6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

کا ہے کی راہ دیکھتے ہیں لوگ مگر یہی کہ ان پر آئیں فرشتے یا آئے تیرا رب یا آئے کوئی نشانی تیرے رب کی جس دن آئے گی نشانی تیرے رب کی، کام نہ آئے گا کسی کے اس کا ایمان لانا جو کہ پہلے سے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان میں کچھ نیکی نہ کی تھی تو کہہ دے تم راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں۔

خلاصہ تفسیر یہ لوگ (جو کہ بعد نزول کتاب و سنت و بینات و وضوحِ حق کے بھی ایمان نہیں لاتے اپنے ایمان لانے کے لئے) صرف اس امر کے منتظر (معلوم ہوتے) ہیں (یعنی ایسا توقف کر رہے ہیں جیسے کوئی انتظار کر رہا ہو) کہ ان کے پاس فرشتے آویں یا ان کے پاس آپ ﷺ کا رب آوے (جیسا قیامت میں حساب کے وقت واقع ہوگا) یا آپ ﷺ کے رب کی کوئی بڑی نشانی (منجملہ قیامت کی نشانیوں کے) آوے (مراد اس بڑی نشانی سے آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، مطلب یہ ہوا کہ کیا ایمان لانے میں قیامت کے وقوع یا قرب کا انتظار ہے سو اس کے متعلق سن رکھیں کہ) جس روز آپ ﷺ کے رب کی (یہ) بڑی نشانی (مذکور) آپہنچے گی (اس روز) کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آوے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا ہو (بلکہ اسی روز ایمان لایا ہو) یا (ایمان تو پہلے سے بھی رکھتا ہو، لیکن) اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو (بلکہ اعمال بد اور گناہوں میں مبتلا ہو، اور اس روز ان سے توبہ کرکے اعمال نیک شروع کرے تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی، اور اس سے قبل اگر معاصی سے توبہ کرتا تو مومن ہونے کی برکت سے توبہ قبول ہوجاتی، تو قبول توبہ منجملہ منافع ایمان کے ہے، اس وقت ایمان نے یہ خاص نفع نہ دیا اور جب علامت قیامت مانع ہوگئی قبول ایمان و توبہ سے تو خاص وقوع قیامت تو بدرجہ اولیٰ مانع ہوگا، پھر انتظار کا ہے کا، اور اگر اس توبیخ پر بھی ایمان نہ لاویں تو) آپ (تہدید مزید کے طور پر) فرما دیجئے کہ (خیر بہتر) تم (ان امور کے) منتظر رہو (اور مسلمان نہیں ہوتے تو مت ہو) ہم بھی (ان امور کے) منتظر ہیں (اس وقت تم پر مصیبت پڑے گی، اور ہم مومن انشاء اللہ تعالیٰ ناجی ہوں گے)۔ معارف و مسائل سورة انعام کا اکثر حصہ اہل مکہ اور مشرکین عرب کے عقائد اور اعمال کی اصلاح اور ان کی شبہات اور سوالات کے جواب میں نازل ہوا ہے۔ اس تمام سورة اور خصوصاً پچھلی آیات میں مکہ اور عرب کے باشندوں پر واضح کردیا گیا کہ تم رسول کریم ﷺ کے معجزات و بینّات دیکھ چکے، پچھلی کتابوں اور پہلے انبیاء کی پیشینگوئیاں آپ ﷺ کے متعلق سن چکے، پھر ایک اُمِّی محض کی زبان سے قرآن کی آیات بینات سن چکے، جو ایک مستقل معجزہ بن کر آیا، اب حق و صدق کی راہیں تمہارے سامنے کھل چکیں، اور خدا تعالیٰ کی حجت تم پر تمام ہوچکی، اب ایمان لانے میں کس چیز کا انتظار ہے۔ اس مضمون کو اس آیت مذکورہ میں نہایت بلیغ پیرایہ میں اس طرح بیان فرمایا ، (آیت) هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ، ”یعنی یہ لوگ کیا ایمان لانے میں اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ موت کے فرشتے ان کے پاس پہنچ جائیں، یا میدان حشر کا انتظار کر رہے ہیں کہ جس میں جزاء و سزا کے فیصلہ کے لئے اللہ تعالیٰ آئے گا، یا اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت کی بعض نشانیاں دیکھ لیں، رب کریم کا میدان قیامت میں فیصلہ کے لئے تشریف فرما ہونا قرآن مجید کی کئی آیتوں میں بیان ہوا ہے، سورة بقرہ میں اسی مضمون کی آیت اس طرح آئی ہے(آیت) ہل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ وقضی الامر، ”یعنی کیا یہ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کے سایہ میں ان کے پاس آجائے اور فرشتے آجائیں اور لوگوں کے لئے جنت و دوزخ کا جو فیصلہ ہونا ہے وہ ہو جائے“۔ اللہ تعالیٰ کا میدان قیامت میں تشریف فرما ہونا کس شان کس کیفیت کے ساتھ ہوگا اس کا عقل انسانی احاطہ نہیں کرسکتی، اس لئے صحابہ کرام اور اسلاف امت کا مسلک اس قسم کی آیات کے متعلق یہ ہے کہ جو قرآن میں ذکر کیا گیا ہے اس پر ایمان لایا جائے اور یقین کیا جائے اور اس کی کیفیات کو علم الٓہی کے حوالہ کیا جائے، مثلاً اس آیت میں یہ یقین کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ میدان قیامت میں فیصلہ جزاء و سزاء کے لئے تشریف فرما ہوں گے، اور اس میں بحث اور فکر نہ کی جائے کہ کس کیفیت اور کس جہت میں ہوں گے۔ اس آیت میں آگے ارشاد فرمایا(آیت) يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ، اس میں متنبہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی بعض نشانیاں سامنے آجانے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا، جو شخص اس سے پہلے ایمان نہیں لایا اب ایمان لائے گا تو قبول نہیں ہوگا، اور جو شخص ایمان تو لا چکا تھا مگر عمل نیک نہیں کئے تھے وہ اب توبہ کرکے آئندہ نیک عمل کا ارادہ کرے گا تو اس کی بھی توبہ قبول نہ ہوگی، خلاصہ یہ ہے کہ کافر اپنے کفر سے یا فاسق اپنے فسق و معصیت سے اگر اس وقت توبہ کرنا چاہے گا تو وہ توبہ قبول نہ ہوگی۔ سبب یہ ہے کہ ایمان اور توبہ صرف اس وقت تک قبول ہو سکتی ہے جب تک وہ انسان کے اختیار میں ہے، اور جب عذاب الٓہی کا اور حقائق آخرت کا مشاہدہ ہوگیا تو ہر انسان ایمان لانے میں اور گناہ سے باز آنے پر خود بخود مجبور ہوگیا، مجبوری کا ایمان اور توبہ قابل قبول نہیں۔ قرآن مجید کی بیشمار آیات میں مذکور ہے کہ اہل دوزخ دوزخ میں پہنچ کر فریاد کریں گے، اور بڑے بڑے وعدے کریں گے اگر ہمیں اب دنیا میں دوبارہ لوٹا دیا جائے تو ہم ایمان اور عمل صالح کے سوا کچھ نہ کریں گے، مگر سب کا جواب یہی ہوگا کہ ایمان وعمل کا وقت ختم ہوچکا، اور اب جو کچھ کہہ رہے ہو مجبور ہو کر کہہ رہے ہو اس کا اعتبار نہیں۔ اسی آیت کی تفسیر میں رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ جس وقت قیام کی آخری نشانیوں میں یہ نشانی ظاہر ہوگی کہ آفتاب مشرق کے بجائے مغرب کی جانب سے طلوع ہوگا، اور اس کو دیکھتے ہی سارے جہان کے کافر ایمان کا کلمہ پڑھنے لگیں گے اور سارے نافرمان فرمان بردار بن جائیں گے، لیکن اس وقت کا ایمان اور توبہ قابل قبول نہ ہوگا (بغوی بسندہ عن ابی ہریرة ؓ ۔ اس آیت میں اتنی بات تو قرآنی تصریح سے معلوم ہوگئی کہ بعض نشانیاں ایسی واقع ہوں گے، جن کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا، کسی کافر یا فاسق کی توبہ قبول نہ ہوگی، لیکن قرآن کریم نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی، کہ وہ کونسی نشانی ہے۔ صحیح بخاری میں اسی آیت کی تفسیر میں بروایت ابوہریرہ ؓ یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک یہ واقعہ پیش نہ آجائے کہ آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع ہو، جب لوگ یہ نشانی دیکھیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے، یہی وہ وقت ہوگا جس کے لئے قرآن میں یہ ارشاد ہے کہ اس وقت کسی نفس کو ایمان لانا نفع نہیں دے گا“۔ اس کی تفصیل صحیح مسلم میں بروایت حذیفہ ابن اسید ؓ اس طرح نقل کی گئی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام علامات قیامت کا تذکرہ آپس میں کر رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ تشریف لے آئے، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو، آفتاب کا جانب مغرب سے نکلنا، اور ایک خاص قسم کا دھواں، اور دابة الارض اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا، عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا، دجال کا نکلنا، اور تین جگہوں پر زمین کا دھنس جانا، ایک مشرق میں، ایک مغرب میں، ایک جزیرة العرب میں، اور ایک آگ جو عدن کے قعر سے نکلے گی اور لوگوں کو آگے آگے ہنکا کرلے چلے گی۔ اور مسند احمد میں براویت ابن عمر ؓ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان آیات میں سب سے پہلے مغرب کی طرف سے طلوع آفتاب اور دابة الارض نکلنا واقع ہوگا۔ امام قرطبی رحمة اللہ علیہ نے تذکرہ میں اور حافظ ابن حجر نے شرح بخاری میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ یہ بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس واقعہ یعنی عرب سے آفتاب طلوع ہونے کے بعد ایک سو بیس سال تک دنیا قائم رہے گی (روح المعانی) اس تفصیل کے بعد یہاں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ جب نازل ہوں گے تو روایات صحیحہ کے موافق آپ لوگوں کو ایمان کی دعوت دیں گے، اور لوگ ایمان قبول کریں گے، اور پوری دنیا میں نظام اسلام رائج ہوگا، ظاہر ہے کہ اگر اس وقت کا ایمان مقبول نہ ہو تو یہ دعوت اور لوگوں کا اسلام میں داخلہ سب غلط ہوجاتا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں تو اس کا یہ جواب اختیار کیا ہے کہ مغرب کی طرف سے آفتاب طلوع ہونے کا واقعہ حضرت عیسیٰ ؑ کے تشریف لانے کے کافی زمانہ بعد ہوگا، اور اسی وقت دروازہ توبہ کا بند ہوگا۔ اور علامہ بلقینی رحمة اللہ علیہ وغیرہ نے فرمایا کہ یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ ایمان اور توبہ قبول نہ ہونے کا یہ حکم جو آفتاب کے مغرب کی جانب سے طلوع ہونے کے وقت ہوگا آخر زمانہ تک باقی نہ رہے، بلکہ کچھ عرصہ کے بعد یہ حکم بدل جائے اور ایمان و توبہ قبول ہونے لگے۔ (روح المعانی) واللہ اعلم خلاصہ کلام یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں اگرچہ اس کی وضاحت نہیں کی گئی کہ جس نشانی کے ظاہر ہونے کے بعد توبہ قبول نہ ہوگی وہ کونسی نشانی ہے، مگر رسول کریم ﷺ کے بیان سے واضح ہوگیا کہ اس سے مراد آفتاب کا جانب مغرب سے طلوع ہے۔ اور قرآن کریم نے خود کیوں اس کی وضاحت نہ کردی ؟ تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس جگہ قرآن کا ابہام ہی غافل انسان کو چونکانے میں زیادہ مفید ہے کہ اس کو ہر نئے پیش آنے والے واقعہ سے اس پر تنبیہ ہوتی رہے اور توبہ میں جلدی کرے۔ اس کے علاوہ اس ابہام اور اجمال سے ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ اس پر تنبیہ ہوجائے کہ جس طرح پورے عالم کے لئے مغرب سے آفتاب طلوع ہونے پر توبہ کا دروازہ بند ہوجائیگا اسی طرح اس کا ایک نمونہ ہر انسان کے لئے شخصی طور پر توبہ کے منقطع ہوجانے کا اس کی موت کے وقت پیش آتا ہے۔ قرآن کریم نے ایک دوسری آیت میں اس کو واضح طور پر بھی بیان فرما دیا ہے (آیت) ولیست التوبة للذین یعملون السیات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن، ”یعنی ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو گناہ کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آجائے تو کہتا ہے کہ میں اب توبہ کرتا ہوں“۔ اس سے معلوم ہوا کہ نزع روح کے وقت جب سانس آخری ہو اس وقت بھی چونکہ فرشتے موت کے، سامنے آجاتے ہیں اس وقت بھی توبہ قبول نہیں ہوتی، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ صورت حال بھی اللہ کی طرف سے ایک اہم نشانی ہے، اس لئے آیت مذکورہ میں بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ میں یہ موت کا وقت بھی داخل ہے، جیسا کہ تفسیر بحر محیط میں بعض علماء کا یہ قول نقل بھی کیا ہے، اور بعض بزرگوں نے فرمایا ہےمن مات فقد قام قیامتہ، ”یعنی جو شخص مر گیا اس کی قیامت تو اسی وقت قائم ہوگئی“۔ کیونکہ دار العمل ختم ہوا اور جزائے اعمال کا کچھ نمونہ قبر ہی سے شروع ہوگیا، صائب نے اسی مضمون کو نظم کیا ہے توبہ بارا نفس باز پسیں دست زدست بیخبر دیر رسیدی در محمل بستند یہاں عربی زبان کے اعتبار سے یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اس آیت میں پہلے فرمایا اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ۭ اور پھر اسی جملہ کا اعادہ کرکے فرمایا يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا، اس میں ضمیر سے کام لے کر کلام کو مختصر نہیں کیا گیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کلمہ میں جو بعض آیات مذکورہ ہیں وہ اور ہیں، اور دوسرے کلمہ کی بعض آیات اس سے مختلف ہیں، اس سے اس تفصیل کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے جو ابھی آپ نے بروایت حذیفہ ابن اسید ؓ پڑھی ہے کہ قیامت کی دس نشانیاں بہت اہم ہیں، اس میں سے آخری نشانی مغرب سے طلوع آفتاب ہے جو انقطاع توبہ کی علامت ہے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا(آیت) قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ، اس میں رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے، کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اللہ کی ساری حجتیں پوری ہوجانے کے بعد بھی اگر تمہیں موت یا قیامت کا انتظار ہے تو یہ انتظار کرتے رہو، ہم بھی اسی کا انتظار کریں گے کہ تمہارے ساتھ تمہارے رب کا کیا معاملہ ہوتا ہے۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں اور ہوگئے بہت سے فرقے، تجھ کو ان سے کچھ سروکار نہیں، ان کا کام اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہی جتلا دے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے تھے

خلاصہ تفسیر بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو (جن کے وہ مکلف ہیں) جدا جدا کردیا (یعنی دین حق کو بتمامہ قبول نہ کیا، خواہ سب کو چھوڑ دیا یا بعض کو اور طریقے شرک و کفر و بدعت کے اختیار کر لئے) اور (مختلف) گروہ گروہ بن گئے آپ ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں (یعنی آپ ﷺ ان سے بری ہیں، آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں) بس (وہ خود اپنے نیک و بد کے ذمہ دار ہیں، اور) ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے (وہ دیکھ بھال رہے ہیں) پھر (قیامت میں) ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے (اور حجت قائم کرکے استحقاق عذاب ظاہر کردیں گے) جو شخص نیک کام کرے گا اس کو (اقل درجہ) اس کے دس حصے ملیں گے (یعنی ایسا سمجھا جاوے گا کہ گویا وہ نیکی دس بار کی اور نیز ایک نیکی پر جس قدر ثواب ملتا اب دس حصے ویسے ثواب کے ملیں گے) اور جو شخص برا کام کرے گا سو اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی (زیادہ نہ ملے گی) اور ان لوگوں پر (ظاہراً بھی) ظلم نہ ہوگا (کہ کوئی نیکی درج نہ ہو یا کوئی بدی زیادہ کرکے لکھ لی جاوے)۔ معارف و مسائل سورة انعام کا بیشتر حصہ مشرکین مکہ کے خطاب اور ان کے سوال و جواب کے متعلق آیا ہے، جس میں ان کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ صرف قرآن اور رسول کریم ﷺ کے اتباع میں منحصر ہے، جس طرح آپ ﷺ سے پہلے انبیاء کے زمانہ میں ان کا اور ان کی کتاب و شریعت کا اتباع مدار نجات تھا، آج صرف آپ ﷺ کی اور آپ کی شریعت کی پیروی مدار نجات ہے، عقل سے کام لو اور اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں بائیں کے غلط راستوں کو اختیار نہ کرو، ورنہ وہ راستے تمہیں خدا تعالیٰ سے دور کردیں گے۔ مذکورہ آیات سے پہلی آیت میں ایک عام خطاب ہے جس میں مشرکین عرب اور یہود و نصاریٰ اور مسلمان سب داخل ہیں، ان سب کو مخاطب کرکے اللہ کے سیدھے راستے سے منحرف ہونے والوں کا انجام بد بیان کیا گیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ﷺ کا ان غلط راستوں پر چلنے والوں سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ پھر ان میں غلط راستے وہ بھی ہیں جو صراط مستقیم سے بالکل مخالف جانب لے جانے والے ہیں، جیسے مشرکین اور اہل کتاب کے راستے، اور وہ راستے بھی ہیں جو مخالف جانب میں تو نہیں مگر سیدھے راستے سے ہٹا کر دائیں بائیں لے جانے والے ہیں، وہ شبہات اور بدعات کے راستے ہیں، وہ بھی انسان کو گمراہی میں ڈال دیتے ہیں۔ (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ ۭ اِنَّمَآ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ ،”یعنی وہ لوگ جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں اور ہوگئے بہت سے فرقے، تجھ کو ان سے کچھ سروکار نہیں، ان کا کام اللہ ہی کے حوالے ہے، پھر وہ جتلائے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے تھے“۔ اس آیت میں غلط راستوں پر پڑنے والوں کے متعلق اول تو یہ بتلا دیا کہ اللہ کا رسول ﷺ ان سے بری ہے، رسول کریم ﷺ سے ان کا کوئی تعلق نہیں، پھر ان کو یہ وعید شدید سنائی کہ ان کا معاملہ بس خدا تعالیٰ کے حوالے ہے وہی ان کو قیامت کے روز سزا دیں گے۔ دین میں تفرق ڈالنا اور فرقے بن جانا جو اس آیت میں مذکور ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اصول دین کے اتباع کو چھوڑ کر اپنے خیالات اور خواہشات کے مطابق یا شیطانی مکر وتلبیس میں مبتلا ہو کر دین میں کچھ نئی چیزیں بڑھا دے یا بعض چیزوں کو چھوڑ دے۔ دین میں بدعت ایجاد کرنے پر وعید شدید تفسیر مظہری میں ہے کہ اس میں پچھلی امتوں کے لوگ بھی داخل ہیں جنہوں نے اپنے اصول دین کو ترک کرکے اپنی طرف سے کچھ چیزیں ملا دی تھیں، اور اس امت کے اہل بدعت بھی جو دین میں اپنی طرف سے بےبنیاد چیزوں کو شامل کرتے رہتے ہیں، رسول کریم ﷺ نے ایک حدیث میں اس مضمون کو اس طرح واضح فرمایا ہے کہ ”میری امت میں بھی وہی حالات پیش آویں گے جو بنی اسرائیل کو پیش آئے، جس طرح کی بد اعمالیوں میں وہ مبتلا ہوئے میری امت کے لوگ بھی مبتلا ہوں گے، بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، میری امت کے تہتر (73) فرقے ہوجاویں گے جن میں سے ایک فرقہ کے علاوہ سب دوزخ میں جائیں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ وہ نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے، فرمایا ما انا علیہ و اصحابی، یعنی وہ جماعت جو میرے طریقہ پر اور میرے صحابہ کے طریقہ پر چلے گی وہ نجات پائے گی، (اس روایت کو ترمذی، ابوداؤد نے بروایت ابن عمر ؓ نقل کیا ہے)“۔ اور طبرانی نے بسند معتبر حضرت فاروق اعظم ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ اس آیت میں جن فرقوں کا ذکر ہے وہ اہل بدعت اور اپنی خواہشات و خیالات کے تابع نئے طریقے ایجاد کرنے والے ہیں، یہی مضمون حضرت ابوہریرہ ؓ سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے، اسی لئے رسول کریم ﷺ نے دین میں نئے نئے طریقے اپنی طرف سے ایجاد کرنے کو بڑی تاکید کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ امام احمد، ابو داؤد، ترمذی وغیرہ نے بروایت عرباض بن ساریہ ؓ نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ”تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے وہ بہت اختلافات دیکھیں گے، اس لئے (میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ) تم میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے اس کے مطابق ہر کام میں عمل کرو، نئے نئے طریقوں سے بچتے رہو، کیونکہ دین میں نئی پیدا کی ہوئی ہر چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے“۔ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر جدا ہوگیا اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے نکال دیا (رواہ ابو داؤد و احمد)۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ جماعت سے مراد اس حدیث میں جماعت صحابہ ہے، وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا، اور آپ ﷺ کو قرآن عطا فرمایا، اور قرآن کے علاوہ دوسری وحی عطا فرمائی، جس کو حدیث یا سنت کہا جاتا ہے، پھر قرآن میں بہت سی آیات مشکل یا مجمل یا مبہم ہیں، ان کی تفسیر وبیان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ بیان کرنے کا وعدہ فرمایا، (آیت) ثم ان علینا بیانہ کا یہی مطلب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کے مشکلات اور مبہمات کی تفسیر اور اپنی سنت کی تفصیلات اپنے بلا واسطہ شاگرودں یعنی صحابہ کرام کو اپنے قول و عمل کے ذریعہ سکھلائیں، اس لئے جمہور صحابہ کا عمل پوری شریعت الٓہیہ کا بیان و تفسیر ہے۔ اس لئے مسلمان کی سعادت اسی میں ہے کہ ہر کام میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرے، اور جس آیت یا حدیث کی مراد میں اشتباہ ہو اس میں اس کو اختیار کرے جس کو جمہور صحابہ کرام نے اختیار فرمایا ہو۔ اس مقدس اصول کو نظر انداز کردینے سے اسلام میں مختلف فرقے پیدا ہوگئے کہ تعامل صحابہ اور تفسیرات صحابہ کو نظر انداز کرکے اپنی طرف سے جو جی میں آیا اس کو قرآن و سنت کا مفہوم قرار دیدیا، یہی وہ گمراہی کے راستے ہیں جن سے قرآن کریم نے بار بار روکا اور رسول کریم ﷺ نے عمر بھر بڑی تاکید کے ساتھ منع فرمایا، اور اس کے خلاف کرنے والوں پر لعنت فرمائی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چھ آدمیوں پر میں لعنت کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ بھی ان پر لعنت کرے، ایک وہ شخص جس نے کتاب اللہ میں اپنی طرف سے کچھ بڑھا دیا (یعنی خواہ کچھ الفاظ بڑھا دیئے یا معنی میں ایسی زیادتی کردی جو تفسیر صحابہ کے خلاف ہے) دوسرے وہ شخص جو تقدیر الٓہی کا منکر ہوگیا، تیسرے وہ شخص جو امت پر زبردستی مسلط ہوجائے تاکہ عزت دیدے اس شخص کو جس کو اللہ نے ذلیل کیا ہے اور ذلت دیدے اس شخص کو جس کو اللہ نے عزت دی ہے، چوتھے وہ شخص جس نے اللہ کے حرام کو حلال سمجھا، یعنی حرم مکہ میں قتل و قتال کیا، یا شکار کھیلا، پانچویں وہ شخص جس نے میری عترت و اولاد کی بےحرمتی کی، چھٹے وہ شخص جس نے میری سنت کو چھوڑ دیا۔
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی لاتا ہے ایک نیکی تو اس کے لئے اس کا دس گنا ہے اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی سو سزا پائے گا اسی کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا(آیت) مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ پچھلی آیت میں اس کا بیان تھا کہ صراط مستقیم سے منحرف ہونے والوں کو روز قیامت اللہ تعالیٰ ہی ان کے اعمال کی سزاء دیں گے۔ اس آیت میں آخرت کی جزاء و سزاء کا کریمانہ ضابطہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو شخص ایک نیک کام کرے گا اس کو دس گنا بدلہ دیا جائے گا، اور جو ایک گناہ کرے گا اس کا بدلہ صرف ایک گناہ کے برابر دیا جائے گا۔ صحیح بخاری اور مسلم، نسائی اور مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا رب عزوجل رحیم ہے، جو شخص کسی نیک کام کا صرف ارادہ کرے اس کے لئے ایک نیکی لکھ لی جاتی ہے، خواہ عمل کرنے کی نوبت بھی نہ آئے، پھر جب وہ اس نیک کام کو کرلے تو دس نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو شخص کسی گناہ کا ارادہ کرے، مگر پھر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لئے بھی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور گناہ کا عمل بھی کرے تو ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے، یا اس کو بھی مٹا دیا جاتا ہے، اس عفو وکرم کے ہوتے ہوئے اللہ کے دربار میں وہی شخص ہلاک ہوسکتا ہے جس نے ہلاک ہونے ہی کی ٹھان رکھی ہے (ابن کثیر)۔ ایک حدیث قدسی میں بروایت ابوذر ؓ ارشاد ہے ”جو شخص ایک نیکی کرتا ہے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملا ہے، اور اس سے بھی زیادہ اور جو شخص ایک گناہ کرتا ہے تو اس کی سزا صرف ایک ہی گناہ کی برابر ملے گی، یا میں اس کو بھی معاف کر دونگا اور جو شخص اتنے گناہ کرکے میرے پاس آئے جن سے ساری زمین بھر جائے اور مغفرت کا طالب ہو تو میں اتنی ہی مغفرت سے اس کے ساتھ معاملہ کروں گا، اور جو شخص میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں، اور جو شخص ایک ہاتھ میری طرف آتا ہے میں اس کی طرف بقدر ایک باع کے آتا ہوں (باع کہتے ہیں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کو) اور جو شخص میری طرف جھپٹ کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں“۔ ان روایات حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکی کی جزاء میں دس تک کی زیادتی جو اس آیت میں مذکور ہے ادنیٰ حد کا بیان ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس سے زیادہ بھی دے سکتے ہیں اور دیں گے، جیسا کہ دوسری روایات سے ستر گنا یا سات گنا تک ثابت ہوتا ہے۔ اس آیت کے الفاظ میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہاں لفظ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فرمایا ہے عمل بالحسنة نہیں فرمایا، تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس سے اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ محض کسی نیک یا بدکام کرلینے پر یہ جزاء و سزاء نہیں دی جائے گی، بلکہ جزاء و سزاء کے لئے موت کے وقت تک اس عمل نیک یا بد عمل کا قائم رہنا شرط ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی نیک عمل کیا، لیکن پھر اس کے کسی گناہ کی شامت سے وہ عمل حبط اور ضائع ہوگیا تو وہ اس عمل پر جزاء کا مستحق نہیں رہا، جیسے معاذ اللہ کفر و شرک تو سارے ہی اعمال صالحہ کو برباد کردیتا ہے، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے گناہ ایسے ہیں جو بعض اعمال صالحہ کو باطل اور بےاثر کردیتے ہیں، جیسے قرآن کریم میں ہے (آیت) لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی ،”یعنی تم اپنے صدقات کو احسان جتلا کر یا ایذا پہنچا کر باطل اور ضائع نہ کرو“۔ اس سے معلوم ہوا کہ صدقہ کا عمل صالح احسان جتانے یا ایذاء پہنچانے سے باطل اور ضائع ہوجاتا ہے، اسی طرح حدیث میں ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کرنا نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا لیتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں جو اعمال صالحہ نوافل اور تسبیح وغیرہ کے لئے ہیں، وہ دنیا کی باتیں کرنے سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح برے اعمال سے اگر توبہ کرلی تو وہ گناہ نامہ اعمال سے مٹا دیا جاتا ہے، موت کے وقت تک باقی نہیں رہتا، اس لئے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ کوئی عمل کرے نیک یا بد تو اس کو جزاء یا سزا ملے گی“۔ بلکہ یوں فرمایا کہ جو ”شخص ہمارے پاس لائے گا نیک عمل تو دس گنا ثواب پائے گا اور ہمارے پاس لائے گا برا عمل تو ایک ہی عمل کی سزا پائے گا“۔ اللہ تعالیٰ کے پاس لانا اسی وقت ہوگا جب یہ عمل آخر تک قائم اور باقی رہے، نیک عمل کو ضائع کرنے والی کوئی چیز پیش نہ آوے اور برے عمل سے توبہ و استغفار نہ کرے۔ آخر آیت میں فرمایا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ، یعنی اس عدالت عالیہ میں اس کا امکان نہیں کہ کسی پر ظلم ہو سکے نہ کسی کے نیک عمل کے بدلے میں کمی کا امکان ہے، نہ کسی کے برے عمل میں اس سے زائد سزا کا احتمال ہے۔
Ayah 6:161

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

تو کہہ دے مجھ کو سمجھائی میرے رب نے راہ سیدھی دین صحیح ملت ابراہیم کی جو ایک ہی طرف کا تھا اور نہ تھا شرک کرنے والوں میں

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ (وحی کے ذریعہ سے) بتلا دیا ہے کہ وہ ایک دین ہے (جو بوجہ ثبوت بدلائل کے) مستحکم (ہے) جو طریقہ ہے ابراہیم ؑ کا جس میں ذرا کجی نہیں اور وہ (ابراہیم علیہ السلام) شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے (اور) آپ (اس دین مذکور میں قدرے تفصیل کے لئے) فرما دیجئے کہ (اس دین کا حاصل یہ ہے کہ) بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا جینا اور مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لئے ہے جو مالک ہے سارے جہان کا، اس کا (استحقاق عبادت یا تصرفات ربوبیت میں) کوئی شریک نہیں، اور مجھ کو اسی (دین مذکور پر رہنے) کا حکم ہوا ہے اور (حکم کے موافق) میں (اس دین والوں میں) سب ماننے والوں سے پہلا (ماننے والا) ہوں، آپ ﷺ (ان باطل کی طرف بلانے والوں سے) فرما دیجئے کہ کیا (بعد وضوح حقیقت توحید و اسلام کے تمہارے کہنے سے) میں خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کے لئے تلاش کروں (یعنی نعوذ باللہ شرک اختیار کرلوں) حالانکہ وہ مالک ہے ہر چیز کا (اور سب چیزیں اس کی مملوک ہیں اور مملوک شریک مالک نہیں ہوسکتا) اور (تم جو کہتے ہو کہ تمہارا گناہ ہمارے سر، سو یہ محض لغو بات ہے کہ کرنے والا پاک صاف رہے اور صرف دوسرا گنہگار ہوجاوے، بلکہ بات یہ ہے کہ) جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسی پر رہتا ہے، اور کوئی دوسرے کا بوجھ (گناہ کا) نہ اٹھاوے گا (بلکہ سب اپنی اپنی بھگتیں گے) پھر (سب کے عمل کر چکنے کے بعد) تم سب کو اپنے رب کے پاس جانا ہوگا، پھر وہ تم کو جتلا دیں گے جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے (کہ کوئی کسی دین کو حق بتاتا تھا اور کوئی کس کو، وہاں عملی اطلاع سے فیصلہ کردیا جاوے گا، کہ اہل حق کو نجات اور اہل باطل کو سزا ہوگی) اور وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں صاحب اختیار بنایا (اس نعمت میں تو تماثل ہے) اور ایک کا دوسرے پر (مختلف چیزوں میں) رتبہ بڑھایا، (اس نعمت میں تفاضل ہے) تاکہ (ان نعمتوں سے) تم کو (ظاہراً) آزماوے ان چیزوں میں جو کہ (نعم مذکور سے) تم کو دی ہیں (آزمانا یہ کہ کون ان نعمتوں کی قدر کرکے منعم کی اطاعت کرتا ہے اور کون بےقدری کرکے اطاعت نہیں کرتا، پس بعضے مطیع ہوئے، بعضے نافرمان ہوئے اور دونوں کے ساتھ مناسب معاملہ کیا جاوے گا، کیونکہ) بالیقین آپ ﷺ کا رب جلد سزا دینے والا (بھی) ہے، اور بالقین وہ واقعی بڑی مغفرت کرنے والا، مہربانی کرنے والا (بھی) ہے، (پس نافرمانوں کے لئے عقاب ہے اور فرمانبرداروں کے لئے رحم ہے، اور نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف آنے والوں کے لئے مغفرت ہے، پس مکلفین پر ضرور ہوا کہ دین حق کے موافق اطاعت اختیار کریں، اور باطل اور مخالفت حق سے باز آویں)۔ معارف و مسائل یہ سورة انعام کی آخری چھ آیتیں ہیں، جن لوگوں نے دین حق میں افراط وتفریط اور کمی بیشی کرکے مختلف دین بنائے تھے، اور خود مختلف گروہوں میں بٹ گئے تھے، ان کے مقابلہ پر ان میں سے پہلی آیتوں میں دین حق کی صحیح تصویر، اس کے بنیادی اصول اور بعض اہم فروع و جزئیات بیان کئے گئے ہیں، پہلی دو آیتوں میں اصول کا بیان ہے اور تیسری آیت میں ان کے اہم فروع کا ذکر ہے، اور دونوں میں رسول کریم ﷺ کو مخاطب کرکے یہ ارشاد ہوا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو یہ بات پہنچا دیں۔ پہلی آیت میں ارشاد ہے، قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ”یعنی آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ مجھے میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بنادیا ہے“۔ اس میں اشارہ فرمایا کہ میں نے تمہاری طرح اپنے خیالات یا آبائی رسوم کے تابع یہ راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ میرے رب نے مجھے یہ راستہ بنایا ہے، اور لفظ ”رب“ سے اس طرف اشارہ کردیا کہ اس کی شان ربوبیت کا تقاضا ہے کہ وہ صحیح راستہ بتائے، تم بھی اگر چاہو تو اس کی طرف ہدایت کے سامان تمہارے لئے بھی موجود ہیں۔ دوسری آیت میں فرمایا دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اس میں لفظ ”قیم“ مصدر ہے، قیام کے معنی میں، اور مراد اس سے قائم رہنے والا مستحکم ہے، یعنی یہ دین مستحکم ہے، جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، کسی کے شخصی خیالات نہیں، اور کوئی نیا دین و مذہب بھی نہیں جس سے کسی کو شبہ ہو سکے، بلکہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا یہی دین ہے۔ خصوصیت سے حضرت ابراہیم ؑ کا نام اس لئے فرمایا کہ دنیا کے ہر مذہب والے ان کی عظمت و امامت کے قائل ہیں، موجودہ فرقوں میں سے یہود و نصاریٰ ، مشرکین عرب آپس میں کتنے ہی مختلف ہوں مگر ابراہیم ؑ کی بزرگی و امامت پر سب متفق ہیں، یہی وہ مقام امامت ہے جو اللہ تعالیٰ نے خصوصی انعام کے طور پر ان کو دیا ہے (آیت) انی جاعلک للناس اماما۔ پر ان میں سے ہر فرقہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ ہم دین ابراہیمی پر قائم ہیں، اور ہمارا مذہب ہی ملت ابراہیم ہے۔ ان کے اس مغالطہ کو دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ابراہیم ؑ تو غیر اللہ کی عبادت سے پرہیز کرنے والے اور شرک سے نفرت کرنے والے تھے، اور یہی ان کا سب سے بڑا شاہکار ہے، تم لوگ جب کہ شرک میں مبتلا ہوگئے تو یہود نے حضرت عزیر ؑ کو، نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو اور مشرکین عرب نے ہزاروں پتھروں کو خدا کا شریک مان لیا، تو پھر کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں رہا کہ وہ ملت ابراہیمی کا پابند ہے، وہاں یہ حق صرف مسلمان کو پہنچتا ہے جو شرک و کفر سے بیزار ہے۔
Ayahs 6:162–163

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

تو کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو پالنے والا سارے جہان کا ہے

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

کوئی نہیں اس کا شریک اور یہی مجھ کو حکم ہوا اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہوں

تیسری آیت میں فرمایا (آیت) قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس میں لفظ ”نُسُک“ کے معنی قربانی کے بھی آتے ہیں، اور حج کے ہر فعل کو بھی نُسُک کہتے ہیں، اعمال حج کو ”مناسک“ کہا جاتا ہے، اور لفظ مطلق عبادت کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے، اسی لئے ناسک بمعنی عابد بولا جاتا ہے، اس جگہ ان میں سے ہر ایک معنی مراد لئے جاسکتے ہیں، اور مفسرین صحابہ وتابعین سے یہ سب تفسیریں منقول بھی ہیں، مگر مطلق عبادت کے معنی اس جگہ زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں، معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ ”میری نماز اور میری تمام عبادات اور میری پوری زندگی اور پھر موت یہ سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ اس میں فروع اعمال میں سے اول نماز کا ذکر کیا، کیونکہ وہ تمام اعمال صالحہ کی روح اور دین کا عمود ہے، اس کے بعد تمام اعمال و عبادات کا اجمالی ذکر فرمایا، اور پھر اس سے ترقی کرکے پوری زندگی کے اعمال و احوال کا ذکر کیا، اور آخر میں موت کا، ان سب کا ذکر کرکے فرمایا کہ ہماری یہ سب چیزیں صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں، اور یہی ایمان کامل اور اخلاص کامل کا نتیجہ ہے، کہ انسان اپنی زندگی کے ہر حال میں اور ہر کام میں اس کو پیش نظر رکھے کہ میرا اور تمام جہان کا ایک رب ہے، میں اس کا بندہ اور ہر وقت اس کی نظر میں ہوں، میرا قلب، دماغ، آنکھ، کان، زبان اور ہاتھ پیر، قلم اور قدم اس کی مرضی کے خلاف نہ اٹھنا چاہئے، یہ وہ مراقبہ ہے کہ اگر انسان اس کو اپنے دل دماغ میں مستحضر کرلے تو صحیح معنی میں انسان اور کامل انسان ہوجائے، اور گناہ و معصیت اور جرائم کا اس کے آس پاس بھی گزر نہ ہو۔ تفسیر در منشور میں اسی آیت کے تحت میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ ہر مسلمان اس آیت کو بار بار پڑھا کرے اور اس کو وظیفہ زندگی بنالے۔ اس آیت میں نماز اور تمام عبادات کا اللہ کے لئے ہونا تو ظاہر ہے کہ ان میں شرک یا ریاء یا کسی دنیوی مفاد کا دخل نہ ہونا مراد ہے، اور زندگی اور موت کا اللہ کے لئے ہونا، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میری موت وحیات ہی اس کے قبضہ قدرت میں ہے، تو پھر زندگی کے اعمال و عبادات بھی اسی کے لئے ہونا لازم ہے، اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جتنے اعمال زندگی سے وابستہ ہیں وہ بھی صرف اللہ کے لئے ہیں، جیسے نماز، روزہ اور لوگوں کے ساتھ معاملات کے حقوق و فرائض وغیرہ اور جو اعمال موت سے متعلق ہیں، یعنی وصیت اور اپنے بعد کے لئے جو ہر انسان کوئی نظام چاہتا اور سوچتا ہے وہ سب اللہ رب العالمین کے لئے اور اسی کے احکام کے تابع ہے۔ پھر فرمایا (آیت) وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ”یعنی مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی قول وقرار اور اخلاص کامل کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب سے پہلا فرمانبردار مسلمان ہو“۔ مراد یہ ہے کہ اس امت میں سب سے پہلا مسلمان میں ہوں، کیونکہ ہر امت کا پہلا مسلمان خود وہ نبی یا رسول ہوتا ہے جس پر وحی نازل کی جاتی ہے۔ اور پہلا مسلمان ہونے سے اس طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ مخلوقات میں سب سے پہلے رسول کریم ﷺ کا نور مبارک پیدا کیا گیا ہے، اس کے بعد تمام آسمان و زمین اور مخلوقات وجود میں آئے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں ارشاد ہےاول ما خلق اللّٰہ تعالیٰ نوری (روح المعانی)
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

تو کہہ کیا اب میں اللہ کے سوا تلاش کروں کوئی رب اور وہی ہے رب ہر چیز کا اور جو کوئی گناہ کرتا ہے سو وہ اس کے ذمہ پر ہے اور بوجھ نہ اٹھائے گا ایک شخص دوسرے کا پھر تمہارے رب کے پاس ہی سب کو لوٹ کر جانا ہے سو وہ جتلا دے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے

کسی کے گناہ کا بھار دوسرا نہیں اٹھا سکتا چوتھی آیت میں مشرکین مکہ ولید بن مغیرہ وغیرہ کی اس بات کا جواب ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ اور عام مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ، تو تمہارے سارے گناہوں کا بھار ہم اٹھالیں گے، اس پر فرمایا (آیت) قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ، اس میں رسول اللہ ﷺ کو ارشاد ہے کہ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا تم مجھ سے یہ چاہتے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کرلوں، حالانکہ وہی سارے جہان اور ساری کائنات کا رب ہے، اس گمراہی کی مجھ سے کوئی امید نہ رکھو، باقی تمہارا یہ کہنا کہ ہم تمہارے گناہوں کا بھار اٹھالیں گے یہ خود ایک حماقت ہے، گناہ تو جو شخص کرے گا اسی کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا، اور وہی اس کی سزا کا مستحق ہوگا، تمہارے اس کہنے سے وہ گناہ تمہاری طرف کیسے منتقل ہوسکتا ہے، اور اگر خیال ہو کہ حساب اور نامہ اعمال میں تو انہی کے رہے گا لیکن میدان حشر میں اس پر جو سزا مرتب ہوگی وہ سزا ہم بھگت لیں گے، تو اس خیال کو بھی اس آیت کے اگلے جملہ نے رد کردیا، وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي، ”یعنی قیامت کے روز کوئی شخص دوسرے کا بھار گناہ نہیں اٹھائے گا“۔ اس آیت نے مشرکین کے بیہودہ قول کا جواب تو دیا ہی ہے، عام مسلمانوں کو یہ ضابط بھی بتلا دیا کہ قیامت کے معاملہ کو دنیا پر قیاس نہ کرو کہ یہاں کوئی شخص جرم کرکے کسی دوسرے کے سر ڈال سکتا ہے، خصوصاً جب کہ دوسرا خود رضا مند بھی ہو، مگر عدالت الٓہیہ میں اس کی گنجائش نہیں، وہاں ایک کے گناہ میں دوسرا ہرگز نہیں پکڑا جاسکتا، اسی آیت سے استدلال فرما کر رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ولد الزنا پر والدین کے جرم کا کوئی اثر نہیں ہوگا، یہ حدیث حاکم نے بسند صحیح حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے۔ اور ایک میّت کے جنازہ پر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے کسی کو روتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ زندوں کے رونے سے مردہ کو عذاب ہوتا ہے، ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ قول حضرت عائشہ ؓ کے سامنے نقل کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ایک ایسے شخص کا یہ قول نقل کر رہے ہو جو نہ کبھی جھوٹ بولتا ہے اور نہ ان کی ثقاہت میں کوئی شبہ کیا جاسکتا ہے، مگر کبھی سننے میں بھی غلطی ہوجاتی ہے، اس معاملہ میں تو قرآن کا ناطق فیصلہ تمہارے لئے کافی ہے(آیت) وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي، ”یعنی ایک کا گناہ دوسرے پر نہیں پڑ سکتا، تو کسی زندہ آدمی کے رونے سے مردہ بےقصور کس طرح عذاب میں ہوسکتا ہے (درمنثور) آخر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ”پھر تم سب کو بالآخر اپنے رب ہی کے پاس جانا ہے، جہاں تمہارے سارے اختلاف کا فیصلہ سنا دیا جائے گا“۔ مطلب یہ ہے کہ زبان آوری اور کج بحثی سے باز آؤ، اپنے انجام کی فکر کرو۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور اسی نے تم کو نائب کیا ہے زمین میں اور بلند کردیئے تم میں درجے ایک کے ایک پر تاکہ آزمائے تم کو اپنے دیئے ہوئے حکموں میں تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

پانچویں اور چھٹی آیت میں ایک جامع نصیحت پر سورة انعام کو ختم کیا گیا ہے، اور وہ عہد ماضی کی تاریخ اور پچھلی قوموں کی سرگزشت کو ان کے سامنے لا کر اپنے مستقبل کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے(آیت) وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ ، اس میں لفظ خلاَئِف، خلیفہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں کسی کا قائم مقام اور گدی نشین، معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تم کو تم سے پہلی قوموں کی جگہ پر آباد کیا ہے، کوئی مکان زمین جس کو آج تم اپنی ملکیت کہتے ہو اور سمجھتے ہو ایسا نہیں جو کل تمہیں جیسے دوسرے انسانوں کی ملکیت میں نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے ان کو ہٹا کر تمہیں ان کی جگہ بٹھایا ہے، اور پھر یہ بات بھی ہر وقت قابل غور ہے کہ تم میں بھی اب آدمی یکساں نہیں، کوئی مفلس ہے کوئی مال دار، کوئی ذلیل ہے کوئی عزت دار، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر مال داری اور عزت خود انسان کے اختیار میں ہوئی تو کونسا انسان مفلسی اور ذلت کو اختیار کرتا، یہ درجات کا تفاوت بھی تمہیں اس کی خبر دے رہا ہے کہ اختیار کسی اور ہستی کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہے مفلس کر دے جس کو چاہے مال دار، جس کو چاہے عزت دے جس کو چاہے ذلت۔ آخر آیت میں (آیت) فرمایا لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ، ”یعنی تمہیں دوسرے لوگوں کی جگہ بٹھانے اور ان کے مال جائداد کا مالک بن جانے اور پھر عزت و دولت کے اعتبار سے مختلف درجات میں رکھنے سے مقصد ہی یہ ہے کہ تمہاری آنکھیں کھلیں اور اس کا امتحان ہو کہ جو نعمتیں پچھلے لوگوں کو ہٹا کر تمہارے سپرد کی گئی ہیں، ان میں تمہارا عمل کیا ہوتا ہے، شکر گزاری اور فرمانبرداری کا یا ناشکری اور نافرمانی کا ؟ چھٹی آیت میں ان دونوں حالتوں کا انجام اس طرح بتلا دیا(آیت) اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ ڮوَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ”یعنی آپ کا رب نافرمانوں پر جلد عذاب بھیجنے والا ہے، اور فرمانبرداروں کے لئے غفور و رحیم ہے“۔ سورة انعام کا شروع حمد سے ہوا اور اختتام مغفرت پر، اللہ تعالیٰ ہم سب کو حمد کی توفیق اور مغفرت سے سرفراز فرما دیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورة انعام مکمل ایک ہی دفعہ نازل ہوئی، اور اس شان کے ساتھ نازل ہوئی کہ ستر (70) ہزار فرشتے اس کے جلو میں تسبیح پڑھتے ہوئے آئے، اسی لئے حضرت فاروق اعظم ؓ نے فرمایا کہ سورة انعام قرآن کریم کی افضل و اعلیٰ سورتوں میں سے ہے۔ بعض روایات میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ یہ سورة جس مریض پر پڑھی جائے اللہ تعالیٰ اس کو شفاء دیتے ہیں۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العلمین