Ayahs 6:66–67دوسری آیت میں نبی کریم ﷺ کی برادری یعنی قریش مکہ کی مخالفت حق کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ یہ لوگ جو آپ سے وقوع عذاب کا معیّن وقت پوچھتے ہیں، آپ ﷺ ان سے فرما دیں کہ میں اس کام کے لئے مسلط نہیں کیا گیا، بلکہ ہر بات کا ایک وقت اللہ کے علم میں مقرر ہے، وہ اپنے وقت پر ہو کر رہے گی، اور اس کا نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔
Ayah 6:68خلاصہ تفسیر
اور (اے مخاطب) جب تک ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات (اور احکام) میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں (کے پاس بیٹھنے) سے کنارہ کش ہوجا، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جاویں اور اگر تجھ کو شیطان بھلا دے (یعنی ایسی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت یاد نہ رہے) تو (جب یاد آوے) یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس مت بیٹھ (بلکہ فوراً اٹھ کھڑا ہو) اور (اگر کوئی واقعی دنیوی یا دینی ضرورت ایسی مجلس میں جانے کی ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ) جو لوگ (ممنوعات شرعیہ سے جن میں بلا ضرورت ایسی مجلس میں جانا بھی داخل ہے) احتیاط رکھتے ہیں، ان پر ان (طاعنین و مکذبین) کی باز پرس (اور گناہ طعن) کا کوئی اثر نہ پہنچے گا (یعنی بضرورت وہاں جانے والے گنہگار نہ ہوں گے) لیکن ان کے ذمہ (بشرط قدرت) نصیحت کردینا ہے شاید وہ (طعنے دینے والے) بھی (ان خرافات سے) احتیاط کرنے لگیں (خواہ قبول اسلام کرکے خواہ ان کے لحاظ سے) اور (کچھ مجلس تکذیب کی تخصیص نہیں، بلکہ) ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہ جنہوں نے اپنے (اس) دین کو (جس کا ماننا ان کے ذمہ فرض تھا یعنی اسلام کو) لہو ولعب بنا رکھا ہے (کہ اس کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں) اور دنیوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے (کہ اس کی لذات میں مشغول ہیں، اور آخرت کے منکر ہیں، اس لئے اس تمسخر کا انجام نظر نہیں آتا) اور (کنارہ کشی و ترک تعلقات کے ساتھ ایسے لوگوں کو) اس قرآن کے ذریعہ سے (جس سے یہ تمسخر کر رہے ہیں) نصیحت بھی کرتا رہ تاکہ کوئی شخص اپنے کردار (بد) کے سبب (عذاب میں) اس طرح نہ پھنس جاوے کہ کوئی غیر اللہ نہ اس کا مددگار ہو اور نہ سفارشی ہو اور یہ کیفیت ہو کہ اگر (بالفرض) دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے ڈالے (کہ اس کو خرچ کر کے عذاب سے بچ جاوے) تب بھی اس سے نہ لیا جاوے (تو نصیحت سے یہ فائدہ ہے کہ اعمال بد کے انجام پر متنبہ ہوجاتا ہے، آگے ماننا نہ ماننا دوسرا جانے، چنانچہ) یہ (تمسخر کرنے والے) ایسے ہی ہیں کہ (نصیحت نہ مانی اور) اپنے کردار (بد) کے سبب (عذاب میں) پھنس گئے (جس کا آخرت میں اس طرح ظہور ہوگا کہ) ان کے لئے نہایت تیز (کھولتا ہوا پانی) پینے کے لئے ہوگا اور (اس کے علاوہ اور اس طرح بھی) دردناک سزا ہوگی اپنے کفر کے سبب (کہ کردار بد یہی ہے، جس کا ایک شعبہ تمسخر تھا) آپ (سب مسلمانوں کی طرف سے ان مشرکین سے) کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا (تمہاری مرضی کے موافق) ایسی چیز (کی عبادت کریں کہ) نہ وہ (اس کی عبادت کرنے کی صورت میں) ہم کو نفع پہنچانے پر قادر ہو وے اور نہ وہ (اسکی عبادت نہ کرنے کی صورت میں) ہم کو نقصان پہنچانے پر قادر ہو وے (مراد اس سے آلہہ باطلہ ہیں کہ بعض کو تو اصلاً قدرت نہیں اور جن کو کچھ ہے بالذات نہیں اور معبود میں کم از کم اپنے موافق اور مخالف کو نفع و ضرر پہنچانے کی قدرت ہونی چاہئے تو کیا ہم ایسوں کی عبادت کریں) اور کیا (معاذ اللہ) ہم (اسلام سے) الٹے پھر جاویں، بعد اس کے کہ ہم کو خدا تعالیٰ نے (طریقِ حق کی) ہدایت کردی ہے (یعنی اول تو شرک خود ہی فبیح ہے، پھر خصوصاً بعد اختیار اسلام کے تو اور زیادہ شنیع ہے ورنہ ہماری تو وہ مثال ہوجاوے) جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطانوں نے کہیں جنگل میں (بہکا کر راہ سے) بےراہ کردیا ہو اور وہ بھٹکتا پھرتا ہو (اور) اس کے کچھ ساتھی بھی تھے کہ وہ اس کو ٹھیک راستہ کی طرف (پکار پکار کر) بلاتے رہے ہیں کہ (ادھر) ہمارے پاس آ (مگر وہ غایت حیرت سے نہ سمجھتا ہے نہ آتا ہے، ایسی ہی ہماری حالت ہوجاوے کہ راہ اسلام پر ہو کر اپنے ہادی پیغمبر ﷺ سے جدا ہوں، اور مضلین کے پنجہ میں گرفتار ہو کر گمراہ ہوجاویں اور وہ ہادی پھر بھی خیر خواہی سے دعوت اسلام کرتے رہیں اور ہم گمراہی کو نہ چھوڑیں، یعنی کیا ہم تمہارے مرضی پر عمل کرکے اپنی ایسی مثال بنالیں) آپ ﷺ (ان سے) کہہ دیجئے کہ (جب اس مثال سے معلوم ہوا کہ راہ سے بےراہ ہونا برا ہے اور یہ) یقینی بات ہے کہ راہ راست وہ اللہ ہی کا (بتلایا ہوا) راہ ہے (اور وہ اسلام ہے، پس یقینا اس کا ترک کرنا بےراہ ہونا ہے، پھر ہم کب چھوڑ سکتے ہیں) اور (آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ ہم شرک کیسے کرسکتے ہیں) ہم کو (تو) یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پورے مطیع ہوجاویں پروردگار عالم کے (جو منحصر ہے اسلام میں) اور یہ (حکم ہوا ہے) کہ نماز کی پابندی کرو (جو کہ توحید پر ایمان کی ظاہر تر علامت ہے) اور (یہ حکم ہوا ہے کہ) اس سے (یعنی اللہ سے) ڈرو (یعنی مخالفت نہ کرو، جس میں سب سے بڑھ کر شرک ہے) اور وہی (اللہ) ہے جس کے پاس تم سب (قیامت کے دن قبروں سے نکل کر حساب کے لئے) جمع کئے جاؤ گے (وہاں مشرکین کو اپنے شرک کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا) اور وہی (اللہ) ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو بافائدہ پیدا کیا (جس میں بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے خالق کے وجود اور توحید پر استدلال کیا جائے پس یہ بھی توحید کی ایک دلیل ہے) اور (اوپر جو تحشرون میں حشر یعنی قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی خبر دی ہے اس کو بھی کچھ مستبعد مت سمجھو کیونکہ وہ قدرت الٓہیہ کے سامنے اس قدر آسان ہے کہ) جس وقت اللہ تعالیٰ اتنا کہہ دے گا کہ (حشر) تو ہوجا بس وہ (حشر فوراً) ہو پڑے گا اس کا (یہ) کہنا با اثر ہے (خالی نہیں جاتا) اور (حشر کے روز) جب کہ صور میں (بحکم الٓہی دوسری بار فرشتہ کی) پھونک ماری جائے گی، ساری حکومت (حقیقتاً بھی ظاہراً بھی) خاص اسی (اللہ) کی ہوگی (اور وہ اپنی حکومت سے موحدّین و مشرکین کا فیصلہ کرے گا) وہ (اللہ) جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا (پس مشرکین کے اعمال و احوال کا بھی اس کو علم ہے) اور وہی حکمت والا (اس لئے مناسب مناسب جزاء ہر ایک کو دے گا اور وہی ہے) پوری خبر رکھنے والا (اس لئے کسی امر کا اخفاء اس سے ممکن نہیں)۔
معارف و مسائل
اہل باطل کی مجلسوں سے پرہیز کا حکم
آیات مذکورہ میں مسلمانوں کو ایک اہم اصولی ہدایت دی گئی ہے کہ جس کام کا خود کرنا گناہ ہے اس کے کرنے والوں کی مجلس میں شریک رہنا بھی گناہ ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ
پہلی آیت میں لفظ یخوضون، خوض سے بنا ہے، جس کے اصلی معنی پانی میں اترنے اور اس میں گزرنے کے ہیں، اور لغو و فضول کاموں میں داخل ہونے کو بھی خوض کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ عموماً اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ، (آیت) وکنا نحوض مع الخائضین اور فی خوضھم یلعبون، وغیر آیات اس کی شاہد ہیں۔
اسی لئے خوض فی الایات کا ترجمہ اس جگہ عیب جوئی یا جھگڑے کا کیا گیا ہے، یعنی جب آپ ﷺ ان لوگوں کو دیکھیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں محض لہو و لعب اور استہزاء و تمسخر کے لئے دخل دیتے ہیں اور عیب جوئی کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان سے اپنا رخ پھیر لیں۔
اس آیت کا خطاب عام ہر مخاطب کو ہے، جس میں نبی کریم ﷺ بھی داخل ہیں، اور امت کے افراد بھی، اور درحقیقت رسول اللہ ﷺ کو خطاب بھی عام مسلمانوں کو سنانے کے لئے ہے ورنہ آپ ﷺ تو بچپن میں بھی کبھی ایسی مجالس میں شریک نہیں ہوئے، اس لئے کسی ممانعت کی آپ ﷺ کو ضرورت نہ تھی۔
پھر اہل باطل کی مجلس سے رخ پھیرنے کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ اس مجلس سے اٹھ جائیں، دوسرے یہ کہ وہاں رہتے ہوئے کسی دوسرے شغل میں لگ جائیں، ان کی طرف التفات نہ کریں، لیکن آخر آیت میں بتلا دیا گیا کہ مراد پہلی ہی صورت ہے، کہ ان کی مجلس میں بیٹھے نہ رہیں، وہاں سے اٹھ جائیں۔
آخر آیت میں فرمایا کہ اگر تم کو شیطان بھلا دے، یعنی بھول کر ان مجلس میں شریک ہوگئے خواہ اس طرح کہ ایسی مجلس میں شریک ہونے کی ممانعت یاد نہ رہی، یا اس طرح کہ یہ یاد نہ رہا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف تذکرے اپنی مجلس میں کیا کرتے ہیں، تو اس صورت میں جس وقت بھی یاد آجائے اسی وقت اس مجلس سے اٹھ جانا چاہئے، یاد آجانے کے بعد وہاں بیٹھا رہنا گناہ ہے، دوسری ایک آیت میں بھی یہی مضمون ارشاد ہوا ہے، اور اس کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ اگر تم وہاں بیٹھے رہے تو تم بھی انہی جیسے ہو۔
امام رازی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر کبیر میں فرمایا ہے کہ اس آیت کا اصل منشاء گناہ کی مجلس اور مجلس والوں سے اعراض اور کنارہ کشی ہے، جس کی بہتر صورت تو یہی ہے کہ وہاں سے اٹھ جائے لیکن اگر وہاں سے اٹھنے میں اپنی جان یا مال یا آبرو کا خطرہ ہو تو عوام کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ کنارہ کشی کی کوئی دوسری صورت اختیار کرلیں، مثلاً کسی دوسرے شغل میں لگ جائیں، اور ان لوگوں کی طرف التفات نہ کریں، مگر خواص جن کی دین میں اقتداء کی جاتی ہے ان کے لئے وہاں سے بہر حال اٹھ جانا ہی مناسب ہے۔
اس کے بعد فرمایا وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ ، یعنی اگر تجھ کو شیطان بھلا دے، اس کا خطاب اگر عام مسلمانوں کو ہے تو بات صاف ہے کہ بھول اور نسیان ہر انسان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، اور اگر خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ کے رسول و نبی پر بھی بھول اور نسیان کا اثر ہوجایا کرے تو ان کی تعلیمات پر کیسے اعتماد و اطمینان رہ سکتا ہے ؟
جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو بھی کسی خاص حکمت و مصلحت کے تحت بھول تو ہو سکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً ان کو تنبیہ بذریعہ وحی ہوجاتی ہے جس سے وہ بھول پر قائم نہیں رہتے، اس لئے بالآخر ان کی تعلیمات بھول اور نسیان کے شبہ سے پاک ہوجاتی ہیں۔
بہرحال آیت کے اس جملہ سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص سہو و نسیان سے کسی غلطی میں مبتلا ہوجائے تو وہ معاف ہے، نبی کریم ﷺ کا ایک حدیث میں ارشاد ہے
رفع عن امتی الخطاء والنسیان وما استکرھوا علیہ
”یعنی میری امت سے خطاء اور بھول کا اور اس کام کا گناہ معاف کردیا گیا ہے جو کسی نے زبردستی اس سے کرا دیا ہو“۔
امام جصاص رحمة اللہ علیہ نے احکام القرآن میں فرمایا کہ ”اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو ہر ایسی مجلس سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہئے جس میں اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ یا شریعت اسلام کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں، اور اس کو بند کرنا یا کرانا یا کم از کم حق بات کا اظہار کرنا اس کے قبضہ و اختیار میں نہ ہو، ہاں اگر ایسی مجلس میں بہ نیت اصلاح شریک ہو اور ان لوگوں کو حق بات کی تلقین کرے تو مضائقہ نہیں“۔ اور آخر آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ یاد آجانے کے بعد ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھو، اس سے امام جصاص رحمة اللہ علیہ نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ ایسے ظالم، بےدین اور دریدہ دہن لوگوں کی مجلس میں شرکت کرنا مطلقاً گناہ ہے، خواہ وہ اس وقت کسی ناجائز گفتگو میں مشغول ہوں یا نہ ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں کو ایسی بیہودہ گفتگو شروع کرتے ہوئے دیر کیا لگتی ہے، وجہ استدلال کی یہ ہے کہ اس میں مطلقاً ظالموں کے ساتھ بیٹھنے کو منع فرمایا گیا ہے، اس میں یہ شرط نہیں کہ وہ اس وقت بھی ظلم کرنے میں مشغول ہوں۔
قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں بھی یہی مضمون واضح طور پر بیان ہوا ہے فرمایا ہے (آیت) ولا ترکنوا الی الذین، یعنی ظالم لوگوں کے ساتھ میل جول اور میلان نہ رکھو، ورنہ تمہیں بھی جہنم کی آگ سے پالا پڑے گا۔
Ayah 6:69جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ اگر ان کی مجلس میں جانے کی مطلقاً ممانعت رہی تو ہم مسجد حرام میں نماز اور طواف سے بھی محروم ہوجائیں گے، کیونکہ وہ لوگ تو ہمیشہ وہاں بیٹھے رہتے ہیں، (یہ واقعہ ہجرت اور فتح مکہ سے پہلے کا ہے) اور ان کا مشغلہ ہی عیب جوئی اور بدگوئی ہے، اس پر دوسری آیت اس کے بعد والی نازلی ہوئیوَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ ، یعنی جو لوگ احتیاط رکھنے والے ہیں وہ اگر اپنے کام سے مسجد حرام میں جائیں تو ان شریر لوگوں کے اعمال بد کی ان پر کوئی ذمہ داری نہیں، ہاں اتنی بات ان کے ذمہ ہے کہ حق بات ان کو پہنچا دیں کہ شاید وہ اس سے نصیحت حاصل کر کے صحیح راستہ پر آجائیں۔
Ayahs 6:70–73تیسری آیت میں بھی تقریباً اسی مضمون کی مزید تاکید اس طرح ارشاد فرمائی گئی ہےوَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ ، اس میں لفظ ذَر وَذرَ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز سے ناراض ہو کر اس کو چھوڑ دینا، معنی آیت کے یہ ہیں کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو چھوڑ دیجئے جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب یعنی مشغلہ اور کھیل بنا رکھا ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جو دین حق یعنی اسلام ان کے لئے بھیجا گیا ہے، اس کو لہو ولعب بنا رکھا ہے، اس کا استہزاء و تمسخر کرتے ہیں، دوسرے یہ کہ انہوں نے اصلی دین کو چھوڑ کر اپنا دین و مذہب ہی لہو و لعب کو بنا لیا ہے، دونوں معنی کا حاصل تقریباً ایک ہی ہے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا یعنی ان کو دنیا کی چند روزہ زندگی نے غرور اور دھوکہ میں ڈالا ہوا ہے، یہ ان کے مرض کا اصلی سبب بیان فرما دیا کہ ان کی اس ساری سرکشی اور نافرمانی کا اصلی سبب یہ ہے کہ دنیا ہی کی چند روزہ زندگی پر مفتون ہیں، اور آخرت کو بھلائے بیٹھے ہیں، اگر آخرت اور قیامت کا اعتقاد ہوتا تو ہرگز وہ یہ حرکتیں نہ کرتے۔
اس آیت میں رسول کریم ﷺ اور عام مسلمانوں کو دو حکم دیئے گئے ہیں، اول یہ کہ ایسے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کریں جس کا بیان مذکورہ جملہ میں آچکا ہے، دوسرے یہ کہ صرف ان لوگوں سے کنارہ کشی اور اعراض بھی کافی نہیں، بلکہ ایجابی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کے ذریعہ ان کو نصیحت بھی کرتے رہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے بھی رہیں۔
آخر آیت میں اس عذاب کی تفصیل اس طرح بیان فرمائی، کہ اگر ان کی یہی حالت رہی تو یہ اپنے کردارِ بد کے جال میں خود پھنس جائیں گے، آیت میں اس جگہ اَنْ تُبْسَلَ کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جس کے معنی قید ہوجانے اور پھنس جانے کے ہیں۔
چونکہ دنیا میں انسان اس کا خوگر ہے کہ اگر کبھی کوئی غلطی یا ظلم کسی پر کر بیٹھا ہے اور اس کی سزا اس کے سامنے آگئی تو سزا سے بچنے کے لئے تین قسم کے ذرائع اختیار کرتا ہے، کبھی اپنی جماعت اور جتھے کا زور اس کے خلاف استعمال کرکے اپنے ظلم کی پاداش سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر اس سے عاجز ہوگیا تو بڑے لوگوں کی سفارش سے کام لیتا ہے، اور یہ بھی نہ چلی تو پھر یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لئے کچھ مال خرچ کرے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتلا دیا کہ خدا کے مجرم کے لئے سزا سے بچانے والا نہ کوئی دوست عزیز ہوسکتا ہے، نہ کسی کی سفارش بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے چل سکتی ہے، اور نہ کوئی مال قبول کیا جاسکتا ہے، بلکہ اگر سارے جہان کا مال بھی اس کے قبضہ میں ہو اور وہ اس سب مال کو سزا سے بچنے کا فدیہ بنانا چاہئے تب بھی یہ فدیہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔
آخر آیت میں فرمایاۭاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اُبْسِلُوْا یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال بد کی سزا میں پکڑے گئے ہیں، ان کو پینے کے لئے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ملے گا، جس کے متعلق دوسری آیت میں ہے کہ وہ ان کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دے گا، اور اس پانی کے علاوہ دوسرے بھی دردناک قسم کے عذاب ہوں گے ان کے کفر و انکار کے بدلے میں۔
اس آخری آیت میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ آخرت سے غافل صرف دنیا کی زندگی پر مگن ہیں، ان کی صحبت و مجالست بھی انسان کے لئے مہلک ہے، اس کا انجام یہ ہے کہ ان کی صحبت میں رہنے والا بھی اس عذاب کا شکار ہوگا، جس میں وہ مبتلا ہیں۔
ان تینوں آیتوں کا حاصل مسلمان کو برے ماحول اور بری صحبت سے بچانا ہے جو انسان کے لئے ستم قاتل ہے، قرآن و حدیث کی بیشمار نصوص کے علاوہ مشاہدہ اور تجربہ اس کا گواہ ہے کہ انسان کو تمام برائیوں اور جرائم میں مبتلا کرنے والی چیز اس کی بری سوسائٹی اور برا ماحول ہے جس میں پھنسنے کے بعد انسان اول تو خلاف ضمیر اور خلاف طبع برائیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، اور پھر جب عادت پڑجاتی ہے تو یہ برائی کا احساس بھی ختم ہوجاتا ہے، بلکہ برائی کو بھلائی اور بھلائی کو برائی سمجھنے لگتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص گناہ میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اور جیسے سفید کپڑے میں ایک سیاہ نقطہ ہر شخص کو ناگوار ہوتا ہے اس کو بھی گناہ سے دل میں ناگواری پیدا ہوتی ہے، لیکن جب ایک کے بعد دوسرا اور تیسرا گناہ کرتا چلا جاتا ہے اور پچھلے گناہ سے توبہ نہیں کرتا تو یکے بعد دیگرے سیاہ نقطے لگتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ دل کی نورانی لوح بالکل سیاہ ہوجاتی ہے، اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو بھلے برے کی تمیز نہیں رہتی، قرآن مجید میں اسی کو لفظ ران سے تعبیر فرمایا ہے، (آیت) کلا بل ران علی، ”یعنی ان کے دلوں میں ان کے اعمال بد کی وجہ سے زنگ لگ گیا کہ اب صلاحیت ہی مفقود ہوگئی“۔
اور جہاں تک غور کیا جائے انسان کو اس حالت پر پہنچانے والی چیز اکثر اس کا غلط ماحول اور بری صحبت ہوتی ہے، نعوذ باللہ مہنما، اسی لئے بچوں کے مربّیوں کا فرض ہے کہ بچوں کو ایسے ماحول اور سوسائٹی سے بچانے میں پوری کوشش کریں۔
اگلی تین آیتوں میں بھی شرک کے ابطال اور توحید اور آخرت کے اثبات کا مضمون ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔
Ayah 6:74خلاصہ تفسیر
اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ آزر (نام) سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے، بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو (جو اس اعتقاد میں تیرے شریک ہیں) صریح غلطی میں دیکھ رہا ہوں (اور ستاروں کے متعلق آگے گفتگو آئے گی، درمیان میں ابراہیم ؑ کا صحت نظر کے ساتھ موصوف ہونا کہ ما قبل و ما بعد دونوں سے اس کا تعلق ہے فرماتے ہیں) اور ہم نے ایسی ہی (کامل) طور پر ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات (بچشم معرفت) دکھلائیں، تاکہ وہ (خالق کی ذات وصفات کے) عارف ہوجاویں اور تاکہ (ازدیار معرفت سے) کامل یقین کرنے والوں سے ہوجاویں (آگے ستاروں کے متعلق گفتگو کہ تتمہ مناظرہ کا ہے مذکور ہے کہ اوپر کی گفتگو تو بتوں کے متعلق ہوچکی) پھر (اسی دن یا کسی اور دن) جب رات کی تاریکی ان پر (اسی طرح اور سب پر) چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا (کہ چمک رہا ہے) آپ نے (اپنی قوم سے مخاطب ہوکر) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور میرے احوال میں متصرف) ہے (بہت اچھا، اب تھوڑی دیر میں حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے، چناچہ تھوڑے عرصہ کے بعد وہ افق میں جا چھپا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہوجانے والوں سے محبت نہیں رکھتا (اور محبت لوازم اعتقاد ربوبیت سے ہے پس حاصل یہ ہوا کہ میں رب نہیں سمجھتا) پھر (اسی شب میں یا کسی دوسری شب میں) جب چاند کو دیکھا (کہ) چمکتا ہوا (نکلا ہے) تو (پہلے ہی کی طرح) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور متصرف فی الاحوال) ہے (بہتر اب تھوڑی دیر میں اس کی کیفیت بھی دیکھنا چناچہ وہ بھی غروب ہوگیا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرا رب (حقیقی) ہدایت نہ کرتا رہے (جیسا اب تک ہدایت کرتا رہتا ہے) تو میں بھی (تمہاری طرح) گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاؤں پھر (یعنی اگر چاند کا قصہ اسی قصہ کو کب کی شب کا تھا تب تو کسی شب کو صبح کو اور اگر چاند کا قصہ اسی قصہ کو کب کی شب کا نہ تھا تو قصہ قمر کی شب کی صبح کو یا اس کے علاوہ کسی اور شب کی صبح کو) جب آفتاب دیکھا (کہ بڑی آب و تاب سے) چمکتا ہوا (نکلا ہے) تو (پہلی دو بار کی طرح پھر) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور متصرف فی الاحوال) ہے (اور) یہ تو سب (مذکورہ ستاروں) میں بڑا ہے (اس پر خاتمہ کلام کا ہوجاوے گا، اگر اس کی ربوبیت باطل ہوگئی تو چھوٹوں کی بدرجہ اولیٰ باطل ہوجاوے گی، غرض شام ہوئی تو وہ بھی غروب ہوگیا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار (اور نفور) ہوں (یعنی برأت ظاہر کرتا ہوں، اعتقاداً تو ہمیشہ سے بیزار ہی تھے) میں (سب طریقوں سے) یک سو ہو کر اپنا رخ (ظاہر کا اور دل کا) اس (ذات) کی طرف (کرنا تم سے ظاہر) کرتا ہوں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور میں (تمہاری طرح) شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں (نہ اعتقاداً نہ قولاً نہ عملاً) اور ان سے ان کی قوم نے (بیہودہ) حجت کرنا شروع کی (وہ یہ کہ رسم قدیم ہے (آیت) وجدنا اباءنا لھا عابدین، اور معبودان باطلہ کے انکار پر ڈرایا بھی کہ کبھی تم کو یہ کسی آفت میں نہ پھنسا دیں کما یدل علیہ الجواب بقولہ ولا اخاف الخ) آپ نے (پہلی بات کے جواب میں تو یہ) فرمایا کہ کیا تم اللہ (کی توحید) کے معاملہ میں مجھ سے (باطل) حجت کرتے ہو، حالانکہ اس نے مجھ کو (استدلال صحیح کا) طریقہ بتلا دیا ہے (جس کو میں تمہارے روبرو پیش کرچکا ہوں، اور محض رسم قدیم ہونا اس استدلال کا جواب نہیں ہو سکتا، پھر اس سے احتجاج تمہارے لئے بیکار اور میرے نزدیک غیر قابل التفات) اور (دوسری بات کے جواب میں یہ فرمایا کہ) میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ (استحقاق عبادت میں) شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا (کہ وہ مجھ کو کوئی صدمہ پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ان میں خود صفت قدرت ہی مفقود ہے اور اگر کسی چیز میں ہو بھی تو استقلال قدرت مفقود ہے) ہاں لیکن اگر پروردگار ہی کوئی امر چاہے (تو وہ دوسری بات ہے وہ ہوجاوے گی لیکن اس سے آلہہ دار باب باطلہ کی قدرت کا ثبوت یا ان سے خوف کی ضرورت کب لازم آئی اور) میرا پروردگار (جس طرح قادر مطلق ہے جیسا ان اشیاء سے معلوم ہوا اسی طرح وہ) ہر چیز کو اپنے (احاطہ) علم میں (بھی) گھیرے ہوئے ہے (غرض قدرت و علم دونوں اسی کے ساتھ مختص ہیں، اور تمہارے آلہہ کو نہ قدرت ہے نہ علم ہے) کیا تم (سنتے ہو اور) پھر (بھی) خیال نہیں کرتے اور (جس طرح میرے نہ ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمہارے معبود علم وقدرت سے محض معریٰ ہیں، اسی طرح یہ بات بھی تو ہے کہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا بھی تو نہیں تو پھر) میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے (اللہ تعالیٰ کے ساتھ استحقاق عبادت اور اعتقاد ربوبیت میں) شریک بنایا ہے، حالانکہ (تم کو ڈرنا چاہئے دو وجہ سے، اول تم نے ڈرکا کام یعنی شرک کیا ہے، جس پر عذاب مرتب ہوتا ہے، دوسرے خدا کا عالم اور قادر ہونا معلوم ہوچکا ہے، مگر) تم اس بات (کے وبال) سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن (کے معبود ہونے) پر اللہ تعالیٰ نے تم پر کوئی دلیل (لفظاً یا معنیً) نازل نہیں فرمائی (مطلب یہ کہ ڈرنا چاہئے تم کو پھر الٹا مجھ کو ڈراتے ہو) سو (بعد اس تقریر کے انصاف سے سوچ کر بتلاؤ کہ) ان دو (مذکورہ) جماعتوں میں سے (یعنی مشرکین و موحدین میں سے) امن کا (یعنی اس کا کہ اس پر خوف کا) اگر تم (کچھ) خبر رکھتے ہو۔
معارف و مسائل
ان سے پہلی آیات میں رسول کریم ﷺ کا مشرکین عرب کو خطاب اور بت پرستی چھوڑ کر صرف خدا پرستی کی دعوت کا بیان تھا۔
ان آیات میں اسی دعوت حق کی تائید ایک خاص انداز میں فرمائی گئی ہے، جو طبعی طور پر اہل عرب کے لئے دلنشین ہو سکتی ہے، وہ یہ کہ حضرت ابراہیم ؑ تمام عرب کے جدِّ امجد ہیں اور اسی لئے سارا عرب ان کی تعظیم پر ہمیشہ سے متفق چلا آیا ہے، ان آیات میں حضرت ابراہیم ؑ کے اس مناظرہ کا ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے بت پرستی کے خلاف اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، اور پھر سب کو توحید حق کا سبق دیا تھا۔
پہلی آیت میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم نے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے، میں تم کو اور تمہاری ساری قوم کو گمراہی میں دیکھتا ہوں۔
مشہور یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم ؑ کے والد کا نام ہے اور اکثر مورخین نے ان کا نام تارخ بتلایا ہے اور یہ کہ آزر ان کا لقب ہے، اور امام رازی رحمة اللہ علیہ اور علماء سلف میں سے ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے والد کا نام تارخ اور چچا کا نام آزر ہے، ان کا چچا آزر نمرود کی وزارت کے بعد شرک میں مبتلا ہوگیا تھا، اور چچا کو باپ کہنا عربی محاورات میں عام ہے، اسی محاورہ کے تحت آیت میں آزر کو حضرت ابراہیم ؑ کا باپ فرمایا گیا ہے، زرقانی نے شرح مواہب میں اس کے کئی شواہد بھی نقل کئے ہیں۔
اصلاح عقائد و اعمال کی دعوت اپنے گھر اور خاندان سے شروع کرنی چاہئے
آزر حضرت ابراہیم ؑ کے والد ہوں یا چچا بہر حال نسبی طور پر ان کے قابل احترام بزرگ تھے، حضرت ابراہیم ؑ نے سب سے پہلے دعوت حق اپنے گھر سے شروع فرمائی، جیسا کہ رسول کریم ﷺ کو بھی اس کا حکم ہوا ہے (آیت) وانذر عشیرتک الاقربین، یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو خدا کے عذاب سے ڈرائیے۔ اور آپ ﷺ نے اس کے ماتحت سب سے پہلے اپنے خاندان ہی کو کوہ صفا پر چڑھ کر دعوت حق کے لئے جمع فرمایا۔
تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر خاندان کے کوئی واجب الاحترام بزرگ دین کے صحیح راستہ پر نہ ہوں تو ان کو صحیح راستہ کی طرف دعوت دینا احترام کے خلاف نہیں بلکہ ہمدردی و خیر خواہی کا تقاضا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دعوت حق اور اصلاح کا کام اپنے قریبی لوگوں سے شروع کرنا سنت انبیاء ہے۔
دو قومی نظرئیے، مسلمان ایک قوم اور کافر دوسری قوم
نیز اس آیت میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے خاندان اور قوم کی نسبت اپنی طرف کرنے کے بجائے باپ سے یہ کہا کہ تمہاری قوم گمراہی میں ہے، اس میں اس عظیم قربانی کی طرف اشارہ ہے جو ابراہیم ؑ نے خدا کی راہ میں اپنی مشرک برادری سے قطع تعلق کرکے ادا کی اور اپنے عمل سے بتلا دیا کہ مسلم قومیت رشتہ اسلام سے قائم ہوتی ہے، نسبی اور وطنی قومیتیں اگر اس سے متصادم ہوں تو وہ سب چھوڑ دینے کے قابل ہیں
ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد
فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد
قرآن کریم نے حضرت ابراہیم ؑ کے اس واقعہ کو ذکر کرکے آئندہ آنے والی امتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں، ارشاد ہے(آیت) قد کانت لکم اسوة حسنة، یعنی امت محمدیہ ﷺ کے لئے اسوہ حسنہ اور قابل اقتداء ہے، حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کا یہ عمل کہ انہوں نے اپنی نسبی اور وطنی برادری سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے غلط معبودوں سے بیزار ہیں، اور ہمارے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار اس وقت تک حائل ہے جب تک تم ایک اللہ کی عبادت اختیار نہ کرلو۔
معلوم ہوا کہ یہ دو قومی نظرئیے ہیں جس نے پاکستان بنوایا ہے، اس کا اعلان سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم ؑ نے فرمایا ہے، امّتِ محمدیہ ﷺ اور دوسری تمام امتوں نے حسب ہدایت یہی طریقہ اختیار کیا، اور عام طور پر مسلمانوں میں قومیت اسلام معروف ہوگئی، حجة الوداع کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کو ایک قافلہ ملا، آپ ﷺ نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو، تو جواب دیا نحن قوم مسلمون (بخاری) اس میں عرب کے سابقہ دستور کے مطابق کسی قبیلہ یا خاندان کا نام لینے کے بجائے مسلمون کہہ کر اس حقیقی قومیت کا بتلا دیا جو دنیا سے لے کر آخر تک چلنے والی ہے، حضرت ابراہیم ؑ نے اس جگہ اپنے باپ سے خطاب کے وقت تو برادری کی نسبت ان کی طرف کرکے اپنی بیزاری کا اعلان فرمایا اور جس جگہ قوم سے اپنی بیزاری اور قطع تعلقی کا اعلان کرنا تھا وہاں اپنی طرف منسوب کرکے خطاب کیا، جیسے اگلی آیت میں ہے اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ ، یعنی اے میری قوم ! میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ اس میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ نسب و وطن کے لحاظ سے تم میری قوم ہو، لیکن تمہارے مشرکانہ افعال نے مجھے تمہاری برادری سے قطع تعلق کرنے پر مجبور کردیا۔
حضرت ابراہیم ؑ کی برادری اور ان کے باپ دوہرے شرک میں مبتلا تھے کہ بتوں کی بھی پرستش کرتے تھے، اور ستاروں کی بھی، اسی لئے حضرت ابراہیم ؑ نے انہی دونوں مسئلوں پر اپنے باپ اور اپنی قوم سے مناظرہ کیا
Ayah 6:75پہلے بت پرستی کا ضلالت و گمراہی ہونا ذکر فرمایا، اگلی آیات میں ستاروں کا قابل عبادت نہ ہونا بیان فرمایا، اور اس سے پہلے ایک آیت میں بطور تمہید کے حق تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی ایک خاص شان اور علم و بصیرت میں اعلیٰ مقام کا ذکر اس طرح فرمایاوَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ ، یعنی ہم نے ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کو اس طرح دکھلا دیا کہ ان کو سب چیزوں کی حقیقت واشگاف طور پر معلوم ہوجائے، اور ان کا یقین مکمل ہوجائے اسی کا نتیجہ تھا جو بعد کی آیات میں ایک عجیب طرح کے مناظرہ کی شکل میں اس طرح مذکور ہے
Ayahs 6:76–81تبلیغ و دعوت میں حکمت و تدبیر سے کام لینا سنت انبیاء ہے
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا، یعنی ایک رات میں جب تاریکی چھاگئی اور ایک کو کب یعنی ستارہ پر نظر پڑی تو اپنی قوم کو سنا کر کہا کہ یہ ستارہ میرا رب ہے، مطلب یہ تھا کہ تمہارے خیالات و عقائد کی رو سے یہی میرا اور تمہارا رب یعنی پالنے والا ہے، اب تھوڑی دیر میں اس کی حقیقت دیکھ لینا۔ چناچہ کچھ دیر کے بعد وہ غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم ؑ کو قوم پر حجت قائم کرنے کا واضح موقعہ ہاتھ آیا، اور فرمایا لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ ، آفلین کا یہ لفظ افول سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں غروب ہونا۔
مطلب یہ ہے کہ میں غروب ہوجانے والی چیزوں سے محبت نہیں رکھتا، اور جس کو خدا یا معبود بنایا جائے ظاہر ہے کہ وہ سب سے زیادہ محبت و عظمت کا مستحق ہونا چاہئے، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے ایک شعر میں اسی واقعہ کو بیان فرمایا ہے
خلیل آسادر ملک یقیں زن
نوائے لا احب الآفلین زن
اس کے بعد پھر کسی دوسری رات میں چاند چمکتا ہوا نظر آیا تو پھر اپنی قوم کو سنا کر وہی طریقہ اختیار فرمایا اور کہا کہ (تمھارے عقائد کے مطابق) یہ میرا رب ہے، مگر اس کی حقیقت بھی کچھ دیر کے بعد سامنے آجائے گی، چناچہ جب چاند غروب ہوگیا تو فرمایا اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ کرتا رہتا تو میں بھی تمہاری طرح گمراہوں میں داخل ہوجاتا، اور چاند ہی کو اپنا رب اور معبود سمجھ بیٹھتا۔ لیکن اس کے طلوع و غروب کے بدلنے والے حالات نے مجھے متنبہ کردیا کہ یہ ستارہ بھی قابل عبادت نہیں۔
اس آیت میں اس کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ میرا رب کوئی دوسری شے ہے، جس کی طرف سے مجھے ہدایت ہوتی رہتی ہے۔
اس کے بعد ایک روز آفتاب کو نکلتے ہوئے دیکھا تو پھر قوم کو سنا کر اسی طریقہ پر فرمایا کہ (تمھارے خیال کے مطابق) یہ میرا رب ہے، اور یہ تو سب سے بڑا ہے، مگر اس بڑے کی حقیقت و حیثیت بھی عنقریب تمہارے سامنے آجائے گی۔ چناچہ آفتاب بھی اپنے وقت پر غروب ہوگیا، تو قوم پر آخری حجت تمام کرنے کے بعد اب اصل حقیقت کو واضح طور پر بیان فرما دیا کہ اے میری قوم ! میں تمہارے ان مشرکانہ خیالات سے بیزار ہوں، کہ تم نے خدا تعالیٰ کی مخلوقات کو ہی خدا کا شریک بنا رکھا ہے۔
اس کے بعد اس حقیقت کو بتلا دیا کہ میرا اور تمہارا رب (پالنے والا) ان تمام مخلوقات میں سے کوئی نہیں ہوسکتا، جو خود اپنے وجود میں دوسرے کی محتاج ہیں، اور ہر وقت ہر آن عروج و نزول اور طلوع و غروب کے تغیرات میں گھری ہوئی ہیں، بلکہ ہمارا سب کا رب وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان میں پیدا ہونے والی تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے، اس لئے میں اپنا رخ تمہارے سب خود تراشیدہ بتوں اور تغیرات و تاثرات میں گھرے ہوئے ستاروں سے پھیر کر صرف ایک خدائے وحدہ لا شریک لہ کی طرف کرلیا ہے، اور میں تمہاری طرح مشرکین میں سے نہیں ہوں۔
اس واقعہ مناظرہ میں حضرت ابراہیم ؑ نے پیغمبرانہ حکمت و موعظت سے کام لے کر یکبارگی ان کی نجوم پرستی کو غلط یا گمراہی نہیں فرمایا، بلکہ ایک ایسا انداز قائم کیا، جس سے ہر ذی عقل انسان کا قلب و دماغ خود متاثر ہو کر حقیقت کو پہچان لے، ہاں بت پرسی کے خلاف بات کرنے میں اوّل ہی شدت اختیار فرمائی، اور اپنے باپ اور پوری قوم کا گمراہی پر ہونا صاف طور پر بیان کردیا، وجہ یہ تھی کہ بت پرستی کا نامعقول گمراہی ہونا بالکل واضح اور کھلا ہوا تھا، بخلاف نجوم پرستی کے کہ اس کی گمراہی اتنی واضح اور جلی نہیں تھی۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے نجوم پرستی کے خلاف اپنی قوم کے سامنے جو استدلال بیان فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جو چیز تغیر پذیر ہو اور اس کے حالات اول بدل ہوتے رہتے ہوں، اور وہ اپنی حرکات میں کسی دوسری طاقت کے تابع ہو وہ ہرگز اس لائق نہیں کہ اس کو اپنا رب قرار دیں، اس استدلال میں سیاروں کے طلوع و غروب اور درمیانی تمام حالات سے استدلال کے لئے ان سیاروں کے غروب کو پیش کیا، کیونکہ ان کا غروب عوام کی نظروں میں ایک طرح سے ان کا زوال سمجھا جاتا ہے، اور انبیاء (علیہم السلام) کا عام طرز استدلال وہ ہوتا ہے جو عوام کے ذہنوں پر اثر انداز ہو، وہ فلسفیانہ حقائق کے پیچھے زیادہ نہیں پڑتے، بلکہ عام ذہنوں کے مطابق خطاب فرماتے ہیں، اس لئے ان سیاروں کی بےبسی اور بےاثری ثابت کرنے کے لئے ان کے غروب کو پیش کیا، ورنہ ان کے بےبس اور بےقدرت ہونے پر تو طلوع سے بھی استدلال ہوسکتا تھا، اور اس کے بعد غروب سے پہلے تک جتنے تغیرات پیش آتے ہیں ان سے بھی اس پر دلیل پکڑی جاسکتی ہے۔
مبلغین اسلام کے لئے چند ہدایات
حضرت ابراہیم ؑ کے اس طرز مناظرہ سے علماء و مبلغین کے لئے چند اہم ہدایات حاصل ہوئیںاول یہ کہ قوموں کی تبلیغ و اصلاح میں نہ ہر جگہ سختی مناسب ہے نہ ہر جگہ نرمی، بلکہ ہر ایک کا ایک موقعہ اور ایک حد ہے، چناچہ بت پرستی کے معاملہ میں حضرت خلیل اللہ نے سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں، کیونکہ اس کی گمراہی مشاہدہ میں آنے والی چیز ہے، اور نجوم پرستی کے معاملہ میں ایسے سخت الفاظ استعمال نہیں فرمائے، بلکہ ایک خاص تدابیر سے معاملہ کی حقیقت کو قوم کے ذہن نشین فرمایا، کیونکہ سیاروں اور ستاروں کا بےبس اور بےاختیار ہونا اتنا واضح اور کھلا ہوا نہیں تھا جتنا خود تراشیدہ بتوں کا، اس سے معلوم ہوا کہ عوام اگر کسی ایسی غلطی میں مبتلا ہوں جس کا غلطی اور گمراہی ہونا عام نظروں میں واضح نہ ہو تو عالم اور مبلغ کو چاہئے کہ تشدد کے بجائے ان کے شبہات کو دور کرنے کی تدبیر کرے۔
دوسری ہدایت اس میں یہ ہے کہ اظہار حق و حقیقت کے لئے اس میں حضرت ابراہیم ؑ نے قوم کو یوں خطاب نہیں کیا کہ تم ایسا کرو، بلکہ اپنا حال بتلا دیا کہ میں تو ان طلوع و غروب کے چکر میں رہنے والی چیزوں کو معبود قرار نہیں دے سکتا، اس لئے میں نے اپنا رخ ایک ایسی ہستی کی طرف کرلیا جو ان سب چیزوں کو پیدا کرنے والی اور پالنے والی ہے، مقصد تو یہی تھا کہ تم کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ مگر حکیمانہ انداز میں صریح خطاب سے پرہیز فرمایا، تاکہ وہ ضد پر نہ آجائیں، اس سے معلوم ہوا کہ مصلح اور مبلغ کا صرف یہ کام نہیں کہ حق بات کو جس طرح چاہے کہہ ڈالے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ ایسے انداز سے کہے جو لوگوں کے لئے موثر ہو۔
Ayah 6:82خلاصہ تفسیر
جو لوگ (اللہ پر) ایمان رکھتے ہیں اور اپنے (اس) ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لئے (قیامت میں) امن ہے اور وہی (دنیا میں) راہ (راست) پر چل رہے ہیں (اور وہ صرف موحدین ہیں بخلاف مشرکین کے کہ گو بالمعنی اللغوی خدا پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ خدا کے قائل ہیں، لیکن شرک بھی کرتے ہیں جس سے ایمان شرعی منفی ہوجاتا ہے، جب موحدین قابل امن ہیں سو اس صورت میں خود تم ڈرو نہ کہ مجھ کو ڈراتے رہو، حالانکہ نہ تمہارے آلہہ ڈرنے کے قابل نہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا اور نہ دنیا کا خوف قابل اعتبار، اور تمہاری حالت تینوں اعتبار سے محل خوف ہے) اور یہ (حجت جو ابراہیم ؑ نے توحید پر قائم کی تھی) ہماری (دی ہوئی) حجت تھی وہ ہم نے ابراہیم ؑ کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی (جب ہماری دی ہوئی تھی تو یقینا اعلیٰ درجہ کی تھی اور ابراہیم ؑ کی کیا تخصیص ہے) ہم (تو) جس کو چاہتے ہیں (علمی و عملی) مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں (چنانچہ سب انبیاء کو یہ رفعت درجات عطا فرمائی) بیشک آپ کا رب بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے (کہ ہر ایک کا حال اور استعداد جانتا ہے اور ہر ایک کے مناسب اس کو کمال عطا فرماتا ہے) اور (ہم نے جیسا ابراہیم ؑ کو کمال ذاتی علم و عمل دیا، اسی طرح کمال اضافی بھی دیا کہ ان کے اصول اور فروع سے بہتوں کو کمال دیا چنانچہ) ہم نے ان کو (ایک بیٹا) اسحاق دیا اور (ایک پوتا) یعقوب (دیا اور اس سے دوسری اولاد کی نفی نہیں ہوتی اور دونوں صاحبوں میں سے) ہر ایک کو (طریقِ حق کی) ہم نے ہدایت کی، اور (ابراہیم سے) پہلے زمانہ میں ہم نے نوح ؑ کو (جن کا ابراہیم ؑ کے اجداد میں ہونا مشہور ہے اور اصل کی فضیلت فرع میں بھی مؤ ثر ہوتی ہے طریق حق کی) ہدایت کی اور ان (ابراہیم علیہ السلام) کی اولاد (لغوی یا عرفی یا شرعی) میں سے (اخیر تک جتنے مذکور ہیں سب کو طریق حق کی ہدایت کی یعنی) داؤد ؑ کو اور (ان کے صاحبزادہ) سلیمان ؑ کو اور ایوب ؑ کو اور یوسف ؑ کو اور موسیٰ ؑ کو اور ہارون ؑ کو (طریقِ حق کی ہدایت کی) اور (جب یہ ہدایت پر چلے تو ہم نے ان کو جزائے خیر بھی دی مثل ثواب و زیادہ قرب کے اور جس طرح نیک کاموں پر ان کو جزاء دی) اسی طرح (ہماری عادت ہے کہ) ہم نیک کام کرنے والوں کو (مناسب) جزاء دیا کرتے ہیں اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) زکریا ؑ کو اور (ان کے صاحبزادہ) یحییٰ ؑ کو اور عیسیٰ ؑ کو اور الیاس ؑ کو (اور یہ) سب (حضرات) پورے شائستہ لوگوں میں تھے اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) اسماعیل ؑ کو اور یسع ؑ کو اور یونس ؑ کو اور لوط ؑ کو اور (ان میں سے) ہر ایک کو (ان زمانوں کے) تمام جہان والوں پر (نبوت سے) ہم نے فضیلت دی اور نیز ان (حضرات مذکورین) کے کچھ باپ داداوں کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو، (طریقِ حق کی ہم نے ہدایت کی) اور ہم نے ان (سب) کو راہ راست (یعنی دین حق) کی ہدایت کی (اور وہ دین جس کی ان سب کو ہدایت ہوئی تھی) اللہ کی (جانب سے جو) ہدایت (ہوتی ہے) وہ یہی (دین) ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت (یعنی منزل پر پہنچانے کی صورت میں) کرتا ہے (چنانچہ اب جو لوگ موجود ہیں ان کو بھی اسی کی ہدایت اس معنی سے ہوئی کہ ان کو صحیح راستہ دکھا دیا، پھر منزل پر پہنچانا نہ پہنچنا ان کا کام ہے، مگر ان میں سے بعض نے اس کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیا) اور (شرک اس قدر ناپسند چیز ہے کہ غیر انبیاء تو کس شمار میں ہیں) اگر فرضاً یہ حضرات (انبیاء مذکورین) بھی (نعوذ باللہ) شرک کرتے تو جو کچھ یہ (نیک) اعمال کیا کرتے تھے ان میں سب اکارت ہوجاتے (آگے مسئلہ نبوت کی طرف اشارہ ہے کہ) یہ (جتنے مذکور ہوئے) ایسے تھے کہ ہم نے ان (کے مجموعہ) کو کتاب (آسمانی) اور حکمت (کے علوم) اور نبوت عطاء کی تھی (تو نبوت امر عجیب نہیں جو یہ کافر لوگ آپ کے منکر ہو رہے ہیں، کیونکہ نظائر موجود ہیں) سو اگر (نظیر موجود ہونے پر بھی) یہ لوگ (آپ کی) نبوت کا انکار کریں تو (آپ غم نہ کیجئے کیونکہ) ہم نے اس کے (ماننے کے) لئے ایسے بہت لوگ مقرر کر دئیے ہیں (یعنی مہاجرین و انصار) جو اس کے منکر نہیں ہیں۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ سے پہلی آیات میں حضرت ابراہیم ؑ کا مناظرہ اپنے باپ آزر اور پوری قوم نمرود کے ساتھ مذکور تھا، جس میں ان کی بت پرستی اور نجوم پرستی کے خلاف یقینی شہادتیں پیش کرنے کے بعد آیات مذکورہ میں اپنی قوم کو خطاب فرمایا کہ تم مجھے اپنے بتوں سے ڈراتے ہو کہ میں ان کا انکار کروں گا تو یہ مجھے برباد کردیں گے، حالانکہ نہ بتوں میں اس کی قدر ہے اور نہ میں نے کوئی کام ایسا کیا ہے جس کے نتیجہ میں مجھے کوئی مصیبت پہنچے، بلکہ ڈرنا تمہیں چاہئے کہ تم نے جرم بھی ایسا سخت کیا ہے کہ اللہ کی مخلوق بلکہ مخلوق کی مصنوعات کو خدا کا شریک اور برابر کردیا، اور پھر خدا تعالیٰ کا علیم وخبیر اور قادر مطلق ہونا بھی کسی عقل والے سے مخفی نہیں تو اب تم خود سوچ کر بتلاؤ کہ امن اور اطمینان کا مستحق کون ہے، اور ڈرنا کسی کو چاہئے ؟
ان آیات میں سے پہلی آیت میں یہ مضمون ارشاد فرمایا کہ عذاب سے مامون و مطمئن صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں، اور پھر اپنے ایمان میں کسی ظلم کی ملاوٹ نہ کریں، حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام سہم گئے، اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کوئی ظلم اپنی جان پر بذریعہ گناہ کے نہیں کیا، اور اس آیت میں عذاب سے مامون ہونے کی یہ شرط ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی ظلم نہ کیا ہو، تو پھر ہماری نجات کی کیا سبیل ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم آیت کا صحیح مفہوم نہیں سمجھتے، آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے(آیت) ان الشرک لظلم عظیم، اس لئے مراد آیت کی یہ ہے کہ جو شخص ایمان لائے اور پھر اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے وہ عذاب سے مامون اور ہدایت یافتہ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ بتوں، پتھروں، درختوں، ستاروں، دریاؤں کو پوجنے والی مخلوق اپنی بیوقوفی سے ان چیزوں کو بااختیار سمجھتی ہے، اور ان کی عبادت چھوڑنے سے اس لئے ڈرتی ہے کہ کہیں یہ چیزیں ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا دیں، حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام نے گُر کی بات ان کو بتلائی کہ خدائے قدوس جو تمہارے ہر کام سے باخبر بھی ہے اور تمہارے ہر بھلے برے پر پوری طرح قادر بھی ہے اس سے تو تم ڈرتے نہیں کہ اس کی خلاف ورزی کرنے سے کوئی مصیبت آجائے اور جن چیزوں میں نہ علم ہے نہ قدرت اس سے ایسے ڈرتے ہو ؟ یہ سوائے بےعقلی کے اور کیا ہے، ڈرنا صرف اللہ تعالیٰ سے چاہئے، اور جس کا اس پر ایمان ہو وہ کسی خطرہ میں نہیں۔
اس آیت میں وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ فرمایا ہے، اس میں ظلم سے تو رسول کریم ﷺ کی تصریح کے موافق شرک مراد ہے، عام گناہ مراد نہیں، لیکن لفظ بظلم کو نکرہ لا کر عربی زبان کے قواعد کے مطابق عام کردیا جو ہر قسم کے شرک کو شامل ہے، اور لفظ لم یلبسوا لبس سے بنا ہے جس کے ایک معنی ہیں اوڑہنا یا خلط ملط کردینا۔ اور مراد آیت کی یہ ہے کہ جو آدمی اپنے ایمان میں کسی قسم کا شرک ملا دے یعنی خدا تعالیٰ کو تمام صفات کمال کے ساتھ ماننے کے باوجود غیر اللہ کو بھی ان میں سے بعض صفات کا حامل سمجھے وہ اس امن و ایمان سے خارج ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ شرک صرف یہی نہیں کہ کھلے طور پر مشرک و بت پرست ہوجائے، بلکہ وہ آدمی بھی مشرک ہے جو اگرچہ کسی بت کی پوجا پاٹ نہیں کرتا اور کلمہ اسلام پڑھتا ہے، مگر کسی فرشتہ یا رسول یا کسی ولی اللہ کو اللہ کی بعض صفات خاصہ کا شریک ٹھہرائے اس میں ان عوام کے لئے سخت تنبیہ ہے جو اولیاء اللہ اور ان کے مزار کو حاجت روا سمجھتے ہیں اور عملاً ان کو ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا خدائی کے اختیارات ان کے حوالے کردیئے گئے ہیں، نعوذ باللہ منہ۔
Ayah 6:83دوسری آیت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جو اپنی قوم کے مناظرہ میں کھلی فتح پائی، اور ان کو لاجواب کردیا، یہ ہمارا ہی انعام تھا کہ ان کو صحیح نظریہ عطا کیا پھر اس کے واضح دلائل بتلا دئیے، کسی کو اپنی عقل و فہم یا تقریر اور زور خطابت پر ناز نہ ہونا چاہئے بغیر خدا تعالیٰ کی امداد و اعانت کے کسی کا بیڑا پار نہیں ہوتا، نری عقل انسانی ادراک حقائق کیلئے کافی نہیں جس کا مشاہدہ ہر دور میں ہوتا رہتا ہے، کہ بڑے بڑے ماہر فلاسفر گمراہی کے راستہ پر پڑجاتے ہیں اور بہت سے اَن پڑھ جاہل صحیح عقیدہ اور نظریہ کے پابند ہوجاتے ہیں، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا
بے عنایاتِ حق و خاصانِ حق
گر ملک باشدسیہ ہستش ورق
آخر آیت میں فرمایا نرفع درجت من نشآء یعنی ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کردیتے ہیں، اس میں اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو جو پورے عالم میں اور قیامت تک آنے والی نسلوں میں خاص عزت و مقام عطا ہوا کہ یہودی، نصرانی، مسلمان، بُدھ مت وغیرہ سب کے سب ان کے تقدس کے قائل اور ان کی تعظیم کرتے چلے آئے ہیں، یہ بھی ہمارا ہی فضل و انعام ہے کسی کے کسب و اکتساب کا اس میں دخل نہیں۔
Ayahs 6:84–88اس کے بعد کی چھ آیتوں میں سترہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست شمار کی گئی ہے جن میں سے بعض حضرات ابراہیم ؑ کے آباء و اجداد ہیں، اور اکثر ان کی اولاد ہیں، اور بعض ان کے بھائی بھتیجے ہیں، ان آیتوں میں ایک طرف تو ان حضرات کا ہدایت پر ہونا، صالحین ہونا، صراط مستقیم پر ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بتلایا گیا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے دین کی خدمت کے لئے منتخب اور قبول فرما لیا ہے، اور دوسری طرف یہ جتلایا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے اللہ کی راہ میں اپنے باپ اور برادری اور وطن کو چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آخرت کے درجات عالیہ اور دائمی اور بےمثال راحتوں سے پہلے دنیا میں بھی ان کو اپنی برادری سے بہتر برادری اور وطن سے بہتر وطن عطا فرمایا، اور یہ شرف عظیم عطا فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد قیامت تک جتنے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے گئے وہ سب ان کی اولاد میں ہیں، ایک شاخ جو حضرت اسحاق ؑ سے چلی اس میں سید الاولین و الآخرین نبی الانبیاء خاتم النبین ﷺ پیدا ہوئے، اور یہ سب حضرت ابراہیم ؑ کی ذریّت ہیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ عزت و ذلت اور نجات و عذاب کا اصل مدار انسان کے اپنے ذاتی اعمال پر ہے، لیکن آباء و اجداد میں کسی نبی، ولی کا ہونا یا اولاد میں علماء صلحاء کا ہونا بھی ایک بڑی نعمت ہے، اور اس سے بھی انسان کو فائدہ پہنچتا ہے۔
ان سترہ انبیاء (علیہم السلام) میں جن کی فہرست آیات مذکورہ میں دی گئی ہے ایک حضرت نوح ؑ تو حضرت ابراہیم ؑ کے جد امجد ہیں، باقی سب کو ان کی ذریت فرمایا ہے۔ (آیت) ومن ذریتہ داود و سلیمٰن الآیة، اس میں ایک اشکال تو حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ہوسکتا ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ کی دختری اولاد میں سے ہیں، یعنی پوتے نہیں بلکہ نواسے ہیں، تو ان کو ذریت کہنا کیسے صحیح ہوگا ؟ اس کا جواب عامہ علماء و فقہاء نے یہ دیا ہے کہ لفظ ذریت پوتوں اور نواسوں دونوں کو شامل ہے، اور اسی سے استدلال کیا ہے کہ حضرات حسنین ؓ رسول اللہ ﷺ کی ذریت میں داخل ہیں۔
دوسرا اشکال حضرت لوط ؑ کے متعلق ہے کہ وہ اولاد میں نہیں بلکہ بھتیجے ہیں، لیکن اس کا جواب بھی واضح ہے کہ عرب میں چچا کو باپ اور بھتیجے کو بیٹا کہنا بہت ہی متعارف ہے۔
آیات مذکورہ میں حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام پر انعامات الٓہیہ بیان فرما کر ایک طرف تو یہ قانون قدرت بتلا دیا گیا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی محبوب چیزوں کو قربان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں بھی اس سے بہتر چیزیں عطا فرما دیتے ہیں، دوسری طرف مشرکین مکہ کو یہ حالات سنا کر اس طرف ہدایت کرنا مقصود ہے کہ تم لوگ محمد مصطفیٰ ﷺ کی بات نہیں مانتے تو دیکھو جن کو تم بھی سب بڑا مانتے ہو یعنی حضرت ابراہیم ؑ اور ان کا پورا خاندان وہ سب یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ قابل عبادت صرف ایک ذات حق تعالیٰ ہے، اس کے ساتھ کسی کو عبادت میں شریک کرنا یا اس کی مخصوص صفات کا ساجھی بتلانا کفر و گمراہی ہے، تم لوگ خود اپنے مسلمات کی رو سے بھی ملزم ہو۔
Ayah 6:89آٹھویں آیت میں یہی مضمون ارشاد فرمایا گیا اور اس کے آخر میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لئے ارشاد فرمایا کہفَاِنْ يَّكْفُرْ بِهَا هٰٓؤ ُ لَاۗءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا، یعنی اگر آپ کے کچھ مخاطب آپ کی بات نہیں مانتے اور تمام انبیاء سابقین کی ہدایات پیش کردینے کے باوجود وہ انکار ہی پر تلے ہوئے ہیں تو آپ غم نہ کریں، کیونکہ ہم نے آپ کی دعوت و ہدایت کو ماننے اور اپنانے کے لئے ایک بڑی قوم کو مقدر کر رکھا ہے، وہ کفر و انکار کے پاس نہ جائیں گے، اس میں عہد مبارک کے موجودین مہاجرین و انصار بھی داخل ہیں، اور قیامت تک آنے والے مسلمان بھی، اور یہ آیت ان سب لوگوں کے لئے مایہ فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مقام مدح میں ذکر فرمایا ہے، اللہم اجعلنا منھم واحشرنا فی زمرتھم۔