Ayah 6:50خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان معاند لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے تمام خزانے ہیں (کہ جو کچھ مجھ سے مانگا جائے وہ اپنی قدرت سے دیدوں) اور نہ میں تمام غیب کی چیزوں کو جانتا ہوں (جو اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے) اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے (جس میں مقتضائے وحی پر خود عمل کرنا بھی داخل ہے اور دوسروں کو دعوت دینا بھی، جیسا کہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا بھی یہی حال تھا، پھر) آپ ﷺ ان سے کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتا ہے (اور جب یہ بات سب کو مسلم ہے) تو کیا تم (آنکھوں والا بننا نہیں چاہتے اور اس تقریر مذکور میں) غور (کامل بقصد طلب حق) نہیں کرتے (کہ حق واضح ہوجائے اور تم بیناؤں میں داخل ہوجاؤ) اور اگر (اس پر بھی وہ عناد سے باز نہ آئیں تو ان سے بحث مباحثہ بند کر دیجئے اور آپ ﷺ کا جو اصلی کام ہے تبلیغ رسالت کا اس میں مشغول ہوجائیے اور) ایسے لوگوں کو (کفر و معصیت پر عذاب الہی سے خاص طور سے) ڈرائیے (جو اعتقاداً یا کم از کم احتمالاً) اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں (کہ قیامت میں) اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جاویں گے کہ اللہ کے سوا (جس جس کو مددگار یا سفارش کرنے والا کفار نے سمجھا تھا اس وقت ان میں سے) نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی (مستقل) اشاعت کرنے والا، شاید یہ لوگ (عذاب سے) ڈر جاویں (اور کفر و معصیت سے باز آجائیں)۔
معارف و مسائل
کفار عرب کی طرف سے فرمائشی معجزات کا معاندانہ مطالبہ
کفار مکہ کے سامنے رسول کریم ﷺ کے بیشمار معجزات اور اللہ تعالیٰ کی آیات بینات کا ظہور ہوچکا تھا، رسول کریم ﷺ کا بحالت یتیمی دنیا میں تشریف لانا لکھنے پڑھنے سے بالکل الگ ایک امی محض ہو کر رہنا، ایسی زمین میں پیدا ہونا جس کے آس پاس بھی نہ کوئی عالم تھا نہ علمی مرکز، عمر شریف کے چالیس سال اسی امّیت محضہ کے عالم میں سارے اہل مکہ کے سامنے رہنا، پھر چالیس سال کے بعد دفعةً آپ ﷺ کی زبان مبارک سے ایسا محیرّ العقول حکیمانہ کلام جاری ہونا جس کی فصاحت و بلاغت نے تمام بلغار عرب کو چیلنج دے کر ہمیشہ کے لئے ان کے مونہوں پر مہر لگادی اور جس کے حکمت پرور معانی اور قیامت تک کی ضروریات انسانی کی رعایت کے ساتھ انسان کامل کی زندگی کا ایسا نظام عمل جس کو انسانی عقل و دماغ ہرگز مرتب نہیں کرسکتا، نہ صرف نظری اور فکری حیثیت سے جمع کرکے پیش کیا، بلکہ عملی طور پر بھی دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ رائج کرکے دکھلا دیا، اور وہ انسان جو اپنی انسانیت کو بھلا کر بیل، بکری، گھوڑے، گدھے کی طرح اپنی زندگی کا مقصد صرف کھانے، پینے، سونے، جاگنے کو قرار دے چکا تھا، اس کو صحیح انسانیت کا سبق دیا، اس کا رخ اس بلند مقصد کی طرف پھیر دیا جس کے لئے اس کی تخلیق عمل میں آئی تھی، اس طرح رسول کریم ﷺ کی زندگی کا ہر دور اور اس میں پیش آنے والے عظیم القدر وقائع میں سے ہر ایک ایک مستقل معجزہ اور آیت الٓہیہ تھی، جس کے بعد کسی انصاف پسند عقلمند کے لئے مزید کسی آیت و معجزہ کے طلب کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔
لیکن کفار قریش نے اس کے باوجود دوسری قسم کے معجزات اپنی خواہش کے مطابق طلب کئے، ان کے مطلوبہ معجزات میں سے بھی بعض کو حق تعالیٰ نے واضح طور پر عمل میں لاکر دکھلا دیا، چاند کے دو ٹکڑے کرنے کا مطالبہ کیا تھا، شق قمر کا معجزہ نہ صرف قریش نے بلکہ اس وقت کی دنیا میں رہنے والوں کی بڑی تعداد نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔
لیکن ان کے مطالبہ کے موافق ایسا عظیم الشان معجزہ ظاہر ہونے کے باوجود وہ اپنے اسی کفر و ضلالت اور ضد وعناد پر جمے رہے اور اللہ تعالیٰ کی اس آیت بینہ کو (آیت) ان ہذا الا سحر یوثر، کہہ کر نظر انداز کردیا، اور ان سب چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے بوجھنے کے باوجود ان کی طرف سے رسول کریم ﷺ سے روز نئے نئے معجزات کا مطالبہ رہتا تھا، اور جیسا کہ پچھلی آیتوں میں گزرا ہے(آیت) لولا نزل علیہ ایة من ربہ۔ ”یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر محمد ﷺ سچ مچ اللہ کے رسول ہیں تو ان کا کوئی معجزہ کیوں ظاہر نہیں ہوتا، قرآن نے ان کے جواب میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو بتلا دیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تو سب کچھ ہے، اس نے جس طرح تمہارے مانگے بغیر خود ہی بیشمار آیات بینات اور معجزات نازل فرما دئیے، اسی طرح وہ تمہارے مطلوبہ معجزات بھی نازل فرما سکتا ہے“۔ لیکن ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ عادة اللہ اس بارے میں یہ ہے کہ جب کسی قوم کا مطلوبہ معجزہ دکھلا دیا جائے اور پھر وہ اس پر بھی ایمان نہ لائیں تو ان کو فوری عذاب میں پکڑ لیا جاتا ہے، اس لئے قوم کی مصلحت اس میں تھی اور یہ کہ ان کے مطلوبہ معجزات ظاہر نہ کئے جائیں، مگر بہت سے لوگ جو اس دقیق حکمت سے جاہل و بیخبر ہیں، ان کا اصرار یہی رہتا ہے کہ ہمارا مطلوبہ معجزہ دکھلایا جائے۔
مذکورہ الصدر آیتوں میں ان لوگوں کے ایسے سوالات و مطالبات کا جواب ایک خاص انداز میں دیا گیا ہے۔
کفار مکہ نے رسول کریم ﷺ سے مختلف اوقات میں تین مطالبے پیش کئے تھے، اول یہ کہ اگر آپ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو بذریعہ معجزہ ہمارے لئے تمام دنیا کے خزائن جمع کرا دیجئے، دوسرے یہ کہ اگر آپ ﷺ واقعی سچے رسول ہیں تو ہمارے مستقبل میں پیش آنے والے تمام مفید یا مضر حالات و واقعات بتا دیجئے، تاکہ ہم مفید چیزوں کے حاصل کرنے اور مضر صورتوں سے بچنے کا انتظام پہلے ہی کرلیا کریں، تیسرے یہ کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری ہی قوم کا ایک انسان جو ہماری ہی طرح ماں باپ سے پیدا ہوا، اور تمام بشری صفات کھانے، پینے، بازاروں میں پھرنے وغیرہ میں ہمارے ساتھ شریک ہے وہ اللہ کا رسول ﷺ بن جائے، کوئی فرشتہ ہوتا جس کی تخلیق اور اوصاف ہم سب سے ممتاز ہوتے، تو ہم اس کو خدا تعالیٰ کا رسول اور اپنا پیشوا مان لیتے۔
ان تینوں سوالات کے جواب میں ارشاد ہواقُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ ، ”یعنی رسول کریم ﷺ کو ہداہت دی گئی کہ ان لوگوں کے لایعنی سوالات کے جواب میں آپ ﷺ ان سے صاف کہہ دیجئے کہ تم جو مجھ سے خزائن دنیا کا مطالبہ کرتے ہو تو میں نے کب یہ دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب خزانے میرے ہاتھ میں ہیں، اور تم جو یہ مطالبہ کرتے ہو کہ مستقبل میں پیش آنے والے ہر مفید یا مضر معاملہ اور واقعہ کو میں تمہیں بتلا دوں تو میں نے کب یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں ہر غیب کی چیز کو جانتا ہوں، اور تم جو مجھ میں فرشتوں کی مخصوص صفات دیکھنا چاہتے ہو، تو میں نے کب کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ مجھ سے دلیل اس چیز کی مانگی جاسکتی ہے جس کا میں نے دعویٰ کیا ہے، یعنی یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اس کی بھیجی ہوئی ہدایات انسانوں کو پہنچاتا ہوں اور خود بھی ان کا اتباع کرتا ہوں، دوسروں کو بھی اس کی تاکید کرتا ہوں، چناچہ اس کے لئے ایک دو نہیں بیشمار واضح دلائل پیش کئے جا چکے ہیں۔
اس دعویٰ رسالت کے لئے نہ یہ ضروری ہے کہ اللہ کا رسول اللہ کے سب خزانوں کا مالک ہوجائے، اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرح غیب کی ہر چھوٹی بڑی چیز سے واقف ہو، اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ انسانی اور بشری صفات سے جدا کوئی فرشتہ ہو، بلکہ رسول کا منصب صرف اتنا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی ہوئی وحی کا اتباع کرے، جس میں خود اس پر عمل کرنا بھی داخل ہے، اور دوسروں کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دینا بھی۔
اس ہدایت نامہ سے منصب رسالت ﷺ کی حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا، اور رسول کے بارے میں جو غلط تصورات ان لوگوں نے قائم کر رکھے تھے ان کا ازالہ بھی کردیا گیا، اور اس کے ضمن میں مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت کردی گئی کہ وہ عیسائیوں کی طرح اپنے رسول کو خدا نہ بنائیں اور خدائی کا مالک نہ قرار دیں، ان کی عظمت و محبت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان کے متعلق یہود و نصاریٰ کی طرح افراط وتفریط میں اور غلو میں نہ پڑجائیں، کہ یہود نے تو اپنے انبیاء کے قتل تک سے گریز نہ کیا، اور نصاریٰ نے اپنے رسول کو خدا بنادیا۔
اس کے پہلے جملہ میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے میرے ہاتھ میں نہیں ان خزانوں سے کیا مراد ہے ؟ علماء تفسیر نے بہت سی چیزوں کے نام لئے ہیں، مگر خود قرآن کریم نے جہاں اللہ کے خزانوں کا ذکر کیا ہے تو اس میں فرمایا ہے(آیت) وان من شیء الا عندنا خزائنہ، ”یعنی کوئی چیز دنیا کی ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں“۔ اس سے معلوم ہوا کہ خزائن اللہ کا مفہوم دنیا کی تمام چیزوں پر حاوی ہے کچھ خاص چیزوں کو متعین نہیں کیا جاسکتا، اور جن حضرات مفسرین نے مخصوص چیزوں کے نام لئے ہیں، وہ بھی بطور مثال کے ہے، اس لئے اختلاف کچھ نہیں، اور جب اس آیت نے یہ بتلا دیا کہ خدائی کے سارے خزانے سید الرسل امام الانبیاء ﷺ کے ہاتھ میں بھی نہیں ہیں تو پھر امت کے کسی بزرگ یا ولی کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ جو چاہیں کرسکتے ہیں، جس کو جو چاہیں دے سکتے ہیں کھلی ہوئی جہالت ہے۔
آخری جملہ میں فرمایا وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ ”یعنی میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں جس کی وجہ سے تم بشری صفات کو دیکھ کر رسالت کا انکار کرتے ہو“۔
درمیانی جملہ میں طرز کلام بدل کر بجائے اس کے کہ لا اقول لکم انی اعلم و الغیب، فرمایا جاتا، یعنی یہ کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں غیب کو جانتا ہوں، ارشاد یوں فرمایا گیا کہ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ ، یعنی میں غیب کو نہیں جانتا۔
ابوحیان نے تفسیر بحر محیط میں اس طرز کلام کے بدلنے کی ایک لطیف توجیہ یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام خدائی خزانوں کا مالک ہونا یا نہ ہونا، اسی طرح کسی شخص کا فرشہ ہونا یا نہ ہونا یہ چیزیں تو مشاہدہ سے تعلق رکھتی ہیں، مخاطب لوگ بھی سب جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے خزائن سب آپ ﷺ کے ہاتھ میں نہیں، اور آپ ﷺ فرشتہ بھی نہیں، محض عناد سے اس کا مطالبہ کرتے تھے، ان کے جواب میں یہ کہہ دینا کافی تھا کہ میں نے کبھی اس کا دعویٰ نہیں کیا کہ میں خزائن اللہ کا مالک ہوں یا یہ کہ میں فرشتہ ہوں۔
لیکن علم ِ غیب کا مسئلہ ایسا نہ تھا، کیونکہ وہ لوگ اپنے نجومیوں، کاہنوں کے بارے میں بھی اس کا اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ غیب کو جانتے ہیں، تو اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں ایسا اعتقاد رکھنا کچھ مستبعد نہ تھا، خصوصاً جب کہ رسول کریم ﷺ کی زبان مبارک سے انہوں نے بہت سی غیب کی خبریں بھی سنی تھیں، اور ان کے مطابق واقعہ ہونے کا مشاہدہ بھی کیا تھا، اس لئے یہاں صرف دعویٰ اور قول کی نفی کرنے کو کافی نہ سمجھا بلکہ اصل فعل کی نفی کی گئی اور یہ فرمایا وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ ، یعنی میں غیب کو نہیں جانتا۔ اس میں ان کی اس غلط فہمی کو بھی رفع کردیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی یا الہام جن غیب کی چیزوں کا علم کسی فرشتہ یا رسول یا ولی کو دیے دیا جائے اصطلاح قرآنی میں اس کو علم غیب یا اس کے جاننے والے کو عالم الغیب کہا جاسکتا۔
اسی سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اس معاملہ میں کسی مسلمان کو کلام نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو غیب کی ہزاروں لاکھوں چیزوں کا علم عطا فرمایا تھا، بلکہ تمام فرشتوں اور اولین و آخرین کو جتنا علم دیا گیا ہے ان سب سے زیادہ حضور ﷺ کو علم عطا فرمایا گیا ہے۔ یہی پوری امت کا عقیدہ ہے، ہاں اس کے ساتھ ہی قرآن و سنت کی بیشمار تصریحات کے مطابق تمام ائمہ سلف و خلف کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ تمام کائنات کا علم محیط صرف حق تعالیٰ شانہ کی مخصوص صفت ہے۔ جس طرح اس کے خالق و رازق، قادر مطلق ہونے میں کوئی فرشتہ یا رسول اس کے برابر نہیں ہوسکتا، اسی طرح اس کے علم محیط میں بھی کوئی اس کے برابر نہیں ہوسکتا، اسی لئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی فرشتہ یا پیغمبر کو غیب کی لاکھوں چیزیں معلوم ہونے کے باوجود عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ سرور کائنات سید الرسل امام الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے کمالات کے بارے میں بڑا جامع جملہ یہ ہے کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔
کمالات علمی میں بھی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعد تمام فرشتوں اور انبیاء و رسل سے آپ کا علم بڑھا ہوا ہے، مگر خدا تعالیٰ کے برابر نہیں، برابری کا دعویٰ کرنا عیسائیت کے غلو کا راستہ ہے۔
آخر آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے، مطلب یہ ہے کہ نفسانی جذبات اور ضد وعناد کو چھوڑ کر حقیقت کو دیکھو تاکہ تمہارا شمار اندھوں میں نہ رہے، تم بصیر اور بینا ہوجاؤ اور یہ بینائی تمہیں ذرا سے غور و فکر سے حاصل ہوسکتی ہے۔
Ayah 6:51دوسری آیت میں رسول کریم ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ان واضح بیانات کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی ضد سے باز نہ آئیں تو ان سے بحث و مباحثہ کو موقوف کر دیجئے اور جو اصلی کام ہے رسالت کا یعنی تبلیغ اس میں مشغول ہوجائیے، اور تبلیغ و انذار کا رخ ان لوگوں کی طرف پھیر دیجئے، جو قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی اور حساب کتاب کا عقیدہ رکھتے ہیں، جیسے مسلمان یا وہ جو کم از کم اس کے منکر نہیں، بطور احتمال کے ہی سہی، کم از کم ان کو خطرہ تو ہے کہ شاید ہمارے اعمال کا ہم سے حساب لیا جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے متعلق تین طرح کے آدمی ہیں، ایک وہ جو یقینی طور پر اس کے معتقد ہیں، دوسرے وہ جو متردد ہیں، تیسرے وہ جو بالکل منکر ہیں، اور تبلیغ و انذار کا حکم انبیاء (علیہم السلام) کو اگرچہ ان تینوں طبقوں کے لئے عام ہے، جیسا کہ بہت سے ارشادات قرآنی سے واضح ہے، لیکن پہلے دو طبقوں میں چونکہ اثر قبول کرنے کی توقع زیادہ ہے، اس لئے اس آیت میں خاص طور پر ان کی طرف توجہ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی، وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْ يُّحْشَرُوْٓا اِلٰى رَبِّهِمْ۔
Ayahs 6:52–53خلاصہ تفسیر
اور ان لوگوں کو (اپنی مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام (یعنی علی الدوام بدوام مناسب) اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، جس سے صرف اللہ کی رضا ہی کا مقصد رکھتے ہیں (اور کوئی غرض جاہ ومال کی نہیں، یعنی ان کی عبادت میں مداومت بھی ہے اور اخلاص بھی، اور اخلاص اگرچہ امر باطنی ہے مگر آثار و علامات سے پہچانا بھی جاسکتا ہے، اور جب تک عدم اخلاص کی کوئی دلیل نہیں، اخلاص ہی کا گمان رکھنا چاہئے) اور ان (کے باطن) کا حساب (اور تفتیش) ذرا بھی آپ ﷺ کے متعلق نہیں اور (یہ ان کے باطن کی تفتیش کا آپ سے متعلق نہیں کہ آپ ﷺ ان کو نکال دیں، (یعنی اگر ان کے باطنی اخلاص کی تفتیش آپ ﷺ کے ذمہ ہوتی تو اس کی گنجائش تھی کہ جن کے اخلاص کی تحقیق نہ ہوجائے ان کو الگ کردیں، مگر وہ آپ ﷺ کے ذمہ نہیں، اور دوسری کوئی وجہ ان کو نکالنے کے جواز کی موجود نہیں، اور چونکہ آنحضرت ﷺ امت کے مربی ہیں، اور مربی کے لئے اپنے ماتحتوں کے احوال کی تفتیش کرنے کا احتمال ہوسکتا تھا، مگر اس کا عکس کہ وہ لوگ اپنے پیغمبر ﷺ کے باطنی احوال کی تفتیش کریں، اس کا کوئی احتمال ہی نہیں اس لئے وہ قطعاً منفی ہے، اس جگہ محتمل کو متیقن کے ساتھ برابر قرار دے کر اس کی نفی کی گئی تاکہ اس کا منفی ہونا بھی یقینی ہوجاوے) ورنہ (ان کے نکالنے سے) آپ ﷺ نامناسب کام کرنے والوں میں ہوجاویں گے اور (ہم نے جو مؤ منوں کو غریب، کافروں کو رئیس بنا رکھا ہے جو بظاہر مقتضائے قیاس سے بعید ہے) تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) اسی طور پر ہم نے (ان میں سے) ایک (یعنی کفار) کو دوسروں (یعنی مؤ منوں) کے ذریعہ آزمائش میں ڈال رکھا ہے (یعنی اس طرز عمل میں امتحان ہے کفار کا) تاکہ یہ لوگ (مؤ منوں کے متعلق) کہا کریں کیا یہی لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے (انتخاب کر کے) ان پر اللہ تعالیٰ نے (اپنا) فضل کیا ہے (یعنی اپنے دین اسلام کے لئے منتخب کیا ہے) کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ حق شناسوں کو خوب جانتا ہے (ان غریب لوگوں نے اپنے منعم حقیقی کا حق پہچانا، طلب ِ حق میں لگ گئے، دین ِحق اور قبول عنداللہ سے مشرف کئے گئے، اور ان رؤ سا نے ناشکری اور کفر کیا وہ اس نعمت سے محروم رہے) اور جب وہ لوگ آپ کے پاس آویں جو کہ ہماری آیتوں پر ایمان بھی رکھتے ہیں تو آپ (ان کو بشارت سنانے کے لئے) یوں کہہ دیجئے کہ تم پر سلامتی ہے (یعنی کفار پر جو ہر طرح کی آفات آخرت میں پڑیں گے ان سے تم مامون ہو، اور دوسرے یہ بھی کہ) تمہارے رب نے (اپنے فضل وکرم سے) رحمت کرنا (اور تم کو نعمتیں دینا) اپنے ذمہ مقرر کرلیا ہے (یہاں تک) کہ جو شخص تم میں سے کوئی برا کام کر بیٹھے (جو کہ) جہالت سے (ہوجاتا) کیونکہ خلاف حکم کرنا عملی جہالت ہے مگر پھر وہ اس کے بعد توبہ کرلے (اور آئندہ کو اپنے اعمال کی) اصلاح رکھے (اس میں یہ بھی آگیا کہ اگر وہ توبہ ٹوٹ جائے تو پھر توبہ کرلے) تو اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ (اس کے لئے بھی) بڑی مغفرت کرنے والے ہیں (کہ گناہ کی سزا بھی معاف کردیں گے) اور بڑی رحمت کرنے والے ہیں (کہ طرح طرح کی نعمتیں بھی دیں گے) اور (جس طرح ہم نے اس مقام پر مؤمنین اور کفار کے حال ومآل کی تفصیل کردی) اسی طرح ہم آیات کی (جو کہ دونوں فریق کے حال ومآل پر مشتمل ہوں) تفصیل کرتے رہتے ہیں (تاکہ مؤمنین کا طریقہ بھی ظاہر ہوجاوے) اور تاکہ مجرمین کا طریقہ (بھی) ظاہر کردیا جائے (اور حق و باطل کے واضح ہونے سے طالب حق معرفت حق آسان ہوجائے)۔
معارف و مسائل
نخوت و جاہلیت کا ازالہ اور عزت وذلت کا اسلامی معیار اسلام میں امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں
جن لوگوں نے انسان ہونے کے باوجود انسانیت کو نہیں پہچانا بلکہ انسان کو دنیا کے مختلف جانوروں میں سے ایک ہو شیار جانور قرار دیا، جس نے دوسرے جانوروں کو اپنا تابع و محکوم بنا کر سب سے خدمت لی، ان کے نزدیک انسان کی تخلیق کا منشاء اس کے سوا ہو ہی کیا سکتا ہے کہ وہ ایک جانور کی طرح کھانے پینے، سونے جاگنے اور دوسرے حیوانی جذبات کو استعمال کرنے ہی کو مقصد زندگی سمجھیں، اور جب مقصد زندگی صرف یہی ہو تو یہ بھی ظاہر ہے کہ اس دنیا میں اچھے برے، بڑے چھوٹے، باعزت وبے عزت، شریف و رذیل کے پہچاننے کا معیار یہی ہوسکتا ہے کہ جس کے پاس کھانے، پینے، پہننے برتنے کا سامان زیادہ ہو وہ کامیاب اور باعزت اور شریف ہے، اور جس کے پاس یہ چیزیں کم ہوں وہ بےعزت، ذلیل اور نامراد و ناکام ہے۔
انصاف کی بات یہ ہے کہ اس عقیدہ و نظریہ پر اخلاق و اعمال صالحہ کی کوئی بحث ہی انسان کے شریف اور معزز ہونے میں نہیں آتی، بلکہ وہی عمل عمل صالح اور خلق خلق حسن ہوگا، جس کے ذریعہ یہ حیوانی مقاصد اچھی طرح پورے ہو سکیں۔
اسی لئے تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے لائے ہوئے دین و مذہب کا پہلا اور آخری سبق یہی رہا ہے کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے جو دائمی اور غیر منقطع ہوگی، وہاں کی راحت بھی مکمل اور دائمی ہوگی اور تکلیف و عذاب بھی مکمل اور دائمی، دنیا کی زندگی خود مقصد نہیں، بلکہ دوسری زندگی میں جو سامان کام آنے والا ہے اس کی فراہمی اس چند روزہ زندگی کا اصلی مقصد ہے
رہا مرنے کی تیاری میں مصروف
مِرا کام اور اس دنیا میں تھا کیا
اور انسان وحیوان میں یہی امتیازی فرق ہے کہ حیوانات کو اگلی زندگی کا کوئی فکر نہیں، بخلاف انسان کے اس کی سب سے بڑی فکر اہل ِ عقل وہوش کے نزدیک دوسری زندگی کی درستی ہے، اسی عقیدہ و نظریہ پر شرافت و رذالت اور عزت وذلت کا معیار ظاہر ہے کہ زیادہ کھانا پینا یا زیادہ مال و دولت جمع کرلینا نہیں ہوگا، بلکہ اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ ہوں گے، جن پر آخرت کی عزت کا مدار ہے۔
دنیا جس وقت بھی انبیاء (علیہم السلام) کی ہدایات اور تعلیمات اور عقیدہ آخرت سے غافل ہوئی تو اس کا طبعی نتیجہ سامنے آگیا، کہ عزت و دولت اور شرافت ورذالت کا معیار صرت روٹی اور پیٹ رہ گیا، جو اس میں کامیاب ہے وہ شریف و معزز کہلاتا ہے، جو اس میں ناکام یا ادھورا ہے وہ غریب، بےعزت، رذیل و ذلیل سمجھا جاتا ہے۔
اس لئے ہر زمانہ میں صرف حیات دنیا کی بھول بھلیّاں میں پھنسے ہوئے انسانوں نے مالدار کو معزز وشریف اور غریب و فقیر کو بےعزت ورذیل قرار دیا، حضرت نوح ؑ کی قوم نے ایمان لانے والے غریب لوگوں کو اسی معیار سے رذیل کہہ کر یہ اعتراض کیا کہ ہم ان رذیل لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پیغام سنائیں تو ان غریب وغرباء کو اپنے پاس سے نکال دیجئے، (آیت) قالو انؤمن واتبعک الارذلون،”یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم آپ پر ایسی حالت میں ایمان لے آئیں جبکہ آپ کے متبعین رذیل قسم کے لوگ ہیں۔“ حضرت نوح ؑ نے ان کے اس دل خراش کلام کا جواب مخصوص پیغمبرانہ انداز میں یہ دیا کہوما علمی بما کانو یعملون،۔۔ ، (آیت) ان حسابھم الا علی ربی لوتشعرون ”یعنی میں ان کے اعمال سے پوری طرح واقف نہیں کہ یہ فیصلہ کرسکوں کہ وہ رذیل ہیں یا شریف ومعزز، بلکہ ہر شخص کے عمل کی حقیقت اور اس کا حساب میرے رب ہی کو معلوم ہے، جو دلوں کے بھید سے باخبر ہے“۔
نوح ؑ نے ان جاہل اور متکبر انسانی شرافت و رذالت کی حقیقت سے ناآشانہ لوگوں کا رخ ایک واضح حقیقت کی طرف پھیر کر یہ بتلا دیا کہ شریف و رذیل کے الفاظ تم لوگ استعمال کرتے ہو اور ان کی حقیقت سے واقفیت نہیں، بس پیسہ والے کو شریف اور غریب کو رذیل کہنے لگے، حالانکہ شرافت و رذالت کا معیار پیسہ نہیں، بلکہ اعمال و اخلاق ہیں، اس موقع پر حضرت نوح ؑ یہ فرما سکتے تھے کہ اعمال و اخلاق کے معیار پر یہ لوگ تم سے زیادہ شریف و معزز ہیں، لیکن پیغمبرانہ طرز تبلیغ و اصلاح نے اس کی اجازت نہ دی، کہ ایسا جملہ کہیں جس سے مخاطب کو اشتعال ہو، اس لئے صرف اتنا فرما دیا کہ رذالت کا مدار تو افعال و اعمال پر ہے اور میں ان کے اعمال سے پوری طرح واقف نہیں، اس لئے ان کے شریف یا رذیل ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔
نوح ؑ کے بعد بھی ہر زمانہ میں قوم کے غریب لوگ خواہ وہ اپنے اخلاق و اعمال کے اعتبار سے کتنے ہی شریف اور باعزت ہوں مگر دنیا پرست، نخوت شعار لوگ ان کو حقیر و ذلیل کہتے آئے ہیں، اور یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی بصیرت اور اخلاق صالحہ کی بنا پر ہر زمانہ میں انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت قبول کرنے میں پہل کی، یہاں تک کہ مذاہب و ملل کی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کے نزدیک کسی پیغمبر کی صدق و حقانیت کی ایک دلیل یہ بن گئی کہ ان کے ابتدائی متبعین قوم کے غریب لوگ ہوں، یہی وجہ تھی کہ جب ہرقل شاہ روم کے پاس آنحضرت ﷺ کا گرامی نامہ دعوت اسلام کے لئے پہنچا اور اس نے آپ کی حقانیت و صدق کی تحقیق کرنا چاہی تو واقف کار لوگوں سے آنحضرت ﷺ کے بارے میں جو سوالات کئے ہیں ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ ان کے اکثر متبعین غریب عوام ہیں یا قوم کے بڑے لوگ ؟ جب اس کو بتلایا گیا کہ غریب لوگ ہیں تو اس نے کہا ہم اتباع الرسل یعنی رسولوں کے ابتدائی متبعین یہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں پھر یہی سوال کھڑا ہوا، متذکرہ آیات میں اسی کا جواب خاص ہدایات کے ساتھ مذکور ہے۔
ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے امام ابن جریر رحمة اللہ علیہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ کفار قریش کے چند سردار عتبہ، شیبہ، ابن ربیعہ اور مطعم بن عدی اور حارث بن نوفل وغیرہ، آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے پاس آئے اور کہا، آپ کے بھتیجے محمد ﷺ کی بات سننے اور ماننے سے ہمارے لئے ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ ان کے اردگرد ہر وقت وہ لوگ رہتے ہیں جو یا تو ہمارے غلام تھے، ہم نے ان کو آزاد کردیا، اور یا وہ لوگ ہیں جو ہمارے ہی رحم وکرم پر زندگی گزارتے تھے، ان حقیر و ذلیل لوگوں کے ہوتے ہوئے ہم ان کی مجلس میں شریک نہیں ہوسکتے۔ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر ہمارے آنے کے وقت وہ ان لوگوں کو مجلس سے ہٹا دیا کریں تو ہم ان کی بات سنیں اور غور کریں۔
ابو طالب نے آنحضرت ﷺ سے ان کی بات نقل کی تو فاروق اعظم ؓ نے یہ رائے دی کہ اس میں کیا حرج ہے، کچھ دنوں کے لئے آپ یہ بھی کر دیکھیں، یہ لوگ تو اپنے بےتکلف محبین ہیں، ان لوگوں کے آنے کے وقت مجلس سے ہٹ جایا کریں گے۔
اس پر آیر مذکورہ نازل ہوئی، جس میں سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے رسول کریم ﷺ کو منع فرما دیا گیا، نزول آیت کے بعد فاروق اعظم ؓ کو معذرت کرنا پڑی، کہ میری رائے غلط تھی۔
اور یہ غریب لوگ جن کے بارے میں یہ گفتگو ہوئی اس وقت حضرت بلال حبشی ؓ صہیب رومی ؓ عمار بن یاسر رضٰ اللہ عنہ، مولیٰ ابی حذیفہ ؓ، صبیح ؓ مولیٰ اسید ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، مقداد ابن عمرو ؓ مسعود بن القاری ؓ ذوالشمالین ؓ وغیرہ صحابہ کرام تھے، جن کی عزت و شرافت کا پروانہ آسمان سے نازل ہوا، اور قرآن میں اسی کے متعلق دوسری جگہ اس کی تاکید ان الفاظ میں آئی(آیت) واصبر نفسک مع الذین یدعون ”جس میں آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ آپ ﷺ اپنے نفس کو ان لوگوں میں باندھ رکھیں جو صبح و شام یعنی ہر وقت اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اخلاص کے ساتھ، آپ ﷺ اپنی نظریں ان کے سوا کسی پر نہ ڈالئے۔ جس کی غرض یہی ہوسکتی ہے کہ حیات دنیا کی زینت مقصود ہو، اور ایسے لوگوں کی بات نہ مانئے جن کے دلوں کو ہم نے اپنے ذکر سے غفلت میں ڈال دیا، اور جو اپنی نفسانی خواہشات کے پیرو ہوگئے، اور جن کا کام ہی حدود سے نکل جانا ہے“۔
آیت مذکورہ میں ان غریب لوگوں کی صفت یہ بتلائی کہ وہ صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس میں صبح و شام سے مراد محاورہ کے مطابق روز وشب کے تمام اوقات ہیں، اور پکارنے سے مراد عبادت کرنا ہے، اور روزوشب کی اس عبادت کے ساتھ یہ قید بھی لگا دی کہ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ جس سے بتلا دیا کہ عبادت میں جب تک اخلاص نہ ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
آخر آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا حساب آپ ﷺ کے ذمہ نہیں، اور آپ ﷺ کا حساب ان کے ذمہ نہیں، ابن عطیہ اور زمخشری وغیرہ کی تحقیق کے مطابق اس میں حسابھم اور علیہم کی ضمیریں ان روساء مشرکین کی طرف راجع ہیں، جو غریب مسلمانوں کو مجلس سے ہٹا دینے کی فرمائش کیا کرتے تھے، تو حق تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بتلا دیا کہ یہ لوگ خواہ ایمان لائیں یا نہ لائیں آپ ﷺ بمقابلہ غرباء مسلمین کے ان کی پروا نہ کریں، کیونکہ ان کے حساب کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں۔ جیسا کہ آپ ﷺ کے حساب کی ذمہ داری ان پر نہیں، اگر یہ ذمہ داری آپ ﷺ پر ہوتی، یعنی ان کے مسلمان نہ ہونے پر آپ ﷺ سے مواخذہ ہوتا تو اس صورت میں آپ رؤ ساء مشرکین کی خاطر غرباء مسلمین کو مجلس سے ہٹا سکتے تھے، اور جب ایسا نہیں تو ان کو مجلس سے ہٹانا کھلی بےانصافی ہے۔ اگر آپ ﷺ ایسا کریں تو آپ ﷺ کا شمار بےانصاف لوگوں میں ہوجائے گا۔
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اسی طرح ایک کو دوسروں کے ذریعہ آزمائش میں ڈال رکھا ہے، تاکہ رؤ ساء قریش خدا تعالیٰ کی اس قدرت قاہرہ کا تماشا دیکھیں، کہ غریب مسلمان جن کو وہ حقیر و ذلیل سمجھتے تھے، اللہ کے رسول ﷺ کا اتباع کرنے سے کس مقام پر پہنچے اور دنیا و آخرت میں ان کو کیسی عزت حاصل ہوئی، اور وہ یہ کہتے پھریں کہ کیا یہی غریب لوگ اللہ کے انعام و اکرام کے مستحق تھے کہ ہم سب اشراف کو چھوڑ کر ان کو نوازا گیا
ہر دمش برمن دل سوختہ لطف دگراست
ایں گدابیں کہ چہ سائشتہ انعام افتاد
کشاف وغیرہ کی تحقیق کے مطابق ان کا یہ قول اس ابتلاء و امتحان کا نتیجہ ہے جو ان کا ضعفاء و مسلمین کے ذریعہ لیا گیا تھا وہ اس امتحان میں ناکام ہوئے، بجائے اس کے کہ قدرت کے اس مظاہرہ پر غور کرکے اس نتیجہ پر پہنچے کہ شرافت و رذالت، مال و دولت وغیرہ پر موقوف نہیں، بلکہ اس کا مدار اخلاق و اعمال پر ہے، وہ الٹا اللہ تعالیٰ پر یہ الزام لگانے لگے کہ مستحق اعزاز تو ہم تھے، ہمیں چھوڑ کر ان کو اعزاز کیوں دیا گیا ؟ حق تعالیٰ نے اس کے جواب میں پھر ان کو اصل حقیقت کی طرف اس جملہ سے متوجہ فرمایااَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ کون لوگ حق شناس اور شکر گزار ہیں، مطلب یہ ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے شریف و معزز وہ شخص ہے جو اپنے محسن کا حق پہچانے اور شکر گزار ہو، اور وہی مستحق انعام و اکرام ہے نہ کہ وہ جو رات دن اپنے منعم و محسن کی نعمتوں میں کھیلنے کے باوجود اس کی نافرمانی کرتا ہے۔
چند احکام و ہدایات
آیات مذکورہ سے چند احکام و ہدایت مستفاد ہوئیں
اول یہ کہ کسی کے پھٹے کپڑے یا ظاہری خستہ حالی دیکھ کر اس کو حقیر و ذلیل سمجھنے کا کسی کو حق نہیں، بسا اوقات ایسے لباس میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے نزدیک نہایت معزز و مقبول ہیں، ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہبہت سے شکستہ حال غبار آلود لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے مقبول ہیں، اگر کسی کام کے لئے قسم کھا بیٹھیں کہ ایسا ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو ضرور پورا فرماتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ شرافت و رذالت کا معیار محض دنیا کی دولت و ثروت کو سمجھنا انسانیت کی توہین ہے، اس کا اصل مدار اخلاق و اعمال صالحہ پر ہے۔
تیسرے یہ کہ کسی قوم کے مصلح اور مبلغ کے لئے اگرچہ تبلیغ عام بھی ضروری ہے جس میں موافق مخالفت، ماننے والے اور نہ ماننے والے سب مخاطب ہوں۔ لیکن ان لوگوں کو حق مقدم ہے جو اس کی تعلیمات کو اپنا کر اس پر چل رہے ہوں، دوسروں کی خاطر ان کو مؤ خر کرنا یا نظر انداز کرنا جائز نہیں، مثلاً غیر مسلموں کی تبلیغ کے لئے ناواقف مسلمانوں کی تعلیم و اصلاح کو مؤ خر نہیں کرنا چاہئے۔
چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات بقدر شکرگزاری بڑھتے ہیں جو شخص انعامات الٓہیہ کی زیادتی کا طالب ہے اس پر لازم ہے کہ قول و عمل سے شکر گزاری کو اپنا شعار بنالے۔
Ayahs 6:54–55تفسیر کے دو قول ہیں اکثر حضرات نے ان آیات کو آیات سابقہ اور واقعہ سابقہ ہی سے متعلق قرار دیا ہے۔ اور اس کی تائید میں یہ روایت پیش کی ہے کہ جب روساء قریش نے بواسطہ ابو طالب یہ مطالبہ کیا کہ آپ ﷺ کی مجلس میں غریب اور ادنیٰ درجہ کے لوگ رہتے ہیں، ان کی صف میں بیٹھ کر آپ ﷺ کا کلام ہم نہیں سن سکتے۔ اگر ہمارے آنے کے وقت ان لوگوں کو آپ ﷺ مجلس سے ہٹا دیا کریں تو ہم آپ کا کلام سنیں اور غور کریں۔
اس پر حضرت فاروق اعظم ؓ نے یہ مشورہ دیا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں، مسلمان تو اپنے مخلص دوست ہیں، ان سے کہہ دیا جائے گا تو کچھ دیر کے لئے وہ مجلس سے ہٹ جایا کریں گے ممکن ہے کہ اس طرح یہ روساء قریش اللہ کا کلام سنیں اور مسلمان ہوجائیں۔
لیکن آیات سابقہ میں اس مشورہ کے خلاف یہ حکم نازل ہوا کہ ایسا ہرگز نہ کیا جائے ایسا کرنا ظلم اور بےانصافی ہے، اس حکم کے نازل ہونے پر حضرت فاروق اعظم ؓ کو اپنی رائے اور مشورہ کی غلطی واضح ہوئی اور ڈرے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف رائے دے کر گنہگار ہوگیا، اس کی معذرت پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے۔
اس پر آیات متذکرہ ان کی تسلی کے لئے نازل ہوئیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو گزشتہ غلطی پر مواخذہ نہ ہونے سے مطمئن فرما دیں، بلکہ صرف یہی نہیں کہ اس غلطی پر کوئی مؤ اخذہ نہیں ہوگا بلکہ ارحم الراحمین کی بیشمار نعمتوں کا وعدہ بھی سنا دیں، اور بارگاہ الرحم الراحمین کا یہ قانون ان کو بتلا دیں کہ جب بھی کوئی مسلمان جہالت سے کوئی برا کام کر بیٹھے، اور پھر اپنی غلطی پر متنبہ ہو کر اس سے توبہ کرلے اور آئندہ کے لیے اپنے عمل درست کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف فرمادیں گے اور آئندہ اپنی دنیوی اور اخروی نعمتوں سے بھی اس کو محروم نہ فرماویں گے۔
اس تشریح کے مطابق یہ آیات اس خاص واقعہ میں نازل ہوئیں جس کا بیان پچھلی آیتوں میں ہوچکا ہے، اور بعض حضرات مفسرین نے ان آیات کے مضمون کو ایک مستقل ہدایت نامہ کی حیثیت سے بیان کیا ہے، جو ان لوگوں سے متعلق ہے، جن سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا، پھر ندامت ہوئی، اور توبہ کرکے اپنے عمل کو درست کرلیا۔
اور اگر غور کیا جائے تو ان دونوں اقوال میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ اس پر سب کا اتفاق ہے تو وہ صرف اسی واقعہ کے لئے مخصوص نہیں ہوتا، بلکہ ایک عام حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے اگر بالفرض آیات مذکورہ کا نزول اسی واقعہ مذکورہ میں ہوا ہو تب بھی یہ حکم ایک عام ضابطہ کی حیثیت رکھتا ہے جو ہر اس گنہگار کو شامل ہے جس کو گناہ کے بعد بھی اپنی غلطی پر تنبہ ہوا اور نادم ہو کر اس نے اپنے آئندہ عمل کو درست کرلیا۔
اب ان آیات کی پوری تشریح دیکھئے، پہلی آیت میں ارشاد ہےوَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤ ْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا یعنی جب وہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں، آیات سے مراد اس جگہ آیات قرآنی بھی ہوسکتی ہیں، اور اللہ جل شانہ، کی قدرت کاملہ کی عام نشانیاں بھی تو ایسے لوگوں کے متعلق رسول کریم ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی کہ آپ ﷺ ان کو سلام علیکم سے خطاب فرمائیں، یہاں سلام علیکم کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو اللہ جل شانہ کا سلام پہنچا دیجئے، جس میں ان لوگوں کا انتہائی اعزازو اکرام ہے۔ اس صورت میں ان غریب مسلمانوں کی دل شکنی کا بہترین تدارک ہوگیا، جن کے بارے میں رؤ ساء قریش نے مجلس سے ہٹا دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو سلامتی کی خوش خبری سنا دیجئے، کہ اگر ان لوگوں سے عمل میں کوتاہی یا غلطی بھی ہوئی ہے تو وہ معاف کردی جائے گی، اور یہ ہر قسم کی آفات سے سلامت رہیں گے۔
دوسرے جملہ میں كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ میں اس احسان پر اور مزید احسان و انعام کا وعدہ اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان مسلمانوں سے فرما دیں کہ تمہارے رب نے رحمت کرنے کو اپنے ذمہ لکھ لیا ہے، اس لئے بہت ڈریں اور گھبرائیں نہیں، اس جملہ میں اول تو رب استعمال فرما کر مضمون آیت کو مدلل کردیا، کہ اللہ تعالیٰ تمہارا پالنے والا ہے، اور ظاہر ہے کہ کوئی پالنے والا اپنے پالے ہوئے کو ضائع نہیں کیا کرتا، پھر لفظ رب نے جس رحمت کی طرف اشارہ کیا تھا اس کو صراحةً بھی ذکر فرما دیا، اور وہ بھی اس عنوان سے کہ تمہارے رب نے رحمت کرنے کو اپنے ذمہ لکھ لیا ہے، اور ظاہر ہے کہ کسی شریف بھلے انسان سے بھی وعدہ خلافی صادر نہیں ہوتی تو رب العالمین سے کیسے ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جب کہ اس وعدہ کو بصورت معاہدہ لکھ لیا گیا ہو۔
صحیح بخاری، مسلم، مسند احمد میں بروایت ابوہریرہ ؓ مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا اور ہر ایک کی تقدیر کا فیصلہ فرمایا تو ایک کتاب میں جو عرش پر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے یہ لکھا کہ ان رحمتی غلبت غضبی، ”یعنی میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے“۔
اور حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے تورات میں یہ لکھا دیکھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان زمین اور ان کی ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا، تو صفت رحمت کے سو حصے کرکے اس میں سے ایک حصہ ساری مخلوقات کو تقسیم کردیا، اور آدمی اور جانور اور دوسری مخلوقات میں جہاں بھی کوئی اثر رحمت کا پایا جاتا ہے وہ اسی حصہ تقسیم شدہ کا اثر ہے، ماں باپ اور اولاد میں، باہمی ہمدردی اور محبت و رحمت کے تعلقات مشاہدہ کئے جاتے ہیں، وہ سب اسی ایک حصہ رحمت کے نتائج ہیں، باقی ننانوے حصے رحمت کے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے رکھے ہیں، اور بعض روایات میں اس کو نبی کریم ﷺ کی حدیث کی حیثیت سے بھی روایت کیا گیا ہے اس سے انسان کچھ اندازہ لگا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنی مخلوق پر کیسی اور کس درجہ ہے۔
اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی انسان بلکہ فرشتہ بھی اللہ جل شانہ، کے شایان شان عبادت و اطاعت تو ادا کر نہیں سکتا، اور جو اطاعت خلاف شان ہو وہ دنیا کے لوگوں کی نظر میں بجائے سبب انعام ہونے کے باعث ناراضگی سمجھی جاتی ہے، یہ حال تو ہماری اطاعت و عبادت اور حسنات کا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ، کی بارگاہ عالی کی نسبت سے دیکھا جائے تو سیئات سے کم نہیں، پھر اس پر مزید یہ کہ حقیقی سیئات اور معاضی سے بھی کوئی بشر خالی نہیں۔ الا من عصمہ اللّٰہ ان حالات میں تقاضائے انصاف تو یہ تھا کہ کوئی بھی عذاب سے نہ بچتا، لیکن ہو یہ رہا ہے کہ ہر انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہر وقت برس رہی ہیں، یہ سب اسی رحمت کا نتیجہ ہے جو پروردگار عالم نے اپنے ذمہ لکھ لی ہے۔
توبہ سے ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے
اس کے بعد رحمت کاملہ کی تشریح ایک ضابطہ کی صورت میں اس طرح بیان فرمائی اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْۗءً یعنی جو آدمی جہالت سے کوئی برا کام کر بیٹھے اور اس کے بعد وہ توبہ کرلے اور اپنے عمل کو درست کرے تو اللہ تعالیٰ بہت مغفرت کرنے والے ہیں، اس کے گناہ کو معاف فرما دیں گے، اور بہت رحمت کرنے والے ہیں کہ صرف معافی پر کفایت نہ ہوگی، بلکہ انعامات سے بھی نوازا جائے گا۔
اس آیت میں لفظ جہالت سے بظاہر کسی کو یہ خیال ہوسکتا ہے کہ گناہ کی معافی کا وعدہ صرف اس صورت میں ہے کہ ناواقفیت اور جہل کے سبب کوئی گناہ سرزد ہوجائے جان بوجھ کر گناہ کرنے والا اس حکم میں داخل نہیں، لیکن حقیقت یہ نہیں، کیونکہ جہالت سے مراد اس جگہ عمل جہالت ہے یعنی ایسا کام کر بیٹھے جیسا نتیجہ سے جاہل وبے خبر کیا کرتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ وہ واقع میں جاہل ہو، اس کی تائیید خود لفظ جہالت سے بھی ہوتی ہے کہ یہاں لفظ جہل کے بجائے جہالت کا لفظ شاید اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہی استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ جہل تو علم کا مقابل ہے، اور جہالت حلم و وقار کے مقابل ہے۔ یعنی لفظ جہالت محاورات میں بولا ہی جاتا ہے عملی جہالت کے لئے، اور غور کیا جائے تو گناہ بھی کسی سے سرزد ہوتا ہے تو اس عملی جہالت ہی کی وجہ سے ہوتا ہے، اسی لئے بعض بزرگوں کا قول ہے کہ جو شخص اللہ و رسول ﷺ کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ جاہل ہے، مراد اس سے یہی عملی جہالت ہے ناواقف اور بےعلم ہونا ضروری نہیں، کیونکہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی بیشمار نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں کہ توبہ کرنے سے ہرگنا معاف ہوسکتا ہے۔ خواہ غفلت و جہل کی وجہ سے سرزد ہوا ہو، یا جان بوجھ کر شرارت نفس اور اتباع ہوی کی وجہ سے۔
اس جگہ یہ بات خاص طور پر قابل نظر ہے کہ اس آیت میں گناہگاروں سے مغفرت اور رحمت کا جو وعدہ فرمایا گیا ہے وہ دو چیزوں کے ساتھ مشروط ہے، ایک تو بہ دوسرے اصلاح عمل، توبہ کے معنی ہیں گناہ پر ندامت کے، حدیث میں ارشاد ہےان التوبة الندم، ”یعنی توبہ نام ہے ندامت کا“۔
دوسرے آئندہ کے لئے اصلاح عمل اس اصلاح عمل میں یہ بھی داخل ہے کہ آئندہ اس گناہ کے پاس نہ جانے کا عزم اور پورا اہتمام کرے، اور یہ بھی شامل ہے کہ سابقہ گناہ سے جو حقوق کسی کے ضائع ہوئے ہیں تاحد اختیار ان کو ادا کرے خواہ وہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد۔ حقوق اللہ کی مثال نماز، روزہ، زکوٰة حج وغیرہ فرائض میں کوتاہی کرنا ہے، اور حقوق العباد کی مثال کسی کے مال پر ناجائز قبضہ و تصرف کرنا۔ کسی کی آبرو پر حملہ کرنا، کسی کو گالی گلوچ کے ذریعہ یا کسی دوسری صورت سے ایذاء پہنچانا ہے۔
اس لئے تکمیل توبہ کے لئے جس طرح یہ ضروری ہے کہ گزشتہ گناہ پر ندامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے، اور آئندہ کے لئے اپنے عمل کو درست رکھے، اس گناہ کے پاس نہ جائے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جو نمازیں یا روزے غفلت سے ترک ہوگئے ہیں ان کی قضاء کرے، جو زکوٰة نہیں دی گئی وہ اب ادا کرے، قربانی، صدقة الفطر کے واجبات میں کوتاہی ہوئی ہے تو ان کو ادا کرے۔ حج فرض ہونے کے باوجود ادا نہیں کیا تو اب ادا کرے اور خود نہ کرسکے تو حج بدل کرائے، اور اگر اپنے سامنے حج بدل اور دوسری قضاؤں کا موقع پورا نہ ملے تو وصیت کرے، کہ اس کے وارث اس کے ذمہ عائد شدہ واجبات کا فدیہ حج بدل کا انتظام کرلیں، خلاصہ یہ ہے کہ اصلاح عمل کے لئے صرف آئندہ کا عمل درست کرلینا کافی نہیں، پچھلے فرائض و واجبات کو ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
اسی طرح حقوق العباد میں اگر کسی کا مال ناجائز طور پر لیا ہے تو اس کو واپس کرے یا اس سے معاف کرائے اور کسی کو ہاتھ یا زبان سے ایذاء پہنچائی ہے تو اس سے معاف کرائے، اور اگر اس سے معاف کرانا اختیار میں نہ ہو، مثلاً وہ مرجائے، یا ایسی جگہ چلا جائے جس کا اس کو پتہ معلوم نہیں، تو اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت کرتے رہنے کا التزام کرے، اس سے امید ہے کہ صاحب حق راضی ہوجائے گا اور یہ شخص سبکدوش ہوجائے گا۔
Ayahs 6:56–58خلاصہ تفسیر
آپ (ان معاندین سے) کہہ دیجئے کہ مجھ کو (حق تعالیٰ کی طرف سے) اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان (معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم لوگ اللہ (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو (اور ان کے طریقہ کی گمراہی ظاہر کرنے کے لئے) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے (باطل) خیالات کا اتباع نہ کروں گا، کیونکہ (اگر نعوذ باللہ میں ایسا کروں تو) اس حالت میں بےراہ ہوجاؤں گا اور راہ (راست) پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا، آپ (ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو (اس دین اسلام کے حق ہونے پر) ایک دلیل (کافی موجود) ہے جو میرے رب کی طرف سے (مجھ کو ملی ہے، یعنی قرآن مجید جو کہ میرا معجزہ ہے، جس سے میری تصدیق ہوتی ہے) اور تم (بلاوجہ) اس کی تکذیب کرتے ہو (اور تم جو یہ کہتے ہو کہ اگر دین اسلام حق ہے تو ہمارے انکار پر آسمان سے پتھر برسیں یا کوئی اور عذاب سخت آئے، جیسا کہ دوسری جگہ ان الفاظ سے مذکور ہے، (آیت) ان کان ھذا ھو الحق من عندک۔ الخ۔ ، تو اس کا جواب یہ ہے) جس چیز کا تم تقاضا کر رہے ہو (یعنی عذاب الیم) وہ میرے پاس (یعنی میری قدرت میں نہیں) حکم کسی کا نہیں (چلتا) بجز اللہ کے (اور اللہ کا حکم نزول عذاب کا ہوا نہیں تو میں کیسے عذاب دکھلا دوں) اللہ تعالیٰ حق بات کو (دلیل سے) بتلا دیتا ہے اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا وہی ہے (چنانچہ اس نے میری رسالت کی واضح اور قوی دلیل قرآن کریم بھیج دیا، اور دوسرے واضح معجزات ظاہر فرما دئیے، اور دلیل صحیح ایک بھی کافی ہوتی ہے تو تمہاری فرمائشی دلیلیں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں، اس لئے اس وقت نزول عذاب کے ذریعہ فیصلہ نہیں فرمایا) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اگر میرے پاس (یعنی میری قدرت میں) وہ چیز ہوتی جس کا تم تقاضا کر رہے ہو (یعنی عذاب) تو (اب تک) میرا اور تمہارا باہمی قضیہ (کبھی کا) فیصل ہوچکا ہوتا اور ظالموں کا اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (کہ کس کے ساتھ کیا معاملہ کس وقت کیا جائے)
ربط آیات
آیات مذکورہ میں کفار کی طرف سے نزول عذاب کی عاجلانہ فرمائش اور اس کا جواب خیر الفاصلین میں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ تامہ کا ذکر اعلم بالظالمین میں مذکور تھا۔ آگے تمام معلومات و مقدرات پر اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کا احاطہ بیان کیا جاتا ہے۔