7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 7:1

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

ا۔ ل۔ مّ ۔ ص

Ayah 7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ ایک (عظیم الشان) کتاب ہے جو اتاری گئی ہے آپ کی طرف (اے پیغمبر ! ) پس آپ کے دل میں اس کی وجہ سے کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے (اور اتاری اس لئے گئی کہ) تاکہ آپ خبردار کریں اس کے ذریعے اور تاکہ یہ ایک عظیم الشان نصیحت ہو ایمان والوں کے لئے1

1 قرآن حکیم ایک نہایت ہی عظیم الشان کتاب ہے : یعنی " کِتَابٌ " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ اور یہ ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ ِاس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ کہ اس جیسی دوسری کوئی کتاب نہ ہوئی ہے نہ ہوگی۔ اور یہی وہ کتاب حکیم ہے جو انسان کو اس کے آغاز و انجام، مبدا و منتہا، اس کے مقصد حیات، نظام حیات، حقوق اللہ اور حقوق العباد وغیرہ وغیرہ جملہ امور سے متعلق کامل ہدایت دیتی ہے۔ اور ان اہم بنیادی امور سے متعلق کامل، مکمل اور نہایت ہی جامع، معقول اور مبنی برحکمت تعلیمات سے نوازتی ہے۔ اور یہی وہ کتاب حکیم ہے جو وحی خدا وندی کی نعمت عظمیٰ کی امین و پاسدار ہے۔ اور ایسی کہ اس کے سوا اور کوئی ماخذ وحی خداوندی کا نہ کہیں ہے نہ قیامت تک کبھی ممکن ہی ہوسکتا ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرََّفَّنَا بِہٖ وَبِالِایْمَانِ بہ والاشْتِغَالِ بِہ، اَللّٰھُمَّ فَزِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ بہرکیف قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال کتاب ہے۔ 2 قرآن حکیم پوری ایک مُنَزَّل من اللہ کتاب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کتاب اتاری گئی ہے نہ کہ لکھی گئی۔ کیونکہ نبی کتاب لکھتا نہیں بلکہ اس پر کتاب اس کے رب کی جانب سے نازل کی جاتی ہے۔ اور قرآن حکیم ہی وہ واحد کتاب ہے جو پوری کی پوری منزل من اللہ کتاب ہے۔ اس میں کسی بھی انسان کی آمیزش کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اسی لیے اس کو جابجا " تنزیل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ جس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ یہ خالصتاً نازل کردہ کتاب ہے جسکو حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدُہٗ ۔ نے اپنی مخلوق کی ہدایت و اصلاح کیلئے نازل فرمایا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہ آج تک ویسے ہی ہے جیسے کہ نازل ہوئی تھی اور قیامت تک ایسے ہی رہے گی۔ کیونکہ اس کی حفاظت اللہ نے خود اپنے ذمے لی ہے۔ سو یہ اس کی عظمت شان کے مختلف اہم پہلو ہیں ۔ والحمد للہ جل وعلا - 3 نبوت و رسالت کا شرف سب سے بڑا شرف : کیونکہ نبوت و رسالت کا شرف ہی وہ سب سے بڑا، عظیم الشان اور امتیازی شرف و وصف ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندئہ خاص کو نوازتا ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر حضرت امام الانبیائ۔ علیہ وعلیہم الصّلوۃ والسّلام ۔ کو اسی وصف سے پکارا گیا ہے۔ کہیں { یَا اَیُّہَا الرَّسُوْلُ } فرمایا گیا اور کہیں { یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ } وغیرہ۔ اسی لئے ہم اس طرح کے خطاب کے موقع پر اسی طرح کا کوئی لفظ مقدر مانتے ہیں جبکہ بعض مدعیان عشق و محبت ایسے مواقع پر کہتے ہیں " اے محبوب " اور وہ بھی بغیر کسی فاصلہ یا بریکٹ وغیرہ کے۔ گویا کہ یہ متن قرآنی میں موجود کسی لفظ کا ترجمہ ہے۔ حالانکہ پورے قرآن حکیم میں کسی ایک مقام پر بھی آنحضرت ﷺ کو " اَیُّہَا الْمَحْبُوْبُ " جیسے کسی لفظ سے خطاب نہیں فرمایا گیا۔ حالانکہ محبوب کا لفظ بھی عربی زبان کا لفظ ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان کتاب ہے جس کو پیغمبر کی طرف اتارا گیا ہے۔ سو یہ سراسر کلام خداوندی ہے۔ 4 پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی وجہ سے آپ کے دل میں کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کی تبلیغ پر لوگ تکذیب کریں گے وغیرہ (صفوۃ، محاسن وغیرہ) ۔ اور یہ کہ لوگ آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور اس کے مقابلے میں طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ } (الحجر : 97) ۔ یعنی " ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں کی بنا پر گھٹ رہا ہے جو یہ لوگ بناتے ہیں "۔ سو ایسے طبعی امور سے روکنے اور منع کرنے کا مطلب پیغمبر کو تسلی دینا اور صبر و استقامت کی تلقین کرنا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ انبیاء و رسل نے کیا جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } الآیۃ (الاحقاف : 35) ۔ سو اس ارشاد میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ منکرین و مکذبین کی طرف سے جس تکذیب و انکار اور مذاق و استہزاء کا سامنا آج آپ کو کرنا پڑ رہا ہے یہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں۔ بلکہ ایسا پہلے سے ہوتا آیا ہے اور آپ کو بھی آج وہی کچھ کہا جا رہا ہے جو اس سے پہلے دوسرے انبیاء و رسل کو کہا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا { مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلِ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ } الآیۃ (حٰم السجدہ : 43) ۔ 5 اِنزال کتاب کا اصل مقصود انذار و تذکیر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کتاب الہی کے انزال کا اصل مقصد انذار وتبشیر ہے۔ یعنی لوگوں کو خبردار کرنا ان کے انجام اور ان کے مصیر محتوم سے۔ تاکہ وہ راہ حق و صواب کو اپنا سکیں۔ اس سے پہلے کہ فرصت عمر ان کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے پیغمبر کی اصل ذمہ داری اور اس کی حدود کو واضح فرما دیا گیا کہ آپ کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اس کتاب حکیم کے ذریعے لوگوں کو ان کے انجام سے خبردار کریں اور ان کو بتادیں کہ تکذیبِ حق کے نتیجے میں ان کو آخرت میں کیا کیا نتائج بھگتنے پڑینگے۔ آگے یہ لوگ مانتے اور ایمان لاتے ہیں یا نہیں لاتے یہ آپ کی ذمہ داری نہیں۔ بس آپ ان کو تذکیر اور یاد دہانی کرا دیں کہ انہوں نے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے ؟ اور ایمان وانکار دونوں صورتوں میں اس کا صلہ وثمرہ کیا ہوگا۔ اور ان امور سے آگہی وحی خداوندی کے بغیر ممکن نہیں۔
Ayah 7:3

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

پیروری کرو تم (اے لوگو ! ) اس کتاب کی جو اتاری گئی تمہاری طرف، تمہارے رب کی جانب سے، اور مت پیچھے چلو تم لوگ اس کے سوا اور دوستوں کے، کم ہی نصیحت مانتے ہو تم لوگ2

6 نزول کتاب کا اصل تقاضا اتباع و پیروی : سو یہ ہے اصل تقاضا اس کتاب حکیم نازل فرمائے جانے کا کہ زندگی کے تمام دوائر میں صدق دل سے اس کی تعلیمات مقدسہ کی پیروی کی جائے کہ یہی راہ ہے حقیقی فوز و فلاح کی۔ نہ یہ کہ اس سے لاپرواہی برتیں اور محض زبانی کلامی عشق و محبت اور صدق و صفا کے دعوے کئے جائیں اور بس ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس کتاب حکیم کی تعلیمات مقدسہ کی اتباع و پیروی ہی وہ گوہر مقصود ہے جس میں فرد اور معاشرے سب کا بھلا ہے۔ اور جس سے انسان کو دنیاوی زندگی میں بھی امن و سکون ملتا ہے اور آخرت میں بھی سدا بہار کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ اور { اِتّبِعُوا } کا حکم و ارشاد عام اور سب کو شامل ہے۔ سو منکرین و مخالفین اس نعمت کبریٰ کی قدر کرتے ہوئے اس پر صدق دل سے ایمان لائیں اور ایمان والے صرف زبانی کلامی دعوائے ایمان پر اکتفا نہ کرلیں بلکہ اس کی تعلیمات کی اتباع و پیروی کریں۔ 7 اللہ کے سوا اوروں کی پیروی نہیں کرنا : جو تم کو اس سے دور لے جائیں اور اس کی تعلیمات کے خلاف چلائیں۔ خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔ (تفسیر القاسمی) اور خواہ وہ کیسے ہی سبز باغ کیوں نہ دکھائیں۔ بلکہ تم نے پیروی اپنے خالق ومالک کے احکام ہی کی کرنی ہے۔ (المراغی) ۔ پس جو من گھڑت اور خود ساختہ بتوں کو اپنا معبود اور کار ساز بنائے ہوئے ہیں وہ ان کو چھوڑ دیں۔ اور جنہوں نے انسانوں اور جنوں میں سے کچھ کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے وہ ان سے باز آجائیں اور صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی طرف رجوع کریں۔ اسی کو اپنا کارساز جانیں۔ اسی کو حاجت روا و مشکل سمجھ کر پکاریں اور اسی کی نازل کردہ کتاب حکیم اور فرقان حمید کی تعلیمات مقدسہ کی پیروی کریں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ سو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز گھڑنا اور ان کی پیروی کرنا قرآنی تعلیمات کے یکسر خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 7:4–5

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا، پس آگیا ان پر ہمارا عذاب راتوں رات، یا جب کہ وہ لوگ محو تھے دوپہر کے آرام میں

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

پھر کچھ نہیں تھی ان کی (دعاو) پکار جب کہ آ پپہنچا ان پر ہمارا عذاب، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ واقعی ہم لوگ بڑے ظالم تھے3

8 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے تاریخ اور گذشتہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ان کے انجام سے یہ درس لیں کہ تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان سب کو ہلاک کیا گیا ان کی سرکشی اور تکذیبِ حق کے باعث۔ پس موجودہ دور کے سرکش اور مکذبین بھی ایسے ہی انجام بد سے دو چار ہوسکتے ہیں جن سے سابقہ ادوار کے یہ لوگ ہوچکے ہیں کہ اللہ پاک کا قانون عدل و انصاف یکساں اور سب کے لئے ایک ہے۔ سو یہ تاریخ کا ایک واضح درس ہے کہ سرکشی اور تکذیبِ حق کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ہے۔ جیسا کہ ان گزشتہ قوموں سے ہوچکا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ تمرد اور سرکشی کی راہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 9 اللہ کا عذاب کبھی بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آگیا ان لوگوں پر ہمارا عذاب راتوں رات یا جب وہ دوپہر کے آرام میں محو تھے۔ یعنی ان بدبختوں پر عذاب ایسے وقت آیا جب کہ وہ اس سے بیخبر اور خواب خرگوش میں محو تھے۔ جیسا کہ آج کل بھی جگہ جگہ زلزلوں کی صورت میں ایسے وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ آج کل جبکہ راقم آثم ان سطور کی پروف ریڈنگ کررہا ہے، پڑوسی ملک ہندوستان کی ریاست گجرات میں ایسا ہولناک اور تباہ کن زلزلہ آیا کہ چند سیکنڈوں میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اور لاکھوں بےگھر ہوگئے۔ اور شہروں کے شہر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ بڑی بڑی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ سو اللہ کی گرفت و پکڑ اور اس کے عذاب سے کبھی بھی بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 7:6–7

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

پھر (قیامت کے دن) ہم نے ضرور پوچھنا ہے ان لوگوں سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے، اور ہم ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے بھی

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم خود ہی سب کچھ ان کو سنا دیں گے پورے علم کے ساتھ، اور ہم کوئی دور نہیں تھے

10 روز قیامت کی باز پرس کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا اور اس بات کی تصریح فرما دی گئی کہ قیامت کے دن ضرور پوچھ ہوگی کہ انہوں نے پیغمبروں کی تبلیغ اور دعوت حق کا کیا جواب دیا تھا۔ سو ان سے یہ سوال ان کی تقبیح و توبیخ کیلئے ہوگا جس کے بعد ان کو اس انجام کے حوالے کردیا جائے گا جسکے وہ اپنے کفر و انکار کی بناء پر مستحق ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو روز قیامت کی اس پرسش و پوچھ سے غفلت و لاپرواہی بڑے ہی ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین پر جو عذاب دنیا میں آئے انہی پر بس نہیں اور اس سے وہ اخروی عذاب سے چھوٹ نہیں جائیں گے بلکہ اصل عذاب تو آخرت ہی میں ہوگا جو کہ بہت ہی بڑا ہوگا ۔ وَلَعَذَابُ الْآخِرَۃِ اَکْبَرْ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر عذاب سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 11 قیامت کے روز رسولوں سے پرسش کا مطلب ؟ : یعنی ان سے یہ پوچھ ہوگی کہ انہوں نے پیغام حق پہنچایا کہ نہیں۔ سو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلٰوۃ والسلام ۔ سے یہ سوال انکی تعظیم و تکریم کی بناء پر ہوگا جس کے بعد ان کو ان مراتب و درجات عالیہ سے نوازا جائے گا جو حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدٗہ ۔ کی طرف سے ان کو عطاء فرمائے جائیں گے۔ (البحر، المراغی، القاسمی وغیرہ) ۔ ایسے ہی حضرات انبیائے کرام سے یہ پوچھ بھی ہوگی کہ ان کی امتوں نے ان کو کیا جواب دیا ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے { یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ ، قَالُوْ لَا عِلْمَ لَنَا، اِنَّکَ اَنْتَ علَاَّمُ الْغُیُوْبِ } (المائدہ : 109) یعنی " (وہ دن بھی یاد کرو) جب کہ اللہ سب رسولوں کو جمع کر کے ان سے پوچھے گا کہ تم کو تمہاری امتوں کی طرف سے اپنی دعوت حق کا کیا جواب دیا گیا ؟ تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں، سب کچھ آپ ہی کے علم میں ہے کہ آپ ہی ہیں سب غیبوں کو جاننے والے "۔ اس لئے ہماری امتوں نے ہم سے جو کچھ کیا اور ہماری دعوت کا جو جواب انہوں نے دیا، وہ سب آپ کے علم میں ہے۔ سو عالم غیب اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 7:8

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور وزن اس روز حق ہوگا4 پھر جن کے پلڑے بھاری ہوں گے (نیکیوں کے) تو وہی ہوں گے فلاح (عینی حقیقی کامیابی) پانے والے

12 وزن کے حق ہونے کا مطلب ؟ : یعنی وہ ضرور ہو کر رہے گا۔ اس کے نہ ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ اس روز وزن صرف حق ہی کا ہوگا باطل کا کوئی وزن سرے سے ہوگا ہی نہیں۔ سو حساب کے اس یوم عظیم میں اعمال کو تولا جائے گا۔ پھر جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا وہی لوگ کامیاب ہوں گے اور جس کے نیک اعمال کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی خسارے والے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ دونوں اہم اور بنیادی حقیقتیں واضح ہوجاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس روز وزن ضرور ہوگا تاکہ حق و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ اور دوسری حقیقت یہ واضح ہوجاتی ہے کہ وزن اس روز صرف حق ہی کا ہوگا۔ اسی لئے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ کافروں اور منکروں کے اعمال کا اس روز کوئی وزن سرے سے ہوگا ہی نہیں { فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا } (الکہف : 105) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو باطل کا نہ کوئی اعتبار ہے نہ وزن۔ وزن صرف حق کا ہوگا۔
Ayah 7:9

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن کے پلڑے ہلکے ہوئے تو وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے خود خسارے میں ڈالا ہوگا اپنے آپ کو، اس وجہ سے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے رہے تھے1

13 دولت ایمان سے محرومی سب سے بڑی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان سے محروم لوگ ہی خسارے میں ہوں گے کہ انہوں نے حق سے منہ موڑ کر اور اپنی متاع حیات کو دنیاوی مفاد اور اس کے عارضی فوائد و منافع کے حصول کے لئے ضائع کردیا اور آخرت کے لئے کچھ نہ کمایا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دین حق کی تکذیب اور اس سے اعراض و انکار وہ ہولناک خسارہ ہے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ اور یہ ایسا خسارہ ہے جسکی تلافی اور تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے۔ اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز میزان عدل میں وزن انہی اعمال کا ہوگا جو ایمان و یقین کے ساتھ خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی اور آخرت کے لئے کئے گئے ہوں گے۔ اور جو اعمال اس شان اور اس وصف سے خالی ہوں گے ان کا وہاں کوئی وزن نہیں ہوگا۔ اور ایسے لوگ سخت خسارے میں ہوں گے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العظیمِ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 7:10

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ہی نے تم کو ٹھکانا دیا زمین میں (اے لوگو) ، اور رکھ دیئے ہم نے اس میں تمہارے لئے طرح طرح کے سامان ہائے زیست2 (مگر) تم لوگ کم ہی شکر کرتے ہو

14 سامانہائے زیست ذریعہ تذکیر و شکر خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تمہارے لیے زمین کے اندر طرح طرح کے سامانہائے زیست رکھ دے مگر تم لوگ کم ہی شکر کرتے ہو۔ یعنی یہ طرح طرح کی نعمتیں اور قسما قسم کے سامانہائے زیست جن سے تم لوگ ہر ہر لمحہ اور طرح طرح سے مستفید ہوتے رہتے ہو، مگر یہ نہیں سوچتے کہ تمہیں یہ سب کچھ بخشا کس نے اور اس کا تم پر حق کیا ہے ؟ اور اس منعم حقیقی اور واہب مطلق کا حقِّ شکر کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے ؟ سو انسان اگر حق کے بخشے ہوئے ان سامانہائے زیست میں غور و فکر سے کام لے جن سے وہ دن رات اور طرح طرح سے مستفید ہوتا رہتا ہے تو یہی دنیا اس کیلئے دین بن جائے۔ اور وہ دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جھک جائے جس نے اس کو ان طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے۔ مگر غفلت کا مارا انسان اس بارے کبھی سوچتا ہی نہیں اور اس طرح وہ ان نعمتوں سے ایک حیوان کی طرح مستفید ہوتا ہے اور حق و حقیقت کی روشنی سے محروم رہتا ہے اور سخت خسارے میں پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:11

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے ہی پیدا کیا تم سب کو، پھر ہم ہی نے صورت گری کی تم سب کی، پھر ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ تم سجدہ ریز ہوجاؤ آدم کے آگے، تو وہ سب سجدے میں گرپڑے بجز ابلیس کے، کہ وہ نہ ہوا سجدہ کرنے والوں میں سے

15 آدم کے لئے سجدے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ تم سجدہ ریز ہوجاؤ آدم کے لیے۔ سو آدم کو سجدہ کرنے کا یہ حکم ایک بڑا اعزاز ہے جس سے حضرت ابو البشر کو نوازا گیا تاکہ اس طرح آدم اور اولاد آدم کی عظمت شان کا اظہار ہو سکے۔ سو اس طرح حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے تمہیں بیشمار اور عظیم الشان حسی اور معنوی نعمتوں سے نوازا، جس کا لازمی اور بدیہی تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ تم اس واہب مطلق ۔ جل وعلا ۔ کے آگے دل و جان سے جھک جاؤ اور خلافت ارضی کے جس تاج سے اس نے تم کو نوازا ہے اس پر تم اس کا حق ادا کرو۔ اور اس طرح دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہو سکو۔ سو فرشتوں کو آدم کے آگے سجدہ کرنے کے اس حکم و ارشاد میں آدم اور اولاد آدم کے لئے ایک بڑا اعزاز اور اس کی تعظیم و تکریم تھی جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ نے ان کو نوازا۔ سو اس کا تقاضا یہ ہے کہ بندے اپنے اس شرف واعزاز کا خیال رکھیں اور اس کے تقاضے میں اپنے رب کی رضا و خوشنودی کے لیے اس کے حضور جھک جائیں اور ہمیشہ جھکے ہی رہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 7:12

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

پوچھا تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا ؟ تو اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں کہ تو نے مجھے پیدا کیا آگ سے، اور اس کو پیدا کیا مٹی سے

16 شیطان کی حکم الہی کے مقابلے میں ابلیسی منطق : سو شیطان نے حکم الہی سے روگردانی و سرتابی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں اپنی ابلیسی منطق بگھارتے ہوئے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں کہ میری پیدائش آگ سے ہے اور آدم کی مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ لہٰذا میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو پھر میں اس کو سجدہ کس طرح کروں ؟ مگر اس کا یہ کہنا سراسر باطل و مردود تھا کہ اول تو آگ کا مٹی سے بہتر ہونا ہی مسلم نہیں۔ بلکہ مٹی کے اندر کئی ایسی خوبیاں اور خصوصیات ہیں جو آگ میں نہیں۔ ان کے لحاظ سے مٹی آگ سے کہیں بہتر ہے۔ پھر یہاں تو معاملہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم و ارشاد کا ہے جس کے مقابلے میں ہر قیاس باطل و مردود ہے کہ اس کے ہر حکم و ارشاد کی تعمیل و بجاآوری واجب ہے اور اسی میں بندے کی عزت اور بہتری ہے لیکن شیطان نے اپنی ابلیسی منطق کی بناء پر اس کا انکار کردیا۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی زعم و گھمنڈ کی بنا پر ابلیس راندئہ درگاہ اور ذلیل و خوار ہوا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین
Ayahs 7:13–14

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا اچھا تو اتر جا تو یہاں سے، تجھے حق نہیں کہ تو یہاں اپنی بڑائی کا گھمنڈ کرے، نکل جا کہ بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے3

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

اس نے کہا مجھے مہلت دے دے، اس دن تک کہ جب ان کو دوبارہ اٹھایا جائے گا،

17 اللہ کے حکم سے سرتابی باعث ذلت و خواری ۔ والعیاذ باللہ : سو اس گستاخی اور بدتمیزی پر ابلیس کو حکم ہوا کہ نکل جا یہاں سے کہ تو ذلیلوں میں سے ہے کہ حق تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اس سے سرتابی کرنے والا ذلیل و خوار اور خائب و خاسر ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس لعین نے تو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم سے سرتابی کی تھی لیکن اس سے وہ ہمیشہ ہمیش کیلئے ذلیل و خوار اور مردود و مطرود ہوگیا۔ سو یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے اپنی بڑائی کے گھمنڈ کا۔ جیسا کہ بعض روایات میں وارد ہوا کہ اللہ تعالیٰ متکبروں کو قیامت کے روز سب سے زیادہ حقیر صورتوں میں اٹھائے گا، اور اتنی کہ لوگ ان کو اپنے قدموں تلے روندیں گے اور یہی حال متکبروں کا اس دنیا میں ہوتا ہے کہ لوگ ان کو سب سے زیادہ حقیر سمجھتے ہیں اگرچہ وہ اپنے طور پر بڑے بنتے ہوں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلاء ہو کر خداوند قدوس کے حکم و ارشاد سے اعراض اور روگردانی برتنا بڑا ہی ہولناک جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ ایسا کرنے والا بدبخت دراصل اپنے آپ کو خداوند قدوس سے بڑا یا اس کے برابر سمجھتا ہے جو کہ کھلا ہوا کفر و شرک اور ایک بڑا ہولناک اور سنگین جرم ہے۔ کبریائی صرف خداوند قدوس کا حق اور اسی کو زیبا ہے۔ پس جو اس کے اس حق میں شریک اور حصہ دار بننا چاہتے ہیں ان پر خداوند قدوس کی طرف سے ذلت و رسوائی کی مار اور لعنت و پھٹکار پڑتی ہے، جس سے وہ ملعون و مطرود ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ صدق دل سے اس کے آگے جھک جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 7:15

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا کہ بیشک تو مہلت دئیے ہوؤں میں سے ہے،

18 شیطان کی مہلت کا بیان : سو ابلیس کی یہ مہلت قدرت کے یہاں ایک طے شدہ امر تھا۔ اسی لئے یہاں پر یہ نہیں فرمایا گیا " اَنْظَرْتُکَ " " میں نے تجھے مہلت دے دی "۔ بلکہ یہ فرمایا گیا کہ { اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنََ } " بیشک تو مہلت دیئے ہوؤں میں سے ہے "۔ یعنی یہ بات پہلے سے ہی تقدیر میں ایک طے شدہ امر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اس موقع پر یہ کہنا کہ اللہ پاک نے شیطان کی دعا کو قبول کرکے اسے مہلت دے دی، جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے صحیح نہیں۔ کیونکہ یہ مہلت اس لعین کو اس کی دعاء و طلب پر نہیں ملی بلکہ یہ قدرت کی طرف سے پہلے سے ہی ایک طے شدہ امر تھا جس کی کئی حکمتیں تھیں اور ہیں۔ بہرکیف شیطان نے اپنے ملعون و مطرود ہونے کے بعد اس پر کسی طرح کا افسوس کرنے یا معافی مانگنے کی بجائے اپنے لئے مزید مہلت مانگی تاکہ وہ کارگہ حیات میں اتر کر انسان کو راہ حق سے گمراہ کرسکے۔ تاکہ اس طرح یہ ثابت کرسکے کہ انسان اس شرف و اعزاز کا سزاوار و مستحق نہیں تھا جو اسے بخشا گیا۔ سو یہیں سے وہ موڑ شروع ہوتا ہے جہاں سے انسان کی زندگی کا رزار امتحان میں داخل ہوتی ہے۔ اور اسی امتحان سے کھرے کھوٹے کی تمیز ہوتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 7:16

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

کہا اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے، میں بھی ضرور ان کے لئے گھات میں بیٹھ جاؤں گا تیری سیدھی راہ پر،

19 شیطان کے چیلنج کا ذکر وبیان : یعنی شیطان کا یہ چیلنج کہ میں اولاد آدم کیلئے راہ حق پر گھات لگا کر بیٹھوں گا جو کہ حق و ہدایت کی سیدھی راہ ہے اور جو انسان کو دائمی اور حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح سے ہمکنار کرنے والی ہے۔ سو اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ اس لئے ابلیس نے کہا کہ میں ان کو اسی سے محروم کرنے کے لئے ان پر ہر طرف سے حملہ کروں گا تاکہ ان کو جنت کی اس راہ سے محروم کر کے دوزخ کی راہ پر ڈال دوں اور اس طرح یہ ثابت کردوں کہ آدم اور اس کی اولاد خلافت ارضی کی اہل نہیں تھی۔ اور یہ کہ میں نے جو اس کو سجدہ نہیں کیا تو ٹھیک کیا۔ بہرکیف شیطان نے حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ کے سامنے صاف اور صریح طور پر اور تاکیدی الفاظ کے ساتھ یہ چیلنج کیا کہ میں آدم کی اولاد کو گمراہ کرنے کے لئے تیری سیدھی راہ پر گھات لگا کر بیٹھونگا۔ اور صراط مستقیم سے مراد توحید کی راہ ہے جو انسان کی فطرت ہے۔ اور انسان کی فطرت اور خداوند قدوس کے درمیان براہ راست ربط ہے۔ فطرت کی راہ میں اگر غیر فطری کج پیچ نہ پیدا کردئے جائیں تو انسان توحید کے سوا اور کوئی راہ نہیں اختیار کرسکتا۔ اس لئے توحید کو قرآن مجید کے سوا دوسرے آسمانی صحیفوں میں بھی صراط مستقیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ ہمیشہ اسی راہ حق پر گامزن رکھے کہ یہی راہ صحت و سلامتی اور فوز و فلاح کی راہ ہے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 7:17–18

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر میں پوری قوت سے ان پر حملے کروں گا، ان کے آگے سے بھی، اور انکے پیچھے سے بھی، ان کی دائیں جانب سے بھی، اور انکی بائیں طرف سے بھی، اور تو ان میں سے اکثر شکر گزار نہ پائے گا،

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

فرمایا جا نکل جا تو یہاں سے ذلیل اور خوار ہو کر، (اور یاد رکھ کہ) یہ قطعی بات ہے کہ ان میں سے جو بھی کوئی تیرے کہنے پر چلا، تو میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تم سب سے1

20 شیطان کا اکثریت کو گمراہ کرنے کا دعویٰ و چیلنج : سو شیطان نے دعویٰ اور چیلنج کیا کہ تو ان کی اکثریت کو شکر گزار نہیں پائیگا۔ اور اس نے ایسا کر دکھایا کہ اولاد آدم کی اکثریت کفر و شرک کی غلاظتوں میں ملوث ہو کر شیطان کی پیرو بن گئی، جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے { وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ ، فَاتَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } (سبا :20) ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان و یقین کی قوت ہی انسان کو ابلیس کے وار سے بچا سکتی ہے اور شیطان کے اس اعلان و چیلنج کا صاف اور سیدھا مطلب یہی ہے کہ تو ان کی اکثریت کو موحد نہیں پائیگا۔ اس لئے کہ توحید کی اصل حقیقت یہی ہے کہ بندہ ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ اور اس کا فضل و احسان سمجھے اور اسی کا شکر گزار بن کر رہے۔ اور اگر وہ اس کو غیر اللہ کی طرف منسوب کر دے تو یہی شرک ہوگا۔ سو مشرک آدمی اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بن ہی نہیں سکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 7:19

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم رہو تم بھی، اور تمہاری بیوی بھی، اس جنت میں، اور کھاؤ (پیو) تم اس میں جہاں سے تم چاہو، پر قریب نہیں جانا اس (خاص) درخت کے، کہ پھر ہوجاؤ تم ظالموں میں سے2

21 اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد سے سرتابی ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت آدم اور حوا کو حق تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ فرمائی گئی کہ تم دونوں جنت کی نعمتوں میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو۔ پر فلاں خاص درخت کے قریب بھی مت پھٹکنا ورنہ تم ظالموں میں ہوجاؤ گے۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی ظلم ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑنا ظلم ہے۔ حق تعالیٰ کے حق میں بھی، اس پوری کائنات کے حق میں بھی اور خود اپنی جان کے حق میں بھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے حکم و ارشاد کی بجاآوری اور پابندی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف شیطان کو جنت سے نکالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو ہدایت فرمائی کہ تم اس جنت میں رہو اور اس کی تمام نعمتوں سے پوری آزادی کے ساتھ فائدہ اٹھاؤ لیکن فلاں خاص درخت کے قریب بھی نہ پھٹکنا کہ اس کے نتیجے میں تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے اور تم کو جنت سے محروم ہونا پڑے۔ سو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 7:20

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر ورغلانے لگا شیطان ان دونوں کو اپنے وسوسوں کے ذریعے، تاکہ وہ ظاہر کر دے ان کے سامنے ان کی ان شرم گاہوں کو جو کہ چھپائی گئی تھیں ان دونوں سے، اور کہا کہ تم کو نہیں روکا تمہارے رب نے اس درخت سے مگر اس بناء پر، کہ کہیں تم فرشتے بن جاؤ یا تم ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے،

22 ننگا کرنا شیطان کا قدیم ہتھکنڈا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر شیطان نے ان دونوں کو ورغلایا اپنے وسوسوں کے ذریعے تاکہ وہ ظاہر کر دے ان کے سامنے ان کی ان شرمگاہوں کو جن کو چھپایا گیا تھا ان دونوں سے۔ سو ننگا کرنے کا یہ حربہ شیطان کا قدیمی وہ حربہ اور معروف ہتھکنڈا ہے جس سے اس نے اس موقع پر کام لیا اور جس سے وہ ہمیشہ کام لیتا آیا ہے۔ اور آج بھی وہ لوگوں کو ننگا کرنے کے لئے نت نئے طریقے ایجاد کروا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو ننگا کرنے اور ان سے شرم و حیا کے جوہر کو چھیننے اور سلب کرنے کیلئے شیطان اور اس کی ذریت نئے نئے ہتھکنڈے اپناتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ آدم و حوا کو جو اس خاص درخت کے قریب پھٹکنے سے بھی روکا تھا تو شیطان نے اسی سے آدم پر حملہ کرنے کی راہ نکال لی اور ان کو ورغلا کر ان سے حکم عدولی کروا لی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا ۔ اور اس کے نتیجے میں آدم و حوا کو جنت سے نکلنا پڑا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 23 شیطان کا آدم اور حوا کو دھوکہ دینا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس لعین نے ان دونوں کو اس طرح ورغلایا شروع کیا کہ اس درخت کے قریب پھٹکنے سے متعلقہ یہ حکم ابتداء میں تھا جبکہ تم اس کے اہل نہیں تھے۔ اور اب جبکہ تم اس کی اہلیت رکھتے ہو تمہیں اس درخت سے کھانا منع نہیں رہا۔ اور اب جبکہ وہ وقت گزر گیا تو اب وہ ممانعت بھی باقی نہیں رہی۔ لہٰذا اب تم اس شجرئہ ممنوعہ سے کھالو تاکہ تم فرشتے بن جاؤ یا تمہیں ہمیشہ کی زندگی مل جائے اور تم ہمیشہ کیلئے جنت میں رہو جیسا کہ دوسرے مقام پر شیطان کے اس وسوسہ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا { فَوَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطَانُ قَالَ یَا اٰدَمُ ھَلْ اَدُلُّکَ عَلَی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَ مُلْکٍ لَّا یَبْلٰی } (طٓہ : 120) ۔ سو ابلیس نے بشری کمزوری کے اسی پہلو سے آدم پر حملہ کیا اور اس طرح وہ بدبخت وسوسہ اندازی کے ذریعے آدم و حوا تک پہنچ گیا اور ان کو ورغلانے میں کامیاب ہوگیا اور وہ دونوں اس کے کہنے میں آگئے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:21

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور اس نے ان دونوں سے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں،

24 ابلیس کا قسمیں کھا کھاکر آدم کو دھوکہ دینا : یعنی " قَاسَمَ " بابِ " مفاعلہ " یہاں پر تکثیر و تکرار کے لئے ہے۔ (روح، مدارک وغیرہ) ۔ جیسا کہ اس باب کے خواص میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ جب اس میں مقابلہ نہ پایا جاتا ہو تو یہ تکثیر اور مبالغہ کیلئے ہوتا ہے۔ جیسے " عاقب " وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ اسی لیے حضرت آدم نے اس لعین کی بات پر اعتبار کرلیا اور آپ اللہ کے نام کی اتنی قسمیں سن کر پگھل گئے۔ اسی لیے کہا گیا کہ مومن اللہ کے نام سے دھوکہ کھا جاتا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ جب اپنے غلاموں میں سے کسی کو نماز وغیرہ میں مشغول دیکھتے تو اس کو آزاد کردیتے۔ یہ دیکھ کر کئی غلام محض آزاد ہونے کی خاطر نماز پڑھتے تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا گیا کہ یہ لوگ تو محض دھوکہ دینے کیلئے نماز پڑھتے ہیں۔ تو آپ ؓ نے فرمایا یعنی جو کوئی ہمیں اللہ کے نام سے دھوکہ دے گا ہم دھوکہ کھانے کیلئے تیار ہیں۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اللہ تعالیٰ شیاطین کے ہر دھوکے سے ہمیشہ محفوظ رکھے خواہ وہ انسانوں میں سے ہوں یا جنوں میں سے۔
Ayah 7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

آخرکار اس نے نیچے اتار لیا ان دونوں کو دھوکے (اور فریب) سے پھر جب چکھ لیا ان دونوں نے اس درخت کو تو کھل گئے ان کے سامنے ان کے ننگیز، اور وہ چپکانے لگے اپنے اوپر جنت کے پتے،3 اور ان دونوں کو پکار کر فرمایا ان کے رب نے، کہ کیا میں نے تم کو روکا نہیں تھا اس درخت سے، اور تم سے یہ نہ کہا تھا کہ یقینی طور پر شیطان دشمن ہے تم دونوں کا کھلم کھلا،

25 اللہ کے حکم سے سرتابی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار ابلیس لعین نے اپنی دھوکہ دہی اور فریب کاری سے ان دونوں کو اتار دیاعزت و عظمت کے اس مقام سے جس پر وہ اس سے پہلے فائز تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد کی تعمیل و پابندی باعث عزت و سرفرازی ہے اور اس سے سرتابی باعث ذلت و محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ بندے کا کام ہی بندگی کرنا ہے اپنے اس خالق ومالک کی جس نے اس کو وجود بخشا اور طرح طرح کی بےحد و حساب نعمتوں سے نوازا۔ اور اس سے اعراض و روگردانی اپنی اصل ذمہ داری سے منہ موڑنا اور خود اپنے آپ کو اور اپنے مرتبہ و مقام کو بھول جانا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسَاھُمُ اَنْفُسَہُمْ }۔ سو خدا فراموشی کا نتیجہ وانجام بڑا ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ - 26 شرم و حیا ایک عظیم الشان انسانی جوہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آدم و حوا فورا اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے، اس شرم و حیاء کی بناء پر جو ان کی طبیعتوں میں پیوست تھا۔ اور جو مکارم اخلاق کی اصل و اساس اور تعمیر انسانیت کی اہم بنیاد ہے۔ اسی لئے شیطان اور شیطانی قوتیں سب سے پہلے انسان کے اسی جوہر تابدار کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتی ہیں کہ اس سے محرومی کے بعد انسان کچرے کا ایک ڈھیر بن کے رہ جاتا ہے جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے " بےحیا باش وہرچہ خواہی کن " ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ پہلی نبوت سے یہ کلام متوارث چلا آرہا ہے کہ " جب شرم و حیا ختم ہوجائے تو جو مرضی کرو "۔ بہرکیف حضرت آدم اور حوا نے جب دیکھا کہ وہ ننگے ہو کر رہ گئے ہیں تو انہیں فوراً اپنی سترپوشی کی فکر لاحق ہوگئی۔ اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑگیا وہ اسی سے اپنے جسموں کو ڈھانکنے کی کوشش میں لگ گئے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ستر کا احساس انسان کی فطرت میں پیوست ہے۔ بیحیائی اس پر دوسرے ابلیسی ذرائع سے تھوپی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس طرح کہ توحید انسان کی فطرت ہے اور شرک اس کی فطرت کے خلاف جو دوسرے مصنوعی ذرائع سے اس پر تھوپا جاتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔ 27 شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں سے ان کے رب نے پکار کر ارشاد فرمایا کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا۔ اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلم کھلا دشمن ہے۔ کہ اس نے اپنی اس عداوت و دشمنی کو چھپایا نہیں، بلکہ علی الاعلان اس کا اظہار کیا۔ پس تم اس سے بچ کر رہنا۔ تو پھر تم اس کے دھوکے میں کیوں آگئے ؟ روایات میں ہے کہ حضرت آدم نے اس کے جواب میں اللہ پاک کے حضور عرض کیا کہ مالک آپ کی عزت کی قسم میرا یہ خیال بھی نہ تھا کہ آپکی مخلوق میں کوئی ایسا بھی ہوسکتا ہے جو آپ کے نام کی جھوٹی قسم کھائے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے پکار کر ان سے فرمایا کہ جب میں نے تم کو بتادیا تھا کہ یہ تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔ پس خبردار رہنا کہ یہ ہمیں کہیں جنت سے نکلوا نہ دے تو پھر تم اس کے دھوکے میں کیسے آگئے ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا { فَقُلْنَا یَا اٰدَمُ اِنَّ ہٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَلِزَوْجِکَ فَلَا یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقٰی } (طٰہٓ: 117) ۔ اللہ تعالیٰ اس عدو مبین کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 7:23–24

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

تو اس پر ان دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب، ہم نے ظلم کرلیا خود اپنی جانوں پر، پس اگر تو نے ہمیں نہ بخشا، اور ہم پر رحم نہ فرمایا، تو یقیناً ہم ہوجائیں گے سخت خسارہ اٹھانے والوں میں سے،1

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

فرمایا اتر جاؤ، تم یہاں سے اس حال میں کہ تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا ہوگا اور سامان زیست اور ایک مدت (مقررہ) تک،

28 اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی سراسر خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ان دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر۔ پس اگر تو نے ہماری بخشش نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقینا ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے احکام کی نافرمانی سراسر خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ان دونوں نے اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور اس طرح بخشش و رحمت کی دعاء و درخواست کی، جس پر ان کے قصور کو معاف فرما دیا گیا۔ بخلاف شیطان کے کہ وہ اپنے قصور پر اڑ گیا جس سے وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہی دعا { رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنا } وہ کلمات تھے جو حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) کو قدرت کی طرف سے الہام فرمائے گئے تھے اور جن کی طرف سورة بقرہ کی آیت { فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِہٖ کَلِمَات } ٍمیں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ تمام ثقہ مفسرین کرام کا یہی کہنا ہے۔ (ملاحظہ ہو روح، مدارک، طبری، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان اور محاسن التاویل وغیرہ) ۔ پس اہل بدعت اور خاص کر ان کے بعض بڑے غالیوں کا یہ کہنا کہ اس سے مراد آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کا وسیلہ پکڑنا تھا، ایک بےسند بات اور ایسے لوگوں کی ایک خانہ ساز منطق ہے جس کا ذکر کسی بھی صحیح روایت میں موجود نہیں اور موضوع و من گھڑت روایات کا کوئی اعتبار نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت آدم و حوا (علیہ السلام) نے اپنے طرز عمل سے بتادیا کہ خطا کار بندے کیلئے صحیح طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنی خطاکاری کا اعتراف کرکے اپنے رب سے عفو و درگزر کی درخواست و دعا کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

نیز فرمایا کہ وہیں تم نے جینا ہے اور وہیں تم نے مرنا ہے، اور اسی میں سے تمہیں (قیامت کے روز) نکالا جائے گا

29 بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو مرنے کے بعد پھر اسی زمین سے اٹھایا جائے گا۔ سو بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اسی سے تم لوگوں کو نکالا جائے گا یعنی قیامت کے روز تاکہ تم زندگی بھر کے اپنے اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پا سکو۔ پس دنیا کی اس عارضی منزل کو تم کہیں اپنی حقیقی منزل اور اصل اور آخری ٹھکانہ نہ سمجھ لینا کہ یہ اساس و بنیاد ہے دائمی خسارے اور ناکامی کی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ اس کو کسب آخرت کی فرصت اور اس کا موقع سمجھتے ہوئے آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی زندگی کیلئے کمائی کرنا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس سے ان تمام مراحل کو بیان فرما دیا گیا جن سے آدم اور اولاد آدم کو گزرنا ہے۔ سو ان کو بتادیا گیا کہ ان تمام مراحل سے گزر کر تم نے بالآخر لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ سو اس وقت ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ اور حیات دنیا کے میدان مقابلہ سے تم سرخرو ہو کر لوٹے ہو یا نامراد ہو کر ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ صراط مستقیم پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے اولاد آدم، ہم نے اتارا تم پر ایسا لباس، جو چھپائے تمہارے شرم (اور پردے) کے حصول کو، اور تاکہ تمہارے لئے آرائش بھی ہو2 اور تقویٰ کا (معنوی) لباس تو سب سے بڑھ کر ہے3 یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں،

30 لباس ذریعہ زینت و عزت : سو بنی آدم کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تم لوگوں پر ایسا لباس اتارا جو چھپائے تمہارے شرم [ اور پردے ] کے حصوں کو اور تاکہ وہ تم لوگوں کے لیے آزمائش وزینت کا ذریعہ بھی ہو۔ پس نفس لباس پہننا انسان کے لئے آرائش و زیبائش ہے اور ننگا ہونا اس کے لئے معیوب اور بدزیبی۔ نہ یہ کہ کوئی خاص ماڈل یا ڈیزائن، جیسا کہ آرائش کے لفظ سے عموماً سمجھ لیا جاتا ہے۔ سو جس طرح پر پرندے کیلئے آرام و راحت اور زیب وزینت کا ذریعہ ہوتے ہیں اسی طرح لباس انسان کیلئے آرام و راحت اور عزت و احترام کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو لباس اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اس سے انسان کی ستر پوشی بھی ہوتی ہے اور اس کے حسن و وقار اور عزت و عظمت میں اضافہ بھی۔ والحمد للہ جل وعلا علی نعمہ الظاہرۃ والباطنۃ - 31 لباس تقویٰ کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری عبارت ہے خدائے پاک کے خوف اور اس کی اطاعت شعاری اور فرمانبرداری سے۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری کا یہ معنوی لباس مومن کا امتیازی اور سب سے اہم لباس ہے۔ سو قدرت نے انسان کو ظاہری اور حسی لباس کے ساتھ ساتھ تقوے کا ایک باطنی اور معنوی لباس بھی عطا فرمایا ہے جو کہ اس ظاہری لباس سے کہیں بڑھ کر اہم ہے کہ اصل میں تقوے کا یہ باطنی لباس ہی ہے جو انسان کو ظاہری لباس پر آمادہ کرتا ہے اور وہ اس کی حقیقی افادیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اور تقوے کا یہ باطنی اور معنوی لباس مومن کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں۔ اور جوں جوں تقوے کا یہ باطنی اور معنوی لباس کمزور پڑتا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی حساب سے انسان کا ظاہری اور حسی لباس بھی اترتا جائے گا اور ستر و پردہ پوشی سے عریانیت و برہنگی کی طرف بڑھتا چلا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 32 لباس تقویٰ کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری کا لباس سب سے بہتر لباس ہے۔ اور یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا یہی لباس اصل مقصود ہے کہ یہی وہ عظیم الشان لباس ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرنے والا ہے۔ اور یہی معنوی لباس دراصل اس ظاہری لباس کی پابندی کرانے والا ہے ورنہ انسان حقیقت میں برہنہ اور ننگا ہوتا ہے۔ خواہ وہ ظاہری طور پر کتنے ہی بڑے لباس کیوں نہ پہن لے۔ (معارف وغیرہ) ۔ سو تقویٰ کا یہ باطنی اور معنوی لباس ہی ہے جس کی تحریک پر اور جس کے تقاضے میں انسان ظاہری اور حسی لباس اختیار کرتا ہے۔ اور اسی سے اس کے حسن و وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ ورنہ آدمی کپڑے پہن کر بھی ننگا ہی رہتا ہے اور اس کے لباس سے اس کے وقار میں اضافہ ہونے کی بجائے اس کی رعونت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یا اس سے اس کی بداطواری ہی بڑھتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور تقوے کا یہ لباس بنتا ہے شرم و حیا و خشیت خداوندی اور احساس عبدیت و بندگی سے۔ اور ایسے لباس والا انسان ایک مقدس فرشتے کی طرف ہوتا ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ کا لباس سب سے بہتر لباس ہے۔
Ayahs 7:27–28

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے اولاد آدم (خیال رکھنا کہ) کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے، جس طرح کہ وہ نکلوا چکا ہے تمہارے ماں باپ کو جنت سے، اور وہ ان سے اتروا چکا ہے ان کے لباس، تاکہ دکھا دے ان کو ایک دوسرے کی شرمگاہیں، (اور اس لئے بھی چوکنا رہنا کہ) یقیناً وہ اور اس کا ٹولہ تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے، جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے، ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب کوئی برائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا، اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے (ان سے) کہو کہ اللہ کبھی بےحیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا تم لوگ اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو، جن کا تمہیں علم نہیں،

33 شیطان تمہارا جدی پشتی دشمن : سو بنی آدم کو خطاب کر کے اور ان کو تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار کہیں شیطان تم لوگوں کو بہکا نہ دے جس طرح کہ وہ نکلوا چکا ہے تمہارے ماں باپ کو جنت سے اور وہ ان اتروا چکا ہے ان کے لباس تاکہ وہ دکھا دے ان کو ایک دوسرے کی شرمگاہیں۔ سو جب وہ تمہارا جدی پشتی اور تمہارے بڑوں کا ایسا دشمن رہا اور اس نے تمہارے ماں باپ کے ساتھ ایسی عداوت و دشمنی کا سلوک کیا اے انسانو ! تو پھر تمہیں بھی اس سے ایسی ہی بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر عداوت و دشمنی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے کہ غیرت مند اور حلالی اولاد کی غیرت و حمیت کا مقتضیٰ یہی ہوتا ہے۔ سو شیطان تمہارا دشمن اور کھلا دشمن ہے اور تمہارا جدی پشتی دشمن ہے۔ پس تم لوگ اس کو اپنا دشمن ہی جاننا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا } ۔ (فاطر :6) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 34 شیطان کی دشمنی کا ایک خاص خطرناک پہلو : سو اس سے شیطان کی دشمنی کے ایک خاص اور انتہائی خطرناک پہلو سے آگہی بخشی گئی ہے کہ وہ اور اس کا ٹولہ تم لوگوں کو وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم اس کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا دشمن بہت خطرناک ہوتا ہے جو نظر نہ آتا ہو کہ پتہ نہیں وہ کب، کہاں سے اور کس طرح وار کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ شیطان کی شیطنت اور اسکی عداوت و دشمنی کا ایک خاص خطرناک پہلو ہے۔ اس لیے اس کا بچاؤ بھی اسی طرح مخفی ہے۔ اور وہ ہے اس خالق ومالک کی پناہ میں آنا جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے شیطان اور اس کے جتھے کی کیا دی و مکاری اور اس کی چالاکی و عیاری سے آگاہ فرما دیا گیا کہ ان کے حملوں کے راستے اور طریقے بیشمار اور ان کے ظہور کے بھیس نت نئے اور مختلف ہیں۔ نہ تم ان کے راستوں پر پہرا بٹھا سکتے ہو اور نہ ہی تم ان کے ہر بھیس کو پہچان سکتے ہو۔ شیطان کے اس لشکر میں جن بھی ہوتے ہیں اور بہت سے انسان بھی۔ یہ وہاں سے تمہارے لئے گھات لگائیں گے جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکو گے۔ یہ تمہارے لئے ایسے بہروپ بھریں گے کہ تم انہیں پہچان نہ سکو گے۔ تم ان کو اپنا دوست ناصح خیر خواہ، لیڈر، مرشد، اور نہ جانے کیا کچھ سمجھو گے لیکن وہ تمہارے دین و ایمان کی جڑ کاٹ رہے ہوں گے۔ تم گمان کرو گے کہ وہ تمہارے لئے تعمیر و ترقی کی راہیں کھول رہے ہیں لیکن وہ تم کو وہاں لے جا کر ماریں گے جہاں تمہیں پینے کو پانی بھی نہ ملے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ایسے دشمن کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 35 شیطان کی دوستی بےایمانوں کے ساتھ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔ یعنی ہمارا دستور و قانون یہی ہے کہ شیطان ایسے ہی بےایمانوں کا دوست بنتا ہے جو ایمان کے نور اور یقین کی قوت سے محروم ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو شیطان کا داؤ انہی لوگوں پر چلتا ہے اور اس کا تسلط انہی پر قائم ہوتا ہے جو ایمان کے نور اور یقین کی قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ اور اس طرح وہ کفر و شرک اور معاصی وذنوب کے اندھیروں میں ڈوب کر اپنے آپ کو اس قابل بنا دیتے ہیں کہ شیطان انکو بآسانی شکار کرسکے اور ان پر اپنا تسلط قائم کرلے کہ مکھی وہیں آتی ہے جہاں غلاظت ہوتی ہے۔ اور مردار خور جانور وہیں اکھٹے ہوتے ہیں جہاں مردار پڑا ہوتا ہے۔ سو ایمان و یقین کی قوت ہی وہ حصن حصین ہے جو انسان کو ایسے دشمن کے حملے سے بچاتی ہے ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ جَلَّ وَعَلَا ۔ اللہ ایمان و یقین کی قوت سے ہمیشہ سرفراز و مالامال رکھے اور شیاطین جن وانس کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 7:29–30

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

کہو کہ میرے رب نے تو انصاف ہی کا حکم دیا ہے، اور یہ کہ تم لوگ ٹھیک رکھو اپنا رخ ہر عبادت کے وقت، اور اسی کو پکارو، تم لوگ خالص کرتے ہوئے اس کے لئے دین کو، جیسے اس نے تم کو پہلے پیدا کیا ایسے ہی تم دوبارہ پیدا ہوؤ گے1

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

کچھ لوگ خالص کرتے ہوئے اس کے لئے دین کو، جیسے اس نے تم کو پہلے پیدا کیا ایسے ہی تم دوبارہ پیدا ہوؤ گے، کچھ لوگوں کو اس نے ہدایت بخشی اور کچھ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی، کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنا لیا، اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں2

36 عبادت کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنا رخ سیدھا رکھا کرو ہر عبادت کے وقت اور اپنے اس معبود حقیقی اور اس کی رضا ہی کو اپنی عبادت و بندگی اور اپنی تمام ترتوجہات کا مرکز بناکر۔ اس کے ساتھ کسی اور کو کسی بھی طور پر اور کسی بھی درجے میں اس کا شریک وسہیم مت ٹھہراؤ۔ نہ کسی خودساختہ بت کو اور نہ کسی فرشتہ اور نبی ولی کو۔ (المراغی وغیرہ) ۔ کہ وہ ایسے ہر شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کے سوا عبادت و بندگی اور اس کی کوئی بھی شکل اور قسم کسی بھی اور کے لئے بجا لانا جائز نہیں۔ اسی لئے سجدہ اور مسجد خدا ہی کے لئے زیبا ہے۔ اور مسجد اپنی اصل اور فطرت کے اعتبار سے خدا ہی کے لئے خاص ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْمَعَ اللّٰہِ اَحَدًا } (الجن :8) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ثابت قدم رکھے اور شرک کے ہر شر سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 37 یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جیسے اس نے تم لوگوں کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے ایسی ہی تم سب لوگ دوبارہ پیدا ہوؤ گے۔ اور جب تم سب کو پیدا بھی اسی نے کیا اور دوبارہ اٹھ کر تم سب کو حاضر بھی اسی کے حضور ہونا ہے تو پھر عبادت و بندگی کا حقدار اس کے سوا اور کوئی کس طرح ہوسکتا ہے ؟ تو جب اس کو تمہارا پہلی بار پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں تھا تو دوبارہ پیدا کرنا کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ جبکہ دوبارہ پیدا کرنا تو عام ضابطہ کے مطابق پہلی بار پیدا کرنے کے مقابلے میں زیادہ سہل اور آسان ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَہُوَ اَہْوَنُ عَلَیْہِ } الآیۃ (الروم :27) ۔ سو یہ تو عام ضابط و دستور کے مطابق اور تمہاری عقل و فہم اور تجربہ و عرف کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے یہاں تو دونوں ایک برابر ہیں کہ وہاں تو صرف حکم و ارادہ کی دیر ہوتی ہے اور بس کہ وہاں معاملہ اسباب و وسائل کا نہیں بلکہ " کُنْ فَیَکُوْنُ " کا ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو دوبارہ پیدا ہو کر تم لوگوں نے اس کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے۔ پس ہر کوئی اپنے بارے میں دیکھ اور سوچ لے کہ اس نے کل کے اس یوم حساب کیلئے کیا سامان کیا ہے۔ اور یہ شان جب اس وحدہٗ لاشریک کے سوا اور کسی کی بھی نہیں تو پھر عبادت و بندگی اور اطاعت مطلقہ کا حقدار بھی اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فوفقنا اللہم لما تحب وترضی -
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد، تم لے لیا کرو اپنی زینت ہر مسجد کے پاس اور کھاؤ، پیو، پر حد سے نہیں بڑھنا، کہ بیشک وہ (وحدہ لاشریک) پسند نہیں کرتا حد سے بڑھنے والوں کو،

38 لباس پہننے کی ہدایت و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی زینت لے لیا کرو ہر مسجد کے پاس۔ یعنی لباس پہن لیا کرو ہر عبادت کے وقت۔ خواہ وہ نماز ہو یا طواف وغیرہ کہ لباس پہننا زینت و آرائش ہے اور ننگا ہونا اس کے برعکس۔ جیسا کہ مشرکین عرب ننگے ہو کر طواف کرتے تھے۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو لباس کو زیب تن کرنا فطرت کا تقاضا اور انسان کیلئے زیب وزینت اور عزت و عظمت کا ذریعہ و سبب ہے۔ سو اس ارشاد سے اس رہبانی اور جوگیانہ تصور کی جڑ کاٹ دی گئی جس کے مطابق عریانیت اور ننگے پن کو تقرب الٰہی اور وصول الیٰ اللہ کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا اور سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح کہ جو گی اور راہب لوگوں نے کیا اور کرتے ہیں۔ اور ہندوستان میں جین مت کے لوگ آج بھی سر تا پا ننگے رہتے ہیں۔ اور اسی مرض کی بناء پر بہت سے جاہل مسلمانوں کے اندر " ننگا پیر " کا نام ایسے ننگ دھڑنگ ملنگوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور ان کو پیری اور بزرگی کے خاص مرتبہ و مقام پر فائز سمجھا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اسلام کی نظر میں ایسی عریانیت بےحیائی ہے جو کہ حرام ہے۔ اسی لئے یہاں پر صاف اور صریح طور پر زینت کو اپنانے کا حکم دیا گیا۔ اور دین حنیف کی نظر میں ولایت و بزرگی کا معیار اور اس کا صحیح تصور وہی ہے جو نبی معصوم ۔ (علیہ السلام) ۔ کے اسوئہ حسنہ اور آپ کے صحابہ کرام اور ان کے پیروکاروں کے اسوہ اور طریقہ سے ثابت ہے اور بس۔ اس کے خلاف ہر تصور باطل و مردود ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور پیغمبر کے اسوئہ حسنہ کے مطابق بزرگی کی بنیاد ایمان و اخلاص اور تقویٰ و طہارت ہے اور بس۔