7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

وہی تو ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پیشتر ہواؤں کو خوشخبری کے طور پر بھیجتا ہے حتیٰ کہ وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ان بادلوں کو کسی مردہ علاقہ کی طرف چلاتے ہیں پھر اس سے بارش برساتے ہیں تو اسی مردہ زمین سے ہر طرح کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (بھی زمین سے) نکال کھڑا کریں گے۔61 شاید (اس مشاہدے سے) تم کچھ نصیحت حاصل کرو

60 خوف اور طمع سے پکارنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی تمام امیدیں اللہ سے وابستہ رکھے اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو اور ڈرنا اس بات سے چاہیے کہ کسی غلطی یا تقصیر کی وجہ سے کہیں اللہ کی بارگاہ میں مردود ہی نہ جاؤں۔ دونوں پہلوؤں کو بہرحال ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ تاہم اللہ سے حسن ظن کا پہلو غالب رہنا چاہیے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے فرمایا تم میں سے ہر شخص کو مرتے وقت اللہ سے حسن ظن رکھنا ضروری ہے۔ (مسلم۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا باب الامر بحسن ظن باللہ تعالیٰ ) 61 مردہ زمین کی زندگی سے بعث بعد الموت پر استدلال :۔ اکثر دہریت پسندوں اور مشرکین مکہ کی دوسری زندگی کے انکار پر یہ دلیل ہوا کرتی کہ ہر چیز جو زمین میں چلی جاتی ہے مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتی ہے پھر دوبارہ ہم کس طرح اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اس آیت میں ایسے لوگوں کی دلیل کا رد پیش کیا جا رہا ہے مثلاً یہ کہ ہر چیز جو زمین میں چلی جائے وہ مٹی نہیں ہوجاتی بلکہ مناسب موقع اور احوال سے اس میں زندگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی ایک مثال تو غلے کا دانہ ہے جو زمین میں دبا دیا جاتا ہے اور جب اس کی مناسب آبیاری کی جاتی ہے اور موسم موافق ہوتا ہے تو اگ آتا ہے مٹی میں مل کر مٹی نہیں ہوجاتا اور دوسری مثال یہ ہے کہ ایک زمین مدتوں سے بےکار اور بنجر پڑی ہے اس پر باران رحمت کا نزول ہوتا ہے تو جس جس درخت کے بیج اس میں کسی وقت گرے تھے اس مردہ زمین سے ان پھلوں کے بیجوں سے ان کے درخت اگ آتے ہیں وہ پڑے ہوئے بیج اس طویل مدت میں مٹی میں مل کر مٹی نہیں ہوگئے اور اگر ہو بھی گئے تھے تو مناسب حالات ملنے پر اگ آئے۔ مردہ بیجوں میں زندگی پیدا ہوگئی اور مردہ زمین میں بھی بارش سے زندگی پیدا ہوگئی کہ اس سے مختلف قسم کے پھل اور طرح طرح کی نباتات پیدا ہونے لگیں اسی طرح انسانی جسم مٹی میں مل کر مٹی ہو بھی جائے تو بھی مناسب حالات ملنے پر اس میں زندگی کے آثار پیدا ہوجائیں گے اور انسان کی دوبارہ زندگی کے لیے مناسب وقت نفخہ ئصور ثانی ہے اور حدیث میں آتا ہے کہ انسان کا جسم مٹی میں مل کر مٹی بن جاتا ہے صرف اس کی ریڑھ کی ہڈی کی دم جسے عجب الذنب کہتے ہیں باقی رہے گی اور یہی ہڈی بیج کا کام دے گی۔ نیز حدیث میں آیا ہے کہ جب صور میں دوسری بار پھونکا جائے گا تو لوگ زمین سے اس طرح اگ آئیں گے جیسے بارش سے نباتات اگ آتی ہے اور یہی اس آیت کا مطلب ہے۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور عمدہ زمین اپنے پروردگار کے حکم سے خوب سبزہ اگاتی ہے اور جو خراب ہوتی ہے اس سے جو کچھ تھوڑا بہت نکلتا ہے وہ بھی ناقص ہوتا ہے۔62 اسی طرح ہم اپنی آیات کو مختلف طریقوں سے ان لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جو شکر بجا لاتے ہیں

62 معاشرے میں دو قسم کے لوگ :۔ سابقہ آیت میں مردہ زمین کے زندہ ہوجانے سے اخروی زندگی پر استدلال کیا گیا ہے اور اس آیت میں مختلف قسم کے لوگوں کے دلوں کی کیفیت کو زمین کے مختلف طبقات کے مانند قرار دے کر لوگوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے یعنی جس طرح زمین کے بعض قطعات عمدہ زرخیز اور شاداب ہوتے ہیں اور بعض ردی ہوتے ہیں جن میں مفید نباتات کی بجائے جھاڑ جھنکار ہی پیدا ہوتا ہے حالانکہ ان سب پر بارش ایک ہی جیسی برستی ہے۔ اسی طرح لوگوں کی کیفیت ہے اور وحی الٰہی کی باران رحمت سے سلیم الفطرت لوگ تو خوب پھلتے پھولتے ہیں لیکن جن کے دلوں میں خبث بھرا ہوتا ہے۔ اس باران رحمت کے بعد ان کے اندر سے وہی خبث باطن جھاڑ جھنکار کی صورت اختیار کر کے باہر نکل آتا ہے اور انہیں اعتراضات اور استہزاء کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ اس مثال کے بعد اللہ تعالیٰ نے چند معروف انبیاء کی دعوت کا ذکر کر کے بتلایا کہ ان کی مخاطب قوم اسی طرح دو حصوں میں بٹ گئی ایک سلیم الفطرت لوگ تھے جو وحی الٰہی کی باران رحمت سے خوب برگ و بار لائے دوسرے خبیث سرشت والے، جن کے اندر کا کھوٹ اسی باران رحمت سے جھاڑ جھنکار کی صورت میں باہر نکل آیا۔ آخر کار اس خبیث عنصر کو اسی طرح چھانٹ کر پھینک دیا گیا جس طرح ایک مالی اپنے باغ سے جھاڑ جھنکار کو کاٹ کر پرے پھینک دیتا ہے۔
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ میں تم پر ایک بڑے 63 دن کا عذاب واقع ہونے سے ڈرتا ہوں

63 سیدنا نوح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے شرک کا آغاز کیسے ہوا تھا ؟ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی وفات کے بعد مدتوں ان کی اولاد راہ ہدایت پر قائم رہی پھر آہستہ آہستہ ان میں بگاڑ پیدا ہونے لگا اور یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ فساد فی الارض کی بنیاد شرک پر ہی اٹھتی ہے۔ ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق اس شرک کا آغاز اس طرح ہوا کہ اس قوم میں سے وقتاً فوقتاً پانچ بزرگ اور صالح قسم کے لوگ وفات پا گئے جنہیں دیکھ کر ہی اللہ تعالیٰ کی یاد آنے لگتی تھی جب یہ بزرگ فوت ہوگئے تو عبادت گزار لوگوں نے ان کے خلا کو بری طرح محسوس کیا شیطان نے انہیں پٹی پڑھائی کہ اگر تم ان بزرگوں کے مجسمے بنا کر سامنے رکھ لو تو تمہیں مطلوبہ فائدہ ہوسکتا ہے تمہارا اللہ کی عبادت میں اسی طرح دل لگا کرے گا جس طرح ان کی موجودگی میں لگا کرتا تھا۔ سادہ لوح لوگ شیطان کے اس فریب میں آگئے اور انہوں نے ان پانچ بزرگوں کے مجسمے بنا کر مسجدوں میں اپنے سامنے رکھ لیے۔ یہ لوگ تو ان مجسموں کو دیکھ کر اللہ ہی کی عبادت کرتے رہے مگر بعد میں آنے والی نسلوں نے انہی مجسموں کی پرستش شروع کردی اور جب سیدنا نوح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو ان کی قوم بری طرح ان پانچ بزرگوں، جن کے نام ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر سورة نوح میں مذکور ہیں کی پرستش میں پھنس چکی تھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة نوح) سیدنا نوح (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ :۔ نوح (علیہ السلام) کا مرکز دعوت عراق کا علاقہ تھا اور غالباً اس وقت دنیا کا صرف یہی علاقہ انسانوں سے آباد تھا اور ابتداًء دجلہ و فرات کا درمیانی علاقہ آپ کی تبلیغ کا مرکز بنا۔ ماسوائے سیدنا آدم (علیہ السلام) کے باقی تمام انبیاء کی دعوت کا آغاز شرک سے امتناع اور خالص اللہ کی پرستش سے ہوتا ہے اور ایک بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح کا آغاز سیدنا نوح (علیہ السلام) نے بھی اسی دعوت سے کیا اور ساتھ ہی اس بات پر متنبہ کردیا کہ اگر تم شرک سے باز نہ آئے تو تم پر سخت قسم کا عذاب واقع ہوگا۔
Ayahs 7:60–61

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں 64 نے کہا : ہم تو تجھے ہی صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

اس نے کہا : برادران قوم ! میں گمراہی میں پڑا ہوا نہیں بلکہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں

64 سرداروں کی مخالفت کی وجوہ :۔ انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت کی مخالفت میں عموماً سرداران قوم ہی پیش پیش ہوا کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ نبی کی دعوت قبول کرلیں تو انہیں ان مناصب یا اس مقام سے دستبردار ہونا پڑتا ہے جو معاشرے میں انہیں حاصل ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں جب نبی یہ دعوت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی کار ساز حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو اس سے از خود ان کے بتوں کی توہین ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کی اپنی عقلوں اور آباؤ اجداد کی عقلوں کی بھی توہین ہوجاتی ہے۔ لہذا یہ سردار قسم کے لوگ انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت پر فوراً بھڑک اٹھتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا 58؀ ) 7 ۔ الاعراف :58) اس طرح ان کا خبث باطن کھل کر سامنے آجاتا ہے پھر صرف یہی نہیں کہ یہ لوگ خود دعوت قبول نہیں کرتے بلکہ عام طبقہ کو بھی اس راہ سے روکتے اور قبول دعوت پر طرح طرح کی پابندیاں لگا دیتے ہیں اور ایسے لوگوں نے جو سیدنا نوح (علیہ السلام) کو جواب دیا تو ان کا استدلال یہ تھا کہ اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دینے اور کوئی اور دین اختیار کرنے سے بڑی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ لہذا صریح گمراہی میں ہم نہیں بلکہ تم ہو۔
Ayah 7:62

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

میں تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی 65 کر رہا ہوں کیونکہ جو کچھ مجھے اللہ کی طرف سے معلوم ہے اسے تم نہیں جانتے

65 نوح (علیہ السلام) نے جواب میں کہا کہ گمراہی میں میں نہیں بلکہ تم گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ اللہ کا رسول ہونے کی حیثیت سے اس کا پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں اور اگر تم میری دعوت قبول کرلو تو اس میں تمہاری ہی بھلائی اور خیر خواہی ہے ایک تو تمہاری دنیا اور آخرت سنور جائے گی دوسرے عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے۔
Ayah 7:63

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک ایسے آدمی کے ذریعہ آئی ہے جو تمہی 66 میں سے ہے ؟ تاکہ وہ تمہیں (برے انجام سے) ڈرائے اور تم نافرمانی سے بچو اور تم پر رحم کیا جائے

66 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی دعوت کے جواب میں منکرین کی طرف سے ایک ہی جیسے اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں ایسے ہی اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ تم ہمارے ہی جیسے آدمی ہو کر اللہ کے رسول ﷺ کیسے ہوسکتے ہو۔ اس مقام پر گو اس اعتراض کا جواب نہیں دیا گیا تاہم بہت سے مقامات پر اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ انسانوں کی ہدایت کا اس کے سوا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں کہ انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جائے جو انہی کی زبان میں انہیں اللہ کا پیغام پہنچا سکے۔
Ayah 7:64

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے نوح کو جھٹلایا تو ہم نے نوح کو اور اس کے ساتھیوں کو جو کشتی میں سوار 67 تھے بچالیا اور ان لوگوں کو غرق کردیا 68 جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ بلاشبہ 69 وہ اندھے لوگ تھے

67 انبیاء کے قصوں میں تکرار و اختصار کی وجہ :۔ نوح کا قصہ جس اختصار کے ساتھ یہاں بیان کیا گیا ہے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اور ان کی قوم میں جو سوال و جواب ہوئے وہ بس دو چار ملاقاتوں میں ہوگئے ہوں گے۔ حالانکہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی تھی۔ نوح (علیہ السلام) کا قصہ قرآن میں متعدد بار مذکور ہوا ہے اور ہر موقع پر کوئی نہ کوئی تفصیل مل جاتی ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ جس مقام پر موضوع کی نسبت سے جتنا ذکر درکار تھا اتنا ہی بیان کردیا گیا کیونکہ قرآن کا مقصود محض قصہ گوئی نہیں بلکہ اس وقت جو بات انسانی ہدایت کے لیے اہم ہو صرف اتنی ہی بیان کی جاتی ہے مثلاً یہاں یہ موضوع جاری ہے کہ انبیاء کو ہمیشہ سے جھٹلایا جاتا رہا۔ جھٹلانے والے لوگ قوم کے سردار ہوتے ہیں جو اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہتے ہیں بالآخر ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے جو انہیں تباہ کر کے رکھ دیتا ہے اس لیے یہاں اتنا ہی ذکر کیا گیا اور جہاں رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو مخالفین کے مظالم پر صبر کرنے کی تلقین مقصود تھی وہاں یہ بیان کیا گیا کہ نوح (علیہ السلام) نے تو ساڑھے نو سو سال تک صبر کیا تھا لہذا تمہیں بھی صبر کرنا چاہیے اور جہاں نوح کے نافرمان بیٹے کے غرق ہونے کا ذکر مقصود تھا نیز یہ کہ وہ کیوں غرق ہوا وہاں طوفان نوح (علیہ السلام) کی تفصیل بیان کی گئی تمام انبیاء (علیہ السلام) کے حالات کے متعلق قرآن میں آپ کو اسی انداز کا بیان ملے گا۔ 68 قوم نوح کی غرقابی :۔ ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں مٹھی بھر لوگ اور بعض اقوال کے مطابق صرف چالیس آدمی آپ پر ایمان لائے۔ جب نوح (علیہ السلام) باقی لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ یا اللہ ان میں سے اب کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑنا کیونکہ جس ہٹ دھرمی پر یہ اتر آئے ہیں، ان کی اولاد بھی اب فاسق و فاجر ہی بنے گی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کشتی تیار کرنے کا حکم دیا پھر جب سیلاب آنا شروع ہوا تو آپ نے اس سے ذرا پہلے اپنے پیروکاروں کو اس میں سوار کیا اور جانداروں کا ایک ایک جوڑا بٹھا لیا۔ پھر سیلاب اس وسیع پیمانے پر آیا جس سے یہ ساری کی ساری بدکار قوم ڈوب کر مرگئی۔ (نیز دیکھیے سورة ہود کی آیت نمبر 44 کا حاشیہ ) 69 اندھے اس لحاظ سے تھے کہ انہوں نے نہ حق و باطل میں تمیز کی نہ اپنے نفع کو سوچا بلکہ ایسے ہٹ دھرم واقع ہوئے تھے کہ اندھے ہو کر اپنی سرکشی اور رسول کی تکذیب اور بغاوت پر ڈٹے رہے مگر بت پرستی سے باز نہ آئے بلکہ ایک دوسرے کو تاکید کرتے تھے کہ دیکھو نوح (علیہ السلام) کے کہنے پر چل کر کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ نہ دینا۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا : اللہ کی عبادت کرو جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔70 کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں

70 سیدنا ہود کا مرکز تبلیغ :۔ طوفان نوح کے بعد بھی ایک مدت سیدنا نوح (علیہ السلام) زندہ رہے پھر اس طوفان کے تقریباً چھ سو سال بعد سیدنا ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کی طرف بھیجا گیا یہ سام کی اولاد میں سے تھے جو عاد عرب کی قدیم ترین قوم تھی، جس کے افسانے عرب میں زبان زد عام تھے اس قوم کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتا ہے اس کی شان و شوکت بھی ضرب المثل تھی اور دنیا سے اس کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی ضرب المثل بن گیا تھا۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ آثار قدیمہ کو عادیات کہتے ہیں اور جس زمین کے مالک باقی نہ رہے ہوں یا مدت سے بنجر پڑی ہو اسے عادی الارض کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا اصل مسکن احقاف کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور یمامہ کے درمیان الربع الخالی کے جنوب مغرب میں واقع ہے یہیں سے پھیل کر ان لوگوں نے یمن کے مغربی سواحل اور عمان اور حضرموت سے عراق تک اپنی طاقت کا سکہ رواں کردیا تھا۔ یہ قوم بڑی قد آور، مضبوط اور سرکش تھی۔ رہنے کے لیے زمین دوز شہروں کے شہر بسا رکھے تھے اور بت پرستی میں بری طرح پھنسے ہوئے تھے۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) نے انہیں بت پرستی سے منع کیا اور سمجھایا کہ یہ بت نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں لہذا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جو ہر چیز کا خالق ومالک ہے اور ہر قسم کے اختیارات و تصرفات صرف اسی کے قبضہ ئقدرت میں ہیں۔ لہذا انہیں اپنی اس غلط روش سے پرہیز کرنا چاہیے۔
Ayahs 7:66–67

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا : ہم تو تجھے کم عقل آدمی 71 دیکھتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

(ہود نے) کہا : اے میری قوم ! میں ناداں نہیں بلکہ میں تو سب جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں

71 زیادہ خداؤں کی ضرورت کا نظریہ اور سیدنا ھود پر کم عقلی کا الزام :۔ مشرکین کسی بھی قوم یا کسی بھی مقام سے تعلق رکھتے ہوں وہ عموماً اللہ تعالیٰ اور اس کی فرمانروائی کو بھی دنیا کے کسی بادشاہ اور اس کی حکمرانی کی طرح خیال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جیسے بادشاہ اکیلا اپنی مملکت پر فرمانروائی نہیں کرسکتا بلکہ اس نے اپنے بہت سے مددگار و معاون افسر اپنے ماتحت رکھے ہوتے ہیں جنہیں وہ کچھ اختیارات بھی تفویض کرتا ہے اور ان کی مدد ہی سے حکومت کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی بعض ہستیوں کو بعض چیزوں کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جن کی مدد سے وہ کائنات کی فرمانروائی کر رہا ہے، گویا وہ اللہ تعالیٰ کو بھی ایک عام انسان کی طرح خیال کرتے ہیں جو اپنی بادشاہی کے انتظام اور اسے چلانے کے لیے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے اور بعض ملکوں کے مشرکین یہ ممد و معاون ہستیاں فرشتوں کو قرار دیتے ہیں۔ بعض دیوی دیوتاؤں کو بعض سیاروں کی ارواح کو اور بعض اولیاء اللہ کو۔ ان کی سمجھ میں یہ آ ہی نہیں سکتا کہ اللہ اکیلا بھی ساری کائنات کا انتظام چلا سکتا ہے۔ اس لیے جب ہود (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ اللہ اکیلا ہی تمہارے سارے کے سارے کام سنوار سکتا ہے اسے کسی معاون کی ضرورت نہیں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ دو ہی باتیں ہیں یا تو تم کم عقل ہو جسے یہ موٹی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آرہی یا پھر تم جھوٹے ہو۔
Ayah 7:68

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امین خیرخواہ 72 ہوں

72 ہود نے جواب میں کہا کہ نہ میں نادان ہوں نہ جھوٹا ہوں بلکہ اس اللہ کا جسے تم بھی رب اکبر تسلیم کرتے ہو۔ پیامبر ہوں اور تمہیں اللہ ہی کا پیغام پہنچا رہا ہوں اپنے پاس سے کچھ نہیں کہہ رہا کہ خود ہی کوئی بات بناکر اللہ کے ذمے لگا دوں اور حقیقتاً میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ تمہیں کوئی روز بد نہ دیکھنا پڑے اور یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ میں ایک امین اور دیانت دار آدمی ہوں لہذا جو کچھ اور جتنا پیغام اللہ نے دیا ہے وہ بغیر کسی کمی بیشی کے تمہیں پہنچا رہا ہوں۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعہ آئی ہے جو تمہی میں سے ہے تاکہ وہ تمہیں (برے انجام سے) ڈرائے۔ اور (اللہ کا یہ احسان) یاد کرو۔ جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند 73 بنایا۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

73 قوم عاد کا قد و قامت اور ڈیل ڈول :۔ بعض روایات کے مطابق عاد کے لوگوں کے قد اوسطاً بارہ ہاتھ تھے اتنی ڈیل ڈول رکھنے والے انسانوں کی قوت اور طاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے پھر انہیں رزق کی فراوانی بھی حاصل تھی۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) نے اللہ کے احسان جتلا کر انہیں بتلایا کہ دیکھو نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بت پرستی نہ چھوڑی تو ان کا جو حشر ہوا وہ تمہارے سامنے ہے لہذا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اسی کی عبادت کرو۔
Ayah 7:70

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم ایک ہی اللہ کی عبادت کریں اور جنہیں ہمارے آباؤ اجداد پوجتے 74 رہے انہیں چھوڑ دیں ؟ اگر تو سچا ہے تو جس (عذاب) کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ وہ لے آ۔

74 تقلید آباء کا عذر :۔ ان نصائح کے جواب میں قوم نے وہی جواب دیا جو عام طور پر مشرکین دیا کرتے ہیں کہ ہم بھلا اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں جبکہ ہمارے اسلاف ہم سے بہت زیادہ نیک اور عالم تھے ہم تمہاری یہ بات کبھی نہ مانیں گے اور اگر تم فی الواقع سچے ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لاسکتے ہو تو لے آؤ۔ یہ یاد رہے کہ ایسے جواب صرف قوم کے سردار قسم کے لوگ دیا کرتے ہیں اور وہ ایسے ہٹ دھرم کیوں واقع ہوتے ہیں ؟ اس کی وجہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں باقی کچھ کمزور قسم کے لوگ ہر نبی پر ایمان لانے والے بھی ہوتے ہیں۔ یہی حال سیدنا ہود (علیہ السلام) کی قوم کا تھا۔
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

(ہود نے) کہا : تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور اس کا غضب ثابت ہوچکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے 75 ہیں جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری ؟ سو اب تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

75 کسی کو اختیارات تفویض ہونے کی کوئی علمی سند نہیں :۔ قوم کے سرداروں کو ہود نے جواب دیا کہ جب تمہاری سرکشی اور گستاخانہ بےحیائی اس حد تک پہنچ چکی ہے تو بس سمجھ لو کہ اب تم پر اللہ کا عذاب آنے ہی والا ہے۔ رہی تمہارے معبودوں کی بات جن میں سے تم کسی کو بارش کا دیوتا کہتے ہو کسی کو ہواؤں کا، کسی کو فصلوں کا کسی کو صحت کا اور کسی کو مال و دولت کا، تو یہ نام بھی تم نے یا تمہارے باپ دادوں ہی نے خود تجویز کیے تھے کسی آسمانی کتاب یا صحیفے میں یہ قطعاً مذکور نہیں کہ اللہ نے فلاں قسم کے اختیارات فلاں ہستی کو سونپ دیئے ہیں اور فلاں چیز کے اختیارات فلاں ہستی کو۔ ہمارے ہاں بھی ایسے نام بکثرت پائے جاتے ہیں مثلاً فلاں بزرگ غوث (فریاد رس) ہے فلاں ولی داتا ہے فلاں گنج بخش ہے فلاں مشکل کشا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس دور کے مشرک ایسی صفات کو دیوتاؤں، دیویوں، فرشتوں یا بعض ارواح کی طرف منسوب کرتے تھے اور ہمارے زمانہ میں یہ صفات بزرگوں کی طرف منسوب کردی جاتی ہیں خواہ وہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں۔ اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ ایسی باتوں کے لیے شریعت الٰہی میں کوئی سند نہیں ہے کہ میرا فلاں ولی یا بزرگ مشکل کشا ہوسکتا ہے اور میں نے اسے ایسے اختیارات دے رکھے ہیں۔
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنی مہربانی سے بچا لیا 76 اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ایمان لانے والے نہیں تھے

76 قوم عاد پر ٹھنڈی آندھی کا عذاب :۔ جب اس قوم کی سرکشی انتہا کو پہنچ گئی اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا چیلنج دے دیا تو ان پر تیز آندھی کا عذاب آیا جس میں شدید ٹھنڈک تھی۔ یہ آندھی ان کے زمین دوز گھروں میں گھس گئی اور مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی اور اس نے اس قوم کے ایک ایک فرد کو ان کے اپنے گھروں ہی کے اندر ہلاک کر ڈالا اور وہ تن و توش رکھنے والی اور اپنی قوت و طاقت پر گھمنڈ کرنے والی قوم اپنے گھروں میں یوں گری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔ اس طرح اس قوم کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا گیا رہے وہ چند لوگ جو سیدنا ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے تو سیدنا ہود (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی ایسے عذاب کی آمد سے پہلے ہی مطلع کردیا گیا تھا۔ وہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایک احاطہ میں محصور ہوگئے تھے اور یہ احاطہ آندھی کی زد سے باہر تھا لہذا یہ لوگ محفوظ و مامون رہے اور قوم ثمود بھی انہی کی نسل سے پیدا ہوئی جسے عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں اور آگے اسی قوم کا ذکر آ رہا ہے۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا : اللہ کی عبادت کرو جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح معجزہ 77 آچکا ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے اسے اللہ کی زمین پر چرنے دو اور اسے برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک درد ناک عذاب تمہیں آلے گا

77 سیدنا صالح (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ اور قوم ثمود :۔ قوم ثمود کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان واقع تھا انہیں قرآن کریم نے اصحاب الحجر بھی کہا ہے حجر ان کے ایک بارونق شہر کا نام تھا جو مدینہ سے تبوک کے راستے پر واقع ہے چناچہ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آئے تو مقام حجر پر اترے۔ کچھ صحابہ رضوان اللہ علہیم اجمعین نے جلدی سے وہاں کے کسی کنوئیں سے پانی لے کر آٹا گوندھ لیا تھا آپ نے اس گوندھے ہوئے آٹے کو پھینک دینے یا اونٹوں کو کھلا دینے کا حکم دیا اور جو پانی مشکوں میں بھرا گیا تھا اسے بہا دینے کا حکم دیا۔ پھر آپ نے صحابہ ؓ کو وہ کنواں دکھلایا جہاں سے صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ آپ نے فرمایا اگر پانی لینا ہے تو اس کنوئیں سے لے کر استعمال کرو پھر آپ نے جلد از جلد وہاں سے کوچ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ گنہگاروں کی بستیوں میں نہ جایا کرو مگر روتے ہوئے، اللہ سے ڈرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو عذاب ان پر آیا تھا کہیں تم پر بھی آن پڑے یہ کہہ کر آپ نے کجاوے ہی پر اپنا منہ چادر سے ڈھانک لیا۔ (بخاری۔ کتاب بدالانبیاء۔ باب قول اللہ والی ثمودا خاہم صالحا ) یہ قوم بھی بت پرستی میں مبتلا تھی صالح (علیہ السلام) نے کہا : لوگو ! ایک اللہ کے سوا تمہارا کوئی نہ حاجت روا ہے اور نہ مشکل کشا۔ لہذا تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنا چاہیے اور اسی سے فریاد کرنا چاہیے اور میں تمہیں تمہارے پروردگار کا رسول ہونے کی حیثیت سے یہ پیغام دے رہا ہوں۔ اللہ کی اونٹنی اور اس کے اوصاف :۔ انہوں نے کہا کہ اپنی نبوت کی صداقت پر کوئی حسی معجزہ ہمیں دکھلا دو تب ہم تمہاری بات تسلیم کرلیں گے آپ نے پوچھا کیسا معجزہ چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ اس پہاڑ سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہو پھر وہ ہمارے سامنے بچہ جنے تو ہم سمجھیں گے کہ واقعی تم اللہ کے رسول ہو اور تم پر ایمان لے آئیں گے۔ سیدنا صالح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تو پہاڑ پھٹا جس سے ایک بہت بڑے قد و قامت کی اونٹنی برآمد ہوئی جس نے ان کے سامنے بچہ جنا اس وقت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اس اونٹنی کو آزادانہ چلنے پھرنے دو کیونکہ یہ تمہارا مطلوبہ معجزہ اور اللہ کی نشانی ہے جہاں سے چاہے چرتی پھرے اور جہاں سے چاہے پانی پئے اب صورت حال یہ تھی کہ ایک تو اس علاقہ میں پہلے ہی پانی کی قلت تھی دوسرے یہ قد آور اور بہت بڑے ڈیل ڈول کی اونٹنی ایک دن میں اتنا پانی پی جاتی تھی جتنا ان کے سارے جانور پیتے تھے۔ اس لیے سیدنا صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ باری مقرر کرلو اس کنوئیں سے ایک دن تمہارے جانور پانی پیا کریں اور ایک دن یہ اونٹنی (جسے اللہ نے دوسرے مقام پر ناقتہ اللہ یعنی اللہ کی اونٹنی کہا ہے) پانی پیا کرے گی اور ساتھ ہی یہ بھی تنبیہ کردی کہ اگر تم نے اس اونٹنی سے کوئی برا سلوک کیا تو اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا۔
Ayahs 7:74–75

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب قوم عاد کے بعد تمہیں اللہ نے جانشین بنایا اور تمہیں اس علاقہ میں آباد کیا۔ تم زمین کے ہموار میدانوں میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بنا لیتے 78 ہو۔ لہذا اللہ کے احسانات کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد نہ 79 مچاتے پھرو

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

ہود کی قوم کے متکبر سرداروں نے ان کمزور لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لاچکے تھے، کہا : کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کا رسول ہے ؟ وہ کہنے لگے : جو کچھ اسے دے کر بھیجا گیا ہے ہم تو اس پر ایمان رکھتے ہیں

78 قوم ثمود کے گھروں کی ساخت :۔ ان لوگوں کے قد و قامت بھی بہت بڑے اور عمریں بھی بہت لمبی ہوتی تھیں اور اگر وہ عام لکڑی کی چھت والے مکان بناتے تو بنانے والے کی زندگی ہی میں کئی بار بوسیدہ ہو کر گرپڑتے تھے۔ عام روایت کے مطابق اس دور میں ان کی عمریں تین سو سے چھ سو سال کے درمیان ہوتیں اور لکڑی کے مکان زیادہ سے زیادہ ایک سو سال چلتے پھر بوسیدہ اور کمزور ہو کر گرپڑتے تھے اس لیے وہ اپنے مکان پہاڑوں میں بناتے۔ اعلیٰ درجے کے سنگ تراش اور انجینئر تھے۔ پہاڑوں کو اندر سے تراش تراش کر مکان بنا لیتے جن میں کھڑکیاں دروازے سب کچھ موجود ہوتا تھا اور ان کی پائیداری کی وجہ سے ایک طویل عرصہ وہاں گزار سکتے تھے اور کسی ہموار زمین پر مکان بناتے تو وہ بھی اتنا مضبوط ہوتا جیسے کوئی محل کھڑا کردیا گیا ہو۔ 79 قوم ثمود کا فساد فی الارض :۔ جب ان لوگوں کی اکثریت اپنا مطلوبہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائی تو صالح (علیہ السلام) نے انہیں اللہ کے احسانات یاد کرائے اور فرمایا : قوم عاد نے اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کی تو ان کا حشر تم نے دیکھ لیا پھر اللہ نے تمہیں ان کا قائم مقام بنایا تمہیں قوت دی اور اتنی طاقت اور خوش حالی دی کہ تم رہنے کے لیے معمولی گھروں کے بجائے محل بنا کر رہتے ہو تو اللہ کے ان احسانات کا شکریہ ادا کرو اور فساد فی الارض کے موجب نہ بنو۔ یہاں فساد فی الارض سے مراد کفر و شرک کو اختیار کرنا، انبیاء کی دعوت ہدایت کو ازراہ تکبر ٹھکرا دینا۔ دعوت قبول کرنے والوں کا استہزاء اور ان پر سختیاں روا رکھنا، اور ان سے محاذ آرائی ہے اور ان سب باتوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کی اپنی سرداریاں ختم نہ ہوجائیں۔ پھر اس قسم کے معاشرے میں یہ متکبر قسم کے بڑے لوگ غریبوں کا جس طرح استحاصل کرتے ہیں اور ان پر ظلم روا رکھتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے اور یہ سب باتیں فساد فی الارض کے ضمن میں آتی ہیں۔
Ayah 7:76

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

وہ متکبر کہنے لگے : جس بات پر تم ایمان لائے ہو، ہم تو اسے ماننے 80 والے نہیں

80 قوم کا اکڑ جانا اور استہزا :۔ یہ بھی استہزاء کی ہی ایک قسم ہے یعنی متکبر لوگ جو اپنے آپ کو انتہائی عقل مند سمجھتے تھے، ایمان لانے والے کمزور مسلمانوں سے پوچھتے تھے بھلا صالح (علیہ السلام) کی جس دعوت کی ہمیں سمجھ نہیں آرہی اور ہم اسے غیر معقول باتیں سمجھتے ہیں تم انہیں کیسے معقول سمجھ کر ایمان لے آئے ہو ؟ کمزور مسلمانوں نے اپنی ایمانی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ جس بات کو تم غلط کہتے ہو ہم اسی کو معقول اور برحق سمجھ کر ایمان لائے ہیں اور اسے واقعی رسول برحق سمجھتے ہیں۔ متکبر لوگ کہنے لگے ہم تو بہرحال تمہاری احمقانہ باتوں کو کبھی قبول نہیں کرسکتے۔
Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے اونٹنی کی کونچیں 81 کاٹ ڈالیں اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرتابی کی اور کہنے لگے : صالح ! اگر تو رسول ہے تو جس (عذاب) کی تو ہمیں دھمکی دیتا 82 ہے وہ لے آ

81 اللہ کی اونٹنی کا انجام اور اسے مارنے والا :۔ اس قوم نے جس معجزہ کا مطالبہ کیا تھا وہ ان کے لیے وبال جان بن گیا کیونکہ جتنا پانی ان کے تمام جانور پیتے تھے اتنا وہ اکیلی ہی پی جاتی تھی اور ان کے ہاں پانی کی قلت بھی تھی اسی لیے پانی کی باری مقرر کی گئی تھی اور جتنا سب جانور کھاتے تھے اتنا وہ اکیلی کھا جاتی تھی۔ مگر وہ اس اونٹنی کو برے ارادے سے ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے کیونکہ وہ دل سے یقین کرچکے تھے کہ صالح (علیہ السلام) سچا پیغمبر ہے اور اگر ہم نے اس اونٹنی سے کوئی برا سلوک کیا تو پھر ہماری خیر نہیں لیکن دل سے ہر کافر یہ چاہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اس اونٹنی کا وجود ختم ہوجائے تو بہتر ہے۔ آخر باہمی مشورے اور اتفاق رائے سے ان میں سے ایک تنومند اور سب سے زیادہ بدبخت انسان نے اس بات کا ذمہ لیا کہ اس اونٹنی کو میں ٹھکانے لگاتا ہوں چناچہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ کے دوران فرمایا کہ یہ شخص اپنی قوم کا ایک زور آور، شریر مضبوط شخص تھا جو اونٹنی کو زخمی کرنے کی مہم پر اٹھ کھڑا ہوا اس کا نام قدار تھا اور وہ اپنی قوم میں ایسے ہی تھا جیسے تم میں ابو زمعہ (جو سیدنا زبیر بن عوام کا چچا تھا) (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة والشمس) یہ قدار بن سالف سرخ رنگ کا، نیلی آنکھوں والا، بڑے ڈیل ڈول کا مالک اور ولدالزنا تھا۔ خود بھی بدکار تھا اور شہر کے مشہور و معروف نو بدمعاشوں کا سرغنہ تھا۔ اس نے اپنی آشنا عورت کی انگیخت ہی پر اونٹنی کو زخمی کرنے کا یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا البتہ اس نے دوسرے کافروں اور ان کی عورتوں سے اس کے متعلق مشورہ ضرور کرلیا تھا اور یہ سب لوگ اس بات پر خوش تھے کہ اس اونٹنی سے کسی طرح ہمیں نجات مل جائے۔ چناچہ جب اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو اونٹنی نے ایک ہولناک قسم کی چیخ ماری اور دوڑ کر اسی پہاڑ کی طرف چلی گئی جس سے برآمد ہوئی تھی اس کا بچہ بھی اپنی ماں کے ساتھ چلا گیا اور یہ دونوں معجزانہ طور پر اسی پہاڑ میں غائب ہوگئے۔ 82 اونٹنی سے نجات پا کر ان لوگوں نے خوشیاں منائیں اور صالح (علیہ السلام) نے بذریعہ وحی اطلاع پا کر ان لوگوں کو عذاب کی دھمکی دے دی اور فرمایا کہ بس اب تمہارے لیے تین دن کی مہلت ہے۔ تین دن تم مزے اڑا لو پھر اس کے بعد تم پر اللہ کا عذاب آنے ہی والا ہے۔ لیکن قوم نے صالح (علیہ السلام) کی اس تنبیہ کو کچھ اہمیت نہ دی اور آپ کو جھوٹا سمجھا اور کہا کہ جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو وہ اب لے بھی آؤ اور در پردہ اب سیدنا صالح (علیہ السلام) کے قتل کی بھی تیاریاں ہونے لگیں۔ منصوبہ یہ تیار ہوا کہ سب لوگ مل کر آپ کے گھر کا محاصرہ کریں اور مشترکہ طور پر یکبارگی حملہ کر کے ان کا کام تمام کردیں۔ بعد میں اگر کوئی پوچھے تو سب قسمیں کھا کر یہ کہہ دیں کہ ہمیں تو اس قصے کا کچھ علم ہی نہیں۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

آخر انہیں زلزلے 83 نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے

83 قوم ثمود کے کھنڈرات :۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح (علیہ السلام) کو بھی ان کے منصوبہ کی اطلاع دے دی اور ہجرت کا حکم بھی آگیا۔ تیسرے دن ان لوگوں کو پہاڑوں کی طرف سے ایک سیاہ بادل ان کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو بڑے خوش ہوئے کہ اب بارش ہونے والی ہے مگر یہ بارش برسانے والا بادل نہ تھا بلکہ ان کی جانوں پر مسلط ہوجانے والا اللہ کا عذاب تھا جس میں سیاہ غلیظ گندھک کے بخارات ملا ہوا دھواں تھا۔ ساتھ ہی کسی پہاڑ سے کوئی لاوا پھٹا جس سے شدید زلزلہ آگیا اور اس سے ہولناک چیخوں کی آواز بھی آتی رہی جس سے دل دہل جاتے اور کان پھٹے جاتے تھے اور غلیظ دھوئیں نے ان کے جسم کے اندر داخل ہو کر ان کے دلوں اور کلیجوں کو ماؤف کردیا اور انہیں سانس تک لینا بھی محال ہوگیا جس سے یہ ساری کی ساری قوم چیخ چیخ کر اور تڑپ تڑپ کر وہیں ڈھیر ہوگئی اور اس شدید زلزلے نے ان کے محلات کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکانات سوائے چند ایک سب چکنا چور ہوگئے۔ جب غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی اکرم ﷺ تھوڑی دیر کے لیے حجر کے مقام پر اترے تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو وہ کنواں بھی دکھلایا جہاں سے اونٹنی پانی پیتی تھی اس درہ کو فج الناقۃ کہتے ہیں۔ پھر کچھ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے کھنڈرات بطور سیر و تفریح دیکھنے چلے گئے تو اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے مقامات جہاں پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہو مقام عبرت ہوتے ہیں وہاں داخل ہو تو اللہ سے ڈرتے ہوئے اور روتے ہوئے داخل ہو اور وہاں سے جلد نکل جایا کرو مبادا ایسا عذاب تم پر بھی آجائے جو ان پر آیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب بدالانبیاء باب قول اللہ ( وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا 61 ؀) 11 ۔ ھود :61)
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح یہ کہتا ہوا ان کے ہاں سے چلے گئے : اے قوم ! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیرخواہی 84 بھی کی لیکن تم تو خیرخواہی کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے

84 ہجرت سے پہلے اپنی قوم کو خطاب :۔ حجر جیسے متمدن شہر کے کھنڈرات دیکھنے ہی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہوگی مگر ان میں سے صرف ایک سو بیس آدمی سیدنا صالح (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح (علیہ السلام) کو عذاب کی آمد کے وقت سے مطلع کردیا تھا چناچہ انہوں نے ان پیروکاروں کو لے کر فلسطین کا رخ کیا اور جاتے جاتے اپنی قوم کے لوگوں سے نہایت افسوس سے یہ خطاب کیا کہ میں نے تو تمہیں اللہ کا پیغام بھی پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیر خواہی کی بھی انتہائی کوشش کی تھی لیکن تم ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتے رہے اب تم جانو تمہارا کام۔ یہ کہہ کر آپ شہر سے باہر نکلے ہی تھے کہ اس قوم پر عذاب نازل ہوگیا فلسطین پہنچ کر آپ اپنے ساتھیوں سمیت رملہ کے قریب آباد ہوگئے اور کچھ عرصہ بعد اسی مقام پر وفات پائی۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور لوط نے جب اپنی قوم 85 سے کہا : تم بےحیائی کا وہ کام کرتے ہو جو تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے بھی نہیں کیا تھا

85 سیدنالوط (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے بھتیجے تھے اور ان پر ایمان لائے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جب عراق سے شام و فلسطین کی طرف ہجرت کی تو سیدنا لوط (علیہ السلام) ان کے ساتھ تھے اور بطور معاون تبلیغ رسالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے پھر آپ کو بھی نبوت عطا ہوئی اب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) تو مصر کی طرف چلے گئے اور سیدنا لوط (علیہ السلام) کو شرق اردن کی طرف بھیج دیا جس کا صدر مقام سدوم نامی شہر تھا یہی سیدنا لوط (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ تھا۔ سدوم کا آج کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ اغلب گمان یہی ہے کہ یہ شہر بحیرہ مردار میں غرق ہوچکا ہے جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے۔ قوم لوط میں دوسری اخلاقی برائیوں کے علاوہ سب سے بڑی برائی یہ تھی کہ یہ لوگ عورتوں کی بجائے مردوں ہی سے ان کی دبر میں جنسی شہوت پوری کرتے تھے۔ اس فحاشی کی موجد بھی یہی قوم تھی اور اس فحاشی میں اس قوم نے شہرت دوام حاصل کی۔ حتیٰ کہ ایسی فحاشی کا نام بھی قوم لوط کی نسبت سے لواطت پڑگیا یعنی فحاشی کی وہ قسم جس کے خلاف سیدنا لوط (علیہ السلام) نے جہاد کیا تھا۔ ممکن ہے کہ شیطان نے ان لوگوں کو اولاد کی تربیت اور اس کی ذمہ داریوں سے فرار کے لیے یہ راہ سجھائی ہو جیسا کہ بہت سے ادوار میں یہی بات قتل اولاد کی بھی محرک بنی رہی ہے۔ عمل قوم لوط اور تہذیب مغرب :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد دوسرے بدکردار لوگ بھی اس فحش مرض میں مبتلا رہے ہیں لیکن یہ فخر یونان کو حاصل ہے کہ اس کے فلاسفروں نے اس گھناؤنے جرم کو ایک اخلاقی خوبی کے مرتبہ تک پہنچا دیا اور رہی سہی کسر جدید مغربی تہذیب نے پوری کردی ہے جس نے علی الاعلان ہم جنسی ( Sex۔ Homo) کے حق میں پروپیگنڈا کیا یعنی اگر مرد، مرد سے اور عورت، عورت سے لپٹ کر اپنی جنسی خواہش پوری کرلیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور ملکی قانون کو ہرگز اس میں مزاحم نہ ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ کئی ممالک کی مجالس قانون ساز نے اس فعل کو جائز قرار دے دیا ہے۔
Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم شہوت رانی کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس آتے ہو۔ تم تو حد سے بڑھے 86 ہوئے لوگ ہو

86 عمل قوم لوط غیر فطری اور حیوانی سطح سے بھی گرا ہوا فعل ہے :۔ اس لیے کہ یہ فعل فطرت کی وضع کے خلاف ہے اور مرد اور عورت کے جنسی اعضاء کی ساخت ان کے اس فعل بد کی تردید کا کھلا ہوا ثبوت ہے سوا ازیں انسانوں کے علاوہ دوسرے جانور خواہ وہ درندے ہوں یا پالتو ہوں یا پرندے ہوں کوئی بھی ایسی مذموم حرکت نہیں کرتا کہ نر، نر پر کودنے لگے جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان حیوانات کی سطح سے بھی نیچے اتر آیا ہے۔ اب دیکھیے اگر مرد، مردوں سے اپنی شہوانی اغراض پوری کرلیں تو ایسے معاشرے میں عورتوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر عورتیں بھی عورتوں سے لپٹ کر یا کسی دوسرے جانور مثلاً کتے وغیرہ سے اپنی شہوت پوری کرلیں تو گویا سارا معاشرہ فحاشی کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔ پھر انسان کی نسل آگے کیسے چلے گی ؟ کیا یہ اپنی قوم کو اپنے ہاتھوں تباہ کرنے ہی کا ذریعہ نہیں ؟ یہ تو ایسے واضح نتائج ہیں جو ایسے معاشرے کا تصور کرنے سے ہی سامنے آجاتے ہیں اور جو اس کے دور رس نتائج ہیں وہ بیشمار ہیں۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اور اس کی قوم کو اس کے سوا کوئی جواب بن نہ آیا کہ انہوں نے یہ کہہ دیا کہ : اپنی بستی سے انہیں نکال دو یہ لوگ پاک باز 87 بنے پھرتے ہیں۔

87 قوم کے اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا لوط (علیہ السلام) پر ایمان لانے اور اس بدفعلی سے اجتناب کرنے والے کم ہی لوگ تھے یہ قوم جب اپنی اس بدفعلی کا کوئی عقلی جواز پیش نہ کرسکی تو الزامی جواب پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ ہم تو ہوئے گندے لوگ اور لوط اور اس کے پیروکار پاکباز رہنا چاہتے ہیں تو ان کا ہم گندوں میں کیا کام ؟ لہذا انہیں اپنی بستی سے نکال دینا چاہیے تاکہ یہ روز روز کی تکرار اور جھگڑا ختم ہوجائے۔
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

چناچہ ہم نے لوط اور اس کے اہل خانہ کو بچا لیا بجز اس کی بیوی کے کہ وہ باقی ماندہ 88 ہلاک ہونے والوں سے تھی

88 لوط کی بیوی کا کردار :۔ چونکہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی ان بدکرداروں سے پوری ساز باز رکھتی تھی۔ گھر میں کوئی مہمان آتا تو فوراً خفیہ طور پر اطلاع کردیتی اور ان لوگوں کو اس مہمان سے بدکرداری کرنے کی ترغیب دیا کرتی تھی لہذا وہ بھی قوم کے جرم میں برابر کی شریک تھی اور اسے بھی اسی عذاب سے دو چار ہونا پڑا جو اس قوم پر نازل ہوا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ لوط کی بیوی بھی انہی کی قوم سے تعلق رکھتی تھی اور لوط (علیہ السلام) بابل سے ہجرت کر کے یہاں مقیم ہوئے تھے۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور اس قوم پر (پتھروں کی) بارش 89 برسائی پس دیکھ لیجیے کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا ؟

89 قوم لوط کا انجام :۔ اس مقام پر صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ اس قوم پر ہم نے بدفعلی اور پھر سرکشی کی پاداش میں بری طرح کی بارش برسائی۔ لیکن قرآن کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کی سب بستیوں کو اٹھا کر بلندی سے زمین پردے مارا گیا۔ سیدنا جبرئیل (علیہ السلام) آئے انہوں نے زمین کے اتنے حصہ کو زمین سے علیحدہ کر کے اپنے پروں پر اٹھایا پھر اوپر سے زمین پر پٹخ دیا پھر اوپر سے اللہ تعالیٰ نے پتھروں کی بارش برسائی اس طرح اس بدکار قوم کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔ اب ایسا عذاب کیوں نہیں آتا ؟:۔ یہاں ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ ایسے جرائم تو آج کل بھی ہو رہے ہیں پھر ان پر کیوں ایسا عذاب نہیں آتا تو اس کی وجوہ درج ذیل ہیں۔ 1۔ جب اللہ کا نبی کسی قوم کو اس کی بدفعلی یا جرائم سے منع کرے لیکن قوم باز آنے کی بجائے اکڑ جائے اور اللہ کے رسول اور اس کی آیات کی تکذیب کرے اس کا مذاق اڑانے اور انہیں دکھ پہنچانے لگے تو اس کا جرم اصل جرم سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے حالانکہ بنیادی جرم کی حیثیت بنیادی ہی رہتی ہے بخلاف ان لوگوں کے جو محض اس ایک جرم میں مبتلا ہوتے ہیں لہذا یہ اتنے شدید مجرم نہیں ہوتے کہ انہیں فوراً ہلاک کردیا جائے اور ان کے لیے معذرت کی گنجائش کو باقی نہ چھوڑا جائے۔ اللہ کا عذاب صرف اس صورت میں آتا ہے جب معاشرے کی اکثریت اس جرم میں مبتلا ہوجاتی ہے کسی جرم کو جرم نہ سمجھنے یا اسے جائز قرار دینے یا کچھ افراد کے اس میں مبتلا ہونے ہی پر عذاب نہیں آجایا کرتا اور جب کسی معاشرے کی اکثریت اس جرم میں مبتلا ہوجائے تو اسے اس کے منطقی نتائج سے دو چار ہونا ہی پڑتا ہے اور انہی منطقی نتائج کا نام شریعت کی اصطلاح میں اللہ کی سنت جاریہ ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوا کرتی جیسے اس قوم کی نسل میں کمی یا انقطاع بھی عذاب کی قسم ہے۔ آج کل تہذیب مغرب کا علمبردار امریکہ ہے جہاں ہم جنسی کا قانون بھی پاس ہوچکا ہے اور وہاں گورے اور کالے کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرچکا ہے گورے یعنی حکمران قوم امریکہ کی پرانی آبادی یعنی کالے لوگوں سے بڑی نفرت کرتے ہیں اور انہیں مساوی شہری حقوق بھی نہیں دیتے۔ اب گورے لوگوں کی عورتوں میں یہ رجحان چل نکلا ہے کہ وہ کالے لوگوں کو شادی کے لیے پسند کرتی ہیں جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ گورے لوگ لواطت کے عادی ہوچکے ہیں اور کالے اس قسم کی فحاشی سے بچے ہوئے ہیں۔ گوری عورتوں کے اس رجحان نے حکمران قوم کے لیے یہ ایک سنگین مسئلہ کھڑا کردیا ہے اور یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک عذاب ہے۔ 2۔ عذاب کی طبعی توجیہات :۔ اللہ کا عذاب آج بھی مختلف زلزلوں، سیلابوں، طوفان باد و باراں اور خسف کی صورت میں آتا ہی رہتا ہے لیکن ہمارے ظاہر بین سائنس دان اور دانش وران قوم اس عذاب کی ایسی طبعی یا تاریخی توجیہات تلاش کر کے عوام کے سامنے پیش کردیتے ہیں کہ عوام کا ذہن اس حقیقت کی طرف منتقل ہی نہ ہونے پائے۔ جو قرآن ہمیں سمجھانا چاہتا ہے اور اس کے انداز بیان سے صاف طور پر واضح ہو رہا ہے۔
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور اہل مدین 90 کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب 91 کو (بھیجا) اس نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے لہذا ناپ اور تول پورا رکھا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح ہوجانے کے بعد اس میں بگاڑ پیدا نہ کرو۔ یہی بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم واقعی مومن ہو

90 شعیب (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ :۔ مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا اور جو تجارتی قافلے یمن سے ساحل سمندر کے ساتھ راستہ اختیار کر کے شام اور فلسطین جاتے نیز جو قافلے مصر سے اسی غرض کے لیے جاتے ہیں ان کے راستہ میں پڑتا ہے بلکہ اس قوم کی بستیاں ان دونوں تجارتی شاہراہوں کے چوراہوں میں واقع تھیں لہذا یہ علاقہ پورے کا پورا ایک تجارتی مرکز بن گیا تھا، اور مدین کے لوگ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے مدیان کی اولاد سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی نسبت سے انہیں آل مدیان اور ان کے علاقہ کو مدین یا مدیان کہا جاتا تھا یہ لوگ دین ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے متبع ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ مگر مرور زمانہ کی وجہ سے ان میں بھی کئی اعتقادی اور اخلاقی بیماریاں پیدا ہوچکی تھیں۔ اعتقادی خرابیوں میں سب سے بڑی خرابی تو شرک ہے جو اکثر اقوام میں پایا جاتا رہا ہے اور شرک کا اصل سبب اللہ کی حقیقی معرفت سے جہالت ہوتا ہے اور دوسری اخلاقی بیماری یہ تھی کہ اپنے تجارتی کاروبار میں ہر طرح کی ہیرا پھیریاں کرتے تھے۔ جھوٹ بول کر مال بیچنا، کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اور کسی کو دیتے وقت کم دینا اور لیتے وقت زیادہ لینا غرض تجارت میں ہر طرح کی بددیانتی کرتے تھے چیز دیتے وقت ناپ یا تول میں کیا ہتھکنڈے اختیار کیے جاسکتے ہیں جس سے لینے والے کو معلوم بھی نہ ہو سکے کہ اسے مطلوبہ چیز کم ملی ہے اور اس کے برعکس بھی۔ یہ ایسے معروف طریقے ہیں جن سے ہماری قوم بھی خوب واقف ہے اور ان کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ 91 لین دین میں ہیراپھیریاں :۔ یہ وہی سیدنا شعیب (علیہ السلام) ہیں جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے سسر تھے اور دس سال تک سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ان کی تربیت میں رہے تھے۔ آپ پہلے نبی ہیں جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی وفات کے تقریباً چھ سو سال بعد (یعنی تقریباً 1500 ق م میں) اہل مدین کی طرف بھیجے گئے چونکہ یہ لوگ اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے پیرو سمجھتے تھے لہذا سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے انہیں مخاطب بھی اسی بات کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا اور فرمایا کہ تمہارے پاس واضح دلیل یعنی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف یا تعلیمات تو آچکی ہیں پھر تم کیسے شرک میں مبتلا ہوگئے اور یہ تجارتی لین دین میں دغا بازیاں کیوں کرتے ہو ؟ اور اللہ اور اس کے بندوں دونوں کے حقوق تلف کر کے فساد فی الارض کا موجب بن رہے ہو ؟
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور (زندگی کی) ہر راہ پر راہزن بن کر 92 نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو دھمکاتے پھرو اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اسے اس کی راہ سے روکنے لگو اور اس سیدھی راہ میں کجی کے درپے ہوجاؤ۔ اور وہ وقت یاد کرو۔ جب تم تھوڑے تھے تو اللہ نے تمہیں زیادہ کردیا۔ اور دیکھو کہ فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے

92 ہیرا پھیریوں اور لوٹ مار کی قسمیں :۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تجارتی راستوں پر بیٹھ کر ان قافلوں کو لوٹنے کے درپے نہ ہوجاؤ پھر یہ لوٹنا بھی کئی قسم کا ہوتا ہے۔ ایک تو عام صورت ہے کہ جیسی کوئی رہزن کسی کمزور کا مال چھین لیتا ہے دوسرے تجارتی منڈی میں پہنچنے سے پیشتر اس سے مال کا سودا کرلینا جبکہ اس راہ رو کو منڈی کے بھاؤ کی خبر نہ ہو اس طرح فریب کے ساتھ راہرو سے سستا مال لے لینا بھی لوٹنے کے مترادف ہے اور اس سے رسول اللہ نے سختی سے منع فرمایا ہے اور تیسرا یہ کہ اپنی سیاسی پوزیشن کی بنا پر ان تاجروں کو بلیک میل نہ کیا کرو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نبی پر ایمان لانا چاہتے ہیں انہیں ڈراؤ دھمکاؤ نہیں یا ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے نبی کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ میں ٹیڑھ مت پیدا کرو جیسا کہ انبیاء کے مخالفین ہر زمانے میں ایسی حرکتیں کرتے اور چالیں چلتے آئے ہیں چناچہ مشرکین مکہ نے بھی آپ کی راہ روکنے کے لیے ایسے تمام حربے استعمال کیے تھے۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک فریق ایسا ہے کہ جو کچھ مجھے دے کر بھیجا گیا ہے، اس پر ایمان لے آیا اور دوسرا فریق ایمان نہیں لایا تو صبر کرو (92۔ الف) تاآنکہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

92۔ الف شہر میں داخل ہونے والے راستوں پر ان لوگوں کے بیٹھنے کے دو مقاصد تھے ایک یہ کہ جہاں داؤ لگتا مسافروں اور راہ گیروں کو لوٹ لیتے اور دوسرے جو لوگ شہر میں آنا چاہتے انہیں سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے پاس جانے سے روکتے بھی تھے، بہکاتے بھی تھے اور دھمکاتے بھی تھے اور کہتے کہ یہ شخص دغا باز اور فریبی ہے اس کا کہنا نہ ماننا نہ اس کی چالوں ہی میں آنا اور آپ کی تعلیم اور شریعت میں سینکڑوں قسم کی جاہلانہ نکتہ چینیاں کرتے اور عیب لگاتے تھے اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے معدودے چند لوگوں پر طرح طرح کی سختیاں بھی کرتے تھے کہ وہ ان کے دین سے باز آجائیں۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو بڑے نرم الفاظ میں پہلے اللہ کے ان پر احسانات یاد دلائے پھر فرمایا کہ اگر چند لوگ ایمان لے آئے ہیں تو انہیں پریشان کیوں کرتے ہو۔ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہے اللہ اس سے خود نمٹ لے گا تھوڑی دیر صبر تو کرو۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

اس قوم کے متکبر سرداروں نے کہا : شعیب ! ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا پھر 93 تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا شعیب (علیہ السلام) نے کہا : خواہ ہم اسے ناپسند کرتے ہوں تو بھی ؟

93 سرداران قوم کی دھمکی :۔ جب متکبر سرداروں کے انکار اور ہٹ دھرمی کے باوجود کچھ لوگ سیدنا شعیب پر ایمان لے آئے اور ایسے مومنوں کی ایک کمزور سی جمعیت سامنے آگئی تو سرداروں کی آنکھوں میں یہ لوگ کھٹکنے لگے لہذا انہیں دھمکی دینے پر اتر آئے گویا جس میدان میں عقلی طور پر مات کھاچکے تھے اب ڈنڈے کے زور سے اس مسئلے کو حل کرنے کے درپے ہوئے اور یہی جہالت کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے انہوں نے کہا شعیب ! بس دو ہی باتیں ہیں جن میں سے ایک تمہیں بہرحال قبول کرنا پڑے گی یا تو اس نئے دین کی تبلیغ سے باز آؤ اور وہی پرانا دین اختیار کرلو یا پھر ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس آبادی سے نکال دیں گے تمہارے توحید پر قائم رہتے ہوئے یہاں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم تمہارے دین میں دوبارہ چلے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا جبکہ اللہ اس سے ہمیں نجات دے چکا ہے۔ ہم سے یہ ممکن نہ ہوگا کہ ہم اس میں دوبارہ چلے جائیں، الا یہ کہ ہمارے 94 پروردگار ہی کی ایسی مشیئت ہو۔ ہمارے پروردگار نے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (پھر دعا کی) اے ہمارے پروردگار ! ہمارے 95 اور ہماری قوم کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردے اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

94 شعیب کا جواب :۔ شعیب نے جواب میں کہا تمہاری یہ دونوں باتیں ہمیں نامنظور ہیں وہ اس لیے کہ اگر ہم دوبارہ تمہارا دین اختیار کرلیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اور میرے ساتھی آج تک جھوٹ ہی بولتے رہے اور اللہ کے ذمے جھوٹ ہی لگاتے رہے پھر جس کام پر اللہ نے مجھے مامور فرمایا ہے اگر میں ہی یا میرے ساتھی ہی اس کی خلاف ورزی کرنے لگیں تو ہم سے بڑھ کر بےانصاف کون ہوگا ؟ اور انشاء اللہ ہمارا عزم یہی ہے کہ ہم اپنے دین پر نہایت عزم سے ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کی توفیق ہمارے شامل حال رہی تو ہم کبھی تمہارے دین میں جانا پسند نہیں کریں گے رہی دوسری بات کہ تم لوگ ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو گے تو ہمیں یہ بات بھی پسند نہیں ہاں اگر تم ہمیں مجبور کر کے زبردستی یہاں سے نکالنا چاہتے ہو تو کر دیکھو مگر ہوگا وہی جو کچھ اللہ ہمارے پروردگار کو منظور ہوگا۔ ہم اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہمارا سارا معاملہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ 95 جب حق و باطل کی محاذ آرائی اس حد تک پہنچ گئی کہ معاندین اور سرکش سردار سیدنا شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ملک بدر کرنے پر آمادہ ہوگئے اس وقت سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ ! اب وہ وقت آگیا ہے کہ ان ظالموں کو مزید پند و نصیحت کے فائدہ کا کچھ امکان باقی نہیں رہ گیا لہذا اب ان کے اور ہمارے درمیان تو خود ہی فیصلہ کر دے کہ اب آئندہ کے لیے ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا : اگر تم لوگوں نے شعیب 96 کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے

96 سچائی اختیار کرنے پر نقصان کا نظریہ :۔ سرداروں کے اس قول کے مخاطب وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو شعیب پر ایمان لائے تھے اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوں گے کہ اگر تم نے شعیب کا ساتھ نہ چھوڑا تو ہم تمہارا ناک میں دم کردیں گے اور جینا تم پر حرام کردیں گے لہذا اس کا ساتھ دینے سے باز آجاؤ۔ اور وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو ان منکرین کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتے تھے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم نے کاروبار میں سچ بولنے اور درست ناپ تول رکھنے کا طریقہ اختیار کرلیا جیسا کہ یہ شعیب کہتا ہے تو تمہیں تمہارے کاروبار اور تجارتی لین دین میں کبھی فائدہ نہ ہوگا اور ہمیشہ نقصان ہی اٹھاؤ گے اور بالآخر سارا کاروبار ہی ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ اور یہ نظریہ صرف اہل مدین کا نظریہ نہیں تھا بلکہ ہر زمانے میں مفسد قسم کے لوگوں کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت سیاست اور دوسرے دنیوی معاملات جھوٹ اور بےایمانی کے بغیر چل ہی نہیں سکتے اور آج بھی ہمارے تاجروں اور سیاست دانوں کی اکثریت کا یہی حال ہے حالانکہ یہی باتیں فساد فی الارض کی اصل جڑ ہیں اور انہی سے لوگوں کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور بالآخر ایسے دغا باز لوگ پورے معاشرہ کو لے ڈوبتے ہیں۔
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پھر انہیں ایک خطرناک زلزلے 97 نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

97 اہل مدین پر عذاب :۔ اہل مدین پر عذاب کے بارے میں قرآن کریم کی بعض دوسری آیات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر تین طرح کا عذاب آیا تھا ظلۃ۔ صیحۃ اور رجفۃ یعنی ان پر پہلے ایک ایسا بادل چھا گیا جس میں سے آگ کے شعلے اور چنگاریاں نکلنے لگیں پھر اسی سے ایک ہولناک اور جگر خراش کرخت قسم کی آواز پیدا ہوئی اور اسی دوران نیچے سے زلزلہ نے آلیا اس طرح یہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں موت کی آغوش میں چلے گئے اس حال میں کہ انہوں نے اوندھے پڑ کر اپنے سینوں کو زمین سے چمٹا رکھا تھا تاکہ انہیں اس عذاب سے کم سے کم تکلیف محسوس ہو۔ رہے شعیب اور ان کے ساتھی تو انہیں اللہ نے پہلے ہی اس بستی سے نکل جانے کا حکم دے دیا تھا۔
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جن لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا ان کی حالت یہ ہوگئی گویا وہ کبھی وہاں آباد ہی نہ ہوئے 98 تھے جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا بالآخر وہی گھاٹے میں رہے

98 اس عذاب کے بعد ان کی بستیاں یوں سنسان اور ویران ہوگئیں جیسے وہاں کبھی لوگ آباد ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو یہ دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو یہاں سے ملک بدر کردیں گے یا پھر تمہیں ہمارا ہی مذہب اختیار کرنا پڑے گا یہ تھا اللہ کے پیغمبر اور اس کی آیات کو جھٹلانے کا انجام کہ دھمکی دینے والے خود ہی نیست و نابود ہوگئے۔
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

شعیب انہیں یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا کہ : اے میری قوم ! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا تھا اور (ممکن حد تک) میں تمہاری خیر خواہی کرتا رہا۔ تو اب میں ان لوگوں پر کیسے افسوس 99 کروں جو انکار ہی کرتے رہے

99 عذاب سے پہلے قوم سے خطاب :۔ یعنی افسوس تو اس پر آتا ہے کہ جو بےچارا بھول چوک یا نادانستگی میں مارا جائے اور جو انجام سمجھانے کے باوجود آگے سے اکڑتا چلا جائے اور اسے اپنی خیر خواہی کی بات سننا بھی گوارا نہ ہو اس پر افسوس آ بھی کیسے سکتا ہے ؟ اس نے تو دیدہ دانستہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا تھا۔