6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور بنایا اندھیرا اور اجالا پھر بھی یہ کافر اپنے رب کے ساتھ اوروں کو برابر کئے دیتے ہیں

خلاصہ تفسیر تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا، اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (عبادت میں دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تم (سب) کو (بواسطہ آدم ؑ کے) مٹی سے بنایا پھر (تمہارے مرنے کا) ایک وقت معین کیا، اور دوسرا وقت معین (دو بارہ زندہ ہو کر اٹھنے کا) خاص اللہ ہی کے نزدیک (معلوم) ہے، پھر بھی تم (میں سے بعض) شک رکھتے ہو (کہ قیامت کو محال سمجھتے ہو حالانکہ جس نے اوّل حیات بخشی دوبارہ دینا اس کو کیا مشکل ہے) اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی (یعنی اور سب معبود باطل ہیں) وہ تمہارے پوشیدہ حالات کو بھی اور تمہارے ظاہر حالات کو بھی (یکساں) جانتے ہیں اور (بالخصوص تم جو کچھ ظاہرا یا باطناً) عمل کرتے ہو (جس پر جزاء و سزاء کا مدار ہے) اس کو جانتے ہیں، اور ان (کفار) کے پاس کوئی نشانی بھی ان کے رب کی نشانیوں میں سے نہیں آئی، مگر وہ اس سے اعراض ہی کیا کرتے ہیں، سو (چونکہ یہ ان کی عادت بنی ہوئی ہے) انہوں نے اس سچی کتاب (قرآن) کو جھوٹا بتلایا جبکہ وہ ان کے پاس پہنچی سو (ان کی یہ تکذیب خالی نہ جائے گی بلکہ) جلد ہی ان کو خبر مل جاوے گی اس چیز کی جس کے ساتھ یہ لوگ استہزاء کیا کرتے تھے (مراد اس سے عذاب ہے جس کی خبر قرآن میں سن کر ہنستے تھے، اور اس کی خبر ملنے کا مطلب یہ ہے کہ جب عذاب نازل ہوگا تو اس خبر کی تصدیق آنکھوں سے دیکھ لیں گے) معارف و مسائل حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ سورة انعام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ پوری سورت بجز چند آیات کے بیک وقت مکہ میں اس طرح نازل ہوئی ہے کہ ستر ہزار فرشتے اس کے جلو میں تسبیح پڑھتے ہوئے آئے تھے، ائمہ تفسیر میں سے مجاہد رحمة اللہ علیہ، کلبی رحمة اللہ علیہ، قتادہ رحمة اللہ علیہ وغیرہ کا بھی تقریباً یہی قول ہے۔ ابو اسحاق اسفرائنی نے فرمایا کہ یہ سورت توحید کے تمام اصول و قواعد پر مشتمل ہے۔ اس سورة کو کلمہ الحمدللہ سے شروع کیا گیا، جس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، اور مراد اس خبر سے لوگوں کو حمد کی تعلیم دینا ہے، اور تعلیم کے اس طرز خاص میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ کسی کی حمدوتعریف کا محتاج نہیں، کوئی حمد کرے یا نہ کرے وہ اپنے ذاتی کمال کے اعتبار سے خود بخودمحمود ہے، اس جملہ کے بعد آسمان و زمین اور اندھیرے، اجالے کے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر اس کے محمود ہونے کی دلیل بھی بتلادی کہ جو ذات اس عظیم قدرت و حکمت کی حامل ہے وہی حمدو تعریف کی مستحق ہو سکتی ہے۔ اس آیت میں سموات کو جمع اور ارض کو مفرد ذکر فرمایا ہے، اگرچہ دوسری آیت میں آسمان کی طرح زمین کے بھی سات ہونے کا ذکر موجود ہے، شاید اس میں اس طرف اشارہ ہو کہ سات آسمان اپنی ہیئت و صورت اور دوسری صفات کے اعتبار سے باہم بہت امتیاز رکھتے ہیں، اور ساتوں زمینیں ایک دوسرے کی ہم شکل اور مثل ہیں، اس لئے ان کو مثل ایک عدد کے قرار دیا گیا (مظہری)۔ اسی طرح ظلمت کو جمع اور نور کو مفرد ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ نور تعبیر ہے صحیح راہ اور صراط مستقیم سے اور وہ ایک ہی ہے، اور ظلمٰت تعبیر ہے غلط راستہ کی، اور وہ ہزاروں ہیں (مظہری و بحر محیط) یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آسمانوں اور زمین کے بنانے کو لفظ خلق سے تعبیر کیا گیا ہے اور اندھیرے اجالے کے بنانے کو لفظ جعل سے، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اندھیرا اور اجالا، آسمان و زمین کی طرح مستقل قائم بالذات چیزیں نہیں، بلکہ عوارض اور صفات میں سے ہیں، اور ظلمٰت کو نور پر مقدم شاید اس لئے ذکر فرمایا گیا کہ اس جہان میں اصل ظلمٰت ہے، اور نور خاص خاص چیزوں سے وابستہ ہے، جب وہ سامنے ہوتی ہیں روشنی پیدا ہوتی ہے، جب نہیں ہوتیں تو اندھیرا رہتا ہے۔ مقصود اس آیت کا توحید کی حقیقت اور اس کی واضح دلیل کو بیان فرما کر دنیا کی ان تمام قوموں کو تنبیہ کرنا ہے یا تو سرے سے توحید کی قائل نہیں، یا قائل ہونے کے باوجود توحید کی حقیقت کو چھوڑ بیٹھی ہیں۔ مجوس دنیا کے دو خالق مانتے ہیں یزدان اور اہرمن، یزدان کو خالق خیر اور اہرمن کو خلق شرقرار دیتے ہیں، اور انہی دونوں کو نور و ظلمت سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ ہندوستان کے مشرک تینتیس کروڑ دیوتاؤں کو خدا کا شریک بتاتے ہیں، آریہ سماج توحید کے قائل ہونے کے باوجود روح و مادّہ کو قدیم اور خدا تعالیٰ کو قدرت و خلقت سے آزاد قرار دے کر توحید کی حقیقت سے ہٹ گئے، اسی طرح نصاریٰ توحید کے قائل ہونے کے ساتھ حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کو خدا تعالیٰ کا شریک وسہیم بنانے لگے، اور پھر عقیدہ توحید کو تھامنے کے لئے ان کو ایک تین اور تین ایک کا غیر معقول نظریہ اختیار کرنا پڑا، اور عرب کے مشرکین نے تو خدائی کی تقسیم میں یہاں تک سخاوت دکھلائی کہ ہر پہاڑ کا ہر پتھر ان کے نزدیک نوع انسانی کا معبود بن سکتا تھا۔ غرض انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے مخدومِ کائنات اور اشرف المخلوقات بنایا تھا یہ جب راہ سے بھٹکا تو اس نے نہ صرف چاند، سورج، اور ستاروں کو بلکہ آگ، پانی اور درخت، پتھر یہاں تک کہ کیڑوں مکوڑوں کو اپنا مسجود و معبود اور حاجت روا، مشکل کشا بنا لیا۔ قرآن کریم نے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کا خالق اور اندھیرے اجالے کا بنانے والا بتلا کر ان سب غلط خیالات کی تردید کردی، کہ نور و ظلمت اور آسمان و زمین اور ان میں پیدا ہونے والی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اور بنائی ہوئی ہیں، تو پھر ان کو کیسے خدا تعالیٰ کا شریک وسہیم کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے پیدا کیا تم کو مٹی سے پھر مقرر کردیا ایک وقت اور ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک پھر بھی تم شک کرتے ہو

پہلی آیت میں عالم کبیر یعنی پوری دنیا کی عظیم ترین چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق و محتاج بتلا کر انسان کو صحیح عقیدہ توحید کا سبق دیا گیا ہے، اس کے بعد دوسری آیات میں انسان کو بتلایا ہے کہ تیرا وجود خود ایک عالم صغیر ہے، اگر اسی کی ابتداء و انتہاء اور بودوباش پر نظر کرے تو عقیدہ توحید ایک واضح حقیقت بن کر سامنے آجائے، اس میں ارشاد فرمایا هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا، یعنی اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، کہ آدم ؑ کو مٹی کے خمیر سے پیدا فرما کر ان میں جان ڈال دی اور عام انسانوں کی غذا مٹی سے نکلتی ہے، غذا سے نطفہ، اور نطفہ سے انسان کی تخلیق عمل میں آتی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو مٹی کی ایک خاص مقدار سے پیدا فرمایا جس میں پوری زمین کے اجزاء شامل کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ اولاد آدم، رنگ و روپ اور اخلاق و عادات میں مختلف ہیں، کوئی کالا کوئی گورا، کوئی سُرخ، کوئی سخت کوئی نرم، کوئی پاکیزہ خصلت، کوئی خبیث الطبع ہوتا ہے، (مظہری بروایت ابن عدی بسند حسن) یہ تو انسان کی ابتداء آفرینش کا ذکر تھا اس کے بعد انتہا کی دو منزلوں کا ذکر ہے، ایک انسان کی شخصی انتہا جس کو موت کہا جاتا ہے، دوسری نوع انسانی اور اس کے کائناتی خوادم سب کے مجموعہ کی انتہاء جس کو قیامت کہا جاتا ہے، انسان کی شخصی انتہاء کے لئے فرمایا، ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا، یعنی انسان کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی بقاء وحیات کے لئے ایک میعاد مقرر کردی، اس میعاد پر پہنچنے کا نام موت ہے جس کو اگرچہ انسان نہیں جانتا مگر اللہ کے فرشتے جانتے ہیں، بلکہ خود انسان بھی اس حیثیت سے اپنی موت کو جانتا ہے کہ ہر وقت ہر جگہ اپنے گردوپیش میں اولاد آدم کو مرتے دیکھتا ہے۔ اس کے بعد پورے عالم کی انتہاء یعنی قیامت کا ذکر اس طرح فرمایا وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ، یعنی ایک اور میعاد مقرر ہے، جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کی میعاد کا پورا علم نہ کسی فرشتہ کو ہے نہ کسی انسان کو۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پہلی آیت میں عالم اکبر یعنی پوری دنیا کا حال یہ بتلایا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اور بنائی ہوئی ہے، اور دوسری آیت میں اسی طرح عالم اصغر یعنی انسان کا مخلوق خداوندی ہونا بیان فرمایا، پھر انسان کو غفلت سے چونکانے کے لئے یہ بتلایا کہ ہر انسان کی ایک خاص عمر ہے جس کے بعد اس کی موت یقینی ہے، اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس کا مشاہدہ ہر انسان کو اپنے گردوپیش میں ہر وقت ہوتا رہتا ہے، وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ انسان کی شخصی موت سے پورے عالم کی عمومی موت یعنی قیامت پر استدلال ایک فکری اور طبعی امر ہے، اس لئے قیامت کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اس لئے آخر آیت میں بطور استبعاد کے فرمایا، ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ، یعنی ایسے واضح دلائل کے باوجود تم قیامت کے بارے میں شبہات و شکوک نکالتے ہو۔
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی ہے اللہ آسمانوں میں اور زمین میں جانتا ہے تمہارا چھپا اور کھلا اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

تیسری آیت میں پہلی دو آیتوں کے مضمون کا نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو آسمانوں اور زمین میں لائقِ عبادت و اطاعت ہے، اور وہی تمہارے ظاہر و باطن کے ہر حال اور ہر قول و فعل سے پورا واقف ہے۔
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور نہیں آئی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر کرتے ہیں اس سے تغافل

چوتھی آیت میں غفلت شعار انسان کی ہٹ دھرمی اور خلاف حق ضد کی شکایت اس طرح فرمائی گئی ہے کہوَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کے واضح دلائل اور کھلی نشانیوں کے باوجود منکر انسانوں نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی نشانی ان کو ہدایت کے لئے بھیجی جاتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں، اس میں ذرا غور نہیں کرتے۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو بیشک جھٹلایا انہوں نے حق کو جب ان تک پہنچا سو اب آئی جاتی ہے ان کے آگے حقیقت اس بات کی جس پر ہنستے تھے

پانچویں آیت میں اسی غفلت شعاری کی مزید تفصیل بعض واقعات کی طرف اشارہ کرکے بیان فرمائی ہے کہ فَقَدْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۭ فَسَوْفَ يَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤ ُ ا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ، یعنی جب حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے حق کو جھٹلا دیا، حق سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس بھی۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ ابتداء عمر سے آخر تک انہی قبائل عرب کے درمیان رہے، بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپا انہی کی آنکھوں کے سامنے آیا، ان کو یہ بھی پوری طرح واضح تھا کہ آنحضرت ﷺ نے کسی انسان سے مطلقاً کوئی تعلیم حاصل نہیں کی، یہاں تک کہ اپنا نام بھی خود نہ لکھتے تھے، پورے عرب میں آپ کا لقب امی مشہور تھا، چالیس سال کی عمر اسی حال میں ان کے درمیان گزری، کہ نہ کبھی شعر و شاعری سے دلچسپی ہوئی نہ کبھی کوئی علم وتعلیم سے مناسبت ہوئی، پھر چالیس سال پورے ہوتے ہی دفعةً آپ ﷺ کی زبان مبارک سے وہ حقائق و معارف اور علوم و فنون جاری ہوگئے کہ دنیا کے بڑے بڑے ماہر فلاسفر بھی ان کے سامنے عاجز نظر آئے، عرب کے تمام فصحاء و بلغاء کو اپنے لائے ہوئے کلام کا مقابلہ کرنے کے لئے چیلنچ دیا۔ یہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کو شکست دینے کے لئے اپنی جان ومال، عزت و آبرو، اولاد و خاندان سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہر وقت تلے رہتے تھے، ان میں سے کسی کی یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس چیلنچ کو قبول کرکے قرآن کی ایک آیت کی مثال ہی پیش کردیتے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ اور قرآن کا اپنا وجود خود حقانیت کی بہت بڑی نشانی تھی، اس کے علاوہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں ہزاروں معجزات اور کھلی کھلی نشانیاں ایسی ظاہر ہوئیں جس کا انکار کوئی صحیح الحواس انسان نہیں کرسکتا، مگر ان لوگوں نے ان ساری نشانیوں کو یکسر جھٹلا دیا، اسی لئے اس آیت میں ارشاد فرمایاففَقَدْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَهُمْ۔ آخر آیت میں ان کے کفر و انکار اور تکذیب کے انجام بد کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایافَسَوْفَ يَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤ ُ ا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ، یعنی آج تو یہ انجام سے غافل لوگ رسول کریم ﷺ کے معجزات اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایات اور قیامت و آخرت سب کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب یہ سارے حقائق ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گے، قیامت قائم ہوگی، ایمان و عمل کا حساب دینا ہوگا، اور ہر شخص اپنے کئے کی جزاء و سزاء پائے گا، مگر اس وقت کا یقین و اقرار ان کے کام نہ آئے گا۔ کیونکہ وہ روز عمل نہیں بلکہ روز جزا ہوگا۔ ابھی غور و فکر کی فرصت خدا تعالیٰ نے دے رکھی ہے، اس کو غنیمت سمجھ کر آیات الٓہیہ پر ایمان لانے ہی میں دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں کہ کتنی ہلاک کردیں ہم نے ان سے پہلے امتیں جن کو جما دیا تھا ہم نے ملک میں اتنا کہ جتنا تم کو نہیں جمایا اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا، اور بنادیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے پھر ہلاک کیا ہم نے ان کو ان کے گناہوں پر اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد اور امتوں کو

خلاصہ تفسیر کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی جماعتوں کو (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت (جسمانی اور مالی) دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے (کھیت اور باغوں کے) نیچے سے نہریں جاری کیں (جس سے زراعت اور پھلوں کی خوب ترقی ہوئی اور وہ خوش حالی کی زندگی بسر کرنے لگے) پھر (اس قوت وقدرت اور سامان و اسباب کے ہوتے ہوئے) ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (انواع عذاب سے) ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کردیا (تو اگر تم پر بھی عذاب نازل کردیں تو تعجب کیا ہے، اور ان لوگوں کے عناد کی یہ حالت ہے کہ) اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ آپ ﷺ پر نازل فرماتے، پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھ سے چھو بھی لیتے (جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا کہ لکھی ہوئی کتاب آسمان سے آجائے اور ہاتھوں سے چھو لینے کا ذکر کرکے نظر بندی کے شبہ کو بھی دور کردیا) تب بھی یہ کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ کچھ بھی نہیں مگر صریح جادو ہے (کیونکہ جب بات ماننے کا ارادہ ہی نہیں تو ہر دلیل میں کوئی نہ کوئی نئی بات نکال لینا کیا مشکل ہے) اور یہ لوگ یوں بھی کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) کے پاس کوئی فرشتہ (جس کو ہم دیکھیں اور باتیں سنیں) کیوں نہیں بھیجا گیا (حق تعالیٰ فرماتے ہیں) اور اگر ہم کوئی فرشتہ (اسی طرح) بھیج دیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہوجاتا پھر (نزول فرشتہ کے بعد) ان کو ذرا مہلت نہ دی جاتی (کیونکہ عادت الٓہیہ یہ ہے کہ جن لوگوں کا منہ مانگا معجزہ دکھلا دیا گیا اگر پھر بھی انہوں نے ایمان سے انکار کیا تو فوراً بلا مہلت کے عذاب سے ہلاک کردیا جاتا ہے اور جب تک ایسا مطلوبہ معجزہ نہ دیکھیں دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے) اور اگر ہم اس (پیغام پہنچانے والے) کو فرشتہ ہی قرار دیتے تو (اس کو بہ شکل فرشتہ بھیجیں تو اس کی ہیبت انسانوں سے برداشت نہ ہو، اس لئے) ہم اس (فرشتہ) کو آدمی ہی (کی شکل) بناتے تو اس پر بھی وہی شبہ کرتے جو اب کر رہے ہیں (یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر بھی اعتراض کرتے، غرض نزول فرشتہ جس کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اگر اس کو پورا کردیا جائے تو ان کو اس سے کوئی فائدہ تو اس لئے نہیں ہوسکتا کہ فرشتہ بشکل فرشتہ دیکھنے پر ان کو قدرت نہیں، اور بشکل انسان بھیجنے سے ان کا شبہ رفع نہیں ہوگا، اور دوسری طرف ان کے بیہودہ مطالبات سے غم نہ کریں، کیونکہ) واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی (مخالفین کی طرف سے) استہزاء کیا گیا ہے، پھر جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا تھا ان کو اس عذاب نے آگھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے (جس سے معلوم ہوا کہ ان کے اس طرز عمل سے انبیاء کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ خود انہی کے لئے عذاب اور مصیبت ہے اور اگر یہ لوگ امم سابقہ کے عذاب کا انکار کرنے لگیں) تو آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ ذرا زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔ معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں احکام الٓہیہ اور تعلیماتِ رسل سے اعراض کرنے یا مخالفت کرنے والوں پر وعید شدید کا ذکر تھا، ان آیات میں انہی منکرین کا رخ اپنے گردوپیش کے حالات اور اگلے زمانہ کے تاریخی واقعات کی طرف پھیر کر ان کو عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا موقع دیا گیا ہے بلاشبہ تاریخ عالم عبرتوں کی ایک کتاب ہے، جس کو اگر چشم بصیرت سے دیکھا جائے تو وہ ہزاروں وعظوں سے زیادہ مؤ ثر وعظ ہے۔ ایک حکیم کا یہ جملہ بہت ہی پسندیدہ ہے کہ”دنیا ایک بہترین کتاب ہے، اور زمانہ بہترین معلم“۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کا ایک بہت بڑا عنصر قصص اور تاریخ ہے، لیکن عام طور پر غفلت شعار انسان نے دنیا کی تاریخ کو بھی ایک تفریحی مشغلہ کی حیثیت سے زیادہ وقعت نہیں دی، بلکہ اس وعظ و حکمت کی بہترین کتاب کو بھی اپنی غفلت و معصیت کا ایک ذریعہ بنا لیا، پچھلے قصوں اور کہانیوں کا یا تو صرف یہ کام رہ گیا کہ نیند سے پہلے ان کو خواب آور دوا کے قائم مقام استعمال کیا جائے اور یا پھر خالی اوقات میں دل بہلانے اور وقت گزارنے کا مشغلہ بنایا جائے۔ شاید اسی لئے قرآن کریم نے تاریخ عالم کی روح کو عبرت و نصیحت کے لئے لیا ہے مگر عام دنیا کی تاریخی اور افسانوی کتابوں کی طرح نہیں، جن میں قصہ گوئی یا تاریخ نگاری خود ہی ایک مقصد ہوتا ہے، اسی لئے تاریخی واقعات کو مسلسل قصہ کی صورت سے بیان نہیں فرمایا، بلکہ قصہ کا جتنا ٹکڑا جس معاملہ اور جس حال سے متعلق تھا وہاں اتنا ہی ٹکڑا ذکر کردیا، پھر کسی دوسری جگہ اس قصہّ کا دوسرا ٹکڑا وہاں کی مناسبت سے بیان فرما دیا، اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ کوئی خبر یا قصہّ کبھی خود مقصود نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر خبر سے کوئی انشاء اور ہر واقعہ کے اظہار سے کوئی عملی نتیجہ نکالنا مقصود ہوتا ہے، اس لئے اس واقعہ کا جتنا حصہ اس مقصد کے لئے ضروری ہے اس کو پڑھو، اور آگے بڑھو اور اپنے خیالات کا جائزہ لو، اور واقعات ماضیہ سے سبق حاصل کرکے اپنی اصلاح کرو۔ آیات متذکرہ میں سے پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے بلاوسطہ مخاطب یعنی اہل مکہ کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے اپنے سے پہلے گزرنے والی قوموں کا حال نہیں دیکھا جس سے ان کو عبرت و نصیحت ہوتی، اور دیکھنے سے مراد ان کے حال پر غور و فکر کرنا ہے۔ کیونکہ وہ قومیں اس وقت تو ان کے سامنے نہیں تھیں جن کو وہ دیکھ سکتے، اس کے بعد اگلی قوموں کی ہلاکت و بربادی کا ذکر فرمایااَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ ، یعنی ہم نے ان سے پہلے کتنے قرنوں کو ہلاک کردیا۔ لفظ قرن اس جماعت کو بھی کہا جاتا ہے جو ایک وقت اور ایک زمانہ میں مجتمع موجد ہو، اور زمانہ کے ایک طویل حصہ کو بھی جس کے بارے میں دس سال سے لے کر سو سال تک کے مختلف اقوال ہیں، مگر بعض واقعات و روایات حدیث سے تائید اس کی ہوتی ہے کہ لفظ قرن سو سال کے لئے بولا جاتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن بشر مازنی کو فرمایا تھا کہ تم ایک قرن زندہ رہو گے، اوہ وہ پورے ایک سو سال زندہ رہے، اور آنحضرت ﷺ نے ایک بچہ کو دعا دی کہ قرن بھر زندہ رہو تو وہ پورے سو سال زندہ زندہ رہا، اکثر حضرات علماء نے حدیث خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم، کا یہی مطلب قرار دیا ہے، کہ ہر قرن کو سو سال مانا گیا۔ اس آیت میں گزشتہ اقوام عالم کے بارے میں پہلے یہ بتلایا گیا کہ ان کو حق تعالیٰ نے زمین میں وہ وسعت وقوت اور سامان معیشت عطا فرمایا تھا، جو بعد کے لوگوں کو نصیب بھی نہیں ہوا، لیکن جب انہی نے رسولوں کی تکذیب اور احکام خداوندی کی مخالفت اختیار کی تو یہ سارا جاہ و جلال اور مال و منال اللہ کے عذاب کے سامنے بےکار ثابت ہوا، اور سب کے سب نیست و نابود ہو کر رہ گئے، تو آج کے مخاطب اہل مکہ جن کو نہ عاد وثمود جیسی قوت و طاقت حاصل ہے، نہ اہل شام و یمن جیسی خوش حالی ان کو اقوال ماضیہ کے واقعات سے عبرت حاصل کرنا اور اپنے افعال کا جائزہ لینا چاہئے، کہ مخالفت کرکے ان کا کیا انجام ہوگا۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایاوَاَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ یعنی اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کا صرف یہی تصرف نہیں تھا کہ بڑی بڑی جاہ و جلال اور حکومت و سلطنت کی مالک اور ڈیل ڈول و قوت و طاقت والی قوموں کو چشم زدن میں ہلاک و برباد کردیا، بلکہ ان کو ہلاک کرتے ہی ان کی جگہ دوسری قومیں پیدا کر کے ایسی طرح بسا دیا کہ دیکھنے والوں کو یہ بھی محسوس نہ ہوسکا کہ یہاں سے کوئی انسان کم بھی ہوا ہے۔ اور حق جل شانہ کی اس قدرت و حکمت کا مشاہدہ تو ویسے بھی ہر زمانہ ہر وقت میں ہوتا رہتا ہے کہ روزانہ ہزاروں لاکھوں انسان ہلاک ہوتے رہتے ہیں، مگر کہیں خلا نظر نہیں آتا کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہاں کے آدمی ہلاک ہوگئے تو اس میں بسنے والے نہ رہے خدا جانے یہ دنیا جلوہ گاہ ناز ہے کس کی ؟ ہزاروں اٹھ گئے رونق وہی باقی ہے مجلس کی ایک مرتبہ میدان عرفات میں جہاں تقریباً دس لاکھ انسانوں کا مجمع تھا اس طرف نظر گئی کہ آج سے تقریباً ستر، اسی سال پہلے اس سارے مجمع میں کسی انسان کا وجود نہ تھا اور اس جگہ پر تقریباً اتنے ہی انسان دوسرے موجود تھے جن کا آج نام و نشان نہیں ہے، اس طرح انسانوں کے ہر اجتماع اور لوگوں کے ہر جھُرمٹ کو جب اس کے ماضی و مستقبل کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو ایک بہت ہی مؤ ثر واعظ نظر آتا ہے، (آیت) فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر اتاریں ہم تجھ پر لکھا ہوا کاغذ میں پھر چھو لیویں وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے البتہ کہیں گے کافر یہ نہیں ہے مگر صریح جادو

دوسری آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی، کہ عبداللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک معاندانہ مطالبہ پیش کیا اور کہا کہ میں تو آپ ﷺ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاسکتا جب تک کہ میں یہ واقعہ نہ دیکھ لوں کہ آپ ﷺ آسمان میں چڑھ جائیں، اور وہاں سے ہمارے سامنے ایک کتاب لے کر آئیں، جس میں میرا نام لے کر یہ ہو کہ میں آپ ﷺ کی تصدیق کروں، اور یہ سب کہہ کر یہ بھی کہہ دیا کہ اگر آپ ﷺ یہ سب کچھ کر بھی دکھائیں میں تو جب بھی مسلمان ہوتا نظر نہیں آتا۔ اور عجیب اتفاق یہ ہے کہ پھر یہی صاحب مسلمان ہوئے اور ایسے ہوئے کہ اسلام کے غازی بن کر غزوہ طائف میں شہید ہوئے۔ قوم کے ایسے بیجا معاندانہ مطالبات اور استہزاء کے رنگ میں مکالمات نے ماں باپ سے زیادہ شفیق رسول اکرم ﷺ کے قلب مبارک پر کیا اثر کیا ہوگا، اس کا صحیح اندازہ ہم نہیں کرسکتے، صرف وہ شخص محسوس کرسکتا ہے جس کو قوم کی صلاح و فلاح کی فکر رسول کریم ﷺ کی طرح لگی ہو۔ اسی لئے اس آیت میں آپ کو تسلی دینے کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے یہ مطالبات کسی غرض اور مقصد کے لئے نہیں، نہ ان کو عمل کرنا مقصود ہے، ان کا حال تو یہ ہے کہ جو کچھ یہ طلب کر رہے ہیں اگر اس سے بھی زیادہ واضح صورتیں آپ ﷺ کی سچائی کی ان کے سامنے آجائیں، جب بھی قبول نہ کریں، مثلاً ہم ان کی فرمائش کے مطابق آسمان سے کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب اتاردیں اور صرف یہی نہیں کہ وہ آنکھوں سے دیکھ لیں جس میں نظر بندی یا جادو وغیرہ کا احتمال نہ رہے، بلکہ وہ اس کتاب کو اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیں کہ محض خیال نہیں، حقیقت ہے، مگر چونکہ ان کی ساری باتیں محض عناد کی وجہ سے ہیں تو پھر بھی یہی کہیں گے کہ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ ”یعنی یہ تو کھلا ہوا جادو ہے“۔
Ayahs 6:8–11

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہیں اترا اس پر کوئی فرشتہ اور اگر ہم اتاریں فرشتہ تو طے ہوجائے قصہ پھر ان کو مہلت بھی نہ ملے

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتہ کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا اور ان کو اسی شبہ میں ڈالتے جس میں اب پڑ رہے ہیں

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہنسی کرتے رہے ہیں رسولوں سے تجھ سے پہلے پھر گھیر لیا ان سے ہنسی کرنے والوں کو اس چیز نے کہ جس پر ہنسا کرتے تھے ،

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ سیر کرو ملک میں پھر دیکھو کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔

تیسری آیت کے نزول کا بھی ایک واقعہ ہے کہ یہی عبداللہ بن ابی امیہ اور نضر بن حارث اور نوفل بن خالد ایک مرتبہ جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ مطالبہ پیش کیا کہ ہم تو آپ ﷺ پر جب ایمان لائیں گے جب کہ آپ ﷺ آسمان سے ایک کتاب لے کر آئیں، اور اس کے ساتھ چار فرشتے آئیں جو اس کی گواہی دیں کہ یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے آئی ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کا جواب حق تعالیٰ نے اہک تو یہ دیا کہ یہ غفلت شعار ایسے مطالبات کرکے اپنی موت و ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں، کیونکہ قانون الٓہی یہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی پیغمبر سے کسی خاص معجزہ کا مطالبہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا مانگا ہوا معجزہ دکھلا دیا جائے، تو اگر وہ پھر بھی مانیں اور اسلام لانے میں ذرا تاخیر کریں تو پھر ان کو عذاب عام کے ذریعہ ہلاک کردیا جاتا ہے، یہ قوم اہل مکہ بھی یہ مطالبہ کسی نیک نیتی سے تو کر نہ رہی تھی، جس سے مان لینے کی توقع کی جاتی، اس لئے فرمایاوَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا يُنْظَرُوْنَ یعنی اگر ہم ان کا مانگا ہوا معجزہ دکھلا دیں کہ فرشتہ بھیج دیں اور یہ قوم ماننے والی تو ہے نہیں، تو معجزہ کے دیکھنے کے بعد بھی جب خلاف ورزی کرے گی تو اللہ کا حکم ان کے ہلاک کرنے کے لئے جاری ہوجائے گا، اور اس کے بعد ان کو ذرا بھی مہلت نہ دی جائے گی، اس لئے ان کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی مانگی ہوئی کوئی نشانی اگر ظاہر نہیں کی گئی تو اس میں ان کی خیر ہے۔ اسی بات کا ایک دوسرا جواب چوتھی آیت میں دوسرے انداز سے دیا گیا کہ یہ سوال کرنے والے عجیب بیوقوف ہیں کہ فرشتوں کے نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ فرشتوں کے نازل ہونے کی دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ فرشتہ اپنی اصلی ہیئت و صورت میں سامنے آجائے تو اس کی ہیت کو تو کوئی انسان برداشت نہیں کرسکتا، بلکہ ہول کھا کر فوراً مرجانے کا خطرہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ فرشتہ بشکل انسانی آئے، جیسے جبریل امین نبی کریم ﷺ کے پاس بہت مرتبہ بشکل انسانی آئے ہیں، تو اس صورت میں اس سوال کرنے والے کو جو اعتراض آپ ﷺ پر ہے وہی اس فرشتہ پر بھی ہوگا، کہ یہ اس کو ایک انسان ہی سمجھے گا۔ ان تمام معاندانہ سوالات کے جواب دینے کے بعد پانچویں آیت میں نبی کریم ﷺ کی تسلی کے لئے ارشاد فرمایا کہ یہ استہزاء و تمسخر اور ایذاء رسانی کا معاملہ جو آپ ﷺ کی قوم آپ کے ساتھ کر رہی ہے کچھ آپ ﷺ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں، آپ ﷺ سے پہلے بھی سب رسولوں کو ایسے دلدوز اور ہمت شکن واقعات سے سابقہ پڑا ہے، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری، اور انجام یہ ہوا کہ استہزاء و تمسخر کرنے والی قوم کو اس عذاب نے آپکڑا جس کا تمسخر کیا کرتے تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کا کام تبلیغ احکام ہے، وہ کرکے آپ اپنے قلب کو فارغ فرما لیں اس کا اثر کسی نے کچھ لیا یا نہیں، اس کی نگہداشت آپ کے ذمہ نہیں، اس لئے اس میں مشغول ہو کر آپ ﷺ قلب کو مغموم نہ کریں۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

پوچھ کہ کس کا ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں اور زمین میں کہہ دے اللہ کا ہے، اس نے لکھی ہے اپنے ذمہ مہربانی البتہ تم کو اکٹھا کر دے گا قیامت کے دن تک کہ اس میں کچھ شک نہیں جو لوگ نقصان میں ڈال چکے اپنی جانوں کو وہی ایمان نہیں لاتے

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ (ان مخالفین سے بطور الزام حجت کے) کہئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے یہ سب کس کی ملک ہے (اوّل تو وہ بھی یہی جواب دیں گے جس سے توحید ثابت ہوگی، اور اگر کسی وجہ سے مثل خوف مغلوبیت کے جواب نہ دیں تو) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ سب اللہ ہی کی ملک ہے (اور ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ) اللہ تعالیٰ نے (اپنے فضل سے توبہ کرنے والوں کے ساتھ) مہربانی فرمانا اپنے ذمہ لازم فرما لیا ہے (اور یہ بھی کہہ دیجئے کہ اگر تم نے توحید کو قبول نہ کیا تو پھر سزا بھی بھگتنا پڑے گی، کیونکہ) تم کو خدا تعالیٰ قیامت کے روز (قبروں سے زندہ اٹھا کر میدان حشر میں) جمع کریں گے (اور قیامت کی حالت یہ ہے کہ) اس کے آنے میں کوئی شک نہیں (مگر) جن لوگوں نے اپنے کو (یعنی اپنی عقل و نظر کو) ضائع (یعنی معطل) کرلیا ہے، سو وہ ایمان نہ لاویں گے (اور ان سے بطور اتمام حجت یہ بھی کہئے کہ) اللہ ہی کے ملک میں ہے جو کچھ رات میں اور دن میں رہتے ہیں، (اس کے اور اس سے پہلی آیت قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کے مجموعہ کا حاصل یہ نکلا کہ جتنی چیزیں کسی مکان میں ہیں یا کسی زمان میں ہیں سب اللہ کی مملوک ہیں) اور وہی سب سے بڑا سننے والا جاننے والا ہے (پھر اثبات توحید کے بعد ان سے) کہئے کہ کیا اللہ کے سوا جو کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے ہیں اور جو (سب کو) کھانا کھلاتے ہیں اور ان کو کوئی نہیں کھلاتا (کیونکہ وہ کھانے پینے کی احتیاج سے بالاتر ہیں، تو کیا ایسے اللہ کے سوا) کسی کو اپنا معبود قرار دوں (آپ اس استفہام انکاری کی تشریح میں خود) فرما دیجئے (کہ میں غیر اللہ کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہوں جو عقل و نقل کے خلاف ہے) مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کرلوں (جس میں عقیدہ توحید بھی آگیا) اور (مجھ کو یہ کہا گیا کہ) تم مشرکین میں سے ہرگز نہ ہونا۔ معارف و مسائل آیت قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں کفار سے سوال کیا گیا ہے کہ آسمان و زمین اور ان کی تمام کائنات کا مالک کون ہے ؟ پھر خود ہی رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ سب کا مالک اللہ ہے، کفار کے جواب کا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی جواب دینے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جواب کفار مکہ کے نزدیک بھی مسلم ہے وہ اگرچہ شرک و بت پرستی میں مبتلا تھے مگر زمین و آسمان اور کل کائنات کا مالک اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ میں لفظ الیٰ یا تو فی کے معنی میں ہے، اور مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب اولین و آخرین کو قیامت کے دن میں جمع فرما دیں گے، اور یا جمع فی القبور مراد ہے، تو مطلب یہ ہوگا کہ قیامت تک سب انسانوں کو قبروں میں جمع کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ روز قیامت میں سب کو زندہ کریں گے (قرطبی) كَتَبَ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا فرمایا تو ایک نوشتہ اپنے ذمہ وعدہ کا تحریر فرمایا جو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، جس کا مضمون یہ ہےان رحمتی تغلب علی غضبی، یعنی میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی (قرطبی) اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ اس میں اشارہ ہے کہ شروع آیت میں جو اللہ تعالیٰ کی عموم رحمت کا ذکر ہے کفار و مشرکین اگر اس سے محروم ہوئے تو وہ خود اپنے عمل سے محروم ہوئے، انہوں نے حصول رحمت کا طریقہ یعنی ایمان اختیار نہیں کیا (قرطبی)
Ayahs 6:13–14

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں اور وہی ہے سب کچھ سننے والا جاننے والا

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

تو کہہ دے کیا اور کسی کو بناؤں اپنا مددگار اللہ کے سوا جو بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا کہہ دے مجھ کو حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں اور تو ہرگز نہ ہو شرک والا۔

وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۭ، یہاں یا تو سکون سے مراد استقرار ہے، یعنی جو چیز جہاں کے لیل و نہار میں موجود ہے وہ سب اللہ ہی کی ملک ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد سکون و حرکت کا مجموعہ ہو، یعنی ماسکن وما تحرک اور ذکر صرف سکون کا کیا گیا حرکت جو اس کے بالمقابل ہے وہ خودبخود سمجھ میں آسکتی ہے۔
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

تو کہہ میں ڈرتا ہوں اگر نافرمانی کروں اپنے رب کی ایک بڑے دن کے عذاب سے

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں (کہ اسلام و ایمان کے حکم کی تعمیل نہ کروں یا شرک میں مبتلا ہوجاؤ ں) تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں (یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ معصوم ہیں، اسلام و ایمان کے خلاف شرک و معصیت کا صادر ہونا آپ سے ممکن نہیں، مگر یہاں سنانا عام امت کو ہے، کہ نبی معصوم بھی اللہ کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں، پھر فرمایا کہ وہ عذاب ایسا ہے کہ) جس شخص سے اس روز کا عذاب ہٹا دیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے بڑا رحم کیا اور یہ (عذاب کا ہٹ جانا اور اللہ کی رحمت کا متوجہ ہوجانا) صریح کامیابی ہے (اس میں اس رحمت کا بیان بھی ہوگیا جس کا ذکر اس سے پہلے كَتَبَ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ میں آیا ہے) اور (آپ ﷺ ان کو یہ بھی سنا دیجئے کہ اے انسان) اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف (دنیا یا آخرت میں) پہنچا دیں تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں (وہی چاہیں تو دور کریں یا نہ کریں اور جلد کریں یا دیر میں کریں) اور اگر تجھ کو (اسی طرح) کوئی نفع پہنچا دیں (تو اس کا بھی کوئی ہٹانے والا نہیں، جیسا دوسری جگہ ہے (آیت) لا رآد لفضلہ کیونکہ) وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں (اور مضمون مذکور کی تاکید کے لئے یہ بھی فرما دیجئے کہ) وہی اللہ تعالیٰ (قدرت کے اعتبار سے) اپنے بندوں پر غالب اور برتر ہیں اور (علم کے اعتبار سے) وہی بڑی حکمت والے اور پوری خبر رکھنے والے ہیں (پس وہ علم سے سب کا حال جانتے ہیں اور قدرت سے سب کو جمع کرلیں گے اور حکمت سے مناسب جزاء و سزا دیں گے) آپ ﷺ (ان منکرین توحید و رسالت سے) کہئے کہ (اچھا یہ تو بتلاؤ کہ) سب سے بڑھ کر چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے (جس کی گواہی دینے پر سب کا اختلاف رفع ہوجاوے، اس کا جواب ظاہر ہے یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر ہیں پھر) آپ ﷺ کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان (جس مسئلہ میں اختلاف ہے اس میں وہی) اللہ تعالیٰ گواہ ہے (جس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے) اور (ان کی گواہی یہ ہے کہ) میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے (منجانب اللہ) بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعہ تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو (ان وعیدوں سے) ڈراؤں (جو توحید و رسالت کے انکار پر اس میں مذکور ہیں کیونکہ قرآن مجید کے اعجاز اور اس کی مثل بنانے سے ساری دنیا کا عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی تکوینی شہادت رسول اللہ ﷺ کی سچائی پر ہوگئی اور مضامین قرآن سے اس کی تشریعی شہادت ہوگئی) کیا تم (اس شہادت کبریٰ کے بعد بھی جو کہ توحید کو شامل ہے) توحید کے بارے میں سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ (استحقاق عبادت میں) کچھ اور معبود بھی (شریک) ہیں (اور اگر وہ ہٹ دھرمی سے اس پر بھی کہہ دیں کہ ہاں ہم تو یہی گواہی دیں گے تو اس وقت ان سے بحث کرنا فضول ہے، بلکہ صرف) آپ (اپنے عقیدہ کو ظاہر کرنے کے لئے) کہہ دیجئے کہ میں تو اس کی گواہی نہیں دیتا اور بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں (اور آپ ﷺ کی رسالت کے بارے میں جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے یہود و نصاریٰ سے پوچھ کر دیکھ لیا تو اس معاملہ کی تحقیق یہ ہے کہ) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات و انجیل) دی ہے وہ سب لوگ رسول ﷺ کو (ایسا) پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (لیکن جب شہادت کبریٰ کے ہوتے ہوئے اہل کتاب کی شہادت پر مدار ہی نہیں تو اس کے نہ ہونے سے بھی کوئی استدلال نہیں کیا جاسکتا، اور ایسی شہادت کبریٰ کے ہوتے ہوئے بھی) جن لوگوں نے اپنے کو ضائع کرلیا ہے وہ ایمان نہ لاویں گے (عقل کو ضائع کرنے سے مطلب یہ ہے کہ اس کو معطل کردیا عقل سے کام نہیں لیا) اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے، یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھوٹا بتاوے، ایسے بےانصافوں کا (حال یہ ہوگا کہ) ان کو (قیامت کے دن) خلاصی نہ ہوگی (بلکہ دائمی عذاب میں گرفتار رہیں گے)۔ معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کا ذکر کرکے اس پر ایمان لانے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا، آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس حکم کی خلاف ورزی کرنے کا عذاب ایک خاص انداز سے بیان فرمایا گیا ہے، کہ رسول کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر بالفرض میں بھی اپنے رب کے حکم کی مخالفت کروں تو مجھے بھی قیامت کے عذاب کا خوف ہے، یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ ہر گناہ سے معصوم ہیں، آپ ﷺ کی نافرمانی کا صدور ہو ہی نہیں سکتا، لیکن آپ ﷺ کی طرف منسوب کرکے امت کو یہ بتلایا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی پر جب نبی الانبیاء ﷺ کو معاف نہیں کیا جاسکتا تو اور کسی کی کیا مجال ہے۔
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس پر سے ٹل گیا وہ عذاب اس دن تو اس پر رحم کردیا اللہ نے اور یہی ہے بڑی کامیابی

اس کے بعد فرمایا مَنْ يُّصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ یعنی روز محشر کا عذاب انتہائی ہولناک اور سخت ہے، جس شخص سے یہ عذاب ٹل گیا تو سمجھئے کہ اس پر اللہ کی بڑی رحمت ہوگئی، وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ یعنی یہی بڑی اور کھلی کامیابی ہے، یہاں کامیابی سے مراد دخول جنت ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عذاب سے نجات اور جنت کا داخلہ لازم و ملزوم ہیں۔
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر پہنچا دے تجھ کو اللہ کچھ سختی تو کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں سوا اس کے اور اگر تجھ کو پہنچا دے بھلائی تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

دوسری آیت میں اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر نفع اور نقصان کا مالک در حقیقت صرف اللہ جل شانہ ہے، کوئی شخص کسی کو حقیقت کے اعتبار سے نہ ادنیٰ نفع پہنچا سکتا ہے نہ ادنیٰ نقصان، اور ظاہر میں جو کسی کو کسی کے ہاتھ سے نفع یا نقصان پہنچتا نظر آتا ہے وہ صرف ایک ظاہری صورت اور حقیقت کے سامنے ایک نقاب سے زائد کوئی حقیقت نہیں رکھتا کار زلف تست مشک اثسائی امّا عاشقاں مصلحت راتہمتے برآ ہوئے چیں بستہ اند ؛ یہ عقیدہ بھی اسلام کے ان انقلابی عقائد میں سے ہے جس نے مسلمانوں کو ساری مخلوق سے بےنیاز اور صرف خالق کا نیاز مند بنا کر ان کی ایک ایسی بےمثال البیلی جماعت تیار کردی جو فقر و فاقہ اور تنگدستی میں بھی سارے جہان پر بھاری ہے، کسی کے سامنے سر جھکانا نہیں جانتی فقر میں بھی میں سربسر فخر و غرور و ناز ہوں کسی کا نیاز مند ہوں سب سے جو بےنیاز ہوں قرآن مجید میں جا بجا یہ مضمون مختلف عنوانات کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے، ایک آیت میں ارشاد ہے (آیت) ما یفتح اللہ للناس ”یعنی اللہ تعالیٰ نے جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دی اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو روک دے اس کو کوئی کھولنے والا نہیں“۔ صحیح احادیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ اپنی دعاؤں میں اکثر یہ کہا کرتے تھے اللہم لا مانع لما اعطیت۔ الخ۔ (ترجمہ) ”یعنی اے اللہ ! جو آپ نے دیا اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو آپ نے روک دیا اس کا کوئی دینے والا نہیں اور کسی کوشش والے کی کوشش آپ کے مقابلہ میں نفع نہیں دے سکتی“۔ امام بغوی رحمة اللہ علیہ نے اس آیت کے تحت حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ایک سواری پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے ردیف بنا لیا، کچھ دور چلنے کے بعد میری طرف منوجہ ہو کر فرمایا کہ اے لڑکے ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں، کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اللہ کو یاد رکھو ! اللہ تم کو یاد رکھے گا، تم اللہ کو یاد رکھو گے تو اس کو ہر حال میں اپنے سامنے پاؤ گے، تم امن و عافیت اور خوش عیشی کے وقت اللہ تعالیٰ کو پہچانو تو تمہاری مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ تم کر پہچانے گا، جب تم کو سوال کرنا ہو تو صرف اللہ سے سوال کرو، اور مدد مانگنی ہو تو صرف اللہ سے مدد مانگو، جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے قلم تقدیر کا اس کو لکھ چکا ہے، اگر ساری مخلوقات مل کر اس کی کوشش کریں کہ تم کو ایسا نفع پہنچا دیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں نہیں رکھا تو وہ ہرگز ایسا نہ کرسکیں گے، اور اگر وہ سب مل کر اس کی کوشش کریں کہ تم کو ایسا نقصان پہنچاویں جو تمہاری قسمت میں نہیں ہے تو ہرگز اس پر قدرت نہ پائیں گے، اگر تم کرسکتے ہو کہ یقین کے ساتھ صبر پر عمل کرو تو ایسا ضرور کرلو، اگر اس پر قدرت نہیں تو صبر کرو، کیونکہ اپنی خلاف طبع چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیروبرکت ہے، اور خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کے ساتھ ہے، اور مصیبت کے ساتھ راحت اور تنگی کے ساتھ فراخی ہے۔ (یہ حدیث ترمذی اور مسند احمد میں بھی بسند صحیح مذکور ہے)۔ افسوس ہے کہ قرآن کے اس واضح اعلان اور رسول کریم ﷺ کی عمر بھر کی تعلیمات کے باوجود یہ امت پھر اس معاملہ میں بھٹکنے لگی، سارے خدائی اختیارات مخلوقات کو بانٹ دیئے، آج ایسے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو مصیبت کے وقت بجائے خدا تعالیٰ کے پکارنے کے اور اس سے دعا مانگنے کے مختلف ناموں کی دہائی دیتے اور انہی سے مانگتے ہیں، خدا تعالیٰ کی طرف دھیان تک نہیں ہوتا، انبیاء و اولیاء کے توسل سے دعا مانگنا دوسری بات ہے وہ جائز ہے، اور خود نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں اس کے شواہد موجود ہیں، لیکن براہ راست کسی مخلوق کو حاجت روائی کے لئے پکارنا، اس سے اپنی حاجتیں مانگنا، اس قرآنی حکم کے خلاف کھلی بغاوت ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھے۔
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور اسی کا زور ہے اپنے بندوں پر اور وہی ہے بڑی حکمت والا سب کی خبر رکھنے والا

آخر آیت میں فرمایا وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہی اپنے سب بندوں پر غالب و قادر ہے، اور سب اس کے تحت قدرت اور محتاج ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انسان خواہ اللہ کا رسول مقرب ہو یا دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ ہو اپنے ہر ارادہ میں کامیاب نہیں ہوتا، اور اس کی ہر مراد پوری نہیں ہوتی۔ وہ حکیم بھی ہے کہ اس کے تمام افعال عین حکمت ہیں، اور ہر چیز کو جاننے والا بھی ہے، اس میں لفظ ”قاہر“ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اور لفظ ”حکیم“ سے اس کے علم محیط کا بیان کرکے بتلا دیا کہ تمام صفات کمال علم وقدرت میں منحصر ہیں اور اللہ تعالیٰ ان دونوں میں یکتا ہیں۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

تو پوچھ سب سے بڑا گواہ کون ہے کہہ دے اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان اور اترا ہے مجھ پر یہ قرآن تاکہ تم کو اس سے خبردار کردوں اور جس کو یہ پہنچے کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ معبود اور بھی ہیں تو کہہ دے میں گواہی نہ دوں گا کہہ دے وہی ہے معبود ایک اور میں بیزار ہوں تمہارے شرک سے

پانچویں آیت کا ایک خاص واقعہ نزول عامہ مفسرین نے نقل کیا ہے، کہ ایک مرتبہ اہل مکہ کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا کہ آپ جو رسول اللہ ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اس پر آپ کا گواہ کون ہے ؟ کیونکہ ہمیں کوئی آدمی ایسا نہیں ملا جو آپ کی تصدیق کرتا ہو، حالانکہ ہم نے یہود سے نصاریٰ سے اس کی تحقیق میں پوری کوشش کی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً یعنی آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ سے بڑھ کر کس کی شہادت ہوگی، جس کے قبضہ میں کل جہان اور سب کا نفع و ضرر ہے، پھر آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کی گواہی سے مراد وہ معجزات اور آیات بینات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے رسول برحق ہونے کے متعلق ظاہر فرمائی اسی لئے اس کے بعد اہل مکہ کو خطاب کرکے یہ ارشاد فرمایااَىِٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰي یعنی کیا اللہ تعالیٰ کی اس گواہی کے بعد بھی تم اس کے خلاف اس کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں، اگر ایسا ہے تو اپنے انجام کو تم سمجھو، میں تو ایسی گواہی نہیں دے سکتا، قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ، یعنی آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ یکتا معبود ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اور ارشاد فرمای آوَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ ، یعنی مجھ پر بطور وحی قرآن بھیجا گیا، تاکہ اس کے ذریعہ میں تم کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤ ں، اور ان لوگوں کو ڈراؤں جن کو قیامت تک یہ قرآن پہنچے گا۔ حضرت سعید بن جبیر رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس شخص کو قرآن پہنچ گیا وہ ایسا ہوگیا جیسے اس نے محمد ﷺ کی زیارت کرلی، اور ایک حدیث میں ہے کہ جس شخص کو قرآن پہنچ گیا میں اس کا نذیر ہوں۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو تاکید فرمائیبلغوا عنی ولو ایة، یعنی میرے احکام وتعلیمات لوگوں تک پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ اور صحت مند رکھے جس نے میرا کوئی مقالہ سنا پھر اس کو یاد رکھا پھر اس کو امت تک پہنچا دیا، کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی خود کسی کلام کے مفہوم کو اتنا نہیں سمجھتا جتنا بعد میں آنے والا سمجھتا ہے جس کو یہ کلام اس نے پہنچایا ہے۔
Ayahs 6:20–21

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن کو ہم نے دی ہے کتاب وہ پہچانتے ہیں اس کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو جو لوگ نقصان میں ڈال چکے اپنی جانوں کو وہی ایمان نہیں لاتے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون جو بہتان باندھے اللہ پر یا جھٹلا دے اس کی آیتوں کو بلا شک بھلائی نصیب نہیں ہوتی ظالموں کو۔

آخری آیت میں ان لوگوں کے اس قول کی تردید ہے کہ ہم نے یہود و نصاریٰ سے سب سے تحقیق کرلی، کوئی بھی آپ ﷺ کی سچائی اور نبوت کی گواہی نہیں دیتا، اس کے متعلق ارشاد فرمایااَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ یعنی یہود و نصاریٰ تو محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایسا پہنچاتے ہیں جیسے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ تورات و انجیل میں رسول کریم ﷺ کا پورا حلیہ شریف آپ ﷺ کے وطن اصلی پھر وطن ہجرت کا، اور آپ ﷺ کے عادات و اخلاق اور آپ ﷺ کے کارناموں کا ایسا تفصیلی ذکر ہے کہ اس کے بعد کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی، بلکہ صرف آنحضرت ﷺ ہی کا ذکر نہیں، آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے حالات کا مفصل تذکرہ تک تورات و انجیل میں موجود ہے، اس لئے اس کا کوئی امکان نہیں کہ جو شخص تورات و انجیل کو پڑھتا اور ان پر ایمان رکھتا ہو وہ رسول اللہ ﷺ کو نہ پہچانے۔ اس جگہ حق تعالیٰ نے تشبیہ کے موقع پر یہ ارشاد فرمایا کہ جیسے لوگ اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں، یہ نہیں فرمایا کہ جیسے بچے اپنے ماں باپ کو پہچانتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ ماں باپ کی پہچان اپنے بچوں کے لئے سب سے زیادہ تفصیلی اور یقینی ہوتی ہے، بچوں کے بدن کا ہر حصہ ماں باپ کے سامنے آتا رہتا ہے، وہ بچپن سے لے کر جوانی تک ان کے ہاتھوں اور گود میں پرورش پاتے ہیں، اس لئے وہ جتنا اپنی اولاد کو پہچان سکتے ہیں اتنا اولاد ان کو نہیں پہچان سکتی۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جو پہلے یہود میں داخل تھے، پھر مسلمان ہوگئے، حضرت فاروق اعظم ؓ نے ان سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خبر دی ہے کہ تم لوگ ہمارے رسول ﷺ کو ایسا پہچانتے ہو جیسے اپنی اولاد کو اس کی کیا وجہ ہے ؟ عبداللہ ابن سلام ؓ نے فرمایا کہ ہاں ہم رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اوصاف کے ساتھ جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تورات میں نازل فرمائے، اس لئے اس کا علم ہمیں یقینی اور قطعی طور پر ہے، بخلاف اپنی اولاد کے کہ اس میں شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ ہماری اولاد ہے بھی یا نہیں۔ حضرت زید بن سعنہ جو اہل کتاب میں سے ہیں انہوں نے رسول کریم ﷺ کو تورات و انجیل کے بیان کردہ اوصاف ہی کے ذریعہ پہچانا تھا، صرف ایک وصف ایسا تھا جس کی ان کو پہلے تصدیق نہیں ہوسکی تھی، امتحان کے بعد تصدیق ہوئی، وہ یہ کہ آپ ﷺ کا حلم آپ ﷺ کے غصہ پر غالب ہوگا، پھر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر تجربہ کیا تو یہ صفت بھی پوری طرح آپ ﷺ میں پائی اسی وقت مسلمان ہوگئے۔ آخر آیت میں فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو پوری طرح رسول کریم ﷺ کو پہچاننے کے باوجود مسلمان نہیں ہوتے، یہ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو برباد کر رہے اور خسارہ میں پڑ رہے ہیں، َالَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم جمع کریں گے ان سب کو پھر کہیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کیا تھا کہاں ہیں شریک تمہارے جن کا تم کو دعویٰ تھا

خلاصہ تفسیر کیفیت عدم فلاح مشرکین اور وہ وقت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے جس روز ہم تمام خلائق کو (میدان حشر میں) جمع کریں گے، پھر مشرکین سے (بواسطہ یا بلا واسطہ بطور زجر و توبیخ کے) کہیں گے کہ (بتلاؤ) تمہارے وہ شرکاء جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے کہاں گئے (کہ تمہاری سفارش نہیں کرتے جس پر تم کو بھروسہ تھا) پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی (ظاہر) نہ ہوگا کہ وہ (اس شرک سے خود بیزاری اور نفرت کا اظہار کریں گے اور بدحواسی کے عالم میں) یوں کہیں گے قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی کہ ہم مشرک نہیں تھے (حق تعالیٰ نے فرمایا تعجب کی نظر سے) ذرا دیکھو تو کس طرح (صریح) جھوٹ بولا اپنی جانوں پر اور جن چیزوں کو وہ جھوٹ موٹ تراشا کرتے تھے (یعنی ان کے بت اور جن کو وہ خدا کا شریک ٹھہراتے تھے) وہ سب غائب ہوگئے (تشنیع بر انکار قرآن وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ) اور ان (مشرکین) میں بعضے ایسے ہیں کہ (آپ ﷺ کے قرآن پڑھنے کے وقت اس کے سننے کے لئے) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور (چونکہ یہ سننا طلب حق کیلئے نہیں محض تماشے یا تمسخر کی نیت سے ہوتا ہے اس لئے اس سے ان کو کچھ نفع نہیں ہوتا، چنانچہ) ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں اس سے کہ وہ اس (قرآن کے مقصود) کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ بھر دیا ہے (کہ وہ اس کو ہدایت کے لئے نہیں سنتے، یہ تو ان کے دلوں اور کانوں کی حالت تھی، اب ان کی بصارت اور نگاہ کو دیکھو) اگر وہ لوگ (آپ ﷺ کی صدق نبوت کے) تمام دلائل کو (بھی) دیکھ لیں ان پر بھی ایمان نہ لاویں (ان کے عناد کی نوبت) یہاں تک (پہنچی ہے) کہ جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے خواہ مخواہ جھگڑتے ہیں (اس طور پر کہ) یہ لوگ جو کافر ہیں یوں کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو کچھ بھی نہیں صرف بےسند باتیں ہیں جو پچھلے لوگوں سے (منقول) چلی آرہی ہیں (یعنی مذہب والے پہلے سے ایسی باتیں کرتے چلے آئے ہیں کہ معبود ایک ہی ہے اور یہ کہ انسان خدا کا پیغمبر ہوسکتا ہے، قیامت میں پھر زندہ ہونا ہے، جس کا حاصل عناد اور تکذیب ہے آگے اس سے ترقی کرکے جدال اور دوسروں کو بھی ہدایت سے روکنے کا کام شروع کیا) اور پھر یہ لوگ اس (قرآن) سے اوروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی (اس سے نفرت ظاہر کرنے کے لئے) دور دور رہتے ہیں اور (ان حرکتوں سے) یہ لوگ اپنے ہی کو تباہ کر رہے ہیں اور (حماقت اور غایت بغض سے) کچھ خبر نہیں رکھتے (کہ ہم کس کا نقصان کر رہے ہیں، ہمارے اس فعل سے رسول اور قرآن کا تو اس سے کچھ بگڑتا نہیں)۔ معارف و مسائل پچھلی آیت میں یہ مذکور تھا کہ ظالموں کافروں کو فلاح نصیب نہ ہوگی، متذکرہ آیات میں اس کی تفصیل و تشریح ہے، پہلی اور دوسری آیت میں اس سب سے بڑے امتحان کا ذکر ہے جو محشر میں رب الارباب کے سامنے ہونے والا ہے، ارشاد فرمایا (آیت) وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا، یعنی وہ دن یاد رکھنے کے قابل ہے جس میں ہم ان سب کو یعنی ان مشرکین کو اور ان کے بنائے ہوئے معبودوں کو جمع کریں گے۔ ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاۗؤ ُ كُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ، یعنی پھر ہم ان سے یہ سوال کریں گے کہ تم جن معبودوں کو ہمارا سہیم و شریک اور اپنا حاجت روا مشکل کشا سمجھا کرتے تھے آج وہ کہاں ہیں ؟ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ اس میں لفظ ثم اختیار فرمایا گیا ہے جو تراخی اور دیر کے لئے استعمال ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ محشر میں جمع ہونے کے بعد فوراً ہی سوال جواب نہیں ہوگا، بلکہ عرصہ دراز تک حیرت و تذبذب کے عالم میں کھڑے رہیں گے، مدّت کے بعد حساب کتاب اور سوالات شروع ہوں گے۔ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ اللہ تعالیٰ تم کو میدان حشر میں ایسی طرح جمع کردیں گے جیسے تیروں کو ترکش میں جمع کردیا جاتا ہے، اور پچاس ہزار سال اسی طرح رہو گے، اور ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے روز ایک ہزار سال سب اندھیرے میں رہیں گے۔ آپس میں بات چیت بھی نہ کرسکیں گے (یہ روایت حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے ذکر کی ہے) اس روایت میں جو پچاس ہزار اور ایک ہزار کا فرق ہے یہی فرق قرآن کی دو آیتوں میں بھی مذکور ہے، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) ان کان مقدارہ خمسین الف سنة، ”یعنی اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی“ اور دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) ان یوما عند ربک کالف سنة، ”یعنی ایک دن تمہارے رب کے پاس ایک ہزار سال کا ہوگا“۔ اور وجہ اس فرق کی یہ ہے کہ یہ روز شدت تکلیف و مشقت کے اعتبار سے دراز ہوگا، اور درجات محنت و مشقت کے مختلف ہوں گے، اس لئے بعضوں کے لئے یہ دن پچاس ہزار سال کا اور بعض کے لئے ایک ہزار سال کا محسوس ہوگا۔