7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 7:1
(1) المص۔ اس کے معنی مراد اللہ تعالیٰ ہی جاننے والے ہیں یا یہ کہ یہ قسم ہے کہ جس کے ساتھ کھائی گئی ہے۔
Ayah 7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

(اے محمد یہ) کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے اس سے تم کو تنگدل نہیں ہونا چاہئے (یہ نازل) اس لئے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کیلئے نصیحت ہے۔

(2) یہ قرآن حکیم بذریعہ جبرئیل امین ؑ مکہ والوں کو ڈرانے کے لیے آپ ﷺ پر اتارا گیا ہے تاکہ وہ ایمان لائیں، سو آپ ﷺ کے دل میں کسی کے نہ ماننے پر قرآن کے اللہ کی طرف سے ہونے میں شک اور دل میں تنگ نہ ہونی چاہئے، قرآن کریم نے حلال و حرام تمام چیزوں کو وضاحت سے بیان کردیا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبودان باطل مثلا بتوں وغیرہ کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیے، تم لوگ نہ کسی کم چیز سے نصیحت حاصل کرتے ہو اور نہ زیادہ سے۔
Ayahs 7:3–7

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

(لوگو !) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی کی پیروی نہ کرو۔ (اور) تم (کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جبکہ وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے۔

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کرینگے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے !

(3۔ 4۔ 5۔ 6۔ 7) اور بہت سے بستیوں والوں کو ہم نے عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا ہے، ہمارا عذاب رات کو یا دن کو یا دوپہر کے وقت جب کہ وہ آرام میں تھے پہنچا تو جس وقت ان کی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب نازل ہوا تو ماسوا پنے مشرک ہونے کے اقرار کے اور کچھ ان کی زبان سے نہیں جاری ہوا تو ان قوموں سے پیغمبروں کی اطاعت اور پیغمبروں سے تبلیغ رسالت کے بارے میں ہم ضرور پوچھیں گے، ہم ان کے سامنے پیغمبروں کی تبلیغ اور ان کی قوموں کی اطاعت کو بیان کردیں گے۔
Ayahs 7:8–9

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہونگے وہ تو نجات پانے والے ہیں۔

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لئے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے۔

(8۔ 9) اور قیامت کے دن پورے انصاف کے ساتھ اعمال کا وزن ہوگا سو جن کی نیکیاں ترازو میں وزنی ہوں گی وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب سے محفوظ ہوں گے اور جن کی نیکیاں ہلکی ہوں گی تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کا انکار کرکے سزا کے مستحق ہوگئے۔
Ayah 7:10

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہمیں نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے سامان معیشت پیدا کئے (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

(10) ہم نے تمہیں زمین کی بادشاہت دی اور تمہارے کھانے پینے اور پہننے کے لیے اسباب مہیا کیے، پھر نہ تم معمولی چیز پر شکر کرتے ہو اور نہ زیادہ پر، یا یہ کہ اتنے انعامات کے باوجود تم لوگ بہت ہی کم شکر کرنے والے ہو اور ہم نے تمہیں حضرت آدم ؑ سے اور آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا۔
Ayah 7:11

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہمیں نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت و شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو۔ تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس۔ کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا۔

(11) اور ہم نے حضرت آدم ؑ کا پتلا مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان بنایا، پھر ہم نے سب فرشتوں کو سجدہ تعظہمی کرنے کا حکم دیا مگر شیطان نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔
Ayah 7:12

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا ؟ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔

(12) اللہ تعالیٰ نے شیطان سے فرمایا آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے تمہیں منع کیا وہ کہنے لگا کہ مجھے آپ نے آگ سے اور آدم ؑ کو مٹی سے بنایا اور آگ کو مٹی پر فوقیت اور برتری حاصل ہے۔
Ayahs 7:13–15

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایان نہیں کہ یہاں غرور کرے۔ پس نکل جا تو ذلیل ہے۔

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے۔

(13۔ 14۔ 15) اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا، آسمان سے اتر جا اور یہ کہ فرشتوں کی شکل و صورت سے خارج ہوجا، اب تجھے فرشتوں کا لباس پہن کر انسانوں پر تکبر کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں، تو فرشتوں کے لباس سے نکل جا اور یہاں سے دور ہوجا، تو اپنے تکبر کی وجہ سے ذلیلوں میں شمار ہوگیا، شیطان کہنے لگا کہ قیامت تک مجھے موت سے مہلت دیجیے، ارشاد ہوا کہ صور پھونکے جانے تک تجھ کو موت سے مہلت دی گئی ،
Ayahs 7:16–17

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

(پھر) شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے ملعون کیا ہی ہے۔ میں بھی تیرے سیدھے راستے پر ان کو (گمراہ کرنے) کیلئے بیٹھوں گا۔

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا۔ (اور ان کی راہ ماروں گا) تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائیگا۔

(16۔ 17) شیطان نے کہا جیسا کہ آپ نے میری ہدایت کو گمراہی سے بدل دیا، میں بھی اولاد آدم کو سیدھی راہ پر نہیں چلنے دوں گا۔ اور ان کو قیامت کے متعلق گمراہ کروں گا کہ جنت دوزخ بعث بعد الموت، حساب و کتاب کچھ نہیں اور دنیا کبھی فنا نہیں ہوگی اور مال کے جمع کرنے اور بخل و فساد کرنا سکھاؤں گا اور جو ہدایت پر قائم ہوگا اس پر راہ حق کو مشتبہ کروں گا تاکہ وہ اس سے بےراہ ہوجائے۔ اور جو گمراہی پر ہوگا اس کے لیے گمراہی کو اور سجا کے اور آراستہ کرکے پیش کروں گا تاکہ وہ اس پر قائم رہے اور لذتوں وشہوتوں میں ان کو گرفتار کروں گا اور آپ اکثر کو ایمان کی حالت میں پائیں گے۔
Ayah 7:18

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا نکل جا یہاں سے پاجی مردود۔ جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

(18) ارشاد ہوا فرشتوں کے لباس سے ذلیل اور ہر ایک نیکی سے دور ہو کر نکل جا اور جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی تیری اتباع کرے گا میں ان سب سے دوزخ کو بھر دوں گا۔
Ayah 7:19

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور (ہم نے) آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ گنہگار ہوجاؤ گے۔

(19) اور فرمایا آدم ؑ وحوا علیھا السلام جنت میں رہو، باقی اس درخت علم سے کچھ نہ کھانا، کبھی تم دونوں نامناسب کام کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔
Ayahs 7:20–21

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ انکے ستر کی چیزیں جو ان کے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔

(20۔ 21) شیطان نے اس درخت سے کھانے کا وسوسہ ڈالا تاکہ ان کے بدن کے اس حصہ کو ان کے سامنے ظاہر کردے جو نور کے لباس نے پوشیدہ کر رکھا تھا۔ اور شیطان نے ان سے کہا اے آدم وحوا اس درخت کے کھانے سے محض اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم جنت میں خیر وشر سے واقف نہ ہوجاؤ اور قسم کھائی کہ یہ درخت ہمیشہ زندہ رہنے کا درخت ہے اور مکر و فریب سے اس درخت ہمیشہ زندہ رہنے کا درخت ہے اور مکروفریب سے اس درخت کے پھل کھانے پر ان کو راضی کرلیا حتی کہ انہوں نے اس کو کھالیا ،
Ayah 7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

غرض (مردُود نے) دھوکا دیکر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا۔) (جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھالیا تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتّیتوڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے تب انکے پروردگار نے انکو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا ؟ اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے ؟

(22) جب ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھایا فورا ان کے پردہ کا بدن ایک دوسرے کے سامنے ہوگیا اور دونوں شرم وحیا سے انجیر کے پتوں سے اپنے جسم کو چھپانے لگے اس وقت آدم وحوا ؑ سے پروردگار نے کہا کیا میں نے اس درخت سے کھانے سے تمہیں نہیں منع کیا تھا اور کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا اور واضح دشمن ہے۔
Ayah 7:23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

دونوں عرض کرنے گے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔

(23) وہ عرض کرنے لگے ہم نے غلطی سے اپنا نقصان کیا، اگر آپ ہم سے درگزر نہ فرمائیں گے تو اس جرم کی وجہ سے ہمارا بڑا نقصان ہوگا۔
Ayah 7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے ایک وقت خاص تک زمین پر ٹھکانا اور زندگی کا سامان کردیا گیا ہے،

(24) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ سب جنت سے اتر جاؤ تمہارے لیے رہنے اور معیشت کے لیے، موت تک زمین میں جگہ تجویز کی گئی ہے۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

یعنی فرمایا اس میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں تمہارا مرنا اور اسی میں قیامت کے دن زندہ نکالے جاؤ گے۔

(25) تمہیں زمین میں زندگی بسر کرنا ہے اور وہیں مرنا ہے اور قیامت کے دن اسی میں سے پھر پیدا ہونا ہے۔
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم نے تم پوشاک اتاری کی تمہاری ستر ڈھانکے اور تمہارے بدن کو زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں

(26) روئی، اون اور بالوں وغیرہ کے کپڑے تمہارے لیے پیدا کیے اور تمہیں دیے تاکہ تم اس سے اپنے پردہ دار جسم کو چھپاؤ اور مال اور گھریلو سامان بھی دیا، باقی توحید وعفت کا لباس روئی کے لباس سے بہت زیادہ بہتر ہے اور یہ کپڑے اللہ کے عجائبات میں سے ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے۔ جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر جنت سے نکلوادیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروادیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول دکھائے وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔)

(27) تمہیں شیطان ہرگز میری اطاعت سے کسی خرابی میں نہ مبتلا کردے جیسا کہ اس نے آدم وحوا ؑ کو مبتلا کیا اس نے ان سے نور کا لباس اتروا دیا تاکہ ایک دوسرے کے سامنے پردہ دار بدن ظاہر ہوجائے۔ اور شیطان اور اس کے لشکر کو تم نہیں دیکھ سکتے کیوں کہ تمہارے سینے میں ان کا مرکز ہیں، ہم شیطانوں کو ان لوگوں کا رفیق بنادیتے ہیں جو حضور ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

(اور جب کوئی اور بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ خدا بےحیائی کے کام کرنیکا حکم ہرگز نہیں دیتا۔ بھلاتم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔

(28) اور جب وہ لوگ اپنے اپنے اوپر بحیرہ، سائبہ، حام وصیلہ کو حرام کرلیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ العیاذ باللہ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں ان چیزوں کا حکم دیا ہے، اے نبی کریم ! آپ فرما دیجیے کہ معاصی اور کھیتیوں اور جانوروں کو حرام کرلینے کا اللہ تعالیٰ حکم نہیں دیتا۔
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہو گے۔

(29) اس نے تو توحید اور ہر ایک نماز کے وقت اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ توحید کے ساتھ اس عبادت کو خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے رکھا کرو۔ میثاق کے دن جس طریقہ پر تمہیں نیک وبد، عارف ومنکر، مصدق ومکذب پیدا کیا ہے، اسی طرح لوٹ جاؤ گے۔
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

اور ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنایا۔ اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں۔

(30) اصحاب یمین کو اللہ تعالیٰ نے معرفت وسعادت کے ساتھ اعزاز بخشا اور اصحاب شمال کو بدبختی کی بنا پر ذلیل و خوار کیا، اللہ تعالیٰ اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ان لوگوں نے شیاطین کو اپنا دوست بنالیا اور یہ گمراہی والے اپنے کو اللہ تعالیٰ کے دین پر سمجھتے ہیں۔
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔ اور کھاو اور پیو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

(31) ہر نماز کے وقت اور طواف کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو، گوشت، چربی کھاؤ، دودھ پیو اور پاکیزہ رزق کو اپنے اوپر مت حرام کرو، حلال اشیاء کو حرام کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے۔ شان نزول : (آیت) ”یبنی ادم خذو زینتکم“۔ (الخ) امام مسلم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں عورت بیت اللہ کا ننگے طواف کیا کرتی تھی اور اس کی شرمگاہ پر ایک کپڑا ہوتا تھا اور یہ کہتی تھی کہ آج کے دن خواہ سارا جسم کھل جائے یا بعض اس کا حصہ اور جو اس سے کھل جائے اس کو میں حلال نہیں سمجھتی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا اس کو حرام کس نے کیا ہے کہ دو یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کیلئے ہیں اور قیامت کے دن خاص انہیں کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھتے والوں کیلئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

(32) کفار مکہ ایام جاہلیت میں ایام حج میں اپنے اوپر گوشت اور چربی کو حرام کرلیتے تھے اور حرم شریف میں مرد اور عورتیں رات کے وقت ننگے داخل ہوتے تھے اور بیت اللہ شریف کا ننگے طواف کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو منع کردیا کہ اس کی پیدا کردہ چیزوں کو کس لیے حرام کیا ہے۔ اور آپ یہ بھی فرما دیجیے کہ یہ پاکیز چیزیں دنیاوی زندگی میں خالص اہل ایمان کے لیے ہیں، اس طرح ہم ایسے لوگوں کے لیے جو منجانب اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں، بذریعہ قرآن کریم حلال و حرام کو بیان کرتے ہیں ،
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں۔

(33) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے زنا اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت اور اثم یعنی شراب جیسا کہ شاعر کہتا ہے کہ میں نے شراب اتنی پی کہ میری عقل جاتی رہی، اسی طرح شراب عقل کو ختم کردیتی ہے، میں نے شراب اعلانیہ فنجانوں میں پی اور اے مخاطب تو ہمارے میں ہتک عزت کا مشاہدہ کررہا ہے۔ نیز ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور بغیر سند اور دلیل کے شرک کرنے کو اور خود کھیتیوں جانوروں پاکیزہ چیزوں اور لباسوں کو اپنے اوپر حرام کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر ایک فرقے کیلئے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرتا ہے اور نہ ایک گھڑی جلدی کرتا ہے۔

(34) ہر ایک اہل دین کی ہلاکت وتباہی کا ایک وقت آنے پر نہ آنکھ جھپکنے کے بقدر ان کو چھوڑا جائے گا اور نہ وقت آنے سے پہلے بقدر آنکھ جھپکنے کے ان کو ہلاک کیا جائے گا۔
Ayah 7:35

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کر رہے ہیں کہ جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں تو ان پر ایمان لایا کرو کہ جو شخص ان پر ایمان لاکر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے۔

(35) جس وقت تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر آئیں جو اچھے کام کرنے اور برے کاموں سے منع کرنا تم سے بیان کریں، تو جو اس وقت کتاب الہی اور رسول پر ایمان لائے اور اطاعت ربانی کرے تو اسے عذاب کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔
Ayah 7:36

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں جلتے رہیں گے۔

(36) اور جو ہماری کتاب اور رسولوں پر ایمان لانے سے تکبر کریں یہی لوگ جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں کبھی موت آئے گی اور نہ اس سے کبھی نجات ملے گی۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

تو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھجے ہوئے فرشتے جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے ہمیں معلوم نہیں کہ وہ ہم سے کہاں غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بیشک وہ کافر تھے۔

(37) اس شخص سے بڑھ کر سرکش اور ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتا ہے، اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرتا ہے۔ تو کتاب اللہ میں سیاہ چہرے والوں اور نیلی آنکھوں سے جو ان کو ڈرایا گیا ہے، وہ ان کے سامنے آجائے گا، لہٰذا اے محمد ﷺ آپ ان سے دور رہیے یہاں تک کہ ملک الموت (موت کا فرشتہ) اور ان کے مددگار ان کی ارواح قبض کرلیں، وہ ان کی ارواح قبض کرلیں، وہ ان کی ارواح کے قبض کے وقت کہیں گے کہ تمہارے معبودان باطل کہاں ہیں تمہاری حفاظت کیوں نہیں کرتے۔ کافر کہیں گے انکو خود اپنی فکر دامن گیر ہے، چناچہ دنیا میں اللہ تعالیٰ اور رسول کا جو انکار کرتے تھے اس کا اقرار واعتراف کرلیں گے۔
Ayah 7:38

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

تو خدا فرمائے گا کہ جنوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھنم میں داخل ہوجاؤ۔ جب ایک جماعت وہاں جا داخل ہوگی تو اپنی مذہبی بہن یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت پر لعنت کریں گے یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گیں تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار ! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو انکو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ تم سب کو دگنا عذاب دیا جائیگا مگر تم نہیں جانتے

(38) اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا جو فرقے جنات اور انسانوں میں سے گزر گئے تم بھی ان کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوجاؤ جو جماعت دوزخ میں داخل ہوگی، اپنی جیسی جماعت پر جو اس سے پہلے داخل ہوچکی ہے، لعنت بھیجے گی ، جس وقت سب جماعتیں دوزخ میں جائیں گی تو پچھلی جماعت پہلی جماعت والوں کی نسبت کہے گی ان سرداروں نے ہمیں آپ کی اطاعت اور آپ کے دین سے گمراہ کیا، ان کو ہم سے دوہرا عذاب دیجیے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا ہر ایک فرقے کو دوہرے عذاب ہے مگر تم اپنے عذاب کی شدت کا سبب نہیں سمجھتے۔
Ayah 7:39

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضلیت حاصل نہ ہوئی تو جو تم عمل کیا کرتے تھے اس کے بدلے عذاب کے مزے چکھو۔

(39) اور پہلی جماعت بعد میں آنے والوں سے کہے گی، ہم کو دوہرا عذاب کیوں ہو، تم نے بھی ہماری طرح کفر کیا اور تم نے بھی غیر اللہ کی، عبادت کی جیسا کہ ہم نے کی، سو تم بھی اپنے اقوال و اعمال شرکیہ کی وجہ سے عذاب کا مزہ چکھو۔
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کیلئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہونگے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے۔ اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزادیا کرتے ہیں۔

(40) قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ کی جھٹلانے والے لوگوں کے اعمال اور ارواح کے چڑھنے کے لیے آسمانی دروازے نہیں کھولے جائیں گے جیسا کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں نہیں داخل ہوسکتا ہے یا یہ کہ تاوقتیکہ وہ موٹی رسی جس سے کشتی کو باندھا جاتا ہے، سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے یہ چیز ناممکن ہے تو ان کا جنت میں داخلہ بھی ناممکن ہے۔