Ayah 6:11 دلائل توحید :۔ یہ خطاب مشرکین مکہ کو ہے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے اس کائنات کو پیدا کیا اسی نے سورج اور چاند بنائے اور رات دن پیدا کیے اور کائنات پر اسی کی حکمرانی ہے۔ سورج، چاند، ستارے سب اسی کے حکم کے تحت گردش کر رہے ہیں اور خود ہمیں بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔
خ پہلی دلیل :۔ اللہ تعالیٰ انہیں مخاطب کر کے یہ فرما رہے ہیں کہ وہ ذات جو اتنی بڑی کائنات کا نظام نہایت حسن و خوبی سے چلا رہی ہے کیا وہ تمہاری ضروریات پوری نہیں کرسکتی اور تمہاری مشکلات کو حل نہیں کرسکتی۔ جو تم لات و عزیٰ ، منات اور ہبل جیسے معبودوں کو پکارتے ہو، ان کا اس بھری کائنات میں کوئی عمل دخل ہے ؟ انسان کا حق تو یہ تھا کہ وہ اسی خالق کے آگے سجدہ ریز ہوتا، اسی سے دعائیں مانگتا جس نے اسے پیدا کیا اور زمین کو پیدا کر کے اس کی تمام ضروریات زندگی اس سے منسلک کردی ہیں۔ پھر آخر ان دیوی دیوتاؤں کی پرستش کی ضرورت تمہیں کیوں پیش آئی جو اللہ کا حق ان دیوی دیوتاؤں کو دیتے ہو اور انہیں اپنے پروردگار کا ہمسر قرار دیتے ہو ؟
Ayah 6:22 دوسری دلیل :۔ یعنی ابو البشر سیدنا آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا۔ پھر تمہاری تمام غذائی ضروریات اسی مٹی سے پوری ہو رہی ہیں۔ پھر مرنے کے بعد بھی تم اسی مٹی میں مل جاؤ گے گویا اس نے تمہیں ایک بےجان چیز سے پیدا کیا اور تمہیں زندگی بخشی پھر اسی طرح زندہ کو بےجان چیز میں مدغم کر دے گا۔ پھر کیا تمہیں اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ دوبارہ تمہیں اسی مٹی سے اٹھائے گا اور ایسی زندگی بخشنے پر وہ قادر ہے۔ لہذا اگر سوچو تو تمہیں نہ اللہ کے بارے میں شک ہونا چاہیے نہ قیامت کے بارے میں۔
اس آیت میں پہلے لفظ اجل سے مراد انسان کی موت تک کا وقت ہے جو کہ ہر انسان کے لیے قیامت صغریٰ ہے چناچہ آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی اور اجل مسمیٰ سے مراد قیامت کا دن یا قیامت کبریٰ ہے۔ جبکہ سب لوگ قبروں سے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اور اللہ کے حضور ان سے باز پرس اور ان کا محاسبہ ہوگا۔
Ayah 6:33 اللہ کا ہر جگہ موجود ہونا :۔ انسان کے اوپر آسمان، اس کے نیچے زمین اور ان کے درمیان چاند سورج تارے اور ہوائیں غرض جو کچھ بھی انسان کو نظر آتا ہے ان سب کا انتظام و انصرام اللہ اکیلے کے ہاتھ میں ہے پھر وہ تمہارے ظاہر و باطن حتیٰ کہ دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ تبھی تو وہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے بعض لوگوں کو یہ دھوکہ ہوا کہ اللہ بذات خود ہر جگہ موجود ہے اور بعض نے کہا کہ ہر شے میں موجود ہے جبکہ بہت سی دوسری آیات اور صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اللہ کی ذات ساتوں آسمانوں سے ماوراء عرش پر ہے۔ رہی اللہ کی زمین و آسمان میں اور ہر جگہ اس کی موجودگی تو وہ اس کے علم اور اس کی قدرت کے لحاظ سے اور ان صفات میں کمال کی وجہ سے ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے علم کا یہ حال ہے کہ وہ عرش پر ہوتے ہوئے بھی رتی رتی چیز کو دیکھ رہا ہے اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ ہر پکارنے والے کی پکار سن رہا ہے ماسوائے چند گمراہ فرقوں کے جمہور اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔
Ayah 6:44 یہاں آیت سے مراد قرآن کی کوئی آیت بھی ہوسکتی ہے کوئی معجزہ اور کوئی واضح دلیل بھی۔ یعنی جو کافر انکار کرنے کا ہی تہیہ کیے بیٹھے ہیں ان کے لیے نہ کوئی دلیل کارگر ہوسکتی ہے، نہ معجزہ اور نہ پند و نصیحت۔
Ayah 6:55 حق سے کیا مراد ہے ؟ حق سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور رسول اللہ کی ذات بھی۔ ان دونوں کا دعویٰ یہ تھا کہ اسلام ہی بالآخر غالب آ کے رہے گا۔ کفار مکہ بالخصوص اس بات کا مذاق اڑاتے تھے کہ یہ کمزور سی مٹھی بھر جماعت ہے جسے کھانے پینے کی چیزیں بھی میسر نہیں آتیں، وہ اگر محلوں کے خواب دیکھے تو یہ دیوانگی نہیں تو کیا ہے ؟ اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عنقریب ان لوگوں کو ایسی خبریں آنے لگیں گی۔
خ مسلمانوں کی کامیابی کی پیشین گوئی :۔ واضح رہے کہ یہ پوری سورت ماسوائے چھ آیات کے (وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ ) سے تین آیتیں اور (قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ ) سے تین آیتیں) ساری کی ساری ایک ہی رات نازل ہوئی تھی۔ اور اس کا زمانہ نزول تقریباً ہجرت سے ایک سال پہلے کا ہے جبکہ مسلمان انتہائی مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے اکثر ساتھی حبشہ کی طرف ہجرت کر کے وہاں مقیم ہوچکے تھے اور مکہ میں کفار نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی۔ اس وقت قرآن نے جو یہ پیشین گوئی فرمائی۔ جو جنگ بدر سے ہی پوری ہونا شروع ہوگئی اور جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح کی خبر عرب بھر میں پھیل گئی۔ حتیٰ کہ آپ کی زندگی ہی میں اسلام کو پورے عرب پر غلبہ حاصل ہوگیا۔
Ayah 6:66 قوموں کے عروج زوال کی وجہ :۔ جیسے قوم عاد، ثمود، قوم نوح اور آل فرعون وغیرہ بیشمار ایسی اقوام ہیں جنہیں تم سے بڑھ کر اقتدار بخشا تھا وہ تم سے طاقتور اور زور آور بھی زیادہ تھے۔ کھانے پینے کی افراط اور خوشحالی تھی۔ سرسبز باغ، کھیت اور نہریں سب کچھ موجود تھا لیکن جب انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور کفر اور نافرمانیوں میں حد سے تجاوز کر گئے تو اپنے کرتوتوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کردیا گیا۔ پھر کسی دوسری قوم کو ان کا جانشین بنادیا گیا اس طرح زمین کی آبادکاری میں کچھ بھی خلل واقع نہ ہوا اور پہلی سرکش قوم کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ گیا کیونکہ اس دنیا میں اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ ایک قوم کو آگے بڑھاتا ہے خوب آباد کرتا ہے اور مال و دولت عطا کرتا ہے۔ پھر جب اس میں ان نعمتوں کی وجہ سے غرور اور تکبر پیدا ہوجاتا ہے اور اللہ کے احکام کو پس پشت ڈالنا شروع کردیتی ہے تو اللہ اسے تباہ کر کے کسی دوسری قوم کو آگے لے آتا ہے پھر ان کے اعمال دیکھتا ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا ہے اور قیامت تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔
Ayah 6:77 کفار کے اعراضات اور ان کے جواب :۔ یہ کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ ہم تو تب ہی ایمان لائیں گے جب ہمارے سامنے محمد ﷺ پر کتاب نازل ہو اور ساتھ چار فرشتے بھی ہوں جو اس بات کی گواہی دیں کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ کافر اس قدر ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں کہ اگر ہم ان کا مطالبہ پورا کر بھی دیں، وہ کتاب کو چھو کر دیکھ بھی لیں کہ یہ محض نظر بندی کا چکر نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے تب بھی وہ یہ کہہ دیں گے کہ یہ سب کچھ جادو ہے اور تم جادوگر ہو۔
Ayah 6:88 یہ کفار کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ پر فرشتہ اپنی اصلی شکل میں کیوں نازل نہیں ہوتا۔ جسے ہم دیکھ سکیں اور ہمیں یقین آجائے۔ اور پیغمبر جو یہ کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتہ نازل ہوتا ہے وہ سچ کہتا ہے ؟ اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر فرشتہ اپنی اصلی شکل میں آتا تو یہ دہشت کے مارے فوراً مرجاتے انہیں ایمان لانے یا انکار کرنے کی مہلت ہی کہاں ملتی۔ فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں دیکھنے کے متحمل انبیاء ہی ہوسکتے ہیں۔ چناچہ آپ نے جبریل فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں دو بار دیکھا تھا۔ آپ نے بتایا کہ اس کے چھ سو پر تھے اور اس کی جسامت سے تمام افق بھر گیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ باب قول اللہ فاوحیٰ الیٰ عبدہ ما اوحیٰ ) کسی دوسرے نبی کا جبریل فرشتہ کو اپنی اصلی شکل میں دیکھنا احادیث سے ثابت نہیں۔
Ayah 6:99 پیغمبر کے فرشتہ ہونے پر اعتراضات :۔ فرشتہ نازل کرنے کی دوسری صورت یہ تھی کہ وہ انسانی شکل میں آتا۔ جیسے جبریل آپ کے پاس دحیہ کلبی کی شکل میں کبھی کبھار آتے تھے۔ یا سیدنا ابراہیم سیدنا لوط اور سیدنا داؤد کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے۔ اور اگر فرشتہ پیغمبر بن کر انسانی شکل میں آتا تو اس پر بھی وہ تمام اعتراضات وارد ہوسکتے تھے جو رسول اللہ پر وارد ہوتے رہے۔ پھر یہ ایک الگ اعتراض پیدا ہوجاتا کہ جو شخص اپنے آپ کو فرشتہ اور پیغمبر کہہ رہا ہے آیا یہ فی الواقع فرشتہ ہے بھی یا نہیں ؟ یا کوئی جادوگر انسان ہے جو ہمیں چکمہ دے رہا ہے گویا ان کا وہ اشتباہ پھر بھی بدستور باقی رہتا جو انہیں اب پڑا ہوا ہے نیز اگر کوئی رسول فرشتہ ہو تو اتمام حجت کا معاملہ ہی ختم ہوجاتا۔ ایسے رسول پر ایمان لانے والے اپنی بےعملی کے جواز کے لیے یہ معقول بہانہ پیش کرسکتے تھے کہ رسول تو فرشتہ ہے اور ہم بشر ہیں لہذا ہم اس کی پورے طور پر اتباع کیسے کرسکتے ہیں ؟ اور یہی رسول کے بشر ہونے میں سب سے بڑی حکمت ہے۔
Ayah 6:1010 ان اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہٹ دھرم کافروں کا ہمیشہ یہی وطیرہ رہا ہے پہلے رسولوں سے بھی یہی کچھ ہوتا رہا لہذا آپ ان کی پروا نہ کیجئے اور انجام کار انہیں اسی قسم کے عذاب سے ہلاک کیا گیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 6:1111 یعنی ان تباہ شدہ قوموں کے آثار کو نگاہ عبرت سے دیکھو تو حقیقت حال تم پر منکشف ہوجائے گی اور تم اسی نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان تباہ شدہ قوموں میں جو بات قدر مشترک ہے وہ اللہ کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں کی نافرمانی ہے۔
Ayahs 6:12–1312 اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس لیے دیا ہے کہ مشرکین اس سوال کا جواب دینا نہیں چاہتے تھے وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ عقیدتاً اس بات کے قائل تھے کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اب اگر وہ اس بات کا اقرار کرتے تو اس اقرار سے استدلال ان کے خلاف پڑتا تھا اور اگر انکار کرتے تو یہ بات ان کے عقیدہ کے خلاف تھی لہذا جب انہوں نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی تو اللہ نے خود ہی اس کا جواب دے دیا۔ اور یہ جواب ایسا تھا جو ان کے نزدیک بھی مسلم تھا۔
13 ویسے تو انسان کا تربیت اور پرورش پانا بھی اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک ایک قدم پر اللہ کی رحمت شامل ہو تو تب ہی وہ زندہ رہ سکتا ہے مزید برآں یہ کہ وہ مشرکوں کو شرک کرتے دیکھتا ہے۔ کافروں کو اپنی آیات کا انکار اور ہٹ دھرمی کرتے دیکھتا ہے۔ لیکن انہیں ہلاک نہیں کرتا۔ بلکہ انہیں بھی رزق دیئے جاتا ہے اور اس کی وجہ محض اس کی رحمت ہے۔ چناچہ حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری رحمت میرے غصہ پر سبقت لے گئی ہے۔ (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ وکان عرشہ علی المائ)
پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں کو ہلاک کرنے کا ذکر کیا تو ساتھ ہی اس آیت میں اپنی صفت رحمت کا ذکر اس انداز سے کیا کہ اللہ تعالیٰ کی صفت قہاریت پر صفت رحمت بہرحال اور اکثر ادوار میں غالب رہی ہے علاوہ ازیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف انداز میں سب سے پہلے اپنی ذات پر، پھر اپنی سب سے اہم صفت رحمت پر اور آخر میں آخرت کا ثبوت پیش کیا ہے۔
14 یعنی عقل اور فطرت سلیمہ دونوں سے کام لینا چھوڑ دیا ہے لہذا وہ خود ہی خسارہ میں رہنے پر تلے ہوئے ہیں۔
Ayah 6:1415 الٰہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت کسی کا محتاج نہ ہونا ہے :۔ یعنی اللہ کے حقیقی الٰہ ہونے کا ایک معیار تو یہ ہے کہ تمام کائنات کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ کائنات کی تخلیق میں چونکہ کسی بھی دوسرے الٰہ کا حصہ نہیں لہذا وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ اور دوسرا معیار یہ ہے کہ وہ سب دوسروں کو کھلاتا ہے لیکن خود کسی سے کچھ نہیں کھاتا۔ اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ جو کھانا کھاتا ہے وہ کبھی الٰہ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ کھانے کا محتاج ہے اور اللہ کھانے کا محتاج نہیں ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ دوسرے سب لوگ کھانے تک کے لیے اس کے دست نگر ہیں۔ یعنی جو محتاج ہے الٰہ نہیں ہوسکتا۔ حقیقی الٰہ وہی ہوسکتا ہے جو کسی کا دست نگر اور محتاج نہ ہو۔ اب دیکھئے مشرکوں نے جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے الٹا ان سے رزق لینے کے محتاج ہیں کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ جما ہی نہیں سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ نہ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم رہ سکتی ہے جب تک اس کے عقیدت مند اور پرستار اس کا مقبرہ تعمیر نہ کریں اور کسی دیوتا کا دربار خداوندی اس وقت تک سج ہی نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں۔ گویا یہ سب مصنوعی الٰہ بےچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ ہی کی ذات وہ ذات ہے جو اپنے بل بوتے پر قائم ہے اسے کسی کی احتیاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں اور یہی اس کے حقیقی الٰہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ لہذا اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔
Ayah 6:1516 رسول اللہ کی ذات سے اللہ کی نافرمانی ہونا ناممکنات سے ہے دراصل یہ دوسرے لوگوں کو تنبیہ و تہدید کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ اگر رسول بھی اللہ کی نافرمانی کرے تو قیامت کے دن اس سے بھی باز پرس ہوسکتی ہے پھر دوسرے لوگ اپنا انجام خود سوچ لیں۔
Ayah 6:1617 یعنی جنت میں اعلیٰ درجات تو دور کی بات ہے اگر کوئی شخص اس دن دوزخ کے عذاب سے نجات بھی پا جائے تو سمجھے کہ اس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اللہ نے اس پر اپنا خاص فضل و کرم کیا ہے۔
Ayah 6:1718 اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے کیونکہ جس انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے کہ دکھ درد کو دور کرنے والا اور فائدہ پہنچانے والا صرف اللہ ہی ہے تو وہ کسی دوسرے کو کیوں پکارے گا یا اس کی نذر و نیاز کیوں دے گا ؟ یا اس کے آگے سر تسلیم خم کیوں کرے گا ؟ کیونکہ انسان جب بھی شرک کرتا ہے تو انہی دو باتوں کی خاطر کرتا ہے ایک فائدہ کے حصول کی خاطر دوسرے دفع مضرت۔ اگر ان دونوں باتوں کا مالک و مختار اللہ کو ہی سمجھ لے گا تو اسے شرک کی ضرورت پیش آ ہی نہیں سکتی۔
Ayah 6:1819 یعنی کوئی شخص غلبہ و اقتدار کے پنجے سے نکل نہیں سکتا، نہ کہیں بھاگ کر جاسکتا ہے۔ لہذا بندوں کے لئے بہتر روش یہی ہے کہ اسکے آگے سر تسلیم خم کردیں۔ وہ بندوں کے حالات سے پوری طرح آگاہ ہے اور خوب سمجھتا ہے کہ ان کے لئے کونسی کارروائی مناسب ہوگی۔
Ayah 6:1920 اللہ کی شہادت سب سے بڑھ کر کیسے ؟ شہادت دو طرح سے ہوتی ہے ایک آنکھوں دیکھا حال کسی قاضی، جج یا حکم کے سامنے بیان کرنا جسے انگریزی میں (WITNESS) کہتے ہیں۔ دوسرے یقین کامل کی بنا پر شہادت جسے انگریزی میں (E VIDENCE) کہتے ہیں۔ ہم مسلمان اپنے یقین کامل کی بنا پر یہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہ شہادت آنکھوں دیکھی شہادت نہیں۔ نہ ہم عینی شاہد یا چشم دید گواہ ہیں کیونکہ ہم نے اللہ کو دیکھا ہے اور نہ رسول کو بلکہ ہم یہ گواہی اپنے یقین کامل یا ایمان کی بنا پر دیتے ہیں اور اللہ کی گواہی اس لحاظ سے سب سے بڑھ کر سچی ہے کہ اس میں شہادت کے دونوں پہلو پائے جاتے ہیں وہ چونکہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ اس لحاظ سے یہ آنکھوں دیکھی شہادت ہے پھر وہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق ومالک اور اس کا مربی بھی ہے لہذا اس جیسا یقین کامل بلکہ حقیقی علم کسی کو نہیں ہوسکتا۔
21 آپ کی رسالت تا قیامت اور سب کے لئے ہے :۔ کفار مکہ کے بعد جب یہود و نصاریٰ کی اکثریت نے بھی آپ کو جھٹلا دیا تو کفار کہنے لگے کہ بتاؤ اب تمہاری رسالت کی گواہی کون دیتا ہے ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اللہ میرے اور تمہارے درمیان اس بات پر گواہ ہے کہ میں فی الواقع اس کا رسول ہوں اور جو کچھ کہہ رہا ہوں اسی کے حکم سے کہہ رہا ہوں اور وہ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ یہ قرآن اسی نے مجھ پر نازل کیا ہے اور مجھے رسول بنانے اور قرآن نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو بھی آخرت کے عذاب سے بروقت متنبہ کر دوں اور اس قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو بھی ڈراؤں جن جن تک یہ آواز پہنچے۔ اس آیت سے رسول اللہ کی رسالت تمام اقوام عالم کے لیے اور قیامت تک کے لیے ثابت ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ امت مسلمہ کا یہ فرض ہے کہ قرآن کی آواز کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دے۔
22 یعنی گواہی محض قیاس اور ظن وتخمین کی بنا پر نہیں دی جاسکتی جب تک اس کے متعلق یقین کامل یا حقیقی علم نہ ہو یا اسے واضح دلائل سے ثابت نہ کیا جاسکتا ہو۔ سو ائے مشرکین مکہ ! بتاؤ تم اپنے ان معبودوں کے متعلق ایسی گواہی دے سکتے ہو ؟ اور اگر تم ایسی گواہی دے بھی دو تو کم از کم میں ایسی گواہی دینے کو تیار نہیں۔
Ayah 6:2023 اہل کتاب کا آپ کو پہچانا :۔ عرب میں یہ الفاظ بطور محاورہ بولے جاتے ہیں یعنی اگر کسی شخص کو کسی چیز کے متعلق پختہ یقین ہوتا تو کہتے کہ وہ اسے ایسے پہچانتا ہے جیسے اپنے بیٹے کو۔ یعنی جس طرح ایک باپ بچوں کے اجتماع میں اپنے بیٹے کو فوراً پہچان لیتا ہے بالکل اسی طرح اہل کتاب، اپنی کتاب میں مذکور نشانیوں کے مطابق نبی آخر الزماں کو پہچان چکے تھے کہ وہ فی الواقع وہی نبی ہے جس کی بشارات دی گئی ہیں پھر بھی اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اس کی وجوہ دوسری ہیں مثلاً قومی عصبیت، اپنی اپنی سرداریوں اور گدیوں کا خاتمہ، حسد اور بغض وغیرہ یا یہ عقیدہ کہ موسوی شریعت قیامت تک کے لیے غیر متبدل ہے یا یہ کہ کوئی نبی بنی اسرائیل کے علاوہ آ ہی نہیں سکتا۔ جو کچھ بھی ہو یہ بہرحال اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔
Ayahs 6:21–2223 شرکیہ عقائد کی قسمیں :۔ مثلاً یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں تصرف کے اختیارت بعض اولیاء اللہ کو بھی دے رکھے ہیں جیسا کہ مشرکین کا اپنے دیوی دیوتاؤں کے متعلق عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتے ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ ہم گنہگاروں کی دعا و فریاد کب سنتا ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی فریاد کسی بزرگ کو سنائیں اور وہ ہماری فریاد اللہ تک پہنچا دے۔ یا یہ دعویٰ کرنا کہ اللہ کے ساتھ دوسری بھی بہت سی ہستیاں اس کائنات کی خدائی میں اس کی شریک اور ممد و معاون ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ ہمارا فلاں بزرگ قیامت کے دن ہماری سفارش کر کے ہمیں اللہ کی گرفت اور عذاب الٰہی سے چھڑا لے گا۔ ایسی سب باتیں اللہ پر بہتان اور شرک کا سرچشمہ ہیں۔
25 اللہ کی آیات کون کون سی ہیں :۔ آیات سے مراد صرف قرآن کی آیات ہی نہیں بلکہ وہ آیات بھی ہیں جو انسان کے جسم کے اندر موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت پر دلیل ہونے کے علاوہ اس کے وحدہ لاشریک ہونے پر بھی دلالت کرتی ہیں۔ نیز وہ آیات بھی جو انسان کے باہر پوری کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں اب جو شخص ان سب طرح کی آیات سے اعراض کرتا جائے تو اس کی نجات کیسے ممکن ہے ؟
Ayah 6:2326 مشرکین مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی بھی اور ہماری بازپرس بھی ہوئی تو ہمارے یہ لات و عزیٰ ہمیں بچا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن تو دہشت ہی اس قدر ہوگی کہ نہ عابد اپنے معبود کو پہچان سکے گا اور نہ معبود عابد کو، حالانکہ عابد و معبود سب وہاں حاضر ہوں گے۔ اس وقت جب اللہ مشرکوں سے پوچھے گا کہ بتاؤ تمہارے معبود کدھر ہیں۔ جنہیں تم میرا شریک بنایا کرتے تھے ؟ اس وقت وہ اپنے شرکیہ اعمال سے صاف مکر جائیں گے اور قسمیں اٹھا کر کہہ دیں گے کہ ہم نے تو کبھی کسی کو تیرا شریک بنایا ہی نہ تھا۔
Ayah 6:2427 یعنی اس دن کی دہشت اور اپنی بےبسی اور درماندگی کی بنا پر اپنے بچاؤ کی یہی راہ انہیں سجھائی دے گی کہ اس سے صاف مکر جائیں اور دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے تھے دہشت کی وجہ سے سب بھول جائیں گے انہیں یہ یاد ہی نہ پڑے گا کہ وہ دنیا میں کس کس کو پوجتے اور کس کس قسم کا شرک کیا کرتے تھے ؟
Ayah 6:2528 صفات کا سدہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں ؟ وہ باتیں اس لیے دھیان سے سنتے ہیں کہ دیکھیں وہ کون کونسی بات پر اعتراض کرسکتے ہیں اور کون سی بات کا مذاق اڑا سکتے ہیں ان کی نیت کبھی بخیر نہیں ہوسکتی کہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے آئیں۔ لہذا ہدایت کی باتوں کو وہ ایسے سنی ان سنی کردیتے ہیں جیسے ثقل سماعت کی وجہ سے وہ سن ہی نہیں سکے اور جب سنتے ہی نہیں تو اسے سمجھنے کی خاک کوشش کریں گے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسباب کو اختیار کرنا انسان کے اپنے بس میں ہے اور اسی بات کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے مسببات یا ان اسباب سے نتائج پیدا کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے۔ اب لوگ اس کی دعوت کو قبول کرتے ہیں یا رد کرتے ہیں یا کتنے قبول کرتے ہیں اور کتنے نہیں کرتے۔ یہ نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ لیکن اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ اسباب اختیار کرنے سے متوقع نتائج حاصل ہوجاتے ہیں ایسے نتائج کی نسبت بھی اللہ ہی کی طرف ہوگی۔ اسی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے نتائج کی نسبت اپنی طرف کر کے فرمایا کہ ( وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ۭ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا 46) 17 ۔ الإسراء :46) ورنہ حقیقی مجرم وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایسے اسباب اختیار کیے تھے جن سے اس قسم کے نتائج برآمد ہوئے۔
29 حق ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور پرانا ہے لہذا محض پرانا ہونا غلط ہونے کی دلیل نہیں : انبیاء جتنے بھی دنیا میں آتے رہے سب دعوت حق ہی پیش کرتے رہے اور ان کے منکر اور ہٹ دھرم بھی ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ یہ پرانی باتیں ہیں جو ہم پہلے بھی سن چکے ہیں گویا ان احمقوں کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کے حق ہونے کے لیے اس کا نیا ہونا بھی ضروری ہے اور جو بات پرانی ہے وہ حق نہیں ہے۔ حالانکہ حق ہر زمانے میں ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ دین کے معاملہ میں کوئی نئی بات وہی پیش کرسکتا ہے جسے حق سے دشمنی ہو اور وہ اپنے ذہن سے کوئی نئی بات گھڑ کر اسے حق کے نام سے پیش کر دے کسی نئے فرقہ کی بنیاد ڈال دے۔ اس طرح اسے اس دنیا میں تو شاید بعض لوگوں کی پیشوائی کا مقام حاصل ہوجائے لیکن حقیقتاً وہ خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا شخص ہوگا۔
Ayah 6:2630 گویا وہ دہرے مجرم ہیں اور جو لوگ ان کی کوششوں کی وجہ سے راہ حق سے دور رہتے ہیں۔ ان کے گناہوں میں سے حصہ رسدی گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہے ہیں لہذا ایسے لوگوں کی ہلاکت کس قدر شدید ہوگی ؟ اور اس بات کی انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ خود ہی اپنے ہاتھوں کیسے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں ؟
Ayah 6:2731 یعنی اس وقت تک ان ہٹ دھرموں کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں آئیں گے جب تک یہ دوزخ کے عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ اس وقت ان کی سب شیخیاں کر کری ہوجائیں گی۔ اس وقت وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش انہیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع میسر ہو تو ہم یقینا اللہ کے فرمانبردار بندے بن کے رہیں گے۔
Ayah 6:2832 یعنی ایسے دلائل جن سے حق واضح ہوتا تھا، ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ کوئی ان دلائل کو سن بھی نہ سکے اور ان پر پردہ ہی پڑا رہے۔ وہ حق آج ظاہری صورت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو دوبارہ دنیا میں جانے کی آرزو اور فرماں بردار بن کر رہنے کا جو وعدہ کریں گے وہ وعدہ چونکہ شوق ورغبت کی بنا پر نہ ہوگا بلکہ جہنم کے عذاب کو دیکھ کر اضطراری وعدہ ہوگا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کم بخت اب بھی جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ بدبخت پھر بھی وہی کچھ کریں گے جو پہلے دنیا میں کرتے رہے۔ پھر یہ دنیا کی رنگینیوں میں منہمک ہو کر اللہ کی نافرمانیوں پر اتر آئیں گے اور اپنا وعدہ بھول جائیں گے جیسا کہ بسا اوقات مصائب اور بیماریوں میں پھنس کر انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا اور توبہ تائب کرتا ہے مگر اس مصیبت سے نجات پانے کے بعد جب چند دن عیش و آرام میں گزارتا ہے تو اسے یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ اس وقت کیا عہد و پیمان کیے تھے ؟
Ayah 6:2933 تخلیق کائنات کے مختلف نظریئے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور آخرت کے متعلق مختلف نظریات :۔ وجود باری تعالیٰ کے متعلق وحی سے بےنیاز ہو کر محض عقل و خرد سے کائنات کی تخلیق کی گتھی سلجھانے والے لوگ بھی ایک رائے پر متفق نہیں ہو سکے ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ یہ کائنات مادہ سے بنی ہے۔ اور مادہ اور اتفاقات کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ اصل چیز مادہ ہے اور وہی ازلی ابدی ہے۔ کائنات میں انسان کی وہی حیثیت ہے جو سمندر میں ایک بلبلہ کی ہے جو ہوا کی لہروں سے پیدا ہوتے اور پھر سمندر ہی میں مدغم ہوجاتے ہیں اسی طرح ہم پیدا ہوتے اور مرجاتے ہیں یہ لوگ وجود باری تعالیٰ کے بھی منکر اور آخرت کے بھی منکر ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو مادہ پرست یا دہریے یا نیچری کہتے ہیں۔ اہل کتاب حتیٰ کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض لوگ عقیدتا اور بعض عملاً نیچری ہوتے ہیں۔ دوسرا گروہ بعض فلاسفروں اور سائنسدانوں کا ہے جو اس کائنات اور اس کے مربوط و منظم نظام کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کسی کنٹرول کرنے والی ہستی کے بغیر کائنات کا نظام چلنا محال ہے لہذا کسی ایسی ہستی کو تسلیم کرنے کے بغیر چارہ نہیں جو اس کائنات کو وجود میں لائی اور اس کا نظام چلانے والی ہے اس طرح یہ لوگ وجود باری تعالیٰ کے تو قائل ہیں مگر اخروی زندگی پر ان کا ایمان نہیں ہوتا۔ غالباً اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ لوگ دین کی پابندیوں سے آزاد رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ مشرکین مکہ کا مذہب بہت حد تک انہی لوگوں سے ملتا جلتا ہے جو اللہ کے خالق ومالک ہونے کے تو قائل ہیں مگر اخروی زندگی کے قائل نہیں تھے۔ تاہم وہ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا متبع قرار دیتے تھے۔ دیوی دیوتاؤں کی پوجا وہ دو وجہ سے کرتے تھے ایک یہ کہ ان کی دنیوی حاجات بر آئیں اور مشکلات دور ہوں اور دوسرے اس لیے کہ ان کے وسیلہ سے اللہ کا تقرب حاصل ہو۔ ایمان بالاخرت بھی چونکہ ایمان بالغیب کا ایک اہم جزو ہے لہذا اللہ کی ذات کو تسلیم کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو کافر قرار دیا ہے۔
Ayah 6:3034 یعنی جب انہیں دنیا میں کیے ہوئے اعمال کی باز پرس اور حساب کتاب کے لیے اللہ کے حضور کھڑا کیا جائے گا اور سب حقائق ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گے تو پھر انکار کی مجال ہی نہ رہے گی۔ اس وقت وہ حسرت و یاس کے عالم میں کہیں گے کہ ہم دنیا میں کیسے غلط انداز سے سوچتے رہے اور آج کے دن کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے۔ اس دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے پوچھیں گے کہ بتاؤ اب بھی تمہیں اس آخرت کے بارے میں کچھ شک و شبہ باقی رہ گیا ہے ؟ کیا یہ جزا و سزا کا عمل ایک ٹھوس حقیقت بن کر تمہارے سامنے نہیں آگیا ؟ وہ کہیں گے ہمارے پروردگار ! اب ہمیں کیا شک ہوسکتا ہے جبکہ ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو اب اپنے کیے کی سزا بھگتو اور اپنے کفر کا بدلہ جہنم کی آگ کی صورت میں چکھو۔
Ayah 6:3135 گناہوں کا بوجھ محض خیالی اور تصوراتی نہیں ہوگا بلکہ یہ بوجھ ممثل بنا کر بعض جانوروں کی شکل میں گنہگاروں کی پشتوں پر لاد دیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں یہ صراحت موجود ہے۔
Ayah 6:3236 دنیا کی زندگی کھیل تماشاکس لحاظ سے ہے :۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی زندگی میں سرے سے کوئی سنجیدگی ہے ہی نہیں۔ اور یہ محض کھیل تماشے یا سیر و تفریح کے لیے بنائی گئی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی اور پائیدار زندگی کے مقابلہ میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل تفریح میں دل بہلا کر بعد میں پھر سے اپنے اصل کام کی طرف متوجہ ہوجائے۔ یہ کھیل تماشا صرف ظاہر بین اور دنیا پرست لوگوں کے لیے ہے اور دنیا میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت چونکہ ایسی ہی ہے جو اس دنیا کی رنگینیوں میں ہی کھو کر رہ جاتی ہے۔ لہذا کہیں اس دنیا کی زندگی کو کھیل تماشا اور کہیں دھوکے کا سامان کہا گیا ہے ورنہ ایماندار اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے تو اس دنیا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے کیونکہ جو کچھ بھی وہ اس دنیا میں بوئیں گے وہی جا کر آخرت میں کاٹیں گے۔
Ayah 6:3337 کفار مکہ آپ کی نہیں بلکہ آیات اللہ کی تکذیب کرتے تھے :۔ نبوت سے پہلے مشرکین مکہ آپ کو صادق اور امین کہا کرتے تھے نبوت کے اعلان کے بعد بھی آپ کے کسی بڑے سے بڑے دشمن نے بھی دنیوی معاملات میں آپ کو کبھی جھوٹا نہیں کہا۔ البتہ دین کے متعلق آپ جو کچھ کہتے تھے کافر اسے جھٹلاتے تھے۔ چناچہ ایک دفعہ خود ابو جہل نے رسول اللہ سے یہ بات کہی تھی کہ محمد ! ہم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ جو کچھ تم لائے ہو ہم اسے جھٹلاتے ہیں۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور اس جھٹلانے کی ایک بڑی وجہ قریش کی قبائلی عصبیت تھی۔ ابو جہل جو قبیلہ بنو مخزوم سے تعلق رکھتا تھا ایک بار کہنے لگا ہم اور بنو عبد مناف (آل ہاشم) ہمیشہ حریف مقابل کی حیثیت سے رہے۔ انہوں نے مہمان نوازیاں کیں تو ہم نے بھی کیں۔ انہوں نے خون بہا دیئے تو ہم نے بھی دیئے۔ انہوں نے فیاضیاں کیں تو ہم نے بھی کیں یہاں تک کہ ہم نے ان کے کندھے سے کندھا ملا دیا۔ اب بنو ہاشم پیغمبری کے دعویدار بن بیٹھے ہیں۔ واللہ ہم اس پیغمبر پر کبھی ایمان نہیں لاسکتے۔ نہ ہی ہم اس کی تصدیق کریں گے۔ (ابن ہشام ص 108) گویا شخصی حیثیت سے قریش مکہ کو آپ سے کوئی شکایت نہ تھی۔ آپ سے مخالفت اور عداوت محض دین کی دعوت کی وجہ سے تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو تسلی دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ تمہاری تکذیب نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ ظالم ہماری اور ہماری آیات کی تکذیب کر رہے ہیں۔ آپ زیادہ پریشان نہ ہوں ہم ان سے خود نمٹ لیں گے۔
Ayah 6:3438 حق کو غالب کرنے کے لئے اللہ کی سنت یا قوانین کیا ہیں ؟ کلمات سے یہاں مراد اللہ کے وہ قوانین یا سنت جاریہ ہے جو حق و باطل کے معرکہ میں پیش آتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ کوئی نبی یا رسول جب اپنی دعوت کا آغاز کرتا ہے تو ہر طرف سے اس کی مخالفت پر لوگ کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔۔ پھر انہی میں سے کچھ سلیم فطرت اور اخلاق فاضلہ رکھنے والے لوگ نبی پر ایمان لاتے ہیں اور اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ اب یہ ایمان لانے والی جماعت اور خود نبی کی ذات مخالفین کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنتے، ظلم و ستم سہتے اور صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کی افرادی قوت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ ستم زدہ لوگ مقابلتاً کمزور ہونے کے باوجود باطل سے ٹکر لینے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ کی مدد ان کے شامل حال ہوتی ہے اس سے پہلے نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہرگز نہیں کہ ایمان لانے والوں کو آزمائے بغیر اور انہیں مشکلات و مصائب سے گزارے بغیر از خود ہی بعض معجزانہ قسم کے حالات پیدا کر کے حق کو باطل پر غالب کر دے۔ یہ ایسے قوانین ہیں جن میں کوئی بھی تبدیلی نہیں لاسکتا۔ جیسا کہ آپ کو پہلے رسولوں کے حالات سے یہ باتیں معلوم ہو ہی چکی ہیں۔
Ayah 6:3539 کفار کا حسی معجزہ کا مطالبہ اور آپ کی خواہش :۔ رسول اللہ کو تبلیغ کرتے اور کفار کی سختیاں سہتے ایک طویل مدت گزر گئی اور کافروں کی اکثریت انکار ہی کرتی رہی تو اس سے آپ کو سخت گھٹن محسوس ہوتی تھی۔ کبھی کبھار آپ کو یہ خیال بھی آجاتا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کافروں کو کوئی حسی معجزہ دکھلاوے تو امید ہے یہ لوگ ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آرزو کا جواب یہ دیا کہ کوئی حسی معجزہ دکھا کر لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور بنادینا ہمارا طریقہ نہیں ہاں اگر آپ ایسا ہی چاہتے ہیں تو خود ہی اپنا زور لگا دیکھیں۔ زمین میں کوئی سرنگ لگا کر یا آسمان میں سیڑھی لگا کر ان کا مطلوبہ معجزہ لاسکتے ہیں تو لے آئیں مگر یہ بات میری مشیئت کے خلاف ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو معجزہ کے بغیر بھی انہیں ایمان لانے اور سب لوگوں کو ایمان پر اکٹھا کردینے کی پوری قدرت رکھتا ہے مگر اس سے وہ مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے جس کی خاطر انسان کو عقل اور قوت ارادہ و اختیار دے کر آزمائش کی خاطر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔
40 یعنی اللہ کی مشیئت کے خلاف سوچنا یا تدبیر اختیار کرنا نادانی کی بات ہے کیونکہ اللہ کی مشیئت تو بہرحال پوری ہو کے رہے گی اور ایسا سوچنے والے کو شکست اور ندامت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔
Ayah 6:3641 جن لوگوں کو ہدایت مطلوب ہوتی ہے وہ تمہاری باتوں کو غور سے سنتے ہیں پھر وہ ہدایت قبول بھی کرتے ہیں مگر جن لوگوں کے دل اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مرچکے ہیں وہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے یہ لوگ جیتے جی اپنے اختیار سے تو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے نہیں۔ البتہ جب مرجائیں گے اور اللہ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا تب انہیں اضطراری طور پر اللہ کے حضور پیش ہونا ہی پڑے گا۔
Ayah 6:3742 یعنی ایسے حسی معجزہ کا مطالبہ کرنا جس سے انسان کو کامل یقین حاصل ہوجائے نادانی کی بات ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بات اللہ کے دستور ابتلاء کے منافی ہے اور ایسے جبری اور اضطراری ایمان کا کچھ فائدہ بھی نہیں۔ جیسے موت کے وقت جب انسان غیب کے پردے اٹھنے کے بعد سب کچھ دیکھ لیتا ہے تو پھر اس وقت اس کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دیتا۔
Ayah 6:3843 یعنی سب جانداروں کو خواہ وہ حشرات الارض ہوں یا پرندے ہوں یا چرندے ہوں، اللہ کی طرف سے وحی ہوتی ہے جیسے تمہیں ہوتی ہے اور یہ سب انواع اللہ کے قوانین کی پابند ہیں اور اپنی فطری حدود سے سر مو تجاوز نہیں کرتیں اور نہ کرسکتی ہیں۔ ان سب جانداروں کو وحی کے ذریعہ وہ علوم سکھائے جاتے ہیں جو ان کی نوع کے لیے اور نوع کی بقا کے لیے کارآمد اور ضروری ہیں اور ان چیزوں سے منع کیا جاتا ہے جو ان کے لیے مضر ہیں۔ مثلاً گائے، بھینس اور بھیڑ بکری وغیرہ پر حرام ہے کہ وہ گوشت کھائیں اور اگر وہ اس جرم کا ارتکاب کریں گے تو اس کا انہیں ضرور نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح شیر پر گھاس کھانا حرام اور گوشت کھانا فرض ہے۔ اس کا الٹ کرے گا تو سخت نقصان اٹھائے گا اور زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ شہد کی مکھیوں کو بذریعہ وحی سکھا دیا کہ وہ اس قسم کا گھر تیار کریں۔ پھر پھلوں اور پھولوں سے رس چوس کر شہد بنائیں اور بہرحال اپنی سردار مکھی یعسوب کی اطاعت کریں۔ الغرض ہر نوع کی طرف وحی کی جاتی ہے اور اس کی شریعت جداگانہ ہے۔ اب انسان کو جو قوت ارادہ و اختیار دی گئی ہے تو اس کے ساتھ ابتلاء و آزمائش بھی انسان ہی کے لیے ہے۔ انسان کی بہتری اور نجات اسی صورت میں ہے کہ وہ کسی حسی معجزہ کا مطالبہ کیے بغیر اپنے عقل و ارادہ سے کام لے کر دوسری انواع کی طرح اپنے آپ کو احکام الٰہی کا پابند بنا لے۔
44 جانوروں کا حشر :۔ اس آیت سے نیز ایک دوسری آیت ( وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ۽) 81 ۔ التکوير :5) سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کا بھی قیامت کے دن حشر ہوگا ان سے کفر و شرک اور ایمان و اعمال کا محاسبہ تو نہیں ہوگا مگر جو ظلم کسی جانور نے دوسرے پر زیادتی سے کیا ہوگا اس کا بدلہ ضرور دلایا جائے گا کیونکہ اتنی عقل انہیں بھی بخشی گئی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے :
سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا قیامت کے دن تم سے حقداروں کے حق ادا کروائے جائیں گے حتیٰ کہ سینگ والی بکری سے بےسینگ والی بکری کا بدلہ دلوایا جائے گا۔ (مسلم۔ کتاب البروالصلۃ۔ باب تحریم الظلم)
Ayahs 6:39–4045 جو شخص اللہ کی آیات کو جھٹلا دے اس پر ہدایت کی سب راہیں مسدود ہوجاتی ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گونگا۔ بہرا شخص گہرے اندھیروں میں ہو۔ وہ اندھیروں کی وجہ سے خود کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ بہرا ہونے کی وجہ سے ہدایت کی بات سن نہیں سکتا اور گونگا ہونے کی وجہ سے کسی سے پوچھ نہیں سکتا۔ ایسا شخص گمراہ نہ ہوگا تو کیا ہوگا ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنا رویہ بدل لے اور آیات الٰہی میں غور کرنا شروع کر دے تو پھر اللہ اسے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔