6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعارف القرآن

Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ تیرا رب ہلاک کرنے والا نہیں بستیوں کو ان کے ظلم پر اور وہاں کے لوگ بیخبر ہوں

تیسری آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ انسانوں اور جنّات میں رسول بھیجنا اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی قوم پر ویسے ہی عذاب نہیں بھیج دیتے جب تک کہ ان کو پہلے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ بیدار نہ کردیا جائے اور ہدایت کی روشنی ان کے لئے نہ بھیج دی جائے۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لئے درجے ہیں ان کے عمل کے اور تیرا رب بیخبر نہیں ان کے کام سے

چوتھی آیت کا مفہوم واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسانوں اور جنّات میں ہر طبقہ کے لوگوں کے درجات مقرر ہیں، اور یہ درجات ان کے اعمال ہی کے مطابق رکھے گئے، ان میں سے ہر ایک کی جزاء و سزا انہی اعمال کے پیمانہ کے مطابق ہوگی۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تیرا رب بےپروا ہے رحمت والا اگر چاہے تو تم کو لے جاوے اور تمہارے پیچھے قائم کر دے جس کو چاہئے جیسا کہ تم کو پیدا کیا اوروں کی اولاد سے

خلاصہ تفسیر اور آپ ﷺ کا رب (رسولوں کو کچھ اس لئے نہیں بھیجتا کہ نعوذ باللہ وہ محتاج عبادت ہے وہ تو) بالکل غنی ہے (بلکہ اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ) رحمت والا (بھی) ہے (اپنی رحمت سے رسولوں کو بھیجا تاکہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو منافع و مضار (نقصان دینی والی چیزیں) معلوم ہوجائیں، پھر منافع سے منتفع اور مضار سے محفوظ رہیں، سو اس میں بندوں ہی کا فائدہ ہے، اور باقی ان کا گناہ تو ایسا ہے کہ) اگر وہ چاہے تو تم سب کو (دنیا سے دفعةً) اٹھالیوے اور تمہارے بعد جس (مخلوق) کو چاہے تمہاری جگہ (دنیا میں) آباد کر دے جیسا (اس کی نظیر پہلے سے موجود ہے کہ) تم کو (جو کہ اب موجود ہو) ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے (کہ ان کا کہیں پتہ نہیں اور تم ان کی جگہ موجود ہو، اور اسی طرح یہ سلسلہ چلا آرہا ہے، لیکن یہ سلسلہ تدریجاً قائم ہے، اگر ہم چاہیں دفعةً بھی ایسا کردیں، کیونکہ کسی کے ہونے نہ ہونے سے ہمارا کوئی کام اٹکا نہیں پڑا، پس ارسالِ رسل ہمارے احتیاج کی وجہ سے نہیں تمہارے احتیاج کی وجہ سے ہے، تم کو چاہئے کہ ان کی تصدیق اور ان کا اتباع کرکے سعادت حاصل کرو اور کفر و انکار کے ضرر سے بچو کیونکہ) جس چیز کا (رسولوں کی معرفت) تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (یعنی قیامت و عذاب) وہ بیشک آنے والی چیز ہے اور (اگر احتمال ہو کہ گو قیامت آوے مگر ہم کہیں بھاگ جائیں گے، ہاتھ نہ آئیں گے، جیسا دنیا میں حکام کا مجرم کبھی ایسا کرسکتا ہے تو خوب سمجھ لو کہ) تم (خدا تعالیٰ کو) عاجز نہیں کرسکتے (کہ اس کے ہاتھ نہ آؤ، اور اگر باجود جو اقامت دلائل تعیین حق کے کسی کو اس میں کلام ہو کہ کفر ہی کا طریقہ اچھا ہے اسلام کا برا ہے، پھر قیامت سے کیا اندیشہ تو ایسے لوگوں کے جواب میں) آپ (آخری بات) یہ فرما دیجئے کہ اے میری قوم (تم جانو بہتر ہے) تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی (اپنے طور پر) عمل کر رہا ہوں، سو اب جلدی تم کو معلوم ہوا چاہتا ہے کہ اس عالم (کے اعمال) کا انجام کار کس کے لئے منافع ہوگا (ہمارے لئے یا تمہارے لئے اور) یہ یقینی بات ہے کہ حق تلفی کرنے والوں کو کبھی (انجام میں) فلاح نہ ہوگی (اور سب سے بڑھ کر اللہ کی حق تلفی ہے، اور یہ امر دلائل صحیحہ میں تھوڑا غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ طریقہ اسلام حق تلفی ہے یا طریقہ کفر، اور جو دلائل میں بھی غور نہ کرے اس سے اتنا کہہ دینا بس ہے فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ یعنی عنقریب تم اس عمل بد کا انجام جان لوگے) اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی (وغیرہ) اور مواشی پیدا کئے ہیں ان (مشرک) لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ (کے نام) کا مقرر کیا (اور کچھ بتوں کے نام کا مقرر کیا حالانکہ پیدا کرنے میں کوئی شریک نہیں) اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے (جو کہ مہمانوں اور مساکین اور مسافر وغیرہ عام مصارف میں صرف ہوتا ہے) اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے (جس کے مصارف خاص ہیں) پھر جو چیز ان کے معبودوں (کے نام) کی ہوتی ہے وہ تو اللہ (نام کے حصہ) کی طرف نہیں پہنچتی (بلکہ اتفاقاً مل جانے سے بھی الگ نکال لی جاتی ہے) اور جو چیز اللہ (کے نام) کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں (کے نام کے حصہ) کی طرف پہنچ جاتی ہے، انہوں نے کیا بری تجویز نکال رکھی ہے (کیونکہ اول تو اللہ کا پیدا کیا ہوا دوسرے کے نام کیوں جائے، دوسرے پھر جتنا اللہ کا حصہ نکالا ہے اس میں سے بھی گھٹ جاوے، اور اگر غناء و احتیاج اس کا مبنیٰ ہے تو محتاج مان کر معبود سمجھنا اور زیادہ حماقت ہے)۔ معارف و مسائل اس سے پہلی آیت میں مذکور تھا کہ اللہ جل شانہ، کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ جن و بشر کی ہر قوم میں اپنے رسول اور اپنی ہدایات بھیجی ہیں، اور جب تک رسولوں کے ذریعہ ان کو پوری طرح متنبہ نہیں کردیا گیا اس وقت تک ان کے کفر و شرک اور معصیت و نافرمانی پر ان کو کبھی سزا نہیں دی۔ مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ رسولوں اور آسمانی کتابوں کے تمام سلسلے کچھ اس لئے نہیں تھے کہ رب العالمین کو ہماری عبادت اور اطاعت کی حاجت تھی، یا اس کا کوئی کام ہماری اطاعت پر موقوف تھا، نہیں وہ بالکل بےنیاز اور غنی ہے، مگر اس کے کامل استغناء اور بےنیازی کے ساتھ اس میں ایک صفت رحمت بھی ہے اور سارے عالم کے وجود میں لانے پھر باقی رکھنے اور ان کی ظاہری اور باطنی موجودہ اور آئندہ تمام ضرورتوں کو بےمانگے پورا کرنے کا سبب بھی صفت رحمت ہے، ورنہ بیچارہ انسان اپنی ضروریات کو خود پیدا کرنے کے قابل تو کیا ہوتا اس کو تو اپنی تمام ضروریات کے مانگنے کا بھی سلیقہ نہیں، خصوصاً نعمت و جود جو عطا کی گئی ہے اس کا تو بےمانگے ملنا بالکل ہی واضح ہے کہ کسی انسان نے کہیں اپنے پیدا ہونے کی دعا نہیں مانگی، اور نہ وجود سے پہلے دعا مانگنے کا کوئی تصور ہوسکتا ہے، اسی طرح انسان کی تخلیق جن اعضاء سے کی گئی ہے آنکھ، کان، ہاتھ، پاؤ ں، دل و دماغ کیا یہ چیزیں کسی انسان نے مانگی تھیں، یا کہیں اس کو مانگنے کا شعور و سلیقہ تھا ؟ کچھ نہیں بلکہ مانبودیم و تقاضا ما نبود لطف تو ناگفتہ مامی شنود اللہ تعالیٰ سب سے بےنیاز ہے تخلیق کائنات صرف اس کی رحمت کا نتیجہ ہے بہر حال اس آیت میں وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ کے الفاظ سے رب الارباب کی بےنیازی بیان کرنے کے ساتھ ذو الرَّحْمَةِ کا اضافہ کرکے یہ بتلا دیا کہ وہ اگرچہ تم سب سے بلکہ ساری کائنات سے بالکل مستغنی اور بےنیاز ہے، لیکن بےنیازی کے ساتھ وہ ذوالرحمة یعنی رحمت والا بھی ہے۔ کسی انسان کو اللہ نے بےنیاز نہیں بنایا اس میں بڑی حکمت ہے، انسان بےنیاز ہوجائے تو ظلم کرتا ہے اور یہ اسی ذات کا کمال ہے ورنہ انسان کی عادت یہ ہے کہ اگر وہ دوسروں سے بےنیاز اور مستغنی ہوجائے تو اس کو دوسروں کے نفع نقصان اور رنج و راحت کی کوئی پروا نہیں رہتی، بلکہ اسی حالت میں وہ دوسروں پر ظلم وجور کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے، قرآن کریم کی ایک آیت میں ارشاد ہے (آیت) ان الانسان لیطغی ان راہ استغنی۔ یعنی انسان جب اپنے آپ کو بےنیاز اور مستغنی پاتا ہے تو وہ سرکشی اور طغیانی پر آمادہ ہوجاتا ہے، اسی لئے حق جل شانہ، نے انسان کو ایسی ضروریات میں جکڑ دیا ہے جو دوسروں کی امداد کے بغیر پوری ہی نہیں ہو سکتی، بڑے سے بڑا بادشاہ اور حاکم نوکروں چاکروں اور چپراسیوں کا محتاج ہے، بڑے سے بڑا مالدار اور مل آنر مزدوروں کا محتاج ہے، صبح کو جس طرح ایک مزدور اور رکشا چلانے والا کچھ پیسے حاصل کرکے محتاجی دور کرنے کے لئے تلاش روزگار میں نکلتا ہے ٹھیک اسی طرح بڑے مالدار جن کو اغنیاء کہا جاتا ہے وہ مزدور اور رکشا اور گاڑی، سواری کی تلاش میں نکلتے ہیں، قدرت نے اس کو محتاجی کی ایک زنجیر میں جکڑا ہوا ہے، ہر ایک دوسرے کا محتاج ہے، کسی کا کسی پر احسان نہیں اور یہ نہ ہوتا تو نہ کوئی مالدار کسی کو ایک پیسہ دیتا اور نہ کوئی مزدور کسی کا ذرا سا بوجھ اٹھاتا، یہ تو صرف حق جل شانہ کی صفت کمال ہے کہ کامل استغناء اور بےنیازی کے باوجود و ذوالرحمة یعنی رحمت والا ہے، اس جگہ ذوالرحمة کے بجائے اگر رحمن یا رحیم کا لفظ لایا جاتا تب بھی مقصود کلام ادا ہوجاتا، لیکن غنی ہونے کے ساتھ صفت رحمت کے جوڑ کی خاص اہمیت ظاہر کرنے کے لئے عنوان ذو الرَّحْمَةِ کا اختیار فرمایا گیا کہ وہ غنی اور مکمل بےنیاز ہونے کے باوجود صفت رحمت بھی مکمل رکھتا ہے، اور یہی صفت رسولوں اور کتابوں کے بھیجنے کا اصل سبب ہے۔ اس کے بعد یہ بھی بتلا دیا کہ جس طرح اس کی رحمت عام اور تام ہے اسی طرح اس کی قدرت ہر چیز اور ہر کام پر حاوی ہے، اگر وہ چاہے تو تم سب کو ایک آن میں فناء کرسکتا ہے، اور ساری مخلوق کے فنا کردینے سے بھی اس کے کارخانہ قدرت میں ادنیٰ سا فرق نہیں آتا، پھر اگر وہ چاہے تو موجودہ ساری کائنات کو فناء کر کے ان کی جگہ دوسری مخلوق اسی طرح اسی آن میں پیدا کرکے کھڑی کر دے، جس کی ایک نظیر انسان کے ہر دور میں اس کے سامنے رہتی ہے، کہ آج جو کروڑوں انسان زمین کے چپہ چپہ پر آباد اور زندگی کے تمام شعبوں کے مختلف کاروبار کو چلا رہے ہیں، اگر اب سے ایک سو سال پہلے کی طرف غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت بھی یہ دنیا اسی طرح آباد تھی، اور سب کام چل رہے تھے، مگر موجودہ آباد کرنے والوں اور کام چلانے والوں میں سے کوئی نہ تھا، ایک دوسری قوم تھی جو آج زیر زمین ہے، اور جس کا آج نام و نشان بھی نہیں ملتا، اور موجودہ دنیا اسی پہلی قوم کی نسل سے پیدا کی گئی ہے، ارشاد ہے(آیت) اۭاِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَاۗءُ كَمَآ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِيْنَ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو تم سب کو لے جائیں، لے جانے سے مراد ایسا فنا کردینا ہے کہ نام و نشان تک گم ہوجائے، اور اسی لئے یہاں ہلاک کرنے یا مار دینے کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ لے جانا ارشاد فرمایا، جس میں فناء محض اور بےنام و نشان کردینے کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور آنے والی ہے اور تم عاجز نہیں کرسکتے

اس آیت میں اللہ جل شانہ کے غنی اور بےنیاز ہونے کا، پھر صاحب رحمت ہونے کا، اور پھر قدرت کاملہ کے مالک ہونے کا بیان کرنے کے بعد دوسری آیت میں نافرمانوں اور حکم نہ ماننے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ(آیت) اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ۙ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو جس عذاب سے ڈرایا ہے وہ ضرور آنے والا ہے، اور تم سب مل کر بھی خدائی عذاب کو نہیں ٹال سکتے۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

تو کہہ دے اے لوگو ! تم کام کرتے رہو اپنی جگہ پر میں بھی کام کرتا ہوں۔ سو عنقریب جان لو گے تم کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر بالیقین بھلا نہ ہوگا ظالموں کا

تیسری آیت میں پھر ان کو غفلت سے چونکانے کا ایک دوسرا طریقہ اختیار کرکے ارشاد فرمایا(آیت) قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ جس میں رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ ﷺ ان اہل مکہ سے کہہ دیجئے کہ اے میری قوم اگر تم میری بات نہیں مانتے تو تمہیں اختیار ہے نہ مانو اور اپنی حالت پر اپنے عقیدہ اور عناد کے مطابق عمل کرتے رہو میں بھی اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرتا رہوں گا، میرا اس میں کوئی نقصان نہیں، مگر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا، کہ دار آخرت کی نجات اور فلاح کس کو حاصل ہوتی ہے، یہ خوب سمجھ لو کہ ظالم یعنی حق تلفی کرنے والے کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔ اور امام تفسیر ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ اس جگہ آیت میں مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّار فرمایا ہے عاقبة الدار الاخرة نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دار آخرت سے پہلے دار دنیا میں بھی انجام کار فلاح و کامیابی اللہ کے نیک بندوں ہی کو حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے حالات اس پر شاہد ہیں کہ تھوڑے عرصہ میں تمام قوت و اقتدار والے مخالف ان کے سامنے ذلیل ہوئے، ان کے ملک ان کے ہاتھوں پر فتح ہوئے، خود عہد رسالت ﷺ میں تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگین آگیا، یمن اور بحرین سے لے کر حدود شام تک آپ ﷺ کی حکومت پھیل گئی، پھر آپ ﷺ کے خلفاء اور صحابہ کرام کے ہاتھوں تقریباً پوری دنیا اسلام کے جھنڈے تلے آگئی، اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا (آیت) کتب اللّٰہ لاغلبن انا ورسلی، یعنی اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں غالب آؤں گا اور میرے رسول غالب آئیں گے اور دوسری آیت میں ارشاد ہے (آیت) انا لننصر رسلنا تا الاشھاد۔ یعنی ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گے، اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے، اس دنیا میں بھی اور اس دن میں بھی جب کہ اعمال کے حساب پر گواہی دینے والے گواہی پر کھڑے ہوں گے، یعنی قیامت کے دن۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں اللہ کا اس کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشی میں ایک حصہ پھر کہتے ہیں یہ حصہ اللہ کا ہے اپنے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے سو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہے وہ تو نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو اللہ کا ہے وہ پہنچ جاتا ہے ان کے شریکوں کی طرف کیا ہی برا انصاف کرتے ہیں۔

چوتھی آیت میں مشرکین عرب کی ایک خاص گمراہی اور غلط کاری پر تنبیہ فرمائی گئی ہے، عرب کی عادت یہ تھی کہ کھیتی اور باغات سے نیز تجارتوں سے جو کچھ پیداوار ہوتی تھی، اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے لئے نکالا کرتے تھے، اللہ کے نام کا حصہ غرباء و فقراء و مساکین پر خرچ کرتے اور بتوں کے نام کا حصہ بت خانہ کے پجاریوں اور نگہبانوں پر صرف کیا کرتے تھے۔ اول تو یہی ظلم کم نہ تھا کہ ساری چیزیں پیدا تو خدا تعالیٰ نے فرمائی اور ہر چیز کی پیداوار اس نے عطا فرمائیں، پھر اس کی دی ہوئی چیزوں میں بتوں کو شریک کردیا، اس پر مزید ستم برستم یہ تھا کہ اگر کبھی پیداوار میں کچھ کمی آجائے تو اس کمی کو اللہ کے حصہ پر یہ کہہ کر ڈال دیتے کہ اللہ تعالیٰ تو مستغنی ہے وہ ہماری چیزوں کا محتاج نہیں، اور بتوں کا حصہ بھی پورا کرلیتے، اور خود اپنے استعمال کا حصہ بھی، اور کبھی ایسا ہوتا کہ بتوں کے حصہ میں سے یا اپنے حصہ میں سے کوئی چیز اللہ کے حصہ میں پڑجاتی تو اس کو حساب کرنے کے لئے اس میں سے نکال لیتے تھے اور اگر کبھی معاملہ برعکس ہوجائے کہ اللہ کے حصہ میں کوئی چیز اپنے حصہ یا بتوں کے حصہ میں پڑجائے تو اس کو وہیں رہنے دیتے اور یہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کے حصہ میں سے کچھ کم بھی ہوجائے تو حرج نہیں قرآن کریم نے ان کی اس گمراہی اور غلط کاری کو ذکر کرکے فرمایا (آیت) سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ ، یعنی ان لوگوں کا یہ فیصلہ کس قدر برا اور بھونڈا ہے کہ جس نے ان کو اور ان کی ساری چیزوں کو پیدا کیا، اول تو اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیا، پھر اس کے حصہ کو بھی دوسری طرف مختلف بہانوں سے منتقل کردیا۔ کافروں کی اس تنبیہ میں مسلمانوں کے لئے عبرت یہ تو مشرکین عرب کی ایک گمراہی اور غلط روش پر تنبیہ کی گئی ہے، اس کے ساتھ اس کے ضمن میں ان مسلمانوں کے لئے بھی ایک تازیانہ عبرت ہے جو اللہ کی دی ہوئی زندگانی اور اس کے بخشے ہوئے اعضاء وجوارح کی پوری توانائی کو مختلف حصوں میں بانٹتے ہیں، عمر اور وقت کا ایک حصہ اللہ اور اس کی عبادت کے لئے مخصوص کرتے ہیں، حالانکہ حق تو اس کا یہ تھا کہ عمر کے سارے اوقات اور لمحات اسی کی عبادت اور اطاعت کے لئے وقف ہوتے، انسانی ضرورتوں اور مجبوریوں کے لئے اس میں سے کوئی وقت اپنے لئے بھی نکال لیتے، اور حق تو یہ ہے کہ پھر بھی اس کا حق شکر ادا نہ ہوتا، مگر یہاں تو حالت ہماری یہ ہے کہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے اگر ہم کوئی وقت اللہ کی یاد اور عبادت کے لئے مقرر بھی کرلیتے ہیں تو جب کوئی ضرورت پیش آتی ہے اس میں نہ اپنے کاروبار میں کوئی حرج ڈالا جاتا ہے، نہ آرام کے اوقات میں، سارا نزلہ اس وقت پر پڑتا ہے جو نماز، تلاوت یا عبادت کے لئے مقرر کیا تھا، کوئی کام پیش آوے، یا بیماری یا کوئی دوسری ضرورت تو سب سے پہلے اس کا اثر اس وقت پر پڑتا ہے جو ہم نے ذکر اللہ یا عبادت کے لئے مخصوص کیا تھا، یہ کیسا غلط اور کتنی ناشکری اور حق تلفی ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو اور سب مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھیں۔
Ayahs 6:137–140

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح مزین کردیا بہت سے مشرکوں کی نگاہ میں ان کی اولاد کے قتل کو ان کے شریکوں نے تاکہ ان کو ہلاک کریں اور رلا ملا دیں ان پر ان کے دین کو اور اللہ چاہتا تو وہ یہ کام نہ کرتے سو چھوڑ دے وہ جانیں اور ان کا جھوٹ

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے اس کو کوئی نہ کھاوے مگر جس کو ہم چاہیں ان کے خیال کے موافق اور بعض مویشی کی پیٹھ پر چڑھنا حرام کیا اور بعض مویشی کے ذبح کے وقت نام نہیں لیتے اللہ کا اللہ پر بہتان باندھ کر عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کہتے ہیں جو بچہ ان مویشی کے پیٹ میں ہے اس کو تو خاص ہمارے مرد ہی کھاویں اور وہ حرام ہے ہماری عورتوں پر اور جو بچہ مردہ ہو تو اس کے کھانے میں سب برابر ہیں وہ سزا دے گا ان کو ان کی تقریروں کی، وہ حکمت والا جاننے والا ہے

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

بیشک خراب ہوئے جنہوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو نادانی سے بغیر سمجھے اور حرام ٹھہرا لیا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا بہتان باندھ کر اللہ پر بیشک وہ گمراہ ہوئے اور نہ آئے سیدھی راہ پر۔

ربط آیات پچھلی آیتوں میں مشرکین کے عقائد باطلہ شرکیہ کفریہ کا بیان تھا، ان آیات میں ان کی عملی غلطیوں اور جاہلانہ رسموں کا ذکر ہے، جن رسوم جاہلیت کا ذکر ان آیات میں آیا ہے وہ یہ ہیں، اول غلہ اور پھل میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکالتے ہیں اور کچھ بتوں اور جنّات کے نام کا، پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو اسی طرح ملا رہنے دیتے تھے، اور معاملہ برعکس ہوتا تو اس کو نکال کر پھر بتوں کے حصہ کو پورا کردیتے تھے اور بہانہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کا حصہ کم ہوجانے سے اس کا کوئی ضرر نہیں، اور شرکاء محتاج ہیں، ان کا حصہ نہ گھٹنا چاہئے، اس رسم بد کا بیان آیات مذکورہ سے پہلی آیت میں آچکا۔ دوسری رسم یہ تھی کہ بحیرہ، سائبہ جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑتے اور یہ کہتے تھے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ہے، اس میں بھی بتوں کا حصہ یہ تھا کہ عبادت ان کی تھی، اور اللہ کا حصہ یہ ہوا کہ اس کو خوشنودی اللہ کی سمجھتے تھے۔ تیسری رسم، اپنی دختری اولاد کو قتل کر ڈالنے کی تھی، چوتھی رسم، کچھ کھیت بتوں کے نام وقف کردیتے اور کہتے کہ اس کا اصل مصرف فقط مرد ہیں، عورتوں کو اس میں سے کچھ دینا نہ دینا ہماری مرضی پر ہے، ان کو مطالبہ کا حق نہیں۔ پانچویں رسم، اسی طرح کا عمل مواشی جانوروں میں کرتے تھے کہ بعض کو مردوں کے لئے مخصوص قرار دیتے تھے۔ چھٹی رسم، جن چوپایہ جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تو ان پر سواری اور باربرداری کو حرام سمجھتے تھے۔ ساتویں رسم، بعض چوپایہ جانور مخصوص تھے جن پر کسی موقع میں بھی اللہ کا نام نہ لیتے تھے نہ دودھ نکالنے کے وقت، نہ سوار ہوتے وقت، نہ ذبح کرنے کے وقت۔ آٹھویں رسم، یہ تھی کہ جن جانوروں کا نام بحیرہ یا سائبہ رکھ کر بتوں کے نام پر چھوڑتے ان کے ذبح کے وقت اگر بچہ پیٹ سے زندہ نکلتا تو اس کو بھی ذبح کرلیتے، مگر اس کو صرف مردوں کے لئے حلال عورتوں کے لئے حرام سمجھتے تھے اور اگر بچہ مردہ نکلا تو وہ سب کے لئے حلال ہوتا تھا۔ نویں رسم، بعض جانوروں کا دودھ بھی مردوں کے لئے حلال عورتوں کے لئے حرام سمجھتے تھے۔ دسویں رسم، بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی چار قسم کے جانوروں کی تعظیم کو عبادت سمجھتے تھے۔ (یہ سب روایات درمنثور اور روح المعانی میں حضرت ابن عباس، مجاہد، ابن زید اور سدی سے بتخریج ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن ابی شیبہ، ابن حمید منقول ہیں) (از بیان القرآن) خلاصہ تفسیر اسی طرح بہت سے مشرکین کے خیال میں ان کے معبودوں (شیاطین) نے اپنی اولاد کے قتل کرنے کو مستحسن بنا رکھا ہے (جیسا کہ جاہلیت میں لڑکیوں کو قتل یا زندہ درگور کردینے کی رسم تھی) تاکہ (اس فعل قبیح کے ارتکاب سے) وہ (شیاطین) ان (مشرکین) کو (بوجہ استحقاق عذاب کے) برباد کریں اور تاکہ ان کے طریقہ کو مخبوط کردیں (کہ ہمیشہ غلطی میں پھنسے رہیں، اور آپ ﷺ ان کی ان حرکات شنیعہ سے مغموم نہ ہوں، کیونکہ) اگر اللہ تعالیٰ کو (انکا بھلا) منظور ہوتا تو یہ ایسا کام نہ کرتے، تو آپ ﷺ ان کو اور جو کچھ یہ غلط باتیں بنا رہے ہیں (کہ ہمارا یہ فعل بہت اچھا ہے) یوں ہی رہنے دیجئے (کچھ فکر نہ کیجئے ہم آپ سمجھ لیں گے) اور وہ اپنے خیال (باطل) پر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ (مخصوص) مواشی ہیں اور (مخصوص) کھیت ہیں، جن کا استعمال ہر شخص کو جائز نہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا سوائے ان کے جن کو ہم چاہیں (جیسا رسم چہارم و پنجم میں مذکور ہوا) اور (یوں کہتے ہیں کہ یہ مخصوص) مواشی ہیں جن پر سواری یا بار برداری حرام کردی گئی ہے (جیسا رسم ششم میں مذکور ہوا) اور (یوں کہتے ہیں کہ یہ مخصوص) مواشی ہیں جن پر (اللہ کا نام نہیں لینا چاہئے، چناچہ اسی اعتقاد کی وجہ سے ان پر) یہ لوگ اللہ کا نام نہیں لیتے (جیسا رسم ہفتم میں مذکور ہوا، اور یہ سب باتیں) محض اللہ پر افتراء باندھنے کے طور پر (کہتے ہیں، افتراء اس لئے کہ وہ ان امور کو موجب خوشنودی حق تعالیٰ سمجھتے تھے) ابھی اللہ تعالیٰ کو ان کے افتراء کی سزا دیتا ہے (ابھی اس لئے کہا کہ قیامت جو کہ آنے والی ہے دور نہیں اور کچھ کچھ سزا تو مرتے ہی شروع ہوجائے گی) اور وہ (یوں بھی) کہتے ہیں کہ جو چیز ان مواشی کے پیٹ میں (سے نکلتی) ہے (مثلاً دودھ یا بچہ) مردہ ہو تو اس (سے منتفع ہونے کے جواز) میں (مرد و عورت) سب برابر ہیں (جیسا رسم ہشتم ونہم میں مذکور ہوا) ابھی اللہ تعالیٰ ان کو ان کی (اس) غلط بیانی کی سزا دئے دیتا ہے (غلط بیانی کی وہ ہی تقریر ہے جو افتراء کی گزری، اور اب تک جو سزا نہیں دی تو وجہ یہ ہے کہ) بلاشبہ وہ حکمت والا ہے (بعض حکمتوں سے مہلت دے رکھی ہے، اور ابھی سزا نہ دینے سے کوئی یوں نہ سمجھے کہ ان کو خبر نہیں، کیونکہ) وہ بڑا علم والا ہے (اس کو سب خبر ہے، آگے بطور خلاصہ اور انجام کے فرماتے ہیں کہ) واقعی خرابی میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے (ان افعال مذکورہ کو طریقہ بنا لیا کہ) اپنی اولاد کو محض براہ حماقت بلا کسی (معقول و مقبول) سند کے قتل کر ڈالا اور جو (حلال) چیزیں ان کو اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کو دی تھیں ان کو (اعتقاداً یا عملاً) حرام کرلیا (جیسا اوپر کے رسوم و رسم دہم میں کہ منشاء سب کا متحد ہے مذکور ہوا اور یہ مجموعہ) محض اللہ پر افتراء باندھنے کے طور پر (ہوا، جیسا کہ اوپر قتل اولاد میں یفترون اور تحریم انعام میں افتراء جدا جدا بھی آچکا ہے) بیشک یہ لوگ گمراہی میں پڑگئے اور (یہ گمراہی جدید نہیں بلکہ قدیم ہے، کیونکہ پہلے بھی) کبھی راہ پر چلنے والے نہیں ہوئے (پس ضَلَّوا میں خلاصہ طریق کا اور ماکانُوا میں اس کی تاکید اور خَسِرُوا میں خلاصہ انجام بد کا کہ عذاب ہے ذکر کیا گیا)
Ayahs 6:141–142

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور اسی نے پیدا کئے باغ جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ مختلف ہیں ان کے پھل اور پیدا کیا زیتون کو اور انار کو ایک دوسرے کے مشابہ اور جداجدا بھی کھاؤ ان کے پھل میں سے جس وقت پھل لاویں اور ادا کرو ان کا حق جس دن ان کو کاٹو اور بیجا خرچ نہ کرو اس کو خوش نہیں آتے بیجا خرچ کرنے والے

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور پیدا کئے مواشی میں بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر وہ تمہارا دشمن ہے صریح۔

خلاصہ تفسیر اور وہی (اللہ پاک) ہے جس نے باغات پیدا کئے وہ بھی جو ٹیٹوں پر چڑھائے جاتے ہیں (جیسے انگور) اور وہ بھی جو ٹیٹوں پر نہیں چڑھائے جاتے (یا تو اس لئے کہ بیلدار نہیں جیسے تنہ دار درخت، یا باوجود بیلدار ہونے کے عادت نہیں، جیسے خربوزہ، تربوز وغیرہ) اور کھجور کے درخت اور کھیتی (بھی اس نے پیدا کئے) جو (انار انار) باہم (اور زیتون زیتون باہم رنگ و مزہ و شکل و مقدار میں سے بعض صفات میں کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور (کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے (اور اللہ نے ان چیزوں کو پیدا کرکے اجازت دی ہے کہ) ان سب کی پیداوار کھاؤ (خواہ اسی وقت سے سہی) جب وہ نکل آوے (اور پکنے بھی نہ پاوے) اور (البتہ اس کے ساتھ اتنا ضرور ہے کہ) اس میں جو حق (شرع سے) واجب ہے (یعنی خیرات) وہ اس کے کاٹنے (توڑنے) کے دن (مسکینوں کو) یاد کرو اور (اس دینے میں بھی) حد (اذن شرعی) سے مت گزرو، یقینا وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) حد (اذن شرعی) سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتے ہیں، اور (جس طرح باغ اور کھیت اللہ نے پیدا کئے ہیں، اسی طرح حیوانات بھی چنانچہ) مواشی میں اونچے قد کے (بھی) اور چھوٹے قد کے (بھی اسی نے پیدا کئے، اور ان کے بارے میں بھی مثل باغ اور کھیت کے اجازت دی کہ) جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے (اور شرع سے حلال کیا ہے اس کو) کھاؤ اور (اپنی طرف سے تحریم کے احکام تراش کر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو، بلاشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے (کہ تم کو باوجود وضوح دلائل حق کے گمراہ کر رہا ہے)۔ معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں مشرکین مکہ کی اس گمراہی کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے جانوروں اور اس کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں ان ظالموں نے اپنے خود تراشیدہ بےجان بےشعور بتوں کو اللہ تعالیٰ کا ساجھی قرار دے کر جو چیز وہ بطور عبادت یا صدقہ خیرات کے نکالتے ہیں ان میں ایک حصہ اللہ تعالیٰ کا اور دوسرا حصہ بتوں کا رکھتے ہیں، پھر اللہ کے حصہ کو بھی مختلف حیلوں حوالوں سے بتوں کے حصہ میں ڈالتے ہیں، اسی طرح کی اور بہت سی جاہلانہ رسموں کو شرعی قانون کی حیثیت دے رکھی ہے۔ مذکورہ آیتوں میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نباتات اور درختوں کی مختلف قسمیں اور ان کے فوائد وثمرات کی تخلیق میں اپنی قدرت کاملہ کے حیرت انگیز کمالات کا ذکر فرمایا اور دوسری آیت میں اسی طرح جانوروں اور مویشی کی مختلف قسموں کی پیدائش کا ذکر فرما کر ان کی گمراہی پر متنبہ فرمایا کہ ان بےبصیرت لوگوں نے کیسے قادر مطلق علیم وخبیر کے ساتھ کیسے بیخبر ، بےشعور، بےجان اور بےبس چیزوں کو اس کا شریک و ساجھی بنا ڈالا ہے۔ اور پھر ان کو صراط مستقیم اور صحیح راہ عمل کی طرف ہدایت فرمائی، کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے اور تم کو عطا کرنے میں کوئی سہیم و شریک نہیں تو عبادت میں ان کو شریک ٹھہرانا انتہائی کفران نعمت اور ظلم ہے، جس نے یہ چیزیں پیدا کرکے تم کو عطا فرمائیں اور تمہارے لئے حلال کردیا، تمہارا فرض ہے کہ اس کی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے وقت اس کے حق شکر کو یاد رکھو اور ادا کرو، شیطانی خیالات اور جاہلانہ رسموں کو اپنا دین نہ بناؤ۔ پہلی آیت میں انشَاَ کے معنی پیدا کیا اور معروشَات عرش سے بنا ہے، جس کے معنی اٹھانے کے اور بلند کرنے کے ہیں، مراد معروشات سے درختوں کی وہ بیلیں ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں، جیسے انگور اور بعض ترکاریاں، اور اس کے بالمقابل غیر مَعرُوشَات میں وہ سب درخت شامل ہیں جن کی بیلیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں، خواہ وہ تنہ دار درخت ہوں جن کی بیل ہی نہیں یا بیل دار ہوں مگر ان کی بیلیں زمین ہی پر پھیلتی ہیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں، جیسے تربوز، خربوزہ وغیرہ۔ اور نَخُل کے معنی کھجور کا درخت، اور زرع ہر قسم کی کھیتی، اور زیتون درخت زیتون کو بھی کہتے ہیں اس کے پھل کو بھی، اور رُمَّان انار کو کہا جاتا ہے۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے اوّل تو باغات میں پیدا ہونے والے درختوں کی دو قسمیں بیان فرمائیں، ایک وہ جن کی بیلیں اوپر چڑھائی جاتی ہیں دوسری وہ جن کی بیلیں چڑھائی نہیں جاتیں، اس میں اپنی حکمت بالغہ اور رموز قدرت کی طرف اشارہ ہے کہ ایک ہی مٹی اور ایک ہی پانی اور ایک ہی ہوا فضاء سے کیسے کیسے مختلف انداز کے پودے پیدا فرمائے، پھر ان کے پھلوں کی تیاری اور سبزی و شادابی اور ان میں رکھے ہوئے ہزاروں خواص و آثار کی رعایت سے کسی درخت کا مزاج ایسا کردیا کہ جب تک بیل اوپر نہ چڑھے اول تو پھل آتا ہی نہیں، اور آبھی جائے تو بڑھتا اور باقی نہیں رہتا، جیسے انگور وغیرہ، اور کسی کا مزاج ایسا بنادیا کہ اس کی بیل کو اوپر چڑھانا بھی چاہو تو نہ چڑھے، اور چڑھ بھی جائے تو اس کا پھل کمزور ہوجائے جیسے خربوزہ، تربوز وغیرہ، اور بعض درختوں کو مضبوط تنوں پر کھڑا کرکے اتنا اونچا لے گئے کہ آدمی کی صنعت اختیار سے اتنا اونچا لے جانا عادةً ممکن نہ تھا۔ اور درختوں کی یہ نیرنگی محض اتفاقی نہیں، بلکہ بڑی حکمت کے ساتھ ان کے پھلوں کے مزاج کی رعایت سے ہے، بعض پھل زمین اور مٹی ہی میں بڑھتے اور پکتے ہیں، اور بعض کو مٹی لگنا خراب کردیتا ہے بعض کے لئے اونچی شاخوں پر لٹک کر مسلسل تازہ ہوا کھانا، آفتاب کی کرنوں اور ستاروں کی شعاعوں سے رنگ حاصل کرنا ضروری ہے، ہر ایک کے لئے قدرت نے اس کے مناسب انتظام فرما دیا، فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ اس کے بعد خصوصی طور پر نخل اور زرع یعنی کھجور کے درخت اور کھیتی کا ذکر فرمایا، کھجور کا پھل عام طور پر تفریحاً کھایا جاتا ہے، اور بوقت ضرورت اس سے پوری غذا کا کام بھی لیا جاسکتا ہے، اور کھیتی میں پیدا ہونے والی اجناس سے عموماً انسانوں کی غذا اور جانوروں کا چارہ حاصل کیا جاتا ہے، ان دونوں کے ذکر کرنے کے بعد فرمایا مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ اس میں اُکُلُہ، کی ضمیر زرع کی طرف بھی راجع ہو سکتی ہے اور نخل کی طرف بھی، بہرحال مراد دونوں ہی ہیں، معنی یہ ہیں کہ کھجوروں میں مختلف قسمیں اور ہر قسم کا مختلف ذائقہ ہے، اور کھیتی میں تو سینکڑوں قسمیں اور ہر قسم کے ذائقے اور فوائد مختلف ہیں، ایک ہی آب و ہوا ایک ہی زمین سے نکلنے والے پھلوں میں اتنا عظیم الشان تفاوت اور پھر ہر قسم کے فوائد اور خواص کا حیرت انگیز اختلاف اور تنوع ایک ادنیٰ بصیرت رکھنے والے انسان کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کردیتا ہے کہ ان کو پیدا کرنے والی کوئی ایسی مافوق القیاس ہستی ہے جس کے علم و حکمت کا اندازہ بھی انسان نہیں لگا سکتا۔ اس کے بعد دو چیزویں اور ذکر فرمائیں، زیتون اور رمان یعنی انار، زیتون کا پھل، پھل بھی ہے ترکاری بھی، اور اس کا تیل سب تیلوں سے زیادہ صاف، شفاف اور نفیس ہونے کے ساتھ بیشمار فوائد و خواص پر مشتمل ہے، ہزاروں امراض کا بہترین علاج ہے، اسی طرح انار کے بیشمار فوائد خواص ہیں، جن کو سب عوام و خواص جانتے ہیں، ان دونوں پھلوں کا ذکر کر کے فرمایا مُتَشَابِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ، یعنی ان میں سے ہر ایک کے پھل کچھ ایسے ہوتے ہیں جو رنگ اور ذائقہ کے اعتبار سے ملے جلے ایک جیسے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے رنگ اور ذائقے مختلف ہوتے ہیں، اور یہ بعض دانوں کا رنگ و مزہ اور مقداریں یکساں اور بعض کا مختلف ہونا انار میں بھی پایا جاتا ہے، زیتون میں بھی۔ ان تمام اقسام کے درختوں اور پھلوں کا ذکر فرما کر اس آیت میں انسان کو دو حکم دئیے گئے، پہلا حکم تو خود انسان کی خواہش اور نفس کے تقاضے کو پورا کرنے والا ہے، فرمایا (آیت) كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ۔ یعنی ان درختوں اور کھیتوں کے پھلوں کو کھاؤ جب وہ پھل دار ہوجائیں، اس میں اشارہ فرما دیا کہ ان تمام انواع و اقسام کے درختوں کو پیدا کرنے سے پیدا کرنے والے مالک کو اپنی کوئی ضرورت پوری کرنا نہیں بلکہ تمہارے ہی فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے، سو تمہیں اختیار ہے ان کو کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ، اِذَآ اَثْمَرَ فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ درختوں کی شاخوں اور لکڑیوں میں سے پھل نکال لانا تمہارے تو بس کا کام نہیں، جب وہ پھل باذن اللہ نکل آئیں تو ان کے کھانے کا اختیار اسی وقت حاصل ہوگیا خواہ وہ ابھی پکے بھی نہ ہوں۔ زمین کا عشر دوسرا حکم یہ دیا گیا (آیت) وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ ، آتوا کے معنی ہیں، ”لاؤ“ یا ”ادا کرو“ ، اور حصاد کہتے ہیں ”کھیتی کٹنے یا پھلوں کے توڑنے کے وقت کو“ اور حَقَّہ کی ضمیر ہر اس کھانے کی چیز کی طرف عائد ہے جن کا ذکر اوپر آیا ہے، معنی یہ ہیں کہ ان سب چیزوں کو کھاؤ پیو استعمال کرو، مگر ایک بات یاد رکھو کہ کھیتی کاٹنے یا پھل توڑنے کے وقت اس کا حق بھی ادا کیا کرو، حق سے مراد غرباء و مساکین پر صدقہ کرنا ہے، جیسا کہ دوسری ایک آیت میں عام الفاظ سے ارشاد ہے(آیت) والذین فی اموالہم حق معلوم، للسائل والمحروم، ”یعنی نیک بندوں کے اموال میں معین حق ہوتا ہے مانگنے والے اور نہ مانگنے والے فقراء و مساکین کا“۔ مراد اس صدقہ سے عام صدقہ خیرات ہے یا وہ صدقہ جو زمین کی زکوٰة یا عشر کہلاتا ہے، اس میں ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین کے دو قول ہیں، بعض حضرات نے پہلے قول کو اختیار فرمایا ہے اور وجہ یہ قرار دی ہے کہ یہ آیت مکی ہے، اور زکوٰة کا فریضہ ہجرت مدینہ طیبہ کے دو سال بعد عائد ہوا ہے، اس لئے یہاں حق سے مراد حق زکوٰة الارض نہیں ہوسکتا، اور بعض حضرات نے اس آیت کو مدنی آیات میں شمار فرمایا، اور حق سے مراد زمین کی زکوٰة اور عشر کو قرار دیا۔ اور امام تفسیر ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اور ابن عربی اندلسی نے احکام القرآن میں اس کا فیصلہ اس طرح فرمایا ہے کہ آیت خواہ مکی ہو یا مدنی، دونوں صورتوں میں اس آیت سے زمین کی زکوٰة یعنی عشر مراد ہوسکتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک وجوب زکوٰة کا اصل حکم مکہ میں نازل ہوچکا تھا، سورة مزمل کی آیات زکوٰة کے حکم پر مشتمل ہے، جو باتفاق مکہ ہے، البتہ مقدار زکوٰة اور نصاب کا تعیّن وغیرہ ہجرت کے بعد ہوا، اور اس آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی پیداوار پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حق عائد کیا گیا ہے، اس کی مقدار کا تعیّن اس میں مذکور نہیں، اس لئے بحق مقدار یہ آیت مجمل ہے، اور مکہ معظمہ میں اس تعیین مقدار کی یہاں ضرورت بھی اس لئے نہ تھی کہ وہاں مسلمانوں کو یہ اطمینان حاصل نہ تھا کہ زمینوں اور باغوں کی پیداوار سہولت کے ساتھ حاصل کرسکیں، اس لئے اس زمانہ میں تو رواج وہی رہا جو پہلے سے نیک لوگوں میں چلا آتا تھا، کہ کھیتی کاٹنے یا پھل توڑنے کے وقت جو غریب غرباء وہاں جمع ہوجاتے ان کو کچھ دیدتے تھے، کوئی خاص مقدار معیّن نہ تھی، اسلام سے پہلے دوسری امتوں میں بھی کھیتی اور پھلوں میں اس طرح کا صدقہ دینے کا رواج قرآن کریم کی آیت انا بلوناھم میں مذکور ہے، ہجرت کے دو سال بعد جس طرح دوسرے اموال کے نصاب اور مقدار زکوٰة کی تفصیلات رسول اللہ ﷺ نے وحی الٓہی بیان فرمائی، اسی طرح زمین کی زکوٰة کا بیان فرمایا، جو حضرت معاذ بن جبل اور ابن عمر اور جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت سے تمام کتب حدیث میں منقول ہے ما سقت السماء ففیہ العشر وما سقی بالسانیۃ فنصف العشر، یعنی بارانی زمینوں میں جہاں آبپاشی کا کوئی سامان نہیں صرف بارش پر پیداوار کا مدار ہے، ان زمینوں کی پیداوار کا دسواں حصہ بطور زکوٰة نکالنا واجب ہے، اور جو زمین کنوؤں سے سیراب کی جاتی ہیں ان کی پیداوار کا انیسواں حصہ واجب ہے۔ قانون زکوة میں شریعت اسلام نے ہر قسم کی زکوٰة میں اس بات کو بنیادی اصول کے طور پر استعمال کیا ہے، کہ جس پیداوار میں محنت اور خرچ کسی پیداوار پر بڑھتا جاتا ہے اتنی ہی زکوٰة کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے، مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ اگر کسی کو کوئی قدیم خزانہ مل جائے، یا سونے چاندی وغیرہ کی کان نکل آئے تو اس کا پانچواں حصہ بطور زکوٰة کے اس کے ذمہ لازم ہے، کیونکہ محنت اور خرچ کم اور پیداوار زیادہ ہے، اس کے بعد بارانی زمین کا نمبر ہے، جس میں محنت اور خرچ کم سے کم ہے اس کی زکوٰة پانچویں حصہ سے آدھی یعنی دسواں حصہ کردیا گیا، اس کے بعد وہ زمین ہے جس کو کنویں سے یا نہری پانی خرید کر اس سے سیراب کیا جاتا ہے، اس میں محنت اور خرچ بڑھ گیا تو زکوٰة اس سے بھی آدھی کردی گئی، یعنی بیسواں حصہ، اس کے بعد عام نقد سونا یا چاندی اور مال تجارت ہے، جن کے حاصل کرنے اور بڑھانے پر خرچ بھی کافی ہوتا ہے اور محنت بھی زیادہ، اس لئے اس کی زکوٰة اس کی آدھی یعنی چالیسواں حصہ کردیا گیا۔ قرآن کی آیت مذکورہ میں اور حدیث کی روایت مذکورہ میں زمین کی پیداوار کے لئے کوئی نصاب مقرر نہیں فرمایا، اسی لئے امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ زمین کی پیداوار خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، بہر حال اس کی زکوٰة نکالنا ضروری ہے، قرآن کی آیت سورة بقرہ جس میں زمین کی زکوٰة کا ذکر ہے وہاں بھی اس کے لئے کوئی نصاب مذکور نہیں، ارشاد ہے (آیت) انفقوا من طیبت ماکسبتم ومما اخرجنالکم من الارض، ”یعنی خرچ کرو اپنی حلال کمائی میں سے اور اس چیز میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالی ہے“۔ تجارتی اموال اور مویشی کے لئے تو رسول کریم ﷺ نے نصاب بیان فرما دیا، کہ ساڑھے باون تولہ چاندی سے کم میں زکوٰة نہیں، چالیس بکریوں، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰة نہیں، لیکن پیداوار زمین کے متعلق جو بیان اوپر کی حدیث میں آیا ہے اس میں کوئی نصاب نہیں بتلایا گیا، اس لئے ہر قلیل و کثیر سے زمین کی زکوٰة یعنی دسواں یا بیسواں حصہ نکالنا واجب ہے۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَلَا تُسْرِفُوْا ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ ،”یعنی حد سے زائد خرچ نہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتے“۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اگر کوئی شخص اپنا سارا مال بلکہ جان بھی خرچ کر دے تو اس کو اسراف نہیں کہا جاسکتا، بلکہ حق کی ادائیگی کہنا بھی مشکل ہے، پھر اس جگہ اسراف سے منع کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب یہ ہے کہ کسی خاص شعبہ میں اسراف کا نتیجہ عادةً دوسرے شعبوں میں قصور و کوتاہی ہوا کرتا ہے، جو شخص اپنی خواہشات میں بےدریغ حد سے زائد خرچ کرتا ہے وہ عموماً دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کیا کرتا ہے، یہاں اسی کوتاہی سے روکا گیا ہے، یعنی ایک طرف کوئی آدمی اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں لٹا کر خالی ہو بیٹھے تو اہل و اولاد اور رشتہ داروں بلکہ خود اپنے نفس کے حقوق کیسے ادا کرے گا، اس لئے ہدایت یہ کی گئی کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بھی اعتدال سے کام لے تاکہ سب حقوق ادا ہو سکیں۔
Ayahs 6:143–144

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو پوچھ تو کہ دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ کہ اس پر مشتمل ہیں بچہ دان دونوں مادہ کے بتلاؤ مجھ کو سند اگر تم سچے ہو ،

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور پیدا کئے اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو پوچھ تو دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ کہ اس پر مشتمل ہیں بچہ دان دونوں مادہ کے کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے بلا تحقیق بیشک اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو۔

خلاصہ تفسیر (اور یہ مواشی جن میں تحلیل و تحریم کر رہے ہو) آٹھ نر و مادہ (پیدا کئے) یعنی بھیڑ (اور دنبہ) میں دو قسم (ایک نر ایک مادہ) اور بکری میں دو قسم (ایک نر اور ایک مادہ) آپ (ان سے) کہئے کہ (یہ تو بتلاو کہ) کیا اللہ تعالیٰ نے ان (دونوں جانور کے) دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو (حرام کہا ہے) یا اس (بچہ) کو جس کو دونوں مادہ (اپنے) پیٹ میں لئے ہوئے ہوں (وہ بچہ نر ہو یا مادہ یعنی تم جو مختلف صورتوں سے تحریم کے مدعی ہو تو کیا تحریم اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے) تم مجھ کو کسی دلیل سے تو بتلاو اگر (اپنے دعوے میں) سچے ہو (یہ تو چھوٹے قد والے کے متعلق بیان ہوا آگے بڑے قد والوں کا بیان ہے کہ بھیڑ بکری میں بھی نر و مادہ پیدا کیا، جیسا بیان ہوا) اور (اسی طرح) اونٹ میں دو قسم (ایک نر اور ایک مادہ) اور گائے (اور بھینس) میں دو قسم (ایک نر اور ایک مادہ پیدا کئے) آپ ﷺ (ان سے اس باب میں بھی) کہئے کہ (یہ تو بتلاو کہ) کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں (جانور کے) نروں کو حرام کہا ہے یا دونوں مادہ کو (حرام کہا ہے) یا اس (بچہ) کو جس کو دونوں مادہ (اپنے) پیٹ میں لئے ہوئے ہوں (وہ بچہ نر ہو یا مادہ، اس کا بھی وہی مطلب ہے کہ تم جو مختلف صورتوں سے تحریم کے مدعی ہو تو کیا یہ تحریم اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے ؟ اس پر کوئی دلیل قائم کرنا چاہئے، جس کے دو طریقے ہیں، ایک تو یہ کہ کسی رسول و فرشتہ کے واسطہ سے ہو، سو مسئلہ نبوت و وحی سے تو تم کو انکار ہی ہے، اس شق کو تو اختیار کر نہیں سکتے، پس دوسرا طریق دعویٰ کرنے کے لئے متعین ہوگیا کہ خود خدا تعالیٰ نے بلاواسطہ تم کو یہ احکام دئیے ہوں تو) کیا تم (اس وقت) حاضر تھے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تم کو اس (تحریم و تحلیل) کا حکم دیا (اور ظاہر ہے کہ اس کا دعویٰ بھی نہیں ہوسکتا، پس ثابت ہوگیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں) تو (بعد ثبوت اس امر کے کہ اس دعوے پر کوئی دلیل نہیں یقینی بات ہے کہ) اس سے زیادہ کون ظالم (اور کا ذب) ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر بلا دلیل (تحلیل و تحریم کے باب میں) جھوٹی تہمت لگائے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے (یعنی یہ شخص بڑا ظالم ہوگا اور) یقینا اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو (جنت کا) راستہ (آخرت میں) نہ دکھلاویں گے (بلکہ دوزخ میں بھیجیں گے، پس یہ لوگ بھی اس جرم کی سزا میں روزخ میں جاویں گے)۔
Ayahs 6:145–147

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ میں نہیں پاتا اس وحی میں کہ مجھ کو پہنچی ہے کسی چیز کو حرام کھانے والے پر جو اس کو کھاوے، مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا گوشت سور کا کہ وہ ناپاک ہے یا ناجائز ذبحہ جس پر نام پکارا جاوے اللہ کے سوا کسی اور کا، پھر جو کوئی بھوک سے بےاختیار ہوجاوے نہ نافرمانی کرے اور نہ زیادتی کرے تو تیرا رب بڑا معاف کرنے والا ہے نہایت مہربان

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہود پر ہم نے حرام کیا تھا ہر ایک ناخن والا جانور اور گائے اور بکری میں سے حرام کی تھی ان کی چربی مگر جو لگی ہو پشت پر یا انتڑیوں پر یا جو چربی کہ ملی ہوئی ہو ہڈی کے ساتھ یہ ہم نے ان کو سزا دی تھی ان کی شرارت پر اور ہم سچ کہتے ہیں

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر اگر تجھ کو جھٹلاویں تو کہہ دے کہ تمہارے رب کی رحمت میں بڑی وسعت ہے اور نہیں ٹلے گا اس کا عذاب گنہگار لوگوں سے۔

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ (جن حیوانات میں کلام ہو رہا ہے ان کے متعلق) جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھاوے (خواہ مرد ہو یا عورت) مگر (ان چیزوں کو البتہ حرام پاتا ہوں وہ) یہ کہ وہ مردار (جانور) ہو، (یعنی جو باوجود واجب الذبح ہونے کے بلا ذبح شرعی مر جائے) یا یہ کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ (خنزیر) بالکل ناپاک ہے، (اس لئے اس کے سب اجزاء نجس اور حرام ہیں ایسا نجس نجس العین کہلاتا ہے) یا جو (جانور وغیرہ) شرک کا ذریعہ ہو (اس طرح) کہ (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو (سو یہ سب حرام ہیں) پھر (بھی اس میں اتنی آسانی رکھی ہے کہ) جو شخص (بھوک سے بہت ہی) بیتاب ہوجاوے بشرطیکہ نہ تو (کھانے میں) طالب لذت ہو اور نہ (قدر ضرورت و حاجت سے) تجاوز کرنے والا ہو تو (اس حالت میں ان حرام چیزوں سے کھانے میں بھی اس شخص کو کچھ گناہ نہیں ہوتا) واقعی آپ کا رب (اس شخص کے لئے) غفور رحیم ہے (کہ ایسے وقت میں رحمت فرمائی کہ گناہ کی چیز میں سے گناہ اٹھا دیا) اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گائے اور بکری (کے اجزاء میں سے) ان دونوں کی چربیاں ان (یہود) پر ہم نے حرام کردی تھیں مگر وہ (چربی مستثنیٰ تھی) جو ان (دونوں) کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو (چربی) ہڈی سے ملی ہوئی ہو (باقی سب چربی حرام تھی، سو ان چیزوں کی تحریم فی نفسہ مقصود نہ تھی بلکہ) ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی تھی، اور ہم یقینا سچے ہیں، پھر (اس تحقیق مذکور کے بعد بھی) اگر یہ (مشرکین) آپ ﷺ کو (نعوذ باللہ اس مضمون میں صرف اس وجہ سے) کاذب کہیں (کہ ان پر عذاب نہیں آتا) تو آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے، (بعض حکمتوں سے جلدی مواخذہ نہیں فرماتا) اور (اس سے یوں نہ سمجھو کہ ہمیشہ یوں ہی بچے رہیں گے جب وہ وقت معیّن آجاوے گا پھر اس وقت) اس کا عذاب مجرم لوگوں سے (کسی طرح) نہ ٹلے گا۔
Ayahs 6:148–150

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

اب کہیں گے مشرک اگر اللہ چاہتا تو شرک نہ کرتے ہم اور نہ ہمارے باپ دادے اور نہ ہم حرام کرلیتے کوئی چیز اسی طرح جھٹلایا گئے ان سے اگلے یہاں تک کہ انہوں نے چکھا ہمارا عذاب، تو کہہ کچھ علم بھی ہے تمہارے پاس کہ اس کو ہمارے آگے ظاہر کرو تم تو نری اٹکل پر چلتے ہو اور صرف تخمینے ہی کرتے ہو

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

تو کہہ دے پس اللہ کا الزام پورا ہے سو اگر وہ چاہتا تو ہدایت کردیتا تم سب کو ،

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

تو کہہ کہ لاؤ اپنے گواہ جو گواہی دیں اس بات کی کہ اللہ نے حرام کیا ہے ان چیزوں کو، پھر اگر وہ ایسی گواہی دیں تو بھی تو اعتبار نہ کر ان کا اور نہ چل ان کی خوشی پر جنہوں نے جھٹلایا ہمارے حکموں کو اور جو یقین نہیں کرتے آخرت کا اور وہ اپنے رب کے برابر کرتے ہیں اوروں کو۔

خلاصہ تفسیر یہ مشرکین یوں کہنے کو ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو (بطور رضا کے یہ امر) منظور ہوتا (کہ ہم شرک اور تحریم نہ کریں، یعنی اللہ تعالیٰ عدم شرک و عدم تحریم کو پسند کرتے اور شرک و تحریم کو ناپسند کرتے) تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم (اور نہ ہمارے بزرگ) کسی چیز کو (جن کا ذکر اوپر آچکا ہے) حرام کہہ سکتے (اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس شرک و تحریم سے ناراض نہیں، اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ یہ استدلال اس لئے باطل ہے کہ مستلزم تکذیب رسل کو ہے، پس یہ لوگ رسول کی تکذیب کر رہے ہیں، اور جس طرح یہ کر رہے ہیں) اسی طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی (رسولوں کی) تکذیب کی تھی، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا (خواہ دنیا میں، جیسا اکثر کفار سابقین پر نزول عذاب ہوا ہے، یا مرنے کے بعد تو ظاہر ہی ہے، اور یہ اشارہ ہے اس طرف کہ ان لوگوں کے کفریات کے مقابلہ میں صرف قولی جواب اور مناظرہ پر اکتفاء نہ کیا جاوے گا، بلکہ مثل کفار سابقین عملی سزا بھی دی جاوے گی، خواہ دنیا میں بھی یا صرف آخرت میں، آگے دوسرے جواب دینے کے لئے ارشاد ہے کہ) آپ ﷺ (ان سے) کہئے کہ کیا تمہارے پاس (اس مقدمہ پر کہ صدور کی قدرت دینا مستلزم رضا ہے) کوئی دلیل ہے (اگر ہے) تو اس کو ہمارے روبرو ظاہر کرو (اصل یہ ہے کہ دلیل وغیرہ کچھ بھی نہیں) تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل سے باتیں کرتے ہو (اور دونوں جواب دے کر) آپ ﷺ (ان سے) کہئے کہ پس (دونوں جوابوں سے معلوم ہوا کہ) پوری حجت اللہ ہی کی رہی (اور تمہاری حجت باطل ہوگئی) پھر (اس کا مقتضا تو یہ تھا کہ تم سب راہ پر آجاتے مگر اس کی توفیق خدا ہی کی طرف سے ہے) اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ (راست) پر لے آتا (مگر حق تعالیٰ کی بہت سے حکمتیں ہیں، کسی کو توفیق دی کسی کو نہیں دی، البتہ اظہار حق اور اعطاء اختیار ارادہ سب کے لئے عام ہے، آگے دلیل نقلی کے مطالبہ کے لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ) آپ ﷺ (ان سے) کہئے کہ (اپنی دلیل عقلی کا حال تو تم کو معلوم ہوا اچھا اب کوئی صحیح دلیل نقلی پیش کرو مثلاً) اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس بات پر (باقاعدہ) شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان (مذکورہ) چیزوں کو حرام کردیا ہے، (باقاعدہ شہادت وہ ہے جو مبنی ہو مشایدہ پر یا ایسی دلیل قطعی پر جو افادہ یقین میں برابر ہو مشاہدہ کے، جیسا کہ (آیت) اَم کُنتُم شھداء اذ وصکم۔ اس طرف مشیر ہے) پھر اگر (اتفاق سے کسی کو فرضی جھوٹے گواہ بنا کرلے آویں اور) وہ (گواہ اس کی) گواہی (بھی) دیدیں تو (چونکہ وہ شہادت یقینا بےقاعدہ اور محض سخن سازی ہوگی، کیونکہ مشاہدہ بھی مفقود اور مشاہدہ کا مماثل بھی مفقود، اس لئے) آپ ﷺ اس شہادت کی سماعت نہ فرمائیے اور (جب ان کا مکذب ہونا جیسا کہ ولاَحَرَّمنَا اور کَذٰلِکَ کَذب الخ دال ہے، ثابت ہوگیا تو اے مخاطب) ایسے لوگوں کے باطل خیالات کا (جن کا بطلان ابھی ثابت ہوچکا) اتباع مت کرنا جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (اور اسی سبب سے نڈر ہو کر حق کی تلاش نہیں کرتے) اور وہ (استحقاق معبودیت میں) اپنے رب کے برابر دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں (یعنی شرک کرتے ہیں)۔