Ayahs 6:75–7681۔ 1 ابراہیم کا کائناتی مطالعہ :۔ نجوم پرستی کا آغاز عراق کے علاقہ میں سیدنا ابراہیم کی بعثت سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ ستاروں اور چاند، سورج وغیرہ کی ارواح کی تصوراتی شکلیں متعین کر کے ان کے مجسمے بنائے جاتے اور ان مجسموں کو مندروں میں پرستش کے لیے رکھا جاتا تھا۔ ان سیاروں کے انسانی زندگی پر طرح طرح کے اثرات تسلیم کیے جاتے تھے اور لوگ اپنی زندگی اور موت، مرض اور صحت، خوشحالی اور تنگ دستی ایسے ہی کئی دوسرے امور کو سیاروں کی چال سے منسوب کرتے اور ان کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے متعلقہ ستاروں کے مجسموں کے سامنے مندروں میں نذر و نیاز پیش کرتے تھے۔ مندروں کے نام پر بڑی بڑی جاگیریں وقف ہوتیں اور ان کے سرمایہ کو تجارت اور صنعت پر بھی لگایا جاتا اور یہ سب کام مندروں کے پجاریوں کی معرفت طے پاتے تھے۔ اس طرح کہ یہ جاگیر دار اور سرمایہ دار ملک کے تمدن، معیشت اور سیاست پر بہت حد تک اثر انداز ہوتے تھے۔ سیدنا ابراہیم کا باپ ایسے ہی کسی بڑے مندر کا شاہی مہنت تھا۔ نذرانے وصول کرنے کے علاوہ بت گری اور بت فروشی کا کاروبار بھی کرتا تھا۔ کھانے پینے کی فراغت کے علاوہ معاشرہ کے معززین میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ آپ نے ایسے ہی ماحول میں پرورش پائی۔ آپ کو معلوم ہوا کہ فلاں فلاں قسم کے بت فلاں ستارہ کے ہیں اور فلاں بت چاند کے اور فلاں سورج کے، علاوہ ازیں ان لوگوں نے اپنے شہروں کے نام بھی انہی بتوں کے نام پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ کو بچپن میں ہی فطرت سلیمہ عطا ہوئی تھی۔ معاشرہ کی ان حرکات سے اور گھر کے ایسے ماحول سے ان کی طبیعت بےزار رہتی تھی۔ اور ہر وقت گہری سوچ میں پڑے رہتے تھے ایک دن انہوں نے رات کو ایک چمکدار ستارہ دیکھا جو کچھ عرصہ بعد مغرب میں جا کر غروب ہوگیا انہیں یکدم خیال آیا کہ جو چیز میرے پاس موجود بھی نہیں رہ سکتی وہ میری یا کسی دوسرے کی مشکلات کو کیا دور کرے گی۔ پھر چاند کو دیکھا تو اس کا بھی یہی حال تھا۔ پھر سورج پر غور کیا تو اس کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔ جو ایک مقررہ رفتار سے چلتے ہوئے مشرق سے طلوع ہوتے اور مغرب میں غروب ہوجاتے تھے۔ انہوں نے سوچا جو چیزیں نظم و ضبط کی اس قدر پابند اور اپنے اپنے کام پر مجبور و بےبس ہیں وہ خدا کیسے ہوسکتی ہیں خدا تو وہ ہوسکتا ہے جس نے ان تمام چیزوں کو کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ آپ نے ایک طویل مدت ان حالات پر غور کیا بالآخر اللہ نے خود آپ کی رہنمائی کی اور آپ کو نبوت کے منصب پر سرفراز فرمایا اور وحی کے ذریعہ اس کائنات کے اسرار آپ پر منکشف کردیئے۔ اس وقت آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے آپ کو ان تفکرات سے نجات دلائی جس میں آپ مدتوں سے سوچ بچار کر رہے تھے اور ان گمراہیوں سے نکال لیا جن میں آپ کی پوری کی پوری قوم ڈوبی ہوئی تھی۔ آپ کو جب یہ یقین حاصل ہوگیا تو سب سے پہلے آپ نے اپنے گھر سے اصلاح احوال کا آغاز کیا اور اپنے باپ سے کہا کہ آپ نے اور آپ کی قوم نے جو یہ مندروں میں بت ٹکا رکھے ہیں اور انہیں اپنا حاجت روا سمجھ رہے ہو یہ تو انتہائی غلط روش اور سراسر گمراہی ہے۔ باپ نے ڈانٹ پلا کر خاموش کردیا تو آپ نے اپنی قوم کے دوسرے لوگوں کو یہی ہدایت کی باتیں سمجھانا شروع کردیں۔
Ayahs 6:77–7982 انبیاء کے والدین کو شرک سے بری ثابت کرنے کا نظریہ :۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا اصلی نام تارح تھا اور آزر ان کا لقب تھا۔ پھر وہ لقب سے زیادہ مشہور ہوگئے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ان کا اصل نام آزر تھا اور تارح لقب تھا۔ یہ باتیں تو ایسی ہیں جن میں کسی کے اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا نام تارح تھا اور آزر آپ کے چچا کا نام تھا اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ پیغمبر کا باپ مشرک نہیں ہوسکتا۔ یہ بات ایک تو قرآن کے ظاہر الفاظ کے خلاف ہے دوسرے اس کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ بناء فاسد علی الفاسد پر مبنی ہے کیونکہ پیغمبروں کے مبعوث ہونے کا وقت ہی وہ ہوتا ہے جب دنیا میں کفر و شرک اور فتنہ و فساد عام پھیل جاتا ہے اور اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ انبیاء ہیں جن کی قرآن یا حدیث میں صراحت آگئی ہے۔ مثلاً سیدنا ابراہیم کے بیٹے اسماعیل اور اسحاق اور ان کے بیٹے اور پوتے یعنی یعقوب اور یوسف (علیہ السلام) سب نبی تھے یا سلیمان (علیہ السلام) کے باپ داؤد نبی تھے۔ ان انبیاء کے علاوہ دوسرے نبیوں کے باپ یا ماں باپ دونوں کو غیر مشرک ثابت کرنا ایسا تکلف ہے جسے تکلف کرنے کے باوجود بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 6:8083 نجوم پرست کی مخالفت :۔ اس قوم کے ہر ایک فرد کی رگ رگ میں یہ بات رچی ہوئی تھی کہ انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات انفرادی طور پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی۔ پھر انہیں سیاروں کی ارواح کے خیالی مجسمے مندروں میں نصب کر کے ان کی پرستش کی جاتی تھی، انہیں نفع و نقصان کا مالک سمجھنے کی وجہ سے ان کے آگے نذریں اور قربانیاں پیش کر کے انہیں خوش رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور اسی نظام سے ان کی سر سے پاؤں تک کی زندگی وابستہ ہوچکی تھی، ان کے سامنے سیدنا ابراہیم کا ان تمام بتوں اور مجسموں سے بےزاری کا اظہار کرنا اور پوری قوم کو گمراہ قرار دینا بھڑوں کے چھتہ کو چھیڑنے کے مترادف تھا۔ لہذا پوری قوم کی آپ سے بحث وجدال اور مخالفت شروع ہوگئی۔ سیدنا ابراہیم نے انہیں برملا کہہ دیا کہ جن جن معبودوں کو تم اللہ کے اختیار و تصرف میں شریک سمجھ رہے ہو، میں ان سے کسی ایک کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ میں اپنی زندگی اور موت، صحت اور تندرستی، خوشحالی اور تنگدستی کا مالک صرف ایک اللہ کو سمجھتا ہوں۔ اور اس کے اختیارات میں کسی کو رتی بھر شریک نہیں سمجھتا۔
Ayah 6:8184 معبودوں کی طرف سے سزا کی دھمکی :۔ ان بت پرستوں کے پاس سب سے بڑا ہتھیار یہ تھا کہ جن بتوں کی تم توہین کر رہے ہو وہ خود تم سے نمٹ لیں گے جیسا کہ ان کا اپنا اعتقاد تھا۔ سیدنا ابراہیم نے ان کو یہ جواب دیا کہ اگر تم اللہ سے نہیں ڈرتے جس کی پوری کائنات پر حکمرانی ہے تو پھر تمہارے ان بتوں سے میں کیوں ڈروں جن کو تم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور ایسے بےجان پتھر ہیں جو اپنے وجود اور اپنے بقا کے لیے تمہارے محتاج ہیں یہ بھلا میرا یا تمہارا کیا بگاڑ سکتے ہیں یا سنوار سکتے ہیں ؟ دوسری بات یہ ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس علم حقیقی کی بنا پر کہہ رہا ہوں جو مجھے اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے لیکن تمہارا ان بتوں کو نفع و نقصان کا مالک و مختار سمجھنا تمہارا اپنا وہم اور قیاس ہے جس کے لیے تمہارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے لہذا تم خود ہی سوچ سمجھ لو کہ اللہ کی طرف سے عذاب کا مستحق کون ہوگا اور امن و سلامتی کا مستحق کون ؟
Ayah 6:8285 ظلم معنی شرک :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ پر بہت گراں گزری (کیونکہ انہوں نے ظلم کو اس کے عام معنوں، معصیت یا زیادتی پر محمول کیا تھا) اور رسول اللہ سے عرض کیا کہ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو ؟ آپ نے انہیں بتایا کہ یہاں ظلم کا لفظ اپنے خاص معنوں یعنی شرک کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورة لقمان میں آیا ہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر، نیز کتاب الایمان باب ظلم دون ظلم نیز کتاب الانبیائ۔ باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا )
منکرین حدیث اور اہل قرآن کا ردّ :۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی زبان بھی اگرچہ عربی زبان تھی اور قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہوا تھا۔ تاہم بعض دفعہ انہیں آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے میں دشواری پیش آجاتی تھی۔ اور یہی مطلب ہے (وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ 129 ) 2 ۔ البقرة :129) کا۔ مگر مسلمانوں میں سے ہی بعض لوگ ایسے ہیں جو حدیث رسول اللہ سے بےنیاز ہو کر محض لغت کی مدد سے قرآن کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں اپنے اس نظریہ کا انجام سوچ لینا چاہیے اس آیت کے متعلق دو اقوال ہیں ایک یہ کہ یہ جملہ بھی سیدنا ابراہیم کا ہی قول ہے اور ان کی اس بحث کا حصہ ہے جو وہ اپنی قوم سے کر رہے تھے۔ کیونکہ اس سے پہلی آیت میں بھی امن و سلامتی کا ذکر ہے اور اس آیت میں بھی۔ اور یہ امن و سلامتی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو شرک سے اجتناب کرتے ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا قول ہے جو ایک حقیقت کے طور پر یہاں سیدنا ابراہیم کے قصہ کے درمیان بیان کردیا گیا ہے۔
Ayahs 6:83–8486 ابراہیم نے مشرکوں کو کیا دلیل دی تھی ؟ وہ دلیل یہ تھی کہ اگر ہر چیز کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے تو ہر چیز پر تصرف اور اختیار بھی صرف اسی کا ہونا چاہیے۔ یہ کس قدر ناانصافی کی بات ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک تو اللہ تعالیٰ ہو اور اس کے اختیارات میں اور اس کی عبادت میں دوسروں کو بھی شریک کرلیا جائے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم کی قوم بھی اس بات کی قائل تھی کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے اگر وہ اس بات کی قائل نہ ہوتی تو اس بحث کا انداز بیان کسی اور انداز کا ہوتا۔ (نیز دیکھئے سورة بقرہ کی آیت نمبر 258 کا حاشیہ)
Ayah 6:8583 شرک کو ختم کرنا سب سے بڑا جہاد ہے :۔ قرآن میں اکثر مقامات پر جب انبیائے کرام کا ذکر ہوا تو اس میں ترتیب زبانی بھی پائی جاتی ہے لیکن یہاں غالباً اس صفت کو زیادہ تر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ان میں سے کس نے شرک کے خلاف سب سے زیادہ جہاد کیا تھا یا بعض دوسری صفات کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو ان میں سے سرفہرست سیدنا ابراہیم کا ہی ذکر کیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسی صفت کی بنا پر (اُمَّۃً قَانِۃً ) فرمایا اور اپنا دوست بنایا۔ پھر سیدنا ابراہیم پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے بیٹے اسحاق اور پھر ان کے بیٹے یعقوب کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آئندہ کے لیے نبوت انہیں کی اولاد سے مختص کردی، بعد ازاں سیدنا نوح کا ذکر فرمایا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال کا طویل عرصہ شرک ہی کے خلاف جہاد میں گزارا تھا۔ حالانکہ ان کا زمانہ سیدنا ابراہیم سے بہت پہلے کا ہے۔ ان پر انعام یہ ہوا کہ ان کے بعد نبوت آپ کی اولاد میں مختص ہوگئی تھی پھر اس کے بعد سیدنا داؤد اور ان کے بیٹے سیدنا سلیمان کا ذکر فرمایا۔ جنہیں نبوت کے علاوہ حکومت بھی عطا ہوئی تھی اور انہوں نے بزور شمشیر شرک کے زور کو توڑا تھا۔ پھر سیدنا ایوب کا ذکر کیا جنہوں نے اس حق و باطل کی کشمکش میں کمال صبر کا مظاہرہ کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ( ۭاِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا 44) 38 ۔ ص :44) کا خطاب دیا اور سیدنا یوسف کے صبر کی تعریف رسول اللہ نے بھی فرمائی آپ سات سال بےقصور قید میں پڑے رہے پھر جب شاہ مصر کی طرف سے بلاوا آیا تو آپ نے قاصد سے کہا کہ پہلے بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میں اتنی مدت قید میں پڑا ہوتا تو قاصد سے کچھ کہے بغیر ہی اس کے ساتھ ہو لیتا۔ (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب لقد کان فی یوسف۔۔ ) اللہ نے انہیں بھی حکومت عطا فرمائی تھی اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ سب سے مکرم کون ہے ؟ آپ نے فرمایا یوسف جو خود بھی نبی تھے۔ ان کا باپ بھی نبی، دادا بھی نبی اور پڑدادا (سیدنا ابراہیم) بھی نبی تھے۔ اس کے بعد موسیٰ اور ہارون کا ذکر فرمایا۔ موسیٰ کلیم اللہ تھے اور انہی کی درخواست پر سیدنا ہارون کو نبوت ملی تھی تاکہ صدیوں سے بگڑے ہوئے بنی اسرائیل کو راہ راست پر لانے کے لیے ان کا ہاتھ بٹائیں۔ انہوں نے بھی ساری زندگی بنی اسرائیل کے ہاتھوں تکلیفیں ہی اٹھائیں۔ پھر ان کے بعد سیدنا زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ کا ذکر فرمایا۔ ان میں سے دو کو تو بنی اسرائیل نے دعوت حق دینے کی پاداش میں قتل کروا دیا تھا اور تیسرے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب پر لٹکوانے کی کوشش کی۔ پھر سیدنا الیاس، اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کا ذکر فرمایا پھر سب انبیاء کے متعلق ایک یکساں تبصرہ فرمایا۔ یہ سب لوگ صالح تھے اور اپنے اپنے وقت میں تمام اقوام عالم اور افراد سے افضل تھے اس لیے کہ انہوں نے شرک کے خلاف جہاد کیا اور توحید کا بول بالا کرنے کے لیے اور دعوت حق کی خاطر تکلیفیں اٹھائی تھیں۔
Ayah 6:8687۔ ا اس آیت میں فرمایا کہ یہ سب انبیاء (یعنی 18۔ انبیاء کا ان آیات میں ذکر آیا ہے) سب صالح لوگ تھے اور اس اگلی آیت میں فرمایا کہ ان میں ہر ایک کو ہم نے تمام اقوام عالم پر فضیلت دی تھی۔ قرآن کریم کی ان تصریحات سے انبیاء کی کمال عصمت ثابت ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ تمام انبیاء معصوم عن الخطاء تھے جبکہ بائیبل ان انبیاء میں سے کئی انبیاء کی سیرت کو داغدار کر کے پیش کرتی ہے (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة کی آیت نمبر 48 کا حاشیہ نمبر 54)
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء و رسل کا یک جا ذکر فرمایا اور قرآن میں کل ستائیس انبیاء و رسل کا ذکر آیا ہے ان میں سے سیدنا لقمان کی نبوت اختلافی ہے اور جن انبیاء کا یہاں ذکر نہیں آیا وہ یہ ہیں۔ سیدنا آدم، ادریس، ہود، صالح، شعیب، ذوالکفل، عزیر اور محمد رسول اللہ اور جن اٹھارہ انبیاء کا ذکر آیا ہے مناسب ہے کہ یہاں ترتیب زمانی کے لحاظ سے ان انبیاء کے مختصر حالات زندگی درج کردیئے جائیں۔
(1) سیدنا نوح (علیہ السلام) : آپ کی عمر ایک ہزار سال تھی۔ آپ کی بعثت تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح ہوئی تھی۔ عراق میں دریائے دجلہ اور فرات کا درمیانی علاقہ آپ کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ آپ کی قوم بت پرست تھی اور پانچ بتوں ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کی پوجا کرتی تھی۔ اور اس معاملہ میں بہت ضدی اور ہٹ دھرم واقع ہوئی تھی کہ آپ کی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں صرف چالیس آدمی ایمان لائے آخر آپ نے دل برداشتہ ہو کر ان کے حق میں بددعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بڑی کشتی تیار کرنے کا حکم دیا اور اس کو بنانے کے لیے ہدایات بھی دیں۔ جب کشتی تیار ہوگئی تو آپ نے سب ایمانداروں کو اس میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں سب جانوروں کا ایک ایک جوڑا بھی اس کشتی میں رکھ لیا گیا، اس کے بعد زمین سے پانی کے چشمے ابلنے شروع ہوگئے اور آسمان سے مسلسل اور موسلادھار بارش، زمین پر اتنا پانی جمع ہوگیا جس نے پہاڑوں کو بھی اپنے اندر چھپالیا۔ آپ کا نافرمان بیٹا یام بھی آپ کے دیکھتے دیکھتے اس طوفان کی نذر ہوگیا۔ چھ ماہ پانی چڑھتا رہا۔ پھر اترنا شروع ہوا۔ بارش بند ہوگئی۔ زمین نے پانی کو جذب کرنا اور سورج اور ہواؤں نے خشک کرنا شروع کردیا کشتی جودی پہاڑ پر ٹک گئی۔ چالیس دن بعد جب زمین خشک ہوگئی تو سب لوگ بسلامت اس کشتی سے اتر کر زمین پر آگئے۔ طوفان کے بعد آپ 350 سال زندہ رہے اور تبلیغ کرتے رہے۔
(2) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) : آپ کی عمر 175 سال تھی۔ آپ کی بعثت کا زمانہ دو ہزار اور اکیس سو قبل مسیح کے درمیان ہے آپ کی قوم بت پرست اور نجوم پرست تھی۔ آپ کا باپ آزر نمرود شاہ عراق کی طرف سے شاہی بت خانہ کا مہنت اور منتظم تھا وہ بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ آپ نے سب سے پہلے اپنے باپ ہی کو نہایت نرم الفاظ میں تبلیغ کرنا شروع کی۔ اس نے نمرود سے سیدنا ابراہیم کا ذکر کیا تو اس نے آپ کو دربار میں طلب کرلیا۔ سیدنا ابراہیم نے نمرود پر حجت قائم کر کے اسے مناظرہ میں لاجواب کردیا تو باپ اور بھی زیادہ مخالف ہوگیا۔ کیونکہ سیدنا ابراہیم کی بات ماننے سے اس کا عہدہ بھی جاتا تھا اور ذریعہ معاش بھی تباہ ہوتا تھا لہذا اس نے سیدنا ابراہیم کو یہاں تک کہہ دیا کہ میرے گھر سے نکل جاؤ ورنہ رجم کر دوں گا۔ باپ کے بعد آپ نے قوم کو بت پرستی سے منع کرنا شروع کردیا اور ایک دفعہ موقع پا کر ان کے بت توڑ دیئے۔ اس بات پر قوم نے سیخ پا ہو کر آپ کو آگ کے ایک بڑے الاؤ میں پھینک دیا۔ مگر اللہ نے آپ کو بال بال بچا لیا۔ آخر آپ ہجرت کر کے سیدنا لوط کے ہمراہ فلسطین کی طرف چلے گئے پھر وہاں سے مصر کی طرف ہجرت کی تو شاہی کارندے آپ کی بیوی سارہ کو پکڑ کرلے گئے جس سے بادشاہ کو کافی تکلیف پہنچی۔ بالآخر اس نے ہاجرہ کو سیدہ سارہ کی خادمہ بنا کر ہمراہ کردیا۔ اسی ہاجرہ سے سیدنا اسماعیل پیدا ہوئے۔ آپ نے ان ماں بیٹے کو اللہ کے حکم سے کعبہ شریف کے قریب لا بسایا۔ جب سیدنا اسماعیل جوان ہوئے تو ان کی قربانی کا معاملہ پیش آیا۔ اس امتحان میں دونوں باپ بیٹا پورے اترے۔ پھر ان دونوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔ زندگی بھر آپ پر اللہ کی طرف سے کڑی سے کڑی آزمائشیں آئیں۔ ان سب میں آپ پورے اترے تو اللہ نے آپ کو اپنا خلیل قرار دیا اور رہتی دنیا کے لیے آپ کو سب کا امام اور پیشوا بنادیا۔
(3) سیدنا لوط (علیہ السلام) : سیدنا ابراہیم کے چچا زاد بھائی ہیں عراق سے ہجرت کے وقت آپ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ہمراہ تھے بعد میں آپ کو بھی نبوت عطا ہوئی تو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے آپ کو تبلیغ کے لیے شرق اردن کی طرف بھیج دیا۔ بحر میت یا بحر لوط کے اردگرد سدوم کا شہر اور اردگرد عمورہ کی بستیاں آپ کی تبلیغ کا علاقہ تھا آپ کی قوم شرک اور دوسری بد اخلاقیوں کے علاوہ لواطت میں گرفتار بلکہ اس بدفعلی کی موجد بھی تھی۔ لوط کے سمجھانے پر بھی یہ لوگ اپنی کرتوتوں سے باز نہ آئے بلکہ الٹا سیدنا لوط (علیہ السلام) اور معدودے چند مسلمانوں کو اپنے شہر سے نکل جانے کی دھمکیاں دینے لگے۔ آخر فرشتے اس قوم پر قہر الٰہی ڈھانے کے لیے نازل ہوئے سیدنا جبریل نے ان کی بستیوں کو اکھاڑ کر اپنے پروں پر اٹھایا اور بلندی پر لے جا کر اور اٹھا کر نیچے پٹخ دیا۔ پھر اوپر سے پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ چناچہ یہ خطہ ئزمین سطح سمندر سے چار سو کلومیٹر نیچے چلا گیا اور اوپر پانی آگیا۔ اسی پانی کے ذخیرہ کو بحر مردار، بحر میت یا غرقاب لوطی کہا جاتا ہے۔
(4) سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) : سیدنا ابراہیم خلیل اللہ کے بڑے صاحبزادے مصر میں اقامت کے دوران ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان دونوں ماں بیٹے کو مکہ کی بےآب وگیاہ زمین میں لابسایا۔ اللہ تعالیٰ نے وہاں زمزم کا چشمہ جاری کردیا۔ آپ کی پرورش بنو جرہم نے کی۔ جب بالغ ہونے کو آئے تو ذبح عظیم کی آزمائش کا واقعہ پیش آیا۔ آپ اس میں کامیاب اترے تو ذبیح اللہ کا لقب پایا۔ بعد ازاں آپ نے اپنے باپ سیدنا ابراہیم کے تعاون سے خانہ کعبہ کو از سر نو تعمیر کیا اور اس کی خدمت پر مامور ہوئے۔ بنو جرہم میں ہی آپ کی شادی ہوئی اور یہی علاقہ آپ کی تبلیغ کا مرکز قرار پایا۔ آپ کی عمر 137 سال ہوئی۔
(5) سیدنا اسحاق (علیہ السلام) : سیدنا ابراہیم خلیل اللہ کے دوسرے صاحبزادے جو فرشتوں کی بشارت کے مطابق سیدہ سارہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ اس وقت سیدہ سارہ کی عمر نوے سال کے قریب اور سیدنا ابراہیم کی عمر سو سال سے زائد تھی۔ فلسطین کا علاقہ آپ کی تبلیغ کا مرکز اور بیت المقدس کی خدمت آپ کے سپرد تھی۔ نبی آخرالزماں کے سوائے باقی سب انبیاء بنی اسرائیل آپ کی اولاد سے ہوئے اور اسی علاقہ میں اپنے باپ سیدنا ابراہیم کے پہلو میں دفن ہوئے۔ آپ کی عمر 180 سال ہوئی۔
(6) سیدنا یعقوب (علیہ السلام) : سیدنا اسحاق کے صاحبزادے ہیں۔ علاقہ کنعان کی طرف مبعوث ہوئے۔ بعد میں ہجرت کر کے قدان آئے۔ آپ کا دوسرا نام اسرائیل ہے۔ آپ کو اپنے بیٹے یوسف سے بہت محبت تھی۔ اللہ نے اسی میں آپ کی آزمائش کی۔ چناچہ آپ نے سیدنا یوسف کی گمشدگی کا صدمہ نہایت صبر و تحمل سے برداشت کیا۔ آخر عمر میں سیدنا یوسف کی دعوت پر مصر میں جا کر آباد ہوئے۔ لیکن آپ کی میت کو آپ کی وصیت کے مطابق قدس خلیل میں ہی لا کر سیدنا اسحاق اور سیدنا ابراہیم کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ نے 147 سال کی عمر پائی۔
(7) سیدنا یوسف (علیہ السلام) : آپ سیدنا یعقوب کے ہاں کنعان میں پیدا ہوئے۔ آپ کی داستان حیات زبان زد خاص و عام ہے۔ 17 سال کی عمر میں کنوئیں میں ڈالے گئے تقریباً سات سال عزیز مصر کے گھر میں رہے پھر 7 سال قید میں۔ پھر مصر کے منتظم اعلیٰ بنے اور آٹھ سال بعد آپ کے قحط گزرنے کے بعد خوشحالی کے ایام میں اور دور بادشاہت میں اپنے والدین اور سب گھر والوں کو اپنے ہاں بلا لیا۔ والد محترم سے فرقت کا زمانہ 23 سال ہے آپ نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ اسی مصر کی زمین میں 110 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اور وصیت کی کہ جب بھی بنو اسرائیل واپس اپنے وطن کنعان جائیں تو آپ کی نعش کو وہاں لے جا کر دوبارہ دفن کریں۔ چناچہ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بنو اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو آپ کی قبر سے تابوت نکال کر ساتھ لے گئے اور مشہد خلیل میں آباء و اجداد کے ساتھ دفن کیا۔
(8) سیدنا ایوب (علیہ السلام) : آپ کی بعثت کا زمانہ ڈیڑھ ہزار سال قبل مسیح ہے۔ آپ کثرت اموال و اراضی میں مشہور تھے۔ ستر سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ پھر آپ پر اللہ کی طرف سے آزمائش کا دور جو آیا تو ہر چیز ہاتھ سے نکل گئی۔ اور ایسے بیمار پڑے کہ ایک بیوی کے سوا سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ آپ نے اس بیماری میں اور مال و دولت کے چھن جانے پر صبر و استقامت کا ایسا بےمثال مظاہرہ کیا جو ضرب المثل بن چکا ہے۔ صحیح روایات کے مطابق آپ کا دور ابتلاء 13 سال ہے۔ جب آپ اس امتحان میں کامیاب اترے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری بھی دور کردی اور مال و دولت بھی پہلے سے دو گنا عطا فرمایا اور صابر کا لقب بھی عطا فرمایا۔ 140 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
(9۔ 10) سیدنا موسیٰ اور ہارون علیھما السلام : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پہلے رسول ہیں جنہیں کتاب دی گئی اور مستقل شریعت عطا ہوئی۔ بڑے صاحب جلال تھے۔ آپ کی تربیت نہایت معجزانہ طور پر فرعون کے گھر میں اور اس کے اخراجات پر ہوئی اور ان ایام میں ہوئی جب فرعون مصر بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کرا دیتا تھا۔ سیدنا یعقوب اور ان کی اولاد جو سیدنا یوسف کے عہد بادشاہی میں مصر میں آ کر آباد ہوئے تھے اب لاکھوں کی تعداد تک پہنچ چکے تھے اور محکومانہ اور مقہورانہ زندگی گزار رہے تھے۔ سیدنا یوسف اور سیدنا موسیٰ (علیہما السلام) کا درمیانی عرصہ تقریباً چار سو سال ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا مشن یہ تھا کہ انہیں فرعون کی غلامی سے آزاد کرا کر واپس اپنے وطن فلسطین میں لے جائیں اور اس علاقہ میں وہ حاکمانہ حیثیت سے آباد ہوں۔ مگر صدیوں کی غلامی نے بنی اسرائیل کو اتنا بزدل بنادیا تھا کہ وہ بسا اوقات سیدنا موسیٰ سے الجھ پڑتے۔ اس مشکل ذمہ داری کو نبھانے کے لیے سیدنا موسیٰ نے اللہ سے دعا کی تھی کہ ان کے بڑے بھائی سیدنا ہارون کو بھی نبوت عطا کر کے بطور مددگاران کے ہمراہ فرعون کی طرف بھیجا جائے اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کی یہ درخواست منظور فرما لی تھی۔ فرعون کے مظالم کو برداشت کرنا بنو اسرائیل کی عادت ثانیہ بن چکی تھی۔ اہل مصر گائے بیل کی پرستش کرتے تھے۔ ان کی یہ ادا بھی بنو اسرائیل میں رچ بس گئی تھی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کو فرعون سے نجات دی۔ اور سب فرعونیوں کو سمندر میں غرق کردیا۔ اب اگلا مرحلہ جہاد کر کے شام و فلسطین کے علاقہ پر قبضہ کرنا تھا۔ لیکن اس قوم نے روایتی بزدلی کی بنا پر جہاد سے صاف انکار کردیا۔ جس کی پاداش میں 40 سال میدان تیہ میں بھٹکتے رہے۔ اسی ارض تیہ میں سیدنا ہارون اور سیدنا موسیٰ دونوں بھائیوں کی وفات ہوئی۔ سیدنا موسیٰ نے اپنی وفات سے پہلے یوشع بن نون کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ یہی یوشع سیدنا خضر سے ملاقات کے دوران سیدنا موسیٰ کے ہم سفر تھے۔ انہی کی قیادت میں اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کو موعودہ علاقہ پر اقتدار عطا فرمایا اور انہوں نے سب سے پہلے اریحاء کا علاقہ فتح کیا۔ 40 سال کے دوران بنو اسرائیل کی پرانی بزدل نسل تو مر کھپ گئی اور نئی نسل کی تربیت جنگل کی بامشقت زندگی میں ہوئی تھی لہذا نئی نسل جرأت مند پیدا ہوئی جس نے جہاد کر کے موعودہ علاقہ کو فتح کیا۔
(11) سیدنا الیاس (علیہ السلام) : الیاس اور الیاسین ایک ہی نام ہے جیسے طور سینا اور طُوْرِ سینِیْنَایک ہی نام ہے۔ آپ کی دعوت کا مرکز بعلبک تھا آپ کی قوم بعلنامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ بعل کے لغوی معنیٰ مالک آقا، سردار اور خاوند ہے گویا یہ بت ان لوگوں کا خاص دیوتا یا مہا دیوتا تھا۔ بابل سے لے کر مصر تک پورے شرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی۔ مصر سے بنی اسرائیل واپس آئے تو وہ بھی اس بعل پرستی کے مرض میں مبتلاء ہوگئے۔ بعل کے نام کا ایک مذبح بھی بنا ہوا تھا جس پر قربانیاں کی جاتی تھیں۔ آپ نے ان لوگوں کو بہت سمجھایا لیکن وہ اپنے شرکیہ کاموں سے باز نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ظالم حکمران ان پر مسلط کردیا اور سیدنا الیاس نے ہجرت کر کے بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔
(12) الیسع (علیہ السلام) : آپ سیدنا الیاس کے نائب اور خلیفہ تھے۔ بعد میں نبوت بھی عطا ہوئی۔ آپ کا حلقہ تبلیغ شام کا علاقہ تھا۔
(13) سیدنا داؤد (علیہ السلام) : آپ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے پست قد تھے اور ماہر تیر انداز اور نشانہ باز تھے۔ طالوت کی فوج میں سپاہی کی حیثیت سے لڑے۔ اپنی فلاخن میں پتھر رکھ کر جالوت کو مارا جس سے وہ ہلاک ہوگیا اور حکومت بنو اسرائیل کے ہاتھ لگی۔ سیدنا داؤد کو ایک ممتاز عہدہ پر فائز کیا گیا اور طالوت کی بیٹی سے نکاح ہوا۔ طالوت کی وفات کے بعد خود مختار بادشاہ بنے اور نبوت بھی عطا ہوئی۔ آپ پر زبور نازل ہوئی۔ اتنے خوش الحان تھے کہ جب تسبیحات پڑھتے تو پوری فضا پر وجد طاری ہوجاتا۔ آپ کے ہاتھوں میں لوہا، تانبا موم کی طرح نرم ہوجاتا۔ بعض لوگ اسے معجزہ نہیں سمجھتے بلکہ کہتے ہیں کہ آپ لوہا اور تانبا کی ڈھلائی کے خوب ماہر تھے۔ اپنے ہاتھ سے زرہیں تیار کرنا آپ کا ذریعہ معاش تھا۔ اپنی زندگی میں بیت المقدس کی بنیاد رکھی جسے بعد میں سیدنا سلیمان نے پورا کیا۔ ستر سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کا زمانہ 1015 ق م تا 945 ق م ہے۔
(14) سیدنا سلیمان (علیہ السلام) : آپ سیدنا داؤد کے بیٹے تھے۔ آپ نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ بنی اسرائیل میں آپ کی شان کا کوئی بادشاہ نہیں ہوا۔ جن اور پرندوں پر بھی آپ کی حکومت تھی۔ جانوروں کی بولی سمجھتے ان کو حکم دیتے اور ان سے کام لیتے تھے۔ ہوا بھی آپ کی تابع فرمان تھی۔ آپ ایک ماہ کا سفر ہوائی سفر کے ذریعہ چند گھنٹوں میں طے کرلیتے تھے۔ ملکہ سبا آپ کی کوشش سے مسلمان ہوئی۔ بیت المقدس کو نہایت عالی شان طریقہ پر مکمل کیا۔
(15) سیدنا یونس (علیہ السلام) : آپ کا زمانہ بعثت نویں صدی قبل مسیح ہے اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے قوم نے آپ کی دعوت کا انکار کیا تو از خود ہی چالیس دن بعد عذاب آنے کی انہیں وعید سنا دی۔ جب یہ مدت گزرنے کے قریب پہنچی اور آپ نے عذاب کی کوئی نشانی نہ دیکھی تو فرار ہوئے اور ایک بڑی مچھلی کا لقمہ بنے۔ مچھلی کے پیٹ میں تسبیحات پڑھتے رہے آخر اللہ نے اس مشکل سے نجات دی اور مچھلی نے انہیں صحیح وسالم برلب ساحل اگل دیا۔ جب ذرا طاقت آئی تو اللہ تعالیٰ نے اسی قوم یعنی اہل نینوا ہی کی طرف آپ کو دوبارہ بھیجا۔ اب دوسری طرف صورت حال یہ بنی کہ جب سیدنا یونس مفرور ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے قول کو پورا کردیا۔ اہل نینوا کو وقت پر عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو یہ سب لوگ اپنے بال بچوں سمیت کھلے میدان میں نکل آئے اور اللہ کے حضور گڑگڑائے اور سچے دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ عذاب ٹال دیا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ میں ایک ہی استثناء ہے کہ آیا ہوا عذاب ٹل گیا ہو۔ اب اس قوم کی طرف جب سیدنا یونس دوبارہ آئے تو وہ پہلے ہی نرم ہوچکی تھی لہذا آپ کی تبلیغ نہایت موثر ثابت ہوئی۔
(16) سیدنا زکریا (علیہ السلام) : آپ سیدہ مریم بنت عمران (والدہ عیسیٰ علیہ السلام) کے حقیقی خالو تھے۔ چناچہ سیدنا زکریا ہی سیدہ مریم کے مربی اور کفیل قرار پائے۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ محض اللہ کی قدرت سے بن باپ پیدا ہوئے تھے لہذا یہودیوں نے زکریا پر ہی سیدہ مریم سے (نعوذ باللہ) زنا کی تہمت لگا دی اور انہیں قتل کرنا چاہا۔ آپ نے انہیں بہت سمجھایا مگر وہ اس سے باز نہ آئے۔ آخر چند شیطان سیرت آدمیوں نے آپ کو شہید کردیا۔
(17) سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) : آپ کفیل مریم سیدنا زکریا کے فرزند ہیں۔ سیدنا زکریا بوڑھے ہوچکے تھے مگر بےاولاد تھے۔ سیدہ مریم کے پاس بےموسم پھل دیکھ کر بےاختیار پکار اٹھے کہ یا اللہ اگر مجھے بھی بےموسم پھل یعنی لڑکا عطا فرما دے تو کیا عجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی، بچے کی بشارت بھی دی اور اس کا نام بھی یحییٰ خود ہی تجویز فرمایا۔ آپ کو بچپن ہی میں نبوت عطا ہوئی۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے خالہ زاد بھائی تھے۔ نہایت نرم دل اور ہر وقت اللہ کے ڈر سے اور اخروی محاسبہ سے روتے رہتے تھے۔ اس وقت کے ایک یہودی حاکم ذونو اس نے اپنی ایک رقاصہ کے مطالبہ اور دلجوئی کی خاطر آپ کا سر قلم کروا دیا۔
(18) سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) : آپ اللہ کے کلمہ سے بن باپ پیدا ہوئے۔ آپ کا لقب روح اللہ ہے۔ ماں کی طرف سے 26 ویں پشت پر جا کر سیدنا سلیمان (علیہ السلام) سے سلسلہ نسب جا ملتا ہے۔ بنی اسرائیل کے سب سے آخری اور صاحب شریعت نبی ہیں۔ آپ کو بچپن میں نبوت مل گئی تھی اور انجیل آپ پر نازل ہوئی۔ آپ کی پیدائش ناصرہ کے مقام پر ہوئی۔ گود ہی میں کلام کر کے والدہ کی برئیت پر حجت قائم کی مگر یہودی تہمت تراشیوں سے باز نہ آئے آپ بڑے فصیح البیان مقرر اور وجیہ تھے کسی کو آپ کے منہ پر الزام دینے یا تہمت تراشی کی جرأت نہ ہوئی۔ آپ کو چند محیر العقول معجزات بھی عطا ہوئے تھے۔ جوں جوں آپ کی عزت اور شہرت بڑھتی گئی یہودیوں میں حسد کی آگ بھڑکتی گئی اور شاہ وقت کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ انہیں گرفتار کر کے سولی پر لٹکا دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے عین وقت پر عیسیٰ (علیہ السلام) کو بجسد عنصری آسمان پر اٹھایا (اس وقت آپ کی عمر 33 سال تھی) اور مخبری کرنے والے کی شکل و صورت سیدنا عیسیٰ کے مشابہ بنادی چناچہ وہی سولی دیا گیا اور اپنے کیے کی سزا پائی۔ آپ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ شادی کریں گے اولاد ہوگی۔ بعد ازاں آپ کی طبعی وفات ہوگی۔
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا ذکر کر کے آخر میں فرمایا کہ یہ سب ہی اچھے لوگ تھے۔ اس طرح انبیاء کی حسن سیرت کا دائمی سرٹیفکیٹ عطا کردیا۔ جبکہ بائیبل بڑے بڑے انبیاء کی سیرت کشی کرتی اور ان میں کئی طرح کے عیوب کی نشاندہی کرتی ہے مثلاً :
1۔ یہود کے انبیاء پر اتہامات :۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) شراب پی کر بدمست اور بدحواس ہوئے کہ تمام ستر برہنہ ہوگیا اور ان کے بیٹوں نے ڈھانکا۔ (پیدائش باب 9)
2۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے شراب پی کر اپنی دونوں بیٹیوں سے زنا کیا اور یہ معاملہ دو بار وقوع میں آیا۔ (پیدائش باب 19)
3۔ سیدنا یعقوب (علیہ السلام) نے بکری کے بچوں کی کھال ہاتھوں پر لپیٹ کر جھوٹ بولا اور اپنے باپ اسحاق کو دھوکا دینے کے لیے اپنا نام عیص بتایا۔ (پیدائش باب 27)
4۔ حمور کے بیٹے سکم نے سیدنا یعقوب کی بیٹی دینہ سے زنا کیا اور یعقوب کے بیٹوں نے اس سے یہ مکر کیا کہ تو اور تیری تمام قوم اگر ختنہ کرے تو دینہ کی شادی تجھ سے کردیں چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان نبی زادوں نے ایسا موقع پا کر اس کو اور اس کی تمام قوم بےگناہ کو نہایت بےرحمی سے تہ تیغ کیا اور مال و اسباب لوٹ لیا اور ان کی بیویوں اور بچوں کو غلام بنایا مگر سیدنا یعقوب نے منع کرنا تو درکنار اس نالائق حرکت پر اپنی ناراضگی بھی ظاہر نہ کی۔ (پیدائش باب 34)
5۔ بنی اسرائیل کے کہنے پر موسیٰ کی غیبت میں ہارون نے زیور کا ایک بت بنایا اور تمام بنی اسرائیل سے اس کو پجوایا اور اس کے لیے قربانیاں گزارنے کا حکم دیا۔ (کتاب خروج باب 32)
6۔ سیدنا داؤد (علیہ السلام) اپنے بام پر چڑھے۔ اتفاقاً اور یاہ کی جورو بت سبع کو نہاتے دیکھ کر اس پر فریفتہ ہوگئے اور آدمی بھیج کر اس کو بلوایا اور اس سے زنا کیا جس سے وہ عورت حاملہ ہوئی پھر اس کے خاوند کو ایک مکر و تدبیر کر کے مروا ڈالا۔ جس پر ناتن نبی کی معرفت داؤد پر بڑی زجر و توبیخ ہوئی (سموئیل کی دوسری کتاب باب 11)
7۔ سیدنا سلیمان نے باوجود سخت ممانعت کے موآبی اور عمونی وغیرہ بت پرست عورتوں کو بیوی بنایا۔ اور خواہش نفسانی کو یہ طغیانی ہوئی کہ سات سو بیگمات اور تین سو حرموں تک نوبت پہنچی اور پھر ان پر عاشق اور مرید زن ہوئے کہ بتوں کی طرف اور تعمیر بت خانوں میں مصروف اور شامل ہوگئے اور آخر عمر میں ایمان کو بھی سلام کر گئے (کتاب اول سلاطین باب 11)
8۔ یہ بات قرآن سے ثابت ہے کہ یہود کتاب الٰہی کی درس و تدریس کے بجائے جادو منتر وغیرہ میں ہمہ تن مصروف ہوگئے تھے۔ پھر ستم کی بات یہ تھی کہ وہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کو بہت بڑا جادو گر اور ان کی بادشاہی اور عروج کا ذریعہ جادو ہی کو سمجھتے تھے اور یہ تفصیل پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر 102 کے حاشیہ میں گزر چکی ہے۔
9۔ سیدنا عیسیٰ اور سیدہ مریم صدیقہ کے متعلق یہود نے جس بد زبانی سے کام لیا تھا ان ناشائستہ کلمات کا ذکر کرنا بھی نامناسب ہے اور عیسائی خود بھی ان باتوں کا اقرار کرتے تھے نیز یہود یہ بھی کہتے تھے کہ بموجب بشارت عیسیٰ (علیہ السلام) اگر سچے نبی ہوتے تو قتل نہ کیے جاتے۔ حالانکہ وہ قتل کیے گئے۔
Ayahs 6:87–8888 ان سب انبیاء کی جماعت کے علاوہ ہم نے ان کے آباؤ اجداد، آل اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو راہ راست کی طرف ہدایت سے مستفیض فرمایا تھا۔ اور اس ہدایت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ توحید پرست تھے اور شرک سے سخت بےزار تھے کیونکہ شرک ایسی بری بلا ہے کہ اگر مذکورہ بالا انبیاء بھی شرک کرتے تو ان کے سب اعمال برباد ہوجاتے۔ یہ بات بغرض تسلیم اور دوسروں کے لیے شدید تنبیہ کے طور پر بیان کی گئی ہے ورنہ انبیاء سے شرک کا صدور ناممکنات سے ہے۔ انبیاء کی تو بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ شرک کا استیصال کریں اور بندوں کا براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ دیں۔
Ayah 6:8989 انبیاء کو تین خبریں عطا کی جاتی ہیں :۔ مذکورہ انبیاء کو تین چیزیں عطا کرنے کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک کتاب یعنی منزل من اللہ ہدایت نامہ دوسرے حکم سے مراد اللہ کی کتاب کا صحیح فہم، ان پر عمل کرنے کا طریق کار اور اس ہدایت کو عملی زندگی پر منطبق کرنے کی صورتیں اور مختلف نزاعات اور مقدمات میں صحیح قوت فیصلہ کی استعداد اور نبوت سے مراد اس ہدایت الٰہی کے مطابق لوگوں کی رہنمائی ہے۔
90 اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو نہ لائیں۔ ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایسے بندے پیدا کردیئے ہیں جو ہماری نعمتوں کے قدردان ہیں۔ حق کو تسلیم کرتے ہیں اور کسی ہدایت کی بات سے منہ نہیں موڑتے۔ ایسے ہی لوگ انبیاء کے حقیقی متبعین اور ان کے جانشین ہوتے ہیں۔ جیسے رسول اللہ کے متبعین مہاجرین و انصار کی یہی صفات تھیں۔
Ayah 6:9091 سابقہ شریعتوں کا اتباع کس صورت میں :۔ یعنی تمام انبیاء کا دین یا دستور اساسی ایک ہی رہا ہے۔ جیسے توحید پرستی، شرک سے بےزاری اور اس کے خلاف جہاد، اللہ کی فرمانبرداری اور روز آخرت پر ایمان وغیرہ۔ لہذا جو کچھ ان کا دین تھا، آپ کو بھی وہی دین اختیار کرنا چاہیے، اسی ہدایت کی اتباع کیجئے اور شریعت ہر نبی کو الگ الگ اس کے زمانہ کے احوال، ظروف کے مطابق دی گئی ہے۔ اس آیت سے ایک اور اہم بات کا پتا چلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو حکم کسی بھی نبی کی شریعت میں مذکور ہو اور اللہ تعالیٰ نے یا رسول اللہ نے وہ حکم بیان کرتے وقت اس پر نکیر نہ فرمائی ہو۔ وہ حکم محمدیہ کے لیے بھی واجب الاتباع ہوگا۔ قرآن کریم میں اس کی مثال اعضاء وجوارح کا قصاص ہے۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح زخموں کا بھی ویسا ہی قصاص ہوگا۔ یہ تورات کا حکم ہے جسے قرآن نے سورة مائدہ کی آیت نمبر 45 میں بیان فرمایا ہے اور اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ لہذا یہ حکم امت محمدیہ کے لیے بھی قابل اتباع ہے اور رسول اللہ نے اس حکم کے مطابق دانت کے مقدمات کا فیصلہ فرمایا۔ اسی طرح تورات میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کو سنگسار کرنے کا حکم تھا۔ آپ کے پاس ایک ایسے ہی شادی شدہ یہودی اور یہودن کا مقدمہ لایا گیا تو آپ نے ان کے سنگسار کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا اے اللہ ! سب سے پہلے میں تیرے اس حکم کو زندہ کرتا ہوں جسے ان یہود نے مردہ کردیا تھا۔ (مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب رجم الیہود و اہل الذمۃ فی الزنا (مزید تفصیل سورة مائدہ کی آیت نمبر 44 کے حاشیہ 82 میں ملاحظہ فرمائیے) یعنی آپ نے بجائے نکیر کے اس حکم کو زندہ کرنے کی تحسین فرمائی۔ تو یہ رجم کا حکم امت محمدیہ کے لیے واجب الاتباع ہوا۔ اور احادیث رسول اللہ میں اس کی بہت سی مثالیں مل جاتی ہیں۔
92 اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی رسالت بھی تمام اقوام عالم کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے اور یہ قرآن بھی اسی طرح سب لوگوں کے لیے کتاب ہدایت ہے اس کے بعد نہ کوئی نبی یا رسول آنے والا ہے اور نہ ہی اللہ کی طرف سے تاقیامت کتاب نازل ہوگی۔
Ayah 6:9193 قرآن کا نزول بشر پر ؟ یہ خطاب یہود کو ہے جنہوں نے رسول دشمنی، بغض وعناد کی بنا پر ایک ایسی حقیقت کا انکار کردیا جو ان کے اپنے ہاں بھی مسلم تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں فرمائی۔ اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے دو طرح سے جواب دیئے ایک یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی پوری معرفت ہی نہیں کیونکہ نہ تو اللہ خود لوگوں سے کلام کرتا ہے اور نہ ہی اس کام کے لیے انسانوں کے لیے کوئی فرشتہ بھیجتا ہے۔ اس کی ممکنہ صورت یہی ہے کہ اللہ اپنا کلام فرشتوں کے ذریعہ صرف نبی پر نازل فرمائے۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ تو تم تسلیم کرتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) بشر تھے، آدم کی اولاد سے تھے اور ان کے ماں باپ بھی موجود تھے تو ان پر جو کتاب اتاری گئی تھی وہ کس نے اتاری تھی ؟ اگر یہ کتاب اللہ نے نہیں اتاری تھی تو پھر تم اسے اتنا سنبھال سنبھال کر کیوں رکھتے ہو ؟ اور اس کتاب میں جو ہدایت کی باتیں اور علم کی روشنی ہے کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور ایسی باتیں بتاسکتا ہے ؟ جو ہدایت کی باتیں اس کتاب میں موجود ہیں انہیں نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباؤ اجداد۔ پھر ایسی کتاب اللہ کے سوا کوئی اتار سکتا تھا ؟ تمہارا اس کتاب کا کچھ حصہ لوگوں کو بتانا اور اپنی خواہشات کے مطابق کچھ حصہ کو چھپانا یہ سب کچھ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب منزل من اللہ ہے اور تمہارے لیے حجت ہے ورنہ اگر یہ کسی انسان کی تصنیف ہوتی تو تمہیں ایسا کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔
خ بشر اور رسول کی بحثیں فضول ہیں ! یہ ایسے سوال تھے جن کا جواب نہ دینے میں ہی یہود نے اپنی عافیت سمجھی۔ کیونکہ اس کا جواب ان کے خلاف پڑتا تھا لہذا اللہ نے خود ہی اس کا جواب بتادیا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تورات تو اتارنے والا اللہ ہی ہے اور اس نے اسے ایک بشر ہی پر نازل کیا تھا۔ وہی فضول قسم کی بحثیں، مثلاً چونکہ فلاں بشر ہے اس لیے وہ نبی نہیں ہوسکتا یا چونکہ فلاں نبی ہے اس لیے بشر نہیں ہوسکتا۔ تو انہیں ان بحثوں میں ہی الجھا رہنے دیجئے۔ ایسے لوگ ہدایت کے طالب نہیں ہوتے۔
93۔ الف دور نبوی میں تورات کی صورت :۔ اس آیت کے اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے زمانہ میں جو تورات یہود کے پاس تھی وہ مجلد کتاب کی صورت میں نہیں تھی بلکہ الگ الگ اوراق کی صورت میں تھی اور یہود کے لیے ایسی صورت میں بددیانتی کرنا نسبتاً بہت آسان تھا وہ جن آیات کو چھپانا چاہتے وہ ورق ہی غائب کردیتے تھے اور جو کچھ اس کتاب میں تحریف کرنا اور من ما فی تاویل یا شرح کرنا مقصود ہوتی تو الگ نیا ورق لکھ کر اس میں شامل کردیتے تھے۔ رجم کی آیت یا رسول اللہ سے متعلقہ آیات کو وہ اسی طرح چھپا جاتے تھے کہ ایسے اوراق درمیان سے نکال کر انہیں غائب کردیتے تھے اور اس بات کی یعنی تورات کے الگ الگ اوراق پر لکھا ہونے کی تائید اس حدیث سے ہوجاتی ہے کہ ایک دفعہ سیدنا عمر کو ایسے چند اوراق مل گئے جنہیں انہوں نے رسول اللہ کے سامنے پڑھنا شروع کردیا۔ جس سے آپ کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار نمودار ہوگئے اور یہ حدیث اپنے مناسب مقام پر گزر چکی ہے۔
دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ تورات کی کئی آیات ایسی بھی تھیں جن کا صحیح مطلب علمائے یہود کو اس وقت معلوم ہوا جب قرآن کی تعلیم عام ہوئی۔ اس سے پہلے نہ علمائے ہود کو ان آیات کے مفہوم کا علم تھا اور نہ ان کے آباؤ اجداد کو۔
Ayah 6:9293۔ ب قرآن بابرکت کتاب کیسے ؟ یہ قرآن کریم ہی کے بابرکت ہونے کا نتیجہ تھا کہ اس نے عرب جیسی جاہل قوم کو، جو قبائلی عصبیت کی وجہ سے ہر وقت برسرپیکار اور لڑتی مرتی رہتی تھی۔ ایک مہذب قوم بنا کر چند ہی سالوں میں اس کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ ان کے اخلاق و عادات اس قدر اعلیٰ بن گئے کہ یہی جاہل، وحشی اور اجڈ قوم تمام اقوام عالم کی پیشوا بن گئی۔ بڑی بڑی طاقتوں کو سرنگوں کیا اور دنیا کے ایک کثیر حصہ پر قابض ہو کر ان میں علوم و تہذیب پھیلانے کا سبب بن گئی۔ قرآن کی تعلیم نے انہیں ذلت کی گہرائیوں سے نکال کر عزت کے بلند مقامات پر پہنچا دیا۔
94 قرآن کریم کے اللہ کا کلام ہونے پر چار دلائل :۔ اس سے پہلی آیت میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ ایک بشر پر اللہ کا کلام نازل ہوسکتا ہے۔ اس سے از خود یہ معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ جنہیں سب لوگ بشر تسلیم کرتے تھے پر اللہ کا کلام نازل ہوسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ کتاب قرآن فی الواقع اللہ کا کلام ہے تو اس پر چار دلائل پیش کئے گئے۔ ایک یہ کہ یہ کتاب اتنی خیر و برکت والی ہے کہ تمہاری زندگی کے ہر پہلو اور شعبے کے لیے تمہیں ہدایت فراہم کرتی ہے جو عقائد صحیحہ اور اخلاق فاضلہ اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی تعلیم دیتی ہے اور اس میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین اصول پیش کیے گئے ہیں۔ اور اس کے منزل من اللہ ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس کی بنیادی تعلیمات وہی ہیں جو سابقہ کتب سماویہ کی ہیں۔ کوئی نئی بات پیش نہیں کرتی بلکہ انہی چیزوں کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو پہلی کتب میں پیش کی گئی تھیں۔ تیسرے یہ کہ اس کتاب کا مقصد غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو خواب غفلت سے جھنجھوڑنا اور انہیں ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے اور آپ کو ہدایت کی گئی کہ آپ اس کام کا آغاز اس مرکزی شہر مکہ اور اس کے پاس کی بستیوں سے کیجئے اور چوتھی بات جو بطور نتیجہ بتائی گئی یہ ہے کہ اس کتاب سے ہدایت صرف وہ لوگ پائیں گے جو اپنی خواہشات نفس کے غلام نہ ہوں بلکہ اللہ اور روز آخرت کی باز پرس سے ڈرتے ہوں اور اس کی واضح علامت کے طور پر نماز کی باقاعدگی سے محافظت کرتے ہوں۔ اور یہ سب ایسی باتیں ہیں جو کسی انسان کی تصنیف شدہ کتاب میں نہیں ہوسکتیں۔
Ayah 6:9395 سب سے زیادہ ظالم کون ہے ؟ :۔ اس آیت میں سب سے بڑے ظالموں کی تین اقسام بیان فرمائیں ایک وہ جس نے کوئی بات تو خود تراشی ہو اور اللہ کے ذمے لگا دے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو شرک و بدعات کی مختلف اقسام کو ایجاد تو خود کرتے ہیں پھر انہیں شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس طرح ان رسوم و بدعات پر مذہبی تقدس کا خول چڑھا دیتے ہیں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اللہ کی آیات کا غلط مطلب نکال کر اور ان کی غلط تاویل کر کے غلط سلط فتوے دیتے ہیں اور اس کے عوض عارضی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جھوٹے نبی جنہوں نے آپ کے بعد اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا کریں گے حالانکہ آپ خاتم النبیین ہیں جیسے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حارث اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ایسے ہی دوسرے لوگ اور آپ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد تیس کے لگ بھگ ایسے کذاب اور دجال پیدا ہوں گے جو اپنی نبوت کا دعویٰ کریں گے (مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب قولہ ان بین یدی الساعۃ کذابین قریبا من ثلاثین) اور تیسرے وہ لوگ جو یہ دعویٰ کریں کہ ہم بھی قرآن جیسی چیز بنا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دفعہ کفار مکہ نے بھی کہا تھا کہ (لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ 31) 8 ۔ الانفال :31) حالانکہ جب قرآن نے ان کو ایسی ایک ہی سورت بنا لانے کا چیلنج کیا تو وہ اپنی بھرپور اور اجتماعی کوششوں کے باوجود اس کی نظیر لانے پر قادر نہ ہو سکے تھے۔
96 مندرجہ بالا اقسام کے ظالم اس لحاظ سے سب سے بڑھ کر ظالم ہیں کہ انہوں نے براہ راست اللہ پر الزام لگائے انہیں سزا بھی سب ظالموں سے بڑھ کر ہوگی۔ ان پر موت طاری ہوتے ہی فرشتے انہیں ڈانٹنا شروع کردیں گے اور نہایت شدت اور سختی کے ساتھ ان کی روحیں قبض کریں گے اسی وقت انہیں اپنی قدر و عافیت ٹھیک ٹھیک معلوم ہوجائے گی اور سب شیخیاں کر کری ہوجائیں گی اور اسی دن سے انہیں رسوا کرنے والے عذاب سے دو چار کردیا جائے گا۔
Ayah 6:9497 مرنے کے بعد انسان کی بےبسی :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مندرجہ بالا اقسام سے بھی بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار تصرف میں کسی دوسرے کو بھی شریک سمجھا جائے۔ اسے اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے، حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ ہمارے یہ معبود بت یا اولیاء و بزرگ اللہ سے سفارش کر کے ہمیں اخروی عذاب سے بچا لیں گے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ موت کے ساتھ ہی انسان کی اللہ کے حضور پیشی ہوجاتی ہے اس پیشی کے وقت نہ اس کا مال و دولت موجود ہوتا ہے نہ رشتہ دار نہ وہ بزرگ جن کے متعلق انہوں نے سستی نجات کا عقیدہ وابستہ کر رکھا تھا کیونکہ موت کے بعد انسان ویسے ہی تن تنہا قبر میں جاتا ہے جیسا کہ تن تنہا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا اور جیسے پیدائش کے بعد یہ مختلف قسم کے تعلقات پیدا ہوئے تھے۔ موت کے ساتھ ہی یہ سب رشتے کٹ جاتے ہیں اور صرف انسان کے اپنے اعمال پر ہی اخروی انجام کا دار و مدار ہوگا۔ موت کے بعد ان ظالموں کو یہ یاد ہی نہ رہے گا کہ دنیا میں ان کے تعلقات کس کس سے تھے اور یہ تعلقات کس کس نوعیت کے تھے۔
Ayah 6:9597۔ 1 نباتات کی روئیدگی میں اللہ کی قدرتیں :۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک اور قادر مطلق ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ وہ ہر قسم کے غلوں کے دانوں یا بیج کو اور ہر قسم کے پھلوں کی گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے غلہ کے بیج یا پھل کی گٹھلی کو جب زمین میں دبا دیا جاتا ہے پھر جب اس زمین کو سیراب کیا جاتا ہے تو یہ بیج یا گٹھلی پھٹ کردو حصوں میں بٹ جاتی ہے اور دو شاخیں نکلتی ہیں۔ ایک شاخ تو زمین کے اندر جڑ کی صورت میں نیچے کی طرف بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور دوسری شاخ کونپل بن کر زمین کو پھاڑ کر اس سے باہر نکل آتی ہے پھر اسی سے برگ و بار اور پھل پھول نکلنے شروع ہوجاتے ہیں اور اس بات کے باوجود کہ تخم ایک ہوتا ہے۔ زمین ایک، پانی ایک اور طبیعت ایک مگر زمین سے باہر نکلنے والی شاخ کے اثرات زمین کے اندر جانے والی شاخ سے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور باہر نکلنے والی شاخ کے آثار بھی کئی طرح کے ہیں۔ پتوں کی شکل اور ہے پھولوں کی اور پھلوں کی اور اور ہر بیج یا گٹھلی اسی پودے کے برگ و بار پیدا کرتا ہے جس کا وہ بیج یا گٹھلی ہوتی ہے یہ سب باتیں اللہ کی قدرت کی کمال کاریگری پر دلالت کرتی ہیں۔
98 آخروی زندگی پر دلیل :۔ یہ اللہ کے خالق ومالک اور قادر مطلق ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ وہ زندہ چیز سے مردہ اور مردہ چیز سے زندہ چیز پیدا کرتا ہے کوئی انسان یا کوئی دوسری مخلوق یہ دونوں کام نہیں کرسکتی۔ پھر جب صورت حال یہ ہے تو دوسرے اللہ کے اختیار و تصرف میں شریک کیسے بن جاتے ہیں۔ پھر مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرنے کی بھی کئی صورتیں ہیں مثلاً اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا جو بےجان چیز ہے پھر اس کی تمام ضروریات اسی مٹی یا زمین سے وابستہ کردیں۔ پھر یہ زندہ انسان مرنے کے بعد اسی مردہ مٹی میں چلا جاتا ہے۔ اسی حقیقت سے اللہ تعالیٰ نے معاد پر استدلال فرمایا ہے مثلاً زمین سے پودے اور درخت پیدا ہوتے ہیں جن میں زندگی کے آثار موجود ہوتے ہیں پھر یہی چیزیں زمین میں مل کر پھر مردہ بن جاتی ہیں۔ یا مثلاً مرغی سے انڈا پیدا ہوتا ہے پھر انڈا سے مرغی پیدا ہوتی ہے گویا زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا ہونے کی بیشمار مثالیں اس دنیا میں موجود ہیں اور یہ سب کام ایسے ہیں جو کسی انسان یا کسی دوسری ہستی کے بس کا روگ نہیں۔ اسی پر اخروی زندگی کو قیاس کیا جاسکتا ہے اور یہ سمجھنے میں کچھ دقت پیش نہیں آتی کہ انسان کے جسم کا مٹی میں مل کر مٹی بن جانے کے بعد اللہ اسے مٹی سے ہی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔