7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 7:94–95

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے جب بھی کسی بستی میں کوئی نبی بھیجا تو وہاں کے رہنے والوں کو سختی اور تکلیف 100 میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کی روش اختیار کریں

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوشحالی میں بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے : یہ اچھے اور برے دن تو ہمارے آباء و اجداد پر بھی آتے رہے ہیں پھر یکدم ہم نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی

100 اس سورة کی آیت نمبر 59 سے لے کر آیت نمبر 93 تک چار رکوعوں میں پانچ مشہور و معروف انبیاء سیدنا نوح (علیہ السلام) سیدنا ہود (علیہ السلام) سیدنا صالح (علیہ السلام) سیدنا لوط (علیہ السلام) اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کا اور ان کی طرف سے دعوت، منکرین کی مخالفت ان کے سوال و جواب اور بالآخر ان معاندین کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے یہ سورة اعراف مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اسی قسم کے یا ان سے ملتے جلتے حالات سے دو چار تھے مشرکین مکہ کی طرف سے مخالفت اور معاندانہ سرگرمیاں، دھمکیاں ظلم، تشدد اور اسلام کی راہ روکنے کے تقریباً وہی طریقے اختیار کیے جا رہے تھے جو ان انبیاء سے پیش آ چکے تھے یہاں انبیاء کے یہ حالات بیان کرنے سے مقصد یہ تھا کہ ایک تو آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمیعن مخالفین کی ایسی سرگرمیوں پر صبر و ضبط سے کام لیں اور دوسرے یہ سمجھانا مقصود تھا کہ ظالموں کو بالآخر اپنے برے انجام سے دو چار ہونا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان لوگوں کے مظالم سے نجات دے دیتے ہیں اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ دنیوی عذاب سے متعلق اللہ کا ضابطہ :۔ مذکورہ بالا انبیاء کا الگ الگ اور تفصیلی ذکر کرنے کے بعد نبوت کی دعوت اور اس دعوت کے عواقب کا اجمالی ذکر فرمایا بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کا ضابطہ بیان فرمایا کہ جب بھی کوئی نبی کسی بستی میں بھیجا جاتا ہے اور وہ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس دعوت کی مخالفت کی جاتی ہے اور اکثر لوگ اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں تو ہم ان منکرین پر ہلکے ہلکے عذاب بھیج دیتے ہیں۔ مثلاً قحط اور خشک سالی کا عذاب یا کسی وبا اور بیماری کا عذاب یا معمولی قسم کے زلزلے یا سیلاب کا عذاب اور یہ عذاب ان لوگوں کو تنبیہ کے طور پر دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں پھر جب وہ ان تنبیہات کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے تو پھر ہم انہیں خوشحالی کی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں، ان کی افرادی قوت بھی بڑھ جاتی ہے، مال و دولت میں فراوانی ہوجاتی ہے اور عیش و آرام سے زندگی گزارنے لگتے ہیں تو انہیں پہلے کے چھوٹے چھوٹے عذاب اللہ کی طرف سے کوئی تنبیہ محسوس ہی نہیں ہوتے اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اچھے اور برے دنوں کا انبیاء کی دعوت کو قبول یا رد کرنے سے کیا تعلق ہے یہ تو سب اتفاقات زمانہ یا گردش ایام کا نتیجہ ہے اور ایسے اچھے اور برے دنوں سے ہمارے آباو اجداد بھی دو چار ہوتے رہے ہیں جب ان کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ انہیں کسی بھی حالت میں اللہ کی گرفت کا خطرہ محسوس نہیں ہوتا اور دنیا میں مست اور مگن ہوجاتے ہیں تو یہی وقت ہمارے عذاب کا ہوتا ہے اور ہمارا عذاب اس طرح یکدم ان پر آن پڑتا ہے کہ کسی کو اس طرح عذاب آجانے کا پہلے احساس تک نہیں ہونے پاتا۔ قریش مکہ پر قحط کا عذاب :۔ ایسا ہی ایک ہلکا عذاب قریش مکہ پر بھی بطور تنبیہ آیا تھا جس کا ذکر سورة دخان میں موجود ہے۔ ہوا یہ تھا کہ جب قریش مکہ کی معاندانہ سرگرمیاں حد سے بڑھ گئیں تو آپ نے ان کے حق میں بددعاء فرمائی کہ یا اللہ ان پر سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ جیسا قحط نازل فرما۔ چناچہ آپ کی دعا قبول ہوئی اور مکہ میں ایسا قحط پڑا جس میں یہ معززین قریش مردار، ہڈیاں اور چمڑا تک کھانے پر مجبور ہوگئے باہر سے بھی کہیں سے غلہ نہیں پہنچ رہا تھا اور ان لوگوں کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ جب آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے دھواں ہی دھواں نظر آتا۔ قحط سے تنگ آ کر ان لوگوں نے ابو سفیان کو آپ کے پاس بھیجا اور اس نے آ کر آپ سے درخواست کی کہ آپ تو کہتے ہیں کہ میں رحمت ہوں جبکہ آپ کی قوم خشک سالی سے تباہ ہو رہی ہے ہم آپ کو رحم اور قرابت کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ اس قحط کے دور ہونے کی دعا کیجئے اور اگر یہ مصیبت دور ہوگئی تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے بارش ہوگئی اتفاق سے باہر سے غلہ آنا بھی شروع ہوگیا پھر جب حالات میں تبدیلی آگئی تو ان متعصب لوگوں کے دل پھر برگشتہ ہونے لگے پھر سرداران قوم نے یہ کہنا شروع کردیا کہ زمانے میں ایسے اتار چڑھاؤ پہلے بھی آتے رہتے ہیں اگر اس مرتبہ قحط پڑگیا تو یہ کون سی نئی بات ہے لہذا ایسی چیزوں سے متاثر ہو کر اپنے دین کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ یہ واقعہ بخاری میں بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے کئی مقامات پر مذکور ہے۔
Ayahs 7:96–97

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کی نافرمانی 101 سے بچتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے تو جھٹلایا۔ پھر ہم نے انہیں ان کی کرتوتوں کی پاداش میں دھر لیا

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا یہ بستیوں والے اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ رات کے وقت ان پر ہمارا عذاب آجائے اور وہ سوئے ہوئے ہوں

101 اللہ کے فرمانبردار معاشرے پر برکتوں کا نزول :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا اصول بیان فرمایا ہے جس کی ظاہر بین عقل پرستوں کو سمجھ آ ہی نہیں سکتی البتہ تجربہ اور مشاہدہ دونوں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ جس علاقے میں اللہ کے احکامات کی جس حد تک تعمیل کی جا رہی ہو اس علاقے پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہوجاتا ہے موجودہ دور میں اس کی مثال کسی حد تک سعودی عرب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے کسی ایک حد کے قائم کرنے سے اتنی برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے جتنا چالیس دن کی بارش سے ہوتا ہے (نسائی۔ کتاب قطع السارق باب الترغیب فی اقامۃ الحد)
Ayah 7:98

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا وہ اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ چاشت کے وقت ان پر ہمارا عذاب آئے اور وہ کھیل 102 رہے ہوں

102 ان آیات سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کی گرفت یا عذاب دفعۃً آتا ہے، جبکہ لوگ مطلقاً اس سے غافل اور بیخبر ہوتے ہیں خواہ یہ عذاب دن کے وقت آئے جبکہ لوگ اپنے کاروبار، کام کاج یا کھیل تفریح میں مشغول ہوں اور خواہ رات کے وقت آجائے جبکہ وہ غفلت کی نیند سو رہے ہوں۔ یعنی موت کی طرح اس عذاب کا بھی کوئی وقت مقرر نہیں بلکہ موت کے آثار تو بسا اوقات محسوس ہونے لگتے ہیں مگر ایسی گرفت ہمیشہ ناگہانی طور پر آتی ہے اور دوسری یہ بات کہ جب ان لوگوں میں بھی کفر و عصیان اور سرکشی کی وہی امراض و علامات پائی جائیں جن کی بنا پر پہلی قوموں پر عذاب آیا تھا تو آخر ان پر کیوں نہیں آسکتا پھر ان لوگوں کے نڈر ہونے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔
Ayah 7:99

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بےخوف ہوگئے ہیں حالانکہ اللہ کی چال 103 سے وہی قوم بےخوف ہوتی ہے جو نقصان اٹھانے والی ہو

103 اوصاف ذمیمہ کی نسبت اللہ کی طرف کیسے ؟ یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے مکر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ایسے الفاظ مشاکلہ کی صورت میں عربی زبان میں عام مستعمل ہیں۔ مثلاً برائی کا رد عمل جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا اسے بھی برائی کا نام دیا جائے گا۔ جیسے (جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا 27؀) 10 ۔ یونس :27) منافقوں اور کافروں کے مکر کا ردعمل یا جو سزا انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی اسے بھی مکر ہی کا نام دیا جائے گا ایسے مقامات پر سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ ایسے الفاظ کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے مورد الزام صرف کافر، مشرک اور منافق وغیرہ ہی ہوں گے۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

جو لوگ ان بستیوں کے ہلاک ہونے کے بعد زمین کے وارث ہوئے کیا انہیں یہ رہنمائی 104 نہیں ملی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے بدلے ان پر (بھی) مصیبت ڈال سکتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر (بھی) کرسکتے ہیں کہ وہ سن ہی نہ سکیں

104 یعنی اگر وہ چاہتے تو اپنی پیش رو قوم کے انجام سے عبرت حاصل کرسکتے تھے اور یہ بات وہ خوب سمجھ سکتے تھے کہ جن جرائم کی پاداش میں پہلی قومیں ہلاک کی گئی ہیں اگر ہم میں بھی وہ جرائم پائے جائیں تو ہم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہوسکتی ہے اور ہمارے دلوں پر بھی ایسی ہی مہر لگ سکتی ہے جب ہمارے کان کوئی ہدایت کی بات سننے پر آمادہ ہی نہ ہوں۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں 105 ہیں جن کے احوال ہم نے آپ سے بیان کردیئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تھے مگر جس بات کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے اس پر ایمان لانا 106 انہوں نے مناسب نہ سمجھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے

105 یعنی سیدنا نوح (علیہ السلام) سیدنا ہود (علیہ السلام) سیدنا صالح (علیہ السلام) سیدنا لوط (علیہ السلام) اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے علاقہ ہائے تبلیغ رسالت۔ 106 دل پر مہر کب اور کیسے لگتی ہے ؟ آیت کے اس حصہ میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ کہ دل پر مہر کب اور کیسے لگتی ہے ؟ اور دوسرے یہ کہ اس مہر لگنے کی نسبت اللہ کی طرف کس لحاظ سے ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کے دل پر مہر یوں لگتی ہے کہ وہ جس بات کا ایک دفعہ انکار کردیتا ہے یا اسے جھٹلا دیتا ہے پھر اسے کوئی نشانی دیکھنے سے یا کسی کے سمجھانے سے حقیقت سمجھ میں آ بھی جائے تو محض اس لیے اپنے پہلے سے کیے ہوئے انکار پر ڈٹ جاتا ہے کہ اس سے اس کی انامجروح ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان اس حالت کو پہنچ جائے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے دل پر اللہ کی مہر لگنے کا وقت آگیا ہے اور آئندہ وہ حق بات تسلیم کرنے کے قابل ہی نہ رہے گا۔ مہر لگنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں ؟ اور مہر لگانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لیے ہے کہ اسباب کو اختیار کرنا انسان کے اپنے بس میں ہے اور اسی وجہ سے اسے سبب اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے اعمال کی جزا و سزا کا دار و مدار بھی اسباب کو اختیار کرنے کی بنا پر ہے۔ لیکن ان اسباب کے مسببات یا نتائج حاصل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے یہ نتائج اکثر اوقات تو اختیار کردہ اسباب کے مطابق ہی برآمد ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھار ان کے خلاف بھی برآمد ہوسکتے ہیں لہذا نتائج کی نسبت اسباب اختیار کرنے والے کی طرف بھی ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی۔ اور قرآن میں یہ نسبت دونوں طرح سے استعمال ہوئی ہے۔ بہرحال یہ نسبت اگر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہو تو بھی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کسی سبب اختیار کرنے والے مجرم کے عمل کے نتیجے میں ہے۔ اور حقیقتاً مجرم وہ ہے جس نے ایسے اسباب اختیار کیے تھے۔
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

ان میں اکثر لوگ ایسے تھے جن میں ہم نے عہد کا لحاظ نہ پایا اور ان 107 میں سے اکثر کو فاسق ہی پایا

107 عہد کو پورا نہ کرنا فسق ہے :۔ عہد سے مراد وہ فطری عہد بھی ہوسکتا ہے جو انسان کی سرشت میں موجود ہے اور یہ عہد آیت (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172؀ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) کے نام سے مشہور ہے جس کی رو سے ہر انسان نے عہد کیا تھا کہ وہ اپنے پروردگار کے سوا کسی دوسرے کو معبود نہیں بنائے گا اور وہ عہد بھی جو انسان دوسرے انسانوں سے کرتا ہے خواہ یہ لین دین کے معاملات سے تعلق رکھتا ہو یا نکاح و طلاق کے معاملات سے، اور وہ عہد بھی جو کوئی انسان ذاتی طور پر اپنے پروردگار سے کرتا ہے یعنی عہد خواہ کسی طرح کا ہو اسے توڑنے والا فاسق ہوتا ہے۔
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

ان کے بعد ہم نے 108 موسیٰ کو اپنے معجزات دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا مگر انہوں نے بھی ہمارے معجزات سے ناانصافی 109 کی۔ پھر دیکھ لو۔ فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا

108 یعنی مذکورہ پانچ معروف پیغمبروں کے حالات بیان کرنے کے بعد پھر وہی سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اس کا آغاز سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے تفصیلی حالات سے ہو رہا ہے۔ درمیان میں انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت اور منکرین دعوت کے انجام کے درمیانی مراحل اور ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ کا ذکر کیا گیا جو ان سب انبیاء (علیہم السلام) کے حالات میں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہے۔ 109 اللہ کی آیات سے فرعون کی ناانصافی :۔ ناانصافی کی بات یہ تھی کہ انہوں نے ان معجزات کو جادو کے کرشمے کہہ دیا۔ اور یہ ناانصافی ویسی ہی تھی جیسے قریش مکہ نے قرآن سن کر یہ کہہ دیا تھا کہ یہ تو کسی دوسرے آدمی کی تصنیف ہے اور اس جیسا کلام ہم بھی پیش کرسکتے ہیں پھر جب انہیں قرآن نے اس بات کا باقاعدہ طور پر چیلنج کردیا تو اپنی سر توڑ کوششوں کے باوجود ان کے فصیح وبلیغ ادیبوں سے کچھ بھی بن سر نہ آیا بالکل اسی طرح فرعون اور اس کے درباریوں نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو جادو کے کرشمے سمجھ کر اپنے ملک کے بلند پایہ جادوگروں کو آپ سے مقابلے کے لیے لاکھڑا کیا۔ پھر جب ان جادوگروں نے عصائے موسیٰ کی کیفیت دیکھی تو برملا اعتراف کرلیا کہ یہ جادو سے بالاتر کوئی چیز ہے اگر یہ جادو ہوتا تو ناممکن تھا کہ وہ ہماری دسترس سے باہر ہوتا۔
Ayah 7:104

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

موسیٰ نے فرعون 110 سے کہا : میں یقینا اللہ رب العالمین کا رسول ہوں

110 لقب فرعون کی حقیقت اور فرعون کی سلطنت کی وسعت :۔ اس دور میں مصر کے ہر بادشاہ کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا اور ان کا اصلی نام الگ ہوا کرتا تھا۔ فرعون کے لقب کے پیچھے یہ تصور کار فرما تھا کہ سب سے بڑے دیوتا سورج کی روح بادشاہ کے جسم میں حلول کر جاتی ہے اس لحاظ سے وہ بادشاہ اس زمین میں اسی سبب سے بڑے دیوتا یا مہا دیو کا جسمانی مظہر ہوتا ہے اسی بنا پر تمام فراعنہ زمین پر اپنی خدائی کا دعویٰ بھی رکھتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی زندگی میں دو فرعونوں سے پالا پڑا تھا ایک وہ فرعون جس نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی تھی اور اس کا نام رعمسیس تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے بھاگ کر دس سال کا عرصہ سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے زیر تربیت رہے اس دوران یہ فرعون مرچکا تھا اور اس کا بیٹا تخت نشین ہوچکا تھا۔ ان کے زمانہ کا صحیح صحیح تعین بہت مشکل ہے کیونکہ تاریخوں میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے تاہم یہ زمانہ سوا ہزار قبل مسیح سے لے کر ڈیڑھ ہزار قبل مسیح کے درمیان ہی ہوسکتا ہے جس فرعون کے سامنے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اپنے معجزات لے کر گئے تھے یہ وہی رعمسیس کا بیٹا تھا جس کی سلطنت بڑی وسیع تھی جو شام سے لے کر لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک پھیلی ہوئی تھی یہ فرعون اس وسیع علاقے کا صرف بادشاہ ہی نہ تھا بلکہ معبود بھی بنا ہوا تھا۔
Ayahs 7:105–107

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

میرے شایان یہی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق وہی بات کروں جو سچی ہو۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزات لے کر آیا ہوں۔ لہذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ 111 روانہ کردے

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا : اگر تو سچا ہے تو کوئی معجزہ لے کر آیا ہے تو اسے پیش کر

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈال دیا تو فوراً وہ ہوبہو ایک اژدہا بن گیا

111 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے فرعون سے مطالبات :۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے پاس پہنچ کر اسے دو باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ میں اللہ رب العالمین کا فرستادہ ہوں اور میرے اس بیان کی صداقت کے طور پر مجھے دو معجزے بھی عطا کیے گئے ہیں لہذا تم اپنی خدائی سے دستبردار ہو کر ایمان لے آؤ (جیسا کہ بعض دوسری آیات قرآنی میں اس کی وضاحت موجود ہے) اور دوسری یہ کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ہمراہ روانہ کردو تاکہ میں انہیں یہاں سے فلسطین کی طرف لے جاؤں) ان دو آیات میں کئی امور قابل غور اور وضاحت طلب ہیں مثلاً : 1۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ کیسے جرأت ہوئی کہ ایک اتنی عظیم الشان سلطنت کے مالک جابر اور متکبر بادشاہ کے سامنے نڈر ہو کر اسے ایمان لانے کی بھی دعوت دے دی اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ بھی کردیا بالخصوص ان حالات میں کہ وہ ان مصریوں کا ایک آدمی قتل کر کے یہاں سے بھاگے تھے اور انہیں اس بات کا خطرہ بھی تھا کہ کہیں فرعونی مجھے اسی سابقہ جرم میں گرفتار کر کے قتل نہ کردیں۔ فرعون کے سامنے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جرات کی وجوہ :۔ اس کا صحیح جواب تو یہی ہے کہ انبیاء و رسل کو جو ذمہ داری سونپی جاتی ہے انہیں اپنی جان پر کھیل کر بھی ذمہ داری ادا کرنا ہی پڑتی ہے چناچہ کئی انبیاء (علیہم السلام) اسی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے شہید بھی کردیئے گئے تاہم رسولوں کی حد تک ان کی جان بچانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ خود اپنے ذمے لے لیتے ہیں اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کے پاس آنے سے پیشتر اپنی جان کا خطرہ محسوس کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ یقین دہانی کرا دی تھی کہ وہ تجھے قتل نہ کرسکیں گے پھر آپ کو چند باتوں کی تائید مزید بھی حاصل تھی ایک یہ کہ آپ فرعون کے دربار کے ماحول سے پوری طرح واقف تھے اور اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ یہیں گزار کر گئے تھے اس لیے آپ پر دربار اور درباریوں کی وہ مرعوبیت طاری نہ ہوسکتی تھی جو ایک اجنبی کے لیے ہوسکتی تھی دوسرے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا کر کے اس کام میں میرا مددگار بنا دے آپ کی یہ دعا بھی قبول ہوئی اور جب آپ فرعون کے پاس گئے تو سیدنا ہارون (علیہ السلام) بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کو اصل خطرہ اس بات کے نتیجے سے قطعاً نہ تھا کہ آپ اللہ کا پیغام من و عن انہیں پہنچا دیں بلکہ اس بات سے تھا کہ میں ان کا ایک مفرور مجرم بھی ہوں تو اس جرم کی پاداش میں وہ مجھے پکڑ کر مار ہی نہ ڈالیں تو اس بات کی یقین دہانی اللہ تعالیٰ نے کرا دی کہ وہ ایسا ہرگز نہ کرسکیں گے۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا کہ میں اللہ رب العالمین کا فرستادہ ہوں تو وہ اس لحاظ سے تھا کہ فرعون اور فرعونی سب یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ اس کائنات اور اس میں موجود تمام چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کے تمام دیوی دیوتاؤں سے برتر ہے اور فرعون کا خدائی کا دعویٰ اس لحاظ سے تھا کہ وہ تمام لوگوں کا کار ساز اور حاجت روا اور مشکل کشا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں یہ بتلایا کہ جس اللہ کا میں رسول ہوں وہ تمہارے عقیدے کے مطابق بھی تمہاری خدائی سے بہت بلند وبالا ہے۔ 3 سیدنا یوسف علیہ اسلام نے اپنے والدین اور اپنے بھائیوں کو چار سو سال پیشتر کنعان سے مصر میں بلا لیا تھا یہیں ان کی نسل بڑھتی اور پھلتی پھولتی رہی اس وقت اس کی حیثیت ایک حکمران قوم کی تھی۔ کچھ مدت بعد ان میں وہ تمام امراض پیدا ہوگئے جو کسی قوم کی موت کا سبب بن جاتے ہیں اور جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو یہ بنی اسرائیل جو لاکھوں کی تعداد تک پہنچ چکے تھے فرعونیوں کے ماتحت محکوم قوم کی حیثیت سے نہایت ذلت کی زندگی بسر کر رہے تھے جس کا ذکر قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی اس مظلومانہ اور ذلت کی زندگی کا بچپن ہی سے شدید احساس ہوگیا تھا اور اسی بنا پر انہوں نے ایک اسرائیلی کی حمایت میں ایک فرعونی کو نادانستہ طور پر مار ڈالا تھا لہذا اللہ تعالیٰ نے بھی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کا دوسرا بڑا مقصد بنی اسرائیل کی آزادی قرار دیا۔
Ayahs 7:108–109

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور (بغل سے) اپنا ہاتھ نکالا تو وہ دیکھنے والوں کو چمکدار 112 دکھائی دینے لگا

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا : یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے

112 عصائے موسیٰ اور ید بیضاء :۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مطالبہ پر اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ تھوڑی دیر میں بہت بڑا اژدہا بن گیا اور اپنا منہ کھول کر فرعون ہی کی طرف لپکا۔ فرعون نے سخت دہشت زدگی کی حالت میں موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ اس سانپ کو سنبھال لے۔ آپ (علیہ السلام) نے اسے ہاتھ لگایا تو وہ پھر عصا بن گیا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبایا اور اسے نکالا تو وہ سفید اور چمکدار تھا۔ حالانکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنا رنگ گندمی تھا یہ ہاتھ اتنا تابدار ہو کر بغل سے نکلتا تھا جس سے آنکھیں چندھیانے لگتی تھیں۔ یہاں بعض عقل پرست فرقوں کی طرف سے ایک اور بحث بھی چل نکلی ہے کہ آیا اس طبعی دنیا میں ایسے خرق عادت واقعات کا ظہور ممکن بھی ہے یا نہیں ؟۔ دوسرے الفاظ میں اس بحث کا عنوان یہ ہے کہ اس کائنات میں انتظام کے لیے اللہ نے جو طبعی قوانین بنائے ہیں کیا وہ خود ان قوانین میں کسی وقت اپنی مرضی کے مطابق تصرف یا رد و بدل بھی کرسکتا ہے یا نہیں ؟ عقل پرست ایسے خرق عادت واقعات کا انکار کردیتے ہیں اور قرآن میں جہاں کہیں ایسے واقعات مذکور ہیں ان کی دوراز کار تاویلات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسی دوراز کار کہ قرآن کی عبارت جن کی متحمل ہی نہیں ہوسکتی ان حواشی میں اس طویل بحث کی گنجائش نہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے میری تصنیف عقل پرستی اور انکار معجزات نیز آئینہ پرویزیت حصہ اول و دوم)
Ayahs 7:110–111

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

وہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال 113 دے۔ اب تم کیا مشورہ دیتے ہو

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

پھر انہوں نے فرعون سے کہا کہ موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو التواء میں رکھو اور شہروں میں اپنے آدمی بھیج دو

113 اور بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر قرار دینے کی بات فرعون نے پہلے خود کی تھی بعد میں اس کے درباریوں نے ہاں میں ہاں ملا دی۔
Ayahs 7:112–113

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

جو ہر ماہر جادوگر کو اکٹھا کرکے تیرے 114 پاس لے آئیں

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے اور کہنے لگے : اگر ہم غالب رہے تو ہمیں کچھ صلہ بھی ملے گا ؟

114 فرعون اور درباریوں کی مرعوبیت :۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی باتیں سن کر فرعون اور فرعونیوں کو واقعی یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ یہ شخص اس ملک میں انقلاب لاسکتا ہے اور اس کی وجوہ کئی تھیں ایک یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انہی میں رہ کر تربیت پائی تھی فنون جنگ سیکھے تھے بلکہ ایک دفعہ حبش پر چڑھائی کے دوران انہیں سپہ سالار بنا کر بھی بھیجا گیا اور وہ کامیاب و کامران واپس آئے تھے۔ وہ جرأت مند دلیر اور مضبوط قد و قامت کے مالک تھے اور ان کی صداقت کے سب لوگ معترف تھے۔ دوسرے یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ وضاحت کردی تھی کہ میں اس اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوں جسے تم بھی رب اکبر تسلیم کرتے ہو۔ نیز یہ کہ میں بعینہٖ وہی بات کر رہا ہوں جو میرے پروردگار نے مجھے کہی ہے۔ تیسرے یہ کہ آپ کے معجزات نے فرعون اور فرعونیوں سب کو مرعوب اور دہشت زدہ بنادیا تھا۔ اور ان لوگوں نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ دیا تو یہ محض ایک طفل تسلی، دل کے بہلاوے، وقت کو ٹالنے اور عوام الناس کو اندھیرے میں رکھنے کی غرض سے کہی گئی کہ شاید کچھ مدت گزرنے پر حالات کوئی دوسرا رخ اختیار کر جائیں۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ کوئی جادوگر نہ کبھی کوئی سیاسی انقلاب لایا ہے نہ لاسکتا ہے۔
Ayah 7:114

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا۔ ہاں اور میرے دربار 115 میں منصب بھی ملیں گے

115 جادوگروں سے مقابلہ :۔ مقابلے کے لیے عید کا دن طے ہوا جس میں عوام الناس کو بھی شمولیت کی عام دعوت دی گئی تھی اس بھرے مجمع میں فرعون اپنے سب درباریوں سمیت حاضر ہوا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا ہارون (علیہ السلام) بھی بروقت پہنچ گئے اور جادوگروں کو چونکہ شاہی دربار سے بلاوا آیا تھا لہذا انہوں نے آتے ہی یہ سوال کردیا کہ انہیں ان کے ایسے بڑے مقابلہ کرنے کے عوض کچھ مزدوری بھی ملے گی ؟ اسی ایک بات سے ایک جادوگر اور ایک نبی کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ جادوگر جو کچھ کرتا ہے اپنے پیٹ کی خاطر کرتا ہے اور یہی اس کا پیشہ ہوتا ہے جبکہ انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ اپنی قوم سے یہی کہتے رہے کہ ہم تم سے کچھ نہیں مانگتے ہمارا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ خیر جادوگروں کے اس سوال پر فرعون نے جادوگروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ صرف مزدوری کی کیا بات کرتے ہو تمہیں میرے ہاں مناصب بھی ملیں گے اور فرعون نے ایسا جواب اس لیے دیا کہ یہ اس کی عزت اور بےعزتی کا مسئلہ بن گیا تھا۔
Ayah 7:115

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

(پھر مقابلے کے وقت) جادوگر کہنے لگے : موسیٰ ! تم ڈالتے 116 ہو یا ہم ڈالیں ؟

116 جادوگروں کو چونکہ یہی بتلایا گیا تھا کہ ان کا ایک بڑے جادوگر سے مقابلہ ہے لہذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی عزت و تکریم کی خاطر یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھی جیسا کہ ایسے مقابلے کے وقت یہی دستور رائج تھا۔
Ayah 7:116

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : تم ہی ڈالو۔ پھر 117 جب انہوں نے (اپنی رسیاں وغیرہ) پھینکیں تو انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں دہشت زدہ کردیا اور بڑا زبردست 118 جادو بنا لائے

117 اور موسیٰ (علیہ السلام) نے جو جواب دیا وہ ازراہ تکریم نہیں تھا نہ ہی اس لئے کہ ان کی نگاہ میں جادوگر کوئی قابل تعظیم چیز تھے بلکہ اس لیے کہ حق کی وضاحت ہو ہی اس صورت میں سکتی ہے کہ پہلے باطل اپنا پورا زور دکھا لے پھر اس کے بعد اگر حق غالب آئے تو سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ مثلاً اگر موسیٰ (علیہ السلام) پہلے اپنا عصا ڈال دیتے تو ممکن تھا کہ مقابلے کی نوبت ہی نہ آتی اور جادوگر پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتے تو لوگوں میں کئی طرح کے شکوک پیدا ہوسکتے تھے یا دوبارہ مقابلے کے لیے جادوگر وقت طلب کرسکتے تھے۔ 118 جادوگروں کا بہت بڑا جادو :۔ جادوگروں نے جب میدان میں اپنی لاتعداد لاٹھیاں اور رسیاں لا پھینکیں اور جادو کے ذریعے لوگوں کی نظر بندی کردی تو لوگوں کو سارا میدان متحرک سانپوں سے بھرا ہوا نظر آنے لگا لوگ دہشت زدہ ہوگئے کیونکہ اس شاہی دنگل کے لیے جادوگروں نے اتنی تیاریاں کی تھیں کہ اتنے بڑے جادو کی سابقہ ادوار میں نظیر ملنا مشکل تھی۔
Ayahs 7:117–119

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اب تو (بھی) اپنا عصا ڈال دے (عصا کا پھینکنا تھا کہ وہ اژدہا بن کر) فوراً ان کے جھوٹے شعبدے 119 کو نگلنے لگا

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

چناچہ حقیقت ثابت ہوگئی اور جو کچھ ان جادوگروں نے بنایا تھا وہ ملیا میٹ ہوگیا

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

فرعون اور اس کے ساتھی اس مقابلے میں مغلوب ہوئے اور انہیں نکو بن کر واپس جانا پڑا

119 مقابلے میں فرعون کی شکست :۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدہا بن کر ان رسیوں اور لاٹھیوں کے مصنوعی سانپوں کو نگلنے لگا اور چونکہ یہ مصنوعی سانپ حقیقتاً سانپ نہیں تھے بلکہ حقیقتاً وہ رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں محض لوگوں کی نظر بندی ہوئی تھی۔ اس لیے جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کے اژدہا نے نگلا وہ فی الحقیقت رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں۔ آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مطلب واضح ہوتا ہے اور اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں جہاں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا اژدہا پہنچتا تھا تو مصنوعی سانپ لوگوں کو پھر سے رسیاں اور لاٹھیاں ہی نظر آنے لگتے تھے اور وہ اژدہا صرف ان کی شعبدہ کاری کا خاتمہ کر رہا تھا جو جادوگر نظر بندی کے ذریعے لوگوں کو دکھلا رہے تھے۔
Ayahs 7:120–123

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگر بےاختیار 120 سجدے میں گرپڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے : ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے انہیں کہا : بیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا تم موسیٰ پر ایمان لے آئے یقینا یہ تمہاری ایک سازش تھی جو تم نے اس شہر (دارالسلطنت) میں کی ہے تاکہ اس کے باشندوں کو یہاں سے نکال دو ۔ سو تمہیں جلد ہی اس کا انجام معلوم ہوجائے گا

120 جادوگروں کا سجدے میں گرنا اور ایمان کا اعلان :۔ یعنی اس مقابلے میں جب فرعون اور اس کے درباری مغلوب اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) غالب آئے تو ان دونوں نبیوں نے سجدہ شکر ادا کیا انہیں دیکھ کر جادوگروں پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی بےاختیار ان کے ساتھ سجدہ میں گرگئے بعد میں اسی بھرے مجمع میں اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم اس اللہ رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کا پروردگار ہے اور یہ وضاحت اس لیے کی کہ فرعون بھی اپنے رب ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ رہی یہ بات کہ ان جادوگروں کے دلوں پر کیا گزری اور کیسے ایسی کیفیت طاری ہوگئی کہ وہ مجبوراً اپنے پروردگار کے سامنے سر بسجود ہوگئے اس کیفیت کی وضاحت کے لیے ہم یہاں معجزہ اور جادو کا فرق مختصراً بیان کرتے ہیں۔ معجزے اور جادو میں فرق :۔ 1۔ جادو میں اشیاء کی حقیقت نہیں بدلتی بلکہ لوگوں کی نظروں کو فریب دیا جاتا ہے جبکہ معجزے میں اس چیز کی حقیقت ہی بدل جاتی ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا معجزے سے زندہ سانپ بن جاتا تھا تبھی تو وہ ان جعلی سانپوں کو نگلنے لگتا تھا جبکہ جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپ ایک دوسرے کو نگل نہیں سکتے تھے اسی بنا پر جادوگر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے کیونکہ ایک ماہر فن ہونے کی حیثیت سے وہ یہ بات خوب جانتے تھے کہ جو چیز سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کی ہے وہ جادو کی انتہائی پرواز سے بھی ماوراء ہے۔ 2۔ جادو شدہ چیز کا اہلاک ممکن ہے جیسے سیدنا موسیٰ کے عصا نے اژدہا بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں یا لاٹھیوں کو نگل کر ان کا وجود ہی ختم کردیا تھا مگر معجزے میں ایسا اہلاک ممکن نہیں۔ وہ چیز یا تو اپنی سابقہ حالت پر لوٹ آتی ہے جیسے موسیٰ کا عصا پھینکنے پر اژدہا بن جانا پھر جب اسے پکڑتے تو وہ عصا بن جاتا تھا یا آپ (علیہ السلام) کا ہاتھ دوبارہ بغل میں ڈالنے پر اپنی سابقہ عام حالت پر آجاتا تھا۔ صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کی رگ کاٹی گئی تو وہ اسی پہاڑی میں چلی گئی جہاں سے نکلی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹا تو پھر جڑ کر پورا ہوگیا یا پھر اس حالت میں طویل مدت تک برقرار رہتی ہے جیسے چاہ زمزم یا عصا مارنے سے بارہ چشموں کا پھوٹنا۔ 3۔ اگر کوئی قوم اپنے نبی سے کوئی خاص معجزہ طلب کرے اور وہی معجزہ اس نبی کو عطا کردیا جائے پھر بھی وہ قوم اپنی ضد پر اڑی رہے تو اس قوم پر عذاب کا نازل ہونا یقینی ہوتا ہے۔ جیسے صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود پر عذاب آیا تھا یا دسترخوان کا مطالبہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا لیکن جادو کا انکار کرنے سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑتا خواہ مطالبے پر ہی کوئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہو۔ 4۔ معجزہ براہ راست اللہ کا فعل ہوتا ہے جس کا صدور نبی سے ہوتا ہے اور یہ کسی طبعی قانون یا اصل پر مبنی نہیں ہوتا جسے سیکھا اور سکھلایا جاسکے جبکہ جادو ایک فن ہے اور یہ سیکھا اور سکھلایا جاسکتا ہے اور اس کا ماحصل شعبدہ بازی ہوتا ہے جس سے لوگوں کو فریب دیا جاسکے اور اسے پیشہ بنا کر پیٹ کا دھندا کیا جاتا ہے۔ 5۔ جادوگر کی تمام زندگی خوف، دہشت، ایذا رسانی اور بدعملی سے وابستہ ہوتی ہے لہذا لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے اس سے خوف کھاتے اور مرعوب ہوتے ہیں جبکہ نبی کی تمام زندگی صداقت خلوص مخلوق خدا کی ہمدردی خیر خواہی بھلائی اور تقویٰ و طہارت سے عبارت ہوتی ہے نبی کبھی اس معجزے کو پیشہ نہیں بناتا بلکہ کسی اہم موقع پر صداقت و حق کی حمایت میں اس کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ لوگوں میں معزز اور محبوب ہوتا ہے۔
Ayahs 7:124–125

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی 121 پر چڑھا دوں گا

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

جادوگر کہنے لگے : ہم یقینا اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

121 فرعون کی دوسری چالاکی جادوگروں پر عتاب :۔ فرعون نے اپنے بچاؤ کے لیے پہلی تدبیر تو یہ کی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو عوام میں محض ایک جادوگر کی حیثیت سے متعارف کرایا جائے اور اسی لیے اس نے باہمی مشورے سے یہ شاہی دنگل رچایا تھا پھر جب اس مقابلے میں مات کھا گیا تو اپنی خفت اور ندامت کو مٹانے کے لیے دوسری تدبیر یہ اختیار کی کہ ان ایمان لانے والے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ تم پہلے ہی اس سازش میں شریک تھے موسیٰ ( علیہ السلام) تمہارا استاد ہے اور تم سب اس کے چیلے چانٹے ہو اور تم سب مل کر یہ چاہتے ہو کہ یہاں کے اصل باشندوں کو نکال کر اس ملک پر قبضہ کرلو اس معرکے میں جس انداز سے تم نے فوراً اپنی شکست تسلیم کرلی ہے اس سے یہی کچھ معلوم ہوتا ہے لہذا میں تمہیں اس جرم کی قرار واقعی سزا دوں گا اور اس اعلان سے اس کے دو مقصد وابستہ تھے ایک یہ کہ عوام الناس کہیں فی الواقع اللہ کا رسول نہ سمجھنے لگیں، وہ اسے محض ایک جادوگر ہی سمجھیں اور دوسرے یہ کہ اگر کوئی ان پر ایمان لایا تو اس کا بھی وہی حشر ہوگا جس کا ان جادوگروں کے متعلق اعلان کیا گیا ہے۔
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور ہماری کون سی بات تجھے بری لگی ہے بجز اس کے کہ جب ہمارے پاس پروردگار کی نشانیاں آگئیں تو ہم ان پر 122 ایمان لے آئے (پھر انہوں نے دعا کی کہ) اے ہمارے پروردگار ! ہم پر صبر 123 کا فیضان کر اور اس حال میں موت دے کہ ہم فرمانبردار ہوں

122 جادوگروں کی ایمانی جرأ ت :۔ فرعون کی یہ تیسری تدبیر بھی بری طرح ناکام ہوگئی وہ چاہتا یہ تھا کہ جادوگروں کو جسمانی عذاب اور قتل کی دھمکی دے کر اس سازش کے الزام کا اعتراف کروا لے لیکن جادوگروں نے اپنے آپ کو ہر سزا کے لیے پیش کر کے یہ ثابت کردیا کہ ان کا یہ ایمان لانا کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ اعتراف حق کا نتیجہ ہے یاد رہے کہ یہ وہی جادوگر ہیں جو مقابلے سے پہلے فرعون سے یہ پوچھ رہے تھے کہ اگر ہم نے اپنے مذہب کو موسیٰ (علیہ السلام) کے حملے سے بچا لیا تو ہمیں کچھ انعام و اکرام بھی ملے گا ؟ اور اب ایمان لانے کے بعد ان کی کیفیت یہ ہوگئی کہ وہ فرعون کی ہر سزا کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں دوسری طرف وہی فرعون جو انہیں انعام و اکرام کے علاوہ کرسیاں (اعلیٰ مناصب) بھی دینے کا وعدہ کر رہا تھا اس مقابلے کے فوراً بعد ان کا جانی دشمن بن گیا۔ 123 یعنی جس پروردگار کی نشانیوں پر ایمان لانے سے ہم تیری نگاہ میں مجرم ٹھہرے ہیں ہم اسی سے التجا کرتے ہیں کہ وہ تیری سختی اور ظلم و ستم پر ہمیں صبر کی توفیق بخشے اور راہ مستقیم پر قائم رکھے ایسا نہ ہو کہ ہم گھبرا کر کوئی بات اس کی تسلیم و رضا کے خلاف کر گزریں۔
Ayahs 7:127–128

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور فرعون کی قوم 124 کے سردار فرعون سے کہنے لگے : کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ زمین میں فساد مچاتے پھریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں وہ کہنے لگا : میں ان کے بیٹوں کو مروا ڈالوں گا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دوں گا اور ہمیں ان پر پوری 125 قدرت حاصل ہے۔

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے اور انجام (خیر) تو پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے

124 لوگوں کا ایمان لانا اور فرعونیوں کو بغاوت کا خطرہ :۔ فرعون کی اس تدبیر کا بھی الٹا ہی اثر پڑا اور بہت سے اسرائیلی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے حتیٰ کہ چند قبطی (فرعونی) بھی آپ پر ایمان لے آئے تو فرعونیوں کے لیے ایک تشویشناک صورت حال پیدا ہوگئی۔ وہ فرعون سے کہنے لگے اس صورت حال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہیں یہ سب مل کر ملک میں بغاوت نہ کھڑی کردیں۔ اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ نہ دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے اور بھی کئی دیوتا تھے جن کی پرستش کی جاتی تھی۔ ایک تو فرعون نے ہر جگہ عبادت کے لیے اپنے مجسمے تیار کرا کے نصب کرا رکھے تھے۔ دوسرے قرآن سے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم گؤ سالہ پرستی میں مبتلا تھی یعنی بیل کی پوجا کرنا ان کا مذہبی شعار بن چکا تھا اور وہ سورج کے علاوہ اور بھی کئی ستاروں کی روحوں کے فرضی مجسموں کو پوجتی تھی۔ 125 بنی اسرائیل کو نبیوں کے قتل کی دوسری بار سزا :۔ بنی اسرائیل پر بیٹوں کے قتل کا عذاب دو بار مسلط کیا گیا۔ پہلی دفعہ تو فرعون رعمسیس نے ایسا آرڈر نافذ کیا تھا جب اسے نجومیوں نے بتلایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیری سلطنت کا تختہ الٹ دے گا چناچہ فرعون نے بنی اسرائیل کے ہاں سب پیدا ہونے والے بیٹوں کے قتل کی مہم کا آغاز کیا مگر جو کچھ اللہ کو منظور تھا وہ ہو کے رہا۔ جس بچے کو اس سلطنت کا تختہ الٹنا تھا اللہ تعالیٰ نے ایسا بندوبست کردیا کہ اس کی تربیت اور پرورش اسی فرعون کے گھر میں ہوتی رہی اور دوسری بار اسی فرعون کے بیٹے منفتاح نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چل کر اسی بیٹوں کے قتل والی مہم کو شروع کردیا جس کا مقصد یہ تھا کہ کچھ مدت بعد بنی اسرائیل کی نسل ہی کو ختم کردیا جائے وہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو لونڈیاں بناکر ان سے طرح طرح کی بیگار لیا کرتے تھے اس طرح بزعم خود ان لوگوں نے اپنی سلطنت کو اور اپنے آپ کو آنے والے خطرے سے بچانے کی تدابیر مکمل کرلیں۔
Ayahs 7:129–130

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ موسیٰ سے کہنے لگے : تمہارے آنے سے پہلے بھی ہمیں دکھ دیا جاتا تھا اور تمہارے آنے کے بعد بھی دیا جارہا ہے موسیٰ نے جواب دیا : عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک 126 کردے گا اور اس سر زمین میں تمہیں خلیفہ بنادے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

پھر ہم نے آل فرعون کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید وہ کوئی سبق حاصل کریں۔

126 بنی اسرائیل پر مصائب صبر کی تلقین اور وعدہ فتح ونصرت :۔ جب بنی اسرائیل کو دوبارہ ایسی سخت آزمائش میں ڈال دیا گیا وہ سخت پریشان ہوگئے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کے طور پر کہنے لگے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم پر یہی ظلم و ستم ہوتا رہا اور اب تم پر ایمان لانے کی بعد بھی ہم دوبارہ وہی ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کا ظلم توڑ کے رکھ دیتا ہے بس تم اللہ سے مدد مانگتے رہو عنقریب وہ تمہارے اس دشمن کو ہلاک کر کے تمہیں اس سرزمین میں حکومت عطا کرے گا پھر تمہاری ایک دوسرے انداز سے آزمائش ہوگی آج تمہاری آزمائش سختیوں اور مظالم سے ہو رہی ہے کہ تم صبر سے برداشت کرتے ہو یا نہیں پھر تمہیں حکومت عطا کر کے دیکھے گا کہ تم حاکم بن کر کیسے کام کرتے ہو۔ واضح رہے کہ جس دور میں یہ سورة نازل ہوئی اس دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ایسے ہی مصائب و شدائد کے دور سے گزر رہے تھے اور بمصداق گفتہ آید در حدیث دیگراں، صحابہ کرام ؓ کو بھی صبر کی تلقین کی جا رہی ہے اور ان سے حکومت ملنے کا وعدہ فرمایا جا رہا ہے۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جب انہیں کوئی بھلائی پہنچتی تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق 127 تھے اور جب کوئی تکلیف پہنچتی تو اسے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے۔ حالانکہ نحوست تو اللہ کے ہاں ان کی اپنی تھی۔ لیکن ان میں اکثر لوگ یہ بات سمجھتے نہ تھے

127 یہ ویسی ہی تنبیہات ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ چھوٹے موٹے عذاب بھیج کر لوگوں کی آزمائش کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں یا نہیں ان تنبیہات کا نتیجہ بھی ان کے حق میں صفر ہی رہا جب بھلے دن آتے تو کہتے کہ یہ ہماری عقل مندی اور حسن تدبیر کا نتیجہ ہے اور ہم فی الواقع اس بھلائی کے مستحق تھے اور جب برے دن آتے تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے اصحاب کو مطعون کرنے لگتے کہ ان لوگوں کی نحوست سے ہمیں یہ برے دن دیکھنے نصیب ہوئے ان کے اپنے گناہوں کی طرف ان کی نظر جاتی ہی نہ تھی۔ حالانکہ یہ بات تو اللہ کے علم میں ہے کہ ان کی نحوست کے اصل اسباب کیا تھے ؟
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

نیز وہ موسیٰ سے کہتے کہ : ہمیں مسحور کرنے کے لیے جو بھی معجزہ تو ہمارے 128 پاس لائے گا ہم تیری بات کو ماننے والے نہیں

128 مصر میں قحط کا عذاب :۔ ان کی عقل پر کچھ ایسے پتھر پڑگئے تھے کہ قحط اور خشک سالی کے مصائب کو بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے جادو کا نتیجہ قرار دے رہے تھے حالانکہ جادوگر میں ایسی ہرگز کوئی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے جادو کے اثر سے کسی علاقہ پر قحط یا خشک سالی مسلط کر دے اس کے باوجود وہ یہی کہتے تھے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) ! تم ہم پر کیسا بھی جادو کردو ہم کبھی تمہاری بات تسلیم نہیں کریں گے۔
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

آخر ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون 129 کا عذاب ایک ایک کرکے مختلف وقتوں میں نشانیوں کے طور پر بھیجا۔ پھر بھی وہ اکڑے ہی رہے۔ کیونکہ وہ تھے ہی مجرم لوگ

129 طوفان ٹڈیوں جوؤں مینڈکوں اور خون کا عذاب :۔ اس خشک سالی کے بعد اللہ نے ان پر زور دار بارش برسائی جو طوفان کی صورت اختیار کرگئی، اور اس سے ان کی فصلیں پانی میں ڈوب کر تباہ ہونے لگیں تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو اگر بارش تھم گئی اور ہماری فصلیں بچ گئیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو بارش رک گئی اور فصلیں بھی بچ گئیں لیکن پھر وہ اپنے عہد سے پھرگئے تو اس کی سزا کے طور پر اللہ نے ان کی پکی ہوئی تیار فصلوں پر ٹڈیوں کے دل کے دل بھیج دیئے جب انہوں نے دیکھا کہ یہ ٹڈیاں تو ان کی ساری فصلوں کو چٹ کر جائیں گی تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف دوڑے اور پہلے کی طرح اللہ سے دعا کی درخواست کی، آپ کی دعا سے انہیں اس عذاب سے بھی نجات مل گئی اور انہوں نے غلہ کاٹ کر گھروں میں محفوظ کرلیا تو پھر اکڑ بیٹھے۔ اب اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے ذخیرہ کردہ غلہ میں سرسری کا عذاب بھیج دیا (قرآن میں قمل کا لفظ ہے جو چھوٹے چھوٹے جانداروں مثلاً چچڑی، مچھر، جوئیں، سُرسری اور ایسے ہی دوسرے کیڑوں کے لیے مستعمل ہے) کہ ذخیرہ کردہ غلہ پڑا پڑا ہی ناکارہ ہوجائے یہ صورت حال دیکھ کر وہ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور دعا کی درخواست اور ایمان لانے کا عہد و پیمان کیا پھر جب آپ (علیہ السلام) کی دعا سے یہ عذاب دور ہوا تو پھر عہد شکنی کی تو اللہ نے یہ عذاب نازل کیا کہ مینڈکوں کی اس قدر بہتات ہوگئی کہ کھانا کھانے بیٹھتے تو ہر طرف سے مینڈک چڑھ آتے کبھی کھانے میں جا پڑتے کبھی سالن کے برتن میں اور کبھی ان کے کھانے کے لیے کھولے ہوئے منہ میں اور پانی پینے لگتے تو وہ خون کی شکل اختیار کرجاتا غرض جب ان کا جینا دوبھر ہوگیا تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور وہی التجا اور وعدے کیے۔ آپ (علیہ السلام) نے پھر دعا کی۔ ان سے یہ عذاب بھی ٹل گیا مگر پھر بھی وہ اکڑ بیٹھے اور ان سب تنبیہات کو جادو ہی کے کرشمے سمجھتے رہے۔