Ayah 6:151خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان سے) کہئے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا ہے وہ (چیزیں یہ ہیں کہ ایک) یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراو (پس شریک ٹھہرانا حرام ہوا) اور (دوسرے یہ کہ) ماں باپ کے ساتھ احسان کیا کرو (پس ان سے بری طرح رہنا حرام ہوا) اور (تیسرے یہ کہ) اپنی اولاد کو افلاس کے سبب (جیسا کہ جاہلیت میں غالب عادت تھی) قتل مت کیا کرو (کیونکہ) ہم تم کو اور ان کو (دونوں کو) رزق (مقدر) دیں گے (وہ تمہارے رزق مقدر میں شریک نہیں ہیں، پھر کیوں قتل کرتے ہو، پس قتل کرنا حرام ہوا) اور (چوتھے یہ کہ) بےحیائی (یعنی بدکاری) کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاو (پس زنا کرنا حرام ہوا) خواہ وہ علانیہ ہوں اور خواہ پوشیدہ ہوں (وہ طریقے یہی ہیں) اور (پانچویں یہ کہ) جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق (شرعی) پر (قتل جائز ہے مثلاً قصاص یا رجم میں، پس قتل ناحق حرام ہوا) اس (سب) کا تم کو (اللہ تعالیٰ نے) تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم (ان کو) سمجھو (اور سمجھ کر عمل کرو) اور (چھٹے یہ کہ) یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ (یعنی اس میں تصرف مت کرو) مگر ایسے طریقہ سے (تصرف کی اجازت ہے) جو کہ (شرعاً) مستحسن ہے (مثلاً اس کے کام میں لگانا، اس کی حفاظت کرنا، اور بعض اولیاء اور اوصیاء کو اس میں یتیم کے لئے تجارت کرنے کی بھی اجازت ہے) یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاوے (اس وقت تک ان تصرفات مذکورہ کو بھی اجازت ہے، اور پھر اس کا مال اس کو دے دیاجاوے گا بشرط سفیہہ نہ ہونے کے، پس تصرف غیر مشروع مال یتیم میں حرام ہوا) اور (ساتویں یہ کہ) ناپ اور تول پوری پوری کیا کرو، انصاف کے ساتھ (کہ کسی کا حق اپنے پاس نہ رہے، اور نہ آوے، پس اس میں دغا کرنا حرام ہوا، اور یہ احکام کچھ دشوار نہیں کیونکہ) ہم (تو) کسی شخص کو اس کے امکان سے زیادہ (احکام کی) تکلیف (بھی) نہیں دیتے (پھر ان احکام میں کوتاہی کیوں کی جاوے) اور (آٹھویں یہ کہ) جب تم (فیصلہ یا شہادت وغیرہ کے متعلق کوئی) بات کیا کرو (جیسی قسم یا نذر بشرط اس کے مشروع ہونے کے) اس کو پورا کیا کرو (پس اس کا عدم ایفاء حرام ہوا) ان (سب) کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو (اور عمل کرو) اور یہ (بھی کہہ دیجئے) کہ (کچھ انھیں احکام کی تخصیص نہیں بلکہ) یہ دین (اسلام اور اس کے تمام احکام) میرا رستہ ہے (جس کی طرف میں باذن الٓہی دعوت دیتا ہوں) جو کہ (بالکل) مستقیم (اور راست) ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے (جن کی طرف میں دعوت کرتا ہوں) جدا (اور دور) کردیں گے، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم (اس راہ کے خلاف کرنے سے) احتیاط رکھو۔
معارف و مسائل
ان آیات سے پہلے تقریباً دو تین رکوع میں مسلسل یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ غافل اور جاہل انسان نے زمین و آسمان کی ساری چیزوں کے پیدا کرنے والے احکم الحاکمین کا نازل کیا ہوا قانون چھوڑ کر آبائی اور من گھڑت رسموں کو اپنا دین بنا لیا، جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا تھا ان کو جائز سمجھ کر استعمال کرنے لگے، اور بہت سی چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا، اور بعض چیزوں کو مردوں کے لئے جائز عورتوں کے لئے حرام، بعض کو عورتوں کے لئے حلال مردوں کے لئے حرام قرار دیدیا۔
ان تین آیتوں میں ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، تفصیلی بیان میں نو چیزوں کا ذکر ہے، اس کے بعد دسواں حکم اس طرح بیان فرمایا گیا کہ (آیت) ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ”یعنی یہ دین میرا سیدھا راستہ ہے، اس پر چلو“۔ جس میں رسول کریم ﷺ کے لائے ہوئے اور بتلائے ہوئے دین و شریعت کی طرف اشارہ کرکے تمام حلال و حرام اور جائز و ناجائز، مکروہ و مستحب چیزوں کی تفصیلات کو اس کے حوالہ کردیا کہ شریعت محمدیہ ﷺ نے جس چیز کو حلال بتلایا اس کو حلال اور جس کو حرام قرار دیا اس کو حرام سمجھو، اپنی طرف سے حلال و حرام کے فیصلے نہ کرتے پھرو۔
پھر جن دس چیزوں کا تفصیلی بیان ان آیات میں آیا ہے ان میں اصل مقصد تو حرام چیزوں کا بیان کرنا ہے، جس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ ان سب کو بصیغہ نہی ممانعت کرنے کے عنوان سے بیان کیا جاتا، لیکن قرآن کریم نے اپنے خاص حکیمانہ اسلوب کے ماتحت ان میں سے چند چیزوں کو ایجابی طور پر بصیغہ امر بیان فرمایا ہے، اور مراد یہ ہے کہ اس کے خلاف کرنا حرام ہے (کشاف) اس کی حکمت آگے معلوم ہوجائے گی، وہ دس چیزیں جن کی حرمت کا بیان ان آیات میں آیا ہے یہ ہیں
(1) اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت و اطاعت میں کسی کو ساجھی ٹھہرانا، (2) والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، (3) فقر و افلاس کے خوف سے اولاد کو قتل کردینا، (4) بےحیائی کے کام کرنا، (5) کسی کو ناحق قتل کرنا، (6) یتیم کا مال ناجائز طور پر کھا جانا، (7) ناپ تول میں کمی کرنا، (8) شہادت یا فیصلہ یا دوسرے کلام میں بےانصافی کرنا (9) اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا نہ کرنا، (01) اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر دائیں بائیں دوسرے راستے اختیار کرنا۔
آیات مذکورہ کی اہم خصوصیات
کعب احبار رحمة اللہ علیہ جو تورات کے ماہر عالم ہیں پہلے یہودی تھے، پھر مسلمان ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیات جن میں دس حرام چیزوں کا بیان ہے، اللہ کی کتاب تورات بسم اللہ کے بعد ابھی آیات سے شروع ہوتی ہے (انتہیٰ) اور کہا گیا ہے کہ یہی وہ دس کلمات ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوئے تھے۔
مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہی وہ آیات محکمات ہیں جن کا ذکر سورة آل عمران میں آیا ہے کہ جن پر آدم ؑ سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتیں متفق رہی ہیں ان میں سے کوئی چیز کسی مذہب وملت اور کسی شریعت میں منسوخ نہیں ہوئی (تفسیر بحر محیط)
یہ آیات رسول اللہ ﷺ کا وصیت نامہ ہیں
اور تفسیر ابن کثیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کا ایسا وصیت نامہ دیکھنا چاہے جس پر آپ ﷺ کی مہر لگی ہو تو وہ ان آیات کو پڑھ لے، ان میں وہ وصیت موجود ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بحکم خداوندی اُمّت کو دی ہے۔
اور حاکم نے بروایت حضرت عبادہ بن صامت ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو خطاب کرکے فرمایا”کون ہے جو مجھ سے تین آیتوں پر بیعت کرے“۔ پھر یہی تین آیتیں تلاوت فرما کر ارشاد فرمایا کہ”جو شخص اس بیعت کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگیا“۔
اب ان دس چیزوں کا تفصیلی بیان اور تینوں آیتوں کی تفسیر دیکھئے؛ ان آیات کی ابتداء اس طرح کی گئی ہے(آیت) قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اس میں تعالوا کا ترجمہ ہے ”آجاؤ“۔ اور اصل میں یہ کلمہ ایسے وقت بولا جاتا ہے جب کہ کوئی بلانے والا بلند جگہ کھڑا ہو کر نیچے والوں کو اپنے پاس بلائے، اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے میں ان لوگوں کے لئے برتری اور بلندی ہے، معنی یہ ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا گیا کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ آجاؤ تاکہ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سنا دوں جو اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کی ہیں، یہ بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوا پیغام ہے، اس میں کسی کے ظن وتخمین یا قیاس کا دخل نہیں، تاکہ تم ان سے بچنے کا اہتمام کرو اور فضول اپنی طرف سے اللہ کی حلال چیزوں کو حرام کرتے نہ پھرو۔
اس آیت کا خطاب اگرچہ بلاواسطہ مشرکین مکہ کی طرف ہے، مگر مضمون خطاب عام ہے اور تمام بنی نوع انسان کو شامل ہے خواہ مومن ہوں یا کافر، عرب ہوں یا عجم، اور موجودہ حاضرین ہوں یا آئندہ آنے والی نسلیں (بحر محیط)
سب سے پہلا گناہ عظیم شرک ہے جس کو حرام کیا گیا ہے
اس اہتمام کے ساتھ خطاب کرکے محرمات و ممنوعات کی فہرست میں سب سے پہلے یہ ارشاد فرمایا الا تشرکوا بہ شیئاً ، یعنی سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہ سمجھو، نہ مشرکین عرب کی طرح بتوں کو خدا بناؤ، نہ یہود و نصاریٰ کی طرف انبیاء کو خدا یا خدا کا بیٹا کہو، نہ دوسروں کی طرح فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دو ، نہ جاہل عوام کی طرح انبیاء و اولیاء کو صفت علم وقدرت میں اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراؤ۔
شرک کی تعریف اور اس کی قسمیں
اور تفسیر مظہری میں ہے کہ لفظ شیئاً کے معنی یہاں یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ شرک کی کسی قسم جلی یا خفی میں مبتلا نہ ہو، شرک جلی کو تو سب جانتے ہیں کہ کسی غیر اللہ کو عبادت اور اطاعت میں یا اس کی مخصوص صفات میں اللہ تعالیٰ کے برابر یا اس کا ساجھی قرار دینا ہے، اور شرک خفی یہ ہے کہ اپنے کاروبار اور دینی دنیوی مقاصد میں اور نفع نقصان میں اگرچہ عقیدہ تو یہی ہو کہ کارساز اللہ تعالیٰ ہے، مگر عملاً دوسروں کو کارساز سمجھے اور ساری کوشش دوسروں ہی سے وابستہ رکھے، یا عبادات میں ریا کاری کرے کہ دوسروں کو دکھانے کے لئے نماز وغیرہ کو درست کرکے پڑھے، یا صدقہ خیرات نام آوری کے خیال سے کرے، یا عملاً نفع نقصان کا مالک کسی غیر اللہ کو قرار دے، شیخ سعدی رحمة اللہ علیہ نے اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے
دریں نوعے از شرک پوشیدہ است کہ زیدم بہ بخشیدو عمرم بخست
یعنی اس میں بھی ایک قسم کا شرک چھپا ہوا ہے کہ آدمی یوں سمجھے کہ مجھے زید نے کچھ بخش دیا اور عمر نے نقصان پہنچا دیا، بلکہ حقیقت اس کے سوا نہیں کہ بخشش یا نقصان جو کچھ ہے وہ قادر مطلق حق تعالیٰ کی طرف سے ہے، زید اور عمر پردے ہیں جن کے اندر سے بخشش یا نقصان کا ظہور ہوتا ہے ورنہ جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے کہ اگر ساری دنیا کے جن و انس مل کر تم کو کوئی ایسا نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر نہیں فرمایا تو مجال نہیں کہ پہنچا سکیں، اسی طرح اگر ساری دنیا کے جن و انس مل کر تم کو کوئی ایسا نقصان پہنچانا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا تو یہ بھی کسی سے ممکن نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ شرک جلی اور خفی دونوں سے انتہائی پرہیز کرنا چاہیے، اور شرک میں جس طرح بتوں وغیرہ کی پوجا پاٹ داخل ہے، اسی طرح انبیاء و اولیاء کو علم وقدرت وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنا بھی شرک میں داخل ہے، اگر خدا نخواستہ کسی کا عقیدہ ہی ایسا ہو تو شرک جلی ہے، اور عقیدہ نہ ہو مگر عمل اس طرح کا ہے تو شرک خفی کہلائے گا، اس مقام میں سب سے پہلے شرک سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے، وجہ یہ ہے کہ شرک ایسا جرم ہے جس کے متعلق قرآن کا فیصلہ ہے کہ اس کی معافی نہیں، اس کے سوا دوسرے گناہوں کی معافی مختلف اسباب سے ہو سکتی ہے، اسی لئے حدیث میں بروایت حضرت عبادہ بن صامت ؓ و حضرت ابو الدرداء ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو ساجھی نہ قرار دو ، اگرچہ تمہارے ٹکڑے کردیئے جائیں، یا تمہیں سولی پر چڑھا دیا جائے، یا تمہیں زندہ جلا دیا جائے۔
دوسرا گناہ، والدین سے بدسلوکی ہے
اس کے بعد دوسری چیز یہ ارشاد فرمائی(آیت) وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا، یعنی والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ اور اچھا برتاؤ کرو، مقصد تو اس جگہ یہ ہے کہ والدین کی نافرمانی نہ کرو، ان کو ایذاء نہ پہنچاؤ، مگر حکیمانہ انداز سے بیان اس طرح کیا گیا کہ والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو، اس میں اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ والدین کے حق میں صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ ان کی نافرمانی نہ کرو اور ایذاء نہ پہنچاؤ، بلکہ حسن سلوک اور نیاز مندانہ برتاؤ کے ذریعہ ان کو راضی رکھنا اور خوش کرنا فرض ہے، جس کا بیان دوسری جگہ قرآن کریم میں اس طرح آیا ہے(آیت) واخفض لہما جناح الذل، ”یعنی ان کے سامنے اپنے بازو نیاز مندانہ طور پر پست کرو“۔
اس آیت میں والدین کو ایذاء پہنچانے اور تکلیف دینے کو شرک کے بعد دوسرے نمبر کا جرم قرار دیا ہے، جیسا کہ دوسری آیت میں ان کی اطاعت اور راحت رسانی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر ارشاد فرمایا ہے
(آیت) وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا۔
”یعنی آپ ﷺ کے رب نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو“۔
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا
(آیت) ان اشکرلی ولوالدیک الی المصیر
”یعنی میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا پھر میری ہی طرف لوٹ کر آنا یعنی اگر خلاف کرو گے تو سزا پاؤ گے“۔
صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ سب سے افضل اور بہتر عمل کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ”نماز کو اس کے وقت (مستحب) میں پڑھنا“۔ فرماتے ہیں کہ میں نے پھر سوال کیا کہ اس کے بعد کونسا عمل افضل ہے ؟ تو فرمایا ”والدین کے ساتھ اچھا سلوک“۔ پھر پوچھا کہ اس کے بعد کونسا عمل ہے ؟ فرمایا”اللہ کے راستہ میں جہاد“۔
صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ مذکور ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایاانفہ رغم انفہ رغم انفہ، یعنی ذلیل ہوگیا، ذلیل ہوگیا، ذلیل ہوگیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کون ذلیل ہوگیا ؟ فرمایا وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کے زمانہ میں پایا اور پھر وہ جنت میں داخل نہ ہوا۔
مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے کے زمانہ میں والدین کی خدمت سے جنت کا ملنا یقینی ہے بڑا محروم و ذلیل ہے وہ شخص جس نے اتنی سستی جنت کو ہاتھ سے کھو دیا، سستی اس لئے کہ والدین جو اولاد پر طبعی طور پر خود ہی مہربان ہوتے ہیں وہ ذرا سی خدمت سے بہت خوش ہوجاتے ہیں، ان کا خوش رکھنا کسی بڑے عمل کا محتاج نہیں، اور بڑھاپے کی قید اس لئے کہ جس وقت والدین تندرست اور قوی ہیں، اور اپنی ضروریات خود پوری کرتے ہیں بلکہ اولاد کی بھی مالی اور جانی امداد کردیتے ہیں اس وقت تو نہ خدمت کے وہ محتاج ہیں نہ اس خدمت کا کوئی خاص وزن ہے، قابل قدر خدمت اس وقت ہی ہو سکتی ہے جب کہ وہ بڑھاپے کی وجہ سے محتاج ہوں۔
تیسرا حرام قتل اولاد
تیسری چیز جس کا حرام ہونا ان آیات میں بیان ہوا ہے وہ قتل اولاد ہے، اور مناسب یہ ہے کہ اس سے پہلے ماں باپ کے حق کا بیان تھا جو اولاد کے ذمہ ہے اور اس میں اولاد کے حق کا بیان ہے جو ماں باپ کے ذمہ ہے، اولاد کے ساتھ بدسلوکی کا بدترین معاملہ وہ تھا جو جاہلیت میں اس کو زندہ درگور کرنے یا قتل کرنے کا جاری تھا، اس آیت میں اس سے روکا گیا۔ ارشاد فرمایا (آیت) ۚوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ”یعنی افلاس کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ہم تم کو بھی رزق دیں گے اور ان کو بھی“۔
جاہلیت کے زمانہ میں بےرحمی اور سنگدلی کی یہ بدترین رسم چل پڑی تھی کہ جس کے گھر میں لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو اس عار کے خوف سے کہ کسی کو داماد بنانا پڑے گا زندہ گڑھے میں دفن کردیتے تھے، اور بعض اوقات اس خوف سے کہ اولاد کے لئے ضروریات زندگی اور کھانے پینے کا سامان جمع کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی، یہ سنگدل لوگ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کردیتے تھے، قرآن کریم نے اس رسم کو مٹایا، اور جو ارشاد اوپر مذکور ہوا، اس میں ان کے اس ذہنی مرض کا بھی علاج کردیا، جس کے سبب وہ اس بدترین جرم کے مرتکب ہوتے تھے کہ بچوں کو کھانا کہاں سے کھلائیں گے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتلا دیا کہ کھانا کھلانے اور رزق پہنچانے کے اصلی ذمہ دار تم پر نہیں، یہ کام براہ راست حق تعالیٰ کا ہے، تم خود اپنے رزق اور کھانے میں بھی اسی کے محتاج ہو، وہ دیتا ہے تو تم بچوں کو بھی دیدیتے ہو، وہ اگر تمہیں نہ دے تو تمہاری کیا مجال ہے کہ ایک دانہ گیہوں یا چاول کا خود پیدا کرلو، زمین کے اندر سے بیج کو ایک کونپل کی صورت میں منوں مٹی کو چیر پھاڑ کر نکالنا پھر اس کو درخت کی صورت دینا، پھر اس پر پھول پھل لگانا کس کا کام ہے ؟ کیا ماں باپ یہ کام کرسکتے ہیں ؟ یہ تو سب قادر مطلق کی قدرت و حکمت کے کرشمے ہیں، انسان کے عمل کا اس میں کیا دخل ہے وہ تو صرف اتنا کرسکتا ہے کہ زمین کو نرم کر دے اور درخت نکلے تو پانی دے دے، اور اس کی حفاظت کرلے، مگر پھول پھل پیدا کرنے میں تو اس کا ادنیٰ دخل نہیں، معلوم ہوا کہ ماں باپ کا یہ تصور غلط ہے کہ ہم بچوں کو رزق دیتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے خزانہ غیب سے ماں باپ کو بھی ملتا ہے، اولاد کو بھی، اسی لئے اس جگہ ماں باپ کے ذکر کو مقدم کرکے فرمایا کہ ہم تم کو بھی رزق دیں گے اور ان کو بھی، اس تقدیم میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ تم کو رزق اس لئے دیا جاتا ہے کہ تم بچوں کو پہنچاؤ، جیسا کہ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہےانما تنصرون وترزقون بضعفاء کم ”یعنی تمہارے کمزور لوگوں کے طفیل میں اللہ تعالیٰ تمہاری بھی مدد فرماتے ہیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں“۔
اولاد کی تعلیمی اخلاقی تربیت نہ کرنا اور بےدینی کے لئے آزاد چھوڑ دینا بھی ایک طرح سے قتل اولاد ہے
قتل اولاد کا جرم اور سخت گناہ ہونا جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے وہ ظاہری قتل کرنے اور مار ڈالنے کے لئے تو ظاہری ہے، اور غور کیا جائے تو اولاد کو تعلیم و تربیت نہ دینا جس کے نتیجہ میں خدا و رسول ﷺ اور آخرت کی فکر سے غافل رہے، بد اخلاقیوں اور بےحیائیوں میں گرفتار ہو یہ بھی قتل اولاد سے کم نہیں، قرآن کریم نے اس شخص کو مردہ قرار دیا ہے جو اللہ کو نہ پہچانے، اور اس کی اطاعت نہ کرے، (آیت) اومن کان میتا فاحیینہ میں اسی کا بیان ہے، جو لوگ اپنی اولاد کے اعمال و اخلاق کے درست کرنے پر توجہ نہیں دیتے ان کو آزاد چھوڑتے ہیں یا ایسی غلط تعلیم دلاتے ہیں جس کے نتیجہ میں اسلامی اخلاق تباہ ہوں وہ بھی ایک حیثیت سے قتل اولاد کے مجرم ہیں، اور ظاہری قتل کا اثر تو صرف دنیا کی چند روزہ زندگی کو تباہ کرتا ہے، یہ قتل انسان کی اخروی اور دائمی زندگی کو تباہ کردیتا ہے۔
چوتھا حرام بےحیائی کا کام ہے
چوتھی چیز جس کے حرام ہونے کا ان آیات میں بیان ہے وہ بےحیائی کے کام ہیں، اس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، یعنی بےحیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ۔
فَوَاحِشُ ، فاحشہ کی جمع ہے، اور لفظ فحش، فحشاء اور فاحشہ سب مصدر ہیں، جن کا اردو میں ترجمہ بےحیائی سے کیا جاتا ہے، اور قرآن و حدیث کی اصلاح میں ہر ایسے برے کام کے لئے یہ الفاظ بولے جاتے ہیں جس کی برائی اور فساد کے اثرات برے ہوں اور دور تک پہنچیں، امام راغب رحمة اللہ علیہ نے مفردات القرآن میں اور ابن اثیر رحمة اللہ علیہ نے بہایہ میں یہی معنی بیان فرمائے ہیں، قرآن کریم میں جابجا فحش اور فحشاء کی ممانعت وارد ہوئی ہے ایک آیت میں ارشاد ہے (آیت) ینھی عن الفحشاء والمنکر، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) حرم ربی الفواحش وغیرہ۔
فحش اور فحشاء کے اس مفہوم عام میں تمام بڑے گناہ داخل ہیں خواہ اقوال سے متعلق ہوں یا افعال سے اور ظاہر سے متعلق ہوں یا باطن اور قلب سے، بدکاری اور بےحیائی کے جتنے کام ہیں وہ بھی سب اس میں داخل ہیں، اسی لئے عام زبانوں پر یہ لفظ بدکاری کے معنی میں بولا جاتا ہے، قرآن کی اس آیت میں فواحش کے قریب جانے سے بھی روکا گیا ہے، اس کو اگر مفہوم عام میں لیا جائے تو تمام بری خصلتیں اور گناہ خواہ زبان کے ہوں خواہ ہاتھ پاؤں وغیرہ کے، اور خواہ دل سے متعلق ہوں، سبھی اس میں داخل ہوگئے، اور اگر مشہور عوام معنی بےحیائی کے لئے جاویں تو اس کے معنی بدکاری اور اس کے مقدمات اور اسباب مراد ہوں گے۔
پھر اسی آیت میں فواحش کی تفسیر میں یہ بھی فرما دیا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، پہلی تفسیر کے مطابق ظاہری فواحش سے زبان اور ہاتھ پاؤں وغیرہ کے تمام گناہ مراد ہوں گے، اور باطنی فواحش سے مراد وہ گناہ ہوں گے جو دل سے متعلق ہیں، جیسے حسد، کینہ، حرص، ناشکری، بےصبری وغیرہ۔
اور دوسری تفسیر کے مطابق ظاہری فواحش سے مراد وہ بےحیائی کے کام ہوں گے جن کو علانیہ کیا جاتا ہے، اور باطنی وہ جو چھپا کر کئے جاویں، کھلی بدکاری میں اس کے مقدمات و لوازمات سب داخل ہیں، بدنیتی سے کسی عورت کی طرف دیکھنا، ہاتھ وغیرہ سے چھونا، اس سے اس طرح کی باتیں کرنا سب اس میں داخل ہیں، اور باطنی بےحیائی میں وہ خیالات اور ارادے اور ان کو پورا کرنے کی خفیہ تدبیریں داخل ہیں جو کسی بےحیائی اور بدکاری کے سلسلہ میں عمل میں لائی جائیں۔
اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ ظاہری فواحش سے وہ بےحیائی کے کام مراد ہیں جن کا برا ہونا عام طور پر مشہور و معلوم ہے اور سب جانتے ہیں، اور باطنی فواحش سے مراد وہ افعال ہیں جو اللہ کے نزدیک بےحیائی کے کام ہیں، اگرچہ عام طور پر ان کو لوگ برا نہیں جانتے یا عام لوگوں کو ان کا حرام ہونا معلوم نہیں، مثلاً بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد بیوی بنا کر رکھ چھوڑنا یا کسی ایسی عورت سے نکاح کرلیا جو شرعاً اس کے لئے حلال نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت فواحش کے اصل مفہوم کے اعتبار سے تمام ظاہری اور باطنی گناہوں کو اور مشہور عام مفہوم کے اعتبار سے بدکاری و بےحیائی کے جتنے طریقے کھلے یا چھپے ہوئے ہیں ان سب کو شامل ہے، اور حکم اس میں یہ دیا گیا ہے کہ ان چیزوں کے پاس بھی نہ جاؤ، پاس نہ جانے سے مراد یہ ہے کہ ایسی مجلسوں اور ایسے مقامات سے بھی بچو جہاں جاکر اس کا خطرہ ہو کہ ہم گناہ میں مبتلا ہوجائیں گے، اور ایسے کاموں سے بھی بچو جن سے ان گناہوں کا راستہ نکلتا ہو، حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے
من حام حول حمی او شک ان یقع فیہ
”یعنی جو شخص کسی ممنوع جگہ کے گرد گھومتا ہے تو کچھ بعید نہیں کہ وہ اس میں داخل بھی ہوجائے“۔
اس لئے احتیاط کا مقتضیٰ یہی ہے کہ جس جگہ کا داخلہ ممنوع ہے اس جگہ کے اردگرد بھی نہ پھرے۔
پانچواں حرام قتل ناحق ہے
محرمات میں سے پانچویں چیز قتل ناحق ہے، اس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ ۭ ”یعنی جس شخص کا خون اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق پر“۔ اور اس حق کی تفصیل رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرمائی ہے جو بروایت عبداللہ بن مسعود ؓ بخاری و مسلم نے نقل کی ہے وہ یہ کہ آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں، مگر تین چیزوں سے، ایک یہ کہ وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری میں مبتلا ہوجائے، دوسرے یہ کہ اس نے کسی کا ناحق قتل کردیا ہو، اس کے قصاص میں مارا جائے، تیسرے یہ کہ اپنا دین حق چھوڑ کر مرتد ہوگیا ہو۔
حضرت عثمان غنی ؓ جس وقت باغیوں کے نرغہ میں محصور تھے، اور یہ لوگ ان کو قتل کرنا چاہتے تھے اس وقت بھی حضرت عثمان ؓ نے لوگوں کو یہ حدیث سنا کر کہا کہ بحمد اللہ میں ان تینوں چیزوں سے بری ہوں، میں نے زمانہ اسلام میں تو کیا زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی بدکاری نہیں کی، اور نہ میں نے کسی کو قتل کیا، اور نہ کبھی میرے دل میں یہ وسوسہ آیا کہ میں اپنے دین اسلام کو چھوڑ دوں، پھر تم مجھے کس بناء پر قتل کرتے ہو ؟
اور بےوجہ قتل کرنا جیسے مسلمان کا حرام ہے اسی طرح اس غیر مسلم کا قتل بھی ایسا ہی حرام ہے جو کسی اسلامی ملک میں ملک کے قانون کا پابند ہو کر رہتا ہے، یا جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں بروایت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ جو کسی ذمی غیر مسلم کو قتل کر دے اس نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، اور جو شخص اللہ کے عہد کو توڑ دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا، حالانکہ جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت تک پہنچتی ہے۔
اس ایک آیت میں دس سے پانچ حرام و ناجائز چیزوں کو بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ”یعنی ان چیزوں کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو“۔
Ayah 6:152چھٹا حرام، یتیم کا مال ناجائز طور پر کھانا
دوسری آیت میں چھٹا حکم یتیم کا مال ناجائز طور پر کھانے کی حرمت کے متعلق ارشاد فرمایا(آیت) وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ”یعنی یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو مستحسن ہے یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے“۔ اس میں یتیم نابالغ بچوں کے ولی اور پالنے والے کو خطاب ہے، کہ وہ ان کے مال کو ایک آگ سمجھیں اور ناجائز طور پر اس کے کھانے اور لینے کے پاس بھی نہ جائیں، جیسا کہ دوسری ایک آیت میں انہی الفاظ کے ساتھ آیا ہے، کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر ظلماً کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔
البتہ یتیم کے مال کی حفاظت کرنا اور کسی ایسی جائز تجارت یا کاروبار میں لگا کر بڑھانا جس میں نقصان کا خطرہ عادةً نہ ہو، یہ طریقہ مستحسن اور ضروری ہے، یتیموں کے ولی کو ایسا کرنا چاہیے۔
اس کے بعد مال یتیم کی حفاظت کی ذمہ داری کی حد بتلا دی حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ، یعنی یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے تو ولی کی ذمہ داری ختم ہوگئی، اس کا مال اس کے سپرد کردیا جائے۔
لفظ اشد کے اصلی معنی قوت کے ہیں، اور اس کی ابتداء جمہور علماء نے نزدیک بالغ ہوجانے سے ہوجاتی ہے، جس وقت بچہ میں آثار بلوغ پائے جائیں یا اس کی عمر پندرہ سال کی پوری ہوجائے، اس وقت اس کو شرعاً بالغ قرار دیا جائے گا۔
البتہ بالغ ہوجانے کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ اس میں اپنے مال کی حفاظت اور صحیح مصرف میں خرچ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی ہے یا نہیں، اگر صلاحیت ابھی اس میں موجود نہیں تو پچیس سال کی عمر تک مال کی حفاظت ولی کے ذمہ ہے، اس درمیان میں جس وقت بھی اس کو مال کی حفاظت اور کاروبار کی لیاقت پیدا ہوجائے تو مال اس کو دیا جاسکتا ہے، اور اگر پچیس سال تک بھی اس میں یہ صلاحیت پیدا نہ ہو تو پھر امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک اس کا مال بہر حال اس کو دے دیا جائے، بشرطیکہ اس کی یہ عدم صلاحیت دیوانگی اور جنون کی حد تک نہ پہنچی ہو، اور بعض ائمہ کے نزدیک اس وقت بھی مال اس کو سپرد نہ کیا جائے، بلکہ قاضی شرعی اس کے مال کی حفاظت کسی ذمہ دار آدمی کے سپرد کردے۔
یہ مضمون قرآن مجید کی ایک دوسری آیت سے ماخوذ ہے، جس میں فرمایا ہے(آیت) فان انستم منھم رشدا فادفعوا الیھم اموالھم، یعنی یتیم بچوں میں بالغ ہونے کے بعد اگر تم یہ صلاحیت دیکھو کہ وہ اپنے مال کی خود حفاظت کرسکتے ہیں اور کسی کاروبار میں لگا سکتے ہیں تو ان کا مال ان کے سپرد کردو، اس آیت نے بتلایا کہ صرف بالغ ہونا مال سپرد کرنے کے لئے کافی نہیں، بلکہ مال کی حفاظت اور کاروبار کی قابلیت شرط ہے۔
ساتواں حرام ناپ تول میں کمی
ساتواں حرام اس آیت میں ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرنے کا ہے انصاف کا مطلب یہ ہے کہ دینے والا دوسرے فریق کے حق میں کوئی کمی نہ کرے اور لینے والا اپنے حق سے زیادہ نہ لے (روح المعانی)
چیزوں کے لین دین میں ناپ تول میں کمی زیادتی کو قرآن نے شدید حرام قرار دیا ہے، اور اس کے خلاف کرنے والوں کے لئے سورة مطففین میں سخت وعید آئی ہے۔
مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو جو تجارت میں ناپ تول کا کام کرتے ہیں خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ ناپ اور تول یہ وہ کام ہیں جن میں بےانصافی کرنے کی وجہ سے تم سے پہلے کئی امتیں عذاب الٓہی کے ذریعے تباہ ہوچکی ہیں (تم اس میں پوری احتیاط سے کام لو) (تفسیر ابن کثیر)
افسروں، ملازموں، مزدوروں کا اپنی مقررہ ڈیوٹی اور خدمت میں کوتاہی کرنا بھی ناپ تول میں کمی کرنے کے حکم میں ہے
یاد رہے کہ ناپ تول کی کمی جس کو قرآن میں تطفیف کہا گیا ہے صرف ڈنڈی مارنے اور کم ناپنے کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ کسی کے ذمہ دوسرے کا جو حق ہے اس میں کمی کرنا بھی تطفیف میں داخل ہے جیسا کہ مؤ طا امام مالک رحمة اللہ علیہ میں حضرت عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص کو نماز کے ارکان میں کمی کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ تو نے تطفیف کردی یعنی جو حق واجب تھا وہ ادا نہیں کیا، اس کو نقل کرکے امام مالک رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں لکل شیء وفاء وتطفیف، یعنی حق کا پورا دینا اور کمی کرنا ہر چیز میں ہوتا ہے، صرف ناپ تول میں ہی نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو ملازم اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرتا، وقت چراتا ہے، یا کام میں کوتاہی کرتا ہے، وہ کوئی وزیر و امیر ہو یا معمولی ملازم، اور وہ کوئی دفتری کام کرنے والا ہو یا علمی اور دینی خدمت، جو حق اس کے ذمہ ہے اس میں کوتاہی کرے تو وہ بھی مطففین میں داخل ہے، اسی طرح مزدور جو اپنی مقررہ خدمت میں کوتاہی کرے وہ بھی اس میں داخل ہے۔
اس کے بعد فرمایا لا نکلف نفسا الا وسعھا، ”یعنی ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کسی چیز کا حکم نہیں دیتے“۔ بعض روایات حدیث میں اس کا یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اپنے حد اختیار تک ناپ تول کا پورا پورا حق ادا کرے تو اگر اس کے باوجود غیر اختیاری طور پر کوئی معمولی کمی بیشی ہوجائے تو وہ معاف ہے، کیونکہ وہ اس کی قدرت و اختیار سے خارج ہے۔
اور تفسیر مظہری میں ہے کہ اس جملہ کا اضافہ کرنے سے اشارہ اس طرف ہے کہ ادائے حق کے وقت احتیاط اس میں ہے کہ کچھ زیادہ دے دیا جائے، تاکہ کمی کا شبہ نہ رہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے ہی موقع پر وزن کرنے والے کو حکم دیا کہ زن وارجع، ”یعنی تولو اور جھکتا ہوا تولو“۔ (احمد، ابو داؤد، ترمذی، بروایت سوید بن قین ؓ
اور رسول اللہ ﷺ کی عام عادت یہی تھی کہ جس کسی کا کوئی حق آپ ﷺ کے ذمہ ہوتا، تو اس کے ادا کرنے کے وقت اس کے حق سے زائد ادا فرمانے کو پسند فرماتے تھے، اور بخاری کی ایک حدیث میں بروایت جابر ؓ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے کے وقت بھی نرم ہو کہ حق سے زیادہ دے اور خریدنے کے وقت بھی نرم ہو کہ حق سے زیادہ نہ لے، بلکہ کچھ معمولی کمی بھی ہو تو راضی ہو جائے“۔
مگر یہ حکم اخلاقی ہے کہ دینے میں زیادہ دے اور لینے میں کم بھی ہو تو جھگڑا نہ کرے، قانونی چیز نہیں کہ آدمی ایسا کرنے پر مجبور ہو، اسی بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن میں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ چیز کا حکم نہیں دیتے، یعنی دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ ادا کرنا اور اپنے حق میں کمی پر راضی ہوجانا کوئی جبری حکم نہیں، کیونکہ عام لوگوں کو ایسا کرنا آسان نہیں۔
آٹھواں حکم عدل و انصاف ہے اس کے خلاف کرنا حرام ہے
ارشاد (آیت) فرمایا وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰي ”یعنی جب تم بات کہو تو حق کی کہو، اگرچہ وہ اپنا رشتہ دار ہی ہو“۔ اس جگہ کسی خاص بات کا ذکر نہیں، اسی لئے جمہور مفسرین کے نزدیک یہ ہر قسم کی بات کو شامل ہے، خواہ وہ بات کسی معاملہ کی گواہی ہو یا حاکم کی طرف سے فیصلہ یا آپس میں مختلف قسم کی گفتگو ان سب میں ارشاد قرآنی یہ ہے کہ ہر جگہ ہر حال بات کرتے ہوئے حق و انصاف کا خیال رہنا چاہئے، کسی مقدمہ کی گواہی یا فیصلہ میں حق و انصاف قائم رکھنے کے معنی ظاہر ہیں، کہ گواہ کو جو بات یقینی طور پر معلوم ہے وہ اپنی طرف سے کسی لفظ کی کمی بیشی کئے بغیر جتنا معلوم ہے صاف صاف کہہ دے، اپنی اٹکل اور گمان کو دخل نہ دے، اور اس کی فکر نہ کرے کہ اس سے کس کو فائدہ پہنچے گا، اور کس کو نقصان، اسی طرح کسی مقدمہ کا فیصلہ کرنا ہے تو گواہوں کو شرعی اصول پر جانچنے کے بعد جو کچھ ان کی شہادت سے نیز دوسری قسم کے قرائن سے ثابت ہو اس کے مطابق فیصلہ کرے، گواہی اور فیصلہ دونوں میں نہ کسی کی دوستی اور محبت حق بات کہنے سے مانع ہو، اور نہ کسی کی دشمنی اور مخالفت، اسی لئے اس جگہ یہ جملہ بڑھایا گیا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰي، یعنی اگرچہ وہ آدمی جس کے مقدمہ کی شہادت دینا یا فیصلہ کرنا ہے وہ تمہارا رشتہ دار ہی ہو تب بھی حق و انصاف کو نہ گواہی میں ہاتھ سے جانے دو اور نہ فیصلہ میں۔
مقصود اس آیت میں جھوٹی گواہی اور حق کے خلاف فیصلہ سے روکنا ہے، جھوٹی گواہی کے متعلق ابو داؤد اور ابن ماجہ نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے کہ
”جھوٹی گواہی شرک کے برابر ہے، تین مرتبہ فرمایا، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی(آیت) فاجتنبوا الرجس من الاوثان تا مشرکین بہ ”یعنی بت پرستی کے گندہ عقیدہ سے بچو اور جھوٹ بولنے سے، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتے ہوئے“۔
اسی طرح حق کے خلاف فیصلہ کرنے کے بارے میں ابوداؤد نے بروایت حضرت بریدہ ؓ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ
”قاضی (یعنی مقدمات کا فیصلہ کرنے والے) تین قسم کے ہیں، ان میں سے ایک جنت میں جائے گا، اور دو جہنم میں، جس نے معاملہ کی تحقیق شریعت کے موافق کرکے حق کو پہچانا پھر حق کے مطابق فیصلہ کیا وہ جنّتی ہے اور جس نے تحقیق کرکے حق بات کو جان تو لیا، مگر جان بوجھ کر فیصلہ اس کے خلاف کیا وہ دوزخی ہے، اور اسی طرح وہ قاضی جس کو علم نہ ہو یا تحقیق اور غور وفکر میں کمی کی اور جہالت سے کوئی فیصلہ دے دیاوہ بھی جہنم میں جائے گا“۔
قرآن مجید کی دوسری آیات میں اسی مضمون کو اور بھی زیادہ وضاحت اور تاکید سے بیان فرمایا گیا ہے کہ شہادت یا فیصلہ میں کسی کو دوستی، قرابت اور تعلق کا یا دشمنی اور مخالفت کا کوئی اثر نہ ہونا چاہئے، جیسے ایک جگہ ارشاد ہے(آیت) ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین، ”یعنی حق بات اگرچہ خود تمہارے خلاف ہو یا والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے خلاف ہو اس کے کہنے میں رکاوٹ نہ ہونی چاہئے“۔
اسی طرح ایک دوسری آیت میں حکم ہے(آیت) ولا یجرمنکم شنان قوم علی الاتعدلوا، ”یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف کے خلاف گواہی دینے یا فیصلہ کرنے پر آمادہ نہ کر دے“۔ اور گواہی اور فیصلہ کے علاوہ آپس کی گفتگوؤں میں حق و انصاف قائم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جھوٹ نہ بولے، کسی کی غیبت نہ کرے، ایسی بات نہ بولے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے، یا کسی کو جانی یا مالی نقصان پہنچے۔
نواں حکم اللہ کے عہد کو پورا کرنا، یعنی عہد شکنی کا حرام ہونا
نواں حکم اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرنے اور عہد شکنی سے بچنے کا ہے، ارشاد فرمایا(آیت) وَبِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا، ”یعنی اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو“۔ اللہ کے عہد سے مراد وہ عہد بھی ہوسکتا ہے جو ازل میں ہر انسان سے لیا گیا جس میں سب انسانوں سے کہا گیا تھا الست بربکم، ”کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں“۔ سب نے جواب دیا بَلٰی، ”یعنی بلاشبہ آپ ہمارے رب اور پروردگار ہیں“۔ اس عہد کا مقتضیٰ یہی ہے کہ پروردگار کے کسی حکم کی سرتابی نہ کریں، جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے ان کو سارے کاموں سے مقدم اور اہم جانیں، اور جن کاموں سے منع فرمایا ہے ان کے پاس بھی نہ جائیں، اور ان کے شبہات سے بھی بچتے رہیں، خلاصہ اس عہد کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت کریں۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ خاص خاص عہد جن کا ذکر قرآن کے مختلف مواقع میں فرمایا گیا ہے مراد ہوں، اور انہی میں سے یہ تین آیتیں بھی جن کی تفسیر آپ دیکھ رہے ہیں (جن میں دس احکام تاکید کے ساتھ بیان فرمائے گئے ہیں)۔
علماء نے فرمایا کہ اس عہد میں نذر اور منّت کا پورا کرنا بھی داخل ہے جو ایک انسان اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے کہ فلاں کام کروں گا یا نہیں کروں گا، قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں اس کو صراحةً بھی ذکر فرمایا ہے (آیت) یوفون بالنذر، ”یعنی اللہ کے نیک بندے اپنی منتوں کو پورا کیا کرتے ہیں“۔
(خلاصہ یہ ہے کہ یہ نواں حکم شمار میں تو نواں حکم ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے تمام احکام شرعیہ واجبات اور ممنوعات سب پر حاوی ہے)۔
اس دوسری آیت کے آخر میں فرمایا (آیت) ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ، ”یعنی ان کاموں کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو“۔
Ayah 6:153تیسری آیت میں دسواں حکم مذکور ہے (آیت) وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ، ”یعنی یہ دین محمدی ﷺ میرا سیدھا راستہ ہے، سو اس راہ پر چلو، اور دوسری راہوں پر مت چلو، کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی“۔
اس میں لفظ ھذا کا اشارہ دین اسلام یا قرآن کی طرف ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورة انعام کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ اس میں بھی پورے اصول اسلام، توحید، رسالت اور اصول احکام شرعیہ مذکور ہیں (اور مستقیم، دین کے اس راستہ کی صفت ہے جس کو نحوی ترکیب میں بصورت حال ذکر کرکے اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ دین اسلام کے لئے مستقیم ہونا لازمی وصف ہے اس کے بعد فرمایا فاتَّبِعُوْهُ یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ دین اسلام میرا راستہ ہے اور وہی مستقیم اور سیدھا راستہ ہے تو اب منزل مقصود کا سیدھا راستہ ہاتھ آگیا، اس لئے صرف اسی راستہ پر چلو)۔
پھر فرمایا (آیت) وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ، سُبُل، سبیل کی جمع ہے، اس کے معنی بھی راستہ کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کا اصلی راستہ تو ایک ہی ہے، لیکن دنیا میں لوگوں نے اپنے اپنے خیالات سے مختلف راستے بنا رکھے ہیں، تم ان راستوں میں سے کسی راستہ پر نہ چلو، کیونکہ یہ راستے حقیقت میں خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے نہیں ہیں، اس لئے جو ان راستوں پر چلے گا وہ اللہ کے راستہ سے دور جا پڑے گا۔
تفسیر مظہری میں فرمایا ہے کہ قرآن کریم نازل کرنے اور رسول کریم ﷺ کے بھیجنے کا منشاء تو یہ ہے کہ لوگ اپنے خیالات اور اپنے ارادوں اور تجویزوں کو قرآن و سنت کے تابع کریں، اور اپنی زندگیوں کو ان کے سانچہ میں ڈھالیں، لیکن ہو یہ رہا ہے کہ لوگوں نے قرآن و سنت کو اپنے خیالات اور تجویزات کے سانچہ میں ڈھالنے کی ٹھان لی، جو آیت یا حدیث اپنے منشاء کے خلاف نظر آئی اس کو تاویلیں کرکے اپنی خواہش کے مطابق بنالی، یہیں سے دوسری گمراہ کن راہیں پیدا ہوتی ہیں، جو بدعات اور شبہات کی راہیں ہیں، انھی سے بچنے کے لئے اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے۔
مسند دارمی میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سیدھا خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا رستہ ہے، پھر اس کے دائیں بائیں اور خطوط کھینچے اور فرمایا کہ یہ سُبُل ہیں، (یعنی وہ راستے جن پر چلنے سے اس آیت میں منع فرمایا ہے) اور فرمایا کہ ان میں سے ہر راستہ پر ایک شیطان مسلط ہے، جو لوگوں کو سیدھے راستہ سے ہٹا کر اس طرف بلاتا ہے اور اس کے بعد آپ ﷺ نے استدلال کے طور پر اس آیت کو تلاوت فرمایا۔
آخر آیت میں پھر ارشاد فرمایا(آیت) ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم احتیاط رکھو۔
تینوں آیتوں کی تفسیر اور ان میں بیان کئے ہوئے دس اصول محرمات کا بیان پورا ہوگیا، آخر میں قرآن کریم کے اس اسلوب بیان پر بھی ایک نظر ڈالئے، کہ اس جگہ دس احکام بیان کئے تھے، ان کو آجکل کی کتب قانون کی طرح دس دفعات میں نہیں لکھ دیا، بلکہ پہلے پانچ حکم بیان کرنے کے بعد فرمایا (آیت) ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ، اور پھر اور چار حکم بیان فرمانے کے بعد پھر اسی جملہ کو دوبارہ اس فرق کے ساتھ ذکر کیا کہ تعقلون کے بجائے تذکرون، فرمایا اور پھر آخری حکم ایک مستقل آیت میں بیان فرما کر پھر اسی جملے کا اعادہ اس فرق کے ساتھ کیا کہ تذکرون کے بجائے تتقون فرمایا۔
قرآن کریم کے اس حکیمانہ اسلوب بیان میں بہت سی حکمتیں ہیں۔
اول یہ کہ قرآن کریم عام دنیا کے قوانین کی طرح محض حاکمانہ قانون نہیں، بلکہ مربیانہ قانون ہے، اسی لئے ہر قانون کے ساتھ اس کو آسان کرنے کی تدبیر بھی بتلائی جاتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور فکر آخرت ہی وہ چیز ہے جو انسان کو قانون کی پابندی پر خلوت و جلوت میں مجبور کرنے والی ہے، اسی لئے تینوں آیتوں کے آخر میں ایسے کلمات لائے گئے جن سے انسان کا رخ مادی دنیا سے پھر کر اللہ تعالیٰ اور آخرت کی طرف ہوجائے۔
پہلی آیت میں جو پانچ احکام بیان کئے گئے ہیں شرک سے بچنا، والدین کی نافرمانی سے بچنا، قتل اولاد سے بچنا، بےحیائی کے کاموں سے بچنا، کسی کا ناحق خون کرنے سے بچنا، ان کے آخر میں تو لفظ تعقُلَون استعمال فرمایا، کیونکہ زمانہ جاہلیت والے ان چیزوں کو کوئی عیب ہی نہ جانتے تھے، اس لئے اشارہ کیا گیا کہ آبائی رسموں اور خیالوں کو چھوڑ کر عقل سے کام لو۔
دوسری آیت میں چار احکام بیان ہوئے، یعنی مال یتیم کو ناحق نہ کھانا، ناپ تول میں کمی نہ کرنا، بات کہنے میں حق اور صدق کا لحاظ رکھنا، اور اللہ کے عہد کو پورا کرنا۔
یہ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے ضروری ہونے کو تو یہ جاہل بھی جانتے تھے، اور ان میں کچھ لوگ عمل بھی کرتے تھے، مگر اکثر ان میں غفلت برتی جاتی تھی، اور غفلت کا علاج ہے تذکِرَہ یعنی خدا و آخرت کی یاد، اس لئے اس آیت کے آخر میں لفظ تَذَکَّرُون فرمایا۔
تیسری آیت میں صراط مستقیم کو اختیار کرنے اور اس کے خلاف دوسری راہوں سے بچنے کی ہدایت ہے، اور صرف خوف خدا ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو اپنے خیالات و خواہشات سے باز رکھنے کا صحیح ذریعہ ہو سکتی ہے، اس لئے اس کے آخر میں لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ارشاد فرمایا۔
اور تینوں جگہ لفظ وصیّت کا لایا گیا، جو تاکیدی حکم کو کہا جاتا ہے، اسی لئے بعض صحابہ کرام نے فرمایا کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کا مہر کیا ہوا وصیت نامہ دیکھنا چاہئے وہ یہ تین آیتیں پڑھ لے۔
Ayahs 6:154–157خلاصہ تفسیر
پھر (مضمون ابطال شرک کے بعد ہم مسئلہ نبوت میں کلام کرتے ہیں کہ ہم نے صرف آپ ﷺ کو اکیلا ہی نہیں بنایا، جس پر یہ لوگ اس قدر شور و غل مچا رہے ہیں، بلکہ آپ ﷺ سے قبل) ہم نے موسیٰ ؑ کو (پیغمبر بنا کر) کتاب (تورات) دی تھی، جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر (ہماری) نعمت پوری ہو (کہ عمل کرکے ثواب کامل حاصل کریں) اور سب (ضروری) احکام کی (اس کے ذریعہ سے) تفصیل ہوجاوے اور (اس کے ذریعہ سے سب کو) رہنمائی ہو اور (ماننے والوں کیلئے) رحمت ہو (ہم نے اس صفت کی کتاب اس لئے دی) تاکہ وہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل) اپنے رب کے ملنے پر یقین لاویں (اور اعتقاد لقاء سے اب احکام کو بجا لاویں) اور (جب اس کا اور اس کے تتمہ انجیل کا دور ختم ہوچکا اس کے بعد) یہ (قرآن) ایک کتاب ہے جس کو ہم نے (آپ کے پاس) بھیجا بڑی خیر و برکت والی سو (اب) اس کا اتباع کرو، اور (اس سے خلاف کرنے کے باب میں خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ہو (اور ہم نے یہ قرآن اس لئے بھی نازل کیا کہ) کبھی تم لوگ (قیامت میں درصورت اس کے نازل نہ ہونے کے کفر و شرک پر عذاب کے وقت) یوں کہنے لگتے کہ کتاب (آسمانی) تو صرف ہم سے پہلے جو دو فرقے (یہودی عیسائی) تھے ان پر نازل ہوئی تھی اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بیخبر تھے (اس لئے ہم کو توحید کی تحقیق نہ ہوئی) یا (اور مؤمنین سابقین کو ثواب ملنے کے وقت) یوں کہتے کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان (مؤ منین سابقین) سے بھی زیادہ راہ پر ہوتے (اور عقائد و اعمال میں ان سے زیادہ کمال حاصل کرکے ثواب کے مستحق ہوتے) سو (یاد رکھو کہ) اب (تمھارے پاس کوئی عذر نہیں) تمہارے پاس (بھی) تمہارے رب کے پاس سے ایک کتاب (جس کے احکام) واضح (ہیں) اور (جو) رہنمائی کا ذریعہ (ہے) اور (خدا کی) رحمت (ہے) آچکی ہے سو (ایسی کافی شافی کتاب آنے کے بعد) اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو ہماری ان آیتوں کو جھوٹا بتلا دے (اور دوسروں کو بھی) اس سے روکے ہم ابھی (آخرت میں) ان لوگوں کو جو کہ ہماری آیتوں سے روکتے ہیں ان کو اس روکنے کے سبب سخت سزا دیں گے (یہ سختی اس روکنے سے بڑھی ورنہ صرف تکذیب بھی موجب سزا ہے)۔
معارف و مسائل
وجہ غفلت یہ نہیں کہ تورات و انجیل لغت عرب میں نہ تھی کیونکہ ترجمہ کے ذریعہ سے مضامین کی اطلاع ممکن ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب نے اہل عرب کی تعلیم و توحید کا کبھی اہتمام نہیں کیا، اور اتفاقاً کان میں کوئی مضمون پڑجانا عادةً تنبیہ میں کم مؤ ثر ہے، گو اس قدر تنبیہ پر طلب اور تامل واجب ہوجاتا ہے، اور اسی بناء پر ترک توحید پر عذاب ممکن تھا، اور اس سے عموم بعثت موسویہ و عیسویہ کا اشکال لازم نہیں آتا، کیونکہ اختصاص اس عموم کا ہمارے حضور ﷺ کے ساتھ باعتبار مجموعہ اصول و فروع کے ہے، ورنہ اصول میں سب انبیاء کا اتباع سب خلائق پر واجب ہے، پس اس بناء پر عذاب صحیح ہوتا، لیکن یہ عذر بادی النظر میں پیش کیا جاسکتا تھا، اب اس کی بھی گنجائش نہ رہی اور حجة اللہ تام ہوگئی۔
اور دوسرا قول (آیت) لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّآ اَهْدٰي مِنْهُمْ کے متعلق ایک سوال و جواب باعتبار ناجین اہل فترت کے سورة مائدہ کے رکوع سوم کے آخر میں گزر چکا ہے۔