Ayah 6:105توحید و رسالت پر جو واضح دلائل پچھلی آیت میں بیان ہوچکے ہیں، تیسری آیت میں ان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا(آیت) وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ یعنی ہم اسی طرح دلائل کو مختلف پہلووں سے بیان کرتے ہیں۔
اس کے بعد فرمایا گیا(آیت) وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ جس کا حاصل یہ ہے کہ سارا ہدایت کا سامان معجزات اور دلائل بےمثل کتاب قرآن اور ایک اُمّی محض کی زبان مبارک سے ایسے علوم و حقائق کا اظہار جن سے ساری دنیا کے فلاسفر اور حکماء عاجز ہیں، ایسا بلیغ کلام جس میں قیامت تک آنے والے جن و بشر کو چیلنج کیا گیا کہ اس کی ایک چھوٹی سی سورت جیسا کلام کوئی بنا سکے تو لائے اور ساری دنیا اس سے عاجز رہی، یہ سب حق بینی کا سامان ایسا تھا کہ ہر ہٹ دھرم منکر کو بھی رسول کریم ﷺ کے قدموں پر گر جانا چاہئے تھا، لیکن جن لوگوں کی طبیعت میں زیغ اور کجی تھی، وہ یہ کہنے لگے کہ درست یعنی یہ علوم تو آپ نے کسی سے پڑھ لئے ہیں۔
ساتھ یہ بھی فرما دیا (آیت) وَلِنُبَيِّنَهٗ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ جس کا حاصل یہ ہے کہ دانشمند جن کی سمجھ درست اور فہم سلیم ہے ان کے لئے یہ بیان نافع و مفید ثابت ہوا، خلاصہ یہ ہے کہ سامان ہدایت تو سب کے سامنے رکھا گیا مگر کج فہموں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا، سلیم الفہم لوگ اس کے ذریعہ دنیا کے رہبر بن گئے۔
Ayah 6:106چوتھی آیت میں رسول کریم ﷺ کو ہدایت ہے کہ آپ یہ نہ دیکھیے کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا، آپ خود اس طریق پر چلتے رہئے جس طریق پر چلنے کے لئے آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے، جس میں بڑی چیز یہ اعتقاد ہے کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نیز اس وحی میں تبلیغ کا حکم بھی داخل ہے، اس پر قائم رہ کر مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے کہ افسوس ! انہوں نے کیوں قبول نہ کیا۔
Ayah 6:107پانچویں آیت میں اس کی وجہ یہ بتلائی گئی کہ اگر اللہ تعالیٰ کو تکوینی طور پر یہ منظور ہوتا کہ سب انسان مسلمان ہوجائیں تو یہ شرک نہ کرسکتے، لیکن ان کی بدعنوانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ ان کو سزا ملے تو ایسا ہی سامان جمع کردیا، پھر آپ ان کو کیسے مسلمان بنا سکتے ہیں، اور آپ اس فکر میں پڑیں کیوں، ہم نے آپ کو ان کے اعمال کا نگران نہیں بنایا، اور نہ آپ ﷺ ان اعمال پر عذاب دینے کے ہماری طرف سے مختار ہیں، اس لئے آپ کو ان کے اعمال سے تشویش نہ ہونی چاہئے۔
Ayah 6:108خلاصہ تفسیر
اور دشنام مت دو ان (معبودان باطلہ) کو جن کی یہ (مشرک) لوگ خدا (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں، کیونکہ (تمہارے ایسا کرنے سے) پھر وہ براہ جہل حد سے گذر کر (یعنی غصہ میں آکر) اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے (اور اس کا تعجب نہ کیا جائے کہ ایسی گستاخی کرنے والوں کو ساتھ کے ساتھ سزا کیوں نہیں مل جاتی، کیونکہ) ہم نے (دنیا میں تو) اسی طرح (جیسا ہورہا ہے) ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل (بھلا ہو یا برا ہو) مرغوب بنا رکھا ہے (یعنی ایسے اسباب جمع ہوجاتے ہیں کہ ہر ایک کو اپنا طریقہ پسند ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ عالم اصل میں ابتلاء و امتحان کا ہے، پس اس میں سزا ضروری نہیں) پھر (البتہ اپنے وقت پر) اپنے رب ہی کے پاس ان (سب) کو جانا ہے، سو (اس وقت) وہ ان کو جتلا دے گا جو کچھ بھی وہ (دنیا میں) کیا کرتے تھے (اور مجرمین کو سزا دے دے گا) اور ان (منکر) لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے (یعنی ہمارے) پاس (یعنی ان کے فرمائشی نشانوں میں سے) کوئی نشان (ظہور میں) آجاوے تو وہ (یعنی ہم) ضرور ہی اس (نشان) پر ایمان لے آویں گے (یعنی نشان ظاہر کرنے والے کی نبوت کو مان لیں گے) آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ نشان سب خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں (وہ ان میں جس طرح چاہے تصرف فرما دے دوسرے کو دخل دینا اور فرمائش کرنا بےجا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں کہ کس کا ظاہر ہونا حکمت ہے اور کس کا ظاہر نہ ہونا حکمت ہے، البتہ بعثت رسل کے وقت مطلقاً کسی نشان کو ظاہر کردینا اس میں حکمت یقینی ہے، سو اللہ تعالیٰ بہت سے نشان صدق دعو ٰی رسالت محمدیہ پر ظاہر فرما چکے ہیں جو کہ دلالت کے لئے کافی ہیں، بس یہ ان کی فرمائش کا جواب ہوگیا) اور (چونکہ مسلمانوں کے دل میں خیال تھا کہ خوب ہو اگر یہ نشان ظاہر ہوجاویں، شاید ایمان لے آویں ان کو خطاب فرماتے ہیں کہ) تم کو اس کی کیا خبر (بلکہ ہم کو خبر ہے) کہ وہ (فرمائشی) نشان جس وقت (ظہور میں) آجاویں گے یہ لوگ (غایت عناد سے) جب بھی ایمان نہ لاوینگے اور (ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے) ہم بھی ان کے دلوں کو (حق طلبی کے قصد سے) اور ان کی نگاہوں کو (حق بینی کی نظر سے) پھیر دیں گے (اور ان کا یہ ایمان نہ لانا ایسا ہے) جیسا یہ لوگ اس (قرآن) پر (کہ معجزہ عظیمہ ہے) پہلی دفعہ (جبکہ وہ آیا) ایمان نہیں لائے (تو اب ایمان نہ لانے کو بعید مت سمجھو) اور (تقلیب ابصار یعنی نگاہوں کو بےکار کرنے کا مطلب ظاہری تقلیب نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ) ہم ان کو ان کی سر کشی (وکفر) میں حیران (سرگرداں) رہنے دیں گے (ایمان کی توفیق نہ ہوگی کہ یہ معنوی تقلیب ہے) اور (ان کے عناد کی تو یہ کیفیت ہے کہ) اگر ہم (ایک فرمائشی نشان کیا کئی کئی اور بڑے بڑے فرمائشی نشان بھی ظاہر کردیتے، مثلاً یہ کہ) ان کے پاس فرشتوں کو بھیج دیتے (جیسا وہ کہتے ہیں (آیت) (لو لا انزل علینا الملائکة) اور ان سے مردے (زندہ ہو کر) باتیں کرنے لگتے (جیسا وہ کہتے ہیں (آیت) (فاتوا بآبائنا) اور (یہ تو صرف اتنا ہی کہتے ہیں (آیت) (تاتی باللہ والملائکة قبیلا) ہم (اسی پر اکتفاء نہ کرتے بلکہ) تمام موجودات (غیبیہ) کو (جس میں جنت و دوزخ سب کچھ آ گیا) ان کے پاس ان کی آنکھوں کے رو برو دلا کر جمع کردیتے، (کہ سب کو کھلم کھلا دیکھ لیتے) تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لاتے، ہاں مگر خدا ہی چاہے (اور ان کی تقدیر بدل دے) تو اور بات ہے (پس جب ان کے عناد و شرارت کی یہ کیفیت ہے اور خود بھی وہ اس کو جانتے ہیں کہ ہماری نیت اس وقت بھی ایمان لانے کی نہیں تو اس کا مقتضایہ تھا کہ نشانوں کی فرمائش نہ کرتے کہ محض بےکار ہے) لیکن ان میں زیادہ لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں (کہ ایمان لانے کا تو قصد نہیں پھر خواہ مخواہ کی فرمائشیں کہ جہالت ہونا اس کا ظاہر ہے) اور (یہ لوگ جو آپ سے عداوت کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات آپ ﷺ ہی کے لئے نہیں ہوتی، بلکہ جس طرح یہ آپ ﷺ سے عداوت رکھتے ہیں) اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کئے تھے، کچھ آدمی (جن سے اصل معاملہ تھا) اور کچھ جن (ابلیس اور اس کی اولاد) جن میں سے بعضے (یعنی ابلیس اور اس کا لشکر) دوسرے بعضوں کو (یعنی کافر آدمیوں کو) چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکہ میں ڈال دیں (مراد اس سے کفر و مخالفت کی باتیں ہیں کہ ظاہر میں نفس کو بھلی معلوم ہوتی تھیں، اور باطن میں مہلک تھیں، اور یہی دھوکہ ہے، جب یہ کوئی نئی بات نہیں تو اس کا غم نہ کیجئے کہ آپ کے ساتھ یہ لوگ ایسے معاملات کیوں کرتے ہیں، اصل یہ ہے کہ اس میں بعضی حکمتیں ہیں، اس وجہ سے ان کو ایسے امور پر قدرت بھی ہوگئی ہے) اور اگر اللہ تعالیٰ (یہ) چاہتا (کہ یہ لوگ ایسے امور پر قادر نہ رہیں) تو (پھر) یہ ایسے کام نہ کرسکتے (مگر بعض حکمتوں سے ان کو قدرت دے دی ہے) سو (جب اس میں حکمتیں ہیں تو) ان لوگوں کو اور جو کچھ یہ (دین کے بارہ میں) افتراء پردازی کر رہے ہیں (جیسے انکار نبوت جس پر عداوت مرتب ہے) اس کو آپ ﷺ رہنے دیجئے (اس کی فکر وغم میں نہ پڑئیے، ہم خود متعین وقت پر مناسب سزاء دیں گے کہ ان حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے) اور (وہ شیاطین ان کافر آدمیوں کو اس لئے وسوسہ میں ڈالتے تھے) تاکہ اس (فریب آمیز بات) کی طرف ان لوگوں کے قلوب مائل ہوجاویں جو آخرت پر (جیسا چاہئے) یقین نہیں رکھتے (مراد کافر لوگ ہیں، اگرچہ اہل کتاب ہوں، کیونکہ جیسا چاہئے ان کو بھی یقین نہیں، ورنہ انکار نبوت پر جس پر قیامت میں سزاء ہوگی کبھی جرأت نہ کرتے) اور تاکہ (میلان نفسانی کے بعد) اس کو (اعتقاد قلبی سے بھی) پسند کرلیں اور تاکہ (اعتقاد کے بعد) مرتکب (بھی) ہوجاویں ان امور کے جن کے وہ مرتکب ہوتے تھے۔
معارف و مسائل
مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے، اور اس میں ایک اہم اصولی مسئلہ کی ہدایت دی گئی ہے کہ جو کام خود کرنا جائز نہیں اس کا سبب اور ذریعہ بننا بھی جائز نہیں۔
آیت کا شان نزول ابن جریر کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کے عم محترم ابو طالب مرض الموت میں تھے تو قریش کے مشرک سردار جو رسول کریم ﷺ کی عداوت اور ایذاء رسانی میں لگے ہوئے تھے، اور قتل کی سازشیں کرتے رہتے تھے، ان کو یہ فکر ہوئی کہ ابو طالب کی وفات ہمارے لئے ایک مشکل مسئلہ بن جائے گی، کیونکہ ان کے بعد اگر ہم محمد ﷺ کو قتل کریں گے تو یہ ہماری عزت شرافت کے خلاف ہوگا کہ لوگ کہیں گے کہ ابو طالب کے سامنے تو ان کا کچھ بگاڑ نہ سکے، ان کے موت کے بعد اکیلا پا کر قتل کردیا، اس لئے اب وقت ہے کہ ہم مل کر خود ابو طالب ہی سے کوئی فیصلہ کن بات کرلیں۔
یہ بات تقریباً ہر لکھا پڑھا مسلمان جانتا ہے کہ ابو طالب اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن آنحضرت ﷺ کی نہ صرف محبت بلکہ عظمت و جلالت بھی ان کے دل میں پیوست تھی، اور آپ کے دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر رہتے تھے۔
چند قریشی سرداروں نے یہ مشورہ کر کے ابو طالب کے پاس جانے کے لئے ایک وفد مرتب کیا، جس میں ابو سفیان، ابو جہل، عمروبن عاص وغیرہ قریشی سردار شامل تھے، ابو طالب سے اس وفد کی ملاقات کے لئے وقت لینے کا کام ایک شخص مطّلب نامی کے سپرد ہوا، اس نے ابوطالب سے اجازت لے کر اس وفد کو وہاں پہنچایا۔
وفد نے ابو طالب سے کہا کہ آپ ہمارے بڑے اور سردار ہیں، اور آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے بھتیجے محمد ﷺ نے ہمیں اور ہمارے معبودوں کو سخت تکلیف اور ایذاء پہنچا رکھی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ان کو بلا کر سمجھا دیں کہ وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں تو ہم اس پر صلح کرلیں گے کہ وہ اپنے دین پر جس طرح چاہیں عمل کریں، جس کو چاہیں معبود بنائیں، ہم ان کو کچھ نہ کہیں گے۔
ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ یہ آپ کی برادری کے سردار آئے ہیں، آنحضرت ﷺ نے اس وفد سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش یہ ہے کہ آپ ﷺ ہمیں اور ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیں، برا بھلا نہ کہیں، اور ہم آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے معبود کو چھوڑ دیں گے، اس طرح باہمی مخالفت ختم ہوجائے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا یہ بتلاؤ کہ اگر میں تمہاری یہ بات مان لوں تو کیا تم ایک ایسا کلمہ کہنے کے لئے تیار ہوجاؤ گے جس کے کہنے سے تم سارے عرب کے مالک ہوجاؤ گے، اور عجم کے لوگ بھی تمہارے تابع اور باج گزار بن جائیں گے۔
ا بوجہل بولا کہ ایسا کلمہ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں، بتلائیے وہ کیا ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ یہ سنتے ہی سب برہم ہوگئے، ابوطالب نے بھی حضور ﷺ سے کہا کہ میرے بھتیجے ! اس کلمہ کے سوا کوئی اور بات کہو، کیونکہ آپ کی قوم اس کلمہ سے گھبرا گئی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا ! چچا جان ! میں تو اس کلمہ کے سوا کوئی دوسرا کلمہ نہیں کہہ سکتا، اگر وہ آسمان سے آفتاب کو اتار لاویں اور میرے ہاتھ میں رکھ دیں جب بھی میں اس کلمہ کے سوا کوئی دوسرا ہرگز نہ کہوں گا، مقصود یہ تھا کہ ان کو مایوس کردیں۔
اس پر یہ لوگ ناراض ہو کر کہنے لگے یا تو آپ ﷺ ہمارے معبودوں (بتوں) کو برا کہنے سے باز آجائے، ورنہ ہم آپ ﷺ کو بھی گالیاں دیں گے اور اس ذات کو بھی جس کا رسول آپ ﷺ اپنے آپ کو بتلاتے ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ، یعنی آپ ﷺ ان بتوں کو برا نہ کہیں جن کو ان لوگوں نے خدا بنا رکھا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کو برا کہنے لگیں اپنی بےراہ روی اور بےسمجھی سے۔
اس میں وَلَا تَسُبُّوا لفظ سَبّ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں گالی دینا، رسول کریم ﷺ تو اپنے فطری اخلاق کی بناء پر پہلے ہی اس کے پابند تھے، کبھی بچپن میں بھی کسی انسان بلکہ کسی جانور کے لئے بھی گالی کا لفظ آپ ﷺ کی زبان مبارک پر جاری نہیں ہوا، ممکن ہے بعض صحابہ کرام کی زبان سے کبھی کوئی سخت کلمہ نکل بھی گیا ہو جس کو مشرکین مکہ نے گالی سے تعبیر کیا، اور قریشی سرداروں کے اس وفد نے حضور ﷺ کے سامنے اس معاملہ کو رکھ کر یہ اعلان کردیا کہ آپ ﷺ ہمارے بتوں کو سب وشتم کرنے سے باز نہ آئیں گے تو ہم آپ کے خدا کو سب وستم کریں گے۔
اس پر قرآنی حکم یہ نازل ہوا، جس کے ذریعہ مسلمانوں کو روک دیا گیا، کہ وہ مشرکین کے معبودات باطلہ کے متعلق کوئی سخت کلمہ نہ کہا کریں، اس آیت میں یہ بات خاص طور سے قابل نظر ہے کہ اس سے پہلی آیت میں خود آنحضرت ﷺ کو خطاب ہو رہا تھا، مثلاً ارشاد ہے(آیت) اتبع ما اوحی الیک من ربک، اور (آیت) واعرض عن المشرکین اور (آیت) وما جعلنک علیہم حفیظا اور (آیت) ما انت علیہم بوکیل، ان تمام صیغوں میں آنحضرت ﷺ مخاطب تھے، کہ آپ ﷺ ایساکریں یا ایسا نہ کریں، اس کے بعد اس آیت میں طرز خطاب رسول کریم ﷺ سے پھیر کر عام مسلمانوں کی طرف کردیا گیا، فرمایا وَلَا تَسُبُّوا اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تو کبھی کسی کو گالی دی ہی نہیں تھی، ان کو براہ راست اس کلام کا مخاطب بنانا ان کی دل شکنی کا سبب ہوسکتا ہے، اس لئے خطاب عام کردیا گیا، اور تمام صحابہ کرام بھی اس میں احتیاط فرمانے لگے (کذا فی البحر المحیط)
رہا یہ معاملہ کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں بتوں کا تذکرہ سخت الفاظ میں آیا ہے، اور وہ آیات منسوخ بھی نہیں، ان کی تلاوت اب بھی ہوتی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ آیات قرآنی میں جہاں کہیں ایسے الفاظ آئے ہیں وہ بطور مناظرہ کسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے وارد ہوئے ہیں وہاں کسی کی دل آزاری نہ پیش نظر ہے، اور نہ کوئی سمجھدار انسان ان سے یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ اس میں بتوں کو برا کہنا یا مشرکین کو چڑانا منظور ہے، اور یہ ایک ایسا کھلا ہوا فرق ہے جس کو ہر زبان کے اہل محاورہ بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ کبھی کسی شخص کا کوئی عیب یا برائی کسی مسئلہ کی تنقیح کے لئے ذکر کی جاتی ہے، جیسے عام طور پر عدالتوں میں ہر روز سامنے آتا رہتا ہے، لیکن عدالت کے سامنے ہونے والے بیان کو دنیا میں کوئی آدمی یہ نہیں کہتا کہ فلاں نے فلاں کو گالی دی ہے، اسی طرح ڈاکٹروں اور حکیموں کے سامنے انسان کے بہت سے ایسے عیب بیان کئے جاتے ہیں کہ ان کو دوسری جگہ اور دوسری طرح کوئی بیان کرے گا تو گالی سمجھی جائے، لیکن بغرض علاج ان کے بیان کرنے کو کوئی گالی دینا نہیں کہتا۔
اسی طرح قرآن کریم نے جا بجا بتوں کے بےحس وبے شعور اور بےعلم وقدرت اور بےبس ہونے کو اس پیرایہ میں بیان فرمایا ہے کہ سمجھنے والے حقیقت کو سمجھ لیں، اور نہ سمجھنے والوں کی غلطی یا کوتاہ نظری واضح ہوجائے، جس کے نتیجہ میں ارشاد ہوا ہے ضعف الطالب والمطلوب،”یعنی یہ بت بھی کمزور ہیں اور ان کے چاہنے والے بھی کمزور“ یا یہ ارشاد ہوا ہے (آیت) انکم وما تعبدون من دون اللّہ حصب جہنم،”یعنی تم اور جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں“۔ یہاں بھی کسی کو برا بھلا کہنا مقصود نہیں، گمراہی اور غلطی کا انجام بد بیان کرنا مقصود ہے، اور فقہاء رحمہم اللہ نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص اس آیت کو بھی مشرکین کو چڑانے کے سبب سے پڑھے تو اس کے لئے اس وقت یہ تلاوت کرنا بھی سبِّ ممنوع میں داخل اور ناجائز ہے، جیسے مواضع مکروہہ میں تلاوت ِقرآن کا ناجائز ہونا سب کو معلوم ہے۔ (روح المعانی)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زبان مبارک اور قرآن کریم میں تو نہ پہلے کبھی ایسا کلام آیا تھا جس کو لوگ گالی سمجھیں، اور نہ آئندہ آنے کا کوئی خطرہ تھا، ہاں مسلمانوں سے اس کا امکان تھا ان کو اس آیت نے ایسا کرنے سے روک دیا۔
اس واقعہ اور اس پر قرآنی ہدایت نے ایک بڑے علم کا دروازہ کھول دیا، اور چند اصولی مسائل اس سے نکل آئے۔
کسی گناہ کا سبب بننا بھی گناہ ہے
مثلاً ایک اصول یہ نکل آیا کہ جو کام اپنی ذات کے اعتبار سے جائز بلکہ کسی درجہ میں محمود بھی ہو مگر اس کے کرنے سے کوئی فساد لازم آتا ہو، یا اس کے نتیجہ میں لوگ مبتلائے معصیت ہوتے ہوں وہ کام بھی ممنوع ہوجاتا ہے، کیونکہ معبودات باطلہ یعنی بتوں کو برا کہنا کم از کم جائز تو ضرور ہے، اور ایمانی غیرت کے تقاضہ سے کہا جائے تو شاید اپنی ذات میں ثواب اور محمود بھی ہو، مگر چونکہ اس کے نتیجہ میں یہ اندیشہ ہوگیا کہ لوگ اللہ جل شانہ کو برا کہیں گے تو بتوں کو برا کہنے والے اس برائی کا سبب بن جائیں گے، اس لئے اس جائز کام کو بھی منع کردیا گیا۔
اس کی ایک اور مثال بھی حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی نہ دے، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو کسی شخص سے ممکن ہی نہیں کہ اپنے ماں باپ کو گالی دے، فرمایا کہ ہاں انسان خود تو ان کو گالی نہیں دیتا، لیکن جب وہ کسی دوسرے شخص کے ماں باپ کو گالی دے اور اس کے نتیجہ میں وہ دوسرا اس کے ماں باپ کو گالی دے، تو اس گالی دلوانے کا سبب یہ بیٹا بنا، تو یہ بھی ایسا ہی ہے جیسے اس نے خود گالی دی۔
اسی معاملہ کی ایک دوسری مثال عہد رسالت میں یہ پیش آئی کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ بیت اللہ شریف زمانہ جاہلیت کے کسی حادثہ میں منہدم ہوگیا تھا تو قریش مکہ نے بعثت ونبو ّت سے پہلے اس کی تعمیر کرائی، اس تعمیر میں چند چیزیں بناء ابراہیمی کے خلاف ہوگئیں، ایک تو یہ کہ جس حصہ کو حطیم کہا جاتا ہے یہ بھی بیت اللہ کا جز ہے، تعمیر میں اس کو سرمایہ کم ہونے کی بناء پر چھوڑ دیا، دوسرے بیت اللہ شریف کے دو دروازے شرقی اور غربی تھے، ایک داخل ہونے کے لئے دوسرا باہر نکلنے کے لئے، اہل جاہلیت نے غربی دروازہ بند کرکے صرف ایک کردیا، اور وہ بھی سطح زمین سے بلند کردیا، تاکہ بیت اللہ شریف میں داخلہ صرف ان کی مرضی و اجازت سے ہوسکے، ہر شخص بےمحابانہ جاسکے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ بیت اللہ کی موجودہ تعمیر کو منہدم کرکے حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کی تعمیر کے بالکل مطابق بنا دوں، مگر خطرہ یہ ہے کہ تمہاری قوم یعنی عام عرب ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں، بیت اللہ کو منہدم کرنے سے کہیں ان کے دلوں میں کچھ شبہات نہ پیدا ہوجائیں، اس لئے میں نے اپنے ارادہ کو ترک کردیا۔
ظاہر ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کو بناء ابراہیمی کے مطابق بنانا ایک اطاعت اور کار ثواب تھا، مگر اس پر لوگوں کی ناواقفیت کے سبب ایک خطرہ کا ترتب دیکھ کر آپ ﷺ نے اس ارادہ کو ترک فرما دیا اس واقعہ سے بھی یہی اصول مستفاد ہوا کہ اگر کسی جائز بلکہ ثواب کے کام پر کوئی مفسدہ لازم آتا ہو تو وہ جائز کام بھی ممنوع ہوجاتا ہے۔
لیکن اس پر ایک قوی اشکال ہے، جس کو روح المعانی میں ابو منصور سے نقل کیا ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جہاد و قتال لازم فرمایا ہے، حالانکہ قتال کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ مسلمان کسی غیر مسلم کو قتل کرنے کے ارادہ کرے گا تو وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے، اور مسلمان کا قتل حرام ہے، تو اس اصول پر جہاد بھی ممنوع ہوجانا چاہئے، ایسے ہی ہماری تبلیغ اسلام اور تلاوت قرآن پر نیز اذان اور نماز پر بہت سے کفار مذاق اڑاتے اور مضحکہ بناتے ہیں، تو کیا ہم ان کے اس غلط رویہ کی بناء پر اپنی عبادات سے دستبردار ہوجائیں گے۔
اس کا جواب خود ابو منصور نے یہ دیا ہے کہ یہ اشکال ایک ضروری شرط کے نظر انداز کردینے سے پیدا ہوگیا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ جائز کام جس کو لزوم مفسدہ کی وجہ سے منع کردیا گیا ہے اسلام کے مقاصد اور ضروری کاموں میں سے نہ ہو، جیسے معبودات باطلہ کو برا کہنا، اس سے اسلام کا کوئی مقصد متعلق نہیں، اسی طرح بیت اللہ کی تعمیر کو بناء ابراہیمی کے مطابق بنانا اس پر بھی کوئی اسلامی مقصد موقوف نہیں، اس لئے جب اس پر کسی دینی مفسدہ کا خطرہ لاحق ہوا تو ان کاموں کو ترک کردیا گیا، اور جو کام ایسے ہیں کہ اسلام میں خود مقصود ہیں، یا کوئی مقصد اسلامی اس پر موقوف ہے اگر دوسرے لوگوں کی غلط روی سے ان پر کوئی مفسدہ اور خرابی مرتب بھی ہوتی نظر آئے تو ان مقاصد کو ہرگز ترک نہ کیا جائے گا، بلکہ اس کی کوشش کی جائیگی کہ یہ کام تو اپنی جگہ جاری رہیں اور پیش آنے والے مفاسد جہاں تک ممکن ہو بند ہوجائیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ اور امام محمد بن سیرین رحمة اللہ علیہ دونوں حضرات ایک جنازہ کی نماز میں شرکت کے لئے چلے، وہاں دیکھا کہ مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی اجتماع ہے، اس کو دیکھ کر ابن سیرین واپس ہوگئے، مگر حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ لوگوں کی غلط روش کی وجہ سے ہم اپنے ضروری کام کیسے چھوڑ دیں، نماز جنازہ فرض ہے اس کو اس مفسدہ کی وجہ سے ترک نہیں کیا جاسکا، ہاں اس کی کوشش تابمقدور کی جائے گی کہ یہ مفسدہ مٹ جائے۔ یہ واقعہ بھی روح المعانی میں نقل کیا گیا ہے۔
اس لئے خلاصہ اس اصول کا جو آیت مذکورہ سے نکلا ہے یہ ہوگیا کہ جو کام اپنی ذات میں جائز بلکہ اطاعت وثواب بھی ہو مگر مقاصد شرعیہ میں سے نہ ہو، اگر اس کے کرنے پر کچھ مفاسد لازم آجائیں تو وہ کام ترک کردینا واجب ہوجاتا ہے، بخلاف مقاصد شرعیہ کے کہ وہ لزوم مفاسد کی وجہ سے ترک نہیں کئے جاسکتے۔
اس اصول سے فقہاء امت نے ہزاروں مسائل کے احکام نکالے ہیں، فقہاء نے فرمایا ہے کہ کسی شخص کا بیٹا نافرمان ہو اور وہ یہ جانتا ہو کہ اس کو کسی کام کے کرنے کے لئے کہوں گا تو انکار کرے گا اور اس کے خلاف کرے گا جس سے اس کا سخت گناہگار ہونا لازم آئے گا تو ایسی صورت میں باپ کو چاہئے کہ اس کو حکم کے انداز میں کسی کام کے کرنے یا چھوڑنے کو نہ کہے، بلکہ نصیحت کے انداز میں اس طرح کہے کہ فلاں کام کرلیا جائے تو بہت اچھا ہو، تاکہ انکار یا خلاف کرنے کی صورت میں ایک جدید نافرمانی کا گناہ اس پر عائد نہ ہوجائے (خلاصہ الفتاوٰی)
اسی طرح کسی کو وعظ و نصیحت کرنے میں بھی اگر قرائن سے یہ معلوم ہوجائے کہ وہ نصیحت قبول کرنے کے بجائے کوئی ایسا غلط انداز اختیار کرے گا، جس کے نتیجہ میں وہ اور زیادہ گناہ میں مبتلا ہوجائے گا تو ایسی صورت میں نصیحت ترک کردینا بہتر ہے، امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے صحیح بخاری رحمة اللہ علیہ میں اس موضوع پر ایک مستقل باب رکھا ہے باب من ترک بعض الاختیار مخافة ان یقصر فھم بعض الناس فقعوا فی اشد منہ، یعنی بعض اوقات جائز بلکہ مستحسن چیزوں کو اس لئے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اس سے کم فہم عوام کو کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے، بشرطیکہ یہ کام مقاصد اسلامیہ میں داخل نہ ہو۔
مگر جو کام مقاصد اسلامیہ میں داخل ہیں خواہ فرائض و واجبات ہوں یا سنن مؤ کدہ یا دوسری قسم کے شعائر اسلامی، اگر ان کے ادا کرنے سے کچھ کم فہم لوگ غلطی میں مبتلا ہونے لگیں تو ان کاموں کو ہرگز نہ چھوڑا جائے گا، بلکہ دوسرے طریقوں سے لوگوں کی غلط فہمی اور غلط کاری کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی، ابتداء اسلام کے واقعات شاہد ہیں کہ نماز و تلاوت اور تبلیغ اسلام کی وجہ سے مشرکین مکہ کو اشتعال ہوتا تھا، مگر اس کی وجہ سے ان شعائر اسلام کو کبھی ترک نہیں کیا گیا، بلکہ خود آیت مذکورہ کے شان نزول میں جو واقعہ ابوجہل وغیرہ رؤ ساء قریش کا ذکر کیا گیا ہے اس کا حاصل یہی تھا کہ قریشی سردار اس پر صلح کرنا چاہتے تھے کہ آپ ﷺ توحید کی تبلیغ کرنا چھوڑ دیں، جس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں یہ کام کسی حال میں نہیں کرسکتا اگرچہ وہ آفتاب و ماہتاب لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دیں۔
اس لئے اس مسئلہ کی تنقیح اس طرح ہوگئی کہ جو کام مقاصد اسلامیہ میں داخل ہیں اگر ان کے کرنے سے کچھ لوگ غلط فہمی یا غلط کاری کا شکار ہوتے ہوں تو ان کاموں کو ہرگز نہ چھوڑا جائے گا، ہاں جو کام مقاصد اسلامیہ میں داخل نہیں، اور ان کے ترک کردینے سے کوئی دینی مقصد فوت نہیں ہوتا ایسے کاموں کو دوسروں کی غلط فہمی یا غلط کاری کے اندیشہ کی وجہ سے چھوڑ دیا جائیگا۔
Ayahs 6:109–110پچھلی آیات میں اس کا ذکر تھا کہ رسول کریم ﷺ کے کھلے ہوئے معجزات اور اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں کے باجود ہٹ دھرم لوگوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا، اپنے انکار اور ضد پر جمے رہے، اگلی آیات میں اس کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک نیا روپ یہ بدلا کہ آنحضرت ﷺ سے خاص خاص قسم کے معجزات دکھلانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ قریشی سرداروں نے مطالبہ کیا کہ اگر آپ ﷺ ہمیں یہ معجزہ دکھلا دیں کہ کوہ صفا پورا سونا ہوجائے تو ہم آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو مان لیں گے، اور مسلمان ہوجائیں گے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اچھا معاہدہ کرو کہ اگر یہ معجزہ ظاہر ہوگیا تو تم سب مسلمان ہوجاؤ گے، انہوں نے قسمیں کھا لیں، آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے کہ اس پہاڑ کو سونا بنا دیجئے، حضرت جبرئیل ؑ وحی لے کر آئے کہ اگر آپ ﷺ چاہیں تو ہم ابھی اس پورے پہاڑ کو سونا بنادیں، لیکن قانون الٓہی کے مطابق اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو سب پر عذاب عام نازل کرکے ہلاک کردیا جائے گا، جیسی پچھلی قوموں میں ہمیشہ ہوتا رہا ہے، کہ انہوں نے کسی خاص معجزہ کا مطالبہ کیا، وہ دکھایا گیا، اور وہ پھر بھی منکر ہوگئے، تو ان پر خدا تعالیٰ کا قہر و عذاب نازل ہوگیا، رحمة اللعالمین ﷺ چونکہ ان لوگوں کی عادات اور ہٹ دھرمی سے واقف تھے، بمقضائے شفقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب میں اس معجزہ کی دعا نہیں کرتا، اس واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی، وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ، جس میں کفار کے قول کی نقل کی ہے، کہ انہوں نے مطلوبہ معجزہ ظاہر ہونے پر مسلمان ہوجانے کے لئے قسمیں کھالیں، اس کے بعد کی آیت اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ میں ان کے قول کا جواب ہے کہ معجزات اور نشانیاں سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، اور جو معجزات ظاہر ہوچکے ہیں وہ بھی اسی کی طرف سے تھے، اور جن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ان پر بھی وہ پوری طرح قادر ہے، لیکن ازروئے عقل و انصاف ان کو ایسا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں، کیونکہ رسول کریم ﷺ کے رسول ہونے کے مدعی ہیں، اور اس دعوے پر بہت سے دلائل اور شہادتیں معجزات کی صورت میں پیش فرما چکے ہیں، اب دوسرے فریق کو اس کا تو حق ہے کہ ان دلائل اور شہادتوں پر جرح کرے ان کو غلط ثابت کرے، لیکن ان پیش کردہ شہادتوں میں کوئی جرح نہ کریں اور پھر یہ مطالبہ کریں کہ ہم تو دوسری شہادتیں چاہتے ہیں، یہ ایسا ہوگا جیسا عدالت میں کوئی مدعا علیہ مدعی کے پیش کردہ گواہوں پر تو کوئی جرح نہ کرے، مگر یہ کہے کہ میں تو ان گواہوں کی شہادت نہیں مانتا، بلکہ فلاں معیّن شخص کی گواہی پر بات مانوں گا، اس کو کوئی عدالت قابل سماعت نہ سمجھے گی۔
اسی طرح نبوت و رسالت پر بیشمار آیات بینات اور معجزات ظاہر ہوجانے کے بعد جب تک ان معجزات کو غلط ثابت نہ کریں ان کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ ہم تو فلاں قسم کا معجزہ دیکھیں گے جب ایمان لائیں گے۔
اس کے بعد آخر آیات تک مسلمانوں کو فہمائش اور خطاب ہی کہ تمہارا کام دین حق پر خود قائم رہنا اور دوسروں کو صحیح طریقہ سے پہنچا دینا ہے، پھر بھی اگر وہ ہٹ دھرمی کرنے لگیں تو ان کی فکر میں پڑنا نہیں چاہئے، کیونکہ زبردستی کسی کو مسلمان بنانا نہیں، اگر زبردستی بنانا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ زبردست کون ہے، وہ خود ہی سب کو مسلمان بنا دیتے، اور ان آیات میں مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لئے یہ بھی بتلا دیا گیا کہ اگر ہم ان کے مانگے ہوئے معجزات کو بھی بالکل کھلے اور واضح طور پر ظاہر کردیں یہ جب بھی ایمان نہ لائیں گے، کیونکہ ان کا انکار کسی غلط فہمی یا ناواقفیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ ضد اور عناد اور ہٹ دھرمی سے ہے، جس کا علاج کسی معجزہ سے نہیں ہوا کرتا،
Ayahs 6:111–113آخری آیت وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ میں اسی مضمون کا بیان ہے کہ اگر ہم ان کو ان کے فرمائشی معجزات سب دکھلادیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ فرشتوں سے ان کی ملاقات اور مردوں سے گفتگو کرادیں، جب بھی وہ ماننے والے نہیں، بعد کی دو آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ اگر آپ ﷺ سے عداوت کرتے ہیں تو کچھ تعجب کی بات نہیں، پچھلے تمام انبیاء کے بھی دشمن ہوتے چلے آئے ہیں، آپ ﷺ اس سے دلگیر نہ ہوں۔
Ayah 6:114خلاصہ تفسیر
(آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میرے تمہارے درمیان جو مقدمہ رسالت میں اختلاف ہے کہ میں بحکم سرکاری اس کا مدعی ہوں اور تم منکر اور یہ مقدمہ اجلاس احکم الحاکمین سے میرے حق میں اس طرح طے اور فیصل ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلیل، یعنی قرآن معجز خود قائم فرما دیا ہے اور تم پھر بھی نہیں مانتے) تو کیا (تم یہ چاہتے ہو کہ اس خدائی فیصلہ کو کافی نہ قرار دوں اور) اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں، حالانکہ وہ ایسا (کامل فیصلہ کرچکا) ہے کہ اس نے ایک کتاب (جو اپنے اعجاز میں) کامل (ہے) تمہارے پاس بھیج دی ہے (جو اپنے اعجاز کی وجہ سے دلالة علی النبوة میں کافی ہے، پس اس کے دو کمال تو یہ ہیں، اعجاز و تنزیل من اللہ، اور اس کے علاوہ اور وجوہ سے بھی کامل، اور اس سے جو اور مقاصد ہدایت وتعلیم کے متعلق ہیں ان کے لئے کافی ہے، چنانچہ) اس کی (ایک یعنی تیسری) حالت (کمال کی) یہ ہے کہ اس کے مضامین (جو دین کے باب میں اہم ہیں) خوب صاف صاف بیان کئے گئے ہیں اور (چوتھا وصف کمال اس کا یہ ہے کہ کتب سابقہ میں اس کی خبر دی گئی تھی جو علامت ہے اس کے مہتم بالشان ہونے کی، چنانچہ) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (یعنی تورات و انجیل) دی ہے وہ اس کو یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) آپ ﷺ کے رب کی طرف سے واقعیت کے ساتھ بھیجا گیا ہے (اس کو جانتے تو سب ہیں، پھر جن میں حق گوئی کی صفت تھی، انہوں نے ظاہر بھی کردیا، اور جو معاند تھے وہ ظاہر نہ کرتے تھے) سو آپ ﷺ شبہ کرنے والوں میں نہ ہوں اور (پانچواں وصف کمال اس کا یہ ہے کہ) آپ ﷺ کے رب کا (یہ) کلام واقعیت اور اعتدال کے اعتبار سے (بھی) کامل ہے (یعنی علوم و عقائد میں واقعیت اور اعمال ظاہری اور باطنی میں اعتدال لئے ہوئے ہے، اور چھٹا وصف کمال اس کا یہ ہے کہ) اس کے (اس) کلام کا کوئی بدلنے والا نہیں (یعنی کسی کی تحریف و تغیر سے اس کا اللہ محافظ ہے (وانا لہ لحفظون) اور (ایسی کامل دلیل پر بھی جو لوگ تکذیب قلبی و زبانی سے پیش آویں) وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اقوال کو) خوب سن رہے ہیں (اور ان کے عقائد کو) خوب جان رہے ہیں (اپنے وقت پر ان کو کافی سزا دیں گے) اور (باوجود وضوح دلائل کے) دنیا میں زیادہ لوگ ایسے (منکر اور گمراہ ہی) ہیں کہ اگر (بالفرض) آپ ﷺ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ ﷺ کو اللہ کی راہ (راست) سے بےراہ کردیں (کیونکہ وہ خود گمراہ ہیں چناچہ عقائد میں) وہ محض بےاصل خیالات پر چلتے ہیں اور (اقوال میں) بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں (اور ان کے مقابلہ میں بعض بندگان خدا راہ پر بھی ہیں اور) بالیقین آپ ﷺ کا رب ان کو (بھی) خوب جاننا ہے جو اس کی (بتلائی ہوئی) راہ (راست) سے بےراہ ہوجاتا ہے اور وہ (ہی) ان کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی (بتلائی ہوئی) راہ پر چلتے ہیں (پس گمراہوں کو سزا ملے گی راہ والوں کا انعام و اکرام ہوگا)۔
معارف و مسائل
پچھلی آیات میں اس کا ذکر تھا کہ مشرکین مکہ رسول کریم ﷺ اور قرآن کے حق و صحیح ہونے پر کھلے کھلے معجزات اور دلائل دیکھنے اور جاننے کے باوجود ہٹ دھرمی سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فلاں فلاں قسم کے خاص معجزات ہمیں دکھا لئے جائیں تو ہم ماننے کو تیار ہیں، قرآن کریم نے ان کی کج بحثی کا یہ جواب دیا کہ جو معجزات یہ اب دیکھنا چاہتے ہیں ہمارے لئے ان کا ظاہر کرنا بھی کچھ مشکل نہیں، لیکن یہ ہٹ دھرم لوگ ان کو دیکھنے کے بعد بھی سرکشی سے باز نہ آئیں گے، اور قانون قدرت کے ماتحت اس کا نتیجہ پھر یہ ہوگا کہ ان سب پر عذاب آجائے گا۔
اسی لئے رحمة للعالمین ﷺ نے ان کے مانگے ہوئے معجزات کے ظاہر کرنے سے شفقت کی بناء پر انکار کردیا، اور جو معجزات و دلائل اب تک ان کے سامنے آچکے ہیں انہی میں غور کرنے کی طرف ان کو دعوت دی، مذکورہ آیات میں ان دلائل کا بیان ہے جن سے بدیہی طور قرآن کریم کا حق اور کلام الٓہی ہونا ثابت ہے۔
پہلی آیت میں جو ارشاد فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان مقدمہ رسالت و نبوت میں اختلاف ہے، میں اس کا مدعی ہوں اور تم منکر، اور یہ مقدمہ احکم الحاکمین کے اجلاس سے میرے حق میں اس طرح طے اور فیصل ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلیل خود قرآن کا اعجاز ہے، جس نے تمام اقوام عالم کو چیلنج کیا کہ اگر اس کے کلام الٓہی ہونے میں کسی کو شبہ ہے تو اس کلام کی ایک چھوٹی سی سورت یا آیت کا مقابلہ کرکے دکھلاؤ جس کے جواب میں تمام عرب عاجز رہا، اور وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ اور اسلام کو پست کرنے کے لئے اپنی جان، مال، اولاد، آبرو سب کچھ قربان کر رہے تھے ان میں سے ایک بھی ایسا نہ نکلا کہ قرآن کے مقابلہ کے لئے ایک دو آیت بنا کر پیش کردیتا، یہ کھلا ہوا معجزہ کیا قبول حق کے لئے کافی نہ تھا، کہ ایک امّی جس نے کہیں کسی سے تعلیم نہیں پائی اس کے پیش کئے ہوئے کلام کے مقابلہ سے پورا عرب بلکہ پورا جہان عاجز ہوجائے، یہ درحقیقت احکم الحاکمین کی عدالت سے اس مقدمہ کا واضح فیصلہ ہے کہ رسول کریم ﷺ اللہ کے رسول برحق اور قرآن اللہ جل شانہ کا کلام ہے۔
پہلی آیت میں اسی کے متعلق فرمایا اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا یعنی کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کے بعد میں کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں یہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد قرآن کی چند ایسی خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے جو خود قرآن کریم کے حق اور کلام الٓہی ہونے کا ثبوت ہیں، مثلاً فرمایا(آیت) وَّهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا جس میں قرآن کریم کے چار خصوصی کمالات کا بیان ہے، اول یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے، دوسرے یہ کہ وہ ایک کتاب کامل اور معجز ہے کہ سارا جہان اس کے مقابلہ سے عاجز ہے، تیسرے یہ کہ تمام اہم اور اصولی مضامین اس میں بہت مفصل واضح بیان کئے گئے ہیں، چوتھے یہ کہ قرآن کریم سے پہلے اہل کتاب یہود و نصاریٰ بھی یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا ہوا کلام حق ہے، پھر جن میں کوئی سچائی اور حق گوئی کی صفت تھی، انہوں نے اس کو ظاہر بھی کردیا، اور جو لوگ معاند تھے وہ باوجود یقین کے اس کا اظہار نہ کرتے تھے۔
قرآن کریم کی ان چار صفات کو بیان کرنے کے بعد رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے، فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ، یعنی ان واضح دلائل کے بعد آپ ﷺ شبہ کرنے والوں میں نہ ہوں، یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ تو کسی وقت بھی شبہ کرنے والوں میں نہ تھے نہ ہوسکتے تھے، جیسا کہ خود آنحضرت ﷺ کا ارشاد تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ”نہ میں نے کبھی شک کیا، اور نہ کبھی سوال کیا، معلوم ہوا کہ یہاں اگرچہ لفظوں میں خطاب حضور ﷺ کو ہے، لیکن در حقیقت سنانا دوسروں کو مقصود ہے، اور آپ ﷺ کی طرف اسناد کرنے سے مبالغہ اور تاکید کرنا منظور ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو ایسا کہا گیا تو دوسروں کی کیا ہستی ہے جو کوئی شک کرسکیں۔
Ayah 6:115دوسری آیت میں قرآن حکیم کی اور دو امتیازی صفات کا بیان ہے جو قرآن کے کلام الٓہی ہونے کا کافی ثبوت ہے وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا یعنی کامل ہے کلام آپ ﷺ کے رب کا، سچائی اور انصاف اور اعتدال کے اعتبار سے، اس کے کلام کو کوئی بدلنے والا نہیں۔
لفظ ثَمَّت میں کامل ہونے کا بیان ہے، اور کَلِمَتُ رَبِّکَ سے مراد قرآن ہے (بحر محیط عن قتادہ ؓ قرآن کے کل مضامین دو قسم کے ہیں، ایک وہ جن میں تاریخ عالم کے عبرت آموز واقعات و حالات اور نیک اعمال پر وعدہ اور برے اعمال پر سزا کی وعید بیان کی گئی ہے، دوسرے وہ جن میں انسان کی صلاح و فلاح کے لئے احکام بیان کئے گئے ہیں، ان دونوں قسموں کے متعلق قرآن مجید کی یہ دو صفتیں بیان فرمائیں، صدقاً وعدلاً ، صدق کا تعلق پہلی قسم سے ہے، یعنی جتنے واقعات و حالات یا وعدہ و عید قرآن میں بیان کئے گئے ہیں وہ سب سچے اور صحیح ہیں، ان میں کسی غلطی کا امکان نہیں، اور عدل کا تعلق دوسری قسم یعنی احکام سے ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے تمام احکام عدل پر مبنی ہیں، اور لفظ عدل کا مفہوم دو معنی کو شامل ہے، ایک انصاف جس میں کسی پر ظلم اور حق تلفی نہ ہو، دوسرے اعتدال کہ نہ بالکل انسان کی نفسانی خواہشات کے تابع ہوں، اور نہ ایسے جن کو انسانی جذبات اور اس کے فطری ملکات برداشت نہ کرسکیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام احکام الٓہیہ انصاف اور اعتدال پر مبنی ہیں نہ ان میں کسی پر ظلم ہے، اور نہ ان میں ایسی شدت اور تکلیف ہے جس کو انسان برداشت نہ کرسکے، جیسے دوسری جگہ ارشاد ہے(آیت) لا یکلف اللّٰہ نفسا الا وسعھا، یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی وسعت و طاقت سے زیادہ کسی عمل کی تکلیف نہیں دیے“۔ اس کے ساتھ ہی اس آیت میں لفظ تَمَّت لا کر یہ بھی بتلا دیا کہ صرف یہی نہیں کہ قرآن کریم میں صدق و عدل کی صفات موجود ہیں، بلکہ وہ ان صفات میں ہر حیثیت سے کامل و مکمل ہے۔
اور یہ بات کہ تمام قرآنی احکام تمام اقوام دنیا کے لئے اور قیامت تک آنے والی نسلوں اور بدلنے والے حالات کے لئے انصاف پر بھی مبنی ہوں اور اعتدال پر بھی، یہ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو صرف احکام خدا وندی ہی میں ہوسکتا ہے، دنیا کی کوئی قانون ساز اسمبلی تمام موجودہ اور آئندہ پیش آنے والے حالات کا نہ پورا اندازہ لگا سکتی ہے، اور نہ ان سب حالات کی رعایت کرکے کوئی قانون بنا سکتی ہے، ہر ملک و قوم اپنے ملک اور اپنی قوم کے بھی صرف موجودہ حالات کے پیش نظر قانون بناتی ہے، اور ان قوانین میں بھی تجربہ کرنے کے بعد بہت سی چیزیں عدل و اعتدال کے خلاف محسوس ہوتی ہیں، تو ان کو بدلنا پڑتا ہے، دوسری قوموں اور دوسرے ملکوں یا آئندہ حالات کی پوری رعایت کرکے ایسا قانون وضع کرنا جو قوم ہر ملک ہر حال میں عدل و اعتدال کی صفات لئے ہوئے ہو، یہ انسانی فکر و نظر سے بالاتر ہے، صرف حق جل و علا شانہ، کے ہی کلام میں ہوسکتا ہے، اس لئے یہ پانچویں صفت قرآن کریم کی کہ اس میں بیان کئے ہوئے گزشتہ اور آئندہ کے تمام واقعات اور وعدہ وعید سب سچے ہیں، ان میں خلاف واقع ہونے کا ادنیٰ شبہ نہیں ہوسکتا، اور اس کے بیان کئے ہوئے تمام احکام پوری دنیا اور قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے عدل و اعتدال لئے ہوئے ہیں، نہ ان میں کسی پر ظلم ہے، نہ اعتدال و میانہ روی سے سرِ مو تجاوز ہے، یہ بجائے خود قرآن کے کلام الٓہی ہونے کا مکمل ثبوت ہے۔
چھٹی صفت یہ بیان فرمائی کہ (آیت) ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ، یعنی اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں، بدلنے کی ایک صورت تو یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی اس میں غلطی ثابت کرے، اس لئے بدلا جائے، یا یہ کہ کوئی دشمن زبردستی اس کو بدل ڈالے، اللہ تعالیٰ کا کلام ان سب چیزوں سے بالا تر اور پاک ہے اس نے خود وعدہ فرمایا ہے کہ (آیت) انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون، ”یعنی ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں“۔ پھر کس کی مجال ہے کہ خدا کی حفاظت کو توڑ کر اس میں کوئی غیر تبدل کرسکے، چناچہ چودہ سو برس اس پر گزر چکے ہیں، اور ہر قرن ہر زمانہ میں قرآن کے مخالف اس کے ماننے والوں کی نسبت تعداد میں بھی زیادہ رہے ہیں، قوت میں بھی، مگر کسی کی مجال نہیں ہوسکی کہ قرآن کے ایک زبر زیر میں فرق پیدا کرسکے، ہاں بدلنے کی ایک تسیری صورت یہ بھی ہو سکتی تھی کہ خود حق تعالیٰ کی طرف سے اس کو منسوخ کرکے بدل دیا جائے، اسی لئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کریم ﷺ آخری پیغمبر اور قرآن آخری کتاب ہے، اس کے بعد نسخ کا کوئی احتمال نہیں، جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات میں یہ مضمون اور بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے۔
آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ یعنی اللہ جل شانہ اس تمام گفتگو کو سنتے ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں، اور سب کے حالات اور اسرار سے واقف ہیں ہر ایک کے عمل کا بدلہ اس کے مطابق دیں گے۔
Ayahs 6:116–117تیسری آیت میں حق تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو اطلاع دی کہ زمین پر بسنے والے بنی آدم کی اکثریت گمراہی پر ہے، آپ ﷺ اس سے مرعوب نہ ہوں ان کی باتوں پر کان نہ دھریں قرآن نے متعدد مقامات پر اس مضمون کو بیان فرمایا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین، دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وما اکثر الناس ولو حرصت بمومنین، مطلب یہ ہے کہ عادةً انسان پر عددی اکثریت کا رعب غالب ہوجاتا ہے، اور ان کی اطاعت کرنے لگتا ہے، اس لئے آنحضرت ﷺ کو خطاب کیا گیا کہ
”دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ﷺ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ ﷺ کو اللہ کی راہ سے بےراہ کردیں، کیونکہ وہ عقائد و نظریات میں محض خیالات اور اوہام کے پیچھے چلتے ہیں اور احکام میں محض تخمینہ اور اٹکل سے کام لیتے ہیں، جن کی کوئی بنیاد نہیں“۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی عددی اکثریت سے مرعوب ہو کر ان کو موافقت کا خیال بھی نہ فرماویں، کیونکہ یہ سب بےاصول اور بےراہ چلنے والے ہیں، آخر آیت میں فرمایا کہ
”بالیقین آپ ﷺ کا رب ان کو خوب جانتا ہے، جو اس کی راہ سے بےراہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ پر چلتا ہے، پس جیسے گمراہوں کو سزا ملے گی، سیدھی راہ والوں کو انعام و اکرام حاصل ہوگا“۔
Ayahs 6:118–121ربط آیات
اوپر وَاِن تَطِع کے الفاظ میں اہل اضلال کے اتباع سے مطلقاً منع فرمایا تھا آگے باقتضائے ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں، وہ خاص واقعہ مذبوح وغیر مذبوح کی حلت کا ہے، واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں ہو اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو، اخرجہ ابو داود والحکم عن ابن عباس ؓ (بعض مسلمانوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا، اس پر یہ آیتیں لَمُشرِکُونَ تک نازل ہوئیں، رواہ ابو داؤد والترمذی عن ابن عباس ؓ کذا فی اللباب۔
حاصل جواب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اللہ کے احکام کا التزام کئے ہوئے ہو، اور اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کی تفصیل بتلا دی ہے، پس اس پر چلتے رہو، حلال و حرام ہونے کا اور حرام پر حلال ہونے کا شبہ مت کرو، اور مشرکین کے وساوس کی طرف التفات نہ کرو۔
اور تحقیق اس جواب کی یہ ہے کہ اصول کے اثبات کے لئے دلائل عقلیہ درکار ہیں اور بعد ثابت ہوجانے اصول کے اعمال و فروع میں صرف دلائل نقلیہ کافی ہیں، عقلیات کی ضرورت نہیں، بلکہ بعض اوقات مضر ہے کہ اس سے شبہات کے دروازے کھلتے ہیں کیوں کہ روبرو واقناعیات و خطابیات کا تبرعاً پیش کردینا مضائقہ نہیں، لیکن جب یہ بھی نہ ہو بلکہ مجادلہ ہو تو اپنے کام میں لگنا چاہئے، اور معترض کی طرف التفات نہ کرنا چاہئے، ہاں اگر معترض کسی فرع کا عقلی قطعی دلیل کے مخالف ہونا ثابت کرنا چاہئے تو اس کا جواب بذمہ مدعی حق ہوگا، مگر مشرکین کے شبہ میں اس کا احتمال ہی نہیں، اس لئے اس جواب میں صرف مسلمانوں کو بقاعدہ مذکورہ بالا خطاب ہے، کہ ایسی خرافات پر نظر مت کرو، حق کے معتقد اور عامل رہو، اس بناء پر اس مقام میں مشرکین کے شبہ کا جواب صراحةً مذکور نہ ہونا محل شبہ نہیں ہوسکتا، مگر اس پر بھی اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے، جہاں کُلُوا میں ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ اور لَا تَاْكُلُوْا میں لَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللّٰهِ مذکور ہے، اور یہ عادت سے اور دوسرے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ ذبح کے وقت ہوگا اور لَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللّٰهِ کے تحقیق کی دو صورتیں ہوں گی، عدم ذبح جو نجس خون کو نکال کر نجات سے پاک کردیتا ہے، اور وہ نجاست ہی سبب ممانعت تھی، دوسرے اللہ کا نام لینا کہ مفید برکت ہے جو کہ حیوانات دمویہ میں شرط حلت ہے، اور کسی چیز کے وجود کے لئے مانع کا دور کرنا شرط کا وجود دونوں امر ضروری ہیں، پس اس مجموعہ سے حلّت ثابت ہوگی۔
خلاصہ تفسیر
(اور جب اوپر کفار کے اتباع کا مذموم ہونا معلوم ہوگیا) سو جس (حلال) جانور پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام (بلا شرکت) لیا جاوے اس میں سے (بےتکلّف) کھاؤ (اور اس کو مباح و حلال سمجھو) اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو (کیونکہ حلال و حرام جاننا بخلاف ایمان ہے) اور تم کو کون امر (از قبل عقیدہ) اس کا باعث ہوسکتا ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام (بلا شرکت) لیا گیا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے (دوسری آیت میں) ان سب جانوروں کی تفصیل بتلا دی ہے، جن کو تم پر حرام کیا ہے، مگر وہ بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجاوے تو حلال ہیں (اور اس تفصیل میں یہ مذبوح علی اسم اللہ داخل نہیں پھر اس کے کھانے میں اعتقاداً کیوں انقباض ہو) اور (ان لوگوں کے شبہات کی طرف اصلاً التفات نہ کرو کیونکہ) یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی (کہ ان ہی میں سے یہ بھی ہیں اپنے ساتھ دوسروں کو بھی) اپنے غلط خیالات (کی بنا پر) بلا کسی سند کے گمراہ کرتے (پھرتے) ہیں (لیکن آخر کہاں تک خیر مناویں گے) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حد (ایمان) سے نکل جانے والوں کو (جن میں یہ بھی ہیں) خوب جانتا ہے (پس یکبارگی سزا دے گا) اور تم ظاہری گناہ کو بھی چھوڑو اور باطنی گناہ کو بھی چھوڑ دو (مثلاً حلال و حرام اعتقاد کرنا باطنی گناہ ہے جیسا کہ اس کا عکس بھی) بلا شبہ جو لوگ گناہ کر رہے ہیں ان کو ان کے کئے کی عنقریب (قیامت میں) سزا ملے گی اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر (بطریق مذکور) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو (جیسا کہ مشرکین ایسے جانوروں کو کھاتے ہیں) اور (ان لوگوں کے شبہات اس لئے قابل التفات نہیں کہ) یقینا شیاطین (جن) اپنے (ان) دوستوں (اور پیرو وں) کو (یہ شبہات) تعلیم کر رہے ہیں تاکہ یہ تم سے (بیکار) جدال کریں (یعنی اول تو یہ شبہات نص کے خلاف، دوسرے غرض محض جدال اس لئے قابل التفات نہیں) اور اگر تم (خدانخواستہ) ان لوگوں کی اطاعت (عقائد یا افعال میں) کرنے لگو تو یقینا تم مشرک ہوجاؤ (کہ خدا کی تعلیم پر دوسرے کی تعلیم کو ترجیح دو جہاں برابر سمجھنا بھی شرک ہے، یعنی ان کی اطاعت ایسی بری چیز ہے اس لئے اس کے مقدمات یعنی التفات سے بھی بچنا چاہئے)۔
معارف و مسائل
مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ میں ذبح اختیاری اور ذبح اضطراری یعنی تیر و باز اور کتے کا شکار جب کہ اس کے چھوڑنے کے وقت بسم اللہ پڑھی جاوے، اور ذکر حقیقی و ذکر حکمی سب داخل ہے، پس امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک جس پر بسم اللہ سہواً ترک کردی جائے وہ حکماً مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ میں داخل ہے، البتہ عمداً ترک کرنے سے امام صاحب کے نزدیک حرام ہوتا ہے۔