آگے آتا ہے ان کے تنبیہ فرمانے سے) جب (متنبہ ہوئے اور اپنی اس حرکت پر) نادم ہوئے اور معلوم ہوا کہ واقعی وہ لوگ گمراہی میں پڑگئے تو (ندامت سے بطور معذرت) کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا (یہ) گناہ معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے۔ چناچہ خاص طریقہ سے ان کو تکمیل توبہ کا حکم ہوا جس کا قصہ سورة بقرہ آیت فاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ میں گزرا ہے) اور (موسیٰ ؑ کو متنبہ فرمانے کا قصہ یہ ہوا کہ) جب موسیٰ ؑ اپنی قوم کی طرف (طور سے) واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے (کیونکہ ان کو وحی سے یہ معلوم ہوگیا تھا، طہ میں ہے فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا۔ الخ) تو (اول قوم کی طرف متوجہ ہوئے) فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی نامعقول حرکت کی، کیا اپنے رب کے حکم (آنے) سے پہلے ہی تم نے (ایسی) جلد بازی کرلی (میں تو احکام ہی لینے گیا تھا اس کا انتظار تو کیا ہوتا) اور (پھر حضرت ہارون ؑ کی طرف متوجہ ہوئے اور دینی حمیت کے جوش میں) جلدی سے (توریت کی) تختیاں (تو) ایک طرف رکھیں (اور جلدی میں ایسے زور سے رکھی گئیں کہ دیکھنے والے کو اگر غور نہ کرے تو شبہ ہو کہ جیسے کسی نے پٹک دی ہوں) اور (ہاتھ خالی کرکے) اپنے بھائی (ہارون ؑ کا سر (یعنی بال) پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے (کہ تم نے کیوں پورا انتظام نہ کیا اور چونکہ غلبہ غضب میں ایک گونہ بےاختیاری ہوگئی تھی اور غضب بھی دین کے لئے تھا اس لئے اس بےختیاری کو معتبر قرار دیا جائے گا اور اس اجتہادی لغزش پر اعتراض نہ کیا جائے گا) ہارون ؑ نے کہا کہ اے میرے ماں جائے (بھائی میں نے اپنی کوشش بھر بہت روکا لیکن) ان لوگوں نے مجھ کو بےحقیقت سمجھا اور (بلکہ نصیحت کرنے پر) قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں تو تم مجھ پر (سختی کرکے) دشمنوں کو مت ہنسواؤ اور مجھ کو (برتاؤ سے) ان ظالم لوگوں کے ذیل میں مت شمار کرو (کہ ان کی سی ناخوشی مجھ سے بھی برتنے لگو) موسیٰ ؑ نے (اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور) کہا کہ اے میرے رب میری خطا (گو وہ اجتہادی ہو) معاف فرمادے اور میرے بھائی کی بھی (کوتاہی جو ان مشرکین کے ساتھ معاملہ متارکت میں شاید ہوگئی ہو جیسا اس قول سے معلوم ہوتا ہے، مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَيْتَهُمْ ضَلُّوْٓا۔ الایہ) اور ہم دونوں کو اپنی رحمت (خاص) میں داخل فرمایئے اور آپ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں (اس لئے ہم کو قبول دعا کی امید ہے) معارف و مسائل پہلی آیت میں جو ارشاد فرمایا کہ " میں پھیر دوں گا اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو بڑے بنتے ہیں زمین میں بغیر حق کے "۔ اس میں بِغَيْرِ حَقِّ سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ تکبر کرنے لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنا حق ہے وہ برا اور گناہ نہیں، کیونکہ وہ صرف صورت کے (اعتبار سے تکبر ہوتا ہے حقیقت کے اعتبار سے نہیں ہوتا، جیسا کہ مشہور ہے التکبر مع المتکبرین تواضع (مسائل السلو ک) تکبر انسان کو فہم سلیم اور علوم الہیہ سے محروم کردیتا ہے اور تکبر کرنے والوں یعنی بڑے بننے والوں کو اپنی آیتوں سے پھیر دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے آیات الہیہ کے سمجھنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔ اور آیات الہیہ بھی اس جگہ عام مراد ہو سکتی ہیں، جن میں آیات منزلہ تورات و انجیل کی یا قرآن کریم کی بھی داخل ہیں اور آیات تکوینیہ جو تمام زمین و آسمان اور ان کی مخلوقات میں پھیلی ہوئی ہیں، اس لئے خلاصہ مضمون آیت کا یہ ہوا کہ تکبر یعنی اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا اور افضل سمجھنا ایسی مزموم اور منحوس خصلت ہے کہ جو شخص اس میں مبتلا ہوتا ہے اس کی عقل وفہم سلیم نہیں، اسی لئے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے سمجھنے سے محروم ہوجاتا ہے نہ اس کو قرآنی آیات صحیح سمجھنے کی توفیق باقی رہتی ہے اور نہ آیات قدرت میں غور و فکر کرکے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے میں اس کا ذہن چلتا ہے۔ روح البیان میں ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ تکبر اور نخوت ایک ایسی بری خصلت ہے جو علوم ربانیہ کے لئے حجاب بن جاتی ہے کیونکہ علوم ربانیہ صرف اس کی رحمت سے حاصل ہوتے ہیں اور رحمت خداوندی تواضع سے متوجہ ہوتی ہے، مولانا رومی نے خوب فرمایا ہے ہر کجا پستی ست آب آنجا رود ہر کجا مشکل جواب آنجا رود پہلی دو آیتوں میں یہ مضمون ارشاد فرمانے کے بعد پھر موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کا باقی قصہ اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور بنالیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا ایک بدن کہ اس میں گائے کی آوازتھی، کیا انہوں نے یہ دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا اور بتلاتا رستہ معبود بنالیا اس کو اور وہ تھے ظالم

جب موسیٰ ؑ تورات حاصل کرنے کے لئے کوہ طور پر معتکف ہوئے اور شروع میں تیس دن رات کے اعتکاف کا حکم تھا اور اس کے مطابق اپنی قوم سے کہہ گئے تھے کہ تیس دن بعد لوٹیں گے، وہاں حق تعالیٰ نے اس پر دس روز کی میعاد اور بڑھا دی تو اسرائیلی قوم جسکی جلد بازی اور کجروی پہلے سے معروف تھی، اس وقت بھی طرح طرح کی باتیں کرنے لگے، ان کی قوم میں ایک شخص سامری نام کا تھا، جو اپنی قوم میں بڑا اور چودھری مانا جاتا تھا، مگر کچے عقیدہ کا آدمی تھا اس نے موقع پا کر یہ حرکت کی کہ بنی اسرائیل کے پاس کچھ زیورات قوم فرعون کے لوگوں کے رہ گئے تھے ان سے کہا کہ یہ زیورات تم نے قبطی لوگوں سے مستعار طور پر لیے تھے اب وہ سب غرق ہوگئے اور زیورات تمہارے پاس رہ گئے، یہ تمہارے لئے حلال نہیں کیونکہ کفار سے جنگ کے وقت حاصل شدہ مال غنیمت بھی اس زمانہ میں مسلمانوں کے لئے حلال نہیں تھا، بنی اسرائیل نے اس کے کہنے کے مطابق سب زیورات لا کر اس کے پاس جمع کردیئے، اس نے اس سونے چاندی سے ایک بچھڑے یا گائے کا مجسمہ بنایا، اور جیریل امین کے گھوڑے کے سم کے نیچے کی مٹی جو اس نے کہیں پہلے سے جمع کر رکھی تھی اس مٹی میں اللہ تعالیٰ نے حیات وزندگی کا خاصہ رکھا تھا، اس نے سونا چاندی آگ پر پگھلانے کے وقت یہ مٹی اس میں شامل کردی اس کا یہ اثر ہوا کہ اس گائے کے مجسمہ میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے اور اس کے اندر سے گائے کی سی آواز نکلنے لگی، اس جگہ آیت میں عِجْلًا کی تفسیر جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فرماکر اس طرف اشارہ کردیا ہے۔ سامری کی یہ حیرت انگیز شیطانی ایجاد سامنے آئی تو اس نے بنی اسرائیل کو اس کفر کی دعوت دینا شروع کردی کہ یہی خدا ہے، موسیٰ ؑ تو اللہ تعالیٰ سے باتیں کرنے کے لئے کوہ طور پر گئے ہیں اور اللہ میاں (معاذاللہ) خود یہاں آگئے موسیٰ ؑ سے بھول ہوگئی بنی اسرائیل میں اس کی بات پہلے سے مانی جاتی تھی اور اس وقت تو یہ شعبدہ بھی اس نے دکھلا دیا تو اور بھی معتقد ہوگئے اور اسی گائے کو خدا سمجھ کر اس کی عبادت میں لگ گئے۔ مذکورہ تیسری آیت میں اس مضمون کا بیان اختصار کے ساتھ آیا ہے، اور قرآن کریم میں دوسری جگہ اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب پچھتائے اور سمجھے کہ ہم بیشک گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے اگر نہ رحم کرے ہم پر ہمارا رب اور نہ بخشے ہم کو تو بیشک ہم تباہ ہوں گے،

چوتھی آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی تنبیہ کے بعد بنی اسرائیل نادم ہو کر توبہ کرنے کا ذکر ہے، اس میں سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ کے معنی عربی محاورہ کے موافق نادم و شرمندہ ہونے کے ہیں۔