6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس کنجیاں ہیں غیب کی کہ ان کو کوئی نہیں جانتا اس کے سوا اور وہ جانتا ہے جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے اور نہیں جھڑتا کوئی پتا مگر وہ جانتا ہے اس کو اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے

خلاصہ تفسیر اور اللہ تعالیٰ کے پاس (یعنی اسی کی قدرت میں) ہیں خزانے تمام مخفی اشیاء (ممکنہ) کے (ان میں سے جس چیز کو جس وقت اور جس قدر چاہیں ظہور میں لاتے ہیں، ان اشیاء میں عذاب کی قسمیں بھی آگئیں، مطلب یہ کہ اور کسی کو ان چیزوں پر قدرت نہیں اور جس طرح قدرت کاملہ ان کی ساتھ خاص ہے، اسی طرح ان کا علم تام اور کامل بھی چنانچہ) ان خزائنِ مخفیہ کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے، اور وہ ان تمام چیزوں کو بھی جانتا ہے جو خشکی میں ہیں اور جو دریا میں ہیں اور کوئی پتہ (تک درخت سے) نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ (تک) زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز (مثل پھل وغیرہ کے) گرتی ہے، مگر یہ سب کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (مرقوم) ہیں، اور وہ (اللہ تعالیٰ) ایسا ہے کہ (اکثر) رات میں (سونے کے وقت) تمہاری روح (نفسانی) کو (جس سے احساس و ادراک متعلق ہے) ایک گونہ قبض کرلیتا ہے (یعنی معطل کردیتا ہے) اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو (دواماً) جانتا ہے پھر تم کو دن میں جگا اٹھاتا ہے تاکہ (اسی سونے جاگنے کے دوران سے) میعاد معین (دینوی زندگی کی) تمام کردی جاوے پھر اسی (اللہ) کی طرف (مڑکر) تم کو جانا ہے۔ پھر تم کو بتلا دے گا جو کچھ تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے، (اور اس کے مناسب جزاء و سزاء جاری کرے گا) اور وہی (اللہ تعالیٰ قدرت سے) اپنے بندوں کے اوپر غالب ہیں برتر ہیں اور (اے بندو) تم پر (تمہارے اعمال اور جان کی) نگرانی کرنے والے (فرشتے) بھیجے ہیں (جو زندگی بھر تمہارے اعمال کو بھی دیکھتے ہیں اور تمہاری جان کی بھی حفاظت کرتے ہیں) یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچتی ہے تو (اس وقت) اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) قبض کرلیتے ہیں اور ذرا کوتاہی نہیں کرتے (بلکہ جس وقت حفاظت کا حکم تھا حفاظت کرتے رہے، جب موت کا حکم ہوگیا تو یہی محافظ روح قبض کرنے والے فرشتوں کے ساتھ مل جاتے ہیں) پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس لائے جاویں گے، خوب سن لو (اس وقت) فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا (اور کوئی دخل نہ دے سکے گا) اور وہ بہت جلد حساب لے لے گا۔ معارف و مسائل گناہوں سے بچنے کا نسخہ اکسیر تمام دنیا کے مذاہب میں اسلام کا طغرائے امتیاز اور اس کا رکن اعظم عقیدہ توحید ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ایک اور اکیلا جاننے کا نام توحید نہیں، بلکہ اس کو تمام صفات کمال میں یکتا و بےمثل ماننے اور اس کے سوا کسی مخلوق کو ان صفات کمال میں اس کا سہیم و شریک نہ سمجھنے کو توحید کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال ؛ حیات، علم، قدرت، سمع، بصر، ارادہ، مشیت، خلق، رزق وغیرہ وہ ان سب صفات میں ایسا کامل ہے کہ اس کے سوا کوئی مخلوق کسی صفات میں اس کے برابر نہیں ہوسکتی۔ پھر ان صفات میں بھی دو صفتیں سب سے زیادہ ممتاز ہیں۔ ایک علم، دوسرے قدرت، اس کا علم بھی تمام موجود وغیر موجود، ظاہر اور مخفی، بڑے اور چھوٹے ہر ذرہ ذرہ پر حاوی اور محیط ہے، اور اس کی قدرت بھی ان سب پر پوری پوری محیط ہے، مذکورہ دو آیتوں میں انہی دو صفتوں پر مکمل یقین اور اس کے استحضار کی کیفیت پیدا کرے تو اس سے کوئی جرم و گناہ سرزد ہو ہی نہیں سکتا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایک انسان کو اپنے پر قول و عمل اور نشست و برخاست میں ہر قدم پر یہ مستحضر رہے کہ ایک علیم وخبیر قادر مطلق مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے، اور میرے ظاہر و باطن اور دل کے ارادہ اور خیال تک سے واقف ہے تو یہ استحضار کبھی اس کا قدم اس قادر مطلق کی نافرمانی کی طرف نہ اٹھنے دے گا، اس لئے یہ دونوں آیتیں انسان کو انسان کامل بنانے اور اس کے اعمال و اخلاق کو درست کرنے اور درست رکھنے میں نسخہ اکسیر ہیں۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایاوَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ لفظ مفاتح جمع ہے، اس کا مفرد مفتح بفتح میم بھی ہوسکتا ہے، جو خزانہ کے لئے بولا جاتا ہے، اور مفتح بکسر میم بھی ہوسکتا ہے۔ جس کے معنی ہیں کنجی، لفظ مفاتح میں دونوں معنی کی گنجائش ہے، اس لئے بعض مفسرین اور مترجمین نے اس کا ترجمہ خزانوں سے کیا ہے، اور بعض نے کنجیوں سے اور حاصل دونوں کا ایک ہی ہے، کیونکہ کنجیوں کا مالک ہونے سے بھی خزانوں کا مالک ہونا مراد ہوتا ہے۔ قرآنی اصطلاح میں علم غیب اور قدرت عامہ مطلقہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت خاص ہے کوئی مخلوق اس میں شریک نہیں اور لفظ غیب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ابھی وجود میں نہیں آئیں، یا وجود میں تو آچکی ہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر کسی کو مطلع نہیں ہونے دیا (مظہری)۔ پہلی قسم کی مثال وہ تمام حالات و واقعات ہیں جو قیامت سے متعلق ہیں یا کائنات میں آئندہ پیش آنے والے واقعات سے تعلق رکھتے ہیں، مثلاً یہ کہ کون، کب، اور کہاں پیدا ہوگا، کیا کیا کام کرے گا۔ کتنی عمر ہوگی، عمر میں کتنے سانس لے گا، کتنے قدم اٹھائے گا، کہاں مرے گا، کہاں دفن ہوگا، رزق کس کو کتنا اور کس وقت ملے گا، بارش کس وقت کہاں اور کتنی ہوگی۔ اور دوسری قسم کی مثال وہ حمل جو عورت کے رحم میں وجود تو اختیار کرچکا ہے مگر یہ کسی کو معلوم نہیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ خوب صورت ہے یا بدصورت، نیک طبیعت ہے یا بدخصلت، اسی طرح اور ایسی چیزیں جو وجود میں آجانے کے باوجود مخلوق کے علم و نظر سے غائب ہیں۔ وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ کے پاس ہیں خزانے غیب کے۔ اس کے پاس ہونے سے مراد اس کی ملک اور قبضہ میں ہونا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ غیب کے خزانوں کا علم بھی اس کے قبضہ میں ہے، اور ان کو وجود و ظہور میں لانا بھی اسی کی قدرت میں ہے کہ کب کب اور کتنا کتنا وجود میں آئے گا۔ جیسا کہ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں مذکور ہے(آیت) وان من شیء الا عندنا، یعنی ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں مگر ہم ہر چیز کو ایک خاص انداز سے نازل کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس جملہ سے حق تعالیٰ کا بےمثال کمال علمی بھی ثابت ہوگیا اور کمال قدرت بھی، اور یہ بھی کہ یہ علم محیط اور قدرت مطلقہ صرف اللہ جل شانہ کی صفت ہے اور کسی کو حاصل نہیں ہوسکتی، آیت میں لفظ عندہ کو مقدم کرکے قواعد عربیت کے مطابق اس حصر اور اختصاص کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے، آگے اس اشارہ کو صراحت میں تبدیل کر کے پوری طرح دلنشین کرنے کے لئے ارشاد فرمایالَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ ، یعنی ان خزائنِ غیب کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لئے اس جملہ سے دو باتیں ثابت ہوئی، اول حق تعالیٰ کا تمام غیب کی چیزوں پر علم محیط کے ساتھ مطلع اور ان سب پر قدرت کامل کے ساتھ قادر ہونا، دوسرے ذات حق جل شانہ کے سوا کسی مخلوق یا کسی چیز کو ایسا علم وقدرت حاصل نہ ہونا۔ قرآن کی اصطلاح میں لفظ غیب کے جو معنی (بحوالہ تفسیر مظہری) اوپر بیان کئے گئے ہیں، کہ وہ چیزیں جو ابھی وجود میں نہیں آئیں یا آچکی ہیں مگر ابھی تک کسی مخلوق پر ان کا ظہور نہیں ہوا۔ اگر ان کو پیش نظر رکھا جائے تو مسئلہ غیب پر سطحی نظر میں جو جو شبہات عوام کو پیش آیا کرتے ہیں خود بخود ختم ہوجائیں۔ لیکن عام طور پر لوگ لفظ غیب کے لغوی معنی لیتے ہیں کہ جو چیز ہمارے علم و نظر سے غائب ہو، خواہ دوسروں کے نزدیک اس کا علم حاصل کرنے کے ذرائع موجود ہوں اس کو بھی غیب کہنے لگتے ہیں، اس کے نتیجہ میں طرح طرح کے شبہات سامنے آتے ہیں، مثلاً علم، نجوم، جفر، رمل، یا ہتھیلی کی لکیروں وغیرہ سے جو آئندہ واقعات کا علم حاصل کیا جاتا ہے یا کشف والہام کے ذریعہ کسی شخص کو واقعات آئندہ کا علم ہوجاتا ہے، یا مان سون کا رخ اور اس کی قوت و رفتار کو دیکھ کر موسمیات کے ماہرین ہونے والے بادو باراں کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے ہیں، اور ان میں بہت سی باتیں صحیح بھی ہوجاتی ہیں، یہ سب چیزیں عوام کی نظر میں علم غیب ہوتی ہیں، اس لئے آیت مذکورہ پر یہ شبہات ہونے لگتے ہیں کہ قرآن حکیم نے تو علم غیب کو ذات حق جل شانہ کی خصوصیت بتلایا ہے، اور مشاہدہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ جواب واضح ہے کہ کشف والہام یا وحی کے ذریعہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بندہ کو کسی آئندہ واقعہ کی اطلاع دے دیتو قرآنی اصطلاح میں وہ علم غیب نہ رہا۔ اسی طرح اسباب و آلات کے ذریعہ جو علم حاصل کیا جاسکے وہ بھی اصطلاح قرآنی کے لحاظ سے علم غیب نہیں۔ جیسے محکمہ موسمیات کی خبریں، یا نبض دیکھ کر مریض کے مخفی حالات بتلا دینا۔ وجہ یہ ہے کہ محکمہ موسمیات کو یا کسی حکیم ڈاکٹر کو ایسی خبریں دینے کا موقع جب ہی ہاتھ آیا جب ان واقعات کا مادہ پیدا ہو کر ظاہر ہوجاتا ہے، فرق اتنا ہے کہ ابھی اس کا ظہور عام نہیں ہوتا آلات کے ذریعہ اہل فن کو ظاہر ہوتا ہے، عوام بیخبر رہتے ہیں اور جب یہ مادہ قوی ہوجاتا ہے تو اس کا ظہور عام ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ موسمیات مہینہ دو مہینہ بعد ہونے والی بارش کی خبر آج نہیں دے سکتا۔ کیونکہ ابھی اس بارش کا مادہ سامنے نہیں آیا، اسی طرح کوئی حکیم ڈاکٹر سال دو سال پہلے کی کھائی ہوئی یا دو سال بعد کھائی جانے والی دوا یا غذا وغیرہ کا پتہ آج نبض دیکھ کر نہیں دے سکتا، کیونکہ اس کا کوئی اثر عادةً نبض میں نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ سب چیزیں وہ ہیں کہ کسی چیز کے آثار و نشانات دیکھ کر اس کے وجود کی خبر دے دیجاتی ہے۔ اور جب اس کے آثار و نشانات اور مادہ ظاہر ہوچکا تو اب وہ غیب میں شامل نہ رہا بلکہ مشاہدہ میں آگیا۔ البتہ لطیف یا ضعیف ہونے کی وجہ سے عام مشاہدہ میں ابھی نہیں آیا، جب قوت پکڑے گا تو عام مشاہدہ میں بھی آجائے گا۔ اس کے علاوہ ان سب چیزوں سے حاصل ہونے والی واقفیت سب کچھ ہونے کے بعد بھی تخمینہ و اندازہ ہی کی حیثیت رکھتی ہی، علم جو یقین کا نام ہے وہ ان میں سے کسی چیز سے کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان خبروں کے غلط ہونے کے بیشمار واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ رہا علم نجوم وغیرہ سو اس میں جو چیزیں حسابات سے متعلق ہیں ان کا علم تو علم ہے۔ مگر وہ غیب نہیں۔ جیسے حساب لگا کر کوئی یہ کہے کہ آج 5 بج کر اکتالیس منٹ پر آفتاب طلوع ہوگا یا فلاں مہینہ فلاں تاریخ کو چاند گرہن ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک محسوس چیز کی رفتار کا حساب لگا کر وقت کا تعین کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہم ہوائی جہازوں اور ریلوں کے کسی پورٹ یا اسٹیشن پر پہنچنے کی خبر دیدتے ہیں۔ اس کے علاوہ نجوم وغیرہ سے جو خبریں معلوم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ دھوکہ کے سوا کچھ نہیں سو جھوٹ میں ایک سچ نکل آنا کوئی علم نہیں۔ حمل میں لڑکا ہے یا لڑکی، اس کے بارے میں بھی بہت سے اہل فن کچھ کہا کرتے ہیں، مگر تجربہ شاہد ہے کہ اس کا درجہ بھی وہی تخمینہ و اندازے کا ہے یقینی نہیں اور سو میں دو چار کا صحیح ہوجانا ایک طبعی امر ہے، وہ کسی علم و آگہی سے تعلق نہیں رکھتا۔ ہاں جب ایکسرے کے آلات ایجاد ہوئے تو بعض لوگوں کا خیال تھا کہ شاید اس کے ذریعہ حمل کا نر یا مادہ ہونا معلوم ہوجایا کرے گا۔ مگر تجربہ نے ثابت کردیا کہ ایکسرے کے آلات بھی یہ متعین نہیں کرسکتے کہ حمل میں لڑکا ہے یا لڑکی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز قرآنی اصطلاح میں غیب ہے اس کا سوائے خدائے قدوس کے کسی کو علم نہیں، اور جن چیزوں کا علم لوگوں کو بعض اسباب و آلات کے ذریعہ عادةً حاصل ہوجاتا ہے وہ در حقیقت غیب نہیں، گو ظہور عام نہ ہونے کی وجہ سے اس کو غیب کہتے ہوں۔ اسی طرح کسی رسول و نبی کو بذریعہ وحی یا کسی ولی کو بذریعہ کشف والہام جو غیب کی کچھ چیزوں کا علم دے دیا گیا تو وہ غیب کی حدود سے نکل گیا، اس کو قرآن میں غیب کی بجائے انباء الغیب کہا گیا ہے۔ جیسا کہ متعدد آیات میں مذکور ہے(آیت) تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک، اس لئے آیت مذکورہ میں لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ ، یعنی غیب کے خزانوں کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، اس میں کسی شبہ یا استثناء کی گنجائش نہیں۔ اس جملہ میں تو حق جل شانہ کی یہ خصوصی صفت بتلائی ہے کہ وہ عالم الغیب ہے، ہر غیب کو جانتا ہے، بعد کے جملوں میں غیب کے بالمقابل علم شہادت یعنی حاضر و موجود چیزوں کے علم کا بیان ہے کہ ان کا علم میں بھی اللہ جل شانہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کا علم محیط ہے کوئی ذرہ اس سے باہر نہیں، ارشاد فرمایا کہ وہی جانتا ہے ہر اس چیز کو جو خشکی میں ہے اور اس چیز کو جو دریا میں ہے اور کوئی پتہ کسی درخت کا نہیں گرتا جس کا علم اس کو نہ ہو، اسی طرح کوئی دانہ جو زمین کے تاریک حصہ میں مستور ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے، اور ہر تر و خشک میں کل کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ علم کے متعلق دو چیزیں حق تعالیٰ کی خصوصیات میں سے ہیں، جن میں کوئی فرشتہ یا رسول یا کوئی دوسری مخلوق شریک نہیں، ایک علم غیب، دوسرے موجودات کا علم محیط جس سے کوئی ذرہ مخفی نہیں، پہلی آیت میں انہی دونوں مخصوص صفات کا بیان اس طرح ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کے پہلے جملہ میں پہلی خصوصیت کا بیان ہے، وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ اور بعد کے جملوں میں تمام کائنات و موجودات کے علم محیط کا ذکر اس طرح فرمایا کہ پہلے ارشاد ہوا وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہر اس چیز کو جو خشکی میں ہے اور جو دریا میں ہے۔ مراد اس سے کل کائنات و موجودات ہے، جیسے صبح و شام کا لفظ بول کر پورا زمانہ اور مشرق و مغرب کا لفظ بول کر پوری زمین مراد لی جاتی ہے، اسی طرح بر و بحر یعنی خشکی و دریا بول کر مراد اس سے پورے عالم کی کائنات و موجودات ہیں اس سے معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ کا علم تمام کائنات پر محیط ہے۔ آگے اس کی مزید تشریح و تفصیل اس طرح بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا تمام کائنات پر احاطہ علمی صرف یہی نہیں کہ بڑی بڑی چیزوں کا اس کو علم ہو، بلکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی مخفی سے مخفی چیز بھی اس کے علم میں ہے، فرمایا وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا یعنی سارے جہان میں کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جو اس کے علم میں نہ ہو، مراد یہ ہے کہ ہر درخت کا ہر پتہ گرنے سے پہلے اور گرنے کے وقت اور گرنے کے بعد اس کے علم میں ہے، وہ جانتا ہے کہ ہر پتہ درخت پر لگا ہوا کتنی مرتبہ الٹ پلٹ ہوگا، اور کب اور کہاں گرے گا، اور پھر وہ کس کس حال سے گزرے گا۔ گرنے کا ذکر شاید اسی لئے کیا گیا ہے کہ اس کے تمام حالات کی طرف اشارہ ہوجائے، کیونکہ پتے کا درخت سے گرنا اس کے نشوونما اور نباتی زندگی کا آخری حال ہے۔ آخری حال کا ذکر کرکے تمام حالات کی طرف اشارہ کردیا گیا۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ ، یعنی ہر وہ دانہ جو زمین کی گہرائی اور اندھیری میں کہیں پڑا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے، پہلے درخت کے پتہ کا ذکر کیا جو عام نظروں کے سامنے گرتا ہے، اس کے بعد دانہ کا ذکر کیا، جو کاشتکار زمین میں ڈالتا ہے، یا خودبخود کہیں زمین کی گہرائی اور اندھیری میں مستور ہوجاتا ہے، اس کے بعد پھر تمام کائنات پر علم باری تعالیٰ کا حادی ہونا تر اور خشک کے عنوان سے ذکر فرمایا، اور فرمایا کہ یہ سب چیزیں اللہ کے نزدیک کتاب مبین میں لکھی ہوئی ہیں، کتاب مبین سے مراد بعض حضرات مفسرین کے نزدیک لوح محفوظ ہے، اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد علم الٓہی ہے، اور اس کو کتاب مبین سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ جیسے لکھی ہوئی چیز محفوظ ہوجاتی ہے، اس میں سہو و نسیان کی راہ نہیں رہتی اسی طرح اللہ جل شانہ کا یہ علم محیط تمام کائنات کے ذرہ ذرہ کا صرف تخمینی نہیں بلکہ یقینی ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات اس پر شاید ہیں کہ اس طرح کا علم محیط جس سے کائنات کا کوئی ذرہ اور اس کا کوئی حال خارج نہ ہو یہ صرف ذات حق جل شانہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ سورة لقمان میں ہے (آیت) انھا ان تک مثقال حبة من۔ یعنی اگر کوئی دانہ رائی کے برابر پھر وہ پتھر کے جگر میں پیوست ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں کہیں ہو اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرلیں گے، بیشک اللہ تعالیٰ لطیف اور ہر چیز سے خبردار ہے“۔ آیة الکرسی میں ہے (آیت) یعلم ما بین ایدھم وما خلفھم۔ ”یعنی اللہ تعالیٰ سب انسانوں کے اگلے اور پچھلے سب حالات سے واقف ہیں اور سارے انسان مل کر اس کے علم میں سے کسی ایک چیز کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے، بجز اتنے علم کے اللہ تعالیٰ کسی کو دینا چاہیں“۔ سورة یونس میں ہے (آیت) وما یعزب عن ربک من مثقال ”یعنی ایک ذرّہ کے برابر بھی کوئی چیز زمین و آسمان میں آپ کے رب کے علم سے جدا نہیں ہے“۔ اور سورة طلاق میں ہے (آیت) وان اللّٰہ قد احاط بکل شیء علما ”یعنی اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے“۔ اسی طرح بیشمار آیات میں یہ مضمون مختلف عنوانات سے آیا ہوا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات میں بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ بیان فرما دیا گیا ہے کہ غیب کا علم (جس کو قرآن میں غیب کہا گیا ہے اور اس کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے) یا تمام کائنات کا علم محیط صرف اللہ جل شانہ کی مخصوص صفت ہے، کسی فرشتہ یا رسول کے علم کو اسی طرح ہر ذرّہ کائنات پر محیط سمجھنا وہ عیسائیوں کی طرح رسول کو خدا کا درجہ دیدینا ہے اور خدا تعالیٰ کے برابر قرار دیدینا ہے جو بتصریح قرآن کریم شرک ہے، سورة شعراء میں شرک کی یہی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے (آیت) تاللّٰہ ان کنا لفی ضلل مبین ”یعنی قیامت کے روز مشرکین کہیں گے کہ بخدا ہم سخت گمراہی میں تھے کہ تم کو یعنی بتوں کو رب العالمین کے برابر کرتے تھے“۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو اور بالخصوص حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو غیب کی ہزاروں لاکھوں چیزوں کا علم عطا فرمایا ہے اور سب فرشتوں اور انبیاء سے زیادہ عطا فرمایا ہے، لیکن یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی برابر کسی کا علم نہیں، نہ ہوسکتا ہے، ورنہ پھر یہ رسول کی تعظیم کا وہ غلو ہوگا جو عیسائیوں نے اختیار کیا، کہ رسول کو خدا کے برابر ٹھہرا دیا، اسی کا نام شرک ہے، نعوذ باللہ منہ۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی ہے کہ قبضہ میں لے لیتا ہے تم کو رات میں اور جانتا ہے جو کچھ کہ تم کرچکے ہو دن میں پھر تم کو اٹھا دیتا ہے اس میں تاکہ پورا ہو وہ وعدہ جو مقرر ہوچکا ہے پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے پھر خبر دے گا تم کو اس کی جو کچھ تم کرتے ہو

یہاں تک پہلی آیت کا بیان تھا، جس میں اللہ جل شانہ کی صفت علم کی خصوصیات کا بیان ہے کہ وہ ہر غیب و شہادت اور ہر ذرہ ذرہ کائنات پر حاوی ہے، دوسری آیت میں اسی طرح حق تعالیٰ کی صفت قدرت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا بیان ہے جو اسی کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے، ارشاد ہے وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ”یعنی اللہ تعالیٰ ہر رات میں تمہاری روح کو ایک گونہ قبض کرلیتا ہے، اور پھر صبح کو جگا دیتا ہے تاکہ تمہاری مقررہ عمر پوری کر دے، اور پھر دن میں بھی تم جو کچھ کرتے رہتے ہو وہ سب اس کے علم میں ہے، یہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ ہے کہ انسان کے جینے، مرنے اور مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا ایک نمونہ ہر روز اس کے سامنے آتا رہتا ہے، حدیث میں نیند کو موت کا بھائی فرمایا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ نیند انسان کے تمام قوی کو ایسا ہی معطل کردیتی ہے جیسے موت۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے نیند اور پھر اس کے بعد بیداری کی مثال پیش فرما کر انسان کو اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ جس طرح ہر رات اور ہر صبح میں ہر شخص شخصی طور پر مر کر جینے کی ایک مثال کا مشاہدہ کرتا ہے، اسی طرح پورے عالم کی اجتماعی موت اور پھر اجتماعی زندگی کو سمجھ لو، جس کو قیامت کہا جاتا ہے، جو ذات اس پر قادر ہے اس کی قدرت کاملہ سے وہ بھی مستبعد نہیں، اسی لئے آخر آیت میں فرمایا، ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ، یعنی پھر تم کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تم کو جتلائے گا جو تم عمل کیا کرتے تھے“۔ مراد یہ ہے کہ اعمال کا حساب ہوگا، پھر اس پر جزاء و سزاء ہوگی۔
Ayahs 6:61–62

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور بھیجتا ہے تم پر نگہبان یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضہ میں لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اور وہ کوتاہی نہیں کرتے

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر پہنچائے جائیں گے اللہ کی طرف جو مالک ان کا ہے سچا سن رکھو حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے

تیسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تفصیل اس طرح بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر ایک قوت قاہرہ رکھتا ہے، جب تک اس کو ان کا زندہ رکھنا منظور ہوتا ہے تو حفاظت کرنے والے فرشتے ان کی حفاظت کے لئے بھیج دیتا ہے، کسی کی مجال نہیں جو اس کو نقصان پہنچائے اور جب کسی بندہ کا مقررہ وقت عمر کا پورا ہوجاتا ہے تو یہی حفاظت کرنے والے فرشتے اس کی موت کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور اب اس کی موت کے اسباب فراہم کرنے میں ذرا کمی نہیں کرتے، اور پھر مر کر ہی معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ بلکہ ردوا الی اللّٰہ، یعنی دوبارہ زندہ ہو کر پھر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر کئے جائیں گے، اس جگہ احکم الحاکمین کے سامنے پیشی اور عمر بھر کے حساب کا جب خیال کیا جائے تو کسی کی مجال ہے جو پورا اتر سکے، اور عذاب سے بچ نکلے، اس لئے اس کے ساتھ ہی ارشاد فرمایا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ یعنی اللہ تعالیٰ صرف حاکم اور احکم الحاکمین ہی نہیں وہ اپنے بندوں کے مولیٰ بھی ہیں جو ہر موقع پر ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا اَلَا لَهُ الْحُكْمُ ، بیشک فیصلہ اور حکم صرف اسی کا ہے، یہاں یہ خیال ہوسکتا تھا کہ ایک ذات اور اربوں انسانوں کی پوری پوری عمروں کا حساب نمٹے گا کسی طرح ؟ اس لئے اس کے بعد فرمایا وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ یعنی اللہ تعالیٰ کے کاموں کو اپنے کاموں پر قیاس کرنا جہالت ہے، وہ بہت جلد سب حساب پورا فرما لیں گے۔
Ayahs 6:63–64

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

تو کہہ کون تم کو بچا لاتا ہے جنگل کے اندھیروں سے اور دریا کے اندھیروں سے اس وقت میں کہ پکارتے ہو تم اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے سے کہ اگر ہم کو بچا لے اس بلا سے تو البتہ ہم ضرور احسان مانیں گے

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

تو کہہ دے اللہ تم کو بچاتا ہے اس سے اور ہر سختی سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ (ان لوگوں سے) کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ظلمات (یعنی شدائد) سے اس حالت میں نجات دے دیتا ہے کہ تم اس کو (نجات دینے کے لئے) پکارتے ہو (کبھی) تذلل ظاہر کرکے اور (کبھی) چپکے چپکے (اور یوں کہتے ہو) کہ (اے اللہ) اگر آپ ہم کو ان (ظلمات) سے (اب کے) نجات دیدیں تو (پھر) ہم ضرور حق شناسی (پر قائم رہنے) والوں میں سے ہوجاویں (یعنی آپ کی توحید کے کہ بڑی حق شناسی ہے قائل رہیں، اور اس سوال کا جواب چونکہ متعین ہے اور وہ لوگ بھی کوئی دوسرا جواب نہ دیں گے اس لئے) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے (جب کبھی نجات ملتی ہے) اور (ان ظلمات مذکورہ کی کیا تخصیص ہے بلکہ) ہر غم سے (وہی نجات دیتا ہے مگر) تم (ایسے ہو کہ) پھر بھی (بعد نجات پانے کے بدستور) شرک کرنے لگتے ہو (جو کہ اعلیٰ درجہ کی ناحق شناسی ہے، اور وعدہ کیا تھا حق شناسی کا، غرض یہ کہ شدائد میں تمہارے اقرار سے توحید کا حق ہونا ثابت ہوجاتا ہے، پھر انکار کب قابل التفات ہے)۔ معارف و مسائل علم الٓہی اور قدرت مطلقہ کے کچھ مظاہر پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کے علم وقدرت کا کمال اور ان کی بےمثال وسعت بیان کی گئی تھی، مذکورہ آیات میں اسی علم وقدرت کے کچھ آثار اور مظاہر کا بیان ہے۔ پہلی آیت میں لفظ ظلمات، ظلمة کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں اندھیری، ظلمات البر والبحر کے معنی خشکی اور دریا کی اندھیریاں ہے۔ چونکہ اندھیری کی مختلف قسمیں ہیں رات کی اندھیری، گھٹا بادل کی اندھیری، گردوغبار کی اندھیری، ان تمام قسموں کو شامل کرنے کے لئے لفظ ظلمات جمع استعمال فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ انسان کے سونے اور آرام کرنے کے لئے اندھیرا بھی ایک نعمت ہے، لیکن عام حالات میں انسان کا کام روشنی ہی سے چلتا ہے، اور اندھیری سب کاموں سے معطل کرنے کے علاوہ بہت سے مصائب اور آفات کا سبب بن جاتی ہے، اس لئے عرب کے محاورہ مفسرین کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اللہ جل شانہ نے مشرکین مکہ کو تنبیہ اور ان کی غلط کاری پر آگاہ کرنے کے لئے رسول کریم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں سے یہ سوال کریں کہ برّی اور بحری سفروں میں جب بھی وہ کسی مصیبت میں گھر جاتے ہیں، اور اس وقت تمام بتوں کو بھول کر صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں، کبھی علانیہ طور پر اپنی ذلت و عاجزی کا اعتراف کرتے ہیں، اور کبھی دل دل میں اس کا اقرار کرتے ہیں کہ اس مصیبت سے تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں بچا سکتا، اور اس خیال کے ساتھ یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دیتو ہم شکر و حق شناسی کو اپنا شیوہ بنالیں گے، یعنی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں گے، اسی کو اپنا کارساز سمجھیں گے، اس کے سوا کسی کو اس کا شریک نہ سمجھیں گے کیونکہ جب ہماری مصیبت میں کوئی کام نہ آیا تو ہم ان کی پوجا پاٹ کیوں کریں، تو اب آپ ان سے پوچھئے کہ ان حالات میں کون ان کو مصائب اور ہلاکت سے نجات دیتا ہے ؟ چونکہ ان کا جواب متعین اور معلوم تھا کہ وہ اس ہدایت کا انکار نہیں کرسکتے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بت یا دیوتا اس حالت میں ان کے کام نہیں آیا، اس لئے دوسری آیت میں حق تعالیٰ نے خود ہی رسول کریم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ ﷺ ہی کہہ دیجئے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی تمہیں اس مصیبت سے نجات دیں گے، بلکہ تمہاری ہر تکلیف و پریشانی اور بےچینی کو وہی دور فرمائیں گے، مگر ان سب کھلی ہوئی نشانیوں کے باوجود پھر جب تم کو نجات اور آرام مل جاتا ہے تو تم پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہو، اور بتوں کی پوجا پاٹ میں لگ جاتے ہو، یہ کیسی غداری اور مہلک قسم کی جہالت ہے۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان بھی ہے کہ ہر انسان کو ہر مصیبت اور تکلیف سے نجات دینے پر اس کو پوری قدرت ہے، اور یہ بھی کہ ہر قسم کی مصیبتوں اور تکلیفوں اور پریشانیوں کو دور کرنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، اور یہ بھی کہ یہ ایک ایسی کھلی ہوئی حقیقت اور ہدایت ہے کہ ساری عمر بتوں اور دیوتاؤں کو پوجنے اور پکارنے والے بھی جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اس وقت وہ بھی صرف خدا تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ عبرت مشرکین کا یہ طرز عمل ان کی غداری کے اعتبار سے کتنا ہی بڑا جرم ہو، مگر مصیبت پڑنے کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور حقیقت کا اعتراف ہم مسلمانوں کے لئے ایک تازیانہ عبرت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کے باوجود مصیبتوں کے وقت بھی خدا تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے، بلکہ ہمارا سارا دھیان مادّی سامانوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے، ہم اگرچہ مورتوں اور تصویری بتوں کو اپنا کارساز نہیں سمجھتے، مگر یہ مادّی سامان اور اسباب و آلات بھی ہمارے لئے بتوں سے کم نہیں، جن کی فکروں میں ہم ایسے گم ہیں کہ خدا تعالیٰ اور اس کی قدرت کاملہ کی طرف کبھی دھیان نہیں ہوتا۔ حوادث و مصائب کا اصلی علاج ہم ہر بیماری میں صرف ڈاکٹروں اور دواؤں کو اور ہر طوفان اور سیلاب کے وقت صرف مادّی سامانوں کو اپنا کارساز سمجھ کر اسی کی فکر میں ایسے گم ہوجاتے ہیں کہ مالک کائنات کی طرف دھیان تک نہیں جاتا، حالانکہ قرآن کریم نے بار بار واضح الفاظ میں یہ بیان فرمایا ہے کہ دنیا کے مصائب اور حوادث عموماً انسانوں کے اعمالِ بد کے نتائج اور آخرت کی سزا کا ہلکا سا نمونہ ہوتے ہیں، اور اس لحاظ سے یہ مصائب مسلمانوں کے لئے ایک طرح کی رحمت ہوتے ہیں، کہ ان کے ذریعہ غافل انسانوں کو چونکایا جاتا ہے، تاکہ وہ اب بھی اپنے اعمال بد کا جائزہ لے کر ان سے باز آنے کی فکر میں لگ جائیں، اور آخرت کی بڑی اور سخت سزا سے محفوظ رہیں، اسی مضمون کے لئے قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) ولنذیقنھم من العذاب الادنی ”یعنی ہم لوگوں کو تھوڑا سا عذاب قریب دنیا میں چکھا دیتے ہیں آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے تاکہ وہ اپنی غفلت اور برائیوں سے باز آجائیں“۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں ارشاد ہے (آیت) وما اصابکم من مصیبة (شوری) ”یعنی جو مصیبت تم کو پہنچی ہے وہ تمہارے اعمال بد کا نتیجہ ہے اور بہت سے برے اعمال کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں“۔ اس آیت کے بیان میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کسی انسان کو جو کسی لکڑی سے معمولی خراش لگتی ہے، یا قدم کو کہیں لغزش ہوجاتی ہے، یا کسی رگ میں خلش ہوتی ہے یہ سب کسی گناہ کا اثر ہوتا ہے، اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں وہ بہت ہیں“۔ بیضاوی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ مراد اس سے یہ ہے کہ مجرموں اور گناہگاروں کو جو امراض اور آفات پیش آتے ہیں وہ سب گناہوں کے آثار ہوتے ہیں اور جو لوگ گناہوں سے معصوم یا محفوظ ہیں ان کے امراض اور آفات ان کے صبر استقلال کے امتحان اور جنت کے بلند درجات عطا کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ عام انسان جو گناہوں سے خالی نہیں ان کو جو بھی بیماریاں اور حوادث و مصائب یا تکلیف اور پریشانی پیش آتی ہے وہ سب گناہوں کے نتائج اور آثار ہیں۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تمام مصائب اور پریشانیوں کا اور ہر قسم کے حوادث اور آفات کا اصلی اور حقیقی علاج یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف رجوع کیا جائے، پچھلے گناہوں سے استغفار اور آئندہ ان سے پرہیز کرنے کا پختہ ارادہ کریں، اور اللہ تعالیٰ ہی سے رفع مصائب کی دعاء کریں۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ مادّی اسباب دواء، علاج اور مصائب سے بچنے کی مادّی تدبیریں بےکار ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اصل کارساز حق تعالیٰ کو سمجھیں اور مادّی اسباب کو بھی اسی کا انعام سمجھ کر استعمال کریں کہ سب اسباب اور آلات اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اسی کی عطا کردہ نعمتیں ہیں، اور اسی کے حکم اور مشیت کے تابع انسان کی خدمت کرتے ہیں، آگ، ہوا، پانی، مٹی اور دنیا کی تمام طاقتیں سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں، بغیر اس کے ارادہ کے نہ آگ جلا سکتی ہے، نہ پانی بجھا سکتا ہے، نہ کوئی دوا نفع دے سکتی ہے نہ کوئی غذا نقصان پہنچا سکتی ہے، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن و تو مردہ، با حق زندہ اند تجربہ شاہد ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو کر صرف مادّی سامانوں کے پیچھے پڑجاتا ہے تو جوں جوں یہ سامان بڑھتے ہیں پریشانیاں اور مصائب اور بڑھتے ہیں مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی شخصی طور پر کسی دوا یا انجکشن کا کسی وقت مفید ثابت ہونا یا کسی مادّی تدبیر کا کامیاب ہوجانا غفلت و معصیت کے ساتھ بھی ممکن ہے، لیکن جب مجموعی حیثیت سے پوری خلق خدا کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ سب چیزیں ناکام نظر آتی ہیں، موجودہ زمانہ میں انسان کو راحت پہنچانے اور اس کی ہر تکلیف کو دور کرنے کے لئے کیسے کیسے آلات اور سامان ایجاد کئے گئے ہیں اور کئے جا رہے ہیں کہ اب سب پچاس سال پہلے کے انسان کو ان کا وہم و گمان بھی نہ ہوسکتا تھا۔ امراض کے علاج کیلئے نئی نئی زوداثر دوائیں اور طرح طرح کے انجکشن اور بڑے بڑے ماہر ڈاکٹر اور ان کے لئے جابجا شفا خانوں کی بہتات کون نہیں جانتا کہ اب سے پچاس ساٹھ برس پہلے کا انسان ان سب سے محروم تھا۔ لیکن مجموعی حالات کا جائزہ لیا جائے تو ان آلات و سامان سے محروم انسان اتنا بیمار اور کمزور نہ تھا، جتنا آج کا انسان بیماریوں کا شکار ہے، اسی طرح آج عام دباؤں کے لئے طرح طرح کے ٹیکے موجود ہیں، حوادث سے انسان کو بچانے کے لئے آگ بجھانے والے انجن اور مصیبت کے وقت فوری اطلاع اور فوری امداد کے ذرائع اور سامان کی فراوانی ہے، لیکن جتنا جتنا یہ مادی سامان بڑھتا جاتا ہے، انسان حوادث اور آفات کا شکار پہلے سے زائد ہوتا جاتا ہے، وجہ اس کے سوا نہیں کہ پچھلے دور میں خالق کائنات سے غفلت اور کھلی نافرمانی اتنی نہ تھی جتنی اب ہے، وہ سامان راحت کو خدا تعالیٰ کا عطیہ سمجھ کر شکر گزاری کے ساتھ استعمال کرتے تھے، اور آج کا انسان بغاوت کے ساتھ استعمال کرنا چاہتا ہے، اس لئے آلات اور سامان کی بہتات اس کو مصیبت سے نہیں بچاتی۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو مشرکین کے اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے کہ مصیبت کے وقت وہ بھی خدا ہی کو دیا کرتے تھے، مومن کا کام یہ ہے کہ اپنے تمام مصائب اور تکلیفوں کو دور کرنے کے لئے مادی سامان اور تدبیروں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، ورنہ انجام وہی ہوگا جو روز مشاہدہ میں آرہا ہے، کہ ہر تدبیر مجموعی حیثیت سے الٹی پڑتی ہے، سیلابوں کو روکنے اور ان کے نقصانات سے بچنے کی ہزار تدبیریں کی جاتی ہیں مگر وہ آتے ہیں اور بار بار آتے ہیں، امراض کے علاج کی نئی نئی تدبیریں کی جاتی ہیں، مگر امراض روز بروز بڑھتے جاتے ہیں، اشیاء کی گرانی رفع کرنے کے لئے ہزاروں تدبیریں کی جاتی ہیں، اور وہ سطحی طور پر مؤ ثر بھی معلوم ہوتی ہیں، لیکن مجموعی حیثیت سے نتیجہ یہ ہے کہ گرانی روز بروز بڑھتی جاتی ہے، چوری، ڈکیتی، اغواء، رشوت ستانی، چور بازاری کو روکنے کے لئے کتنی مادّی تدبیریں آج ہر حکومت استعمال کر رہی ہے، مگر حساب لگائیے تو ہر روز ان جرائم میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے، کاش آج کا انسان صرف شخصی اور سطحی اور سرسری نفع نقصان کی سطح سے ذرا بلند ہو کر حالات کا جائزہ لے تو اس کو ثابت ہوگا کہ مجموعی حیثیت سے ہماری مادّی تدبیریں سب ناکام ہیں بلکہ ہمارے مصائب میں اضافہ کر رہی ہیں، پھر اس قرآنی علاج پر نظر کرے کہ مصائب سے بچنے کی صرف ایک ہی راہ ہے، کہ خالق کائنات کی طرف رجوع کیا جائے، مادّی تدبیروں کو بھی اسی کی عطا کی ہوئی نعمت کے طور استعمال کیا جائے، اس کے سوا سلامتی کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

تو کہہ اسی کو قدرت ہے اس پر کہ بھیجے تم پر عذاب اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا بھڑا دے تم کو مختلف فرقے کر کے اور چکھادے ایک کو لڑائی ایک کی، دیکھ کس کس طرح سے ہم بیان کرتے ہیں آیتوں کو تاکہ وہ سمجھ جاویں

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ (یہ بھی) کہئے کہ (جس طرح وہ نجات دینے پر قادر ہے اسی طرح) اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر (تمہارے کفر و شرک کی وجہ سے) کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے (جیسے پتھر یا ہوا یا بارش طوفانی) یا تمہارے پاوں تلے (جو زمین ہے اس) سے (ظاہر کر دے، جیسے زلزلہ یا غرق ہوجانا اور ان عذابوں کے اسباب قریبہ تو اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں، کبھی نہ کبھی ایسا ہوگا خواہ دنیا میں یا آخرت میں) یا کہ تم کو (اغراض کے اختلاف سے مختلف) گروہ گروہ کرکے سب کو (آپس میں) بھڑا دے (یعنی لڑوا دے) اور تمہارے ایک کو دوسری کی لڑائی (کے ذریعے مزہ) چکھا دے (اور اس کا سبب قریب فعل اختیاری ہے، اور یا سب آفتیں جمع کر دے، غرض نجات دینا اور عذاب میں مبتلا کرنا دونوں اسی کے قدرت میں ہیں، اے محمد ﷺ آپ دیکھئے تو سہی ہم کس (کس) طرح دلائل (توحید) کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وہ (لوگ) سمجھ جاویں اور (اللہ تعالیٰ کے عذاب دینے پر قادر ہونے اور کفرو شرک کے سبب عذاب ہونے کو جاننے کے باوجود) آپ کی قوم کے لوگ (قریش اور عرب بھی) اس (عذاب) کی تکذیب کرتے ہیں، (اور اس کے واقع نہ ہونے کے معتقد ہیں) حالانکہ وہ یقینی (واقع ہونے والا) ہے، (اور اس کو سن کر وہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ کب ہوگا تو) آپ (یوں) کہہ دیجئے کہ میں تم پر (عذاب واقع کرنے کے لئے) تعینات نہیں کیا گیا ہوں (کہ مجھ کو مفصل اطلاع ہو یا میرے اختیار میں ہو البتہ) ہر خبر کے (مدلول) کے واقع کا ایک وقت (اللہ کے علم میں معین) ہے اور جلدی ہی تم کو معلوم ہوجائے گا (کہ یہ عذاب آیا)۔ معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کے وسیع علم اور بےمثال قدرت کا یہ اثر مذکور تھا کہ ہر انسان کی ہر مصیبت کو وہی دور کرسکتا ہے، اور مصیبت کے وقت جو اس کو پکارتا ہے اللہ تعالیٰ کی امداد اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہے، کیونکہ اس کو تمام کائنات پر قدرت بھی کامل ہے اور تمام مخلوق پر رحمت بھی کامل، اس کے سوا نہ کسی کو قدرت کاملہ حاصل ہے اور نہ تمام مخلوق پر رحمت و شفقت۔ مذکورہ الصدر آیات میں قدرت کاملہ کے دوسرے رخ کا بیان ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ ہے کہ کوئی عذاب کوئی مصیبت اور کیسی ہی بڑی سے بڑی آفت ہو اس کو ٹال سکتا ہے اسی طرح اس کو اس پر بھی قدرت حاصل ہے کہ جب کسی فرد یا جماعت کو اس کی سرکشی کی سزا اور عذاب میں مبتلا کرنا چاہے تو ہر قسم کا عذاب اس کے لئے آسان ہے، کسی مجرم کو سزا دینے کے لئے دنیا کے حکام کی طرح اس کو نہ کسی پولیس اور فوج کی حاجت ہے اور نہ کسی مددگار کی ضرورت، اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایاقُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ یعنی اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے کہ بھیج دے تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں تلے سے یا تھیں مختلف پارٹیوں میں بانٹ کر آپس میں بھڑا دے اور ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے عذاب میں ہلاک کر دے۔ عذاب الٓہی کی تین قسمیں یہاں عذاب الٓہی کی تین قسموں کا ذکر ہے، ایک جو اوپر سے آئے، دوسرے جو نیچے سے آئے، تیسرے جو اپنے اندر سے پھوٹ پڑے، پھر لفظ عذابا کو اس جگہ تنوین کے ساتھ نکرہ لاکر عربی قواعد کے اعتبار سے اس پر بھی متنبہ کردیا کہ ان تینوں قسموں میں بھی مختلف قسمیں اور صورتیں ہوسکتی ہیں۔ حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اوپر سے عذاب آنے کی مثالیں پچھلی امتوں میں بہت سی گزر چکی ہیں، جیسے قوم نوح ؑ پر بارش کا سخت سیلاب آیا اور قوم عاد پر ہوا کا طوفان مسلط ہوا، اور قوم لوط ؑ پر اوپر سے پتھر برسائے گئے، آل فرعون پر خون اور مینڈک وغیرہ برسائے گئے، اصحاب فیل نے جب مکہ پر چڑھائی کی تو پرندوں کے ذریعہ ان پر ایسی کنکریں برسائی گئیں جس سے وہ سب کے سب کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح ہو کر رہ گئے۔ اسی طرح نیچے سے آنے والے عذاب کی بھی پچھلی قوموں میں مختلف صورتیں گزر چکی ہیں قوم نوح ؑ پر تو اوپر کا عذاب طوفان، بارش کے ساتھ اور نیچے کا عذاب زمین کا پانی ابلنا شروع ہوگیا، غرض اوپر اور نیچے کے دونوں عذاب میں بیک وقت گرفتار ہوگئے، اور قوم فرعون پاؤں تلے کے عذاب میں غرق کی گئی، قارون بھی مع اپنے خزانوں کے اسی عذاب میں گرفتار ہوا، اور زمین کے اندر دھنس گیا۔ رسول اکرم ﷺ کے چند ارشادات سے بھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اس تفسیر کی تائید ہوتی ہے، مشکوة شریف میں بحوالہ شعب الایمان بیہقی رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہےکما تکونون کذلک یؤ مر علیکم، یعنی جیسے تمہارے اعمال بھلے یا برے ہوں گے ویسے ہی حکام اور امراء تم پر مسلط کئے جائیں گے، اگر تم نیک اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہوگے تو تمہارے حکام و امراء بھی رحم دل، انصاف پسند ہوں گے، اور تم بدعمل ہوگے تو تم پر حکام بھی بےرحم اور ظالم مسلط کردیئے جائیں گے، مشہور مقولہ اعمالکم عمالکم کا یہی مفہوم ہے۔ اور مشکوة میں بحوالہ حلیہ ابی نعیم روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں سب بادشاہوں کا مالک اور بادشاہ ہوں، سب بادشاہوں کے قلوب میرے ہاتھ میں ہیں، جب میرے بندے میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں اور حکام کے قلوب میں ان کی شفقت و رحمت ڈال دیتا ہوں، اور جب میرے بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حکام کے دل ان پر سخت کردیتا ہوں، وہ ان کو ہر طرح کا برا عذاب چکھاتے ہیں، اس لئے تم حکام اور امراء کو برا کہنے میں اپنے اوقات ضائع نہ کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اپنے عمل کی اصلاح کی فکر میں لگ جاؤ، تاکہ تمہارے سب کاموں کو درست کر دے“۔ اسی طرح ابوداؤد، نسائی میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کپ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”جب اللہ تعالیٰ کسی امیر اور حاکم کا بھلا چاہتے ہیں تو اس کو اچھا وزیر اور اچھا نائب دیدتے ہیں کہ اگر امیر سے کچھ بھول ہوجائے تو وہ اس کو یاد دلادے اور جب امیر صحیح کام کرے تو وہ اس کی مدد کرے، اور جب کسی حاکم و امیر کے لئے کوئی برائی مقدر ہوتی ہے تو برے آدمیوں کو اس کے وزراء اور ماتحت بنادیا جاتا ہے۔ (الحدیث) ان روایات اور آیت مذکورہ کی متذکرہ تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو جو تکالیف اور مصائب اپنے حکام کے ہاتھوں پہنچتے ہیں وہ اوپر سے آنے والا عذاب ہے، اور جو اپنے ماتحتوں اور ملازموں کے ذریعہ پہنچتے ہیں وہ نیچے سے آنے والا عذاب ہے، یہ سب کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوتے، بلکہ ایک قانونِ الٓہی کے تابع انسان کے اعمال کی سزا ہوتے ہیں، حضرت سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو میں اس کا اثر اپنے نوکر اور اپنی سواری کے گھوڑے اور باربرداری کے گدھے کے مزاج میں محسوس کرنے لگتا ہوں کہ یہ سب میری نافرمانی کرنے لگتے ہیں، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ خلق رابا تو چنیں بدخوکنند تاترا ناچار رو آنسو کنند یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں تمہارے بالا دست حکام یا ماتحت ملازموں کے ذریعہ تمہارے خلاف مزاج، تکلیف دہ معاملات کا ظاہری عذاب تم پر مسلط کرکے در حقیقت تمہارا رخ اپنی طرف پھیرنا چاہتے ہیں، تاکہ تم ہوشیار ہوجاؤ اور اپنے اعمال کو درست کرکے آخرت کے عذاب اکبر سے بچ جاؤ۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق حکام کا ظلم وجور اوپر سے آنے والا عذاب ہے، اور ماتحت ملازموں کی بےایمانی، کام چوری، غداری، نیچے سے آنے والا عذاب ہے، اور دونوں کا علاج ایک ہی ہے کہ سب اپنے اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور بےراہ روی سے باز آجائیں تو قدرت خود ایسے حالات پیدا کر دے گی کہ یہ مصیبت رفع ہو، ورنہ صرف مادّی تدبیروں کے ذریعہ ان کی اصلاح کی امید اپنے نفس کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں، جس کا تجربہ ہر وقت ہو رہا ہے خویش رادیدیم و رسوائی خویش امتحان مامکن اے شاہ بیش اوپر اور نیچے کے عذاب کی جو مختلف تفسیریں آپ نے ابھی سنی ہیں در حقیقت ان تمام تفسیروں پر حاوی ہے، آسمان سے برسنے والے پتھر، خون، آگ اور پانی کا سیلاب اور بالادست حکام کا ظلم وجور یہ سب اوپر سے آنے والے عذاب میں داخل ہیں، اور زمین شق ہو کر کسی قوم کا اس میں دھنس جانا یا پانی زمین سے ابل کر غرق ہوجانا، یا ماتحت ملازموں کے ہاتھوں مصیبت میں مبتلا ہوجانا یہ سب نیچے سے آنے والے عذاب ہیں۔ تیسری قسم عذاب کی جو اس آیت میں ذکر کی گئی ہے وہ یہ ہے اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا یعنی تمہاری مختلف پارٹیاں بن کر آپس میں بھڑ جائیں، اور باہم ایک دوسرے کے لئے عذاب بن جائیں، اس میں لفظ یلبسکم، لبس کے مادہ سے بنا ہے، جس کے اصلی معنی چھپالینے اور ڈھانپ لینے کے ہیں، اسی معنی سے لباس ان کپڑوں کو کہا جاتا ہے جو انسان کے بدن کو ڈھانپ لے، اور اسی وجہ سے التباس بمعنی شبہ و اشتباہ استعمال ہوتا ہے جہاں کسی کلام کی مراد مستور ہو صاف اور کھلی ہوئی نہ ہو۔ اسی لئے آیت کا ترجمہ یہ ہوگیا کہ عذاب کی ایک قسم یہ ہے کہ قوم مختلف پارٹیوں میں بٹ کر آپس میں بھڑ جائے، اسی لئے جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا لا ترجعوا بعدی کفاراً یضرب بعضکم رقاب بعض (اخرجہ ابن ابی حاتم عن ذید بن اسلم) مظہری۔ ”یعنی تم میرے بعد پھر کافروں جیسے نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو“۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے، ہمارا گزر مسجد بنی معاویہ پر ہوا تو رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی دو رکعت ادا کی، اس کے بعد آپ ﷺ دعا میں مشغول ہوگئے اور بہت دیر تک دعا کرتے رہے، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا، ایک یہ کہ میری امت کو غرق کرکے ہلاک نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی، دوسرے یہ کہ میری امت کو قحط اور بھوک کے ذریعہ ہلاک نہ کیا جائے یہ بھی قبول فرمالی، تیسری دعا یہ کہ میری امت آپس میں جنگ و جدل سے تباہ نہ ہو، مجھے اس دعا سے روک دیا گیا (مظہری بحوالہ بغوی)۔ اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے، جس میں تین دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے کہ میری امت پر کسی دشمن کو مسلط نہ فرما دے جو سب کو تباہ و برباد کردے، یہ دعا قبول ہوئی، اور آپس میں نہ بھڑ جائیں اس دعا کو منع کردیا گیا۔ ان روایات سے ثابت ہوا کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰة والسلام پر اس قسم کے عذاب تو نہ آئیں گے جیسے پچھلی امتوں پر آسمان یا زمین سے آئے جس سے ان کی پوری قوم تباہ و برباد ہوگئی، لیکن ایک عذاب دنیا میں اس امت پر بھی آتا رہے گا، وہ عذاب آپس کی جنگ و جدل اور فرقوں اور پارٹیوں کا باہم تصادم ہے، اسی لئے نبی کریم ﷺ نے امت کو فرقوں اور پارٹیوں میں منقسم ہو کر باہمی آویزش اور جنگ و جدل سے منع کرنے میں انتہائی تاکید سے کام کیا ہے، اور ہر موقع پر اس سے ڈرایا ہے کہ تم پر خدا تعالیٰ کا عذاب اس دنیا میں اگر آئے گا تو آپس ہی کی جنگ و جدل کے ذریعہ آئے گا۔ سورة ہود کی ایک آیت میں یہ مضمون اور بھی زیادہ وضاحت سے آیا ہے (آیت) ولا یزالون مختلفین الا من رحم ربک (ھود) ”یعنی لوگ ہمیشہ آپس میں اختلاف ہی کرتے رہیں گے بجر ان لوگوں کے جن پر اللہ تعالیٰ نے رحمت فرمائی“۔ اس سے واضح ہوا کہ جو لوگ آپس میں (بلا وجہ شرعی) اختلاف کرتے ہیں وہ رحمت خداوندی سے محروم یا بعید ہیں۔ ایک آیت میں ارشاد ہے(آیت) واعتصموا بحبل اللّیة جمیعا ولا تفرقوا دوسری آیت میں ارشاد ہے(آیت) ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا ان تمام آیات روایات کا حاصل یہ ہے کہ اختلاف بڑی منحوس اور مذموم چیز ہے، آج دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے مسلمانوں کی پستی اور بربادی کے اسباب پر غور کیا جائے تو اکثر مصائب کا سبب یہی آپس کا اختلاف اور تشتت نظر آئے گا، ہماری بد اعمالیوں کے نتیجہ میں یہ عذاب ہم پر مسلط ہوگیا، کہ وہ قوم جس کا مرکز اتحاد ایک کلمہ لا آلہ الا اللہ محمد رسول اللہ تھا، اس کلمہ کو ماننے والا زمین کے کسی خطہ میں ہو، کسی زبان کا بولنے والا ہو، کسی رنگ کا ہو، کسی نسل و نسب سے متعلق ہو سب بھائی بھائی تھے، کوہ دریا کی دشوار گزار منازل ان کی وحدت میں حائل نہ تھیں، نسب و خاندان، رنگ و زبان کا تفاوت ان کی راہ میں رکاوٹ نہ تھا، ان کی قومی و حدت صرف اس کلمہ سے وابستہ تھی، عربی، مصری، شامی، ترکی، ہندی، چینی، کی تقسیمیں صرف شناخت اور تعارف کے لئے تھیں اور کچھ نہیں، بقول اقبال مرحوم درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی گھر اس کا نہ دلی نہ صفاہان نہ سمر قند آج دوسری قوموں کی دسیسہ کاریوں اور مسلسل کوششوں نے پھر ان کو نسلی اور لسانی اور وطنی قومیتوں میں بانٹ دیا، اور پھر ان میں سے بھی ہر ایک قوم و جماعت اپنے اندر بھی تشتّت اور انتشار کا شکار ہو کر مختلف پارٹیوں میں بٹ گئی، وہ قوم جس کا شعار غیروں سے بھی عفو و درگزر اور ایثار تھا اور جھگڑے سے بچنے کے لئے اپنے بڑے سے بڑے حق کو چھوڑ دیتی تھی، آج اس کے بہت سے افراد ذرا ذرا سی حقیر و ذلیل خواہشات کے پیچھے بڑے سے بڑے تعلق کو قربان کردیتے ہیں، یہی وہ اغراض واہواء کا اختلاف ہے جو قوم و ملت کے لئے منحوس اور اس دنیا میں نقد عذاب ہے۔ ہاں اس جگہ یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ وہ اختلاف جس کو قرآن میں عذاب الٓہی اور رحمت خدا وندی سے محرومی فرمایا گیا ہے وہ اختلاف ہے جو اصول اور عقائد میں ہو یا نفسانی اغراض واہواء کی وجہ سے ہو، اس میں وہ اختلاف رائے داخل نہیں جو قرآن و سنت کے بتلائے ہوئے اصول اجتہاد کے ماتحت فروعی مسائل میں فقہاء امت کے اندر قرن اول سے صحابہ وتابعین میں ہوتا چلا آیا ہے، جن میں فریقین کی حجت قرآن و سنت اور اجماع سے ہے، اور ہر ایک کی نیت قرآن و سنت کے احکام کی تعمیل ہے، مگر قرآن و سنت کے مجمل یا مبہم الفاظ کی تعبیر اور ان سے جزوی، فروعی مسائل کے استخراج میں اجتہاد اور رائے کا اختلاف ہے، ایسے ہی اختلاف کو ایک حدیث میں رحمت فرمایا گیا ہے۔ جامع صغیر من بحوالہ نصر مقدسی و بہیقی و امام الحرمین یہ روایت نقل کی ہے کہ اختلاف امتی رحمة،”تیسری امت کا اختلاف رحمت ہے“۔ امت محمدیہ ﷺ کی خصوصیت اس لئے اختیار فرمائی گئی کہ اس امت کے علماءِ حق اور فقہاء متقین میں جو اختلاف ہوگا وہ ہمیشہ اصول قرآن و سنت کے ماتحت ہوگا، اور صدق نیت اور للہیت سے ہوگا، کوئی نفسانی غرض جاہ و مال کی ان کے اختلاف کی متحرک نہ ہوگی، اس لئے وہ کسی سے جنگ و جدل کا سبب بھی نہ بنے گا، بلکہ علامہ عبد الرؤف منادی شارح جامع صغیر کی تحقیق کے مطابق فقہاء امت کے مختلف مسالک کا وہ درجہ ہوگا جو زمانہ سابق میں انبیاء (علیہم السلام) کی مختلف شرائع کا تھا کہ مختلف ہونے کے باوجود سب کی سب اللہ ہی کے احکام تھے، اسی طرح مجتہدین امت کے مختلف مسلک اصول قرآن و سنت کے ماتحت ہونے کی وجہ سے سب کے سب احکام خدا و رسول ﷺ ہی کہلائیں گے۔ اس اجتہادی اختلاف کی مثال محسوسات میں ایسی ہے جیسے شہر کی بڑی سڑکوں کو چلنے والوں کی آسانی کے لئے مختلف حصوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے، ایک حصہ پر بسیں چلتی ہیں دوسرے پر دوسری گاڑیاں یا ٹرام، اسی طرح سائیکل سواروں اور پیادہ چلنے والوں کے لئے روڈ کا علیحدہ ایک حصہ ہوتا ہے، ایک روڈ کی کئی حصوں میں یہ تقسیم بھی اگرچہ ظاہرہ طور پر ایک اختلاف کی صورت ہے، مگر چونکہ سب کا رخ ایک ہی سمت ہے اور ہر ایک پر چلنے والا ایک ہی منزل مقصود پر پہنچے گا، اس لئے راستوں کا یہ اختلاف بجائے مضر ہونے کے مفید اور چلنے والوں کے لئے وسعت و رحمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ مجتہدین اور فقہاء امّت کا اس پر اتفاق ہے کہ ان میں سے کسی کا مسلک باطل نہیں، اور جو لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں، ان کو دوسروں کے نزدیک گنہگار کہنا جائز نہیں، ائمہ مجتہدین اور فقہاء امت کے مذاہب کے اختلاف کا حاصل اس سے زیادہ نہیں کہ ایک مجتہد نے جو مسلک اختیار کیا ہے وہ اس کے نزدیک راجح ہے مگر اس کے مقابل دوسرے مجتہد کے مسلک کو بھی وہ باطل نہیں کہتے، بلکہ ایک دوسرے کا پورا احترام کرتے ہیں، فقہاء صحابہ وتابعین اور ائمہ اربعہ کے بیشمار حالات و واقعات اس پر شاہد ہیں کہ فقہی مسلک بہت سے مسائل میں مختلف ہونے اور علمی بحثیں جاری رہنے کے باوجود ایک دوسرے کا مکمل اعتقاد و احترام کرتے تھے، جنگ و جدل اور خصومت و عداوت کا وہاں کوئی احتمال ہی نہ تھا، مذاہب فقہاء کے متبعین اور مقلدین میں بھی جہاں تک صحیح علم و دیانت رہے ان کے بھی باہمی معاملات ایسے ہی رہے۔ یہ اختلاف ہے جو رحمت اور لوگوں کے لئے وسعت و سہولت کا ذریعہ اور بہت سے مفید نتائج کا حامل ہے، اور حقیقت یہی ہے کہ فروعی مسائل میں راویوں کا اختلاف جہاں تک اپنی حد کے اندر ہے وہ کوئی مضر چیز نہیں، بلکہ مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کو کھولنے اور صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں معین ہے، اور جہاں دیانت دار عقلاء جمع ہوں گے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی مسئلہ میں ان کا اختلاف نہ ہو، ایسا قانون تو یا بےعقلوں میں ہوسکتا ہے جن کو کوئی سمجھ بوجھ نہ ہو، یا بےدینوں میں ہوسکتا ہے جو کسی پارٹی وغیرہ کی رعایت سے خلاف ضمیر رائے میں اتفاق کا اظہار کریں۔ اختلاف رائے جو اپنی حدود کے اندر ہو، یعنی قرآن و سنت کے قطعی اور اعتقادی مسائل اور قطعی احکام میں نہ ہو، صرف فروعی مسائل اجتہادیہ میں ہو، جن میں قرآن و سنت کی نصوص ساکت یا مبہم ہیں، اور وہ بھی جنگ و جدل اور لعن و طعن کی حد تک نہ پہنچے تو وہ بجائے مضر ہونے کے مفید اور ایک نعمت و رحمت ہے، جیسے کائنات عالم کی تمام چیزوں کا شکل و صورت، رنگ و بو اور خاصیت و منفعت میں اختلاف ہے، حیوانات میں لاکھوں مختلف قسمیں بنی نوع انسان میں مزاجوں اور پیشوں، صنعتوں اور رہن و سہن کے طریقوں میں اختلاف، یہ سب اس عالم کی رونق بڑھانے والے اور بیشمار منافع کے اسباب ہیں۔ بہت سے لوگ جو اس حقیقت سے واقف نہیں وہ مذاہب فقہاء اور علماء حق کے فتوؤں میں اختلاف کو بھی حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، ان کو یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ علماء میں اختلاف ہے تو کدھر جائیں، حالانکہ بات بالکل صاف ہے کہ جس طرح کسی بیمار کے معاملہ میں ڈاکٹروں طبیبوں کا اختلاف رائے ہوتا ہے تو ہر شخص یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ان میں سے فنی اعتبار سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار کون ہے، بس اس کا علاج کرتے ہیں، دوسرے ڈاکٹروں کر برا نہیں کہتے، مقدمہ کے وکیلوں میں اختلاف ہوجاتا ہے، تو جس وکیل کو زیادہ قابل اور تجربہ کار جانتے ہیں اس کے کہنے پر عمل کرتے ہیں، دوسروں کی بدگوئی کرتے نہیں پھرتے، یہی اصول یہاں ہونا چاہئے، جب کسی مسئلہ میں علماء کے فتوے مختلف ہوجائیں تو مقدور بھر تحقیق کرنے کے بعد جس عالم کو علم اور تقویٰ میں دوسروں سے زیادہ اور افضل سمجھیں اس کا اتباع کریں اور دوسرے علماء کو برا بھلا کہتے نہ پھریں۔ حافظ ابن قیم رحمة اللہ علیہ نے اعلام الموقعین میں نقل کیا ہے کہ ماہر مفتی کا انتخاب اور درصورت اختلاف ان میں سے اس شخص کے فتوے کو ترجیح دینا جو اس کے نزدیک علم اور تقوی میں سب سے زیادہ ہو، یہ کام ہر صاحب معاملہ مسلمان کے ذمہ خود لازم ہے، اس کا کام یہ تو نہیں کہ علماء کے فتو وں میں کسی فتوے کو ترجیح دے لیکن یہ اسی کا کام ہے کہ مفتیوں اور علماء میں سے جس کو اپنے نزدیک علم اور دیانت کے اعتبار سے زیادہ افضل جانتا ہے اس کے فتوے پر عمل کرے، مگر دوسرے علماء اور مفتیوں کو برا کہتا نہ پھرے، ایسا عمل کرنے کے بعد اللہ کے نزدیک وہ بالکل بری ہے، اگر حقیقةً کوئی غلطی فتویٰ دینے والے سے ہو بھی گئی تو اس کا وہی ذمہ دار ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ نہ ہر اختلاف مطلقاً مذموم اور نہ ہر اتفاق مطلقاً محمود و مطلوب ہے۔ اگر چور، ڈاکو، باغی ایک جماعت بنا کر باہم متفق ہوجائیں تو کون نہیں جانتا کہ ان کا یہ اتفاق مذموم اور قوم کے لئے مہلک ہے اور اس کے خلاف جو سعی وعمل عوام یا پولیس وغیرہ کی طرف سے اس جماعت کی مخالفت میں ہوتا ہے وہ ہر عقلمند کی نظر میں اختلاف محمود و مفید ہے۔ معلوم ہوا کہ خرابی اختلاف رائے میں نہیں اور نہ کسی ایک رائے پر عمل کرنے میں ہے بلکہ ساری خرابیاں دوسروں کے متعلق بدگمانی اور بدزبانی سے پیش آتی ہیں جو علم و دیانت کی کمی اور اغراض واہنواء کی زیادتی کا نتیجہ ہوتا ہے، اور جب کسی قوم یا جماعت میں یہ صورت پیدا ہوجاتی ہے تو ان کے لئے یہ اختلاف رحمت بھی اختلاف عذاب کی صورت میں منتقل ہوجاتا ہے، اور مسلمانوں کی پارٹیاں بن کر ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل اور بعض اوقات قتل و قتال تک میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اور ایک دوسرے کے خلاف لعن طعن اور دل آزار کلمات کو تو مذہب کی حمایت سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ مذہب کا اس غلو اور زیادتی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بلکہ یہ وہی جدال ہے جس سے رسول کریم ﷺ نے شدت کے ساتھ منع فرمایا ہے، صحیح احادیث میں اس کو قوموں کی گمراہی کا سبب قرار دیا ہے (ترمذی، ابن ماجہ)