7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الاعراف بسم اللہ الرحمن الرحیم ٭سورۃ نمبر 7 رکوع 24 آیات 206 الفاظ و کلمات 3387 حروف 14635 مقام نزول مکہ مکرمہ ٭خصوصیت : اس سورة میں توحید و رسالت اور فکر آخرت پر زور دیا گیا ہے۔ ٭فرض منصبی : دین کو سچائیوں کو بےخوف و خطر ہو کر پھیلانا ہر مسلمان کا فرض منصبی ہے۔ اعراف۔ (عرف کی جمع) اونچے پہاڑ اور ٹیلوں کو اعراف کہا جاتا ہے۔ اس سورة میں اعراف والوں کا ذکر ہے۔ اس لیے اس سورة کا نام اعراف رکھا گیا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ جنت اور جہنم کے درمیان ایک میدان میں کچھ ایسے اونچے پہاڑ ‘ ٹیلے اور دیواریں سی ہونگی جہاں پر کھڑے ہونے والوں کو جنتی اور دوزخی دونوں صاف صاف نظر آئیں گے۔ ان آیات میں اعراف والے ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے اچھے اور برے اعمال وزن میں برابر ہونگے۔ ان کو جنت اور جہنم میں داخل کرنے سے پہلے اس میدان میں کھڑا کیا جائیگا جہاں اونچے پہاڑ اور ٹیلے ہوں گے۔ جب جنتیوں اور جہنمیوں کا فیصلہ ہوجائیگا تب اعراف والوں کا فیصلہ کیا جائیگا۔ توقع یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور کرم سے ان اعراف والوں کو جنت میں داخل فرمادیں گے۔ قرآن کریم کے نزول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو وقتی فائدوں کے پیچھے پڑ کر آخرت کی فکر سے غافل ہوجاتے ہیں ان کو توحید و رسالت کی عظمت کی طرف لاکر ان میں فکر آخرت پیدا کی جائے۔ اسی لیے عبرت و نصیحت کے لیے گذشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور نبی کے دامن اطاعت و محبت سے وابستہ ہو کر دین و دنیا کی تمام عظمتیں حاصل کرسکیں۔ سورة اعراف مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے توحید و رسالت اس سورة کا مرکزی مضمون ہے۔ اس سورة کی پہلی ہی آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ‘ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کا پیغام بےخوف و خطر ہو کر اللہ کے بندوں تک پہنچائیے۔ کوئی سنے یا نہ سنے ‘ آپ اپنا فرض منصبی ادا کرتے رہیے اس معاملہ میں آپ اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کیجئے۔ اللہ آپ کا محافظ و نگہبان ہے۔ جو سعادت مند لوگ ہیں وہ آپ کی بات ضرور سنیں گے لیکن جنہوں نے ضد ‘ عناد اور ہٹ دھرمی کا طریقہ اپنا رکھا ہے وہ آپ کی بات نہیں سنیں گے۔ گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا گیا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام ہر شخص تک پہنچایا جن کے مقدر میں ایمان لانے کی سعادت تھی وہ آگے بڑھ کر نبی کے دامن سے وابستہ ہوگئے لیکن بد بخت اور بدنصیب لوگ اس نعمت سے محروم ہے۔۔۔۔ ! ٭قیامت کب آئے گی اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اپنی جان کے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں سوائے اس کے جو اللہ چاہیے۔ اور اگر میں علم غیب رکھتا تو میں ہر طرح کی بھلائیاں سمیٹ لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو صرف اللہ کے عذاب سے ڈرنے والا اور نیک عمل کرنے والوں کو جنت کی خوش خبری سنانے والا ہوں۔ ایسے لوگ اپنے زمانے میں کچھ بھی رہے ہوں لیکن آج ان کی زندگی نشان عبرت ہے۔ فرمایا گیا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے اس کے اعمال اللہ کے ہاں محفوظ نہیں ہیں ؟ بلکہ وہ تمام اعمال محفوظ ہیں۔ ان اعمال کو تو لاجائے گا۔ جس کے جیسے اعمال ہونگے اس سے ویسا ہی معاملہ کیا جائیگا۔۔۔۔ ۔۔ جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی ان کے معاملہ کو کچھ دیر روک کر بالآخر ان کو بھی جنت کی ابدی راحتوں سے ہمکنار کردیا جائے گا۔ ان ہی لوگوں کو اصحاب الاعراف فرمایا گیا ہے۔

Ayahs 7:1–5

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

الف ‘ لا ‘ میم ‘ صاد ( حروف مقطعات۔ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے)

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی طرف جو کتاب اتاری گئی ہے (اس کو پہنچانے میں) اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کیجئے اور آپ لوگوں کو اس کے ذریعہ (عذاب جہنم سے اچھی طرح ) ڈرائیے۔ یہ کتاب اہل ایمان کے لئے نصیحت ہے۔

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

(اے اہل ایمان) تم اس پیغام کی اطاعت کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اور اس پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کی اطاعت نہ کرو۔ تم میں سے وہ لوگ بہت کم ہیں جو اس پر دھیان دیتے ہیں۔

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور ہم نے راتوں رات اور دوپہر کو آرام کے وقت اچانک کتنی ہی بستیوں کو عذاب کے ذریعہ تباہ و برباد کر کے رکھ دیا

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

اور جب ہمارا عذاب پہنچا ( تو وہ اقرار جرم کرتے ہوئے کہنے لگے) کہ بیشک ہم ہی ظلم اور زیادتی کرنے والے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 5 : لایکن ( نہ ہوں) حرج (تنگی) لاتتبعوا ( تم پیروی نہ کرو) من دونہ (اس کے سوا) تذکرون ( تم دھیان دیتے ہو) کم ( کتنے ۔ کتنی) باسنا ( ہمارا عذاب) بیات ( رات کو) قائلون ( دوپہر کو سونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 5 : قرآن حکیم کی ترتیب کے لحاظ سے سورة اعراف ساتویں بڑی سورت ہے جو ہجرت مدینہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی اس سورة کے مضامین کا خاص رخ مکہ مکرمہ کے ان مشرکین اور کفار کی طرف ہے جنہوں نے حق و صداقت کی آواز کو دبانے کے لئے ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی جب ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں ہجرت مدینہ سے کچھ ہی عرصے پہلے ایک کے بعد ایک نازل ہوئی ہیں کیونکہ دونوں کی آیات کا رخ مکہ مکرمہ کے مشرکین اور کفار کی طرف ہے۔ سورة الانعام میں توحید اور اللہ کی وحدانیت پر زور ہے جبکہ سوۃ الاعراف میں توحید کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پیغام رسالت اور آپ کی شان کے متعلق ارشادات موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید و رسالت ہی وہ سچائی ہے جس کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کے لئے انبیاء کرام علیھم السلام اور ان کے جاں نثاروں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا اور اس پیغام کو پہنچانے میں انہوں نے حالات کی ‘ قوم کے افراد کی اور ان کے جاں نثاروں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا اور اس پیغام کو پہنچانے میں انہوں نے حالات کی ‘ قوم کے افراد کی اور حکومت و سلطنت اور اس کی طاقت کی پرواہ نہیں کی۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی جب اس پیغام حق و صداقت کو مکہ مکرمہ کے رہنے والوں تک پہنچانے کی بھر پور جدوجہد کی تو ابتدا میں کفار و مشرکین نے اس کو بےحقیقت سمجھ کر نظر انداز کردیا اور بات مذاق اڑانے اور پھبتایں کسنے کی حد تک محدود رہی لیکن جب اس سچائی کی تحریک نے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنا شروع کردیا تو کفار مکہ اور مشرکین نے آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ پر مخالفت کے ساتھ ساتھ طرح طرح کی زیادتیاں اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے شروع کردیئے مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک ہر طرح کی مخالفت اور ظلم وستم کی وہ انتہا کردی جس کے تصور سے بھی روح کا نپ اٹھتی ہے۔ لیکن نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ نے استقلال اور صبر و تحمل کا پیکر بن کر ہر ظلم وستم کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور کفار کے مقابلے میں عزم و ہمت کا پہاڑ بن کر کھڑے ہوگئے۔ اس میں شک نہیں کہ انسانی عزم و ہمت کے سامنے پہاڑ بھی ریت کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ پھر بین ان مٹھی بھر اہل ایمان کا سارے عرب کے ساتھ مقابلہ کرنا کوئی ہنسی کھیل نہیں تھا۔ بشری تقاضا ہے کہ کبھی کبھی انسان حالات کے سامنے بےبس سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ وقت کسی بھی تحریک کلئے بہت نازل ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت تھا جب سورة الاعراف نازل ہوئی جس میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ سے فرمایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ حالات کی سنگینی میں دل کا تنگ ہوجانا ‘ گھبرا اٹھنا اور دھمکیوں سے متاثر ہوجانا ایک فطری اور بشری تقاضا ہے لیکن آپ ہر طرح کی انسانی حمایت سے بےنیاز ہو کر صرف اس پیغام حق کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے۔ آپ اس پیغام حق کو بےخوف و خطر پہنچانے کی کوشش کیجئے اور بس۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اللہ خود ہی اس دین کا محافظ ہے۔ سورۃ الا عراف کی ابتدائی پانچ آیات میں سب سے پہلے نبی کریم ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان حالات میں کوئی تنگی اور گھٹن محسوس نہ کیجئے۔ آپ اپنے فرض کی ادائیگی میں لگے رہئے جن لوگوں کے مقدر میں ایمان کی سعادت لکھی ہے وہ اس پر دھیان دینگے اور آپ کی طرف کھنچے چلے آئیں گے اور جن کے مقدر میں دولت ایمانی سے محرومی ہے ان کے لئے آپ کچھ بھی کیجئے وہ اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے اور ان کو ایمان کی روشنی تک نصیب نہ ہوگی نبی کریم ﷺ کے بعد تمام اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ جو کچھ اللہ کا یہ پیغام نازل کیا جارہا ہے اس پر دھیان دیں اس کو اپنے دلوں کا نور بنالیں اور ان لوگوں کی پرواہ نہ کریں جو اس پیغام حق کی طرف دھیان نہیں دیتے کیونکہ سچائی کی طرف بہت کم لوگ متوجہ ہوا کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بعد اللہ تعالیٰ نے تاریخ انسانی کو گواہ بنا کر فرمایا ہے کہ گذری ہوئی قوموں کا حال سامنے رکھو۔ ان کے حالات پر نگاہ رکھو کہ جب بھی انبیاء کرام علیھم السلام پیغام حق لے کر آئے تو ان پر بھی ہر طرح کے ظلم و ستم کئے گئے لیکن جب ظلم و ستم کی انتہا ہوگئی تو پھر اللہ کا فیصلہ اس وقت آگیا جب کہ وہ رات کو یا دن کو مدہوش اور بیخبر نیند کی لذتوں میں مست تھے۔ فرمایا کہ جب تمہارے رب کا یہ فیصلہ آجاتا ہے تو پھر ظالم خود ہی پکار اٹھتے ہیں کہ واقعی ہم تو ظالم تھے ‘ ہم سے بہت زیادتی ہوئی۔ مگر اللہ کا فیصلہ آنے کے بعد کسی کے پچھتانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ سے فرمایا جارہا ہے کہ اللہ کا قانون کبھی بدلتا نہیں ۔ آج کفار و مشرکین کے لئے وقت ہے کہ وہ گذشتہ قوموں کی زندگی سے عبرت حاصل کرلیں ورنہ جب اللہ کا فیصلہ آجائے گا تو پھر ان کے راحت و آرام اور مال و دولت کی بدمستی ان کے کام نہ آسکے گی۔ 1) سچائی کے پیغام کا ہی حق ہے کہ اس کو پوری دیانت و امانت سے اللہ کے بندوں تک پہنچادیاجائے اس راستے میں خوف کرنے ‘ اور ناکامی کے خوف سے ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پیغام حق ” کو پہنچانا یہ وہ کانٹوں بھر اراستہ ہے جہاں ہر اٹھنے والا قدم زخمی ضرور ہوتا ہے۔ اس راستے میں ہر ملامت کرنے والے کی کی ملامت اور دھمکیاں دینے والوں کی دھمکیوں سے بےنیاز ہو کر آگے بڑھنا ہے یہ وہ راستہ ہے جہاں عشق کو آتش نمرود میں بےدھڑک کود جانا پڑتا ہے۔ (2) تبلیغ دین کی تیکنیک یہ ہے کہ اللہ کے اس ابدی اور سچے پیغام کو ان لوگوں تک پہنچاتے رہنا چاہیے جو ایمان لاچکے ہیں تاکہ ان کا ایمان تازہ اور مضبوط رہے۔ لیکن ان سے بھی غافل نہ رہنا چاہیے جو ابھی تک ایمان کی روشنی سے محروم ہیں۔ (3) اس دین کی سچائی کو پہنچانے کی تیسری شرط یہ ہے کہ اللہ نے جس شخص کو اس دین کی سچائی کو پھیلانے کی سعادت عطا فرمادی ہو اس کی زندگی ‘ عمل اور کردار دوسروں کے لئے مینارہ نور ہو۔ وہ اس عمل کی سچی تصویر ہو محض گفتار کا غازی نہ ہو بلکہ کردار کا بھی غازی ہو۔۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ دنیا کو بتادے کہ جب اس نے دین کا راستہ اختیار کرلیا ہے تو اس نے اللہ اور رسول سے اپنا سب سے بڑا رشتہ قائم کرلیا ہے۔ اب اس رشتے کے سامنے ہر دوستی ‘ رشتہ ‘ تعلق اور قرابت داری ایمان کی عظمتوں پر قربان ہے۔ اس کے لئے نبی کریم ﷺ صحابہ کرام ؓ اور بزرگان دین کی زندگی بہتر ین نمونہ ہے جنہوں نے اس رشتے کے سامنے کسی بھی رشتے اور تعلق کی پرواہ نہیں کی اور اپنا سب کچھ قربان کردینے کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم فرمائیں۔
Ayahs 7:6–10

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

پھر ہم ان سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس ( ہم نے اپنے ) رسول بھیجے تھے اور ہم ان رسولوں سے بھی سوال کریں گے۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم ان کو اپنے علم سے سب کچھ بتادیں گے اور ہم ان سے بیخبر تو نہ تھے

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

) اعمال کا) تو لنا اس دن برحق ہے جن لوگوں کے (اعمال) وزن بھاری ہوں گے وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے وزن ہلکے ہوں گے۔ وہ اپنے آپ کو نقصان میں مبتلا پائیں گے۔ اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کی حق تلفی کیا کرتے تھے

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہم نے تمہیں زمین پر ٹھکانا دیا اور ہم نے ہی تمہارے لئے اس میں سامان زندگی بنادیا۔ لیکن تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 6 تا 10 : نسئلن (ہم ضرور پوچھیں گے) نقصن ( ہم ضرور بتائیں گے) غآ ئبین ( غائب رہنے والے) ثقلت (بھاری ہوئے) موازین ( موزون) ۔ وزن۔ تول ‘ خفت (ہلکے ہوئے) خسروا (انہوں نے نقصان اٹھایا) ‘ مکنا ( ہم نے ٹھکانا دیا (معایش (معیشۃ) ۔ زندگی گذارنے کا سامان۔ تشریح : آیت نمبر 6 تا 10 : سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 4 تا 5 میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی بستیوں اور شہر والوں کا ذکر کیا ہے جن کے برے اعمال اور بد کرداریوں کی وجہ سے مختلف وقتوں میں مختلف عذاب آئے ‘ کسی قوم کی شکل بدل دی گئی ‘ کہیں پتھربرسائے گئیے ‘ بہت سی بستیوں کو ان پر الٹ دیا گیا ‘ زلزلے ‘ سیلاب بیماریوں اور آفتوں میں مبتلا کیا گیا اور کسی پر ظالم و جابر حکمرانوں کو مسلط کردیا گیا۔ یہ تو وہ عذاب تھے جو ان پر انکی بد اعمالیوں کے سبب اس دنیا میں آئے لیکن آخرت میں ایسی قوموں کا کیا انجام ہوگا۔ اس کے متعلق قرآن کی بہت سی آیات اور احادیث میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ آیت نمبر 6 تا 10 میں حشر کے ہولناک دن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ جب اچھے برے اعمال کا حساب و کتاب ہوگا اور انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں سے سوالات کر کے ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ سب سے پہلے انبیاء کرام علیھم السلام کی امتوں سے پوچھا جائے گا کہ بتائو ! کیا تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آئے ؟ انہوں نے سچائی کا پیغام تمہیں پہنچایا ؟ ایمان والوں کو جنت کی بشارت اور کفر کی روش پر چلنے والوں کو جہنم کی آگ سے ڈرایا تھا ؟ کیا نہوں نے توحید و رسالت پر ایمان لانے اور عمل صالح کی دعوت دی تھی ؟ کیا انہوں نے کلمہ شہادت کے ذریعہ اللہ کی حاکمیت اور عبودیت قائم کرنے کی تلقین کی تھی ؟ اسی طرح کے بہت سے سوالات کئے جائیں گے۔ اس جگہ امتوں کا جواب تو نقل نہیں کیا گیا لیکن قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ان امتوں کے لوگوں کے جوابات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان میں کچھ تو لوگ وہ ہوں گے جو اپنی خطاؤں ‘ لغزشوں اور کفر و شرک کا اقرار کرلیں گے لیکن وہ لوگ جن کو دنیا میں بھی جھوٹ بولنے کی عادت ہوگی وہ انبیاء کرام علیھم السلام کے منہ پر انکار کرتے ہوئے کہہدیں گے کہ ہمیں تو کوئی ڈرانے والا یا نصیحت کرنے والا نہیں آیا تھا۔ حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں مگر اس عدالت میں انصاف کا تقاضا پورا کرنے کے لئے حق تعالیٰ شانہ انبیاء کرام (علیہ السلام) سے پوچھیں گے کہ تم اپنے گواہ لے کر آئو کہ تم نے پیغام حق ان لوگوں تک پہنچایا ہے یا نہیں ؟ انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی گواہی کے لئے امت محمدی کو پیش کریں گے کہ یہ ہمارے گواہ ہیں۔ منکرین پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ یہ تو ہمارے بہت بعد میں آئے ہیں ان کو کیا معلوم۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی امت سے پوچھیں گے کہ تمہیں یہ بات کس نے بتائی۔ آپ ﷺ کے امتی نبی کریم ﷺ کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کہ آپ ﷺ نے ہمیں بتایا۔ اس وقت نبی کریم ﷺ ارشاد فرمائیں گے کہ اے اللہ آپ کے کلام کے ذریعہ میں نے ان کو بتایا کہ ان سب انبیاء کرام (علیہ السلام) نے پیغام حق کو پوری دیانت و امانت سے اپنی امتوں کو پہنچایا۔ جب نبی کریم ﷺ یہ ارشاد فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا کہ ہم اپنے رسول ﷺ پر گواہ ہیں ( یہ تفصیل حدیث شریف میں ہے اور سورة بقرہ کی آیت میں بھی مختصراً اس حقیقت کی نشاندھی فرمائی گئی ہے) ۔ پھر اس کے بعد انبیاء کرام (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ مخالفین کی طرف سے ہر طرح کے خطرات کے باوجود کیا تم نے اپنافرض ادا کیا اور اللہ کا پیغام ان تک پہنچایا ؟ کیا تم نے مشرکین کے سامنے توحید خالص کا پیغام پیش کیا تھا ؟ کیا تم نے پیغام حق کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لئے تبلیغ قولی کے ساتھ تنظیم و جہاد کی عملی کوششیں بھی کی تھیں ؟ ۔۔۔۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) عرض کریں گے الٰہی ہم نے اس سچائی کے پیغام کو پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اے اللہ آپ ہر غیب کے جاننے والے ہیں۔ اسی طرح اہل کفر و شرک سے بھی سوال ہوگا کہ آخر تمہارے پاس ضد ‘ اور ہٹ دھرمی کی کیا دلیل تھی ؟ تم کیوں بھاگے پھر رہے تھے ؟ آخر تم کیوں بہانے بناتے رہے ؟ اہل ایمان سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے اپنے ایمان کو ہر طرح کی ملاوٹ سے محفوظ رکھا تھا ؟ کیا تم نے ان ہزاروں نعمتوں کا جواب شکراداکرکے یدا تھا جو ہم نے تمہیں عطاکی تھیں۔ فرمایا جائے گا کہ ہم نے تمہیں ٹھکانا دیا تھا ‘ وسائل زندگی اور ان گنت نعمتوں سے نوازا تھا تم کوئی شکر کا نمونہ لے کر آئے ہو تو پیش کرو۔ قیامت کے ہیبت ناک دن میں یہ سوال و جواب ہوں گے۔ حالانکہ اللہ کو تو سب کچھ معلوم ہے اس کے ریکارڈ میں ایک ایک بات موجود ہے لیکن ان سوال و جواب اور گواہیوں کا مقصد صرف ضابطہ کی عدالتی کارروائی ہے اور بات کو منطقی نتیجہ تک پہنچانا ہے تاکہ جنت اور جہنم میں جانے والے اللہ کی عدالت و صداقت کو تسلیم کرلیں اور اپنے بہتر اور برے انجام تک اپنے اعمال کے سبب پہنچ جائیں۔۔۔۔ ۔ قیامت کا دن عدل و انصاف کا دن ہوگا۔ جس میں ایک ایک نفس کے اعمال کو میزان عدل پر تولا جائے گا ۔ وہ میزان عدل جو سچ اور حق ہے۔ میزان عدل میں وہی اعمال بھاری اور وزن دارہوں گے جو صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے کئے گئے ہوں گے ورنہ اچھے سے اچھا عمل اگر محض دکھاوے ‘ نمود ونمائش ‘ فریب ‘ باطل اور ابلیس کی راہ میں ہوگا۔ وہ بےوزن ہوگا۔ اس دن کا تول بالکل حق ہوگا۔ جن کے پلڑے بھاریہوں گے وہی کامیاب و بامراد ہوں گے۔ لیکن جن کے اعمال بےوزن اور کفر و شرک کے ساتھ ہوں وہی حسرت وافسوس کے ساتھ جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔ سورة قارعہ میں فرمایا گیا ہے کہ جس کا پلہ بھاری نکلا وہ خوش خوش ہمیشہ عیش میں رہے گا اور جس کا پلہ ہلکا نکلا وہ جہنم کی گود میں جا گرے گا۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تمام حاضر صحابہ کرام ؓ سے پوچھا کہ جب قیامت کے دن تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا کہ میں نے اللہ کا پیغام تمہیں پہنچادیا تھا یا نہیں ؟ تو تم کیا جواب دو گے ؟ سارے صحابہ ؓ نے ایک زبان ہو کر عرض کیا کہ ہم یہی کہیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام تمام و کمال ہم تک پہنچایا ہے اور اللہ کیا مانت کا حق ادا کردیا ہے اور آ پنے امت کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ فرمایا یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہنا۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے حاضرین سے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے جو حاضر ہیں وہ میرا یہ پیغام ان تک پہنچادیں جو موجود نہیں ہیں (یعنی ان لوگوں تک جو اس محفل میں نہیں ہیں یا جو میرے بعد نسلاً بعد نسل دنیا میں آئیں گے) ۔ ان آیات کا خلاصہ اور وضاحت یہ ہے :۔ (1) کفرو شرک میں مبتلا لوگوں سے اور انبیاء کرام علیھم السلام سے عدت و انصاف کا تقاضا پورا کرتے ہوئے سوالات کئے جائیں گے جس میں کفار کو ذلت کا منہ دیکھنا پڑے گا اور انبیاء کرام (علیہ السلام) اور نیک صالح امتی سرخ روہوں کو نجات اور فلاح پائیں گے۔ لیکن اس کے باوجود کہ اللہ کو ذرہ ذرہ کا علم ہے اسکا علم ہر چیز پر غالب ہے اس کی نگاہوں سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے وہ کسی شہادت اور گواہی کا محتاج نہیں ہے لیکن جس طرح اللہ نے اپنے فضل و کرم سے دنیا میں رہنے سہنے اور عمال کرنے کی آزادی دی ہے اسی طرح وہ آخرت میں بھی ہر ملزم کو اپنی صفائی کا پورا پورا موقع عطا فرمائیں گے۔ (2) اعمال کا تو لاجانا برحق ہے لیکن ان اعمال کو کس طرح تو لا جائے گا کس ‘ چیز پر تولاجائے گا اس کی وضاحت موجود نہیں ہے ہمارے سامنے تولنے کا جوآلہ یا ذریعہ ہوگا ہم انسانی محاوروں کے مطابق بات سمجھانے کے لئے اسی طرح سمجھانے کی کوشش کریں گے جیسے صدیوں پہلے کسی چیز کو تولنے اور ناپنے کے پیمانے ہوتے تھے۔ ہمارے بزرگوں نے بات کو سمجھانے کے لئے ان یہ چیزوں کا سہارا لیا اور بات کو سمجھادیا۔ آج کے دور میں تو بادل ‘ ہوا ‘ برف ‘ سونا چاندی اور چیزوں کو تولنے کے اتنے پیمانے نکل آئے ہیں جن کا تصور چند سو سال پہلے کرنا بھی ناممکن تھا اور آنے والے دور میں نجانے تولنے کے کون کونسے ذریعے نکل آئیں گے۔ بہر ال ماضی ‘ حال اور مستقبل میں کسی چیز کو تولنے کی جو بھی چیزیں نکل آئیں ہم بات کو اسی طرح سمجھائیں گے کیونکہ جو چیز سامنے ہوتی ہے اس کو مثال بنا بات کو سمجھایا جاتا ہے۔ مقصد ہے بات کا سمجھانا مثالوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔ ۔۔ اس لئے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کی عدالت میں انسانوں کے اعمال کس طرح تو لے جائیں گے۔ اس کے پیمانے کیا ہوں گے۔ اس کے پیچھے پڑنے سے بہتر ہے کہ ہم اتنا سمجھ لیں تو کافی ہے کہ بہر حال انسانوں کے وزن داراعمال ہی ان کا نجات کا سبب بنیں گے۔ (3) نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد بھی سامنے آیا کہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تمام صحابہ کرام ؓ کو گواہ بنایا اور صحابہ ؓ نے اعتراف و اقرار کی سعادت حاصل کی۔ اسی میں آپکا یہ ارشاد کہ جو اس وقت موجود ہیں وہ میرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں جو اس وقت موجود نہیں ہیں۔ ان سے مراد وہ لوگ بھی تھے جو اس وقت حجۃ الوداع کے موقع پر موجود نہیں تھے اور وہ لوگ بھی ہیں جو آنے والی نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے آپ کے اس حکم کی تعمیل میں آپ کے ایک ایک ارشاد بلکہ ایک ایک ادا کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا اور قرآن کریم اور احادیث رسول ﷺ کو پوری دیانت و امانت سے صدیاں گذرنے کے باوجود ہم تک پہنچادیا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم بھی ان حضرت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس پیغام کو آنے والی نسلوں تک پہنچا کر اللہ و رسول کے سامنے سرخ رو ہوسکیں۔ اس موقع پر ختم نبوت کا مسئلہ بھی بہت واضح طریقہ پر سامنے آجاتا ہے اور وہ یہ کہ آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ لوگو ! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں۔ (نعوذ باللہ) میرے بعد ایک اور بنی آئے گا جو اس کی وضاحت کرے گا بلکہ آپ نے دین اسلام پہنچانے کی تمام تر ذمہ داری امت کے تمام افراد پر ڈالی ہے۔ قرآن کریم اور احادیث اس بات پر گواہ ہیں کہ نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ کے بعد جس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ جھوٹا ہے۔
Ayahs 7:11–18

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور یقیناً ہم نے تمہیں پیدا کیا ‘ پھر ہم نے تمہاری صورت و شکل بنائی ‘ پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم کو سجدہ کرو۔ پھر سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

اللہ نے پوچھا کہ جب میں نے تجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا ‘ تجھے اس سے کس چیز نے روک دیا ؟ ابلیس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو (آدم (علیہ السلام) کو) مٹی سے پیدا کیا ہے۔

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ تو یہاں سے اتر جا ( دور ہوجا) تجھے اس کا حق حاصل نہیں ہے کہ تو اسجگہ تکبر اور غرور دکھائے۔ باہر نکل جا۔ پیشک تو ذلیل اور پست ہستیوں میں سے ہے۔

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

شیطان نے کہا مجھے قیامت تک مہلت دے دی جائے۔

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا تو مہلت پانے والوں میں سے ہے۔

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

شیطان نے کہا جس طرح تو نے مجھے گر اہ کیا ہے (میں قسم کھاتا ہوں کہ) میں ان کو بہکانے کے لئے ہر سیدھے راستے پر بیٹھوں گا

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر میں ان کو گھیروں گا ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اور تو ان میں سے اکثر کو شکر ادا کرنے والا نہیں پائے گا۔

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ تو یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا۔ ان میں سے جو لوگ تیرے پیچھے چلیں گے تجھ سمیت میں ان سب سے جہنم کو بھروں گا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 18 : صورنا ( ہم نے صورت شکل بنائی) اسجدوا (تم سجدہ کرو) ابلیس (شیطان) الا تسجد ( یہ کہ تو نے سجدہ نہیں کیا) امرت ( میں نے حکم دیا تھا) ‘ اناخیر ( میں زیادہ بہتر ہوں) خلقتنی ( تو نے مجھے پیدا کیا) نار (آگ) طین (مٹی) اھبط ( اترجا) ان تتکبر ( یہ کہ تو بڑائی کرے۔ تکبر کرے) اخرج ( تو نکل جا) الصغرین ( صاغر) ذلیل۔ رسوائی والے) انظرنی ( تو مجھے مہلت دے دے) یبعثون ( وہ اٹھائے جائیں گے) المنظرین ( مہلت دیئے گئے) ‘ اغویتنی ( تو نے مجھے گمراہ کیا) اقعدن ( میں ضرور بیٹھوں گا) ‘ اتین ( میں ضرور آؤں گا) بین ایدی (سامنے) خلف ( پیچھے) ایمان (داہنی جانب) شمائل ( بائیں جانب) لاتجدو تو نہیں پائے گا) مذموما ( ذلیل کیا گیا) مدحورا ( دھر) نکالا گیا۔ مردود) ‘ املئن ( میں بھردوں گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 18 : ہر وہ شخص جو قرآن کریم کا غور وفکر کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے ‘ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کسی بھی واقعہ کو قصہ کہانی کا رنگ نہیں دیا ہے بلکہ عبرت و نصیحت کے ہر پہلو کو اس طرح اجاگر کر کے پیش کیا ہے کہ وہ کفار و مشرکین کے لئے ایسا آئینہ بن گیا ہے جس میں ان کی اپنی شکل و صورت خاص جھلکتی نظر آتی ہے آدم (علیہ السلام) اور شیطان کے متعلق ان آیات میں عبرت و نصیحت کا یہی پہلو نمایاں ہے۔ قرآن کریم میں حضرت اذآدم (علیہ السلام) کی عظمت ‘ شیطان کی نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذکر متعدد مقامات پر کیا گیا ہے اور ہر جگہ ایک نئی شان سے عبرت و نصیحت کے لئے نئے نئے پہلوؤں کو پیش فرمایا ہے۔ (1) ایک طرف آدم (علیہ السلام) ‘ ان کی ذریت کی تخلیق اور ان کے اور حضرت حوا کے جنت میں قیام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ 2) دوسری طرف شیطان کے غرور ‘ تکبر ‘ اپنی ذات کی بڑائی کا گمنڈ ‘ ضد ‘ ہٹ دھرمی اور نافرمانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ 3) اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت ‘ حلم و تحمل ‘ برداشت اور مہلت پر مہلت دینے کی شان بیان کی گئی ہے جس سے اس کی رحمت کا ملہ کا اظہار ہوتا ہے۔ قرآن کریم کے سب سے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین ہیں جن کے سامنے اس سچائی کو رکھا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ‘ ان کی شکل و صورت بنائی علم کے ذریعہ فرشتوں اور پوری کائنات پر ان کو فضیلت و عظمت کا مقام عطا فرمایا ‘ ان کو جنت کی راحتوں میں رکھ کر ہر طرح ہر چیز کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی مگر صرف ایک درخت سے روک دیا گیا کہ اس کے قریب بھی مت جانا۔ ابلیس جو حسد کی بنا پر آدم (علیہ السلام) سے بدلہ لینا چاہتا تھا ۔ ان کے خیر خواہ کے بھیس میں ان کو بہکانے میں کامیاب ہوگیا اور حضرت آدم و حوا نے وہ اجتہادی غلطی کردی جس سے منع کیا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جنت کی راحتیں سے محروم کر کے اس دنیا میں بھیج دیا اور فرمایا کہ اب تمہیں ایک خاص مدت تک اس دنیا میں رہنا ہے اور اپنے نیک اعمال کے بعد پھر تمہیں اسی جنت میں واپس آنا ہے۔ آدم (علیہ السلام) وحوا کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا ‘ معافی کے لئے ندامت کے آنسو بہانا شروع کردیئے۔ عرض کیا۔ ” اے ہمارے پروردگار ہم نے واقعی اپنے اوپر بہت ظلم و زیادتی کی ہے اگر آپ نے ہمیں معاف نہ کیا تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے “۔ اللہ تعالیٰ کو انپے بندے کی اس ادا پر بہت پیار آتا ہے جب وہ غلطی کرنے کے بعد اس پر اپنی شرمندگی کا اظہار کرتا ہے اور ندامت کے آنسو بہاتا ہے ‘ آدم (علیہ السلام) کے اس اقرار و اعتراف کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی ان کو ایسے جملے سکھادیئے جن کو ادا کرنے کے بعد اللہ نے ان کو اس خطا کو معاف کردیا۔ بات صرف اتنی ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے خطا ہوئی انہوں نے اس پر معافی مانگ لی ‘ اللہ نے اسی وقت انکو معاف کردیا ان کو غلطی اور معافی ان کی ذات تک محدودرہی۔ فرمایا جارہا ہے کہ اب انسانوں کی یہ کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ وہ عقل و فکر کا راستہ چھوڑ کر جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور آدم (علیہ السلام) کی غلطی کو کائنات کے ہر انسان کا گناہ بنا رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ تصور ہی غلط ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے ایک گناہ کیا۔ اور وہ گناہ ان کی نسلوں میں چلتارہا اور (نعوذ باللہ) ساری دنیا کے وہ انسان جنہوں نے اس زمین پر قدم رکھا تو وہ آدم کے گناہ اپنے سر پر لے کر آتے رہے بقول ان کے اللہ کو اپنے بندوں پر پیار آیا تو اس نے اپنا بیٹا (نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا اور وہ آدم (علیہ السلام) اور سارے انسانوں کی گناہ اپنی گردن پر لے کر سولی پر چڑھ گئے سوال یہ ہے کہ خطا ایک نے کی گناہ گار ساری دنیا ہوگئی خطا آدم (علیہ السلام) نے کی اور نعوذ باللہ اللہ نے اپنا بیٹا بھیجا اور انہوں نے پھانسی کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیا یہ بھی خوب ہے کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی ‘ کیا آج کی مہذب دنیا اس بات کا کوئی جواب دے سکتی ہے کہ قتل کوئی کرتا ہے اور اس کی سزا دوسرے کو دے دی جاتی ہے۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے تو پھر یہ کون سی عقل کی بات ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی غلطی کو اللہ اپنے بیٹے کے ذریعہ دور کررہے ہیں۔ فرمایا کہ بات صرف اتنی ہے کہ جو غلطی کرتا ہے جب وہ اس پر شرمندہ ہو کر اللہ سے معافی مانگتا ہے تو اللہ اس کو معاف کردیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی متعدد احادیث میں اس بات کو واضح فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ جب اللہ کا کوئی بندہ نادانی سے کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے اور پھر وہ اس پر ہٹ دھرمی اور ضد کا انداز اختیار نہیں کرتا تو اللہ اس کو معاف فرما دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو وہ شخص بہت پسند ہے جو کسی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے لیکن اس کو جیسے ہی اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو وہ سچے دل سے توبہ کرلیتا ہے اور پختہ ارادہ کرلیتا ہے کہ اب وہ اس گناہ کو نہیں کرے گا پھر کبھی اس سے غلطی ہوتی ہے اور بھولے سے کوئی گناہ کرلیتا ہے اور بار بار ایسا کرتا ہے اور بار بار معافی مانگ لیتا ہے اور سچے دل سے توبہ کرلیتا ہے تو اللہ اس کو معاف فرماتارہتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو گناہ پر گناہ کئے جاتے ہیں اور بےحسی سے ان کے دل تاریک ہوجاتے ہیں اور پھر نہ تو وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں اور نہ اس احساس کو زندہ رہنے دیتے ہیں ایسے لوگوں کا انجام سوائے دنیا و آخرت کی بربادی کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اور ایسے عادی گناہگاروں کے ساتھ نرمی کا کوئی معاملہ نہیں کیا جاتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) وحوا سے ایک لغزش ہوئی ‘ انہوں نے معافی مانگ لی ‘ اللہ نے معاف کردیا۔ ان آیات میں اس طرح طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ جب اللہ نے بات کی پوری طرح وضاحت کردی۔ اب اس بات پر جم کر اس کو عقیدہ بنالینا کہ نعوذ بااللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں یہ بھی ایک ضد اور ہٹ دھرمی ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ 2) دوسری طرف ابلیس ہے جو اس گمان میں مبتلا تھا کہ آدم (علیہ السلام) کے مقابلے میں وہ ہر طرح باعظمت ہے کیونکہ اس کے وجود کو آگ سے اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے آگ کا کام سربلندی اور روشنی ہے جب کہ مٹی میں تاریکی اور پستی ہے۔ حالانکہ یہاں بات آگ اور مٹی کی نہیں تھی۔ بات تھی حکم کی تعمیل کی تمام فرشتوں نے انسان کی عظمت کا اعتراف کرلیا اور سجدہ میں گر پڑے جب کہ شیطان اپنی ہٹ دھرمی پر جمارہا اور اس نے اللہ کے حکم کی تعمیل نہیں کی ‘ اس نے توبہ نہیں کی ‘ کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا اسے اپنی اس حرکت پر نہ کوئی صدمہ تھا اور نہ افسوس ‘ ڈھٹائی اور ضد کا انداز اختیار کیا ‘ اس نے اللہ سے قیامت تک مہلت مانگی جو اس کو دے دی گئی۔ شیطان نے کہا کہ میں ثابت کردوں گا کہ انسان بہت کمزور ہے اس کو میں ہر طرف سے گھیروں گا ‘ اس کے ہر نیک راستے اور ارادہ کی روکاوٹ بن جاؤں گا۔ اے اللہ آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر آپ کے نافرمان اور ناشکرے ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے شیطان تجھے تیری خواہش کے مطابق قیامت تک مہلت دی جاتی ہے لیکن اس بات کو یاد رکھنا کہ تیرے فریب میں صرف وہی لوگ آئیں گے جو بد نصیب اللہ کے نافرمان ہوں گے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں سے میں جہنم کو بھردوں گا اور جہنم ہی ان کا ٹھکانا ہوگا۔
Ayahs 7:19–25

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم (علیہ السلام) تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہو جہاں سے تم دونوں چاہو کھائو اور اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہو جائو گے۔

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ شرم گاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں وہ ان کے سامنے کھول دے۔ اور شیطان کہنے لگا کہ تمہارے رب نے اس درخت کے قریب جانے سے اس لیے منع یا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے نہ بن جاؤ

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور اس نے ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا بھلا چاہنے والا ہوں

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

اس طرح اس نے دھوکے سے ان دونوں کو مائل کرلیا۔ اور ان دونوں نے اس درخت کا پھل چکھ لیا۔ ان دونوں کی شرم گاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھل گئیں اور وہ دونوں اپنے اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے چھپانے لگے اور ان دونوں کے پروردگار نے پکار کر کہا کیا میں نے تمہیں تمہیں اس درخت سے منع نہیں کردیا تھا اور کیا میں نے تمہیں نہیں بتا دیا تھا کہک شیطان تم دونوں کا کھلا ہوا دشمن ہے

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

ان دونوں نے کہا، اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اگر آپ نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم و کرم نہ کیا تو ہم شدید نقصان اٹھانے والے ہوجائیں گے

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ تم یہاں سے اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے اور ایک مقرر مدت تک سامان زندگی موجود ہے

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

فرمایا کہ تم اسی میں زندہ رہو گے اسی میں تم مرو گے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25: اسکن (تو آباد ہوجا۔ تو سکونت اختیار کر) ۔ کلا (تم دونوں کھاؤ) حیث شئتما (جیسے تم چاہو) لاتقربا (تم دونوں قریب نہ جانا) ۔ الشجرۃ (درخت) وسوس (خیال ڈالا، وسوسہ ڈالا) لیبدی (تاکہ وہ کھول دے وری (چھپایا گیا) سواۃ (شرم گاہیں۔ (بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا چاہیے) ۔ مانھکما (تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ملکین (دو فرشتے ) ۔ قاسم (اس نے قسم کھائی) ۔ دل (مائل کیا۔ جھکایا ) ۔ ذاقا (دونوں نے چکھا ) ۔ بدت (ظاہر ہوگئی ) ۔ طفقا یخصفان (دونوں جوڑنے لگے ) ۔ ورق (پتہ۔ پتے ) ۔ نادی (اس نے پکارا ) ۔ الم انھکما (کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا ) ۔ ظلمنا (ہم نے زیادتی کی۔ ظلم کیا ) ۔ لم تغفر (تو نے معاف نہ کیا ) ۔ مستقر (ٹھکانہ ) ۔ تشریح : آیت نمبر (19 تا 25 ) ۔ ” ان آیات سے چند باتیں سامنے آتی ہیں :۔ ا) بائبل میں بتایا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) سوئے ہوئے تھے ان کی پسلی سے حضرت حوا کو نکال کر ان کو آدم (علیہ السلام) کی بیوی بنا دیا گیا۔ یہ ایک اسرائیلی روایت ہے جس کے لئے علماء مفسرین نے فرمایا ہے ” لا تصدق ولا نکذب “ نہ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ تردید قرآن و سنت میں بھی اس کی کوئی خاص وضاحت نہیں آئی۔ بہر حال ایک بات واضح ہے کہ بیوی جو انسان کی زندگی کی بہترین ساتھی ہوتی ہے اس کے بغیر جنت بھی تشنہ ہے جنت کی ساری نعمتیں حضرت آدم (علیہ السلام) کیلئے بےکیف تھیں جب تک ان کو زندگی کا ساتھی نہیں مل گیا جنت کی نعمتوں کو کیف آور اور روح پرور بنانے کے لئے ان میں معنی اور مقصد، حرکت و برکت ڈالنے کے لئے بیوی کی ضرورت آہی پڑی اور حضرت حوا کو پیدا کی گیا یہ جو بائبل میں آتا ہے کہ شیطان نے پہلے حضرت حوا کو بہکایا پھر انہوں نے حضرت آدم کو بہکایا یہ سراسر جھوٹ ہے۔ یہ بات عورت کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ ہندو اور یونانی دیومالوؤں میں عورت کو ذلیل کرنے کی من گھڑت کہانیاں ہیں بدھ مت بھی اپنا دامن اس قسم کی بےسروپا کہانیوں سے نہ بچا سکا۔ آج عورت کی عظمت کی باتیں کرنے والے بھی فیشن اور ترقی کے نام پر اس کو ذلیل و رسوا کر رہے ہیں۔ آج عورت کو بہترین نسلوں کی اصلاح کے لئے نہیں بلکہ کاروبار کو چمکانے کا آلہ کار بنایا ہوا ہے، صرف دین اسلام ہی وہ دین ہے جس نے عورت ذات کو اس کا حقیقی مقام اور مرتبہ عطا کر کے اس کے ذمے نسلوں کو بنانے اور سنوار نے کی ذمہ داری سپرد کی ہے اسلام نے عورت کو بازار کی زینت یا شمع محفل نہیں بلکہ شمع خانہ بنا کر اس پر خاندان کی تمام تر ذمہ داری ڈال دی ہے۔ یہی عورت کا بہترین مقام ہے۔ 2) ان آیات میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ انسان کسی جرثومہ سے پیدا نہیں ہوا (جیسا کہ ڈارون کا دعویٰ ہے) بلکہ تمام دنیا پر خلافت الہٰی کی عظیم الشان ذمہ داری ادا کرنے کے لئے تخلیق کیا گیا ہے جو تمام تر عقل و دانش ، شعور وتمیز اور علم و تہذیب سے مالا مال تھا۔ 3) تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ شیطان سب سے پہلا حملہ اور کاری وار عورت اور مرد کی جنس پر کرتا ہے۔ انہیں ایک دوسرے کے سامنے ننگے پن پر اکساتا ہے جو بدکاری، بدنگاہی، زنا، حرام اولاد اور اسقاط حمل وغیرہ کا دروازہ ہے مغرب میں یہ فعل انفرادی سطح سے اٹھ کر اب قومی سطح تک پہنچ گیا ہے اور حکومتوں کے ایوان بھی اس فعل سے محفوظ نہیں ہیں اسی لئے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا ہے کہ شرم و حیا نصف ایمان ہے یعنی اگر شرم وحیا کا قلعہ ایک دفعہ ٹوٹ گیا تو انسان کو شیطانی کاموں سے کوئی روک نہ سکے گا۔ 4) چوتھی بات یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ ” خیر خواہ “ کے بھیس میں آتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ ” میں تمہارا مخلص ہوں، میں تمہارا بھلا چاہتا ہوں، اس میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں ہے “ وغیرہ وغیرہ ایسے شیطانوں اور انسانوں سے بچنے کی بہت ضرورت ہے۔ 5) پانچویں بات یہ ہے کہ شیطان کا کام سبز باغ دکھانا ہے اور امیدوں کے کھلونوں سے کھیلنے پر مجبور کرنا ہے۔ ان آیات میں غور کرنے سے یہی نتائج سامنے آتے ہیں کہ شیطان اور اس کی ذریت ہمیشہ خیر خواہ بن کر دین و ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جو سب سے پہلے انسان ہیں اور اللہ کے سب سے پہلے نائب اور خلیفہ ہیں ان کو شیطان ان ہی حربوں سے شکست دینا چاہتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی ندامت کے اظہار پر معاف فرمادیا یہ درحقیقت شیطان کی سب سے پہلی شکست تھی لیکن شیطان دوسرے لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوگیا جنہوں نے آدم (علیہ السلام) کو گناہگار تصور کر کے (نعوذ باللہ) عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا اور ان کو یقین دلادیا گیا کہ وہ تمام انسانوں کے گناہوں کو لے کر (نعوذباللہ) پھانسی چڑھ گئے۔ قرآن کریم اور احادیث میں نہ صرف اس واقعہ کی تردید کی گئی ہے بلکہ اہل ایمان کو بتا دیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور اس کے بندے ہیں اور آج بھی وہ آسمانوں پر زندہ موجود ہیں جو قیامت کے قریب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔
Ayahs 7:26–27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے آدم (علیہ السلام) کی اولاد۔ ہم نے تمہارے اوپر لباس اور آرائش کے کپڑے نازل کئے تاکہ وہ تمہارے قابل شرم حصوں کو ڈھانپ سکیں۔ اور تمہارے لئے باعث زینت ہوں۔ تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ غور فکر کریں۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے آدم (علیہ السلام) کی اولاد ! تمہیں شیطان اسی طرح نہ بہکادے جس طرح اس نے تمہارے مان باپ (حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا) جو بہکا کر جنت سے نکلوا دیا تھا اور ان کا لباس اتروادیا تھا۔ تاکہ ان دونوں کی شرم گاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھلوادے۔ وہ شیطان اور اس کا گروہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے ان شیطانوں کو ایسے لوگوں کا ساتھی اور رفیق بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

لغات القرآن آیت نمبر (26 تا 27 ) ۔ انزلنا (ہم نے اتارا ) ۔ ریش (پرندوں کے پر) ۔ زیب وزینت کا سامان) ۔ لا یفتنن (ہرگز نہ بہکانے پائے) ۔ ینزع (وہ کھینچتا ہے۔ اترواتا ہے) ۔ یری کم (وہ تمہیں دیکھتا ہے ) ۔ لا ترون (تم نہیں دیکھتے ہو ) ۔ تشریح : آیت نمبر (26 تا 27 ) ۔ ” گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا جنت میں بھی لباس کی ضرورت رکھتے تھے، جب ان سے لغزش ہوگئی تو جنت کا یہ لباس ان کے جسموں سے اتر گیا اور وہ جنت کے پتوں سے اپنا جسم ڈھانپنے لگے۔۔۔۔ اس سے یہ بات بالکل واضح طور سے سامنے آتی ہے کہ جہاں اپنے جسم کے قابل شرم حصوں کو ایک دوسرے سے چھپانا انسانی فطرت میں شامل ہے وہیں مرد وعورت کے جسم پر لباس کا ہونا بھی ایک لازمی بات ہے۔ اور آدم (علیہ السلام) و حوا میاں بیوی ہونے کے باوجود ننگے پن کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ شرم و حیا کا اتنا غلبہ تھا کہ وہ جنت کے پتوں سے اپنا جسم چھپانے لگے، یہ اس کائنات کے سب سے پہلے مرد اور عورت کا حال ہے۔ یہاں ڈارون اور اس کے اندھے مقلدوں کا فلسفہ غلط اور جھوٹ ثابت ہوجاتا ہے کہ ہزاروں سال تک ابتدائی انسان روئے زمین پر بندروں اور گوریلوں کی صورت میں مادرز اوننگا پھرتا رہا۔۔۔۔ شرم و حیا اور لباس بہت بعد کی چیز ہے سنا ہے کسی مغربی عقل مند نے اب یہ نعرہ بلند کردیا ہے کہ انسان کو پھر اپنی ننگی فطرت کی طرف لوٹ جانا چاہئے (بلکہ عملی طور پر مغربی تہذیب تو لوٹ چکی ہے) جب حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا اس کرئہ ارض پر آئے تو یقینا لباس، احساس ضرورت۔ احساس حیا اور احساس زینت کے ساتھ آئے۔ یعنی وہ نہ صرف جنت سے اپنے اپنے لباس لے کر آئے بلکہ اللہ نے انہیں الہام کیا کہ لباس بنانے کا سامان اور طریقہ کیا ہے۔ اور وہ یہاں لباس بنا کر پہننے لگے۔ قرآن کریم کی اس آیت کا یہی مطلب ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ” ہم نے تمہارے اوپر لباس کو نازل کیا “ اور یہ بھی فرمادیا کہ لباس کا مقصد ستر ڈھانپنا، حفاظت اور زینت ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ سب سے بہتر لباس ” تقویٰ کا لباس ہے۔ تقویٰ کا لباس کیا ہے ؟ وہ لباس جس میں تن ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ شرم و حیا کا ہر پہلونمایاں ہو۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دادا دادی حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا کی پوشاک ان تقاضوں کو پورا کرتی تھی۔۔۔۔ اور کیون نہ ہو حضرت آدم (علیہ السلام) پہلے انسان بھی تھے اور پہلے نبی بھی جو خلافت و نبوت کا تاج سر پر رکھ کر دنیا میں تشریف لائے۔ یہ تصور بلکل غلط اور بےبنیاد ہے کہ پہلے مرد وزن وحشی بےشعور بندر تھے۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ وہ مکمل انسان تھے، ملبوس، مہذب، شرم و حیا کے پیکر، صاحب تقویٰ اور ذمہ داریوں کا بارگراں لیکر آئے تھے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس باقاعدہ شریعت تھی۔ یہاں لباس سے مراد محض تن کی پوشاک نہیں ہے بلکہ شرم و حیا کے ساتھ اوڑھنا استعمال کرنا بھی ہے۔ یہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا غذا۔ لباس کے تین بڑے مقاصد بیان کئے گئے ہیں (1) ستر پوشی (2) موسم سے حفاظت (3) ظاہری زیب وزینت۔۔۔۔ دین اسلام ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن پر بھی زور دیتا ہے اور وہ ہے ذہنی واخلاقی نفسیاتی جذبہ۔۔۔۔ یعنی تقویٰ پرہیز گاری ، خوف الہٰی۔ معلوم ہوا کہ لباس جسم کے ساتھ ساتھ لباس روح بھی ضروری ہے کیونکہ اندر کی روح شیطان کے قبضے میں ہو تو قیمتی سے قیمتی اور جدید سے جدید لباس بھی بیکار ہے۔ لباس تقویٰ :۔ جو لباس شریعت کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو۔ جس میں ظاہری نفاست، صفائی اور ستھرائی ہو اور نفاست باطنی بھی موجود ہو۔ جو شخصیت باہر ہو۔ وہی شخصیت بلکہ اس سے زیادہ بہتر شخصیت اس کے اندر ہو۔ اس میں بےشرمی نہ ہو، فضول خرچی نہ ہو، فخر و غرورنہ ہو، کسی کو نیچا دکھانے کا جذبہ نہ ہو۔ نہ تو مرد عورتوں کا لباس پہننے والے ہوں اور نہ عورتیں مردوں کا جیسا لباس پہننے والی ہوں۔ یونی فارم یعنی سرکاری لباس۔۔۔۔ لباس جو کسی بھی جماعت کو دوسری جماعت اور افراد سے، کسی فوج کو دوسری فوج سے ممتازو متعین کر دے۔ آج تمام مہذب اور غیر مہذب سوسائٹی مین یہ لازم ہے۔ چینی ایک خاص لباس پہنتے ہیں، افریقیوں کا اپنا لباس ہے یورپین اور امریکی اپنے طرز کا لباس زیب تن کرتے ہیں لیکن اسلام کی سرکاری وردی جغرافیہ، آب و ہوا، رسم و رواج اور پیشہ کے تحت نہیں ہے بلکہ اندرونی ذہنیت اور جذبہ یعنی تقویٰ کے تحت ہے ایک مسلم کا لباس ایسا ہونا چاہئے کہ وہ دور سے پہچانا جائے اور غیر مسلموں سے ممتاز ہو۔ اس لئے غیر مسلموں کی اندھی تقلید سے منع کیا گیا ہے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو آدمی کسی دوسری قوم کا انداز و مشابہت اختیار کرے گا اس کا انجام اس کے ساتھ ہوگا ۔ ایک جگہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” جو اچھا ہے وہ لے لو اور جو برا ہے اس کو چھوڑ دو یعنی کسی معاملے میں بھی کسی قوم کی اندھی تقلید اور نقالی جائز نہیں ہے۔ اچھی باتیں اختیار کرنے میں حرج نہیں ہے لیکن اس میں بھی اسلامی روح ہونی چاہیے۔ آپ نے فرمایا ” جو شخص نیا لباس پہننے کے بعد پرانے لباس کو غریبوں اور مسکینوں پر صدقہ کردے تو وہ اپنی حیات و موت کے ہر حال مین اللہ کی پناہ میں ا ا گیا (ابن کثیر عن مسنداحمد) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا (بحوالہ حضرت فاروق اعظم ؓ مسلم کو چاہئے کہ نیا لباس پہننے کے بعد یہ دعا پڑھے : اس ذات پاک کا شکر ہے جس نے مجھے لباس دیا جس کے ذریعہ میں اپنے ستر کو چھپا کر زینت حاصل کرسکا ہوں۔ ننگا پن اور برہنگی دور جہالت میں عربوں کی خاص چیز تھی اس سلسلہ میں مردوں سے آگے ان کی عورتیں تھیں اس ننگے پن کو وہ اپنے بتوں کی خوشنودی کا ذریعہ سمجھتے تھے خاص طور پر حج کے موقع پر اس کا عام مظاہرہ اسی طرح کیا جاتا تھا جس طرح آج بھی یورپ کو سوسائٹی میں کرسمس اور دیگر موقع پر شراب ، کباب اور شباب کا طوفانی مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ شیطان کا حملہ سب سے پہلے لباس تقویٰ پر ہوتا ہے ” شکار “ کی شرم و حیا گھٹنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ لباس پہنتا بھی ہے تو اس کا ” جوہر پردہ “ گم ہو کر وہ جاتا ہے۔ جس کے لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” قیامت کے قریب عوتیں ایسا لباس پہنیں گی کہ لباس پہن کر بھی وہ اپنے لباس میں ننگی ہی رہیں گی۔ یعنی ان کے جسموں پر کہنے کو لباس ہوگا۔ لیکن ایسا چست اور بھڑک دار کہ جس میں جسم کا ہر عضو انسانوں کو دعوت گناہ دیتا نظر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اسی لئے حضرت آدم و حوا کی مثال دے کر فرمادیا ہے کہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے وہ ہمیشہ بےحیائی اور ننگے پن کے راستے سے ایمان اور اعمال صالحہ پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ ان آیات میں اللہ نے لباس کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے یعنی ہر انسان کا لباس اس کی بنیادی ذہنیت کا اظہار اور چلتا پھر تا اشتہار ہے کہ وہ کہاں تک تقویٰ رکھتا ہے اور کہاں اس کے قدم حدود سے باہر نکل رہے ہیں۔ ان آیات میں اس سے بیح ہوشیار کردیا گیا ہے کہ شیطان اور اس کی ذریات تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہیں لیکن تم ان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہو۔ شیاطین مادی جسم نہیں رکھتے ہیں بلکہ غیر مرئی ہیں ہوا کی طرح ایک خاص جسم رکھتے ہیں جو انسان کے پانچوں حواس کی گرفت سے باہر ہیں۔ اسکے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ لاشعور اور نیم شعور کے محاذ پر عموما حملہ کرتے ہیں، وسوسہ ، شک ، فوری فائدہ کا لالچ، اندھیرا، مزا، موقع، نشہ، اور بہکنے کا مادہ وغیرہ شیطان کے خاص حربے ہیں۔ ” بلس اور شطن “ لگ بھگ ایک ہی معنی کے لفظ ہیں۔ ابلیس اور شیطان دونوں لفظ ملے جلے استعمال ہوتے ہیں لیکن قرآن کریم میں ابلیس عام طور پر اس کے لئے مخصوص ہے کہ وہ فرد جس نے حوا اور آدم (علیہ السلام) کو یہ کہہ کر سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا ” تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے “ اور شیطان کا لفظ اس کے عمل اور طریقہ عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں ” شیاطین “ فرماکرواضح کردیا ہے کہ یہ لشکر ہر وقت حملہ کرنے کے لئے اپنے دائوگھات میں چھپا ہوا اپنا کام کر رہا ہے اور اس کے شکاروہی لوگ ہیں جو ایمان اور عمل صالح سے محروم ہیں ایمان اور گمراہی کا ایک ساتھ جمع ہونا محال ہے۔
Ayahs 7:28–30

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

وہ لوگ جب بھی کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی پر پایا ہے اور ہمیں اس کو حکم اللہ نے دیا ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کسی کو بےحیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر (وہ جھوٹی باتیں) لگاتے ہو جس کو تم جانتے نہیں۔

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے تو مجھے صراط مستقیم کا حکم دیا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے وقت اپنا منہ سیدھا رکھو اور دین کو خالص اللہ کے لئے رکھ کر اسی کو پکارو۔ جس نے تمہیں جس طرح پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہ اسی طرح تمہیں دوبارہ پیدا کریگا۔

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک جماعت ہدایت پر ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس پر گمراہی مقرر ہوچکی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا ساتھی بنا لیا ہے اور (وہ اپنے گمان میں) سمجھتے یہ ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر (28 تا 30 ) ۔ فاحشتہ (بےحیائی کا کام ) ۔ امرنا (اس نے ہمیں حکم دیا ہے ) ۔ لا یا مر (وہ حکم نہیں دیتا ) ۔ اقیموا (قائم رکھو ) ۔ وجوھکم (وجہ) اپنے چہروں کو) ۔ ادعوا (پکارو) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر (28 تا 30 ) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی ان من گھڑت رسموں اور ننگے ہو کر عبادت کرنے کی فضول رسموں پر گرفت کی ہے۔ جن کو انہوں نے مذہب کا رنگ دے دیا تھا۔ 1) ان کا یہ خیال تھا کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں ان کو پہن کر بیت اللہ کا طواف کرنا گناہ ہے قریش کے علاوہ سارے کفار برہنہ ہو کر طورف کرتے تھے۔ ان کی اسی رسم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ اگر قریش کے لوگ اپنے کپڑے کچھ وقت کے لئے دیدیں تو ان کو پہن کر آنے کو برا سمجھتے تھے۔ 2) جب ان سے یہ پوچھا جاتا تھا کہ تم اللہ کے گھر مین ننگے ہو کر طواف کیوں کرتے ہو ؟ جواب یہ دیتے تھے کہ ہمارے بڑے اور باپ دادا ایسا ہی کرتے تھے جن کو (نعوذباللہ ) اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔ 3) طواف کے دوران اور بعد میں یہ رسم پرست لوگ بتوں کو چومتے اور ان کو اپنا حاجت روا سمجھتے تھے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کا جواب یہ دیا ہے کہ : 1) یہ ان کا دعویٰ سراسر جھوٹ اور من گھڑت ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو بےحیائی، بےشرمی اور بےغیرتی کا حکم نہیں دیتا بلکہ یہ تمام باتیں انہیں اور ان کے باپ دادا کو اسی شیطان نے سکھائی ہیں جس نے اللہ کی نافرمانی کا عہد کیا ہوا ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر اس بات کو بہت وضاحت سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ رسم پرستوں کے پاس اپنی ہر رسم کی ایک ہی دلیل ہوتی ہے کہ ” ہم کچھ نہیں جانتے ہم تو یہ سمجھتے ہیں یہ کام جو ہم کر رہے ہیں اس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح عمل کرتے دیکھا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا ہے کہ بتائو اگر تمہارے باپ دادا نے کوئی ایسا کام کیا ہو جس کے لئے ان کے پاس نہ تو کوئی کتاب ہدایت تھی اور نہ علم کی روشنی اور انہوں نے اپنی جہالت سے کوئی کسی طرح کی رسم ڈال دی ہو تو کیا تم پھر بھی اسی راستے پر چلو گے ؟ ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کی پہلے بھی یہی عادت تھی اور آج بھی یہی مزاج ہے کہ وہ ان رسموں پر اس طرح جم جاتے ہیں کہ اس کے خلاف کوئی بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ان کے لئے قرآن و سنت کی ہر دلیل کوئی معنی نہیں رکیتا۔ ایسی اندی تقلید اور شخصیت پرستی سے ہی اللہ نے اپنے بندوں کو روکا ہے۔ 2) دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ نے بےحیائی کے کاموں کا نہیں بلکہ اس صراط مستقیم پر چلنے کا حکم دیا ہے جس پر چل کر انسان دین ودنیا کی کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ 3) تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ تمہارا رخ بتوں کی طرف نہیں بلکہ اللہ کے گھر میں اللہ کی طرف ہونا چاہئے اور اس کے گھر میں اپنی ہر مشکل کے لئے اسی کا پکارنا چاہئے۔ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ گھر تو اللہ کا ہو اور اس میں غیر اللہ کو پکارا جائے۔ انسانوں کی ساری مشکلات تو اللہ حل کرنے والا ہو مگر مشکل کشا غیر اللہ کو مانا جائے۔ کفار مکہ کو خاص طور پر اور قیامت تک آنے والے انسانوں کو عام طور پر حکم دیا جارہا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کو پکاریں اور اسی سے ہر مشکل کا حل مانگیں وہ جس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی ہے اور اس دنیا سے گذرنے کے بعد پھر وہی دوبارہ زندگی دے گا۔ 4) چوتھی بات یہ فرمائی ہے کہ تم ہی میں سے ایک جماعت (صحابہ ؓ ؓ کو اللہ نے راہ ہدایت نصیب فرمادی ہے لیکن تم ہی میں سے بہت سے لوگ وہ بھی ہیں جو محض اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور جہالت کی وجہ سے گمراہی کی دلدل میں پھنس کر وہ گئے ہیں اور انہوں نے شیطان کو اپنا سب کچھ مان لیا ہے، اس کے حکم پر چلتے ہیں اور گمراہی کے باوجود وہ اپنے آپ کو ” راہ ہدایت “ پر سمجھتے ہیں جو ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ درحقیقت راہ ہدایت پر وہ ہیں جنہوں نے دامن مصطفیٰ ﷺ کو تھام کر اللہ کے ہر حکم کی اطاعت کو اپنا دین و ایمان بنا لیا ہے اور وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں۔