7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 7:1

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

ا۔ ل۔ م۔ ص

1 یہ سورة انعام سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی البتہ اس میں آٹھ آیات (آیت) ( وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ 163۔ ) 7 ۔ الاعراف :163) سے لے کر ( وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّـةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۚ 171؀ ) 7 ۔ الاعراف :171) تک مدنی ہیں اور اس سورة کا نام اعراف اس لیے ہے کہ اس میں جنت اور دوزخ کے درمیانی مقام اعراف اور اصحاب اعراف کا ذکر آیا ہے۔
Ayah 7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ کتاب 2 آپ کی طرف نازل کی گئی ہے۔ اس (کی تبلیغ) سے آپ کے دل میں گھٹن 3 نہ ہونی چاہیئے۔ (کتاب اتارنے سے غرض یہ ہے) کہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں اور یہ مومنوں کے لئے یاد دہانی کا کام دے۔

2 یہاں کتاب سے مراد یہی سورة اعراف ہے اور قرآن میں جب کبھی سورة کے ابتداء میں کتاب کا لفظ آتا ہے تو اس کا معنی وہ سورت ہی ہوتا ہے گویا قرآن کریم کی ہر سورة ایک مستقل کتاب ہے جو اپنی ذات میں مکمل ہے اور قرآن ایسی ہی ایک سو چودہ کتابوں (یا سورتوں) کا مجموعہ ہے جیسا کہ سورة البینہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ( رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ۝ ۙ ) 98 ۔ البینة :2) پھر لفظ کتاب کا اطلاق پورے قرآن پر بھی ہوتا ہے۔ 3 جب کبھی کوئی سورة نازل ہوتی اور آپ لوگوں کو سناتے تو کافروں کی طرف سے ردّعمل یہ ہوتا کہ کبھی صاف انکار کردیتے کبھی مذاق اڑاتے، کبھی اعتراضات شروع کردیتے، کبھی کسی حسی معجزہ کا مطالبہ شروع کردیتے۔ غرض یہ کہ ان کی طرف سے حوصلہ شکنی اور دل شکنی کی تمام صورتیں واقع ہوجاتیں مگر حوصلہ افزائی کی کوئی صورت نہ ہوتی اسی وجہ سے بعض دفعہ آپ کی طبیعت میں سخت انقباض اور گھٹن پیدا ہوجاتی اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں آپ قرآن لوگوں تک صرف پہنچا دیں اور انہیں ڈرائیں کفار سے جو ردعمل ہو رہا ہے یا وہ ہدایت قبول نہیں کرتے تو اس کے لیے آپ پریشان نہ ہوں اللہ خود ان سے نمٹ لے گا البتہ اس قرآن کے سنانے کا ایک فائدہ تو یقینی ہے جو یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے لیے یہ نصیحت بھی ہے اور یاد دہانی بھی جو ان کے ایمان کو مزید پختہ اور مضبوط بنا دے گی۔ اور یاد دہانی سے مراد عہد (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172؀ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) کی یاددہانی ہے جو ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے اور کسی بھی خارجی داعیے سے اس کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ یہ قرآن اسی دبے ہوئے شعور کو بیدار کرتا اور اس عہد کی یاد تازہ کرتا ہے۔
Ayahs 7:3–4

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

(لوگو) جو کچھ تمہاری طرف تمہارے پروردگار سے نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ اس کے علاوہ 4 دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔ تھوڑے ہی تم نصیحت مانتے ہو

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا۔ ہمارا عذاب ان پر رات کے وقت آیا یا جب وہ دوپہر کو سو رہے تھے

4 اسلام میں باہر سے کوئی نظریہ :۔ یہاں اولیاء سے مراد پیشوا اور قائدین ہیں یعنی انسانی زندگی کے لیے جو قوانین اس کتاب میں مذکور ہیں آپ صرف انہیں کا اتباع کیجئے۔ آج بھی غیرمسلم قائدین سے مسلمانوں کو کسی طرح کے قواعد و احکام اسلام میں درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہی کہ وہ مسائل شرعیہ علمائے یہود سے پوچھیں، زہد اور رہبانیت کے لیے ہندی اور یونانی فلسفہ کے محتاج ہوں اپنا معاشی نظام لینن اور کارل مارکس سے حاصل کریں یا روس اور چین سے درآمد کریں۔ سیاسی نظام کے لیے امریکی جمہوریت کو اسلام کے اندر لا گھسائیں بلکہ انسانی زندگی کی ہر طرح کی ضرورت کے لیے انہیں یہ کتاب اور رسول کی سنت کافی ہے مگر آج کے مسلمان یہ بات ذرا کم ہی سوچتے ہیں۔
Ayahs 7:5–6

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

پھر جب ان پر عذاب آگیا تو اس وقت ان کی پکار یہی تھی کہ : بلاشبہ ہم 5 ہی ظالم تھے

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

جن لوگوں کی طرف ہم نے رسول بھیجے تھے ہم ان سے بھی ضرور باز پرس کریں گے اور رسولوں سے بھی ضرور پوچھیں گے

5 یعنی اللہ کی گرفت ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب انسان اللہ کی تنبیہات سے بےنیاز ہو کر غفلت کی نیند سو جاتا ہے پھر جب اللہ کی گرفت یا اس کا عذاب واقع ہوجاتا ہے تو اس وقت یہ اعتراف کرنے لگتا ہے کہ یہ ہمارا ہی قصور تھا جو ہم غفلت میں پڑے رہے مگر وقت گزرنے کے بعد ایسا اعتراف کوئی فائدہ نہیں دیتا، بلکہ حسرت و یاس کا سبب بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرما یہ رہے ہیں کہ تمہارے سامنے بیسیوں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پھر کیا یہ ضروری ہے کہ تم اسی وقت عبرت حاصل کرو جب تم خود عذاب میں گرفتار ہوجاؤ ؟ آخر تم گزشتہ اقوام کے انجام سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟
Ayahs 7:7–8

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم اپنے علم سے پوری حقیقت ان پر بیان کردیں گے۔ آخر ہم اس وقت غائب تو نہیں 6 تھے

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اس دن انصاف کے ساتھ اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ جن کے پلڑے بھاری نکلے وہی فلاح پائیں گے

6 انصاف کا تقاضا اور شہادت کی اہمیت :۔ یعنی کسی قوم پر ایسا عذاب آنا اس کے جرائم کی مکمل سزا نہیں ہوتی بلکہ اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی عادی مجرم کو گرفتار کرلیا جائے تاکہ آئندہ اس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں بالفاظ دیگر اس قوم کے مظالم دوسری اقوام کو بھی متاثر نہ کرنے لگیں۔ پھر ایسے مجرموں پر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں باقاعدہ مقدمہ پیش ہوگا۔ ایک فریق تو رسول ہوں گے جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے اور دوسرا فریق یہ مجرم قوم ہوگی، دونوں کی شہادتیں ہوں گی، رسول کی شہادت یہ ہوگی کہ یا اللہ میں نے اس قوم کو تیرا پیغام پہنچا دیا تھا۔ مگر چونکہ قوم کو سزا کا خوف ہوگا اس لیے اسے رسول کی شہادت کے خلاف شہادت دینے کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آئے گا پھر اللہ تعالیٰ ان پر پوری حقیقت حال واضح فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تو کسی وقت بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں تھی مگر اللہ تعالیٰ کی اس وضاحت کے باوجود ان پر فرد جرم عائد نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے ان اعضاء وجوارح کو اللہ تعالیٰ زبان عطا کریں گے جن سے اس جرم کے دوران کام لیے گئے تھے وہ ان مجرموں کے خلاف شہادت دیں گے پھر جب شہادت کے نصاب کی تکمیل ہوجائے گی تو اس وقت ان پر فرد جرم عائد ہوجائے گی اور انہیں سزا دی جائے گی جیسا کہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں یہ وضاحت موجود ہے۔ مندرجہ بالا تصریحات سے ضمناً چند باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ دنیا میں بیشمار مجرم ایسے ہیں جو ظلم و ستم کرتے رہتے ہیں مگر کسی قسم کی سزا پائے بغیر وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا تقاضا یہ ہے کہ ان مجرموں کو سزا ضرور ملنی چاہیے اور علی رؤس الشہادات ملنی چاہیے تاکہ کسی کو اس کے جرم کی سزا نہ زیادہ ملے اور نہ اس پر ظلم ہو اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو ایک دوسری زندگی ملے جس میں ایسے تمام تر مقدمات کے فیصلے ہوں۔ فیصلہ کرنے کے لئے شہادت ضروری ہے :۔ اور دوسری بات یہ مستنبط ہوتی ہے کہ قاضی محض اپنے علم کی بنا پر مقدمے کا فیصلہ نہیں دے سکتا بلکہ فیصلہ اور سزا شہادتوں کی بنا پر ہی دئیے جاسکتے ہیں اور اس کی دلیل یہ واقعہ ہے کہ دور نبوی میں مدینہ میں ایک فاحشہ عورت رہتی تھی لوگوں کی اس کے ہاں آمد و رفت کی وجہ سے اس کی فحاشی کھل کر سامنے آچکی تھی اور زبان زد عام تھی اس کے متعلق ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر شہادتوں کا نصاب اور نظام نہ ہوتا تو میں اس عورت کو رجم کردیتا۔ (بخاری۔ کتاب الطلاق۔ باب لوکنت راجما بغیربیّنۃ۔۔ )
Ayah 7:9

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن کے پلڑے ہلکے 7 ہوئے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا۔ کیونکہ وہ ہماری آیتوں سے ناانصافی کیا کرتے تھے

7 اعمال کا وزن حق کے ساتھ کیسے ؟ آیت کے الفاظ یہ ہیں آیت (وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۝) 7 ۔ الاعراف :8) (یعنی اس دن وزن صرف حق یا حقیقت کا ہوگا) یعنی جتنی کسی عمل میں حقیقت ہوگی اتنا ہی وہ عمل وزنی ہوگا مثلاً ایک شخص اپنی نماز نہایت خلوص نیت سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کی رضامندی چاہتے ہوئے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتا ہے تو اس کا یہ عمل یقیناً اس شخص کی نماز سے بہت زیادہ وزنی ہوگا جس نے اپنی نماز بےدلی سے، سستی کے ساتھ اور دنیوی خیالات میں مستغرق رہ کر ادا کی اور جس عمل میں حق کا کچھ بھی حصہ نہ ہوگا اس کا وزن کیا ہی نہیں جائے گا، جیسے سورة کہف کی آیت نمبر 105 میں مذکور ہے کہ جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی آیات سے کفر کیا ہوگا ان کے لیے ہم میزان قائم ہی نہیں کریں گے۔ اور سورة فرقان کی آیت نمبر 23 میں فرمایا کہ ہم ایسے کافروں کے اعمال کی طرف پیش قدمی کریں گے تو انہیں اڑتا ہوا غبار بنادیں گے ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ میزان عدل صرف ان لوگوں کے لیے قائم کی جائے گی جو ایمان لائے تھے اور ان کے اعمال اچھے اور برے، وزنی اور کم وزن والے ملے جلے ہوں گے۔ کافروں کے لیے ایسی میزان قائم کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی اور ان الفاظ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اعمال کا حق کے ساتھ وزن کیا جائے گا یعنی فلاں شخص کے فلاں عمل میں حقیقت کتنی تھی۔ اس بات کا فیصلہ بھی نہایت انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ کتاب و سنت کی تصریحات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اعمال کی میزان (ترازو) ایسی ہی ہوگی جیسی ہمارے استعمال میں آتی ہے، اس کے دو پلڑے ہوں گے ایک میں نیکیاں رکھی جائیں گی اور دوسرے میں برائیاں۔ اس ترازو کی زبان بھی ہوگی زبان سے مراد ترازو کے اوپر کے ڈنڈے کے درمیان میں لگی ہوئی وہ سوئی ہے جو خفیف سے خفیف فرق کو بھی ظاہر کردیتی ہے اور یہ باتیں صرف ہمارے سمجھانے کے لیے کافی سمجھی گئی ہیں باقی اس کی صحیح کیفیت کیا ہوگی ؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بعض علماء کا قول یہ ہے کہ اس دنیا میں تو اعمال اعراض کی شکل میں ہوتے ہیں لیکن اس دن اعمال کو مجسم کیا جائے گا اور جس عمل میں جس قدر حق ہوگا اسے اتنا ہی بڑا جسم والا اور وزنی بنایا جائے گا پھر انہیں اس ترازو میں تولا جائے گا۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔
Ayah 7:10

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

ہم نے تمہیں زمین میں اختیار دیا 8 اور تمہارے لیے سامان زیست بنایا۔ مگر تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو

8 یعنی انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی ایک کم کردیا جائے مثلاً ہوا کا وجود ہی ختم ہوجائے یا دھوپ کبھی نہ نکلے تو اس دنیا میں اس کا جینا محال ہوجائے ان احسانات کا بدلہ تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ کے شکر گزار بندے بن جاتے مگر ایسا خیال کم ہی لوگوں کو آتا ہے۔
Ayah 7:11

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی۔9 پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ ابلیس 10 نے سجدہ نہ کیا۔

9 تخلیق آدم اور نظریہ ارتقاء :۔ اس آیت سے جو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں کے سجدہ کرنے کے حکم سے پہلے ہی انسانوں کی تخلیق ہوچکی تھی اور شکل و صورت بھی بنادی گئی تھی تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس وقت سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کی ارواح پیدا کی گئی تھیں اور ان روحوں کو وہی صورت عطا کی گئی تھی جو اس دنیا میں آنے کے بعد اس روح کے جسم کی ہوگی اور انہیں ارواح ہی سے اللہ تعالیٰ نے عہد آیت (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172؀ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) لیا تھا۔ جسم میں روح کی یا روح کے جسم میں موجود ہونے کی مثال یوں دی جاتی ہے جیسے زیتون کے درخت میں روغن زیتون یا کوئلہ میں آگ یا جلنے والی گیس۔ اور بعض دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو اپنی تمام اولاد کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے یہاں کم کی ضمیر بطور جمع مذکر مخاطب استعمال ہوئی ہے یعنی اس وقت صرف سیدنا آدم (علیہ السلام) کو بنا کر پھر اسے صورت عطا کر کے فرشتوں کو یہ حکم دیا تھا۔ اس مقام پر یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے قائل ہیں اور انسان کو اسی ارتقائی سلسلہ کی آخری کڑی قرار دیتے ہیں وہ اسی آیت سے اپنے نظریہ کے حق میں استدلال کرتے ہیں اور ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ آیت مذکورہ میں جمع کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ آدم سے پہلے بنی نوع انسان موجود تھی کیونکہ آدم کو ملائکہ کے سجدہ کا ذکر بعد میں ہوا ہے۔ نیز اسی سورة کی اگلی آیات (11 سے 25 تک) کی طرف توجہ دلاتے ہیں جہاں کہیں تو آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کے لیے تثنیہ کا صیغہ آیا ہے لیکن اکثر مقامات پر جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ اس کا ایک جواب تو اوپر دیا جا چکا ہے کہ آدم کے سجدہ کرنے سے پیشتر ارواح کی تخلیق کی گئی۔ انہیں صورتیں دی گئیں اور انہی سے وعدہ الست لیا گیا تھا اور یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے اور ان حضرات کے لیے دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر وہ سورة اعراف کی ان آیات کے ساتھ سورة بقرہ کی آیات نمبر 30 تا 36 دوبارہ ملاحظہ فرما لیں تو اس تثنیہ کے صیغہ کی حقیقت از خود معلوم ہوجائے گی۔ نیز اس مقام پر ابتداء میں دور نبوی کے تمام موجود انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل شدہ وحی کی اتباع کرو۔ پھر آگے چل کر آدم (علیہ السلام) ، آپ کی بیوی اور ابلیس وغیرہ کا قصہ مذکور ہے، تو قرآن میں حسب موقع و محل صیغوں کا استعمال ہوا ہے ان آیات کے مخاطب آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہے نہ کہ آدم (علیہ السلام) اور اس کی بیوی کے آباؤ اجداد یا بھائی بند۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد اللہ نے فرشتوں سے اسے سجدہ کروایا پھر اس سے حوا (علیہا السلام) کو پیدا کیا پھر انہیں جنت میں آباد کیا۔ اگر آدم سلسلہ ارتقاء کے نتیجہ میں پیدا ہوئے تھے تو اس وقت ان کے آباؤ اجداد یا بھائی بند کہاں تھے ؟ اب چونکہ اس مسئلہ ارتقاء کے قائلین کی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دوسرے قرآنی دلائل کا بھی جائزہ لے لیا جائے تاکہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے۔ دوسری دلیل اور اس کا جواب : ان حضرات کی دوسری دلیل سورة نساء کی پہلی آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ لوگو ! اپنے اس پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثیر مرد اور عورتیں (پیدا کر کے روئے زمین پر) پھیلائے۔ (4 : 1) یہ آیت اپنے مطلب میں صاف ہے کہ نفس واحدہ سے مراد آدم (علیہ السلام) اور ان کے زوج سے مراد ان کی بیوی حوا (علیہا السلام) ہے مگر ہمارے یہ دوست نفس واحدہ سے مراد پہلا جرثومہ حیات لیتے ہیں جو سمندر کے کنارے کائی سے پیدا ہوا تھا۔ اس جرثومہ حیات کے متعلق نظریہ یہ ہے کہ وہ کٹ کردو ٹکڑے ہوگیا پھر ان میں سے ہر ایک ٹکڑا بڑا ہو کر پھر کٹ کردو دو ٹکڑے ہوتا گیا اس طرح زندگی میں وسعت پیدا ہوتی گئی جو جمادات سے نباتات، نباتات سے حیوانات اور حیوانات سے انسان تک پہنچی ہے۔ یہ دلیل اس لحاظ سے غلط ہے کہ آیت (خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً ۝) 4 ۔ النسآء :1) کے الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ اس جوڑے سے آئندہ نسل توالد و تناسل کے ذریعہ سے چلی تھی جبکہ جرثومہ حیات کی صورت یہ نہیں ہوتی آج بھی جراثیم کی پیدائش و افزائش اسی طرح ہوتی ہے کہ ایک جرثومہ کٹ کردو حصے بن جاتا ہے اسی طرح افزائش تو ہوتی چلی جاتی ہے مگر ان میں توالد و تناسل کا سلسلہ نہیں ہوتا لہذا وہ ایک جرثومہ کے دو ٹکڑے تو کہلا سکتے ہیں زوج نہیں کہلا سکتے۔ تیسری دلیل اور اس کا جواب : ان حضرات کی تیسری دلیل سورة علق کی دوسری آیت ہے کہ اللہ نے انسان کو علق سے پیدا کیا (96 : 4) علق کے لغوی معنی جما ہوا خون یا خون کی پھٹکی بھی ہے اور جونک بھی۔ ہمارے یہ دوست اس سے دوسرے معنی مراد لیتے ہیں اور اسے رحم مادر کی کیفیت قرار نہیں دیتے بلکہ اس سے ارتقائی زندگی کے سفر کا وہ دور مراد لیتے ہیں جب جونک کی قسم کے جانور وجود میں آئے تھے اور کہتے ہیں کہ انسان بھی جانداروں کی ارتقائی شکل ہے۔ اس اشکال کو کہ آیا یہ رحم مادر کا قصہ ہے یا ارتقائی زندگی کے سفر کی داستان ہے سورة مومنوں کی آیت 14 دور کردیتی ہے جو یہ ہے۔ پھر ہم نے نطفہ سے علقۃ (لوتھڑا، جما ہوا خون، خون کی پھٹکی) بنایا پھر لوتھڑے سے بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اس انسان کو نئی صورت میں بنادیا تو اللہ سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے۔ (23 : 14) انسان کی پیدائش کے یہ تدریجی مراحل صاف بتلا رہے ہیں کہ یہ رحم مادر میں ہونے والے تغیرات ہیں کیونکہ ارتقائے زندگی کے مراحل ان پر منطبق نہیں ہوتے۔ نیز یہ بھی کہ قرآن کریم نے علق سے مراد جما ہوا خون ہی لیا ہے۔ اس سے ارتقائی مراحل کی جونک مراد نہیں۔ اب ہم اپنی طرف سے نظریہ ارتقاء کے ابطال پر چند دلائل پیش کرتے ہیں :۔ پہلی دلیل مراحل تخلیق : قرآن نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے جو سات مراحل بیان فرمائے ہیں وہ درج ذیل ہیں :۔ (1) تراب بمعنی خشک مٹی (40 : 17) ۔ (2) ارض بمعنی عام مٹی یا زمین (71 : 17) (3) طین بمعنی گیلی مٹی یا گارا (6 : 2) ۔ (4) طین لازب (37 : 11) ۔ (5) آیت (حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 26؀ۚ ) 15 ۔ الحجر :26) بمعنی بدبودار کیچڑ (15 : 16) ۔ (6) صلصال بمعنی ٹھیکرا، حرارت سے پکائی ہوئی مٹی (15 : 16) ۔ (7) آیت (صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ 14 ۝ ۙ ) 55 ۔ الرحمن :14) یعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری (55 : 14) یہ ساتوں مراحل بس جمادات ہی میں پورے ہوجاتے ہیں۔ مٹی میں پانی کی آمیزش ضرور ہوئی لیکن بعد میں وہ بھی پوری طرح خشک کردیا گیا۔ غور فرمائیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کے جو سات مراحل بیان فرمائے ہیں وہ سب کے سب ایک ہی نوع (جمادات) سے متعلق ہیں ان میں کہیں نباتات اور حیوانات کا ذکر آیا ہے ؟ اگر انسان کی تخلیق نباتات اور حیوانات کے راستے سے ہوتی تو ان کا بھی کہیں تو ذکر ہونا چاہیے تھا۔ سیدنا آدم کی تخلیق میں دو باتیں خصوصی نوعیت رکھتی ہیں ایک یہ کہ سیدنا آدم کا پتلا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور قرآن کے الفاظ آیت (لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ 75؀) 38 ۔ ص :75) اس کا ثبوت ہیں اور دوسرے پتلا تیار ہوجانے کے بعد اس میں اللہ تعالیٰ کا اپنے روح سے پھونکنا جس کی وجہ سے انسان میں قوت ارادہ و اختیار اور قوت تمیز و عقل پیدا ہوئی جو دوسرے کسی جاندار میں نہیں ہے ہمارے یہ دوست عموماً اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے مراد دست قدرت یا قوت لے لیا کرتے ہیں مگر سوچنے کی بات تو صرف یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت اور قوت ہی سے پیدا کیا ہے پھر صرف آدم کی تخلیق سے متعلق خصوصی ذکر کی کیا ضرورت تھی کہ میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنایا۔ دوسرے انسان میں جو قوت ارادہ و اختیار ہے وہ تسلسل ارتقاء کی صورت میں کب اور کیسے پیدا ہوگئی ؟ 9 ہجری میں نجران کے عیسائی مدینہ میں آپ سے مناظرہ کرنے آئے۔ موضوع الوہیت مسیح تھا۔ ان کا طرز استدلال یہ تھا کہ جب تم مسلمان خود تسلیم کرتے ہو کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا اور یہ بھی تسلیم کرتے ہو کہ وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے تو بتاؤ کہ اگر وہ اللہ کے بیٹے نہ تھے تو ان کا باپ کون تھا ؟ اس دوران یہ آیت نازل ہوئی اللہ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم (علیہ السلام) کی سی ہے آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس سے کہا کہ ہوجا تو آدم ایک جیتا جاگتا انسان بن گیا۔ (3 : 59) یعنی عیسائیوں کو جواب یہ دیا گیا کہ اگر باپ کا نہ ہونا الوہیت کی دلیل بن سکتا ہے تو پھر آدم الوہیت کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ ان کی باپ کے علاوہ ماں بھی نہ تھی مگر انہیں تم اللہ یا اللہ کا بیٹا نہیں کہتے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کیسے اللہ یا اس کا بیٹا ہوسکتے ہیں ؟ الوہیت مسیح کی تردید میں یہ دلیل اللہ تعالیٰ نے اس لیے دی تھی کہ عیسیٰ کے بن باپ پیدا ہونے میں عیسائی اور مسلمان دونوں متفق تھے لیکن آج مسلمانوں کا ایک طبقہ تو ایسا ہے جو معجزات کا منکر ہے وہ آدم (علیہ السلام) کی بغیر ماں باپ پیدائش کو تو تسلیم کرتا ہے مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کی بن باپ پیدائش کو تسلیم نہیں کرتا۔ دوسرا فرقہ قرآنی مفکرین کا وہ ہے جو ارتقائی نظریہ کے قائل ہونے کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) کی بھی بن باپ پیدائش کے قائل نہیں۔ مندرجہ بالا آیت میں ان فرقوں کا رد موجود ہے وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے مثل قرار دیا ہے، جس کی ممکنہ صورتیں یہ ہوسکتی ہیں۔ 1۔ دونوں کی پیدائش مٹی سے ہے یہ توجیہ اس لیے غلط ہے کہ تمام بنی نوع انسان کی پیدائش مٹی سے ہوئی اس میں آدم (علیہ السلام) و عیسیٰ کی (علیہ السلام) کوئی خصوصیت نہیں۔ 2۔ دونوں کی پیدائش ماں باپ کے ذریعہ سے ہوئی یہ توجیہ بھی غلط ہے کیونکہ انسان کی پیدائش کے لیے یہ عام دستور ہے آدم (علیہ السلام) و عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس میں کوئی خصوصیت نہیں کہ اللہ صرف ان دونوں کی پیدائش کو ایک دوسرے کی مثل قرار دیتے۔ لامحالہ دونوں کی پیدائش غیر فطری طریق سے ہوئی۔ 3۔ اب تیسری صورت صرف یہ باقی رہ جاتی ہے کہ دونوں کے باپ کا نہ ہونا تسلیم کیا جائے اور یہی ان دونوں میں مثلیت کا پہلو نکل سکتا ہے جس میں دوسرے انسان شامل نہیں گویا یہ آیت بھی نظریہ ارتقاء کو باطل قرار دیتی ہے (نظریہ ارتقاء کی مزید تفصیلات کے لیے سورة حجر کی آیت نمبر 39 کا حاشیہ نمبر 19 اور اس کے علاوہ میری تصنیف عقل پرستی اور انکار معجزات ملاحظہ فرمائیے۔ 10 ابلیس کی حقیت سمجھنے کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت نمبر 34 کا حاشیہ نمبر 47)
Ayah 7:12

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : جب میں نے تجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا تو پھر کس بات نے تجھے سجدہ کرنے سے روک دیا ؟ کہنے لگا : میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے تو آگ 11 سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے

11 آگ اور مٹی کے خواص کا تقابل :۔ ابلیس کا گمان یہ تھا کہ آگ مٹی سے افضل ہے کیونکہ آگ لطیف ہوتی ہے اور مٹی کثیف۔ آگ نیچے سے اوپر کو اٹھتی ہے اور مٹی اوپر سے نیچے کو گرتی ہے آگ اپنی شکل اور رنگ بدل سکتی ہے مگر مٹی میں بغیر محنت شاقہ کے یہ صفت نہیں پائی جاتی اس ظاہری برتری کے بعد اگر نتیجہ دیکھیں تو آگ ہر چیز کو جلا کر فنا کردیتی ہے جبکہ مٹی سے نباتات یا ہر قسم کے پھل، غلے اور درخت پیدا ہوتے ہیں آگ کی طبیعت میں سرکشی ہے، مٹی کی طبیعت میں انکسار اور تواضع ہے۔ اسی آگ کی فطرت کی بنا پر ابلیس نے اللہ کی نافرمانی کی اور تکبر کی راہ اختیار کی اور راندہ درگاہ الٰہی بن گیا اور آدم (علیہ السلام) سے اللہ کی نافرمانی ہوگئی تو اس نے گناہ کی معافی مانگ لی اور اللہ کے مقرب بن گئے۔ بعض علماء نے آگ اور مٹی کا تقابل کر کے انہیں وجوہ کی بنا پر مٹی کو آگ سے افضل قرار دیا ہے۔
Ayahs 7:13–14

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نیچے اتر یہاں سے۔ تیرا حق 12 نہ تھا کہ تو یہاں تکبر کرتا۔ لہذا نکل جا تو ان لوگوں سے ہوگیا جنہیں نکو بن کر رہنا پڑتا ہے

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

ابلیس کہنے لگا : اچھا پھر مجھے روز محشر تک مہلت دے دے

12 حقیقتاً ابلیس کے تین قصور تھے ایک اللہ کے حکم کو نہ مانا، دوسرے فرشتوں کی جس جماعت میں وہ رہتا تھا سجدہ کرتے وقت وہ اس جماعت سے الگ ہوا تیسرے اس نافرمانی پر نادم ہونے کی بجائے تکبر کیا، خود کو بڑا سمجھا اور سیدنا آدم (علیہ السلام) کو حقیر سمجھا لہذا اس پر اللہ کی لعنت و پھٹکار ہوئی اور ذلیل و خوار ہوا اور یہ لعنت و پھٹکار ہمیشہ کے لیے اس کا مقدر ہوگئی۔
Ayah 7:15

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تجھے یہ مہلت 13 دے دی جاتی ہے

13 ابلیس کے عزائم :۔ شیطان چونکہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے راندہ درگاہ الٰہی ہوا تھا اس لیے وہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کا دشمن بن گیا اس نے اپنے کسی قصور کا احساس نہ کیا اور ان گناہوں کی سزا کا اصل سبب سیدنا آدم (علیہ السلام) کو قرار دیا اور قیامت تک اللہ سے مہلت بھی مانگی اور آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو بہکانے اور ورغلانے کا اختیار بھی مانگا تو اللہ نے اسے یہ اختیار دے دیا۔ اس عرصے میں سیدنا آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو بہکا کر اور گمراہ کر کے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ آدمی فی الواقع خلافت ارضی کا اہل نہیں ہے اور میں نے جو اسے سجدہ نہیں کیا تو اس معاملہ میں میں ہی راہ راست پر تھا۔
Ayahs 7:16–17

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

ابلیس نے کہا : تو نے مجھے گمراہی میں 14 مبتلا کیا ہے تو اب میں بھی تیری سیدھی راہ پر (گھات لگا کر) بیٹھوں گا

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر انسانوں کو آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے غرض ہر طرف سے گھیروں گا (اور اپنی راہ پر ڈال دوں گا) اور تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائے گا

14 ابلیس کا اللہ تعالیٰ پر الزام :۔ ابلیس نے مزید جرم یہ کیا کہ اپنی اس نافرمانی اور گمراہی کا الزام اللہ تعالیٰ پر لگا دیا اور کہا کہ تو نے مجھے ایسی مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جو مجھ سے فروتر تھی اس سے میرے نفس کی غیرت اور پندار کو ٹھیس پہنچی اور تو نے مجھے ایسی آزمائش میں ڈال دیا کہ میں تیری نافرمانی پر مجبور ہوگیا اور چونکہ میری گمراہی کا ذریعہ آدم (علیہ السلام) بنا ہے لہذا اب میں جس طرح بھی مجھ سے بن پڑا اسے اور اس کی اولاد کو ہر حیلے بہانے گمراہ کر کے چھوڑوں گا اور تجھے معلوم ہوجائے گا کہ میں آدم اور اس کی اولاد کی اکثریت کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا تھوڑے ہی بندے ایسے رہ جائیں گے جو تیرے فرمانبردار اور شکر گزار ہوں گے۔
Ayah 7:18

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہاں سے نکل جا۔ تو میری درگاہ سے ٹھکرایا ہوا اور رسوا شدہ مخلوق ہے۔ (یاد رکھ) انسانوں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا۔ تیرے سمیت 15 ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا

15 یہ سب گفتگو شیطان کے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرنے کے موقعہ پر ہوئی۔ ابلیس کی اس گستاخانہ گفتگو کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے جنت سے نکل جانے کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ جنت میں تیرے جیسے متکبر، سرکش اور نافرمان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے جو تیرے بھرے میں آجائیں گے وہ سب جہنم میں تیرے ساتھی ہوں گے۔
Ayahs 7:19–20

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم ! تو اور تیری بیوی دونوں 16 اس جنت میں رہو اور جہاں سے جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤ گے

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں، انہیں کے سامنے کھول دے اور کہنے لگا : تمہیں تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تم ہمیشہ یہاں رہنے والے نہ بن جاؤ

16 ابلیس کو تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے نکال دیا اور آدم (علیہ السلام) کے بعد اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے فرمایا کہ یہ جنت تمہارا مسکن ہے یہاں سے جو چاہو اور جتنا چاہو کھاؤ پیو البتہ اس ایک درخت کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ یہ درخت کون سا تھا ؟ اس کی صراحت نہیں کی گئی اور نہ اس کی ضرورت ہی تھی۔ اس حکم سے مقصود صرف آدم و حوا (علیہما السلام) کی آزمائش تھی کہ وہ کہاں تک اللہ کا یہ حکم بجا لاتے ہیں اور شیطان جو اپنی چھاتی پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ میں آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا کیا یہ اس کی چالوں میں آتے ہیں یا نہیں ؟
Ayah 7:21

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

پھر ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ میں فی الواقع تمہارا خیر خواہ 17 ہوں

17 شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کے طریقے :۔ ان دو آیات میں شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کے طریق کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس طریق کا آغاز شیطان کا انسان کے دل میں وسوسہ پیدا کرنے سے ہوتا ہے اور وسوسہ سے مراد ہر وہ خیال ہے جس پر عمل کرنا کسی امر الٰہی کی نافرمانی پر منتج ہوتا ہو یعنی انسان کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا پہلا حملہ اس کے خیالات پر ہوتا ہے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ شیطان انسان کی رگوں میں یوں دوڑتا ہے جیسے انسان کا خون دوڑتا ہے (بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب صفۃ ابلیس و جنودہ) (2) شیطان انسان کو کبھی کوئی برا راستہ دکھا کر گمراہ نہیں کرتا، نہ کرسکتا ہے بلکہ ہمیشہ اسے سبز باغ دکھا کر گمراہ کرتا ہے۔ مثلاً اگر یہ کام کرو گے تو تمہاری حالت موجودہ حالت سے بدرجہا بہترین ہوسکتی ہے اور فلاں کام کرنے سے تمہارے کاروبار میں خاصی ترقی ہوسکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ چناچہ سیدنا آدم و حوا (علیہما السلام) کو بھی اس نے ایسے ہی سبز باغ دکھائے کہ اگر تم اس درخت کو کھالو گے تو پھر فرشتوں کی طرح یا فرشتے بن جاؤ گے تو پھر تمہارا اس جنت سے نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ (3) ابلیس یا اس کے چیلے چانٹے سبز باغ ہی نہیں دکھاتے بلکہ طرح طرح کے دلائل اس کے دل میں ڈال کر اسے یہ یقین دہانی کرا دیتے ہیں کہ جو راہ اس نے دکھائی وہ فی الواقع اس کے لیے بہتری اور اس کی خیر خواہی کی راہ ہے اس میں اس کا اپنا کچھ مفاد نہیں اور اس یقین دہانی کے لیے اگر اسے قسمیں بھی کھانا پڑیں تو کھائے جاتا ہے۔ (4) شیطان کا سب سے پہلا ہدف انسان کے صنفی یا جنسی اعضاء ہوتے ہیں انسان کو گمراہ کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہوتی ہے کہ فحاشی کے دروازے کھول دے اور جنسی معاملات میں اسے بےراہ رو بنا دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان میں فطری طور پر جو شرم و حیا کا جذبہ رکھ دیا ہے اس جذبہ کو کمزور تر بنا دے ابلیس اور اس کے چیلوں چانٹوں کی یہ روش آج تک جوں کی توں قائم ہے ایسے لوگوں کے نزدیک تہذیب و تمدن کی ترقی کا کوئی کام شروع ہی نہیں ہوسکتا جب تک وہ عورت کو بےحیا بنا کر بازار میں نہ لا کھڑا کریں اور اختلاط مرد و زن کی ساری راہیں کھول نہ دیں۔ عورت کے گھر میں رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کو ان لوگوں نے عورت کے لیے قید خانے کا نام دے رکھا ہے اور پردے کو ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں اور یہ سب کچھ شیطان کی سکھائی ہوئی چالیں ہیں۔ اور یہ خیال کہ شیطان نے پہلے حوا (علیہا السلام) کو گمراہ کیا اور پھر حوا (علیہا السلام) کے کہنے پر سیدنا آدم (علیہ السلام) نے بھی اس درخت کا پھل کھالیا غالباً اسرائیلیات سے لیا گیا ہے کتاب و سنت میں اس کی کوئی صراحت نہیں ملتی۔ قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے دونوں سے وعدے وعید کیے اور دونوں اس کے چکمے میں آگئے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ نے اس درخت کے قریب جانے سے سیدنا آدم (علیہ السلام) و حوا کو منع کردیا تھا تو پھر وہ کیسے شیطان کے دام میں پھنس گئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مدتوں گزر چکی تھیں کہ آدم و حوا دونوں عیش و آرام سے جنت میں رہ رہے تھے اور انہیں اس درخت کے پاس آنے کا کبھی خیال ہی نہ آیا تھا۔ حتیٰ کہ اللہ کا یہ حکم انہیں بھول ہی گیا تھا اس وقت شیطان کو اس نافرمانی پر اکسانے کا موقع مل گیا۔ جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت سے واضح ہے آیت (فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا 115؀ ) 20 ۔ طه :115) پھر آدم (علیہ السلام) اللہ کا حکم بھول گئے اور ہم نے اس میں نافرمانی کا کوئی ارادہ نہ پایا۔
Ayah 7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

چناچہ ان دونوں کو دھوکا دے کر آہستہ آہستہ اپنی بات 18 پر مائل کر ہی لیا۔ پھر جب انہوں نے اس درخت کو چکھ لیا تو ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے پر ظاہر ہوگئیں اور وہ جنت کے پتے اپنی شرمگاہوں پر 19 چپکانے لگے۔ اس وقت ان کے پروردگار نے انہیں پکارا کہ : کیا میں نے تمہیں اس درخت سے روکا نہ تھا اور یہ نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ؟

18 یعنی یہ نہیں ہوا کہ ادھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا اور سبز باغ دکھائے تو فوراً سیدنا آدم وحوا (علیہا السلام) اس درخت کا پھل کھانے کو تیار ہوگئے بلکہ وہ مدتوں ان باتوں کی یقین دہانی کراتا رہا کہ اگر تم نے یہ پھل کھالیا تو تم فی الواقع انسانیت سے ترقی کر کے فرشتوں کے درجہ پر پہنچ جاؤ گے۔ اس دوران وہ قسمیں بھی کھاتا رہا تاآنکہ وہ انہیں اس نافرمانی پر اکسانے کی کوشش میں کامیاب ہوگیا۔ 19 حیا اور مقامات ستر کو ڈھانپنا انسانی فطرت میں داخل ہے :۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شرم و حیا کا جذبہ اور اپنے مقامات ستر کو ڈھانپ کر رکھنا عورت اور مرد دونوں کی فطرت کے اندر داخل ہے پھل کھانے کی وجہ سے جب سیدنا آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) کا جنتی لباس چھن گیا تو سب سے پہلی فکر جو انہیں دامن گیر ہوئی وہ یہ تھی کہ اپنے مقامات ستر کو چھپائیں اور فوری طور پر کچھ نہ ملا تو جنت کے درختوں کے پتوں ہی کو ایک دوسرے پر یا اپنے بدن پر چسپاں کر کے اپنی شرمگاہوں کو چھپا دیا۔ اس آیت سے ان محققین کے بیان کی تردید ہوجاتی ہے جو انسانی تہذیب و تمدن کی داستان لکھنے بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان ابتداء ننگا رہا کرتا تھا اور مدتوں بعد اس نے لباس تیار کیا اور بدن ڈھانپنا سیکھا اور یہ وہی محققین ہیں جو انسان کو حیوان ہی کی ترقی یافتہ شکل قرار دیتے ہیں اور چونکہ حیوان اپنے مقامات ستر نہیں ڈھانپتے اس لیے انہوں نے سمجھ لیا کہ انسان بھی ابتداء ایسا ہی تھا۔ قرآن ان سب باتوں کی پر زور تردید کرتا ہے، وہ انسان کو ایک مستقل اور الگ مخلوق کی حیثیت دیتا ہے جو آدم سے شروع ہوئی اور آدم کا پتلا اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا پھر اسے سنوارا اور بہت اچھی شکل و صورت بنائی پھر اس میں اپنی روح میں سے پھونک کر اسے باقی مخلوق سے افضل و برتر بنادیا پھر سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی لہذا وہ خالص موحد تھے جبکہ ہمارے ان محققین کا انسان ابتداء مظاہر پرست تھا وجہ یہ ہے کہ ان محققین کا سارا انحصار ظن وتخمین پر ہے۔ جب کہ وحی الٰہی ہمیں حقیقی علم عطا کرتی ہے۔
Ayah 7:23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

وہ دونوں کہنے لگے : ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف 20 نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے

20 ابلیس وآدم (علیہ السلام) کے خصائل کا فرق :۔ ان آیات سے شیطان اور آدم (علیہ السلام) کی سرشت کا فرق معلوم ہوجاتا ہے جو یہ ہے کہ (1) ابلیس نے اللہ کی نافرمانی عمداً کی جبکہ آدم (علیہ السلام) سے بھول کر ہوئی۔ (2) ابلیس سے باز پرس ہوئی تو اس نے اعتراف کرنے کی بجائے تکبر کیا اور اکڑ بیٹھا اور آدم (علیہ السلام) سے ہوئی تو انہوں نے اعتراف کیا اور اللہ کے حضور توبہ کی۔ (3) ابلیس نے اپنی نافرمانی اور گمراہی کا الزام اللہ کے ذمے لگا دیا جبکہ آدم (علیہ السلام) نے یہ اعتراف کیا کہ واقعی یہ قصور ہمارا ہی تھا۔ (4) ابلیس انہی جرائم کی وجہ سے بارگاہ الٰہی سے ہمیشہ کے لیے ملعون اور راندہ ہوا قرار دیا گیا اور آدم (علیہ السلام) اپنی غلطی کے اعتراف اور توبہ کی وجہ سے مقرب بارگاہ الٰہی بن گئے اور انہیں نبوت عطا ہوئی۔
Ayah 7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم سب (یہاں سے) نکل جاؤ تم ایک 21 دوسرے کے دشمن ہو۔ اب تمہارے لیے زمین میں جائے قرار اور ایک مدت تک سامان زیست ہے

21 ابلیس و آدم (علیہ السلام) کی ایک دوسرے سے دشمنی کی وجہ :۔ ابلیس آدم (علیہ السلام) کا اس لیے دشمن بن گیا کہ اس کی آزمائش کا جس میں وہ سخت ناکام رہا سبب آدم (علیہ السلام) بنے تھے اور آدم (علیہ السلام) اس لیے ابلیس کے دشمن بنے کہ اس نے مکر و فریب سے سبز باغ دکھا کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر آدم (علیہ السلام) کو اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کر ہی لیا چناچہ ان دونوں کو جنت سے نکال کر زمین میں لا بسایا گیا کیونکہ جنت ایسی محاذ آرائی کی جگہ نہیں ہے ایسی محاذ آرائی کے لیے زمین ہی موزوں تھی مناسب یہی تھا کہ حق و باطل کے سب معرکے زمین ہی پر واقع ہوں اس طرح اللہ کی وہ مشیت خود بخود پوری ہوگئی جس کے لیے اس نے انسان کو پیدا کیا تھا۔ یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہوجاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر اللہ کی مشیت ہی یہی تھی کہ آدم و حوا اور ان کی اولاد زمین میں آباد ہو اور شیطان ان کا دشمن بن کر آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم کو گمراہ کرتا رہے اور ان کے درمیان محاذ آرائی کا عمل جاری رہے اور اس طرح اس دنیا کو بنی آدم کے لیے دارالامتحان بنایا جائے تو پھر آخر اس قصہ آدم و ابلیس میں ابلیس کا یا آدم (علیہ السلام) کا قصور ہی کیا تھا ہونا تو وہی تھا جو اللہ کی مشیت میں تھا۔ پھر آدم و ابلیس اللہ کی نافرمانی کے مورد الزام کیوں ٹھہرائے گئے ؟ اللہ کی مشیت اور تقدیر کا مسئلہ :۔ اس طرح کے سوالات قرآن کریم میں اور بھی متعدد مقامات پر پیدا ہوتے ہیں جیسے اسی سورة میں ایک مقام پر فرمایا کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کی اکثریت کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے (7 : 179) یہاں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جنوں اور انسانوں کی اکثریت کو پیدا ہی جہنم کے لیے کیا گیا ہے تو پھر اس میں جنوں اور انسانوں کا کیا قصور ہے ؟ اسی طرح احادیث صحیحہ میں بھی یہ مضمون بکثرت وارد ہے مثلاً جب شکم مادر میں روح پھونکی جاتی ہے تو ساتھ ہی فرشتہ یہ بھی لکھ دیتا ہے کہ یہ شخص جنتی ہوگا یا جہنمی۔ اور ایسے مقامات کتاب و سنت میں بیشمار ہیں۔ جہاں انسان یہ سوچتا ہے کہ ہم تو قدرت کے ہاتھ میں محض کھلونے ہیں مشیت تو اللہ کی پوری ہوتی ہے پھر ہمیں سزا کیوں ملے گی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کو کسی چیز کے نتیجہ کے متعلق پیشگی علم ہونا یا اس کا علم غیب کسی انسان کو اس بات پر مجبور یا اس کا پابند نہیں بناتا کہ وہ وہی کچھ کرے جو اللہ کے علم یا اس کی مشیت یا تقدیر میں لکھا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ انسان اپنے پورے ارادہ و اختیار سے کرنے والا ہوتا ہے اس کا اللہ کو پہلے سے علم ہوتا ہے اس بات کو ہم یہاں ایک مثال سے سمجھائیں گے۔ ایک بادشاہ اپنی مہمات میں اکثر اپنے درباری نجومی سے مشورہ لیا کرتا تھا نجومی اسے سیاروں کی چال کے زائچے تیار کر کے امور غیب سے مطلع کردیتا نجومی کی یہ خبریں کبھی درست ثابت ہوتیں اور کبھی کوئی خبر غلط بھی ثابت ہوجاتی۔ ایک دفعہ بادشاہ اس نجومی سے خفا ہوگیا اور وہ اس نجومی کو کسی بہانے سزا دینے کے متعلق سوچنے لگا اسے یک دم ایک خیال آیا اور اس نے ایک ایسا کمرہ بنانے کا حکم دیا جس کے چاروں طرف دروازے ہوں جب ایسا کمرہ تیار ہوگیا تو اس نے اس نجومی کو بلا کر کہا : میں اس کمرے میں داخل ہونے والا ہوں تم حساب لگا کر بتاؤ کہ میں اس کمرے کے کون سی سمت والے دروازے سے باہر نکلوں گا۔ نجومی کو بھی بادشاہ کی خفگی کا علم تھا وہ سمجھتا تھا کہ یہ سوال در اصل اس کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ چناچہ اس نے کہا کہ سوال کا جواب تو میں دے دوں گا لیکن میری شرط یہ ہے کہ میں اس سوال کا جواب لکھ کر آپ کے کسی معتمد علیہ وزیر کے پاس سربمہر کر کے امانت رکھ دیتا ہوں آپ یہ جواب اس وقت دیکھیں جب آپ کمرہ سے باہر نکل آئیں۔ بادشاہ نے اس شرط کو منظور کرلیا نجومی نے سوال کا جواب لکھ کر سربمہر کر کے وزیر کے حوالے کردیا تو بادشاہ نے اپنے معمار کو بلا کر کہا کہ میں اس کمرہ میں داخل ہوتا ہوں اس کے چاروں دروازے مقفل کردینا اور مجھے چھت پھاڑ کر اور سیڑھی لگا کر اوپر سے نکال لانا۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ باہر آ کر بادشاہ نے نجومی کا جواب طلب کیا جو سب کے سامنے پڑھا گیا اس میں لکھا تھا کہ بادشاہ کسی بھی دروازے سے نہیں بلکہ چھت پھاڑ کر باہر نکلے گا بادشاہ یہ جواب سن کر دم بخود رہ گیا اور نجومی اس کے عتاب سے بچ گیا۔ اب دیکھئے کہ نجومی کی پہلے سے لکھی ہوئی تحریر نے بادشاہ کو ہرگز اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ چھت پھاڑ کر باہر نکلے بلکہ وہ اس کام میں مکمل طور پر آزاد اور بااختیار تھا بالکل یہی صورت ان مسائل کی ہے جن کا اوپر ذکر ہوا ہے انسان جو کچھ کرتا ہے مکمل طور پر اپنے ارادہ و اختیار سے کرتا ہے اسی بناء پر اسے جزا و سزا ملے گی۔ رہی پیشگی لکھنے یا مشیت یا تقدیر کی بات تو یہ چیز اسے مجبور سمجھنے پر دلیل نہیں بن سکتی بلکہ یہ بات تو اللہ کے علم کی وسعت کی دلیل ہے۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

نیز فرمایا : اسی زمین میں تم زندگی بسر کرو گے، اسی میں مرو گے 22 اور اسی سے (دوبارہ) نکالے جاؤ گے

22 شیطان سیرت اور حق پرست انسانوں کا تقابل :۔ یعنی اس زمین پر ابلیس کی اولاد میں اور آدم کی اولاد میں یہ محاذ آرائی قیامت تک جاری رہے گی جب کہ پہلی بار صور پھونکا جائے گا۔ اس محاذ آرائی یا حق و باطل کے معرکے میں شیطان کے پیروکاروں کی بالکل وہی صفات ہوں گی جن کی ابلیس نے نمائندگی کی تھی یعنی وہ حق سے انحراف کریں گے اللہ کی نافرمانی کریں گے۔ تنبیہ ہونے پر اپنے گناہوں کے اعتراف کی بجائے مزید سرکشی اختیار کریں گے پھر خود ہی سرکشی نہ کریں گے بلکہ اوروں کو مکر و فریب اور جھوٹے وعدوں سے گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے کوئی عذاب نازل ہوا تو دوسروں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے اب ان کے مقابلہ میں حق پرستوں کے اوصاف بھی وہی ہوں گے جن کی نمائندگی سیدنا آدم نے کی۔ یعنی اصل کے لحاظ سے وہ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے اگر غلطیاں ان سے ہوں گی تو کسی شیطانی انگیخت کی بنا پر نادانستہ ہوں گی انہیں اپنی اس غلطی کا جلد ہی احساس ہوجائے گا تو وہ اس غلطی کو اپنا ہی قصور تسلیم کریں گے اور اللہ کے حضور توبہ کریں گے۔
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا جو تمہاری شرمگاہوں کو ڈھانپتا ہے اور زینت بھی ہے 23 اور لباس تو تقویٰ ہی کا بہتر 24 ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ شاید لوگ کچھ سبق حاصل کریں

23 لباس کے اخلاقی اور طبعی فوائد اور لباس کا بنیادی مقصد :۔ لباس کو نازل کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو فوری طور پر الہام کیا گیا کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپیں اور ممکن ہے اس سے مراد شرم و حیا کی وہ فطری جبلت ہو جو انسان کے اندر رکھ دی گئی ہے اور اس سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے زمین پر آجانے کے بعد بارش ہوئی جس سے زمین میں سے روئی یا دوسری ریشہ دار نباتات اگ آئیں جس سے انہوں نے لباس بنا لیا ہو اور لباس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے بدن کو ڈھانپا جاسکے اور اس لباس کے اللہ تعالیٰ نے دو فائدے بتائے ایک اخلاقی دوسرا طبعی۔ اخلاقی فائدہ یہ ہے کہ اپنے مقامات ستر ڈھانپ کر بےحیائی سے بچا جاسکے اور طبعی فائدہ یہ ہے کہ لباس انسان کے لیے زینت ہے اور یہ سردی اور گرمی کے موسمی اثرات سے بھی بچاتا ہے اور اخلاقی فائدے کو اللہ تعالیٰ نے پہلے بیان فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ لباس کا بنیادی مقصد سترکو ڈھانپنا ہے۔ 24 تقویٰ کے لباس کا مفہوم :۔ تقویٰ کے لباس کا مطلب یہ ہے کہ لباس پردہ پوش یا ساتر ہو ایسا پتلا یا شفاف نہ ہو کہ پہننے کے باوجود جسم کی سلوٹیں اور مقامات ستر سب کچھ نظر آتا رہے۔ دوسرے یہ کہ لباس فاخرانہ اور متکبرانہ نہ ہو نہ دامن دراز ہو اور نہ اپنی حیثیت سے کم تر درجہ ہی کا اور گندہ ہو کیونکہ یہ سب باتیں تقویٰ کے خلاف ہیں تیسرے وہ لباس ایسا بھی نہ ہو کہ مرد عورتوں کا لباس پہن کر عورت بننے کی کوشش کرنے لگیں اور عورتیں مردوں کا سا پہن کر مرد بننے کی کوشش کرنے لگیں کیونکہ اس سے ان کی اپنی اپنی جنس کی توہین ہوتی ہے اور چوتھے یہ کہ اپنا لباس ترک کر کے کسی حاکم یا سربر آوردہ قوم کا لباس استعمال نہ کریں کیونکہ سربر آوردہ قوم کی تہذیب و تمدن اور اس کا لباس اختیار کرنے سے جہاں تمہارا قومی تشخص مجروح ہوگا وہاں یہ بات اس قوم کے مقابلہ میں تمہاری ذہنی مرعوبیت کی بھی دلیل ہوگی اور پانچویں یہ کہ مرد ریشمی لباس نہ پہنیں۔ اور بعض علماء کے نزدیک لباس سے مراد صرف ظاہری لباس ہی نہیں بلکہ اس سے مراد رنگ ڈھنگ اور پورا طرز زندگی ہے جس میں لباس بھی شامل ہے یعنی انسان کی ایک ایک عادت ایسی ہونی چاہیے جس سے تقویٰ کا رنگ ٹپکتا ہو ان کے نزدیک لباس کا لفظ مجازی معنوں میں ہے جیسے مذہبی تقدس کا پردہ میں پردہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں فتنے میں مبتلا کردے جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوا دیا تھا اور ان سے ان کے لباس اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگاہیں انہیں دکھلا دے۔25 وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا سرپرست بنادیا ہے جو ایمان نہیں لاتے

25 شیطانی حملہ اور اس سے بچاؤ کے لئے ہدایات :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چند حقائق سے آگاہ فرمایا۔ ایک یہ کہ شیطان کے مکر و فریب سے ہوشیار رہیں وہ اگر تمہارے باپ کو مکر و فریب سے اور سبز باغ دکھا کر جنت سے نکلوا سکتا ہے تو تمہارے ساتھ وہ کیا کچھ نہیں کرسکتا اور دوسرے یہ کہ شیطان کا سب سے پہلا وار یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کو فحاشی میں مبتلا کر دے بےحجابی کو عام کر دے اور تمہارے پردہ شرم و حیا کو تار تار کر دے تیسرے یہ کہ تمہارا دشمن تو تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے جبکہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے اور ظاہر ہے کہ ایسا دشمن اپنے مد مقابل (انسان) پر وار اس وقت کرے گا جب وہ غفلت میں پڑا ہو اور اس کا یہ وار شدید تر ہوگا اور چوتھے یہ کہ اس کا وار صرف ان لوگوں پر چل سکے گا جو ایمان نہیں لاتے۔ کیونکہ ایمان لانے والے اور اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے ایک ایسی ہستی کی پناہ میں آجاتے ہیں جو خود تو ان شیطانوں کو دیکھتا ہے لیکن شیطان اسے نہیں دیکھ سکتے گویا معاملہ بالکل الٹ ہوجاتا ہے اور ایسے لوگوں پر شیطان کا حملہ بہت کم کارگر ہوتا ہے اور اگر کسی وقت وہ شیطان کے بہکاوے میں آ بھی جائیں تو اللہ سے معافی مانگ کر اور اس کے دامن میں پناہ لے کر شیطانی حملے کے اثر سے پاک صاف ہوجاتے ہیں۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب وہ کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو 26 اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ ان سے کہیے کہ اللہ کبھی بےحیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ کے ذمے ایسی باتیں لگاتے ہو جو تم جانتے نہیں

26 ننگے طواف کرنا برہنگی ہر جاہلی تہذیب کا جزء ہے :۔ دور جاہلیت میں عرب لوگ ننگا ہوجانے کو کوئی معیوب فعل تصور نہیں کرتے تھے۔ بغیر پردہ یا اوٹ کے ننگے نہانا، راستے میں ہی بلا جھجک رفع حاجت کے لیے بیٹھ جانا یا محفل میں کسی کے ستر کھل جانے کو وہ عیب نہیں سمجھتے تھے اور اہل عرب ہی کا کیا ذکر ہر جاہلی معاشرہ میں یہی حالت ہوتی ہے۔ اہل عرب میں جو اس سے بھی زیادہ شرمناک فعل تھا وہ یہ تھا کہ وہ کعبہ کا طواف بھی ننگے ہو کر کرتے تھے اور انہوں نے اپنے اس فعل کو مذہبی تقدس کا درجہ دے رکھا تھا عورتیں اس شرمناک فعل میں مردوں سے بھی دو ہاتھ آگے تھیں جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں عورت برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کرتی اور کہتی جاتی کہ کوئی ہے جو مجھے عاریتاً ایک کپڑا دے تاکہ میں اس سے شرمگاہ ڈھانپ لوں۔ پھر کہتی آج یا تو کچھ شرمگاہ کھلی رہے گی یا پوری کھلی رہے گی بہرحال جتنی بھی کھلی رہے گی میں اسے کسی پر حلال نہیں کروں گی۔ آیت (خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ 31؀ ) 7 ۔ الاعراف :31) اسی بارے میں نازل ہوئی (مسلم۔ کتاب التفسیر) اور یہ بد رسم فتح مکہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے ختم کی گئی۔ 9 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور بعد میں تاکید مزید کے طور پر سیدنا علی ؓ کو بھیجا۔ چناچہ حج کے اجتماع میں جو عام اعلان کیا گیا اس کے دو اہم نکات یہ تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ میں داخل نہیں ہوسکتا اور دوسرا یہ کہ آئندہ کوئی ننگے ہو کر کعبہ کا طواف نہیں کرسکتا۔ (بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب لایطوف بالبیت عریانا ) جس کام میں بےحیائی ہو وہ اللہ کا حکم نہیں ہوسکتا :۔ مشرکین مکہ اگرچہ برہنگی کو باعث عار اور معیوب فعل نہیں سمجھتے تھے تاہم انہیں یہ اعتراف ضرور تھا کہ ایسی برہنگی اور بےحیائی کوئی اچھا کام نہیں پھر جب انہیں اس کام سے روکا جاتا تو وہ جواب یہ دیتے کہ ہمارے آباو اجداد اور بڑے بزرگ بھی کعبہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے آئے ہیں وہ بزرگ ہم سے زیادہ دیندار تھے پھر بھلا ہم کیوں نہ کریں۔ تقلید آباء کے رد میں اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ جب تمہارے سب سے بڑے باپ اور بزرگ آدم شیطان کے بہکاوے میں آگئے تھے تو پھر یہ بزرگ کیوں شیطان کے ہتھے نہیں چڑھ سکتے اور چونکہ وہ اس طواف کو متبرک اور دین ہی کا حکم سمجھتے تھے لہذا فوراً کہہ دیتے کہ یہ اللہ ہی کا حکم ہوگا جو ہمارے بزرگ برہنہ ہو کر طواف کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ تو بےحیائی کے کاموں سے روکتا ہے وہ اس کا حکم کیسے دے سکتا ہے ؟ بالفاظ دیگر جس چیز میں بےحیائی پائی جاتی ہو وہ اللہ کا حکم کبھی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

آپ کہیے کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے اور اس بات کا کہ ہر مسجد میں نماز کے وقت اپنی توجہ ٹھیک اسی کی طرف رکھو اور اس کی مکمل حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے خالصتاً اسی کو پکارو جس طرح اس نے تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر 27 پیدا کئے جاؤ گے

27 مشرکوں نے طواف کعبہ کے دوران اللہ کے ساتھ اپنے دوسرے معبودوں کو پکارنے اور ننگا طواف کرنے کی رسوم ایجاد تو خود کرلی تھیں اور ذمے اللہ کے لگا رکھی تھیں اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ اللہ نے جو حکم نہیں دیا وہ تو تم اس کے ذمے لگاتے ہو اور جو حکم دیا ہے وہ کرتے نہیں۔ اس نے حکم یہ دیا ہے کہ جو بات کرو انصاف کی کرو، خواہ مخواہ جرم کسی اور کے ذمے نہ لگاؤ اپنی زندگی عدل اور راستی پر استوار کرو جب بھی عبادت کے لیے کسی مسجد میں جاؤ تو تمہاری توجہ صرف اللہ ہی کی طرف ہونا چاہیے، خالصتاً اسی کی عبادت کرو اس میں دوسروں کو شریک نہ بناؤ اور یہ ملحوظ رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا و سزا دینے کا پورا اختیار رکھتا ہے نیز یہ کہ جس طرح تم اکیلے اکیلے دنیا میں آئے تھے بعینہٖ اسی طرح حساب و کتاب کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور اکیلے اکیلے حاضر کیے جاؤ گے وہاں تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس بھی ہوگی اور جزا و سزا بھی ملے گی۔
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک فریق کو تو اس نے ہدایت کی اور دوسرے فریق پر گمراہی واجب 28 ہوگئی۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا سرپرست بنا لیا تھا پھر وہ یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ وہی سیدھی راہ پر ہیں

28 شیطان کا برے کام کو اچھا بنا کر پیش کرنا :۔ کردار دو ہیں ایک شیطان کی راہ پر چلنے والے، دوسرے سیدنا آدم (علیہ السلام) کی راہ پر چلنے والے، واضح رہے کہ کوئی شخص یہ تسلیم کرنے پر کبھی تیار نہیں ہوتا کہ وہ شیطان کی راہ پر چل رہا ہے بلکہ وہ شیطان کا نام سن کر یا نام لے کردو چار گالیاں بھی اسے سنا دے گا۔ نہ شیطان نے انسان کو گمراہ کرتے وقت کبھی اپنا آپ بتایا ہی ہے بس اس کا کام یہ ہے کہ کسی برے طریقہ کو خوبصورت کر کے پیش کر دے اور ویسے ہی سبز باغ دکھائے جیسے ہمارے باپ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو دکھائے تھے اس میں خواہ وہ کسی دینی مصلحت کی امید دلائے یا کسی دنیوی مفاد کی، اس طرح انسان اس کے بھرے میں آجاتا ہے اور جس شخص نے اللہ کی سیدھی راہ سے ذرہ بھر بھی انحراف کیا وہ سمجھ لے کہ وہ شیطان کے فریب میں آچکا ہے کیونکہ اس راہ کے سوا باقی سب شیطانی راہیں ہیں اور چونکہ شیطان بھی کوئی اچھی بات ہی سجھاتا ہے لہذا یہ شیطان کے پیروکار بھی سمجھتے یہی ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں حالانکہ وہ سب شیطانی چالیں ہوتی ہیں۔