6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب مگر یہی کہ کہیں گے قسم ہے اللہ کی جو ہمارا رب ہے ہم نہ تھے شرک کرنے والے

خلاصہ یہ ہے کہ اس سب سے بڑی امتحان گاہ میں اول تو ایک عرصہ دراز ایسا گزرے گا کہ امتحان شروع ہی نہ ہوگا، یہاں تک کہ یہ لوگ تمنا کرنے لگیں گے کہ کسی طرح امتحان اور حساب جلد ہوجائے، انجام کچھ بھی ہو، یہ تردّد اور تذبذب کی تکلیف تو جائے، اسی طول قیام اور عرصہ دراز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لفظ ثُمَّ کے ساتھ فرمایا ثُمَّ نَقُولُ ، اسی طرح دوسری آیت میں مشرکین کی طرف سے جو جواب مذکور ہے وہ بھی لفظ ثُمَّ کے ساتھ آیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ بھی بڑے وقفہ کے بعد بہت غور و فکر اور سوچ بچار کرکے یہ جواب دیں گے کہ واللّٰہ ربنا ما کنا مشرکین ”یعنی اللہ رب العالمین کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم تو مشرک نہ تھے“۔ اس آیت میں ان کے جواب کو لفظ فتنة سے تعبیر فرمایا ہے، اور یہ لفظ امتحان و آزمائش کے لئے بھی بولا جاتا ہے، اور کسی پر فریفتہ و مفتون ہوجانے کے لئے بھی۔ اور یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں پہلی صورت میں ان کے جواب امتحان کو امتحان سے تعبیر کردیا گیا ہے، اور دوسری صورت میں مراد یہ ہوگی کہ یہ لوگ دنیا میں ان بتوں اور خود ساختہ معبودوں پر مفتون تھے، اپنے جان و مال ان پر قربان کرتے تھے، مگر آج وہ ساری محبت و فریفتگی ختم ہوگئی، اور ان کا جواب بجز اس کے کچھ نہ ہوا کہ ان سے برات اور علیحدگی کا دعویٰ کریں۔ ان کے جواب میں ایک عجیب چیز یہ ہے کہ میدان قیامت کے ہولناک مناظر اور ربُّ الارباب کی قدرت کاملہ کے عجیب و غریب واقعات دیکھنے کے بعد ان کو یہ جرأت کیسے ہوئی کہ ربُّ العالمین کے سامنے کھڑے ہو کر جھوٹ بولیں اور وہ بھی اس شر ومد کے ساتھ کہ اسی کی ذات کبریاء کی قسم بھی کھا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم مشرک نہیں تھے۔ عامہ مفسرین نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ان کا یہ جواب کچھ عقل و ہوش اور انجام بینی پر مبنی نہیں، بلکہ فرط ہیبت سے بوکھلاہٹ کی بناء پر ہے، اور ایسی حالت میں آدمی جو کچھ منہ میں آئے بالا کرتا ہے، لیکن میدان حشر کے عام واقعات و حالات میں غور کرنے کے بعد یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی ان کی پوری کیفیت اور حالت کو سامنے لانے کے لئے ان کو یہ قدرت بھی دے دی کہ وہ آزادانہ جو چاہیں کہیں جس طرح دنیا میں کہا کرتے تھے، تاکہ کفر و شرک کے گناہ عظیم کے ساتھ ان کا یہ عیب بھی اہل محشر کے سامنے آجائے کہ یہ جھوٹ بولنے میں بھی یکتا ہیں کہ اس ہولناک موقع پر بھی جھوٹ بولنے سے نہیں جھجکتے، قرآن مجید کی ایک دوسری (آیت) فیحلفون لہ کما یحلفون لکم سے اسی کی طرف اشارہ ہوتا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ جس طرح مسلمانوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں اسی طرح خود رب العالمین کے سامنے بھی دروغ حلفی سے نہ چوکیں گے۔ محشر میں جب یہ قسمیں کھا کر اپنے شرک و کفر سے انکاری ہوجائیں گے تو اس وقت قادر مطلق ان کے مونہوں پر مہر سکوت لگا دیں گے اور ان کے اعضاء وجوارح ہاتھ پاؤں کو حکم دیں گے کہ تم شہادت دو کہ یہ لوگ کیا کیا کرتے تھے، اس وقت ثابت ہوگا کہ ہمارے ہاتھ پاؤں، آنکھ، کان یہ سب کے سب خدا تعالیٰ کی خفیہ پولیس تھی، وہ تمام اعمال و افعال کو ایک ایک کرکے سامنے رکھ دیں گے، اسی کے متعلق سورة یسین میں ارشاد ہے۔ (آیت) الیوم نختم علی افواھھم، اس مشاہدہ قدرت کے بعد کسی کو یہ جرأت نہ رہے گی کہ پھر کوئی بات چھپائے یا جھوٹ بولے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہے(آیت) ولا یکتمون اللّٰہ حدیثا، ”یعنی اس روز وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے“۔ اس کا مطلب حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہی بتلایا کہ پہلے پہلے تو خوب جھوٹ بولیں گے اور جھوٹی قسمیں کھائیں گے، لیکن جب خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اس وقت کوئی غلط بات کہنے کی جرأت نہ رہے گی۔ غرض احکم الحاکمین کی عدالت میں مجرم کو اپنا بیان دینے کا پورا موقع آزادی کے ساتھ دیا جائے گا، اور جس طرح وہ دنیا میں جھوٹ بولتا تھا اس وقت بھی اس کا یہ اختیار سلب نہ ہوگا کیونکہ قادر مطلق اس کے جھوٹ کا پردہ خود اس کے ہاتھ پاؤں کے حوالہ سے چاک کردیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ موت کے بعد جو پہلا امتحان حدیث میں ہے کہ منکر نکیر جب کافر سے سوال کریں گے من ربک وما دینک، یعنی تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے ؟ تو کافر کہے گا ھاہ ھاہ لا ادری، ”یعنی ہائے ہائے میں کچھ نہیں جاتنا“۔ اس کے برخلاف مومن ربی اللّٰہ ودینی الاسلام، سے جواب دے گا، معلوم ہوتا ہے کہ اس امتحان میں کسی کو جھوٹ بولنے کی جرأت نہ ہوگی، ورنہ کافر بھی وہی جواب دے سکتا تھا جو مسلمان نے دیا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ امتحان لینے والے فرشتے ہوں گے، نہ وہ غیب کا علم رکھتے ہیں، اور نہ ایسی قدرت کہ ہاتھ پاؤں کی گواہی لے لیں، اگر وہاں جھوٹ بولنے کا اختیار انسان کو ہوتا تو فرشتے تو اس کے جواب کے مطابق ہی عمل کرتے اور وہ نظام مختل ہوجاتا، بخلاف میدان حشر کے امتحان کے کہ وہاں سوال و جواب براہ راست عالم وخبیر اور قادر مطلق کے ساتھ ہوگا، وہاں کوئی جھوٹ بولے بھی تو چل نہیں سکے گا۔ تفسیر بحر محیط اور مظہری میں بعض حضرات کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے شرک سے انکار کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو کھلے طور پر کسی مخلوق کو خدا یا خدا کا نائب نہیں کہتے تھے۔ مگر ان کا عمل یہ تھا کہ خدائی کے سارے اختیارات مخلوق کو بانٹ رکھے تھے، اور انہی سے اپنی حاجتیں مانگتے، انہی کے نام کی نذر و نیاز کرتے، انہی سے روزی، تندرستی، اولاد اور ساری مرادیں مانگا کرتے تھے، یہ لوگ اپنے آپ کو مشرک نہ سمجھتے تھے، اس لئے میدان حشر میں بھی قسم کھا کر یہی کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی کو واضح فرمائیں گے۔ دوسرا سوال اس آیت میں یہ ہوتا ہے کہ بعض آیات قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ کفار و فجار سے کلام نہ فرمائیں گے، اور اس آیت سے صاف یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ان سے خطاب اور کلام ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ خطاب و کلام بطور اکرام و اعزاز یا قبولیت دعاء نہ ہوگا، زجر و توبیخ کے خطاب کی نفی اس آیت میں مراد نہیں، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ خطاب جو اس آیت میں مذکور ہے بواسطہ ملائکہ ہو، اور جس آیت میں خطاب و کلام الٓہی کی نفی کہ گئی ہو اس میں مراد کلام بلا واسطہ ہے۔
Ayahs 6:24–25

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو تو کیسا جھوٹ بولے اپنے اوپر اور کھوئی گئیں ان سے وہ باتیں جو بنایا کرتے تھے

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور بعضے ان میں کان لگائے رہتے ہیں تیری طرف اور ہم نے ان کے دلوں پر ڈال رکھے ہیں پردے تاکہ اس کو نہ سمجھیں اور رکھ دیا ان کے کانوں میں بوجھ، اور اگر دیکھ لیں تمام نشانیاں تو بھی ایمان نہ لاویں ان پر یہاں تک کہ جب آتے ہیں تیرے پاس تجھ سے جھگڑنے کو تو کہتے ہیں وہ کافر نہیں ہے مگر کہانیاں پہلے لوگوں کی

آخر آیت میں ارشاد فرمایااُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ، اس میں رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ ﷺ دیکھئے کہ ان لوگوں نے اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بولا ہے، اور جو کچھ وہ اللہ پر افتراء کیا کرتے تھے آج سب غائب ہوگیا، اپنی جانوں پر جھوٹ بولنے سے مراد یہ ہے کہ وبال اس جھوٹ کا انہی کی جانوں پر پڑنے والا ہے، اور افتراء سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ان کو اللہ کا سہیم و شریک ٹھہرانا ایک افتراء تھا، آج حقیقت سامنے آکر اس افتراء کی قلعی کھل گئی، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افتراء سے مراد جھوٹی قسم ہے جو محشر میں کھائی تھی، پھر ہاتھوں پیروں اور اعضاء کی گواہی سے وہ جھوٹ کھل گیا۔ اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ افتراء سے مراد مشرکین کی وہ تاویلیں ہیں جو اپنے معبودات باطلہ کے بارے میں دنیا میں کیا کرتے تھے، مثلاً مانعبدھم الا لیقربونا الی اللّٰہ زلفی، ”یعنی ہم ان بتوں کو خدا سمجھ کر ان کی عبادات نہیں کرتے، بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے سفارش کرکے قریب کردیں گے“۔ محشر میں یہ افتراء اس طرح کھل گیا کہ ان کی سب سے بڑی مصیبت کے وقت کسی نے نہ ان کی سفارش کی، نہ ان کے عذاب میں کچھ کمی کا ذریعہ بنے۔ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ سوال و جواب ہوں گے معبودات باطلہ سب غائب ہوں گے، کوئی سامنے نہ ہوگا، اور قرآن مجید کی ایک آیت میں یہ ارشاد ہے (آیت) احشروا الذین ظلموا وازواجھم وما کانوا یعبدون، ”یعنی قیامت میں حق تعالیٰ کا حکم یہ ہوگا کہ جمع کردو ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو جن کی یہ لوگ عبادت کیا کرتے تھے“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں معبودات باطلہ بھی حاضر و موجود ہوں گے۔ جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ان کے غائب ہونے سے مراد یہ ہے کہ بحیثیت سہیم و شریک یا سفارش کرنے کے یہ غائب ہوں گے کہ ان لوگوں کو کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے ویسے حاضر و موجود ہوں گے، اس طرح دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہ رہا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک وقت میں یہ سب ایک جگہ جمع کردیئے جائیں، پھر متفرق ہوجائیں، اور یہ سوال تفریق کے بعد کیا جائے۔ ان دونوں آیتوں میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ جل شانہ، نے مشرکین کو حشر کے ہولناک میدان میں جو یہ اختیار دیا کہ وہ آزادانہ جو چاہیں کہہ سکیں یہاں تک کہ جھوٹی قسم کھا کر انہوں نے شرک سے انکار کردیا، اس میں شاید اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جھوٹ بولنے کی عادت ایک ایسی خبیث عادت ہے جو چھوٹتی نہیں، یہاں تک کہ یہ لوگ جو دنیا میں مسلمانوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھالیا کرتے تھے یہاں بھی باز نہ آئے اور پوری خلق خدا کے سامنے ان کی رسوائی ہوئی، اسی لئے قرآن و حدیث میں جھوٹ بولنے پر شدید وعید اور مذمت فرمائی گئی ہے، قرآن میں جا بجا کاذب پر لعنت کے الفاظ آئے ہیں، اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ فجور کا ساتھی ہے، اور جھوٹ اور فجور دونوں جہنم میں جائیں گے (ابن حبان فی صحیحہ) اور رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ وہ عمل کیا ہے جس سے آدمی دوزخ میں جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ عمل جھوٹ ہے (مسند احمد) اور شب معراج میں رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کی دونوں باچھیں چیر دی جاتی ہیں۔ وہ پھر درست ہوجاتی ہیں، پھر چیر دی جاتی ہیں، اسی طرح یہ عمل اس کے ساتھ قیامت تک ہوتا رہے گا۔ آپ ﷺ نے جبرئیل امین سے دریافت کیا کہ یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جھوٹ بولنے والا ہے۔ اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی پورا مومن اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک جھوٹ کو بالکل نہ چھوڑ دے یہاں تک کہ مزاح و مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے۔ نیز بیہقی وغیرہ میں بسند صحیح وارد ہے کہ مسلمان کی طبیعت میں اور بری خصلتیں تو ہو سکتی ہیں، مگر خیانت اور جھوٹ نہیں ہوسکتا، اور ایک حدیث میں ہے کہ جھوٹ انسان کے رزق کو گھٹا دیتا ہے۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور یہ لوگ روکتے ہیں اس سے اور بھاگتے ہیں اس سے اور نہیں ہلاک کرتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سمجھتے۔

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْهُ عائمہ مفسرین ضحاک رحمة اللہ علیہ، قتادہ رحمة اللہ علیہ، محمد بن حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک یہ آیت عام کفار مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو لوگوں کو قرآن سننے اور اس کا اتباع کرنے سے منع کرتے تھے۔ اور خود بھی اس سے دور دور رہتے تھے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب اور دوسرے ان چچاؤں کے متعلق ہے جو لوگوں کو آپ ﷺ کی ایذاء رسانی سے روکتے اور آپ کی حمایت کرتے تھے، مگر نہ قرآن پر ایمان لاتے نہ اس پر عمل کرتے، اس صورت میں يَنْهَوْنَ عَنْهُ کی ضمیر بجائے قرآن کے نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہوگی (مظہری بروایت ابن ابی حاتم عن سعید بن ابی ہلال)
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور اگر تو دیکھے جس وقت کہ کھڑے کئے جاویں گے وہ دوزخ پر پس کہیں گے اے کاش ہم پھر بھیج دیئے جاویں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہوجاویں ہم ایمان والوں میں

خلاصہ تفسیر اور اگر آپ ﷺ (ان کو) اس وقت دیکھیں (تو بڑا ہولناک واقعہ نظر آئے) جب کہ (منکرین) دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے (اور قریب ہوگا کہ جہنم میں ڈال دئیے جاویں) تو (ہزاروں تمناؤں کے ساتھ) کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہوتی کہ ہم (دنیا میں) پھر واپس بھیج دیئے جاویں اور اگر ایسا ہوجاوے تو ہم (پھر) اپنے رب کی آیات (مثل قرآن وغیرہ) کو کبھی جھوٹا نہ بتادیں اور ہم (ضرور) ایمان والوں میں سے ہوجاویں (حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی یہ تمنا اور وعدہ سچی رغبت اور قصد اطاعت سے نہیں) بلکہ (اس وقت ایک مصیبت میں پھنس رہے ہیں کہ) جس چیز کو اس سے پہلے (دنیا میں) دبایا (اور مٹایا) کرتے تھے، وہ آج ان کے سامنے آگئی ہے (مراد اس چیز سے آخرت کا عذاب ہے جس کی وعید کفرو معصیت پر دنیا میں ان کو کی جاتی تھی، اور دبانے سے مراد انکار ہے، مطلب یہ ہے کہ اس وقت جان کو بن رہی ہے، اس لئے جان بچانے کو یہ سارے وعدے ہو رہے ہیں، اور دل سے ہرگز وعدہ پورا کرنے کا ارادہ نہیں یہاں تک کہ) اگر (بالفرض) یہ لوگ پھر واپس بھی بھیج دیئے جاویں تب بھی یہ ہی کام کریں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا (یعنی کفر و نافرمانی) اور یقیناً یہ (ان وعدوں میں) بالکل جھوٹے ہیں (یعنی نہ اس وقت ایفائے وعدہ کا قصد نہ دنیا میں جا کر ایفائے وعدہ کا ان سے احتمال ہے) اور یہ (منکرین) کہتے ہیں کہ زندگی اور کہیں نہیں، بس یہی دنیا کی زندگی اور ہم (اس زندگی کے ختم ہونے کے بعد پھر) زندہ نہ کئے جاویں گے، (جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) فرماتے ہیں) اور اگر آپ ﷺ (ان کو) اس وقت دیکھیں (تو بڑا عجیب واقعہ نظر آوے) جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے حساب کے لئے کھڑے کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے فرماوے گا کہ (کہو) کیا یہ (قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونا) امر واقعی نہیں وہ کہیں گے بیشک (واقعی ہے) قسم اپنے رب کی اللہ تعالیٰ فرمادے گا تو اب اپنے کفر کا مزہ چھکو (اس کے بعد دوزخ میں بھیج دیئے جاویں گے) بیشک (سخت) خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے ملنے کی (یعنی قیامت کے روز زندہ ہو کر خدا تعالیٰ کے سامنے پیشی کی) تکذیب کی (اور یہ تکذیب تھوڑے دنوں رہے گی) یہاں تک کہ جب وہ معین وقت (یعنی قیامت کا دن مع مقدمات) ان پر دفعتہ (بلا اطلاع) آپہنچے گا (اس وقت سارے دعوے اور تکذیب ختم ہوجاویں گے اور) کہنے لگیں گے ہائے افسوس ہماری کوتاہی (اور غفلت) پر جو اس (قیامت) کے بارے میں (ہم سے) ہوئی اور حالت ان کی یہ ہوگی کہ وہ اپنے (کفر و نافرمانی کا) بھار اپنی کمر پر لادے ہوئے ہوں گے، خوب سن لو کہ بری ہوگی وہ چیز جس کو اپنے اوپر لادیں گے، اور دنیوی زندگانی تو کچھ بھی نہیں بجز لعب و لہو کے (بوجہ غیر نافع اور غیر باقی ہونے کے) اور پچھلا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہتر ہے، کیا تم سوچتے نہیں۔ معارف و مسائل اسلام کے تین بنیادی اصول ہیںتوحید، رسالت، عقیدہ آخرت، باقی سب عقائد انہی تین کے تحت داخل ہیں، اور یہ وہ اصول ہیں جو انسان کو اس کی اپنی حقیقت اور مقصد زندگی سے روشناس کرکے اس کی زندگی میں انقلاب پیدا کرتے ہیں اور اس کو ایک سیدھی اور صاف راہ پر کھڑا کردیتے ہیں، ان میں بھی عملی طور پر عقیدہ آخرت اور اس میں حساب جزاء و سزاء کا عقیدہ ایک ایسا انقلابی عقیدہ ہے جو انسان کے ہر عمل کا رخ ایک خاص طرف پھیر دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے تمام مضامین انہی تین میں دائر رہتے ہیں مذکورہ آیات میں خصوصیت کے ساتھ آخرت کے سوال و جواب، وہاں کے شدید و مدید ثواب و عذاب کا اور دنیائے ناپائیدار کی حقیقت کا بیان ہے۔ پہلی آیت میں مجرمین منکرین کا یہ حال بیان فرمایا گیا ہے کہ آخرت میں جب ان کو دوزخ کے کنارے کھڑا کیا جائے گا اور وہ وہم و خیال سے بھی زیادہ ہولناک عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو وہ یہ تمنا ظاہر کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا میں بھیج دیا جاتا تو ہم اپنے رب کی بھیجی ہوئی آیات اور احکام کی تکذیب نہ کرتے بلکہ ان پر ایمان لاتے اور مؤمنین میں داخل ہوجاتے۔
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

کوئی نہیں بلکہ ظاہر ہوگیا جو چھپاتے تھے پہلے، اور اگر پھر بھیجے جاویں تو پھر بھی وہی کام کریں جس سے منع کئے گئے تھے اور وہ بیشک جھوٹے ہیں

دوسری آیت میں علیم وخبیر احکم الحاکمین نے ان کی اس گھبرائی ہوئی تمنا کا پول اس طرح کھولا کہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جیسے ہمیشہ سے جھوٹ کے عادی تھے وہ اپنے اس قول اور تمنا میں بھی جھوٹے ہیں، اور بات اس کے سوا نہیں ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ جو حقائق ان کے سامنے لائے گئے تھے اور یہ لوگ ان کو جاننے پہچاننے کے باوجود محض ہٹ دھرمی سے یا دنیا کی طمع خام کی وجہ سے ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیا کرتے تھے آج وہ سب ایک ایک کرکے ان کے سامنے آگئے، اللہ جل شانہ، کی یکتائی اور قدرت کاملہ کے مظاہر آنکھوں سے دیکھے، انبیاء (علیہم السلام) کی سچائی کا مشاہدہ کیا۔ آخرت میں دوبارہ زندہ ہونے کا مسئلہ جس کا ہمیشہ انکار رہتا تھا اب حقیقت بن کر سامنے آگیا۔ جزاء و سزاء کا مظاہرہ دیکھا، دوزخ کا مشاہدہ کیا تو اب ان کے پاس کوئی حجت مخالفت کی باقی نہ رہی۔ اس لئے یوں ہی کہنے لگے کہ کاش ہم پھر دنیا میں واپس ہوجاتے، تو مومن ہو کر لوٹتے۔ لیکن ان کے پیدا کرنے والے علیم وخبیر مالک نے فرمایا کہ اب تو یہ ایسا کہہ رہے ہیں، لیکن بالفرض ان کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہ پھر اپنے اس قول وقرار کو بھول جائیں گے اور پھر سب کچھ وہی کریں گے جو پہلے کیا تھا، اور جن حرام چیزوں سے ان کو روکا گیا تھا یہ پھر ان میں مبتلا ہوجائیں گے، اس لئے ان کا یہ کہنا بھی ایک جھوٹ اور فریب ہے۔ ان کے اس قول کو جھوٹ فرمانا مآل کار کے لحاظ سے بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جو اب وعدہ کر رہے ہیں کہ اگر دوبارہ دنیا میں لوٹائے جائیں تو تکذیب نہ کریں گے، مگر ایسا ہوگا نہیں، یہ وہاں جاکر پھر بھی تکذیب ہی کریں گے، اور اس کذب کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت بھی جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں سچے ارادہ سے نہیں بلکہ محض دفع الوقتی کے طور پر عذاب سے بچنے کے لئے کہہ رہے ہیں، دل میں اب بھی ان کا ارادہ نہیں۔
Ayahs 6:29–30

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے لئے زندگی نہیں مگر یہی دنیا کی اور ہم کو پھر نہیں زندہ ہونا

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور کاش کہ تو دیکھے جس وقت وہ کھڑے کئے جاویں گے اپنی رب کے سامنے فرمائے گا کیا یہ سچ نہیں، کہیں گے کیوں نہیں قسم ہے اپنے رب کی فرمائے گا تو چکھو عذاب بدلے میں اپنے کفر کے

تیسری آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ ، اس کا عطف عادوا پر ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ان کو دوبارہ بھی دنیا میں لوٹا دیا جائے تو پھر دنیا میں پہنچ کر یہی کہیں گے کہ ہم تو اس دنیا کی زندگی کے سوا کسی دوسری زندگی کو نہیں مانتے بس یہیں کی زندگی زندگی ہے، دوبارہ ہم کو زندہ نہیں کیا جائے گا۔ یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کو اور پھر حساب کتاب و جزاء و سزاء کو آنکھوں سے دیکھ چکیں گے تو یہ کیسے ممکن ہوگا کہ پھر یہاں آکر اس کا انکار کردیں۔ جواب یہ ہے کہ انکار کرنے کے لئے یہ لازم نہیں ہے کہ واقع میں ان کو ان واقعات اور حقائق کا یقین نہ رہے، بلکہ جس طرح آج بہت سے کفار و مجرمین اسلامی حقائق کا پورا یقین رکھے ہوئے محض عناد سے انکار و تکذیب پر جمے ہوئے ہیں، اسی طرح یہ لوگ دنیا میں واپس آنے کے بعد قیام قیامت اور دوبارہ زندگی اور آخرت کے تمام حالات کا پورا یقین رکھنے کے باوجود محض شرارت اور عناد سے پھر تکذیب پر اتر آئیں گے جیسا کہ قرآن کریم نے اسی موجودہ زندگی میں بعض کفار کے متعلق ارشاد فرمایا ہے وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا ”یعنی یہ لوگ ہماری آیات کا انکار تو کر رہے ہیں مگر ان کے دلوں میں اس کے حق ہونے کا پورا یقین ہے“۔ جیسے یہود کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ خاتم الانبیاء ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے لوگ اپنے بیٹوں کا پہچانا کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود آپ ﷺ کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ خالق کائنات اپنے علم ازلی سے جانتے ہیں کہ ان لوگوں کا یہ کہنا کہ دوبارہ دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو مومن صالح ہوجائیں گے بالکل جھوٹ اور فریب ہے، اگر ان کے کہنے کے مطابق دوبارہ دنیا کو پیدا کرکے ان کو اس میں چھوڑ دیا جائے تو یہ پھر وہی سب کچھ کریں گے جو پہلی زندگی میں کیا تھا۔ تفسیر مظہری میں بحوالہ طبرانی یہ روایت نبی کریم ﷺ سے نقل ہے کہ حساب کتاب کے وقت حق تعالیٰ حضرت آدم ؑ کو میزان عدل کے پاس کھڑا کرکے فرما دیں گے کہ اپنی اولاد کے اعمال کا خود معائنہ کریں اور جس شخص کے اعمال صالحہ اس کے گناہوں سے ایک ذرہ بھی بڑھ جائیں تو اس کو آپ جنت میں پہنچا سکتے ہیں، اور حق تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ میں جہنم کے عذاب میں صرف اسی شخص کو داخل کروں گا، جس کے بارے میں میں جانتا ہوں، کہ وہ اگر دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے، تو پھر بھی وہی حرکتیں کرے گا جو پہلے کر گیا ہے۔
Ayahs 6:31–32

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

تباہ ہوئے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ جانا ملنا اللہ کا، یہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک تو کہیں گے اے افسوس ! کیسی کوتاہی ہم نے اس میں کی اور وہ اٹھاویں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر خبردار ہوجاؤ کہ برا بوجھ ہے جس کو وہ اٹھا ویں گے

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور نہیں ہے زندگانی دنیا کی مگر کھیل اور جی بہلانا اور آخرت کا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کے لئے کیا تم نہیں سمجھتے۔

وَهُمْ يَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰي ظُهُوْرِهِمْ ، روایات حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں کے اعمال ان کی سواری بن جائے گی، اور بدکاروں کے اعمال بدبھاری بوجھ کی شکل میں ان کے سروں پر لادے جائیں گے۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ کفار و فجار میدان حشر میں اپنی جان بچانے کے لئے بوکھلاہٹ کیساتھ مختلف باتیں کریں گے، کہیں جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے کہیں یہ تمنا کریں گے کہ دوبارہ دنیا میں لوٹا دئیے جائیں۔ مگر یہ کوئی نہ کہے گا کہ ہم اب ایمان لے آئے اور اب نیک عمل کیا کریں گے۔ کیونکہ حقیقت ہدایت کے ساتھ ان کے سامنے آجائے گی کہ عالم آخرت دار العمل نہیں اور یہ کہ ایمان کی صحت اسی وقت تک ہے جب تک ایمان بالغیب ہو۔ مشاہدہ کے بعد کی تصدیق تو اپنے مشاہدہ پر عمل ہے۔ خدا اور رسول ﷺ کی تصدیق نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے ثمرات یعنی دائمی عیش و راحت دنیا میں امن و اطمینان کی حیات طیبہ اور آخرت میں نعمائے جنت حاصل کرنا صرف دنیا کی زندگی کے ذریعہ ہوسکتا ہے نہ اس سے پہلے عالم ارواح میں اس کا حصول ممکن ہے اور نہ اس سے گزرنے کے بعد عالم آخرت میں اس کی تحصیل ممکن ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ دنیا کی زندگی بہت بڑی نعمت اور سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے جس میں یہ عظیم الشان سودا خریدا جاسکتا ہے، اسی لئے اسلام میں خود کشی حرام اور موت کی دعا یا تمنا کرنا ممنوع ہے، اس میں خدا تعالیٰ کی ایک بھاری نعمت کی ناشکری ہے، بعض بزرگوں کے حالات میں ہے کہ وفات کے قریب مولانا جامی رحمة اللہ علیہ کا یہ شعر ان کی زبان پر تھا با دوروز زندگی جامی نشد سیر غمت وہ چہ خوش بودے کہ عمر جاودانی داشتیم اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ مذکورہ آیات میں سے آخری آیت میں اور متعدد آیات قرآنیہ میں جو حیات دنیا کو لہو و لعب فرمایا ہے، یا احادیث کثیرہ میں دنیا کی جو مذمت آئی ہے اس سے مراد حیات دنیا کے وہ لمحات و ساعات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر وفکر سے غفلت میں گزریں، ورنہ جو وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و ذکر میں گزرتا ہے اس کے برابر دنیا کی کوئی نعمت و دولت نہیں دن وہی دن ہے شب وہی شب ہے جو تری یاد میں گزر جائے ایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں ارشاد ہے الدنیا ملعون و ملعون مافیھا الا ذکر اللہ او عالم او متعلم، ”یعنی دنیا بھی ملعون ہے، اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے، مگر اللہ کی یاد اور عالم یا طالب علم“۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو عالم اور طالب علم بھی ذکر اللہ ہی میں داخل ہوجاتے ہیں، کیونکہ علم سے وہی علم مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بنے، تو ایسے علم کو سیکھنا اور سکھانا دونوں ہی ذکر اللہ میں داخل ہیں، بلکہ امام جزری رحمة اللہ علیہ کی تصریح کے مطابق دنیا کا ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یعنی احکام شریعت کی مطابقت میں کیا جائے وہ سب ذکر اللہ ہی میں داخل ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کے سب ضروری کام، کسب معاش کے تمام جائز طریقے اور دوسری ضروریات جو حدود شریعت سے باہر نہ ہوں وہ سب ذکر اللہ میں داخل ہیں، اہل و عیال، اقرباء و احباب، پڑوسی اور مہمان وغیرہ کے حقوق کی ادائیگی کو احادیث صحیحہ میں صدقہ و عبادت سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ اس دنیا میں حق تعالیٰ کی اطاعت اور ذکر اللہ کے سوا کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں، استاذ محترم حضرت مولانا انور شاہ صاحب قدس سرہ، نے خوب فرمایا ہے بگذر از یاد گل و گلبن کہ ہیچم یاد نیست درزمین و آسماں جز ذکر حق آباد نیست خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسی چیز جو ہر انسان کو حاصل ہے اور سب سے زیادہ قیمتی اور محبوب ہے، وہ اس کی زندگی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ ہر انسان کی زندگی کا ایک محدود وقت ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ اپنی زندگی کی صحیح حد کسی کو معلوم نہیں کہ ستر سال ہوگی یا ستر گھنٹے، یا ایک سانس کی بھی مہلت نہ ملے گی۔ دوسری طرف یہ معلوم ہوگیا کہ رضائے الٓہی کی متاع گرانما یہ جو دنیا و آخرت کی راحت و عیش اور ابدی آرام کی ضامن ہے وہ صرف اسی محدود وحیات دنیا میں حاصل کی جاسکتی ہے، اب ہر انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل و ہوش دیا ہے خود فیصلہ کرسکتا ہے کہ زندگی کے ان محدود لمحات و ساعات کو کس کام میں خرچ کیا جائے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، باقی کام جو اس زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہیں ان کو بقدر ضرورت ہی اختیار کیا جائے۔ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے الکیس من دان نفسہ ، ”یعنی عقلمند ہوشیار وہ آدمی ہے جو اپنی نفس کا محاسبہ کرتا رہے اور بقدر کفایت معاش پر راضی ہوجائے اور مابعد الموت کیلئے سارا عمل وقف کردے“۔
Ayahs 6:33–37

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم کو معلوم ہے کہ تجھ کو غم میں ڈالتی ہیں ان کی باتیں سو وہ تجھ کو نہیں جھٹلاتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور جھٹلائے گئے ہیں بہت سے رسول تجھ سے پہلے پس صبر کرتے رہے جھٹلانے پر اور ایذاء پر یہاں تک کہ پہنچی ان کو مدد ہماری اور کوئی نہیں بدل سکتا اللہ کی باتیں اور تجھ کو پہنچ چکے ہیں کچھ حالات رسولوں کے

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر تجھ پر گراں ہے ان کا منہ پھیرنا تو اگر تجھ سے ہو سکے کہ ڈھونڈھ نکالے کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لا دے ان کے پاس ایک معجزہ اور اگر اللہ چاہتا تو جمع کردیتا سب کو سیدھی راہ پر سو تو مت ہو نادانوں میں

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

مانتے وہی ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو زندہ کرے گا اللہ پھر اس کی طرف لائے جاویں گے

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہیں اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے کہہ دے کہ اللہ کو قدرت ہے اس بات پر کہ اتارے نشانی لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

خلاصہ تفسیر کفار کے بیہودہ کلمات پر، رسول اللہ ﷺ کی تسلی ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کو ان (کفار) کے اقوال مغموم کرتے ہیں سو (آپ ﷺ غم میں نہ پڑئیے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے کیونکہ) یہ لوگ (براہ راست) آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا (قصداً) اکار کرتے ہیں، (گو اس سے آپ ﷺ کی تکذیب بھی لازم آتی ہے مگر ان کا اصل مقصود آیات اللہ کی تکذیب ہے، جیسا کہ ان میں بعض مثلاً ابو جہل اس کے اقراری بھی ہیں، اور جب ان کا اصل مقصد آیات اللہ کی تکذیب ہے تو ان کا یہ معاملہ خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوا، وہ خود ہی ان کو سمجھ لیں گے، آپ ﷺ کیوں غم میں مبتلا ہوں) اور (کفار کی یہ تکذیب کوئی نئی نہیں، بلکہ) بہت سے پیغمبر جو آپ ﷺ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے، جس پر انہوں نے صبر ہی کیا کہ ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو (طرح طرح) کی ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ہماری امداد ان کو پہنچ گئی (جس سے مخالف مغلوب ہوگئے، اس وقت تک وہ صبر ہی کرتے رہے) اور (اسی طرح صبر کرنے کے بعد آپ ﷺ کو بھی امداد الٓہی پہنچے گی، کیونکہ) اللہ تعالیٰ کی باتوں (یعنی وعدوں) کو کوئی بدلنے والا نہیں (اور امداد کا وعدہ آپ ﷺ سے ہوچکا ہے، جیسا فرمایا لا غلبن انا ورسلی) اور آپ ﷺ کے پاس پیغمبروں کے بعض قصص (قرآن میں) پہنچ چکے ہیں (جن سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، کہ ابتدائی چند روزہ صبر کے بعد وہ اپنے رسولوں کو امداد بھیج دیتے ہیں، جس سے دنیا میں بھی حق کا غلبہ ہوتا ہے اور باطل مغلوب ہوجاتا ہے، اور آخرت میں بھی ان کو عزت و فلاح ملتی ہے، آپ ﷺ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ مغموم نہ ہوں، اور رسول اللہ ﷺ کو چونکہ تمام انسانوں کے ساتھ شفقت و محبت انتہا کہ تھی۔ آپ ﷺ باوجود اس تسلی کے یہ چاہتے تھے کہ یہ مشرکین اگر موجودہ معجزات اور نبوت کے دلائل پر مطمئن ہو کر ایمان نہیں لاتے تو جس قسم کے معجزات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں وہی معجزات واقع ہوجائیں۔ شاید ایمان لے آویں، اور اس اعتبار سے ان کا کفر دیکھ کر صبر نہ آتا تھا، اس لئے اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ بمقتضائے حکمت الٓہیہ ان کے فرمائشی معجزات واقع نہ کئے جاویں گے، آپ ﷺ تاچندے صبر کریں، ان کے وقوع کی فکر میں نہ پڑیں، چناچہ فرمایا وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ اور اگر آپ کو (منکرین) کا اعراض (و انکار) گراں گزرتا ہے (اور اس لئے جی چاہتا ہے کہ ان کے فرمائشی معجزات ظاہر ہوجاویں) تو اگر آپ کو یہ قدرت ہے کہ زمین میں (جانے کو) کوئی سرنگ یا آسمان میں (جانے کو) کوئی سیڑھی ڈھونڈھ لو (پھر اس کے ذریعہ زمین یا آسمان میں جاکر وہاں سے) معجزہ (فرمائشی معجزوں میں سے) لے آؤ تو (بہتر ہے آپ ایسا) کرلو (یعنی ہم تو ان کی یہ فرمائشیں بوجہ عدم ضرور اور بمقتضائے حکمت کے پوری نہیں کرتے، اگر آپ یہی چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ مسلمان ہی ہوجاویں تو آپ ﷺ خود اس کا انتظام کیجئے) اور اللہ کو (تکویناً) منظور ہوتا تو ان سب کو راہ (راست) پر جمع کردیتا (لیکن چونکہ یہ خود ہی اپنا بھلا نہیں چاہتے اس لئے تکوینا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہیں ہوا، پھر آپ ﷺ کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے) سو آپ ﷺ (اس فکر کو چھوڑئیے اور) نادانوں میں سے نہ ہوجائیں (امر حق و ہدایت کو تو) وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو (حق بات کو طلب حق کے ارادہ سے) سنتے ہیں اور (اگر اس انکار و اعراض کی پوری سزا ان کو دنیا میں نہ ملی تو کیا ہوا آخر ایک دن) مردوں کو اللہ تعالیٰ قبروں سے زندہ کرکے اٹھاویں گے، پھر وہ سب اللہ ہی کی طرف (حساب کے لئے) لائے جاویں گے اور یہ (منکر) لوگ (براہ عناد) کہتے ہیں کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان پر (ہمارے معجزات میں سے) کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا، آپ ﷺ فرمادیں، لیکن ان میں اکثر (اس کے انجام سے) بیخبر ہیں، (اس لئے ایسی درخواست کر رہے ہیں، اور وہ انجام یہ ہے کہ اگر پھر بھی ایمان نہ لاویں گے تو سب فوراً ہلاک کردیئے جاویں گے۔ لقولہ تعالیٰ (آیت) ولو انزلنا ملکا لقضی الامر، حاصل یہ ہے کہ ان کا فرمائشی معجزہ ظاہر کرنے کی ضرورت تو اس لئے نہیں کہ پہلے معجزات کافی ہیں، لقولہ تعالیٰ (آیت) اولم یکفہم الخ اور ہم جانتے ہی کہ فرمائشی معجزہ پر بھی ایمان نہ لاویں گے۔ جس سے فوری عذاب کے مستحق ہوجاویں گے اس لئے حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا فرمائشی معجزہ ظاہر نہ کیا جائے، اور آیت کے آخر میں فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ فرمانا محبت و شفقت کے طور پر ہے، لفظ جہالت عربی زبان میں اس معنی عام کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بخلاف اردو زبان کے، اس لئے اس کا ترجمہ لفظ جہل یا جہالت سے کرنا ادب کے خلاف ہے، اگلی آیات میں تنبیہ کے لئے قیامت اور تمام خلائق کے حشر کا ذکر ہے) اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر (خواہ خشکی میں یا پانی میں) چلنے والے ہیں اور جتنی قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ (قیامت کے دن زندہ ہو کر اٹھنے میں) تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوں اور (گو یہ سب اپنی کثرت کی وجہ سے عرفاً بےانتہا ہوں، لیکن ہمارے حساب میں سب منضبط ہیں کیونکہ) ہم نے (اپنے) دفتر (لوح محفوظ) میں کوئی چیز (جو قیامت تک ہونے والی ہے بےلکھے) نہیں چھوڑی (اگرچہ اللہ تعالیٰ کو لکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی، ان کا علم ازلی اور محیط ہی کافی ہے لیکن لکھنے کے ذریعے منضبط کرلینا افہام عامہ کے قریب تر ہے) پھر (اس کے بعد اپنے وقت معین پر) سب (انسان اور جانور) اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جاویں گے (آگے پھر رسول اللہ ﷺ کی تسلی کا مضمون ہے) اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وہ تو (حق سننے سے) بہرے (جیسے) اور (حق کہنے سے) گونگے (جیسے) ہو رہے ہیں (اور اس کی وجہ سے) طرح طرح کی ظلمتوں میں (گرفتار) ہیں (کیونکہ ہر کفر ایک ظلمت ہے اور ان میں مختلف قسم کے کفر جمع ہیں پھر ان اقسام کفر کا بار بار تکرار الگ الگ ظلمتیں ہیں) اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں (بوجہ اعراض عن الحق کے) بےراہ کردیں اور وہ جس کو چاہیں (اپنے فضل سے) سیدھی راہ پر لگا دیں، آپ (ان مشرکین سے) کہئے کہ (اچھا) یہ تو بتاؤ کہ اگر تم پر خدا کا کوئی عذاب آپڑے یا تم پر قیامت ہی آپہنچے تو کیا (اس عذاب اور ہول قیامت کو ہٹانے کے واسطے) خدا کے سوا کسی اور کو پکاروگے اگر تم (شرک کے دعوے میں) سچے ہو (تو چاہئے اس وقت بھی غیر اللہ ہی کو پکارو لیکن ایسا ہرگز نہ ہوگا) بلکہ (اس وقت تو) خاص اسی کو پکارنے لگو پھر جس (آفت) کے (ہٹانے) کے لئے تم (اس کو) پکارو اگر وہ چاہے تو اس کو ہٹا بھی دے (اور نہ چاہے تو نہ بھی ہٹاوے) اور جن کو تم (اب اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہو (اس وقت) ان سب کو بھول بھال جاؤ۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت جو یہ فرمایا ہے فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ ، یعنی یہ کفار درحقیقت آپ ﷺ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ آیات اللہ کی تکذیب کرتے ہیں، اس کا واقعہ تفسہر مظہری میں بروایت سُدّی یہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ کفار قریش کے دو سردار اخنس بن شریق اور ابوجہل کی ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے پوچھا کہ اے ابو الحکم (عرب میں ابوجہل ابو الحکم کے نام سے پکارا جاتا تھا اسلام میں اس کے کفر وعناد کے سبب ابوجہل کا لقب دیا گیا) یہ تنہائی کا موقع ہے میرے اور تمہارے کلام کو کوئی تیسرا نہیں سن رہا ہے، مجھے محمد بن عبداللہ ﷺ کے متعلق اپنا خیال صحیح صحیح بتلاؤ کہ ان کو سچا سمجھتے ہو یا جھوٹا۔ ابوجہل نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ بلاشبہ محمد ﷺ سچے ہیں۔ انہوں نے عمر بھر میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، لیکن بات یہ ہے کہ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو قصی میں ساری خوبیاں اور کمالات جمع ہوجائیں باقی قریش خالی رہ جائیں اس کو ہم کیسے برداشت کریں ؟ جھنڈا بنی قصی کے ہاتھ میں ہے حرم میں حجاج کو پانی پلانے کی اہم خدمت ان کے ہاتھ میں ہے۔ بیت اللہ کی دربانی اور اس کی کنجی ان کے ہاتھ میں ہے، اب اگر نبوت بھی ہم انہی کے اندر تسلیم کرلیں تو باقی قریش کے پاس کیا رہ جائے گا۔ ایک دوسری روایت ناجیہ ابن کعب سے منقول ہے کہ ابوجہل نے ایک مرتبہ خود رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہمیں آپ ﷺ پر جھوٹ کا کوئی گمان نہیں، اور نہ ہم آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں، ہاں ہم اس کتاب یا دین کی تکذیب کرتے ہیں جس کو آپ ﷺ لائے ہیں (مظہری)۔ ان روایات کی بناء پر آیت کو اپنے حقیقی مفہوم میں بھی لیا جاسکتا ہے کہ یہ کفار آپ ﷺ کی نہیں بلکہ آیات اللہ کی تکذیب کرتے ہیں۔ اور اس آیت کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کفار اگرچہ ظاہر میں آپ ﷺ ہی کی تکذیب کرتے ہیں، مگر در حقیقت آپ کی تکذیب کا انجام خود اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کی تکذیب ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”جو شخص مجھے ایذاء پہنچاتا ہے وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچانے کے حکم میں ہے۔
Ayahs 6:38–41

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی چلنے والا زمین میں اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے دو بازوؤں سے مگر ہر ایک امت ہے تمہاری طرح ہم نے نہیں چھوڑی لکھنے میں کوئی چیز پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جو جھٹلاتے ہیں ہماری آیتوں کو وہ بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں جس کو چاہے اللہ گمراہ کرے اور جس کو چاہئے ڈال دے سیدھی راہ پر

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر آوے تم پر عذاب اللہ کا یا آوے تم پر قیامت کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے بتاؤ اگر تم سچے ہو

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ اسی کو پکارتے ہو پھر دور کردیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے اس کو پکارتے ہو اگر چاہتا ہے اور تم بھول جاتے ہو جن کو شریک کرتے تھے

اور چھٹی آیت وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز انسانوں کے ساتھ تمام جانور بھی زندہ کئے جاویں گے، اور ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز تمام جانور، بہائم اور پرندے بھی دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ کا انصاف اس حد تک ہے کہ اگر کسی سینگ والے جانور نے بےسینگ کے جانور کو دنیا میں مارا تھا تو آج اس کا انتقام اس سے لیا جائے گا، (اسی طرح دوسرے جانوروں کے باہمی مظالم کا انتقام لیا جائے گا) اور جب ان کے آپس کے حقوق و مظالم کے بدلے اور انتقام ہو چکیں گے تو ان کو حکم ہوگا کہ سب مٹی ہوجاؤ، اور تمام جانور اسی وقت پھر مٹی کا ڈھیر ہو کر رہ جائیں گے، یہی وہ وقت ہوگا جب کہ کافر کہے گایلیتنی کنت ترابا، یعنی کاش میرا بھی یہی معاملہ ہوجاتا کہ مجھے مٹی بنادیا جاتا، اور عذاب جہنم سے بچ جاتا۔ اور امام بغوی رحمة اللہ علیہ نے ایک دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز سب اہل حقوق کے حق ادا کئے جائیں گے یہاں تک کہ بےسینگ کی بکری کا انتقام سینگ والی بکری سے بھی لیا جاوے گا۔ حقوق خلق کی انتہائی اہمیت یہ سب کو معلوم ہے کہ جانور کسی شریعت اور احکام کے مکلف نہیں، ان کے مکلف صرف انسان اور جن ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ مکلف سے جزاء و سزاء کا معاملہ نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے علماء نے فرمایا ہے کہ محشر میں جانوروں کا انتقام ان کے مکلف ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ رب العالمین کے غایت عدل و انصاف کی وجہ سے ہے کہ ایک جاندار کسی جاندار پر کوئی ظلم کرے تو اس کا بدلہ دلوایا جائے گا باقی ان کے کسی اور عمل پر جزاء و سزاء نہ ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلق اللہ کے باہمی حقوق و مظالم کا معاملہ اتنا سنگین ہے کہ غیر مکلف جانوروں کو بھی اس سے آزاد نہیں کیا گیا، مگر افسوس ہے کہ بہت سے دیندار اور عبادت گزار آدمی بھی اس میں غفلت برتتے ہیں۔
Ayahs 6:42–43

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے رسول بھیجے تھے بہت سی امتوں پر تجھ سے پہلے پھر ان کو پکڑا ہم نے سختی میں اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑگڑاویں

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پھر کیوں نہ گڑگڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا، لیکن سخت ہوگئے دل ان کے اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کر رہے تھے

خلاصہ تفسیر اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تھے (مگر انہوں نے ان کو نہ مانا) تو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجاویں (اور اپنے کفر و معصیت سے توبہ کرلیں) سو جب ان کو ہماری سزا پہنچی تھی وہ ڈھیلے کیوں نہ پڑے (کہ ان کا جرم معاف ہوجاتا) لیکن ان کے قلوب تو (ویسے ہی) سخت (کے سخت) رہے، اور شیطان ان کے اعمال بد کو ان کے خیال میں (بدستور) آراستہ (و مستحسن) کرکے دکھاتا رہا۔ پھر جب وہ لوگ (بدستور) ان چیزوں کو بھولے (اور چھوڑے) رہے، جن کی ان کو (پیغمبروں کی طرف سے) نصیحت کی جاتی تھی (یعنی ایمان و اطاعت) تو تم نے ان پر (عیش و عشرت کی) ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں وہ خوب اترا گئے (اور غفلت و سستی میں ان کا کفر اور بڑھ گیا، اس وقت) ہم نے ان کو دفعةً (بےگمان عذاب میں) پکڑ لیا (اور عذاب شدید نازل کیا جس کا ذکر قرآن میں جابجا آیا ہے) پھر (اس عذاب سے) ظالم لوگوں کی جڑ (تک) کٹ گئی اور اللہ کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے (کہ ایسے ظالموں کا پاپ کٹا جن کی وجہ سے دنیا میں نحوست پھیلی تھی)۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں شرک و کفر کا ابطال اور توحید کا اثبات ایک خاص انداز میں کیا گیا ہے کہ پہلے مشرکین مکہ سے سوال کیا گیا کہ اگر تم پر آج کوئی مصیبت آپڑے، مثلاً خدا تعالیٰ کا عذاب اسی دنیا میں تم پر آجائے، یا موت یا قیامت کا ہولناک ہنگامہ برپا ہوجائے، تو اپنے دلوں میں غور کرکے بتلاؤ کہ تم اس وقت اپنی مصیبت کو دور کرنے کے لئے کس کو پکارو گے اور کس سے امید رکھو گے کہ وہ تمہیں عذاب اور مصیبت سے نجات دلائے، کیا یہ پتھر کے خود تراشیدہ بت یا مخلوق میں سے دوسرے لوگ جن کو تم نے خدا تعالیٰ کی حیثیت دے رکھی ہے، اس وقت تمہارے کام آئیں گے ؟ اور تم ان سے فریاد کرو گے یا صرف ایک اللہ جل شانہ، کو ہی اس وقت پکارو گے۔ اس کا جواب کسی ذی ہوش انسان کی طرف سے بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتا جو خود حق تعالیٰ نے ان کی طرف سے ذکر فرمایا کہ اس عام مصیبت کے وقت بڑے سے بڑا مشرک بھی سب بتوں اور خود تراشیدہ معبودوں کو بھول جائے گا، اور صرف خدا تعالیٰ کو پکارے گا، تو اب نتیجہ ظاہر ہے کہ یہ تمہارے بت اور وہ معبود جن کو تم نے خدا تعالیٰ کی حیثیت دے رکھی ہے اور ان کو ہی اپنا مشکل کشا اور حاجت روا جانتے اور کہتے ہو جب اس بڑی مصیبت کے وقت تمہارے کام نہ آئے اور تمہیں یہ جرأت و ہمت بھی نہ ہوسکی کہ ان کو اپنی امداد کے لئے بلاؤ، تو پھر ان کی عبادت اور ان کی مشکل کشائی کس دن کام آئے گی۔ یہ مضمون سابقہ آیات کا خلاصہ ہے، ان میں بطور فرض کے یہ بتلایا گیا کہ تمہارے کفر و شرک اور نافرمانی کی سزا میں تم پر اسی دنیا کی زندگی میں بھی عذاب آسکتا ہے، اور بالفرض زندگی میں عذاب نہ آیا تو قیامت کا آنا تو یقینی ہے، جہاں انسان کے سب اعمال و افعال کا جائزہ لیا جائے گا، اور جزاء و سزا کے احکام نافذ ہوں گے۔ یہاں قیامت سے مراد متعارف معنی قیامت کے بھی ہوسکتے ہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ ساعت سے اس جگہ قیامت صغریٰ مراد ہو جو ہر انسان کی موت پر قائم ہوجاتی ہے جیسا کہ معروف ہے کہ من مات فقل قامت قیامتہ، ”یعنی جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو آج ہی قائم ہوگئی“۔ کیونکہ قیامت کے حساب و کتاب کا ابتدائی نمونہ بھی قبر و برزخ میں سامنے آجائے گا اور وہاں کی جزاء و سزاء کے نمونے بھی یہیں سے شروع ہوجائیں گے۔ حاصل یہ ہے کہ نافرمانی کرنے والوں کو ان آیات میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنی اس نافرمانی کے ساتھ بےفکر ہو کر مت بیٹھو، ہوسکتا ہے کہ اسی دنیا کی زندگی میں تم پر اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب آجائے، جیسا پچھلی امتوں پر آیا ہے، اور یہ بھی نہ ہو تو پھر موت یا قیامت کے بعد کا حساب تو یقینی ہے۔ لیکن اپنی زندگی کے محدود اوقات اور اس میں پیش آنے والے نہایت محدود تجربات پر پوری دنیا اور پورے عالم کو قیاس کونے والے انسان کی طبیعت ایسی چیزوں میں حیلہ جو ہوتی ہے وہ انبیاء (علیہم السلام) کے انزار اور تنبیہات کو موہوم خیالات کہہ کر ٹال جاتے ہیں، خصوصاً جب کہ ایسے حالات بھی ہر زمانہ میں سامنے آتے ہیں کہ یہت سے لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی کھلی نافرمانیوں کے باوجود پھول پھل رہے ہیں، دنیا میں مال و دولت، عزت و شوکت سب کچھ ان کو حاصل ہے، ایک طرف یہ مشاہدہ اور دوسری طرف اللہ کے پیغمبر کی یہ تخویف کہ نافرمانی کرنے والوں پر عذاب آیا کرتے ہیں، جب ان دونوں کو ملا کر دیکھتے ہیں تو ان کی حیلہ جو طبیعت اور شیطان ان کو یہی سکھاتا ہے کہ پیغمبر کا قول ایک فریب یا موہوم خیال ہے۔ اس کے جواب کے لئے مذکور الصدر آیات میں حق تعالیٰ نے پچھلی امتوں کے واقعات اور ان پر جاری ہونے والا قانون قدرت بیان فرمایا ہے، ارشاد فرمایاوَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ ”یعنی ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی اپنے رسول دوسری امتوں کی طرف بھیجے، اور دو طرح سے ان کا امتحان لیا گیا، اول کچھ سختی اور تکلیف ان پر ڈال کر یہ دیکھا گیا کہ تکلیف و مصیبت سے گھبرا کر بھی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں یا نہیں، جب وہ اس میں فیل ہوئے اور بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور سرکشی سے باز آنے کے وہ زیادہ اس میں منہمک ہوگئے، تو اب ان کا دوسری قسم کا امتحان لیا گیا کہ ان پر دنیوی عیش و راحت کے دروازے کھول دئیے گئے، اور حیات دنیا سے متعلق ان کو سب کچھ دے دیا گیا کہ شاید یہ لوگ نعمتوں کو دیکھ کر اپنے منعم اور محسن کو پہچانیں۔ اور اس طرح ان کو خدا یاد آجائے، لیکن وہ اس امتحان میں بھی ناکام ثابت ہوئے۔ اپنے محسن و منعم کو پہچاننے اور اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے وہ عیش و عشرت کی بھول بھلیاں میں ایسے کھوئے گئے کہ اللہ اور رسول ﷺ کے پیغامات وتعلیمات کو یکسر بھلا بیٹھے، اور چند روزہ عیش میں بدمست ہوگئے تو دونوں طرح کے امتحان و آزمائش میں ناکام رہنے کے بعد ان پر ہر طرح کی حجت تمام ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں دفعةً پکڑ لئے گئے، اور ایسے نیست و نابود کردیے گئے کہ ان کا سلسلہ نسل بھی باقی نہ رہا، یہ عذاب پچھلی امتوں پر اکثر اس طرح آیا کہ کبھی آسمان سے کبھی زمین سے کبھی کسی دوسری صورت سے ایک عذاب عام آیا اور پوری قوم کی قوم اس میں بھسم ہو کر رہ گئی۔ نوح ؑ کی پوری قوم کو پانی کے ایسے طوفان عام نے گھیر لیا جس سے پہاڑوں کی چوٹیاں بھی محفوظ نہ رہ سکیں، قوم عاد پر ہوا کا شدید طوفان آٹھ دن تک مسلسل رہا جس سے ان کا کوئی فرد باقی نہ بچا۔ قوم ثمود کو ایک خوفناک آواز کے ذریعہ تباہ کردیا گیا۔ قوم لوط ؑ کی پوری بستی کو الٹ دیا گیا جو آج تک اردن کے علاقہ میں ایک عجیب قسم کے پانی کی صورت میں موجود ہے، جس میں کوئی جانور مینڈک مچھلی وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتی، اسی لئے اس کو بحر میّت کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے، اور بحر لوط کے نام سے بھی۔ غرض پچھلی امتوں کی نافرمانیوں کی سزا اکثر تو ان مختلف قسم کے عذاب کی شکل میں آئی جس میں بیک وقت پوری قوم تباہ و برباد ہوگئی اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ وہ بظاہر طبعی موت مرگئے اور آگے کوئی ان کا نام لینے والا بھی باقی نہ رہا۔ آیت مذکورہ میں یہ بھی بتلا دیا کہ اللہ رب العالمین کسی قوم پر عذاب عام دفعةً نہیں بھیجتے بلکہ بطور تنبیہ کے تھوڑی تھوڑی سزائیں نازل فرماتے ہیں، جن کے ذریعہ سعید و نیک بخت لوگ اپنی غفلت سے باز آکر صحیح راستہ پر لگ سکیں۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جو تکلیف اور مصیبت دنیا میں بطور سزا کے دی جاتی ہے اس کی صورت اگرچہ سزاء کی ہوتی ہے لیکن حقیقت اس کی بھی سزا نہیں ہوتی، بلکہ غفلت سے چونکانے اور بیدار کرنے کے لئے ہوتی ہے، جو عین تقاضائے رحمت ہے۔ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے) (آیت) ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون، ”یعنی ہم ان کو عذاب اکبر چکھانے سے پہلے ایک عذاب ادنیٰ چکھاتے ہیں تاکہ وہ اب بھی حقیقت کو سمجھ کر اپنے غلط راستہ سے باز آجائیں“۔ انہی آیات سے یہ شبہ بھی دور ہوگیا کہ یہ دنیا تو دار الجزاء نہیں بلکہ دار العمل ہے، یہاں تو نیک و بد اور خیر و شر ایک ہی پلے میں تلتے ہیں، بلکہ بد نیکوں سے اچھے رہتے ہیں، پھر اس دنیا میں سزا جاری ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب واضح ہے کہ اصل جزاء و سزاء تو اسی روز قیامت میں ہوگی، جس کا نام ہی یوم الدین یعنی روز جزاء ہے، لیکن کچھ تکلیفیں بطور نمونہ عذاب کے، اور کچھ راحتیں بطور نمونہ ثواب کے اس دنیا میں بمقتضائے رحمت بھیج دی جاتی ہیں اور بعض عارفین نے تو یہ فرمایا ہے کہ دنیا کی جتنی لذتیں اور راحتیں ہیں، وہ بھی سب نمونہ ہیں۔ جنت کی راحتوں کا، تاکہ انسان کو ان کی طرف رغبت پیدا ہو، اور جتنی تکالیف، پریشانیاں، رنج و غم اس دنیا میں ہیں وہ بھی سب کے سب نمونہ ہیں عذاب آخرت کے، تاکہ انسان کو ان سے بچنے کا اہتمام پیدا ہو، ورنہ بغیر کسی نمونہ کے نہ کسی چیز کی طرف کسی کو رغبت دلائی جاسکتی ہے اور نہ کسی چیز سے ڈرایا جاسکتا ہے۔ الغرض دنیا کی راحت و کلفت در حقیقت سزاء و جزاء کے نمونے ہیں، اور یہ پوری دنیا آخرت کا شو روم ہے جس میں تاجر اپنے مال کے نمونے دکھانے کے لئے دکان کے سامنے لگاتا ہے، کہ ان کو دیکھ کر خریدار کو رغبت پیدا ہو، معلوم ہوا کہ دنیا کا رنج و راحت در حقیقت سزاء و جزاء نہیں بلکہ خالق سے کٹی ہوئی مخلوق کا رشتہ پھر اپنے خالق سے جوڑنے کی ایک تدبیر ہے خلق رابا تو چنیں بدخوکنند تاترا نا چار روآں سو کنند خود آیت مذکورہ کے آخر میں بھی اس حکمت کا ذکر لعلہم یتضرعون کے جملہ میں فرمایا گیا ہے، یعنی ہم نے ان پر جو محنت و مصیبت دنیا میں ڈالی اس کا منشاء درحقیقت عذاب دینا نہ تھا بلکہ یہ تھا کہ مصیبت میں طبعی طور پر شخص کو خدا یاد آیا کرتا ہے، اس لئے اس محنت میں ڈال کر اپنی طرف متوجہ کرنا مقصود تھا، اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں جو تکلیف و مصیبت بطور عذاب کے بھی کسی شخص یا جماعت پر آتی ہے اس میں بھی ایک پہلو سے رحمت الٓہی کار فرما ہوتی ہے۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی کھول دیئے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے، یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں پر جو ان کو دی گئیں پکڑ لیا ہم نے ان کو اچانک پس اس وقت وہ رہ گئے ناامید

اس کے بعد تیسری آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا گیا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ، کہ جب ان کی نافرمانی حد سے گزرنے لگی تو اب ایک خطرناک آزمائش میں ان کو مبتلا کیا گیا کہ ان پر دنیا کی نعمتوں راحتوں اور کامیابیوں کے دروازے کھول دئیے گئے۔ اس میں اس بات پر عام انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا میں کسی شخص یا جماعت پر عیش و عشرت کی فروانی دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں، کہ یہی لوگ صحیح راستہ پر ہیں اور یہی کامیاب زندگی کے مالک ہیں، بلکہ بسا اوقات یہ حالت ان مبتلاء عذاب نافرمانوں کی بھی ہوتی ہے، جن کو سخت سزا میں دفعةً پکڑنا طے کرلیا جاتا ہے۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم یہ دیکھو کہ کسی شخص پر نعمت و دولت برس رہی ہے، حالانکہ وہ اپنے گناہوں اور نافرمانیوں پر جما ہوا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کے ساتھ استدراج ہو رہا ہے، یعنی اس کی عیش و عشرت اس کو سخت عذاب میں پکڑے جانے کی ایک علامت ہے (رواہ احمد عن قربة ابن عامر کذا فی تفسیر ابن کثیر) اور امام تفسیر ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے بروایت عبادہ ابن صامت ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو باقی رکھنا اور بڑھانا چاہتے ہیں تو وہ وصف ان میں پیدا کردیتے ہیں، ایک ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی، دوسرے عفت اور عصمت، یعنی خلاف حق چیزوں کے استعمال سے پرہیز، اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک و برباد کرنا چاہتے ہیں تو ان پر خیانت کے دروازے کھول دیتے ہیں، یعنی وہ اپنی خیانتوں اور بداعمالیوں کے باوجود دنیا میں کامیاب نظر آتے ہیں۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

پھر کٹ گئی جڑ ان ظالموں کی، اور سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جو پالنے والا ہے سارے جہان کا۔

آخری آیت میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب عام آیا تو ظالموں کی نسل تک قطع کردی گئی، اور اس کے آخر میں فرمایاوالحمد للّٰہ رب العالمین، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مجرموں اور ظالموں پر جب کوئی عذاب و مصیبت آئے تو پورے عالم کے لئے ایک نعمت ہے جس پر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔
Ayahs 6:46–49

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر چھین لے اللہ تمہارے کان اور آنکھیں اور مہر کر دے تمہارے دلوں پر تو کون ایسا رب ہے اللہ کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لا دیوے دیکھ ہم کیونکر طرح طرح سے بیان کرتے ہیں باتیں پھر بھی وہ کنارہ کرتے ہیں

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر آوے تم پر عذاب اللہ کا اچانک یا ظاہر ہو کر تو کون ہلاک ہوگا ظالم لوگوں کے سوا

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم رسول نہیں بھیجتے مگر خوشی اور ڈر سنانے کو پھر جو کوئی ایمان لایا اور سنور گیا تو نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو ان کو پہنچے گا عذاب اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے (کہ نہ تم کو کچھ سنائی دے نہ دکھائی دے) اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے (کہ تم دل سے کسی چیز کو سمجھ نہ سکو) تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود ہے کہ یہ (چیزیں) تم کو پھر دے دے (جب تمہارے اقرار سے بھی کوئی ایسا نہیں پھر کیسے کسی کو مستحق عبادت سمجھتے ہو) آپ دیکھئے تو کہ ہم کس (کس) طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے ظاہر کر رہے ہیں (پھر بھی ان دلائل میں غور اور ان کے نتیجہ کو تسلیم کرنے سے) یہ اعراض (بےرخی) کرتے ہیں، آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے خواہ بیخبر ی میں یا ہوشیاری میں تو کیا بجز ظالم لوگوں کے (اس عذاب سے) اور بھی کوئی ہلاک کیا جاوے گا (مطلب یہ ہے کہ اگر عذاب آیا وہ تمہارے ظلم کی وجہ سے تم پر ہی پڑے گا، مومن بچے رہیں گے، اس لئے تم کو ہوش کرنا چاہئے، اور مرگ انبوہ جشنے دارد کا سہارا بھی بھول جانا چاہئے کہ اگر عذاب آہی گیا تو اس میں ہمارے ساتھ مسلمان بھی تو مبتلا ہوں گے) اور ہم پیغمبروں کو (جن کی پیغمبری دلائل قاطعہ سے ثابت کرچکے ہیں) صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ (ایمان اور اطاعت کرنے والوں کو رضائے الٓہی اور نعمائے جنت کی) بشارت دیں اور (کفر و معصیت کرنے والوں کو اللہ کی ناراضی سے) ڈراویں (اس لئے نہیں بھیجتے کہ حجت تمام ہوجانے کے بعد بھی مخالفین از راہ عناد ان سے جو واہی تباہی فرمائشیں کیا کریں وہ سب کو پورا کرکے دکھایا کریں) پھر (ان پیغمبروں کی بشارت اور ڈرانے کے بعد) جو شخص ایمان لے آوے اور (اپنی حالت کی اعتقاداً اور عملاً) اصلاح کرلے تو ان لوگوں پر (آخرت میں) کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وہ وہاں مغموم ہوں گے، اور جو لوگ (اس تبشیر و انداز کے بعد بھی) ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلاویں ان کو (بعض اوقات تو دنیا میں بھی ورنہ آخرت میں تو ضرور) عذاب لگتا ہے بوجہ اس کے کہ وہ دائرہ ایمان سے نکل جاتے ہیں۔