6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جو کہ مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کو دی روشنی کہ لئے پھرتا ہے اس کو لوگوں میں برابر ہوسکتا ہے اس کے کہ جس کا حال یہ ہے کہ پڑا ہے اندھیروں میں وہاں سے نکل نہیں سکتا اسی طرح مزین کردیئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام۔

خلاصہ تفسیر ایسا شخص جو کہ پہلے مردہ (یعنی گمراہ) تھا ہم نے اس کو زندہ (یعنی مسلمان) بنادیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور (یعنی ایمان) دے دیا کہ وہ اس کو لئے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے (یعنی ہر وقت وہ اس کے ساتھ رہتا ہے، جس سے وہ سب مضرتوں سے مثل گمراہی وغیرہ محفوظ اور مامون دبے فکر پھرتا ہے تو) کیا ایسا شخص (بدحالی میں) اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کی حالت یہ ہو کہ وہ (گمراہی کی) تاریکیوں میں (گھرا ہوا) ہے (اور) ان سے نکلنے ہی نہیں پاتا (مراد یہ کہ وہ مسلمان نہیں ہوا، اور اس کا تعجب نہ کیا جاوے کہ کفر پر باوجود اس کے ظلمت ہونے کے وہ کیوں قائم رہا، وجہ یہ کہ جس طرح مومنین کو ان کا ایمان اچھا معلوم ہوتا ہے) اسی طرح کافروں کو ان کے اعمال (کفر وغیرہ) مستحسن معلوم ہوا کرتے ہیں (چنانچہ اسی وجہ سے یہ روسائے مکہ جو آپ ﷺ سے مہمل فرمائشیں اور شبہات و مجادلات پیش کرتے رہتے ہیں اپنے کفر کو مستحسن ہی سمجھ کر اس پر مصر ہیں)۔ معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں پہلے اس کا ذکر آیا تھا کہ مخالفین اسلام رسول اللہ ﷺ اور قرآن کے کھلے کھلے معجزات دیکھنے کے باوجود ضد اور ہٹ دھرمی سے نئے نئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کے بعد قرآن نے بتلایا کہ اگر یہ لوگ واقعی حق طلب ہوتے تو جو معجزات ان کی آنکھوں کے سامنے آچکے ہیں وہ ان کو راہ حق دکھانے کے لئے کافی سے بھی زیادہ تھے، پھر ان معجزات کا بیان آیا۔ مذکورہ آیت میں رسول کریم ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے والوں اور کفر و انکار کرنے والوں کے کچھ حالات و خیالات اور دونوں کے نیک و بد انجام کا بیان اور مومن و کافر اور ایمان و کفر کی حقیقت کو مثالوں میں سمجھایا گیا ہے، مومن اور کافر کی مثال زندہ اور مردہ سے اور ایمان و کفر کی مثال روشنی اور اندھیرے سے دی گئی ہے، یہ قرآنی تمثیلات ہیں جن میں کوئی شاعری نہیں ایک حقیقت کا اظہار ہے۔ مومن زندہ ہے اور کافر مردہ اس تمثیل میں مومن کو زندہ اور کافر کو مردہ بتلایا گیا ہے، وجہ یہ ہے کہ انسان اور حیوانات اور نباتات وغیرہ میں اگرچہ حیات اور زندگی کی قسمیں اور شکلیں مختلف ہیں، لیکن اتنی بات سے کوئی سمجھدار انسان انکار نہیں کرسکتا کہ ان میں سے ہر ایک کی زندگی کسی خاص مقصد کے لئے ہے، اور قدرت نے اس میں اس مقصد کو حاصل کرنے کی پوری اہلیت اور صلاحیت رکھی ہے، ارشاد قرآنی (آیت) اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی۔ میں اسی کا بیان ہے کہ اللہ جل شانہ نے کائنات عالم کی ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کو جس مقصد کے لئے پیدا فرمایا تھا اس تک پہنچنے کی اس کو پوری ہدایت دیدی، جن کے ماتحت ہر مخلوق اپنے اپنے وظیفہ زندگی اور اپنی اپنی ڈیوٹی کا حق ادا کر رہی ہے، اس عالم میں زمین، پانی اور ہوا اور آگ، اسی طرح آسمانی مخلوقات اور چاند، سورج اور کل ستارے اپنی اپنی ڈیوٹی پوری طرح پہچان کر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں، اور یہی اداء فرائض ان میں سے ہر چیز کی زندگی کا ثبوت ہے، اور جس وقت جس حال میں ان میں سے کوئی چیز اپنی ڈیوٹی ادا کرنا چھوڑ دے تو وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے، پانی اگر اپنا کام پیاس بجھا دینا اور میل کچیل دور کرنا وغیرہ چھوڑ دے تو وہ پانی نہیں کہلائے گا، آگ جلنا اور جلانا چھوڑ دے تو وہ آگ نہیں رہے گی، درخت اور گھاس اگنا اور بڑھنا پھر پھل پھول لانا چھوڑ دے تو وہ درخت اور نبات نہیں رہے گی، کیونکہ اس نے اپنے مقصد زندگی کو چھوڑ دیا، تو وہ ایک بےجان مردہ کی طرح ہوگئی۔ تمام کائنات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایک انسان جس میں کچھ عقل و شعور ہو اس بات پر غور کرنے کے لئے مجبور ہوگا کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس کی ڈیوٹی کیا ہے، اور یہ کہ اگر وہ اپنے مقصد زندگی کو پورا کر رہا ہے، تو وہ زندہ کہلانے کا مستحق ہے، اور اس کو پورا نہیں کرتا تو وہ ایک مردہ لاش سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اب سوچنا یہ ہے کہ انسان کا مقصد زندگی کیا اور اس کے فرائض کیا ہیں، اور مذکور الصدر اصول کے مطابق یہ متعین ہے کہ اگر وہ اپنے مقصد زندگی اور ڈیوٹی کو ادا کر رہا ہے تو زندہ ہے ورنہ مردہ کہلانے کا مستحق ہے، جن بےبصیرت لوگوں نے انسا کو دنیا کی ایک خودرو گھاس یا ایک ہوشیار قسم کا جانور قرار دے دیا ہے اور ان کے نزدیک ایک انسان اور گدھے کتے میں کوئی امتیاز نہیں، ان سب کا مقصد زندگی انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات پورا کرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، پھر مرجانا ہی قرار دے لیا ہے، وہ تو اہل عقل و شعور کے نزدیک قابل خطاب نہیں، عقلاء دنیا خواہ کسی مذہب و ملت اور کسی مکتب خیال سے تعلق رکھتے ہوں ابتداء عالم سے آج تک انسان کے مخدوم کائنات اور فضل المخلوقات ہونے پر متفق چلے آئے ہیں، اور یہ ظاہر ہے کہ افضل و اعلیٰ اسی چیز کو سمجھا اور کہا جاسکتا ہے، جس کا مقصد زندگی اعلیٰ و افضل ہونے کے اعتبار سے ممتاز ہو، اور ہر سمجھ بوجھ والا انسان یہ بھی جانتا ہے کہ کھانے پینے، سونے جاگنے، رہنے سہنے، اوڑھنے پہننے میں انسان کو دوسرے جانوروں سے کوئی خاص امتیاز حاصل نہیں، بلکہ بہت سے جانور اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کھاتے پیتے ہیں، اس سے بہتر قدرتی لباس میں ملبوس ہیں، اس سے بہتر ہوا و فضاء میں رہتے بستے ہیں، اور جہاں تک اپنے نفع نقصان کے پہچاننے کا معاملہ ہے اس میں بھی ہر جانور بلکہ ہر درخت ایک حد تک باشعور ہے، مفید چیزوں کے حاصل کرنے اور مضر چیزوں سے بچنے کی خاصی صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہے، اسی طرح دوسروں کے لئے نفع رسانی کے معاملہ میں تو تمام حیوانات اور نباتات کا قدم بظاہر انسان سے بھی آگے نظر آتا ہے کہ ان کے گوشت کھال ہڈی، پٹھے اور درختوں کی جڑ سے لے کر شاخوں اور پتوں تک ہر چیز مخلوق کے لئے کار آمد اور ان کی ضروریات زندگی پیدا کرنے میں بیشمار فوائد کی حامل ہے، بخلاف انسان کے کہ نہ اس کا گوشت کسی کے کام آتا ہے نہ کھال، نہ بال نہ ہڈی نہ پٹھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان حالات میں پھر حضرت انسان کس بناء پر مخدوم کائنات اور افضل المخلوقات ٹھہرتے ہیں، اب حقیقت شناسی کی منزل قریب آپہنچی، ذرا سا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ان ساری چیزوں کے عقل و شعور کی رسائی صرف موجودہ زندگی کے وقتی اور ہنگامی نفع نقصان تک ہے، اور اسی زندگی میں وہ دوسروں کے لئے فائدہ بخش نظر آتی ہے، اس دنیا کی زندگی سے پہلے کیا تھا، اور بعد میں کیا آنے والا ہے، اس میدان میں جمادات، نباتات تو کیا کسی بڑے بڑے ہوشیار جانور کی عقل و شعور بھی کام نہیں دیتی، اور نہ اس میدان میں ان میں سے کوئی چیز کسی کیلئے کارآمد یا مفید ہوسکتی ہے، بس یہی وہ میدان ہے جن میں مخدوم کائنات اور افضل المخلوقات انسان کو کام کرنا ہے، اور اسی سے اس کا امتیاز دوسری مخلوقات سے واضح ہوسکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ انسان کا مقصد زندگی پورے عالم کی ابتداء و انتہاء کو سامنے رکھ کر سب کے نتائج اور عواقب پر نظر ڈالنا اور یہ متعین کرنا کہ مجموعی اعتبار سے کیا چیز نافع اور مفید ہے، اور کون سی چیز مضر اور تکلیف دہ ہے، پھر اس بصیرت کے ساتھ خود اپنے لئے بھی مفید چیزوں کو حاصل کرنا اور مضر چیزوں سے بچنا اور دوسروں کو بھی ان مفید چیزوں کی طرف دعوت دینا اور بری چیزوں سے بچانے کا اہتمام کرنا ہے، تاکہ دائمی راحت و سکون اور اطمینان کی زندگی حاصل ہوسکے، اور جب انسان کا مقصد زندگی اور کمال انسانی کا یہ معیاری فائدہ خود حاصل کرنا اور دوسروں کو پہنچانا ہے، تو اب قرآن کی یہ تمثیل حقیقت بن کر سامنے آجاتی ہے کہ زندہ صرف وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے، اور عالم کی ابتداء و انتہاء اور اس میں مجموعی اعتبار سے نفع و نقصان کو وحی الٓہی کی روشنی میں پہچانے، کیونکہ نری عقل انسانی نے نہ کبھی اس میدان کو سَر کیا ہے نہ کرسکتی ہے، بڑے بڑے عقلاء و حکماء اور فیلسوفان عالم نے انجام کار اس کا اقرار کیا ہے، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا ہے زیرکان موشگافان دہی کردہ ہر خرطوم خطِّ ابلہی اور جب مقصد زندگی کے اعتبار سے زندہ صرف وہ شخص ہے جو وحی الٓہی کا تابع اور مومن ہو تو یہ بھی متعین ہوگیا جو ایسا نہیں وہ مردہ کہلانے کا مستحق ہے مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا ہے زندگی از بہر اطاعت و بندگی است، بےعبادت زندگی شرمندگی ست آدمیت لخم و شحم دپوست نیست، آدمیت جز رضائے دوست نیست یہ قرآنی مثال تھی مومن و کافر کی کہ مومن زندہ اور کافر مردہ ہے، دوسری مثال ایمان و کفر کی نور و ظلمت کے ساتھ دی گئی ہے۔ ایمان نور ہے اور کفر ظلمت ایمان کو نور اور کفر کو ظلمت اور اندھیرہ قرار دیا گیا ہے، ذرا غور کیا جائے تو یہ مثال بھی کوئی خیالی مثال نہیں، ایک حقیقت کا بیان ہے، یہاں بھی روشنی اور اندھیرے کے اصل مقصد پر غور کیا جائے تو حقیقت سامنے آجائے گی کہ روشنی کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعہ نزدیک و دور کی اشیاء کو دیکھ سکیں، جس کے نتیجہ میں مضر چیزوں سے بچنے اور مفید کا اختیار کرنے کا موقع ملے۔ اب ایمان کو دیکھو کہ وہ ایک نور ہے جس کی روشنی تمام آسمانوں اور زمین اور ان سب سے باہر کی تمام چیزوں پر حاوی ہے، صرف یہی روشنی پورے عالم کے انجام اور تمام امور کے صحیح نتائج کو دکھا سکتی ہے، جس کے ساتھ یہ نور ہو تو وہ خود بھی تمام نقصان دہ و مضر چیزوں سے بچ سکتا ہے، اور دوسروں کو بھی بچا سکتا ہے، اور جس کو یہ روشنی حاصل نہیں وہ خواہ اندھیرے میں ہے، مجموعہ عالم اور پوری زندگی کے اعتبار سے کیا چیز نافع ہے کیا مضر اس کا کوئی امتیاز نہیں کرسکتا، صرف پاس پاس کی چیزوں کو ٹٹول کر کچھ پہچان لیتا ہے، مگر بعد میں آنے والی دائمی زندگی کی اس کو کچھ خبر نہیں، نہ اس کے نفع و ضرر کا اسے کچھ ادراک ہے، قرآن کریم نے اسی مضمون کے لئے ارشاد فرمایا ہے (آیت) یعلمون ظاھرا من الحیوة الدنیا وھم عن الآخرۃ ھم غافلون، یعنی یہ لوگ ظاہری دنیوی زندگی اور اس کے کھرے کھوٹے کو تو کچھ پہچانتے ہیں، مگر عالم آخرت سے قطعاً غافل ہیں۔ دوسری ایک آیت میں پچھلی منکر اور کافر امتوں کا ذکر کرنے کے بعد قرآن کریم نے فرمایا ہے(آیت) وکانوا مستبصرین، یعنی آخرت کے معاملہ میں ایسی شدید غفلت اور بےعقلی برتنے والے اس دنیا میں بیوقوف نادان نہ تھے، بلکہ مستبصرین، یعنی روشن خیال لوگ تھے، مگر یہ ظاہری سطحی روشن خیالی صرف دنیا کی چند روزہ زندگی کے سنوارنے ہی میں کام دے سکتی تھی آخرت کی دائمی زندگی میں اس نے کچھ کام نہ دیا۔ اس تفصیل کو سننے کے بعد قرآن مجید کی آیت مذکور کو پھر ایک مرتبہ پڑھ لیجئے اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جو پہلے مردہ یعنی کافر تھا، پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا، یعنی مسلمان بنادیا، اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور یعنی ایمان دے دیا جس کو لئے ہوئے وہ لوگوں میں پھرتا ہے، اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کی مثال ایسی ہے کہ وہ قسم قسم کی اندھیریوں میں گھرا ہوا ہے، جس سے نکلنے نہیں پاتا، یعنی کفر کی اندھیریوں میں مبتلا ہے، وہ خود ہی اپنے نفع نقصان کو نہیں پہچانتا، اور ہلاکت سے نہیں بچ سکتا دوسروں کو کیا نفع پہنچا سکتا ہے۔ نور ایمان کا فائدہ دوسروں کو بھی پہنچتا ہے اس آیت نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاس فرما کر اس طرف بھی ہدایت کردی گئی ہے کہ نور ایمان صرف کسی مسجد یا خانقاہ یا گوشہ و حجرہ کے ساتھ مخصوص نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے یہ نور دیا ہے وہ اس کو لے کر سب جگہ لوگوں کے رزم دبزم میں لئے پھرتا ہے، اور ہر جگہ اس روشنی سے خود بھی فائدہ اٹھاتا ہے، اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے، نور کسی ظلمت سے دب نہیں سکتا، جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ بھی اندھیرے میں مغلوب نہیں ہوتا، ہاں اس کی روشنی دور تک نہیں پہنچتی، تیز روشنی ہوتی ہے تو دور تک پھیلتی ہے کم ہوتی ہے تو تھوڑی جگہ کو روشن کرتی ہے، مگر اندھیرے پر بہرحال غالب ہی رہتی ہے، اندھیری اس پر غالب نہیں آتی، وہ روشنی ہی نہیں جو اندھیری سے مغلوب ہوجائے، اسی طرح وہ ایمان ہی نہیں جو کفر سے مغلوب یا مرعوب ہوجائے، یہ نور ایمان انسانی زندگی کے ہر شعبہ ہر حال ہر دور میں اس کے ساتھ ہے۔ اسی طرح اس مثال میں ایک اور اشارہ یہ بھی ہے کہ جس طرح روشنی کا فائدہ ہر انسان و حیوان کو ارادہ و بےارادہ ہر حال میں کچھ نہ کچھ پہنچتا ہے، فرض کرو کہ نہ روشنی والا یہ چاہتا ہے کہ دوسرے کو فائدہ پہنچے، نہ دوسرا یہ قصد کرکے نکلا ہے کہ اس کی روشنی سے مجھے فائدہ پہنچے، مگر جب روشنی کسی کے ساتھ ہوگی تو اس سے جبری اور قدرتی طور پر سب کو ہی فائدہ پہنچے گا، اسی طرح مومن کے ایمان سے دوسروں کو بھی کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچتا ہے، خواہ اس کو احساس ہو یا نہ ہو، آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ یعنی ان واضح کھلے ہوئے دلائل کے باوجود منکرین اور کفار جو بات کو نہیں مانتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ”ہر کس بخیال خویش خبطے دارد“۔ شیطان اور نفسانی خواہشات نے ان کی نظروں میں ان کے برے اعمال ہی کو خوبصورت اور بھلا بنا رکھا ہے جو سخت مغالطہ ہے۔ نعوذ باللہ منہ۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح کئے ہیں ہم نے ہر بستی میں گنہگاروں کے سردار کے حیلے کیا کریں وہاں اور جو حیلے کرتے ہیں سو اپنی ہی جان پر اور نہیں سوچتے

خلاصہ تفسیر اور (یہ کوئی نئی بات نہیں، جس طرح مکہ کے روساء ان جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کے اثر سے دوسرے لوگ شامل ہوجاتے ہیں) اسی طرح ہم نے (پہلی امتوں میں بھی) ہر بستی میں وہاں کے رئیس ہی کو (اول) جرائم کا مرتکب بنایا، (پھر ان کے اثر سے اور عوام بھی ان سے مل گئے) تاکہ وہ لوگ وہاں (انبیاء کو ضرر پہنچانے کے لئے) شرارتیں کیا کریں، (جن سے ان کا مستحق سزا ہونا خوب ثابت ہوجاوے) اور وہ لوگ (گو اپنے خیال میں دوسروں کو ضرر پہنچاتے ہیں لیکن واقع میں) اپنے ہی ساتھ شرارت کر رہے ہیں (کیونکہ اس کا وبال تو انہی کو بھگتا پڑے گا) اور (غایت جہل سے) ان کو (اس کی) ذرا خبر نہیں اور (ان کفار مکہ کا جرم یہاں تک بڑھ گیا ہے کہ) جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو (باوجود اس کے کہ وہ اپنے اعجاز کی وجہ سے دلالة علی النبوة میں کافی ہوتی، مگر یہ لوگ پھر بھی) یوں کہتے ہیں کہ ہم (ان نبی پر) ہرگز ایمان نہ لاویں گے، جب تک کہ ہم کو بھی ایسی ہی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے (یعنی وحی و خطاب یا صحیفہ و کتاب جس میں ہم کو آپ ﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہو، اور اس قول کا جرم عظیم ہونا ظاہر ہے، کہ تکذیب اور عناد اور استکبار اور گستاخی سب اس کو جامع ہے، آگے اللہ تعالیٰ اس قول کو رد فرماتے ہیں کہ) اس موقع کو تو خدا ہی خوب چانتا ہے جہاں اپنا پیغام (وحی کے ذریعہ سے) بھیجتا ہے (کیا ہر کس و ناکس اس شرف کے قابل ہوگیا، ”تانجشد خدائے بخشدہ“ آگے اس جرم کی سزا کا بیان ہے کہ) عنقریب ان لوگوں کو جنہوں کے یہ جرم کیا ہے خدا کے پاس پہنچ کر (یعنی آخرت میں) ذلت پہنچے گی (جیسا انہوں نے اپنے کو نبی کا مقابلہ میں عزت و نبوت کا مستحق سمجھا تھا) اور سزائے سخت (ملے گی) ان کی شرارتوں کے مقابلہ میں سو (اوپر جو مومن و کافر کا حال مذکور ہے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ) جس شخص کو اللہ تعالیٰ (نجات کے) راستہ پر ڈالنا چاہتے ہیں اس کے سینہ (یعنی قلب) کو اسلام (کے قبول کرنے) کے لئے کشادہ کردیتے ہیں (کہ اس کے قبول کرنے میں پس و پیش نہیں کرتا اور وہ نور مذکور یہی ہے) اور جس کو (تکویناً و تقدیراً) بےراہ رکھنا چاہتے ہیں اس کے سینہ (یعنی قلب) کو (اسلام کے قبول کرنے سے) تنگ (اور) بہت تنگ کردیتے ہیں (اور اس کو اسلام لانا ایسا مصیبت نظر آتا ہے) جیسے کوئی (فرض کرو) آسمان میں چڑھنا چاہتا ہو (اور چڑھا نہیں جاتا اور جی تنگ ہوتا ہے اور مصیبت کا سامنا ہوتا ہے، پس جیسا اس شخص سے چڑھا نہیں جاتا) اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر (چونکہ ان کے کفر اور شرارت کے سبب) پھٹکار ڈالتا ہے (اس لئے ان سے ایمان نہیں لایا جاتا)۔ معارف و مسائل پچھلی آیت کے آخر میں یہ ذکر تھا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں جس طرح اچھے اور نیک اعمال کے ساتھ کچھ محنت و مشقت لگی ہوئی ہے ان کی راہ میں یہاں رکاوٹیں پیش آتی ہیں اسی طرح برے اعمال کے ساتھ چند روزہ نفسانی لذات اور خواہشات کا ایک فریب ہوتا ہے جو حقیقت اور انجام سے غافل انسان کی نظر میں ان برے اعمال ہی کو مزین کردیتا ہے، اور دنیا کے بڑے بڑے ہوشیار اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس کا بیان ہے کہ اسی امتحان اور آزمائش کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ابتداء عالم سے یوں ہی ہوتا چلا آیا ہے کہ ہر بستی کے رئیس و مالدار اور بڑے لوگ ہی حقیقت اور انجام سے غافل چند روز کی فانی لذتوں میں مست ہو کر جرائم کے مرتکب ہوا کرتے ہیں، اور عوام کی عادت یہ ہوتی ہے کہ بڑے لوگوں کے پیچھے چلنے اور ان کی نقل اتارنے ہی کو اپنی سعادت اور کامیابی سمجھتے ہیں، اور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائب علماء و مشائخ جو ان کو ان کے برے اعمال سے روکنا اور اس کے انجام کی طرف متوجہ کرتا چاہتے ہیں، یہ بڑے لوگ ان کے خلاف طرح طرح کی شرارتیں اور سازشیں اور ان کی دل آزاری کا سامان ہوتا ہے، لیکن انجام کے اعتبار سے ان سب کا وبال خود انہی کی طرف لوٹتا ہے، اور اکثر دنیا میں بھی اس کا ظہور ہوجاتا ہے۔ اس ارشاد میں مسلمانوں کو اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا کے بڑوں اور رئیسوں، مالداروں کی ریس نہ کریں، ان کے پیچھے چلنے کی عادت چھوڑیں، انجام بینی کو شعار بنائیں اور بھلے برے کو خود پہچانیں۔ نیز رسول کریم ﷺ کو یہ تسلی دینا مقصود ہے کہ رؤ سائے قریش جو آپ ﷺ کی مخالفت پر لگے ہوئے ہیں اس سے آپ ﷺ دل گیر نہ ہوں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے، اور انجام کار وہ رسوا اور ذلیل ہوئے اور اللہ کا کلمہ بلند ہوا۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ نہ دیا جائے ہم کو جیسا کچھ کہ دیا گیا ہو اللہ کے رسولوں کو، اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو جہاں بھیجے اپنے پیغام، عنقریب پہنچے گی گنہگاروں کو ذلت اللہ کے ہاں اور عذاب سخت اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے

دوسری آیت میں انہی قریشی سرداروں کی ایک ایسی گفتگو کا ذکر ہے جو حق کے مقابلہ میں محض ہٹ دھرمی اور استہزاء و تمسخر کے انداز میں تھی، پھر اس کا جواب دیا گیا۔ امام بغوی رحمة اللہ علیہ نے بروایت قتادہ نقل کیا ہے کہ قریش کے سب سے بڑے سردار ابوجہل نے ایک مرتبہ کہا کہ بنو عبد مناف (یعنی نبی کریم ﷺ کے خاندان) سے ہم نے ہر محاذ پر مقابلہ کیا، جس میں کبھی ہم ان سے پیچھے نہیں رہے، لیکن اب وہ یوں کہتے ہیں کہ تم شرافت و بزرگی میں ہمارا مقابلہ اس لئے نہیں کرسکتے کہ ہمارے خاندان میں ایک نبی آئے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے، پھر کہا کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم کبھی ان کا اتباع نہ کریں گے، جب تک خود ہمارے پاس ایسی ہی وحی نہ آنے لگے، جیسی ان کے پاس آتی ہے، آیت مذکورہ میں (آیت) وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤ ْمِنَ حَتّٰي نُؤ ْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ کا یہی مطلب ہے۔ نبوت و رسالت کسبی اور اختیاری نہیں، بلکہ ایک عہدہ ہے، جس کے عطا کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے قرآن کریم نے یہ قول نقل کرنے کے بعد جواب دیا(آیت) اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت و نبوت کس کو عطا فرمائے، مطلب یہ ہے کہ اس بیوقوف نے اپنی جہالت سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ نبوت اور پیغمبری خاندانی شرافت یا قوم کی سرداری اور مالداری کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے، حالانکہ نبوت اللہ تعالیٰ کی خلافت کا عہدہ ہے، جس کا حاصل کرنا کسی کے اختیار میں نہیں، کتنے ہی کمالات حاصل کرلینے کے بعد بھی کوئی اپنے اختیار سے یا کمال کے زور سے نبوت و رسالت حاصل نہیں کرسکتا وہ خالص عطائے حق جل شانہ ہے، وہ جس کو چاہتے ہیں عطا فرما دیتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ رسالت و نبوت کوئی کسبی اور اختیاری چیز نہیں جس کو علمی، عملی کمالات یا مجاہدہ و ریاضت وغیرہ کے ذریعہ حاصل کیا جاسکے، کوئی شخص مقامات ولایت میں کتنی ہی اونچی پرواز کرکے بھی نبوت حاصل نہیں کرسکتا، بلکہ وہ محض فضل خداوندی ہے جو خداوندی علم و حکمت کے ماتحت خاص بندوں کو دیا جاتا ہے یاں یہ ضروری ہے کہ جس شخص کو حق تعالیٰ کے علم میں یہ مقام اور عہدہ دینا منظور ہوتا ہے اس کو شروع ہی سے اس کے قابل بنا کر پیدا کیا جاتا ہے اس کے اخلاق و اعمال کی خاص تربیت کی جاتی ہے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ ، اس میں لفظ صغار، حاصل مصدر ہے جس کے معنی ہیں ذلت و رسوائی، معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ یہ حق کے مخالف جو آج اپنی قوم میں بڑے اور رئیس کہلاتے ہیں عنقریب ان کی بڑائی اور عزت خاک میں ملنے والی ہے، ان کو اللہ تعالیٰ کے پاس سخت ذلت و رسوائی پہنچنے والی ہے، اور سخت عذاب ہونے والا ہے۔ اللہ کے پاس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کے روز جب یہ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ذلیل و خوار ہو کر حاضر ہوں گے، اور پھر ان کو سخت عذاب دیا جائے گا، اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اگرچہ اس وقت ظاہر میں یہ بڑے عزت دار رئیس ہیں لیکن اللہ کی طرف سے ان کو سخت ذلت و رسوائی پہنچنے والی ہے، وہ دنیا میں بھی ہوسکتی ہے اور آخرت میں بھی، جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) کے مخالفین کے متعلق دنیا کی تاریخ میں اس کا مشاہدہ ہوتا رہا ہے، کہ انجام کار ان کے مخالفین دنیا میں بھی ذلیل ہوئے، ہمارے نبی کریم ﷺ کے بڑے بڑے مخالفین جو اپنی عزت کی ڈینگ مارا کرتے تھے، ایک ایک کرکے یا تو دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے، اور جو نہ ہوئے تو ذلیل و خوار ہو کر ہلاک ہوئے، ابوجہل، ابولہب وغیرہ قریشی سرداروں کا حال دنیا کے سامنے آ گیا، اور فتح مکہ نے ان سب کی کمریں توڑ دیں۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

سو جس کو اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت کرے تو کھول دیتا ہے اس کے سینہ کو واسطے قبول کرنے اسلام کے اور جس کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے کردیتا ہے اس کے سینہ کو تنگ بےنہایت تنگ گویا وہ زور سے چڑھتا ہے آسمان پر اسی طرح ڈالے گا اللہ عذاب کو ایمان نہ لانے والوں پر

دین میں شرح صدر اور اس کی علامات تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پانے والوں اور گمراہی پر جمے رہنے والوں کے کچھ حالات اور علامات بتلائی گئی ہیں، ارشاد فرمایافَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ”یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتے ہیں اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتے ہیں“۔ حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر یعنی سینہ اسلام کے لئے کھول دینے کی تفسیر دریافت کی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں ایک روشنی ڈال دیتے ہیں، جس سے اس کا دل حق بات کو دیکھنے سمجھنے اور قبول کرنے کے لئے کھل جاتا ہے (حق بات کو آسانی سے قبول کرنے لگتا ہے اور خلاف حق سے نفرت اور وحشت ہونے لگتی ہے) صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے جس سے وہ شخص پہچانا جائے جس کو شرح صدر حاصل ہوگیا ہے ؟ فرمایا کہ ہاں علامت ہے کہ اس شخص کی ساری رغبت آخرت اور اس کی نعمتوں کی طرف ہوجاتی ہے، دنیا کی بےجا خواہشات اور فانی لذتوں سے گھبراتا ہے، اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگتا ہے، پھر فرمایا وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ ۭ، یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہی میں رکھنا چاہتے ہیں اس کا دل تنگ اور سخت تنگ کردیتے ہیں، اس کو حق بات کا قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا ایسا دشوار ہوتا ہے جیسے کسی انسان کا آسمان میں چڑھنا۔ امام تفسیر کلبی نے فرمایا کہ ”اس کا دل تنگ ہونے کا مطلب ہے کہ اس میں حق اور بھلائی کے لئے کوئی راستہ نہیں رہتا“۔ یہ مضمون حضرت فاروق اعظم ؓ سے بھی منقول ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب وہ اللہ کا ذکر سنتا ہے تو اس کو وحشت ہونے لگتی ہے، اور جب کفر و شرک کی باتیں سنتا ہے تو ان میں دل لگتا ہے۔ صحابہ کرام کو دین میں شرح صدر حاصل تھا اس لئے شکوک و شبہات بہت کم پیش آئے یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کو حق تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی صحبت اور بلا واسطہ شاگردی کے لئے منتخب فرمایا تھا ان کو اسلامی احکام میں شبہات اور وساوس کم سے کم پیش آئے، ساری عمر میں صحابہ کرام نے جو سوالات رسول کریم ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے وہ گنے چنے چند ہیں، وجہ یہ تھی کہ رسول کریم ﷺ کے فیض صحبت سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت کا گہرا نقش ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا، جس کے سبب ان کو شرح صدر کا مقام حاصل تھا ان کے قلوب خود بخود حق و باطل کا معیاد بن گئے تھے، حق کو آسانی کے ساتھ فوراً قبول کرتے اور باطل ان کے دلوں میں راہ نہ پاتا تھا، پھر جوں جوں رسول کریم ﷺ کے عہد مبارک سے دوری ہوتی چلی گئی، شکوک و شبہات نے راہ پانی شروع کی، عقائد کے اختلافات پیدا ہونے شروع ہوئے۔ شکوک و شبہات کے دور کرنے کا اصلی طریقہ بحث و مباحثہ نہیں شرح صدر کی تحصیل ہے اور آج پوری دنیا شکوک و شبہات کے گھیرے میں پھنسی ہوئی ہے، اور بحث و مباحثہ کی راہ سے اس کو حل کرنا چاہتی ہے جو اس کا صحیح راستہ نہیں فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے پر سرا ملتا نہیں راستہ وہی ہے جو صحابہ کرام اور اسلاف امت نے اختیار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور ان کے انعام کا استحضار کرکے اس کی عظمت و محبت دل میں پیدا کی جائے، تو شبہات خودبخود کافور ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خود قرآن کریم نے رسول کریم ﷺ کو یہ دعا مانگنے کی تلقین فرمائی ہے کہ (آیت) رب اشرح لی صدری، یعنی اے میرے پروردگار میرا سینہ کھول دے۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ یعنی اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈال دیتا ہے، اور حق بات ان کے دل میں نہیں اترتی اور ہر برائی اور بیہودگی کی طرف دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں۔
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہ ہے رستہ تیرے رب کا سیدھا ہم نے واضح کردیا نشانیوں کو غور کرنے والوں کے واسطے

خلاصہ تفسیر اور (اوپر جو اسلام کا ذکر ہے تو) یہی (اسلام) تیرے رب کا (بتلایا ہوا) سیدھا راستہ ہے (جس پر چلنے سے نجات ہوتی ہے، جس کا ذکر (آیت) فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ ، میں ہے، اور اسی صراط مستقیم کی توضیح کے لئے) ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے واسطے ان آیتوں کو صاف صاف بیان کردیا ہے، (جس سے وہ اس کے اعجاز سے اس کی تصدیق کریں اور پھر اس کے مضامین پر عمل کرکے نجات حاصل کریں، یہی تصدیق و عمل صراط مستقیم کامل ہے، بخلاف ان کے جن کو نصیحت حاصل کرنے کی فکر ہی نہیں ان کے واسطے نہ یہ کافی نہ دوسرے دلائل کافی، آگے ان ماننے والوں کی جزاء کا ذکر ہے، جیسا نہ ماننے والوں کی سزا اوپر کئی جملوں میں مذکور ہے پس ارشاد ہے کہ) ان لوگوں کے واسطے ان کے رب کے پاس (پہنچ کر) سلامتی (یعنی امن وبقاء) کا گھر (یعنی جنت) ہے اور اللہ ان سے محبت رکھتا ہے، ان کے اعمال (حسنہ) کی وجہ سے اور (وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے) جس روز اللہ تعالیٰ تمام خلائق کو جمع کریں گے (اور ان میں سے بالخصوص کفار کو حاضر کرکے ان میں جو شیاطین الجن ہیں ان سے تو بیخاً کہا جاوے گا کہ) اے جماعت جنات کی تم نے انسانوں (کے گمراہ کرنے) میں بڑا حصہ لیا (اور ان کو خوب بہکایا یا اسی طرح انسانوں سے پوچھا جاوے گا (آیت) الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن الخ۔ غرض شیاطین الجن بھی اقرار کریں گے) اور جو انسان ان (شیاطین جن) کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وہ (بھی اقراراً کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار آپ صحیح فرماتے ہیں واقعی) ہم میں ایک نے دوسرے سے (اس ضلال واضلال کے باب میں نفسانی) فائدہ حاصل کیا تھا (چنانچہ گمراہ انسانوں کو اپنے عقائد کفریہ و شرکیہ میں لذت آتی ہے اور گمراہ کنندہ شیاطین کو اس سے حظ ہوتا ہے کہ ہمارا کہنا چل گیا) اور (فی الحقیقت ہم ان کے بہکانے سے قیامت کے منکر تھے، لیکن وہ انکار غلط ثابت ہوا، چنانچہ) ہم اپنی اس معیّن میعاد تک آپہنچے جو آپ نے ہمارے لئے معیّن فرمائی، (یعنی قیامت آگئی) اللہ تعالیٰ (سب کفار جن وانس سے) فرماویں گے کہ تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہو گے، (کوئی نکلنے کی سبیل و تدبیر نہیں) ہاں، اگر خدا ہی کو (نکالنا) منظور ہو تو دوسری بات ہے (لیکن یہ یقینی ہے کہ خدا بھی نہیں چاہے گا اس لئے ہمیشہ رہا کرو) بیشک آپ ﷺ کا رب بڑی حکمت والا اور بڑا علم والا ہے (علم سے سب کے جرائم معلوم کرتا ہے اور حکمت سے مناسب سزا دیتا ہے)۔ معارف و مسائل مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا (آیت) وَھٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِـيْمًا، ”یعنی یہ راستہ تیرے رب کا ہے سیدھا“۔ اس میں لفظ ھذٰا سے بقول ابن مسعود ؓ قرآن کی طرف اور بقول ابن عباس ؓ اسلام کی طرف اشارہ ہے (روح) معنی یہ ہیں کہ یہ قرآن یا شریعت اسلام جو آپ ﷺ کو دی گئی ہے، یہ راستہ آپ ﷺ کے رب کا ہے، یعنی ایسا راستہ ہے جس کو آپ ﷺ کے پروردگار نے اپنی حکمت بالغہ سے تجویز فرمایا اور اس کو پسند کیا ہے، اس میں راستہ کی اضافت و نسبت پروردگار کی طرف کرکے اس طرف اشارہ فرمایا کہ قرآن اور اسلام کا جو دستور العمل آپ ﷺ کو دیا گیا ہے اس پر عمل کرنا کچھ اللہ تعالیٰ کے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ عمل کرنے والوں کے فائدہ کے لئے شان پروردگاری کے تقاضہ کی بنا پر ہے اس کے ذریعہ انسان کی ایسی تربیت کرنا مقصود ہے جو اس کی دائمی فلاح و بہبود کی ضامن ہو۔ پھر اس میں لفظ رب کی نسبت رسول کریم ﷺ کی طرف کرکے آپ ﷺ پر ایک خاص لفط و عنایت کا اظہار فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے پروردگار نے یہ راستہ تجویز فرمایا ہے، اس نسبت کا لفط اہل ذوق ہی محسوس کرسکتے ہیں کہ ایک بندہ کو اپنے رب اور معبود کی طرف کوئی ادنیٰ نسبت حاصل ہوجانا بھی اس کے لئے انتہائی فخر کی چیز ہے، اور اگر رب الارباب اور معبود کائنات اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرے کہ میں تیرا ہوں تو اس کی قسمت کا کیا کہنا، حضرت حسن نظامی رحمة اللہ علیہ اسی مقام سے فرماتے ہیں بندہ حسن بصد زبان گفت کہ بندہ توام، تو بزبان خود بگو کہ بندہ نواز کیستی اس کے بعد اس قرآنی راستہ کا یہ حال لفظ مُسْتَقِـيْمًا سے بیان کیا گیا کہ یہ راستہ سیدھا راستہ ہے، اس میں بھی مستقیم کو صراط کی صفت کے طور پر لانے کے بجائے حال کے طریقہ سے ذکر کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ جو راستہ پروردگار عالم کا تجویز کیا ہوا ہے، اس میں بجز مستقیم اور سیدھا ہونے کے اور کوئی احتمال ہو ہی نہیں سکتا (روح و بحر) اس کے بعد فرمایا (آیت) قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ ، یعنی ہم نے نصیحت قبول کرنے والوں کے واسطے ان آیتوں کو صاف صاف بیان کردیا ہے۔ فصلنا، تفصیل سے بنا ہے، تفِصیل کے اصلی معنی یہ ہیں یہ تجزیہ کر کے ایک ایک فصل کو الگ الگ بیان کیا جائے، اس طریقہ پر پورا مضمون ذہن نشین ہوجاتا ہے، اس لئے تفِصیل کا تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے، جس میں کوئی اجمال یا ابہام باقی نہیں چھوڑا، اس میں لِقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ ، فرما کر یہ بتلا دیا کہ اگرچہ قرآنی ارشاد بالکل واضح اور صاف ہیں، لیکن ان سے فائدہ انہی لوگوں نے اٹھایا جو نصیحت حاصل کرنے کے قصد سے قرآن میں غور کرتے ہیں، ضد اور عناد یا آبائی رسوم کی تقلید جامد کے پردے ان کے درمیان حائل نہیں ہوتے۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

انہی کے لئے ہے سلامتی کا گھر اپنے رب کے ہاں اور وہ ان کا مددگار ہے یہ سبب ان کے اعمال کے

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) لَهُمْ دَار السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ یعنی جن لوگوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ وہ قرآنی ہدایتوں کو خالی الذہن ہو کر نصیحت حاصل کرنے کے لئے دیکھتے اور سنتے ہیں، اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ان ہدایتوں کو قبول کرتے ہیں، ان کے لئے ان کے رب کے پاس دار السلام کا انعام موجود اور محفوظ ہے، اس میں لفظ دار کے معنی گھر اور سلام کے معنی تمام آفتوں، مصیبتوں اور محنتوں سے سلامتی کے ہیں، اس لئے دار السلام اس گھر کو کہا جاسکتا ہے جس میں کسی تکلیف و مشقت اور رنج و غم اور آفت و مصیبت کا گزر نہ ہو، اور وہ ظاہر ہے کہ جنت ہی ہو سکتی ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ سلام اللہ جل شانہ کا نام ہے، اور دار السلام کے معنی ہیں اللہ کا گھر اور ظاہر ہے کہ اللہ کا گھر امن و سلامتی کی جگہ ہوتی ہے، اس لئے حاصل معنی پھر بھی یہی ہوگئے کہ وہ گھر جس میں ہر طرح کا امن و سکون اور سلامتی و اطمینان ہو، جنت کو دار السلام فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ جنت ہی صرف وہ جگہ ہے جہاں انسان کو ہر قسم کی تکلیف، پریشانی اور اذیت اور ہر خلاف طبع چیز سے مکمل اور دائمی سلامتی حاصل ہوتی ہے جو دنیا میں نہ کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو کبھی حاصل ہوئی اور نہ بڑے سے بڑے نبی و رسول کو، کیونکہ دنیائے فانی کا یہ عالم ایسی مکمل اور دائمی راحت کا مقام ہی نہیں۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ان نیک بخت لوگوں کے لئے ان کے رب کے پاس دار السلام ہے، رب کے پاس ہونے کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ دار السلام یہاں نقد نہیں ملتا بلکہ جب وہ قیامت کے روز اپنے رب کے پاس جائیں گے اس وقت ملے گا، اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ دار السلام کا وعدہ غلط نہیں ہوسکتا، رب کریم اس کا ضامن ہے وہ اس کے پاس محفوظ ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس دار السلام کی نعمتوں اور راحتوں کو آج کوئی تصور میں بھی نہیں لاسکتا، رب ہی جانتا ہے، جس کے پاس یہ خزانہ محفوظ ہے۔ اور اس دوسرے معنی کی رو سے اس دار السلام کا ملنا قیامت اور آخرت پر موقوف نہیں معلوم ہوتا، بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رب کریم جس کو چاہیں اسی عالم میں دار السلام نصیب کرسکتے ہیں، کہ تمام آفات اور مصائب سے امن نصیب فرما دیں، خواہ اس طرح کہ دنیا میں کوئی آفت و مصیبت ہی ان کو نہ پہنچے جیسا کہ انبیائے سابقین اور اولیاء اللہ میں اس کی بھی نظائر موجود ہیں، اور یا اس طرح کہ نعمائے آخرت کو ان کے سامنے مستحضر کرکے ان کی نگاہ کو ایسا حقیقت شناس بنادیا گیا جس سے دنیا کی چند روزہ تکلیف و مصیبت ان کی نظروں میں حقیر ناقابل التفات چیز نظر آنے لگتی ہے، مصائب کے پہاڑ بھی ان کے سامنے پرکاہ سے کم رہ جاتے ہیں رنج راحت شد چو مطلب شدبزرگ گرد گلہ تو تیائے چشم گرگ دنیا کی تکالیف کے بالمقابل جو انعامات ملنے والے ہیں وہ ان کے سامنے ایسے مستحضر ہوجاتے ہیں کہ یہ تکالیف بھی ان کو لذیز معلوم ہونے لگتی ہیں، اور یہ کوئی مستعبد نہیں، دیکھو آخرت کی دائمی نعمتیں تو بڑی چیز ہیں، یہ دنیا کی فانی اور چند روزہ راحت کا تصور انسان کے لئے کیسی کیسی محنت و مشقت کو لذیز بنا دیتا ہے، کہ سفارشیں اور رشوتیں پیش کرکے آزادی کی راحت کو قربان کرتا ہے، اور نیند و آرام کو ختم کرنے والی ملازمت و مزدوری کی محنت کو شوق سے طلب کرتا ہے، اور اس محنت کے مل جانے پر مسرور و شکر گزار ہوتا ہے، کیونکہ اس کے سامنے اکتیس دن پورے ہوجانے کے بعد حاصل ہونے والی تنخواہ کی لذت ہوتی ہے، وہ لذت اس ملازمت و مزدوری کی سب تلخیوں کو لذیز بنا دیتی ہے، قرآن کریم کی (آیت) ولمن خاف مقام ربہ جنتٰن۔ کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈرنے والوں کو دو جنتیں ملیں گی، ایک آخرت میں دوسری دنیا میں، دنیا کی جنت یہی ہوتی ہے کہ اول تو اس کے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے، ہر کام آسان ہوتا نظر آتا ہے، اور کبھی چند روزہ تکلیف و مشقت یا ناکامی بھی ہوتی ہے تو نعمائے آخرت کے مقابلہ میں وہ بھی ان کو لذیز نظر آتی ہے، جس سے یہ تکلیف بھی راحت کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں نیک لوگوں کے لئے ان کے رب کے پاس دار السلام ہونے کا جو ذکر ہے وہ دار السلام آخرت میں تو یقینی اور متعین ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں بھی ان کو دار السلام کا لفط دے دیا جائے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایاوَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی ان کے اعمال صالح کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کا متولی اور متکفل اور ناصر و مددگار ہوجاتا ہے، ان کی سب مشکلات آسان ہوجاتی ہیں۔
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو فرمائے گا اے جماعت جنات کی تم نے بہت کچھ تابع کر لئے اپنے آدمیوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست دار آدمیوں میں سے اے رب ہمارے کام نکالا ہم میں ایک نے دوسرے سے اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا تھا فرمادے گا آگ ہے گھر تمہارا رہا کرو گے اسی میں مگر جب چاہیں اللہ البتہ تیرا رب حکمت والا خبر دار ہے

تیسری آیت میں میدان حشر کے اندر تمام جنات اور انسانوں کو جمع کرنے کے بعد دونوں گروہوں سے ایک سوال و جواب کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ شیاطین الجن کو خطاب کرکے ان کے جرم کا اظہار اس طرح فرمائیں گے کہ تم نے انسانوں کی گمراہی میں بڑا حصہ لیا ہے، اس کے جواب میں جنات کیا کہیں گے قرآن نے اس کا ذکر نہیں کیا، ظاہر یہی ہے کہ علیم وخبیر کے سامنے اقرار کرنے کے سوا چارہ کیا ہے، مگر ان کا اقرار ذکر نہ کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ اس سوال پر وہ ایسے مبہوت ہوجائیں گے کہ جواب کیلئے زبان نہ اٹھ سکے گی (روح)۔ اس کے بعد شیاطین الانس یعنی وہ لوگ جو دنیا میں شیطانوں کے تابع رہے خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنتے رہے ان لوگوں کی طرف سے بارگاہ احکم الحاکمین میں ایک جواب ذکر کیا گیا ہے، اگرچہ سوال شیاطین الانس سے نہیں کیا گیا، مگر ضمنی طور پر گویا وہ بھی مخاطب تھے، کیوں کہ انہوں نے بھی گمراہی پھیلانے کا وہی کام کیا تھا، جو شیاطین الجن کا کام تھا، اس ضمنی خطاب کی وجہ سے ان لوگوں نے جواب دیا، مگر ظاہر یہ ہے کہ خود انسان نما شیطانوں سے بھی سوال ہوگا، جس کا ذکر صراحةً اگرچہ یہاں نہیں ہے، مگر سورة یٰسین کی اس آیت میں مذکور ہے) (آیت) الم اعھد الیکم یٰبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطٰن، ”یعنی اے بنی آدم کیا ہم نے تم سے رسولوں کے واسطے سے یہ نہ کہا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا“۔ جس سے معلوم ہوا کہ انسانی شیطانوں سے بھی اس موقع پر سوال ہوگا اور وہ جواب میں اقرار کریں گے کہ بیشک ہم سے یہ جرم سرزد ہوا کہ ہم نے شیطانوں کی بات مانی اور یہ کہیں گے کہ بیشک جنی شیاطین نے ہم سے اور ہم نے ان سے دوستانہ تعلقات رکھ کر ایک دوسرے سے نفع حاصل کیا، انسانی شیطانوں نے تو ان سے یہ فائدہ حاصل کیا کہ دنیا کی لذتیں حاصل کرنے کی راہیں سیکھیں، اور کہیں کہیں جنات شیاطین کی دہائی دے کر یا کسی دوسرے طریق سے ان سے امداد بھی حاصل کی، جیسے بت پرست ہندوؤں میں بلکہ بہت سے جاہل مسلمانوں میں بھی ایسے طریقے معروف ہیں جن کے ذریعہ شیاطین اور جنات سے بعض کاموں میں امداد لے سکتے ہیں، اور جنی شیطانوں نے انسانوں سے یہ فائدہ حاصل کیا کہ ان کی بات مانی گئی، اور یہ انسان کو اپنے تابع بنانے میں کامیاب ہوگئے، یہاں تک کہ وہ موت اور آخرت کو بھول بیٹھے، اور اس وقت ان لوگوں نے اقرار کیا کہ جس موت اور آخرت کو ہم شیطان کے بہکانے سے بھول بیٹھے تھے اب وہ سامنے آگئی، اس پر حق تعالیٰ کا ارشاد ہوگا(آیت) النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ ”یعنی تم دونوں گروہوں کے جرم کی سزا اب یہ ہے کہ تمہارا ٹھکانا آگ ہے، جس میں ہمیشہ رہو گے، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس سے کسی کو نکالنا چاہے“ لیکن دوسری نصوص میں قرآن شاہد ہے کہ الہ بھی نہیں چاہے گا اس لیے ہمیشہ ہی رہنا پڑے گا۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ساتھ ملا دیں گے گنہگاروں کو ایک دوسرے سے ان کے اعمال کے سبب

خلاصہ تفسیر اور (جس طرح دنیا میں گمراہی کے لحاظ سے سب میں تعلق و قرب تھا) اسی طرح (دوزخ میں) بعض کفار کو بعض کے قریب (اور مجتمع) رکھیں گے ان کے اعمال (کفریہ) کے سبب (یہ خطاب مذکور تو جن و انس کو باعتبار ان کے احوال متعلقہ باہم دگر کے تھا، آگے ہر ایک کو باعتبار احوال متعلقہ بذات خاص کے خطاب ہے کہ) اے جماعت جنات اور انسانوں کی (ہاں یہ تو بتلاؤ جو تم کفر و انکار کرتے رہے تو) کیا تمہارے پاس تم ہی میں کے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم سے میرے احکام (متعلق عقائد و اعمال کے) بیان کیا کرتے تھے اور تم کو اس آج کے دن (کے وقوع) کی خبر دیا کرتے تھے (پھر کیا وجہ کہ تم کفر و انکار سے باز نہ آئے) وہ سب عرض کریں گے کہ ہم سب اپنے اوپر (جرم کا) اقرار کرتے ہیں (ہمارے پاس کوئی وجہ عذر اور براءت کی نہیں، آگے اللہ تعالیٰ ان کو اس مصیبت کے پیش آنے کا سبب بتلاتے ہیں) اور ان کو (یہاں) دنیوی زندگانی نے بھول میں ڈال رکھا ہے (کہ دنیوی لذات کو مقصود اعظم سمجھ رکھا ہے آخرت کی فکر ہی نہیں) اور (اس کا ثمرہ یہ ہوا کہ وہاں) یہ لوگ مقر ہوں گے کہ وہ (یعنی ہم) کافر تھے (اور غلطی پر تھے، مگر وہاں کے اقرار سے کیا ہوتا ہے، اگر دنیا میں ذرا غفلت دور کردیں تو اس روز بد کا کیوں سامنا ہو، آگے رسولوں کے بھیجنے میں جس کا اوپر ذکر تھا اپنی رحمت کا اظہار فرماتے ہیں کہ) یہ (رسولوں کا بھیجنا) اسی وجہ سے ہے کہ آپ ﷺ کا رب کسی بستی والوں کو (ان کے) کفر کے سبب (دنیا میں بھی) ایسی حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ اس بستی کے رہنے والے (احکامِ الٓہیہ سے بوجہ رسولوں کے نہ آنے کے) بنجر ہوں (پس عذاب آخرت کہ اشد ہے بدرجہ اولیٰ نہ ہوتا، اس لئے رسولوں کو بھیجتے ہیں تاکہ ان کو جرائم کی اطلاع ہوجاوے پھر جس کو عذاب ہو استحقاق کی وجہ سے ہو، چناچہ آگے فرماتے ہیں) اور (جب رسول آگئے اور اطلاع ہوگئی پھر جیسا جیسا کوئی کرے گا) ہر ایک کیلئے (جن و انس صالح و طالح میں سے جزاء و سزاء کے ویسے ہی) درجے ملیں گے ان کے اعمال کے سبب اور آپ ﷺ کا رب ان کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔ معارف و مسائل مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں لفظ نُوَلِّيْ کے عربی لغت کے اعتبار سے دو ترجمے ہو سکتے ہیں، ایک ملا دینے اور قریب کردینے کے اور دوسرے مسلط کردینے کے، ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین سے بھی دونوں طرح کی روایات میں اس کی تفسیر منقول ہے۔ محشر میں لوگوں کی جماعتیں اعمال و اخلاق کی بنیاد پر ہوں گی، دنیوی تعلقات کی بنیاد پر نہیں حضرت سعید بن جبیر رحمة اللہ علیہ اور قتادہ رحمة اللہ علیہ وغیرہ نے پہلا ترجمہ اختیار کرکے آیت کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے یہاں اجتماعی و حدتیں یعنی لوگوں کی جماعتیں اور پارٹیاں نسلی یا وطنی یا رنگ و زبان کی بناء پر نہیں بلکہ اعمال و اخلاق کے اعتبار سے ہوں گی، اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار مسلمان جہاں کہیں ہوگا وہ مسلمانوں کا ساتھی ہوگا، اور نافرمان کافر جہاں کہیں ہوگا وہ کافروں کا ساتھی ہوگا، خواہ ان کی نسل اور نسب میں، وطن اور زبان میں، رنگ اور معاشرت میں کتنا ہی بعد اور اختلاف ہو۔ پھر مسلمانوں میں بھی نیک، دیندار، دینداروں کے ساتھ ہوگا، اور گناہگار، بدکردار، بدکرداروں کے ساتھ لگا دیا جائے گا۔ سورة کورت میں جو ارشاد ہے (آیت) واذا النفوس زوجت، یعنی لوگوں کے جوڑ اور جماعتیں بنادی جائیں گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ اعمال و اخلاق کے اعتبار سے اہل محشر مختلف جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ حضرت فاروق اعظم ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ”ایک قسم کے اعمال نیک یا بد کرنے والے ایک ساتھ کردیئے جائیں گے، نیک آدمی نیکوں کے ساتھ جنت میں، اور بد کردار کو دوسرے بدکرداروں کے ساتھ جہنم میں پہنچا دیا جائے گا“۔ اور اس مضمون کی توثیق کے لئے فاروق اعظم ؓ نے قرآن کریم کی (آیت) احشروا الذین ظلموا وازواجھم سے استدلال فرمایا، جس کا مضمون یہی ہے کہ قیامت کے دن حکم ہوگا کہ ظالموں کو اور ان کے مناسب عمل کرنے والوں کو جہنم میں لے جاؤ۔ خلاصہ مضمون آیت مذکورہ کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ظالموں کو دوسرے ظالموں کا ساتھی بنا کر ایک جماعت کردیں گے، اگرچہ نسلی اور وطنی اعتبار سے ان میں کتنی بھی دوری ہو۔ اور ایک دوسری آیت میں یہ بات بھی واضح طور پر بیان فرما دی ہے کہ محشر میں یہ دنیوی اور رسمی تضاد جو آج لوگوں میں نسل، وطن، رنگ، زبان وغیرہ کی بنیادوں پر قائم ہیں، یہ سب یکسر ٹوٹ جائیں گے، (آیت) ویوم تقوم الشاعة، یعنی جب قیامت قائم ہوگی تو جو لوگ آپس میں متحد اور متفق ہیں وہ متفرق ہوجائیں گے۔ دنیا میں بھی اعمال و اخلاق کا اجتماعی معاملات میں اثر اور یہ موجودہ رشتوں، ناطوں اور رسمی تنظیموں کا کٹ جانا روز قیامت میں تو واضح اور مکمل طور پر سب کے سامنے آہی جائے گا، مگر دنیا میں بھی اس کا ایک ادنیٰ سا نمونہ ہر جگہ پایا جاتا ہے کہ نیک آدمی کو نیکوں سے مناسبت ہوتی ہے، انہی کی جماعت اور سوسائٹی سے وابستہ ہوتا ہے، اور اس طرح نیک کاموں میں اس کے لئے راستے کھلتے نظر آتے ہیں، اور ارادہ مضبوط ہوتا جاتا ہے، اسی طرح بدکردار کو اپنے ہی جیسے بدکرداروں سے تعلق اور انس ہوتا ہے وہ انھیں میں اٹھتا بیٹھتا ہے، اور ان کی صحبت سے اس کی بدعملی و بدخلقی میں روز نیا اضافہ ہوتا رہتا ہے اور نیکی کے راستے اس کے سامنے سے بند ہوتے جاتے ہیں، یہ اس کے برے عمل کی نقد سزا اسی دنیا میں ملتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نیک و بد اعمال کی ایک جزاء سزاء تو آخرت میں ملے گی اور ایک جزاء سزا نقد اسی دنیا میں اس طرح مل جاتی ہے کہ نیک آدمی کو رفقاء کار بھی نیک اور دیانتدار نصیب ہوجاتے ہیں جو اس کے کام کو چار چاند لگا دیتے ہیں، اور برے اور بدنیت آدمی کو اعضاء وجوارح اور رفقاء کار بھی اسی جیسے ملتے ہیں جو اس کو اور بھی زیادہ گہرے غار میں دھکیل دیتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بادشاہ اور حاکم سے راضی ہوتے ہیں تو اس کو اچھے وزیر اور اچھا عملہ دیدیتے ہیں جس سے اس کی حکومت کے سب کاروبار درست اور ترقی پذیر ہوجاتے ہیں، اور جب کسی سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں تو اس کو عملہ اور رفقاء کار برے ملتے ہیں، برے افسروں سے پالا پڑتا ہے، وہ اگر کوئی اچھا کام کرنے کا ارادہ بھی کرتا ہے تو اس پر قابو نہیں پاتا۔ ایک ظالم کو دوسرے ظالم کے ہاتھ سے سزا ملتی ہے آیت مذکورہ کا یہ مفہوم ترجمہ کے اعتبار سے ہے، اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ ، عبداللہ بن زبیر ؓ، ابن زید ؓ مالک بن دینار وغیرہ سے اس آیت کی تفسیر دوسرے ترجمہ کے اعتبار سے یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ظالموں کو دوسرے ظالموں پر مسلط کردیتا ہے، اور اس طرح ایک ظالم کو دوسرے ظالم کے ہاتھ سے سزا دلوا دیتا ہے۔ یہ مضمون بھی اپنی جگہ صحیح و درست اور قرآن و حدیث کے دوسرے ارشادات کے مطابق ہے، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کما تکونون کذلک یؤ مر علیکم، یعنی جیسے تم ہوگے ویسے ہی حکام تم پر مسلط ہوں گے، تم ظالم و بدکار ہو گے تو تمہارے حاکم بھی ظالم و بدکار ہی ہوں گے اور تم نیک عمل و نیک کردار ہوگے تو اللہ تعالیٰ تمہارے حکام نیک اور رحم دل منصف مزاج لوگوں کو بنادیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کا بھلا چاہتے ہیں تو ان پر بہترین حکام و امرا کا تسلط فرماتے ہیں، اور جب کسی قوم کا برا چاہتے ہیں تو ان پر بدترین حکام و سلاطین کو مسلط کردیتے ہیں (تفسیر بحر محیط)۔ تفسیر روح المعانی میں ہے کہ فقہاء نے اس آیت سے اس پر استدلال کیا ہے کہ جب رعیت اور عوام اللہ تعالیٰ سے منحرف ہو کر ظلم و جور میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ظالم حکام مسلط کرکے ان کے ہاتھوں ان کو سزا دلواتے ہیں۔ اور ابن کثیر رحمة اللہ نے بروایت عبداللہ بن مسعود ؓ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ من اعان ظالما سلطہ اللّٰہ علیہ، ”یعنی جو شخص کسی ظالم کے ظلم میں اس کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسی ظالم کو اس کے ستانے کے لئے اس پر مسلط کردیتے ہیں، اور اسی کے ہاتھ سے اس کو سزا دلواتے ہیں“۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جماعت جنوں کی اور انسانوں کی کیا نہیں پہنچے تھے تمہارے پاس رسول تم ہی میں سے کہ سناتے تھے تم کو میرے حکم اور ڈراتے تھے تم کو اس دن کے پیش آنے سے کہیں گے کہ ہم نے اقرار کرلیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے اور قائل ہوگئے اپنے اوپر اس بات کے کہ وہ کافر تھے

دوسری آیت میں ایک سوال و جواب کا ذکر ہے جو محشر میں جنات اور انسانوں کو مخاطب کرکے کیا جائے گا، کہ تم جو کفر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا ہوئے اس کا کیا سبب ہے ؟ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں پہنچے جو تمہاری قوم میں سے تھے، جو میری آیات تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور آج کے دن کی حاضری اور حساب سے ڈراتے تھے ؟ اس کے جواب میں ان سب کی طرف سے رسولوں کے آنے اور پیغام حق سنانے کا اور اس کے باوجود کفر و نافرمانی میں مبتلا ہونے کا اقرار ذکر کیا گیا ہے، اور ان کی طرف سے کوئی وجہ اور سبب اس غلط کاری کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ حق تعالیٰ نے ہی اس کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ (آیت) وَغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا یعنی ان لوگوں کو دنیا کی زندگی اور لذتوں نے دھوکہ میں ڈال دیا، کہ وہ اسی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے جو درحقیقت کچھ نہ تھا، اور انجام و عاقیت سے غافل ہوگئے، بقول اکبر مرحوم تھی فقط غفلت ہی غفلت، عیش کا دن کچھ نہ تھا ہم اسے سب کچھ سمجھتے تھے وہ لیکن کچھ نہ تھا اس آیت میں ایک بات تو یہ قابل غور ہے کہ بعض دوسری آیات میں تو یہ مذکور ہے کہ مشرکین سے جب محشر میں ان کے کفر و شرک کے متعلق سوال ہوگا تو وہ اپنے جرم سے مکر جائیں گے، اور رب الارباب کے دربار میں قسم کھا کر یہ جھوٹ بولیں گے کہ (آیت) واللّٰہ ربنا ما کنا مشرکین، ”یعنی قسم ہے ہمارے پروردگار اللہ تعالیٰ کی ہم مشرک ہرگز نہ تھے“۔ اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کفر و شرک کا ندامت کے ساتھ اقرار کرلیں گے، ان دونوں میں بظاہر تعارض اور اختلاف معلوم ہوتا ہے، مگر دوسری آیات میں اس کی تشریح و توضیح اس طرح موجود ہے کہ ابتداء میں جب ان سے سوال ہوگا تو مکر جائیں گے، مگر اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے ان کی زبانیں بند کردیں گے، ہاتھوں، پیروں اور دوسرے اعضاء سے گواہی لیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے ان کو گویائی عطا ہوگی، اور وہ صاف صاف اس کے اعمال کا کچا چٹھا بیان کر دینگے اور اس وقت جن و انس کو یہ معلوم ہوگا کہ ہمارے ہاتھ پاؤں اور کان اور زبان سب قدرت کے کارخانہ کی خفیہ پولیس کے افراد تھے۔ جنہوں نے سارے معاملات اور حالات کی سچی اور صحیح شہادت دیدی، تو اب ان کو انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہ رہے گی، اس وقت یہ سب لوگ صاف صاف اعتراف جرم کرلیں گے۔ کیا جنّات میں بھی رسول ہوتے ہیں دوسری بات اس جگہ قابل غور یہ ہے کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے جنّات اور انسانوں کی دونوں جماعتوں کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ کیا ہمارے رسول تمہارے پاس نہیں پہنچے جو تمہاری ہی قوم سے تھے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح انسانوں کے رسول انسان اور بشر بھیجے گئے ہیں اسی طرح جنّات کے رسول جنّات کی قوم سے بھیجے گئے ہیں۔ اس مسئلہ میں علماء تفسیر و حدیث کے اقوال مختلف ہیں بعض کا کہنا یہ ہے کہ رسول اور نبی صرف انسان ہی ہوئے اور ہوتے چلے آئے ہیں، جنّات کی قوم میں سے کوئی شخص رسول بلا واسطہ نہیں ہوا، بلکہ ایسا ہوا ہے کہ انسانی رسول اور پیغمبر کا کلام اپنی قوم کو پہنچانے کے لئے جنّات کی قوم میں کچھ لوگ ہوئے ہیں جو درحقیقت رسولوں کے قاصد اور پیغمبر ہوتے تھے، مجازی طور پر ان کو بھی رسول کہہ دیا جاتا ہے، ان حضرات کا استدلال قرآن مجید کی ان آیات سے ہے جن میں جنّات کے ایسے اقوال مذکور ہیں کہ انہوں نے نبی کا کلام یا قرآن سن کر اپنی قوم کو پہنچایا، (آیت) مثلاً ولوا الی قومھم منذرین، اور سورة جن کی (آیت) فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا یھدی الی الرشد فامنا بہ، وغیرہ۔ لیکن ایک جماعت علماء اس آیت کے ظاہری معنی کے اعتبار سے اس کی بھی قائل ہیں کہ خاتم الانبیاء ﷺ سے پہلے ہر گروہ کے رسول اسی گروہ میں سے ہوتے تھے، انسانوں کے مختلف طبقات میں انسانی رسول آتے تھے، اور جنّات کے مختلف طبقات میں جنّات ہی میں سے رسول ہوتے تھے، حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ ﷺ کو سارے عالم کے انسانوں اور جنّات کا واحد رسول بنا کر بھیجا گیا اور وہ بھی کسی ایک زمانہ کیلئے نہیں، بلکہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام جن و انس آپ ﷺ کی امت ہیں، اور آپ ﷺ ہی سب کے رسول و پیغمبر ہیں۔ ہندوؤں کے اوتار بھی عموماً جنّات ہیں، ان میں کسی رسول و نبی ہونے کا احتمال۔ ائمہ تفسیر میں سے کلبی رحمة اللہ علیہ اور مجاہد رحمة اللہ علیہ وغیرہ نے اسی قوم کو اختیار کیا ہے، اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر مظہری میں اسی قول کو اختیار فرماتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آدم ؑ سے پہلے جنّات کے رسول جنّات ہی کی قوم میں سے ہوتے تھے، اور جبکہ یہ ثابت ہے کہ زمین پر انسانوں سے ہزاروں سال پہلے سے جنات آباد تھے اور وہ بھی انسانوں کی طرح احکام شرع کے مکلف ہیں، تو ازروئے عقل و شرع ضروری ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے والے رسول و پیغمبر ہوں۔ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہندوستان کے ہندو جو اپنی وید کی تاریخ ہزارہا سال پہلے کی بتلاتے ہیں اور اپنے مقداء و بزرگ جن کو وہ اوتار کہتے ہیں اسی زمانہ کے لوگوں کو بتاتے ہیں، کچھ بعید نہیں کہ وہ یہی جنّات کے رسول و پیغمبر ہوں اور انہی کی لائی ہوئی ہدایات کسی کتاب کی صورت میں جمع کی گئی ہوں، ہندوؤں کے اوتاروں کی جو تصویریں اور مورتیاں مندروں میں رکھی جاتی ہیں وہ بھی اسی انداز کی ہیں، کہ کسی کے کئی چہرے ہیں، کسی کے بہت سے ہاتھ پاؤں ہیں، کسی کے ہاتھی کی طرح سونڈ ہے، جو عام انسانی شکلوں سے بہت مختلف ہیں، اور جنّات کا ایسی شکلوں میں متشکل ہونا کچھ مستبعد نہیں، اس لئے کچھ بعید نہیں کہ ان کے اوتار جنّات کی قوم میں آئے ہوئے رسول یا ان کے نائب ہوں اور ان کی کتاب بھی ان کی ہدایت کا مجموعہ ہو، پھر رفتہ رفتہ جیسے دوسری کتابوں میں تحریف ہوگئی، اس میں بھی تحریف کرکے شرک و بت پرستی داخل کردی گئی۔ اور بہر حال اگر وہ اصل کتاب اور رسل جن کی صحیح ہدایات بھی موجود ہوتیں تو رسول کریم ﷺ کی بعثت اور رسالت عامہ کے بعد وہ بھی منسوخ اور ناقابل عمل ہی ہوجائیں اور مسخ و محرف ہونے کے بعد تو اس کا ناقابل عمل ہونا خود ہی واضح ہے۔