Ayah 6:1آیت 1
یہ صفات کمال اور نعوت عظمت و جلال کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عمومی حمد و ثنا اور ان صفات کے ذریعے سے اس کی خصوصی حمد وثناء ہے، چناچہ اس نے اس امر پر اپنی حمد وثناء بیان کی ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا۔ جو اس کی قدرت کاملہ، وسیع علم و رحمت، حکمت عامہ اور خلق و تدبیر میں اس کی انفرادیت پر دلالت کرتی ہے نیز اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے تاریکیوں اور روشنی کو پیدا کیا اور اس میں حسی اندھیرے اور اجالے بھی شامل ہیں جیسے رات، دن، سورج اور چند وغیرہ اور معنوی اندھیرے اجالے بھی، مثلاً جہالت، شک، شرک، معصیت اور غفلت کے اندھیرے اور علم، ایمان، یقین اور اطاعت کے اجالے۔ یہ تمام امور قطعی طور پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی عبادت اور اخلاص کا مستحق ہے مگر اس روشن دلیل اور واضح برہان کے باوجود (ثم الذین کفروا بربھم یعدلون ) ” پھر وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ اوروں کو برابر کئے دیتے ہیں “ غیروں کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ وہ انہیں عبادت اور تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار دیتے ہیں اگرچہ وہ کمالات میں ان کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر نہیں سمجھتے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ہستیاں ہر لحاظ سے محتاج، فقیر اور ناقص ہیں۔
(ھوالذین خلقکم من طین) ” وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا “ یعنی تمہارا اور تمہارے باپ کا مادہ مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے (ثم قصی اجلاً ) ” پھر ایک مدت مقرر کردی “ یعنی اس دنیا میں رہنے کے لئے تمہارے لئے ایک مدت مقرر کردی اس مدت میں تم اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہو اور رسول بھیج کر تمہارا امتحان لیا جاتا ہے اور تمہاری آزمائش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (لیبلوکم ایکم احسن عملاً ) (الملک :2/68) ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ “ (واجل مسمی عندہ) ” اور ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک “ اس مدت مقررہ سے مراد آخرت ہے، بندے اس دنیا سے آخرت میں منتقل ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا (ثم) پھر اس کامل بیان اور دلیل قاطع کے باوجود (انتم تمترون) ” تم شک کرتے ہو ‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے وعدو وعید اور قیامت کے دن جزا و سزا کے وقوع کا انکار کرتے ہو۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اندھیروں (الظلمت) کو ان کے کثرت مواد اور ان کے تنوع کی بنا پر جمع کے صیغے میں بیان فرمایا ہے اور اجالے (والنور) کو احد استعمال کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا راستہ ایک ہی ہوتا ہے، اس میں تعدد نہیں ہوتا اور یہ وہ راستہ ہے جو حق، علم اور اس پر عمل کو متضمن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وان ھذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ ولاتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ) (الانعام :103/6) ” اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے اور تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ تم اللہ کے راستے سے الگ ہوجاؤ گے۔ “
Ayahs 6:2–3آیت 2
یعنی آسمانوں میں اور زمین میں وہی معبود ہے۔ آسمان اور زمین کے رہنے والے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں، تمام مقرب فرشتے، انبیاء ومرسلین، صدیقین، شہداء اور صالحین سب اس کی عظمت کے سامنے جھکے ہوئے اور اس کے غلبہ و جلال کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور تمہارے اعمال بھی جانتا ہے اس لئے تم اس کی نافرمانی سے بچو اور ایسے اعمال میں رغبت کرو جو تمہیں اس کے قریب کردیں اور اس کی رحمت کا مستحق بنادیں اور ہر ایسے عمل سے بچو جو تمہیں اس سے اور اس کی رحمت سے دور کر دے۔
Ayahs 6:4–6آیت 4
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکین کے اعراض، ان کی شدت تکذیب اور ان کی عداوت کے بارے میں خبر ہے، نیز یہ کہ آیات و معجزات انہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے جب تک کہ ان پر عبرتناک عذاب نازل نہ ہوجائے۔ چناچہ فرمایا : (وما تاتیھم من ایۃ من ایت ربھم) ” اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے “ جو حق پر دلیل قطعی ہیں جو حق کے قبول کرنے اور اس کی اتباع کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ (الا کانوا عنھا معرضین) ” مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ ان آیات کو غور سے سنتے نہیں اور ان میں تدبر نہیں کرتے۔ ان کے دل دوسرے امور میں مصروف ہیں اور انہوں نے پیٹھ پھیرلی ہے۔
(فقد کذبوا بالحق لما جآء ھم) ” انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا “ حالانکہ حق اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اور اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے ان کے لئے حق کو آسان کردیا اور وہ ان کے پاس حق لے کر آیا، مگر انہوں نے اس حق کا سامنا اس رویہ کے برعکس رویئے کے ساتھ کیا جس رویئے کے ساتھ انہیں اس کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔ اس لئے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
(فسوف یاتیھم انبوآء ماکانوا بہ یستھزء ون) ” سو اب آیا چاہتی ہے ان کے پاس حقیقت اس بات کی جس پر وہ ہنستے تھے۔ “ یعنی وہ چیز جس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے اس کے بارے میں عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ حق اور سچ ہے، اللہ تعالیٰ جھٹلانے والوں کے جھوٹ اور بہتان کو کھول دے گا۔ یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے، جنت اور جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ قیامت کے روز ان جھٹلانے والوں سے کہا جائے گا۔ (آیت) ” اور اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے اللہ اسے دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔ کیوں نہیں یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تاکہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے ان پر ظاہر کر دے اور اس لئے بھی کہ کافروں کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ “
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو حک مدیا کہ وہ امم سابقہ کے انجام سے عبرت پکڑیں، چناچہ فرمایا : (الم یروا کم اھلکنا من قبلھم من قرن) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے جھٹلانے والی کتنی ہی قوموں کے پے در پے ہلاک کردیا ؟ “ اور اس ہلاکت سے پہلے ہم نے انہیں مہلت دی (مکنھم فی الارض مالم نمکن لکم) ” ہم نے ان کو زمین میں وہ قوت و طاقت دی جو تمہیں ہم نے نہیں دی “ یعنی ہم نے انہیں مال، اولاد اور خوشحالی سے نوازا (آیت) ” اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا اور بنادیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے “ پھر اللہ تعالیٰ جو چاہتا اس پانی سے کھیتیاں اور پھل اگتے تھے جن سے وہ لوگ فائدہ اٹھاتے تھے اور جو دل چاہتا تھا تناول کرتے تھے۔ مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا، شہوات نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا اور لذات نے ان کو غافل کردیا۔ پس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے مگر انہوں نے ان کی تصدیق نہ کی بلکہ ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو جھٹلا دیا (فاھلکنھم بذنوبھم وانشانا من بعدھم قرنا اخرین) ” تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں یک پاداش میں ہلاک کردیا اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد دوسری امتوں کو “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا پھر ان کے بعد اس نے اور قومیں پیدا کردیں۔ گزری ہوئی اور آنے والی قوموں کے بارے میں یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے ان کا جو قصہ بیان کیا ہے اس سے عبرت پکڑو۔
Ayahs 6:7–10آیت 7
اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو کفار کی شدت عناد سے آگاہ فرمایا ہے اور یہ کہ ان کا یہ جھٹلانا آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کسی نقص کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس کا سبب ان کی جہالت تھا، یہ تو محض ظلم اور زیادتی کی بنا پر تھا جس میں تمہارے لئے کوئی چارہ نہیں۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولو نزلنا علیک کتباً فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم) ” اگر اتاریں ہم آپ پر لکھا ہوا کاغذ میں، پھر چھولیں اس کو اپنے ہاتھوں سے “ یعنی انہیں یقین آجائے (لقال الذین کفروآء) ” تو جو کافر ہیں وہ کہیں گے۔ “ یعنی ظلم اور تعدی کی بنا پر کفار کہیں گے (ان ھذا الاسحرمبین) ” یہ تو کھلا جادو ہے۔ “ اس سے بڑھ کر اور کون سی دلیل ہوسکتی ہے ؟ اور یہ ہے اس بارے میں ان کا انتہائی قبیح قول، انہوں نے ایسی محسوس چیز کا انکار کردیا جس کا انکار کوئی ایسا شخص نہیں کرسکتا جس میں معمولی سی بھی عقل ہے۔
(وقالوا) یعنی وہ تلبیس کے طور پر کہتے ہیں جو معقول سے لاعلمی اور جہالت پر مبنی ہے (لولا انزل علیہ ملک) ” ان پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا ؟ “ یعنی محمد ﷺ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ اترا جو اس کی مدد کرتا اور اس کام میں اس کی معاونت کرتا، کیونکہ وہ اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ رسول اللہ ﷺ تو بشر ہیں اور رسالت تو فرشتوں میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اس کی رحمت اور اپنے بندوں کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ جو کچھ وہ لے کر مبعوث ہوتا ہے اس پر ایمان، علم و بصیرت کی بنا پر اور بالغیب ہو۔ (ولو انزلنا ملکا) ” اگر ہم فرشتہ نازل کرتے۔ “ اگر ہم نے اپنی رسالت کے ساتھ کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا تو یہ ایمان معرفت حق کی بنا پر نہ ہونا بلکہ ایک ایسا ایمان ہوتا جو مشاہدہ سے صادر ہوتا ہے اور ایسا ایمان اکیلا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں مگر غالب یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ اگر وہ ایمان نہ لائے (لقضی الامر) ” تو طے ہوجائے قصہ “ تو ان کی فوری ہلاکت اور عدم مہلت کا فیصلہ ہوجائے گا۔ یہ اس شخص کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو حسب خواہش معجزات کا مطالبہ کرتا ہے اور ان پر ایمان نہیں لاتا۔ اس لئے ان کی طرف رسول بشری کو آیات بینات کے ساتھ مبعوث کرنا، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ یہ بندوں کے لئے بہتر اور نرم ہیں، نیز کفار اور جھٹلانے والوں کو مہلت دینا، ان کے لئے زیادہ فائدہ مند ہے۔ پس ان کا فرشتے اتارنے کا مطالبہ اگر وہ جانیں تو ان کے لئے بہت برا ہے۔
بایں ہمہ اگر فرشتہ نازل کر کے ان کی طرف رسول بنا کر بھیج دیا جائے تو وہ اس سے کچھ سیکھنے کی طاقت رکھتے نہ اس کے متحمل ہوسکتے ہیں اور نہ ان کے قوائے فانی اس کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں (ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلاً ) ” اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتے کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا “ کیونکہ حکمت الہیہ اسی کا تقاضا کرتی ہے (وللبسنا علیھم ما یلبسون) ” اور ان کو اسی شب ہے میں ڈال دیتے جس میں با پڑ رہے ہیں “ یعنی ان پر معاملہ مختلط ہوجاتا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو شبہ میں مبتلا کرلیا کیونکہ انہوں نے اپنے معاملے کی بنیاد اسی قاعدے پر رکھی جو مشتبہ تھا اور اس میں حق واضح نہیں تھا۔ پس جب صحیح طریقوں سے حق ان کے پاس آگیا اور اس کے وہ قواعد بھی آگئے جو اس کے حقیقی قواعد ہیں تو یہ حق ان کے لئے ہدایت کا باعث نہ بن سکا جبکہ دوسروں نے اس کے ذریعے سے ہدایت پائی۔ گناہ ان کا اپنا ہے کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے گمراہی کے دروازے کھول لئے۔
Ayah 6:11آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اسے صبر کی تلقین کرتا ہے اور اس کے دشمنوں کو تہدید و وعید سناتے ہوئے کہتا ہے : (ولقد ساتھ زی برسل من قبلک) ” اور تحقیق استہزا کیا گیا رسولوں سے، آپ سے پہلے جب وہ واضح دلائل کے ساتھ اپنی امتوں کے پاس آئے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا انہوں نے ان کے ساتھ اور ان کی تعلیمات کے ساتھ استہزا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کفر اور تکذیب کے باعث ہلاک کردیا اور عذاب میں سے ان کو پورا پورا حصہ دیا۔ (فحاق بالذین سخروا منھم ما کانوا بہ یستھزء ون ) ” پس گھیر لیا ان کو جو ان میں سے استہزا کرنے والے تھے، اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزا کرتے تھے۔ “ پس اے جھٹلانے والو ! جھٹلانے کی روش پر قائم رہنے سے باز آجاؤ، ورنہ تمہیں بھی وہی عذاب آ لے گا جو ان قوموں پر آیا تھا۔ (قل سیروا فی الارض ثم انظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین) ” کہو کہ ملک میں چلو پھر و اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ “ یعنی اگر تمہیں اس بارے میں کوئی شک و شبہ ہے تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ تم دیکھو گے کہ ایسی قوم ہلاک کردی گئی اور ایسی امتیں عذاب میں مبتلا کردیگئیں۔ ان کے گھر ویران ہوگئے اور ان عیش کدوں میں رہ کر مسرتوں کے مزے لوٹنے والے نیست و نابود ہوگئے۔ اللہ جبار نے ان کو ہلاک کردیا اور اہل بصیرت کے لئے ان کو نشان عبرت بنادیا۔ یہ (سبیر) جس کا حکم دیا گیا ہے بدنی اور قلبی سیر کو شامل ہے جس سے عبرت جنم لیتی ہے۔ رہا عبرت حاصل کئے بغیر چل پھر کر دیکھنا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
Ayah 6:12آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے فرماتا ہے (قل) ” کہہ دیجیے “ یعنی ان مشرکین سے توحید کا اقرار کرواتے اور ان پر اس کی حجت ثابت کرتے ہوئے کہیے ! (لمن ما فی السموت ولارض) ” کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ؟ “ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس نے پیدا کیا ؟ کو نان کا مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے ؟ (قل) ان سے کہہ دیجیے ! (للہ) ” اللہ کا ہے “ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں انکار نہیں کرتے، کیا جب وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اکیلا ہی کائنات کا مالک اور اس کی تدبیر کرنے والا ہے، تو اس کے لئے توحید اور اخلاص کا اعتراف کیوں نہیں کرتے ؟ (کتب علی نفسہ الرحمۃ) ” اس نے لکھا ہے اپنے نفس پر رحم کرنا “ یعنی تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کے اقتدار اور تدبیر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت اور احسان کی چادر پھیلا رکھی ہے اور اس کی بےپایاں رحمت نے ان سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اس نے اپنے لئے لکھ رکھا ہے کہ ” اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے۔ “ عطا کرنا اس کے نزدیک محروم کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اگر بندے اپنے گناہوں کے سبب خود ان کو اپنے آپ پر بند نہ کرلیں۔ پھر اس نے انہیں ان دروازوں میں داخل ہونے کی دعوت دی ہے اگر ان کے گناہ اور عیب ان کو ان دروازوں کی طلب سے روک نہ دیں۔ (لیجمعنکم الی یوم القیمۃ لاریب فیہ) ” البتہ اکٹھا کرے گا تم کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں “ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے اور وہ سب سے زیادہ سچی خبر دینے والا ہے اور اس پر اس نے ایسے براہین و دلائل قائم کئے ہیں جو اسے حق الیقین قرار دیتے ہیں مگر ان ظالموں نے دلائل وبراہین کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا انکار کردیا کہ وہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور گناہ کرنے میں جلدی کی اور اس کے ساتھ کفر کرنے کی جسارت کی، پس وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑگئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الذین خسروا انفسھم فھم لایومنون) ” جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیا، تو وہ ایمان نہیں لاتے۔ “
Ayahs 6:13–20آیت 13
معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورة مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چناچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور مالک قاہر کے سامنے مسخر ہیں۔۔۔ کیا عقل و نقل کے اعتبار سے یہ بات صحیح ہے کہ ان غلام اور مملوک ہستیوں کی عبادت کی جائے جو کسی نفع و نقصان پر قادر نہیں اور خالق کائنات کے لئے اخلاص کو ترک کردیا جائے جو کائنتا کی تدبیر کرتا، اس کا مالک اور نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے ؟ یا عقل سلیم اور فطرت مستقیم اس بات کی داعی ہے کہ اللہ رب العالمین کے لئے ہر قسم کی عبادت کو اخلاص کیا جائے، محبت، خوف اور امید صرف اسی سے ہو ؟ (السمیع) ” وہ سنتا ہے۔ “ اختلاف لغات اور تنوع حاجات کے باوجود وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے (العلیم) ” وہ جانتا ہے۔ “ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو تمہیں اور جو مستقبل میں ہوں گی اور ان کو بھی جانتا ہے جو نہ تھیں کہ اگر وہ ہوتیں تو کیسی ہوتیں، اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔
(قل) ” کہہ دیجیے ! “ یعنی آپ اللہ تعالیٰ سے شرک کرنے والوں سے کہہ دیجیے ! (اغیر اللہ اتخذولیا) ” کیا اللہ کے سوا کسی اور کو میں مددگار بناؤں ؟ “ ان عاجز مخلوقات میں سے کون میرا سرپرست و مددگار بنے گا ؟ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا والی اور مددگار نہیں بناتا کیونکہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے یعنی ان کا خالق اور ان کی تدبیر کرنے والا ہے (وھو یطعم ولا یطعم) ” اور وہ سب کو کھلاتا ہے، اور اسے کوئی نہیں کھلاتا “ یعنی وہ تمام مخلوقات کو رزق عطا کرتا ہے بغیر اس کے کہ اس کو ان میں سے کسی کے پاس کوئی حاجت ہو۔ تب یہ کیسے مناسب ہے کہ میں کسی ایسی ہستی کو اپنا والی بنا لوں جو پیدا کرنے والی ہے نہ رزق عطا کرنے والی، جو بےنیاز ہے نہ قابل تعریف۔ (قل انی امرت ان اکون اول من اسلم) ” کہہ دیجیے ! مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں “ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں، کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ اس بات کا مستحق ہوں کہ اپنے رب کے احکام کی اطاعت کروں (ولا تکونن من المشرکین) ” اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں “ یعنی مجھے اس بات سے بھی روک دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں میں شامل ہوں یعنی ان کے اعتقادات میں نہ ان کے ساتھ مجالست میں اور نہ ان کے ساتھ اجتماع میں اور یہ حکم میرے لئے سب سے بڑا فرض اور سب سے بڑا واجب ہے۔
(قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم ) ” کہہ دیجیے ! میں ڈرتا ہوں، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے “ کیونکہ شرک ہمیشہ جہنم میں رہنے اور اللہ جبار کی ناراضی کا موجب ہے اور یوم عظیم سے مراد وہ دن ہے جس کے عذاب سے خوف کھایا جاتا ہے اور اس کی سزا سے بچا جاتا ہے، کیونکہ جو اس روز عذاب سے بچا لیا گیا وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہوگا اور جس نے اس عذاب سے نجات پا لی وہی درحقیقت کامیاب ہے جیسے جس کو اس دن کے عذاب سے نجات نہ ملی تو وہ بدبخت ہلاک ہونے والا ہے۔
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کے دلائل ہیں کہ صرف وہی ایک ہستی ہے جو تکلیفوں کو دور کرتی ہے اور صرف وہی ہے جو بھلائی اور خوشحالی عطا کرتی ہے۔ (وان یمسک اللہ بضر) ” اور اگر اللہ تم کو کوئی سختی پہنچائے “ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تجھے کسی فقر، مرض، عسرت یا غم و ہموم وغیرہ میں مبتلا کر دے (فلا کاشف لہ الا ھو وان یمسک بخیر فھو علی کل شی قدیر) ” تو اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، سوائے اس کے اور اگر پہنچائے وہ تجھ کو کوئی بھلائی، تو وہ ہر چیز پر قادر ہے “ پس جب وہی اکیلا نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے تو وہی اکیلا عبودیت والوہیت کا بھی مستحق ہے۔ (وھوالقاھر فوق عبادہ) ” اور وہ غالب ہے اپنے بندوں پر “ پس اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف کرسکتا ہے نہ کوئی حرکت کرنے والا حرکت کرسکتا ہے اور نہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی ساکن ہوسکتا ہے۔ مملوک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی ملکیت اور تسلط سے نکل سکے، وہ اللہ کے سامنے مغلوب و مقہور اور اس کے دائرہ تدبیر میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ غالب و قاہر ہے اور دوسرے مغلوب و مقہور، تو ظاہر ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے (وھو الحکیم) ” اور وہ دانا ہے۔ “ وہ اپنے اوامرونواہی، ثواب و عقاب اور خلق و قدر میں حکمت سے کام لیتا ہے (الخبیر) ” خبر دار ہے۔ “ وہ اسرار و ضمائر اور تمام مخفی امور کی اطلاع رکھتا ہے اور یہ سب توحید الٰہی کے دلائل ہیں۔
(قل) ” کہہ دیجیے ! “ چونکہ ہم نے ان کے سامنے ہدایت کو بیان کردیا اور سیدھی راہوں کو واضح کردیا ہے اس لئے ان سے کہہ دیجیے (ای شیء اکبر شھادۃ) ” سب سے بڑھ کر کس کی شہادت ہے۔ “ یعنی اس اصول عظیم کے بارے میں کس کی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے (قل اللہ) کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے (شھید بینی وبینکم) ” وہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان “ پس اس سے بڑا کوئی شاہد نہیں، وہ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے میری گواہی دیتا ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں، اللہ تعالیٰ اس کو متحقق کردیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے : (آیت) ” اگر یہ ہمارے بارے میں کوئی جھوٹ گھڑتا تو ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ “
پس اللہ تبارک و تعالیٰ قادر اور حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور قدرت کے لائق نہیں کہ ایسے جھوٹے شخص کو برقرار رکھے جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا رسول نہ ہوا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں کو دعوت دینے پر مامور کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہ دیا ہو اور یہ کہ جو اس کی مخالفت کریں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ان کا خون، ان کا مال اور ان کی عورتیں مباح کردی ہیں۔ اس فریب کاری کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے اس کی تصدیق کرے، وہ جو کچھ کرے معجزات باہرہ اور آیات ظاہرہ کے ذریعے سے اس کی تائید کرے اور اسے فتح و نصرت سے نوازے جو اس کی مخالفت کرے اور اس سے عداوت رکھے، اسے اپنی نصرت سے محروم کر دے۔ پس اس گواہی سے بڑی کون سی گواہی ہے ؟
واوحی الی ھذا القرآن لانذرکم بہ ومن بلغ) ” اور اتارا گیا میری طرف قرآن، تاکہ ڈراؤں میں تم کو اس کے ساتھ اور جس کو یہ پہنچے “ یعنی تمہارے فائدے اور تمہارے مصالح کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن میری طرف وحی کیا ہے، تاکہ میں تمہیں درد ناک عذاب سے ڈراؤں۔ (انذار) یہ ہے کہ جس چیز سے ڈرانا مقصود ہو، اسے بیان کیا جائے۔ جیسے ترغیب و ترہیب، اعمال اور اقوال ظاہرہ و باطنہ، جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے وہ گویا انداز کو قبول کرتا ہے۔ پس اے مخاطبین ! یہ قرآن تمہیں اور ان تمام لوگوں کو جن کے پاس، قیامت تک یہ پہنچے گا، برے انجام سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ قرآن میں ان تمام مطالب الہیہ کا بیان موجود ہے جن کا انسان محتاج ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی گواہی کا ذکر فرمایا جو سب سے بڑی گواہی ہے، تو اپنے رسول ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خبر کی مخالفت کرنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں سے کہہ دیجیے ! (ائنکم لتشھدون ان مع اللہ الھۃ اخری قل لا اشھد) ” کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں ؟ کہہ دیجیے ! میں تو گواہی نہیں دیتا “ یعنی اگر وہ گواہی دیں تو ان کے ساتھ گواہی مت دیجیے۔
پس اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لاشریک ہونے پر ایک طرف اللہ کی گواہی ہے جو سب سے زیادہ سچا اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور اسی طرح مخلوق میں سے پاکیزہ ترین ہستی (آخری رسول) کی گواہی ہے جس کی تائید میں قطعی دلائل اور روشن براہین ہیں اور دوسری طرف مشرکین کی شہادت ہے جن کی عقل اور دین خلط ملط ہوگئے ہیں جن کی آراء اور اخلاق خرابی کا شکار ہوگئے ہیں اور جنہوں نے عقل مندوں کو اپنے آپ پر ہنسنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان دونوں شہادتوں کے درمیان موازنہ کیا جائے۔
بلکہ ان مشرکین کی گواہی تو خود ان کی اپنی فطرت کے خلاف ہے اور ان کے اقوال اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں خداؤں کے اثبات کے بارے میں متناقض ہیں۔ بایں ہمہ جس چیز کی وہ مخالفت کرتے ہیں اس کے خلاف دلائل تو کجا ادنیٰ ساشبہ بھی وارد نہیں ہوسکتا۔ اگر تو سمجھ بوجھ رکھتا ہے تو اپنے لئے ان دونوں میں سے کوئی سی گواہی چن لئے۔ ہم تو اپنے لئے وہی چیز اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے لئے اختیار کی ہے اور اس کی پیروی کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ چناچہ فرمایا : (قل انما ھو الہ واحد) ” کہہ دیجیے کہ صرف وہی ایک معبود ہے۔ “ یعنی وہ اکیلا معبود ہے اور اس کے سوا کوئی عبودیت اور الوہیت کا مستحق نہیں، جیسے وہ تخلیق و تدبیر میں منفرد ہے (واننی بری مما تشرکون) ” اور میں بیزار ہوں تمہارے شرک سے “ شعنی تم جن بتوں اور دیگر خداؤں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اور وہ تمام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا جاتا ہے میں ان سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ ہے توحید کی حقیقت، یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے اس کی نفی۔
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی اور اپنے رسول کی شہادت کا ذکر فرمایا اور اس کے برعکس مشرکین کی شہادت کا بھی ذکر کیا جن کے پاس کوئی علم نہیں، تو اہل کتاب میں سے یہود و نصاریٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (یعرفونہ) ” وہ پہچانتے ہیں اسے “ یعنی وہ توحید کی صحت کو جانتے ہیں (کما یعرفون ابنآء ھم) ” جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں “ یعنی اس کی صحت میں ان کے ہاں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں جیسے انہیں اپنی اولاد کے بارے میں کوئی اشتباہ واقع نہیں ہوتا، خاص طور پر وہ بیٹے جو غالب طور پر اپنے باپ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹتی ہو۔ تب اس کے معنی ہوں گے کہ آپ ﷺ کی رسالت کے حق ہونے میں اہل کتاب کو کوئی اشتباہ تھا نہ کوئی شک، کیونکہ ان کے پاس آپ کی بعثت کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں اور وہ تمام صفات (جو ان کی کتابوں میں لکھی ہوئی تھیں) آپ ﷺ کے سوا کسی پر منطبق ہوتی تھیں نہ آپ ﷺ کے سوا کسی کے شایان شان تھیں۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ (الذین خسرہوآ نفسھم) ” وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفسوں کو نقصان میں ڈالا “ یعنی جس ایمان اور توحید کے لئے ان کے نفوس کو تخلیق کیا گیا تھا انہوں نے اپنے نفوس کو ان سے بےبہرہ کردیا اور بزرگی کے مالک، بادشاہ حقیقی کے فضل سے ان کو محروم کردیا (فھم لایومنون) ” پس وہ ایمان نہیں لائیں گے “ پس جب ان کے اندر ایمان ہی موجود نہیں تو اس خسارے اور شر کے بارے میں مت پوچھ جو ان کو حاصل ہوگا۔
Ayah 6:21آیت 21
یعنی ظلم اور عناد میں اس شخص سے بڑھ کر کوئی نہیں جس میں ان دونوں اوصاف میں سے کوئی ایک صوف ہو، چہ جائیکہ جس میں دونوں ہی جمع ہوں :
(1) اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا۔ (2) اور اس کی آیات کو جھٹلانا جنہیں رسول لے کر آئے ہیں۔
یہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا۔
اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ تمام لوگ داخل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کرتے ہوئے اس کے شریک اور معاون ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنا جائز ہے یا اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے کوئی بیوی یا بیٹا بنایا ہے اور اس وعید میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے حق کو جھٹلایا جسے لے کر انبیاء ومرسلین مبعوث ہوئے اور جس کے علم بردار، ان کے جانشین (داعیان حق) ہوئے۔
Ayahs 6:22–24آیت 22
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرمات ہے، ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا (این شرکآؤ کم الذین کنتم تزعمون) ” تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے ؟ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں، یہ محض زعم باطل اور تمہاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیئے۔ (ثم لم تکن فتنتھم) ” پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب “ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہوگا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کردیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں ہیں (انظر) ” دیکھئے “ یعنی ان پر اور ان کے احوال پر تعجب کرتے ہوئے دیکھئے (کیف کذبوا علی انفسھم) ” کیسے جھوٹ بولا انہوں نے اپنے پر “ یعنی انہوں نے ایسا جھوٹ باندھا کہ۔۔۔ اللہ کی قسم !۔۔۔ اس کا خسارہ اور انتہائی نقصان انہی کو پہنچے گا (وصل عنھم ما کانوا یفترون) ” اور کھو گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے “ یعنی وہ شریک جو وہ گھڑا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی اس افترا پردازی سے بالا و بلند تر ہے۔
Ayah 6:25آیت 25
یعنی ان مشرکین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو ان کے بعض داعیے بسا اوقات سننے پر آمادہ کردیتے ہیں مگر یہ سننا قصد حق اور اس کی اتباع سے عاری ہوتا ہے بنا بریں وہ اس سننے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ ان کا ارادہ بھلائی کا نہیں ہوتا (وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ) ” اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں “ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو نہ سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس قسم کے لوگوں سے محفوظ رہے (وفی اذانھم وقراً ) ” اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے۔ “ یعنی ان کے کانوں میں بہرا پن اور گرانی ہے، وہ اس طرح نہیں سن سکتے جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے۔ (وان یروا کل ایۃ لایومنوا بھا) ” اور اگر وہ دیکھ لیں تمام نشانیاں، تب بھی ایمان نہیں لائیں گے “ اور یہ ظلم وعناد کی انتہا ہے کہ وہ حق کو ثابت کرنے والے واضح دلائل کو مانتے ہیں نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں، بلکہ حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کی مدد جھگڑتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں جھگڑنے کو تو کافر کہتے ہیں، یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں “ یعنی یہ سب کچھ پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے ماخوذ ہے جو اللہ کی طرف سے ہیں نہ اس کے رسولوں کی طرف سے۔ یہ ان کا کفر محض ہے ورنہ اس کتاب کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کیسے کہا جاسکتا ہے جو گزرے ہوئے اور آنے والے لوگوں، انبیاء ومرسلین کے لائے ہوئے حقائق، حق اور ہر پہلو سے کامل عدل و انصاف پر مشتمل ہے ؟
Ayahs 6:26–28آیت 26
(وھم) ” اور وہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کی صفات کے جامع ہیں۔ وہ لوگوں کو بھی اتباع حق سے روکتے ہیں، انہیں حق سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ان کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (وان یھلکون الا انفسھم وما یشعرون) ” وہ اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں “ یعنی ان کو اس کا شعور نہیں۔
Ayah 6:29آیت 29
اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کئے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولو تری اذ وقفوا علی النار) ” اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کئے جائیں گے وہ دوزخ پر “ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے۔۔۔ تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے (فقالوا یلیتنا نرد ولا نکذب بایت ربنا ونکون من المومنین) ” پس وہ کہیں گے، اے کاش ! ہم پھر بھیج دیئے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہوجائیں ہم ایمان والوں میں سے۔ “
(بل بدالھم ما کانوا یخفون من قبل) ” بلکہ ظاہر ہوگیا ان کے لئے جو وہ چھپاتے تھے پہلے “ اس لئے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو چھپاتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کے دلوں کا جھوٹ بسا اوقات ظاہر ہوجاتا تھا۔ مگر ان کی فاسد اغراض ان کو حق سے روک دیتی تھیں اور ان کے دلوں کو بھلائی سے پھیر دیتی تھیں، وہ اپنی ان تمناؤں میں جھوٹے ہیں، ان کا مقصد محض اپنے آپ کو عذاب سے ہٹانا ہے۔ (ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ وانھم لکذبون) ” اور اگر ان کو واپس لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا ہے اور بیشک یہ سخت جھوٹے ہیں۔ “ (وقالوا ) ” اور وہ کہتے ہیں۔ “ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں (ان ھی الا حیاتنا الدنیا) ” ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔ “ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں (وما نحن بمبعوثین) ” ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ “
Ayah 6:30آیت 30
(ولو تری) ” اور اگر آپ دیکھیں “ یعنی اگر آپ کافروں کو دیکھیں (اذ وقفوا علی ربھم) ” جبکہ انہیں ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا “ تو آپ بہت بڑا معاملہ اور بہت ہولناک منظر دیکھیں گے۔ (قال) اللہ تعالیٰ ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا : (الیس ھذا بالحق) ” کیا یہ برحق نہیں ؟ “ یعنی وہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو، کیا یہ سچ نہیں ؟ (قالوا بلی وربنا) ” وہ کہیں گے کیون نہیں، قسم ہے ہمارے رب کی ! “ پس وہ اقرار اور اعتراف کریں گے جبکہ یہ اعتراف انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا (قال قذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون ) ” اللہ فرمائے گا : پس چکھو اس عذاب کا مزا جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔ “
Ayah 6:31آیت 31
جس کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، وہ خائب و خاسر ہوا اور ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔ پس یہ تکذیب محرمات کے انکار کی جسارت اور ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال کے اکتساب کی جرأت کی موجب ہوتی ہے (حتی اذا جآء تھم الساعۃ بغتۃ) ” یہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک “ اور وہ اس وقت بدترین اور قبیح ترین حال میں ہوں گے تب وہ انتہائی ندامت کا اظہار کریں گے (قالوا یحسرتنا علی مافرطنا فیھا) ” کہیں گے، ہائے افسوس ! کیسی کوتاہی ہم نے کی اس میں “ مگر حسرت اور ندامت کے اظہار کا وقت جا چکا ہوگا (وھم یحملون اوزارھم علی ظھور ھم الاسآء ما یزرون) ” اور وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر، سن لو ! کہ برا ہے وہ بوجھ جس کو وہ اٹھائیں گے۔ کیونکہ ان کا بوجھ ایسا بوجھ ہوگا جو ان کے لئے سخت بھاری ہوگا اور وہ اس سے گلو خلاصی پر قادر نہ ہوں گے۔ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور اللہ جبار کی ابدی ناراضی کے مستحق ہوں گے۔
Ayah 6:32آیت 32
یہی دنیا اور آخرت کی حقیقت ہے۔ رہی دنیا کی حقیقت تو یہ محض لہو و لعب ہے۔ بدن کا کھیل تماشہ اور قلب کا کھیل تماشہ، پس دل لہو و لعب پر فریفتہ، نفوس اس پر عاشق اور ارادے اس سے پیوست رہتے ہیں اور لہو و لعب میں مشغولیت اس میں ایسے ہوتی ہے جیسے بچے کھیل میں مگن ہوتے ہیں۔ رہی آخرت تو وہ (خیر للذین یتقون) اپنی ذات وصفات اور بقا و دوام کے اعتبار سے اہل تقویٰ کے لئے بہتر ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے، جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی قلب و روح کی نعمت اور مسرت و فرحت کی کثرت۔ مگر یہ نعمتیں اور مسرتیں ہر ایک کے لئے نہیں ہوں گی بلکہ صرف متقی لوگوں کے لئے ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کی منہیات کو ترک کرتے ہیں (افلا تعقلون) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے ؟ “ کیا تمہارے پاس عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم یہ ادراک کرسکو کہ دنیا اور آخرت میں سے کون سا گھر ترجیح دیئے جانے کا مستحق ہے ؟
Ayahs 6:33–35آیت 33
یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لئے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے (فانھم لایکذبونک) ” بیشک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے “ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر، باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ” امین “ کہا کرتے تھے (ولکن الظلمین بایت اللہ یجعدون) ” لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر کیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولقد کذبت رسل من قبلک فصبروا علی ما کذبوا و اوذوا حتی اتھم نصرنا) ” آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا، پس انہوں نے اپنی تکذیب اور ایذا دیئے جانے پر صبر کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی “ پس جس طرح انہوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کیجیے۔ جس طرح وہ ظفر یاب ہوئے آپ بھی ظفر یاب ہوں گے۔ (ولقد جآءک من نبای المرسلین) ” اور آپ کے پاس گزشتہ انبیا ومرسلین کی خبر پہنچ گئی ہے۔ “ جس سے آپ کے دل کو تقویت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ (وان کان کبر علیک اعراضھم) ” اور اگر ان کی روگردانی آپ پر شاق گزرتی ہے۔ “ یعنی اگر ان کا اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے، کیونکہ آپ ان کے ایمان کی بہت خواہش رکھتے ہیں تو آپ اس بارے میں اپنی پوری کوشش کر دیکھئے۔ پس اس شخص کو ہدایت دینا آپ کے بس میں نہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا نہ چاہتا ہو۔ (فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض اوسلما فی السمآء فتاتیھم بایۃ) ” پس اگر آپ سے ہوسکے کہ ڈھونڈ نکالیں کوئی سرنگ زمین میں، یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لائیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی “ یعنی یہ سب کچھ کر دیکھیے ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو فائدہ نہیں دے گی۔ یہ آیت کریمہ اس قسم کیم عاندین حق کی ہدایت کی تمنا اور امید کو منقطع کرتی ہے۔ (ولو شآء اللہ لجمعھم علی الھدی) ” اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا “ مگر حکمت الٰہی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنی گمراہی پر باقی رہیں (فلا تکونن من الجھلین) ” پس آپ جاہلوں میں شامل نہ ہوں “ جو حقائق امور کی معرفت نہیں رکھتے اور ان امور کو ان کے مقام پر نہیں رکھتے۔
Ayahs 6:36–37آیت 36
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے (انما یستجیب) ” بلا شبہ قبول کریں گے۔ “ آپ کی دعوت اور آپ کی رسالت پر صرف وہی لوگ لبیک کہیں گے اور آپ کے امرو نہی کے سامنے صرف وہی لوگ سر تسلیم خم کریں گے (الذین یمسمعون) ” جو سنتے ہیں۔ “ یعنی جو اپنے دل کے کانوں سے سنتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور یہ عقل اور کان رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہاں سننے سے مراد دل سے سننا اور اس پر لبیک کہنا ہے ورنہ مجرد کانوں سے سننے میں نیک اور بدسب شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن کر تمام مکلفین پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی اور حق کو قبول نہ کرنے کا ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔ (والموتی یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون) ” اور مردوں کو زندہ کرے گا اللہ، پھر اس کی طرف وہ لائے جائیں گے۔ “ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ یہ معنی، مذکور بالا معنی کے بالمقابل ہوں۔ یعنی آپ کی دعوت کا جواب صرف وہی لوگ دیں گے جن کے دل زندہ ہیں، رہے وہ لوگ جن کے دل مرچکے ہیں، جنہیں اپنی سعادت کا شعور تک نہیں اور جنہیں یہ بھی احساسن ہیں کہ وہ کون سی چیز ہے جو انہیں نجات دلائے گی تو ایسے لوگ آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے اور نہ وہ آپ کی اطاعت کریں گے۔ ان کے لئے وعدے کا دن تو قیامت کا دن ہے اس روز اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا، پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے ظاہری معنی مراد لئے جائیں۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ معاد کو متحقق کر رہا ہے کہ وہ قیامت کے روز تمام مردوں کو زندہ کرے گا، پھر ان کو ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہین کی ترغیب اور اس کا جواب نہ دینے پر ترہیب کو متضمن ہے۔ (وقالوا) ” اور کہتے ہیں۔ “ یعنی عناد کی وجہ سے رسول کی تکذیب کرنے والے کہتے ہیں : (لولا نزل علیہ ایۃ من ربہ) ” کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف ؟ “ یعنی ان کی خواہش کے مطابق نشانیاں نازل کی جائیں جن کا انتخبا وہ اپنی فاسد عقل اور گھٹیا آراء کے ذریعے سے کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قول نقل فرمایا : (آیت) ” اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم زمین سے ہمارے لئے چشمہ جاری نہ کردو، یا تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اس باغ کے بیچوں بیچ نہریں جاری کرو یا جیسا کہ تم دعویٰ کیا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دو یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ۔ “
(قل) ان کا جواب دیتے ہوئے کہہ دیجیے ! (ان اللہ قادر علی ان ینزل ایۃ) ” یقیناً اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے دے “ اس کی قدرت ایسا کرنے سے قاصر نہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ہر چیز اس کے غلبہ کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے اور اس کی قدرت و تسلط کی اطاعت کئے ہوئے ہے (ولکن اکثرھم لایعلمون) ” لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے “ پس وہ اپنی جہالت اور عدم علم کی بنا پر ایسی نشانیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر وہ نشانیاں ان کے پاس آجائیں تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے اور پھر ان پر جلدی سے عذاب نازل کردیا جائے گا۔ جیسا کہ یہ سنت الٰہی ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ بایں ہمہ اگر ان کا مقصود وہ نشانیاں ہیں جو حق کو واضح کر کے راہ حق کو روشن کردیں تو جناب محمد مصطفیٰ ﷺ ہر قسم کی قطعی دلیل اور روشن برہان پیش کرتے ہیں جو اس حق پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ آپ ﷺ مبعوث ہوئے، کیونکہ بندہ دین کے ہر مسئلہ میں متعدد عقلی اور نقلی دلائل پاتا ہے کہ اس کے دل میں ادنیٰ سا شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ پس نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدیات اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور واضح دلائل کے ساتھ اس کی تائید کی، تاکہ جو کوئی ہلاک ہو دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو کوئی زندہ رہے، دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
Ayah 6:38آیت 38
زمین میں رہنے والے، ہوا میں اڑنے والے، بہائم، جنگلوں میں رہنے والے وحشی جانور اور پرندے سب تمہاری طرح گروہ ہیں۔ ان کو بھی ہم نے اسی طرح پیدا کیا ہے جس طرح تمہیں پیدا کیا ہے، اسی طرح ہم ان کو بھی رزق عطا کرتے ہیں جس طرح تمہیں عطا کرتے ہیں۔ ہماری قدرت اور مشیت ان پر بھی اسی طرح نافذ ہے جس طرح تم پر نافذ ہے۔ (مافرطنا فی الکتب من شیء) ” ہم نے کتاب میں کسی چیز میں کوتاہی نہیں کی۔ “ یعنی ہم نے کسی چیز کو لوح محفوظ میں لکھنے میں کوتاہی اور غفلت نہیں کی بلکہ تمام چھوٹی بڑی چیزیں جیسی بھی وہ ہیں لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔ پس تمام حوادث اس کے مطابق واقع ہوتے ہیں جو قلم سے لکھے جا چکے ہیں۔
یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ سب سے پہلے لوح محفوظ میں تمام کائنات کی تقدیر لکھ دی گئی۔ یہ قضا وق در کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے۔ قضا و قدر کے چار مراتب ہیں۔
(1) اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم تمام اشیاء کو شامل ہے۔
(2) اس کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) تمام موجودات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
(3) اس کی مشیت اور قدرت عامہ ہر چیز پر نافذ ہے۔
(4) تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، حتی کہ بندوں کے افعال کا خالق بھی وہی ہے۔
اس آیت مبارکہ میں یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ ” کتاب “ سے مراد قرآن ہو۔ تب اس کے معنی قرآن کریم کی اس آیت کی مانند ہوں گے (ونزلنا علیک الکتب تبیاناً لکل شیء) (النحل :89/16) ” اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی جس میں ہر چیز بیان کردی گئی ہے۔ “
(ثم الی ربھم یخشرون) ” پھر سب اپنے رب کی طرف جمع کئے جائیں گے۔ “ یعنی تمام امتوں کو قیامت کے میدان میں اللہ تعالیٰ کے حضور جمع کیا جائے گا۔ یہ انتہائی ہولناک مقام ہوگا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے عدل و احسان سے سب کو جزا دے گا اور ان پر اپنا فیصلہ نافذ کرے گا، جس کی تعریف اولین و آخرین، آسمانوں والے اور زمین والے سب کریں گے۔
Ayah 6:39آیت 39
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا حال بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ پر ہدیات کے دروازے بند کر کے ہلاکت کے دروازے کھول لئے اور وہ (صم) ” بہرے “ یعنی حق سننے سے بہرے ہیں (وبکم) ” اور گونگے “ یعنی حق بولنے سے گونگے ہیں، پس باطل کے سوا کچھ نہیں بولتے۔ (فی الظلمت) ” اندھیروں میں “ یعنی جہالت، کفر، ظلم، عناد اور نافرمانی کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا ان کو گمراہ کردینا ہے، کیونکہ (من یشاء اللہ یضللہ ومن یشا یجمعلہ علی صراط مستقیم) ” وہ جس کو چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے۔ “ کیونکہ وہی اکیلا اپنی حکمت اور فضل و کرم کے تقاضوں کے مطابق ہدیات دیتا یا گمراہ کرتا ہے۔