Ayahs 7:1–8آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (کتب انزل الیک) ” یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر ‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور فمصل طور پر موجود ہیں (فلایکن فی صدرک حرج منہ) ” پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو “ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ (لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدہ :62/31) ” باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے “۔ اس لئے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہیکو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت یس نہ ڈریئے۔ (لتذربہ) ” تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں۔ “ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہوجائے گی۔ (وذکری المومنین) ” اور اہل ایمان کے لئے یاد دہانی ہوگی۔ “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وذکر فان الذکری تنفیع المومنین) (الذاریات :55/51) ” نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔ “ اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاد دہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا : (اتبعوا ما انزل الیکم) ” پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمہاری طرف “ یعنی اس کتاب کی جو میں تمہاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں (من ربکم) ” تمہارے رب کی طرف سے “ جو تمہاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لئے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمہاری تربیت مکمل ہوجائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہوجائے گی اور تمہیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی رف راہنمائی نصیب ہوگی۔
(ولا تتبعوا من دونہ اولیآء) ” اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔ “ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو (قلیلاً ما تذکرون) ” تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو “ اگر تم نصیحت حاصل کرلیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنہوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں۔
(وکم من قریۃ اھلکنھا فجآء ھاباسنا) ” اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب “ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا (بیاتا اوھم قائلون) ” راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے “ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انہیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انہوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
(فما کان دعوھم اذ جآء ھم باسناً الا ان قالوا انا کنا ظلمین) ” جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بیشک ہم ظالم تھے۔ “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت ! بیشک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انہیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کردیا۔ “
(فلنسئلن الذین ارسل الیھم) ” ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا ومرسلین کو مبعوث کیا تھا “ کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ (ویوم ینادیھم فیقول ما ذا اجبتم المرسلین) (القصص :65/68) ” اور جس روز وہ (اللہ) انہیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا ؟ “ (ولنسئلن المرسلین) ” اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔ “ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضروری پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔ (فلنقصن علیھم) ” پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔ “ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے (بعلم) ” اپنے علم سے “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا (وما کنا غآئبین) ” ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔ “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (احصہ اللہ ونسوہ) (المجادلہ 6/58) ” اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں۔ “ اور فرمایا (ولقد خلقنا فوقکم سبع طرآئق وما کنا عن الخلق غفلین) (المومنون :18/23) ” ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان پیدا کئے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔ “
Ayah 7:9آیت 9
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی۔ یعنی قیامت کے روز اعمال کا زن عدل و انصاف کیساتھ کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا (فمن ثقلت موازینہ) ” تو جن لوگوں کے وزن بھاری ہوں گے۔ “ یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا (فاولئک ھم المفلحون) ” تو وہی نجات پانے والے ہوں گے۔ “ یہی لوگ ہیں جو ناپسندیدہ امور سے نجات حاصل کریں گے اور اپنے محبوب امور کو پالیں گے جن کو بہت بڑا نفع اور دائمی سعادت حاصل ہوگی۔ (ومن خفت موازینہ) ” اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے “ یعنی جن کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا، ان کا معاملہ اس کے مطابق ہوگا (فاؤلئک الذین خسروآ انفسھم) ” پس یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا نقصان کیا “ کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو کر درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے (بما کانوا بایتنا یظلمون) ” اس واسطے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے “ یعنی ان آیات کریمہ کی اطاعت جس طرح کرنا ان پر واجب تھی انہوں نے نہیں کی۔
Ayah 7:10آیت 10
اللہ تبارک و تعالیٰ معاش و مسکن کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بندوں پر احسان جتلاتا ہے (ولقد مکنکم فی الارض) ” اور ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانا مہیا کیا “ جس سے تم زمین میں گھر بناتے ہو، کھیتی باڑی کرتے ہو اور بعض دیگر وجوہ سے اس سے استفادہ کرتے ہو (وجعلنا لکم فیھا معایش) ” اور مقرر کردیں ہم نے اس میں تمہارے لئے روزیاں “ تمام معاش کا دار و مدار ان چیزوں پر ہے جو درختوں، نباتات، معدنیات، مختلف قسم کی صنعتوں اور تجارت سے ہوتی ہیں۔ وہی ہے جس نے تمہیں یہ تمام چیزیں مہیا کیں اور مختلف اسباب کو تمہارے لئے مسخر کیا تجارت سے ہوتی ہیں۔ وہی ہے جس نے تمہیں یہت مام چیزیں مہیا کیں اور مختلف اسباب کو تمہارے لئے مسخر کیا (قلیلاً ماتشکرون) ”(مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ کا بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو، جس نے انواع و اقسام کی نعمتوں سے تمہیں نوازا اور مختلف مصائب کو تم سے دور کیا۔
Ayahs 7:11–16آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : (ولقد خلقنکم) ” اور ہم نے تمہیں پیدا کیا “ یعنی تمہارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب پیدا کئے گئے (ثم صورنکم) ” پھر تمہاری صورت شکل بنائی۔ “ پھر ہم نے تمہیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں۔ چناچہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی (فسجدوآ) ” پس انہوں نے سجدہ کیا۔ “ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا (الا ابلیس) مگر ابلیس نے تکبر اور خودپسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔
اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا : (مامنعک الا تسجد) ” تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا “ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کعطا نہیں کی، تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا (قال) ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا : (انا خیر منہ) ” میں اس سے بہتر ہوں “ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا : (خلقتنی من نار وخلقتہ من طین) ” تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے “ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہ، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔
شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔
(1) یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔
(1) یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔
(2) ابلیس کا مجردیہ کہنا (انا خیرمنہ) ” میں اس (آدم) سے بہتر ہوں “ ابلیس خبیث کے نقص کے لئے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خودپسندی، تکبر اور بلاعلم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہوسکتا ہے ؟
(3) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس میٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔ اسی لئے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لئے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا (فھبط منھا) ” تو اس سے اترجا۔ “ یعنی جنت سے اتر جا (فمایکون لک ان تتکبر فیھا) ” تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں) رہ کر تکبر کرے “ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں۔ (فاخرج انک من الصغرین) ” پس نکل جا تو ذلیل ہے۔ “ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔ جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا، تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لئے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کرسکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوجائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا : (انک من المنظرین) ” تجھ کو مہلت دی گئی “
Ayah 7:17آیت 17
جب ابلیس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگیا تو کہنے لگا : (قال فبما اغویتنی لاقعدن لھم) ” جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کے لئے “ یعنی مخلوق کے لئے (صراطک المستقیم) ” تیرے سیدھے راستے پر “ اور لوگوں کو اس راستے سے روکنے اور اس پر چلنے سے منع کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ (آیت) ’ د پھر میں ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے “ یعنی میں تمام جہات اور تمام اطرفا سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور ہر طریقے سے جہاں کہیں سے بھی مجھے ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ جب شیطان خبیث کو معلوم ہوگیا کہ اولاد آدم بہت کمزور ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں پر بسا اوقات غفلت غالب آجاتی ہے، تو اس نے ان کو گمراہ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا اور اس کا گمان سچ نکلا، اس لئے کہنے لگا (ولا تجد اکثر ھم شکرین) ” اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا “ کیونکہ شکر گزاری بھی صراط مستقیم پر چلنے ہی کا حصہ ہے اور شیطان ان کو اس راستے پر گامزن ہونے سے روکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر) (فاطر :6/35) ” وہ تو اپنے گروہ کو اس لئے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔ “ شیطان نے جو کچھ کہا اور اپنے فعل کے عزم کا اظہار کیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر محض اس لئے متنبہ فرمایا ہے، تاکہ ہم اپنے دشمن سے بچتے رہیں اور اس کے مقابلے کے لئے پوری طرح تیار رہیں اور ان راستوں اور داخل ہونے کے ان مقامات کی معرفت حاصل کر کے، جہاں سے وہ حملہ آور ہوتا ہے، اپنی حفاظت کرسکیں۔ پس یہ خبر دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمت کامل سے نوازا ہے۔
Ayah 7:18آیت 18
یعنی ابلیس نے جو کچھ کہا اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (اخرج منھا) ” نکل یہاں سے “ یعنی ذلت و خواری کے ساتھ نکلنا۔ اس سے عزت و اکرام کے ساتھ نکلنا مراد نہیں (مذء وماً ) بلکہ مذمت کے ساتھ نکلنا مراد ہے (مدحوراً ) ” مردود ہو کر “ یعنی اللہ تعالیٰ ، اس کی رحمت اور ہر بھلائی سے دور (لاملئن جھنم منکم) ” میں تم سے جہنم کو بھر دوں گا۔ “ یعنی میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا (اجمعین) ” تم سب سے “ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے کہ جہنم نافرمانوں کا ٹھکانا ہے، وہ لازمی طور پر جہنم کو ابلیس اور اس کے جن اور انسان پیروکاروں سے بھر دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو ابلیس کے شر اور فتنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا :
Ayahs 7:19–23آیت 19
یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لئے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا ؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے (فتکونا من الظلمین) ” تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے “ آدم اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کردیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا : (ما نھکما ربکم عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین) ” تم کو نہیں روکا تمہارے رب نے اس درخت سے، مگر اس لئے کہ کہیں تم ہوجاؤ فرشتے “ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے (اوتکون امن الخلین) ” یا ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں اسکا قول ذکر فرمایا : (ھل ادلک علی شجرۃ الخلد و ملک لایبلی) (طہ :120/20) ” کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔ “
یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا : (انی لکما لمن النصحین) ” میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔ “ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمہاری خیر خواہی کرنے والا ہوں۔ پس آدم شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ (فذ لھما) ” پس نیچے لے آیا ان دونوں کو “ یعنی شیطان نے آدم و حوا کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر سا شجر ممنوعہ کے پھل کو کھالیا (فلما ذاقا الشجرۃ بدت لھما سواتھما) ” پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو، تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں “ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس یس پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتی کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ (ونادھما ربھما) اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی (الم انھکما عن تلکما الشجرۃ و اقل لکا ان الشیطان لکھا عدومبین) ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمہیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے “ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا ؟ پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا۔ (ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخسرین) ” اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔ “ یعنی ہم سے وہ گناہ سر زد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا، تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی (وعصی ادم ربہ فغوی، ثم اجتبہ ربہ فتاب علیہ وھدی) (طہ :122, 121/20) ” اور آدم نے اپنے رب کی نافرماین کی اور راہ سے بھٹک گیا۔ پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہنمائی کی۔ “
یہ رویہ آدم کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ غفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
Ayah 7:24آیت 24
یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جمع کے صیغے کے ساتھ مخاطب کر کے نیچے اترنے کا حکم دیا، کیونکہ ابلیس تو اس سے قبل اتارا جا چکا تھا، پھر سب زمین کی طرف اتارے گئے۔ آدم و حوا کے ساتھ ابلیس کو بھی بتکرار حکم دیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے، کیونکہ ابلیس انسان سے کبھی جدا نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
(بعضکم لبعض) کا جملہ (اھبطوا) کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حوا اور شیطان سے کہا کہ سب جنت سے نکل کر زمین پر اتر جاؤ درآنحالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو زمین پر تمہارا ٹھکانا ہے، اس وقت تک، جب تک تمہارا زمین میں رہنا مقدر ہے۔
Ayahs 7:25–26آیت 25
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم ان کی بیوی اور ان کی اولاد کو زمین پر اتار دیا تو ان کو زمین کے اندر ان کے قیام کے احوال کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ زمین کے اندران کے لئے ایک ایسی زندگی مقرر کردی ہے جس کے تعاقب میں موت ہے جو ابتلاء و امتحان سے لبریز ہے۔ وہ اسی دنیا میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنے رسول بھیجے گا، ان پر کتاب نازل کرے گا۔ حتی کہ ان پر موت آئے گی اور وہ اسی زمین میں دفن کردیئے جائیں گے۔ پھر جب وہ اپنی مدت پوری کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس دنیا سے نکال کر حقیقی گھر میں، جو دائمی قیام کا گھر ہے، داخل رے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو ضروری لباس مہیا فرمایا۔ وہ لباس جس سے خوبصورتی مقصود ہے۔ اسیطرح اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام اشیا مثلاً کھانا پینا، سواری اور بیویاں وغیرہ عطا کیں۔ اس کی تکمیل کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دیگر ضروریات مہیا کیں اور ان پر واضح کردیا کہ یہ سب کچھ بالذات مقصود نہیں ہے، بلکہ یہ لباس اللہ تعالیٰ نے صرف اس لئے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں ان کا مددگار ثابت ہو۔ بنا بریں فرمایا : (و لباس التقوی ذلک خیر) ” او جو تقویٰ کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔ “ یعنی تقویٰ کا لباس، حسی لباس سے بہتر ہے۔ کیونکہ لباس تقویٰ بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے کبھی پرانا اور بوسیدہ نہیں ہوتا اور لباس تقویٰ قلب و روح کا جمال ہے۔ رہا حسی اور ظاہری لباس تو اس کی انتہا ہے کہ یہ ایک محدود وقت کے لئے ظاہری ستر کو ڈھانپتا ہے یا انسان کے لئے خوبصورتی کا باعث بنتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا اور کوئی فائدہ نہیں۔ نیز فرض کیا یہ لباس موجود نہیں تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کا ظاہری ستر منکشف ہوجائے گا جس کا اضطراری حالت میں منکشف ہونا نقصان دہ نہیں اور اگر لباس تقویٰ معدوم ہوجائے تو باطنی ستر کھل جائے گا اور اسے رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
(ذلک من ایت اللہ لعلھم یذکرون) ” یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدتر کی، تاکہ وہ غور کریں “ یعنی یہ مذکورہ لباس جس سے تم ایسی چیزوں کو یاد کرتے ہو جو تمہیں نفع و نقصان دیتی ہیں اور اس ظاہری لباس سے تم اپنے باطن کی ستر پوشی میں مدد لیتے ہو۔
Ayah 7:27آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اولاد آدم کو ڈراتا ہے کہ شیطان کہیں تمہارے ساتھ بھی وہی کچھ نہ کرے جو اس نے تمہارے جد امجد آدم کے ساتھ کیا تھا، چناچہ فرماتا ہے : (یبنی ادم لایفتنکم الشیطن) ” اے آدم کی اولاد ! نہ بہکائے تم کو شیطان “ یعنی ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے سامنے گناہ اور معاصی کو آرساتہ کر کے تمہیں ان کی طرف بلائے اور ترغیب دے اور تم اس کی اطاعت کرلو (کما اخرج ابویکم من الجنۃ) ” جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا “ اور انہیں بنلد ترین مقام سے اتار کر فرو ترین مقام پر پہنچا دیا۔ پس اس سے بچو وہ تمہارے ساتھ بھی وہ کچھ کرنا چاہتا ہے، وہ تمہیں گمراہ کرنے کی کوشش میں ذرہ بھر کوتاہی نہیں کرتا جب تک کہ تمہیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے۔ اس لئے تم اس سے اپنا بچاؤ کرتے رہو اور اس کے مقابلے میں زرہ بکتر پہنے رکھو اور جن راستوں سے داخل ہو کر وہ تم پر شب خون مارتا ہے، ان راستوں سے غافل نہ رہو۔ (انہ) ” بیشک وہ “ دائمی طور پر تمہاری نگرانی کرتا ہے (یریکم ھو و قبیلہ) ” وہ اور اس کے قبیلے کے شیاطین جن تمہیں اس مقام سے دیکھت یہیں “ (من حیث لاترونھم انا جعلنا الشیطن اولیآء للذین لایومنون) ” جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنادیا جو ایمان نہیں لاتے۔ “ پس عدم ایمان ہی انسان اور شیطان کے درمیان دوستی اور موالات کے عقد کا موجب ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” جو مومن ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔ اس کا اختیار تو ان لوگوں پر ہے جو اس کو اپنا دوست بناتے ہیں اور اس کے سبب سے اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ “
Ayahs 7:28–30آیت 28
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (واذا فعلوا فاحشۃ) ” جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں۔ “ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ (قالوا وجدنا علیھا ابآء نا) ” کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے “ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں (واللہ امرنا بھا) ” اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے “ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (قل ان اللہ لایامربالفحشآء) ” کہہ دیجیے اللہ بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ “ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کمال کے لائق نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو فحش کاموں کا حکم دے، اللہ نے اس فحش کام کا کم دیا ہے جس کا ارتکاب یہ مشرک کرتے ہیں نہ کسی اور فحش کام کا۔ (اتقولون علی اللہ مالا تعلمون) ” کیا تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو جو تم کو معلوم نہیں ؟ “ اور اس سے بڑا اور کون سا بہتان ہوسکتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ذکر فرمایا جس کا وہ حکم دیتا ہے۔ (قل امرربی بالقسط ” کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے عبادات و معاملات میں ظلم و جور کا حکم نہیں دیا بلکہ عدل و انصاف کا حکم دیا ہے (واقیموا وجوھکم عند کل مسجد) ” اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھو، عبادات کی تکمیل کی کوشش کرو۔ خاص طور پر نماز کو ظاہر اور باطن میں کامل طور پر قائم کرو اور اسے تمام نقائص اور مفاسد سے پاک رکھو۔ (وادعوہ مخلصین لہ الدین) ” اور پکارو اس کو خالص اس کے فرماں بردار ہو کر “ یعنی صرف اسی کی رضا جوئی کا مقصد رکھو، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ دعا، دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں کو شامل ہے۔ یعنی تمہاری دعا کی تمام اغراض میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کی رضا کے سوا کوئی اور مقصد و ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ (کما بداکم) ’ دجی سے پہلی مرتبہ تمہاری ابتدا کی “ (تعودون) ” تم پھر پیدا ہو گے۔ “ یعنی اس طرح مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ وہ ہستی جو تمہاری تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے وہ اس تخلیق کا اعادہ کرنے کی بھی قدرت رکھتی ہے، بلکہ اس کا اعادہ زیادہ آسان ہے۔ (فریقاً ) ” ایک فریق کو “ یعنی تم میں سے ایک فریق کو (ھدی) ” اس نے ہدایت دی۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت کی توفیق سے نوازا، اس کے اسباب مہیا کئے اور اس کے موانع کو اس سے دور کیا (وفریقاً حق علیھم الصللۃ) ” اور ایک فریق، ثابت ہوگئی اس پر گمراہی “ چونکہ انہوں نے گمراہی کے اسباب اختیار کئے اور ہلاکت کے اسباب پر عمل پیرا ہوئے اس لئے اس لئے اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو ان پر واجب کردیا۔
(انھم اتخذوا الشیطین اولیآء من دون اللہ) ” انہوں نے شیطانوں کو رفیق بنایا، اللہ کو چھوڑ کر “ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بناتا ہے وہ واضح خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے اور چونکہ وہ اللہ رحمٰن کی ولایت اور دوستی یس نکل گئے اور انہوں نے شیطان کی دوستی کو پسند کرلیا، اس لئے انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق سے محرومی میں سے وافر حصہ نصیب ہوا اور چونکہ انہوں نے اپنے آپ پر بھروسہ کیا اس لئے وہ بہت بڑے خسارے میں پڑے گئے۔ (ویحسبون انھم مھتدون) ” اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں “ یعنی ان کے ہاں حقائق بدل گئے اور انہوں نے باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھ لیا۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اوامرونواہی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے تابع ہیں، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے امر کا حکم دے جسے عقل فحش سمجھتی ہو اور اسے ناپسند کرتی ہو اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا۔
اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا دار و مدار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے اور گمراہی یہ ہے کہ جب بندہ اپنے ظلم و جہالت سے شیطان کو اپنا دوست اور اس کو اپنی گمراہی کا سبب بنا لے تو اللہ اس سے علیحدہ ہوجاتا ہے اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر ہے درآں حالیہ وہ بھٹک چکا ہو تو اس کے لئے کوئی عذر نہیں کیونکہ وہ ہدایت حاصل کرسکتا تھا، لیکن اس نے اپنے گمان ہی کو سب کچھ سمجھا اور ہدایت کی منزل کو پہنچانے والے راستے کو ترک کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔
Ayahs 7:31–32آیت 31
اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم پر لباس نازل کرنے کے بعد جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپتے ہیں اور زینت اختیار کرتے ہیں، فرمایا : (یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد) ” اے نبی آدم ! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔ “ یعنی ہر نماز کے وقت، خواہ نماز فرض ہو یا نفل، اپنے ستر کو ڈھانپو، کیونکہ ستر ڈھانپنا ہی بدن کی زینت ہے جیسے ستر کو کھولنا بدن کو قبیح اور بدنما بنا دیتا ہے۔
اس آیت میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس زینت سے مراد لباس کی نظافت ہو۔ پس اس صورت میں آیت کریمہ میں نماز کے اندر ستر ڈھانپنے، زینت اختیار کرنے اور لباس کو میل کچیل اور نجاست سے پاک رکھنے کا حکم ہے۔
پھر فرمایا : (وکلوا واشربوا) ” اور کھاؤ اور پیو۔ “ یعنی ان پاک چیزوں میں سے کھاؤ پیو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہیں (ولا تسرفوا) اور (ان میں) اسراف نہ کرو۔ “ اسراف سے یا تو یہ مراد ہے کہ ماکولات کو اس مقدار سے زیادہ استعمال کرنا جو انسان کو کفایت کرتی ہیں کیونکہ ماکولات کو زیادہ کھانے کی حرص جسم کو نقصان دیتی ہے۔ یا اس سے مراد ہے ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں حد سے زیادہ خرچ کرنا۔ یا مراد ہے حلال سے تجاوز کر کے حرام میں پڑنا۔ (انہ لا یحب المسرفین) ” بیشک وہ (اللہ) اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا “ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ اسراف انسان کے جسم اور اس کی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسراف بسا اوقات انسان کو ایسی حالت تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ ان نفقات سے بھی عاجز رہ جاتا ہے جو اس پر واجب ہیں۔
اس آیت کریمہ میں کھانے پینے کا حکم ہے اور کھانا پینا چھوڑنے اور اس میں اسراف کرنے کی ممانعت ہے۔
Ayah 7:33آیت 33
اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر نکیر کرتا ہے جو تکلیف میں پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائ ہوئی پاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ چناچہ فرماتا ہے : (قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ) ” کہہ دیجیے کہ زینت و آرائش کی چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئی پیدا کی ہیں، ان کو کس نے حرام کیا ہے ؟ “ انواع و اصناف کے لباس، طیبات رزق یعنی ماکولات و مشروبات کی تمام اقسام کو کس نے حرام قرار دیا ہے ؟ یعنی وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حرام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں ؟ کون ان کو اس بارے میں تنگی میں مبتلا کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے وسعت رکھی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے طیبات کو اس لئے وسیع کیا تاکہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مدد لیں۔ اس نے ان چیزوں کو صرف اپنے مومن بندوں کے لئے مباح کیا ہے۔
بنابریں فرمایا (قل ھی اللذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ) کہہ دیجیے ! یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں، خلاص انہی کے واسطے ہوں گی قیامت کے دن “ یعنی ان نعمتوں کے بارے میں ان پر کوئی تاوان نہیں ہوگا۔
آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں تو یہ نعمتیں ان کے لئے خالص ہیں نہ ان کے لئے مباح، بلکہ ان نعمتوں کو استعمال کرنے پر ان کو سزا دی جائے گی اور قیامت کے روز ان سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
(کذلک نفصل الایت) ” ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ “ یعنی ہم ان آیتا کی توضیح کرتے ہیں اور ہم ان کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ (لقوم یعلمون) ” ان کے لئے جو جاتنے ہیں “ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں چناچہ وہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں اور ان کو سمجھتے ہیں۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محرمات کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تمام شریعتوں میں حرام قرار دیا ہے۔ فرمایا : (قل انما حرم ربی الفواحش) ” کہہ دیجیے ! بیشک میرے رب نے حرام کیا ہے بےحیائی کی باتوں کو “ یعنی بڑے بڑے گناہ جن کی برائی اور قباحت کی وجہ سے ان کو فحش اور سخت قبیح سمجھا جاتا ہے مثلاً زنا، سدومیت (عمل قوم لوط) وغیرہ۔ (ماظھر منھا وما بطن) ” جو ان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں “ یعنی وہ فواحش جن کا تعلق بدن کی حرکات سے ہے اور وہ فواحش جن کا تعلق قلب کی حرکات سے ہے مثلاً تکبر، خودپسندی، ریاء اور نفاق وغیرہ (والاثم والبغی بغیر الحق) ” اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو “ یعنی گناہ کے اعمال جو گناہ میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں سزا کے موجب ہیں اور (بغی) سے مراد ہے لوگوں کے جان و مال اور عزت و ناموس میں ان پر زیادتی وغیرہ۔ پس اس میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں۔ (وان تشرکوا باللہ مالم ینزل بہ سلطناً ” اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو کہ جس کی اس نے سند نہیں اتاری “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شرک پر کوئی دلیل وبرہان نازل نہیں فرمائی بلکہ اللہ تعالیٰ نے توحید کی تائید کے لئے دلائل وبراہین نازل فرمائے ہیں اور شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ بس اوقات شرک اصغر بھی اسی زمرے میں آجاتا ہے۔ مثلاً ریاء اور غیر اللہ کی قسم وغیرہ۔
(وان تقولوا علی اللہ مالا تعلمون) ” اور اس بات کو کہ اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جو تم نہیں جانتے “ یعنی اس کے اسماء وصفات، افعال اور اس کی شریعت کے بارے میں لاعلمی پر مبنی بات کہنا۔ ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور بندوں کو ان میں مشغول ہونے سے روکا ہے کیونکہ یہ امور مفاسد عامہ اور مفاسد خاصہ پر مشتمل ہیں اور یہ امور ظلمو تعدی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی جناب میں جسارت و جرأت کے موجب، اللہ تعالیٰ کے بندوں پر دست درازی اور اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت میں تغیر و تحریف کا باعث ہیں۔
Ayahs 7:34–36آیت 34
یعنی اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال کر زمین پر آباد کردیا اور ان کے لئے ایک مدت مقرر کردی۔ قوموں میں سے کوئی قوم اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے، تمام قومیں اکٹھی ہو کر اس مدت مقررہ سے آگے ہوسکتی ہیں نہ ان کے افراد۔
Ayah 7:37آیت 37
یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جس نے بہتان طرازی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف شریک اور اس کی ذات وصفات کی طرف نقص کی نسبت کی اور اس کی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کیا جو اس نے نہیں کہی۔ (اوکذب بایتہ) ” یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔ “ یعنی جس نے حق مبین کو بیان کرنے والی واضح آیات کو جھٹلایا، جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہیں پس یہ لوگ اگرچہ اس دنیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تاہم انہیں وہ عذاب ضرور مل کر رہے گا جو لوح محفوظ میں ان کے لئے لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چیز ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ اس دنیا سے تھوڑی سی مدت کے لئے فائدہ اٹھائیں گے اور ابد الآباد تک عذاب بھگتیں گے۔ (حتی اذا جآء تھم رسلنا یتوفنھم) ” یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے۔ “ یعنی جب ان کے پاس وہ فرشتے آجائیں گے جو ان کی مدت مقررہ پوری کرنے اور روح قبض کرنے پر مامور ہیں (قالوآ) یعنی اس حالت میں فرشتے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے : (این ماکنتم تدعون من دون اللہ) ” وہ (بت اور تمہارے خود ساختہ معبود) کہاں ہیں جن کو تم پکارا کرتے تھے ؟ “ اب ضرورت کا وقت آگیا اگر وہ تمہیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں یا کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ؟ (تو ان کو بلاؤ)
(قالو ضلوا عنا) ” وہ کہیں گے، وہ ہم سے گم ہوگئے “ یعنی وہ مضمحل اور باطل ہوگئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں ہمارے کسی کام کے نہیں۔ (وشھدوا علی انفسھم انھم کانواکفرین) ” اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے “ یعنی وہ دائمی طور پر رسوا کن عذاب کے مستحق ہیں۔
Ayahs 7:38–40آیت 38
فرشتے ان سے کہیں گے : (قال ادخلوا فی ام) ” ان قوموں میں داخل ہوجاؤ۔ “ یعنی ان جملہ امتوں میں داخل ہوجاؤ۔ (قد خلت من قبلکم من الجن والانس) ” جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکیں “ یعنی وہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے تھے جس پر تم چلتے رہے ہو۔ یعنی کفر و استکبار کا راستہ۔۔۔ اس لئے سب رسوائی اور ہلاکت کے مستحق ٹھہرے (فی النار) اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہو۔
سرکش اور نافرمان قوموں میں سے جب کوئی قوم جہنم میں جاخل ہوگی (لعنت اختھا) ” اپنی جیسی جماعت پر لعنت کرے گی۔ “ یعنی اپنے جیسے مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم پر لعنت کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔ “ (حتی اذا ادارکوا فیھا جمیعاً ) ” یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گے۔ “ یعنی جب جہنم میں، اولین و آخرین، قائدین، رؤسا، ان کے پیروکار اور مقلدین سب جمع ہوجائیں گے۔ (قالت اخرءھم) ” تو کہیں گے ان کے پچھلے “ یعنی رؤساء وقائدین کے پیروکار (لاولھم) ” پہلوں کو “ یعنی وہ اپنے سرداروں اور رؤسا کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہ انہوں نے گمراہ کیا تھا۔ کہیں گے : (ربنا ھولآء اضلونا فاتھم عذاباً ضعفا من النار) ” اے ہمارے رب ! ان ہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ “ یعنی اے ہمارے رب انہیں کئی گنا عذاب دے، کیونکہ انہوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ناپاک اعمال کو ہمارے سامنے مزین کر کے پیش کیا۔
(آیت) ” اور کہیں گے ان کے پہلے پچھلوں کو ” یعنی سروں اپنے پیروں کاروں سے کہیں گے : (فما کان لکم علینا من فضل) ” پس کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر بڑائی “ یعنی ہم گمراہی، ضلالت اور عذاب کے اسباب اختیار کرنے میں مشترک ہیں۔ تمہیں ہم پر کون سی فضیلت ہے ؟ (قال) یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (لکل ضعف) ” تم میں سے ہر ایک کے لئے دوگنا عذاب ہے “ (فذوقوا العذاب بما کنتم تکسبون) ” اب چکھو عذاب بسبب اپنی کمائی کے “ لیکن یہ معلوم ہے کہ سرداروں اور ائمہ ضلالت کو ان کے پیروکاروں کی نسبت زیادہ سخت اور برا عذاب دیا جائے گا۔ جیسے ائمہ ھدی کو ان کے متبعین کے ثواب کے مقابلے میں زیادہ بڑی نعتموں سے نوازا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ہم انہیں عذاب پر عذاب دیں گے اس پاداش میں کہ وہ فساد برپا کرتے تھے۔ “
یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی تمام اقسام جہنم میں ہمیشہ رہیں گی، اس کی اتھاہ گہرائی میں سب اکٹھے ہوں گے اگرچہ عذاب کی مقدار میں ان کے اعمال، عناد، ظلم اور افترا پردازی کے مطابق تفاوت ہوگا اور ان کی وہ محبت و مودت جو دنیا میں ان کے مابین تھی، قیامت کے روز دشمنی اور ایک دوسرے پر لعنت میں بدل جائے گی۔