Al-Anfaal 8:7

Al-Anfaal · from ayah 7

8:7

وَاِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَی الطَّآىِٕفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَیُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَ ۟ۙوَاِذۡ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحۡدَى الطَّآئِفَتَيۡنِ اَنَّهَا لَـكُمۡ وَتَوَدُّوۡنَ اَنَّ غَيۡرَ ذَاتِ الشَّوۡكَةِ تَكُوۡنُ لَـكُمۡ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَـقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡـكٰفِرِيۡنَۙ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Remember, O believers], when Allah promised you one of the two groups - that it would be yours - and you wished that the unarmed one would be yours. But Allah intended to establish the truth by His words and to eliminate the disbelievers

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:7

یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مِل جائے گا تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعده کرتا تھا کہ وه تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تم سے یہ وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک تمہارا ہوگا، اور تمہاری خواہش تھی کہ جس گروہ میں (خطرے کا) کوئی کانٹا نہیں تھا، وہ تمہیں ملے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کو حق کر دکھائے، اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کا ٹ دے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (وہ وقت یاد کرو) جب اللہ نے تم سے (کفارِ مکہ کے) دو گروہوں میں سے ایک پر غلبہ و فتح کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ یقیناً تمہارے لئے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ غیر مسلح (کمزور گروہ) تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے حق کو حق ثابت فرما دے اور (دشمنوں کے بڑے مسلح لشکر پر مسلمانوں کی فتح یابی کی صورت میں) کافروں کی (قوت اور شان و شوکت کے) جڑ کاٹ دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ یقینا وہ تمہارے لیے ہوگا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمہارے لیے ہو اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہارا ہوگا اور تم یہ چاہتے تھے کہ غیر مسلح گروہ تمہارے ہاتھ لگ جائے جبکہ اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یاد کرو جب کہ اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمہارا لقمہ بنے گا اور تم یہ چاہ رہے تھے کہ غیر مسلح گروہ تمہارا لقمہ بنے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرے اور کافروں کی جڑ کاٹے تاکہ مجرموں کے علی الرغم وہ حق کو پابرجا اور باطل کو نابود کردے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب اللہ وعدہ فرما رہا تھا تم سے ان دونوں گروہوں میں سے ایک کے بارے میں، کہ وہ یقیناً تمہارے لئے ہے، اور تم یہ چاہتے تھے کہ مسلح گروہ (تجارتی قافلہ) تمہیں مل جائے، مگر اللہ یہ چاہتا تھا کہ حق کو حق کر کے دکھائے اپنے ارشادات (و فرامین) کے ذریعے، اور جڑ کاٹ کر رکھ دے ایسے کافروں کی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب اللہ تم سے وعدہ کررہا تھا دو جماعتوں میں سے ایک کے لیے کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی۔ اور تم (یہ) چاہ رہے تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے درآنحالیکہ اللہ کو منظور یہ تھا کہ حق کا حق ہونا ثابت کردے اپنے احکام سے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جبکہ اللہ وعدہ کر رہا تھا تم لوگوں سے کہ ان دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا اور (اے مسلمانو !) تم یہ چاہتے تھے کہ جو بغیر کانٹے کے ہے وہ تمہارے ہاتھ آئے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فیصلے کے ذریعے سے حق کا حق ہونا ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا (ابو سفیان اور ابوجہل) کے دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارے لیے (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت، یعنی بےہتھیار ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے حکم سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And recall when Allah promised you that one of the two hosts would fall to you, and you wished that the one without arms should fall into your hands. But Allah sought to prove by His words the truth to be true and to annihilate the unbelievers to the last remnant

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And recall when Allah was promising you that one of the two groups would become yours, and you were wishing that the one without strength should fall to you. And Allah wanted to establish the truth through His words and to cut off the very root of the disbelievers,

— Muhammad Taqi Usmani

And recall when Allah was promising you that one of the two groups would become yours, and you were wishing that the one without strength should fall to you. And Allah wanted to establish the truth through His words and to cut off the very root of the disbelievers,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when Allah promised you (Muslims) one of the two parties, that it should be yours; you wished that the one not armed should be yours, but Allah willed to justify the truth by His Words and to cut off the roots of the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Allah promised you one of the two bands (of the enemy) that it should be yours, and ye longed that other than the armed one might be yours. And Allah willed that He should cause the Truth to triumph by His words, and cut the root of the disbelievers;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Remember, O believers], when Allah promised you one of the two groups - that it would be yours - and you wished that the unarmed one would be yours. But Allah intended to establish the truth by His words and to eliminate the disbelievers

— Saheeh International

When God promised to grant you (believers) victory over either one of the two groups, you wished to have control over the unarmed one. God decided to prove (to you) the truth of His promises and to destroy the unbelievers

— Muhammad Sarwar

And when Allah promised you one of the two parties that it shall be yours and you loved that the one not armed should he yours and Allah desired to manifest the truth of what was true by His words and to cut off the root of the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time Allah was promising you one of the two parties that it should be yours, and ye would fain to have that the one without; Whilst Allah besought arms were yours to justify the truth by His words and to cut off the root of the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold! Allah promised you one of the two (enemy) parties, that it should be yours: Ye wished that the one unarmed should be yours, but Allah willed to justify the Truth according to His words and to cut off the roots of the Unbelievers;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–8

شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لئے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کردیا کہ اللہ کی بات بلند ہوجائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْفَال 5 یعنی تجارتی قافلہ یا لشکر قریش۔ سورة الْاَنْفَال 6 یعنی قافلہ جس کے ساتھ صرف تیس چالیس محافظ تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ تم سے ان دو جماعتوں (یعنی تجارتی قافلہ یا لشکر) میں سے ایک (جماعت) کا وعدہ کر رہے تھے کہ وہ (جماعت) تمہارے ہاتھ آجائے گی (یعنی مغلوب ہوجائے گی۔ یہ وعدہ مسلمانوں سے بواسط رسول اللہ ﷺ بذریعہ وحی ہوا تھا) اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مصلح جماعت (یعنی تجارتی قافلہ) تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا (اس کو عملا غلبہ دے کر) ثابت کردے اور (یہ منظور تھا کہ) ان کافروں کی بنیاد کو قطع کردے تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا (عملا) ثابت کردے اگرچہ یہ مجرم لوگ (یعنی مغلوب ہونے والے کفار اس کو کتنا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جماعت کے حوصلہ کا اندازہ کرنے کے لیے ایک حکیمانہ طریقہ : وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ۔ کے اسلوب بیان میں جو ابہام ہے وہ اس حیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نکلتے وقت انصار و مہاجرین سے جب اس مہم کے باب میں استمزاج فرمایا تو بات کھل کر یوں نہیں فرمائی کہ تجارتی قافلہ کی حفاظت کا بہانہ بنا کر قریش نے ہم پر حملہ کرنے کے لیے اپنی فوج بھیج دی ہے بلکہ مبہم انداز میں یوں فرمایا کہ کفار کی دو جماعتیں آرہی ہیں جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ ہمارے قابو میں کردے گا۔ یہ مبہم انداز بیان حضور نے کیوں ارشاد فرمایا ؟ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک اہم مہم پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 یعنی یا تو تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے گا، جس سے تمہیں بغیر لڑائی کے وافر مال و اسباب مل جائے گا، بصورت دیگر لشکر قریش سے تمہارا مقا لہ ہوگا اور تمہیں غلبہ ہوگا اور مال غنیمت ملے گا۔ 7۔ 2 یعنی تجارتی قافلہ سے بغیر لڑے مال ہاتھ آجائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

3: اس سے مراد ابو سفیان کا قافلہ ہے اور ”کانٹے“ سے مراد خطرہ ہے۔ قافلے میں مسلح افراد کی تعداد کل چالیس تھی۔ لہذا اس پر حملہ کرنے میں کوئی بڑا خطرہ نہیں تھا۔ لہذا طبعی طور پر اس پر حملہ کرنا آسان تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–8

3 مسلمان چاہتے تھے کہ " تجارتی قافلہ " پر حملہ ہو، کہ کانٹا نہ چبھے اور بہت سا مال ہاتھ آجائے لیکن خدا کی مرضی یہ تھی کہ اس چھوٹی سی بےسرو سامان جماعت کو کثیر التعداد اور مرتب و پرشوکت لشکر سے بھڑا کر اپنی باتوں سے سچ کو سچ کر دکھائے اور کفار مکہ کی جڑ کاٹ ڈالے تاکہ اس طرح اس کے وعدوں کی سچائی حیرت انگیز طریقہ پر ظاہر ہو کر سچ کا سچ اور جھوٹ کا جھوٹ ہونا کفار کے علی الرغم صاف صاف آشکارا ہوجائے۔ چناچہ یہ ہی ہوا۔ بدر میں قریش کے ستر سردار مارے گئے جن میں ابو جہل بھی تھا اور ستر ہی قید ہوئے۔ اس طرح کفر کی کمر ٹوٹ گئی اور مشرکین مکہ کی بنیادیں ہل گئیں۔ فللہ الحمد والمنہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–8

آیت 7 وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآءِفَتَیْنِ اَنَّہَا لَکُمْ لشکر یا قافلے میں سے کسی ایک پر مسلمانوں کی فتح کی ضمانت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دے دی گئی تھی۔ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَات الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ تم لوگوں کی خواہش تھی کہ لشکر اور قافلے میں سے کسی ایک کے مغلوب ہونے کی ضمانت ہے تو پھر غیر مسلح گروہ یعنی قافلے ہی کی طرف جایا جائے ‘ کیونکہ اس میں کوئی خطرہ اور خدشہ risk نہیں تھا۔ قافلے کے ساتھ بمشکل پچاس یا سو آدمی تھے جبکہ اس میں پچاس ہزار دینار کی مالیت کے سازوسامان سے لدے پھندے سینکڑوں اونٹ تھے ‘ لہٰذا اس قافلے پر بڑی آسانی سے قابو پایا جاسکتا تھا اور بظاہر عقل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–7

8 جنگ بدر کا پس منظر :۔ اموال غنیمت کے متعلق فیصلہ کرنے اور مومن کو پند و نصائح کے بعد اب یہ بتلایا جا رہا ہے کہ غزوہ بدر کی ابتداء کن حالات میں اور کیسے ہوئی۔ صورت حال یہ تھی کہ کفار مکہ کے ظلم و ستم سے مجبور ہو کر اور لٹ پٹ کر مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔ مگر ان کفار نے پھر بھی مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا اکا دکا ناکام سے حملے بھی کرچکے تھے اور آئندہ مسلمانوں کے مکمل طور پر استیصال کی تدبیریں سوچ رہے تھے۔ ان حالات میں مسلمانوں نے یہ سوچا کہ قریش کی تجارتی شاہراہ کی ناکہ بندی کردی جائے چناچہ اس غرض کے لیے آپ نے اس شاہراہ کے قریب بسنے والے قبائل سے معاہدے بھی کئے، ان میں سے بعض قبائل تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13 ۔ یعنی وہ مغلوب ہوجائے گی اور تم اس پر غالب آجاؤگے۔ (آیت) ” واذ یعدکم اللہ “۔ یہ وعدۂ الہی رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے تھا۔ (آیت) ” احدی الطآئفتین “۔ دو جماعتوں (یعنی قافلہ ولشکر) میں سے ایک یعنی لشکر۔ 14 ۔ مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ جنگ بدر ایک فیصلہ کن جنگ تھی، جمہوریہ مکہ کی قسمت کا پانسہ اسی نے ہمیشہ کے لیے پلٹ دیا۔ اور نئے دین کی جڑ جما دی۔ (ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے) مسلمانوں کی خواہش طبعی طور پر یہی تھی کہ سابقہ صرف تجارتی قافلہ سے پڑے، جس پر انہیں فتح بلاحرب و قتال کے حاصل ہوجائے۔ (آیت) ” غیر ذات الشوکۃ “۔ یعنی وہی تجارتی قافلہ۔ شوکۃ کے لفظی معنی چبھنے والے کانٹے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذیعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم وتودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم ویریدا اللہ ان یحق الحق بکلمتہ ویقطع دابر الکفرین : اور (تم لوگ اس وقت کو یاد کرو) جب کہ اللہ تعالیٰ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کا تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت (یعنی قافلہ) تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا (عملاً ) ثابت کر دے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ وَاِذْیَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآءِفَتَیْنَ اَنَّھَالَکُمْ- اِذْ کا تعلق محذوف فعل سے ہے ‘ یعنی اس وقت کا واقعہ یاد کرو۔ کُمْ ‘ یَعِدُ کا پہلا مفعول اور احدی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) اور وہ وقت بھی یاد کرو، جب کہ تم سے ان جماعتوں یعنی قافلہ اور لشکر میں سے ایک کے غنیمت میں ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ اور تمہاری خواہش تھی کہ قافلہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنی مدد اور قوت سے دین اسلام کا حق ہونا ظاہر کردے، اور ان کافروں کی جڑ ہی کاٹ دے تاکہ دین اسلام کا مکہ مکرمہ میں نام بلند ہو، شرک اور مشرک نیست ونابود ہوجائیں، اگرچہ یہ مشرک اس چیز کو ناپسند ہی کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ : یعنی قافلے یا کفار پر فتح اور اموال غنیمت۔ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَات الشَّوْكَةِ : ”الشَّوْكَةِ“ کانٹے کو کہتے ہیں، یعنی تمہاری خواہش یہ تھی کہ کسی تکلیف اور جنگ کے بغیر حاصل ہونے والا قافلہ تمہیں مل جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنی باتوں اور وعدوں کے مطابق حق کو سچا ثابت فرمائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

آیت نمبر : 7۔ 8 قولہ تعالیٰ : آیت : واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم اس میں احدی محل نصب میں مفعول ثانی ہے۔ آیت : انھا لکم یہ بھی اھدی سے بدل ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ وتودون یعنی اور تم پسند کرتے ہو۔ آیت : ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : آیت : غیر ذات الشوکۃ سے مراد وہ ہے جس کے پاس ہتھیار نہ ہوں۔ اور الشوکۃ کا معنی ہتھیار ہے۔ اور الشوک سے مراد وہ بوٹی ہے جس کے کانٹے ہوں۔ اور اسی سے رجل شائک السلاح ( یعنی تیز دھار ہتھیار رکھنے والا آدمی) ہے، پھر اس میں قلب کر کے کہا جاتا ہے : شاکی السلاح مراد یہ ہے کہ تم پسند کرتے ہو کہ تم اس گروہ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجاؤ جس کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

غزوہ بدر رمضان میں پیش آیا : 1:۔ بیہقی نے دلائل میں ابن شہاب اور موسیٰ بن عقبہ ؓ سے دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابن الحضرمی کے قتل کے بعد دو ماہ تک ٹھہرے رہے۔ پھر ابوسفیان بن حرب کی قیادت میں قریش کا ایک قافلہ شام کی طرف سے آیا اور اس کے ساتھ ستر سوار تھے۔ اور ان کے ساتھ مکہ والوں کے خزانے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ ان کا قافلہ ہزار اونٹ پر مشتمل تھا اور قریش میں سے کسی ایک کے پاس بھی ایک اوقیہ یا اس سے زیادہ ( سونا چاندی) تھا تو اس نے ابو سفیان کے ساتھ بھیج دیا تھا سوائے حویطب بن عبد العزمی کے اسی وجہ سے حویطب بدر سے پیچھے رہ گیا اور اس میں حاضر نہ ہوا۔ ان کا ذکر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذْ : اور جب ] [ يَعِدُكُمُ : وعدہ کیا تم سے ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ : دو جماعتوں کی ایک کا ] [ اَنَّهَا : کہ وہ ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ہے ] [ وَتَوَدُّوْنَ : اور تم لوگ چاہتے تھے ] [ اَنَّ : کہ ] [ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ : ہتھیار والی کے علاوہ ] [ تَكُوْنُ : ہو ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ وَيُرِيْدُ : اور چاہتا تھا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّحِقَّ : وہ حق کرے ] [ الْحَقَّ : حق کو ] [ بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے فرمانوں سے ] [ وَيَقْطَعَ : اور وہ کاٹے ] [ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کی جڑ کو ] ش و ک ۔ (ن) : شوکا ۔ کسی کو کانٹا چبھونا ۔ شوک ، اسم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–8

غزوۂ بدرکا تذکرہ ان آیات میں غزوۂ بدر کا ذکر ہے اور رکوع کے ختم تک بلکہ اس کے بعد بھی متعدد آیات میں اس کا تذکرہ فرمایا ہے اور پھر مزید تفصیل اس سورت کے پانچویں اور چھٹے رکوع میں بیان فرمائی ہے، غزؤہ بدر کا کچھ تذکرہ سورة آل عمران کے رکوع دوم (انوار البیان ج 2) میں اور کچھ آل عمران کے رکوع نمبر 12 (انوار البیان ج 2) میں گزر چکا ہے۔ وہاں فرمایا ہے (وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ) (اور یہ بات واقعی اور حقیقی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مقام بدر میں تمہاری مدد فرمائی جب کہ تم کمزور تھے) ۔ آگے بڑھنے سے پہلے پورا واقعہ ذہن نشین کرلینا چاہئے تاکہ آیت کریمہ میں جو اجمال ہے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

ذکر انعام دوم قال اللہ تعالیٰ واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین۔۔۔ الی۔۔۔ ولو کرہ المجمون (ربط ان آیات میں غزوہ بدر کے متعلق دوسرے انعام کا ذکر فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تم تو غیر ذی شوکت جماعت یعنی قافلہ ابو سفیان کے طلبگار ہو اور خدا تعالیٰ کو احقاق حق اور ابطال باطل مقصود ہے اور یہ بات ذی شوکت جماعت یعنی ابو جہل کے لشکر جرار کے مقابلہ اور جنگ سے حاصل ہوتی ہے۔ دین حق کا غلبہ اور باطل کی سرکوبی خونریز جنگ سے ہوتی ہے نہ کہ تجارتی قافلہ سے چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو تم اس وقت کو کہ جب اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ دو جماعتوں میں سے یعنی ابو جہل کے لشکر اور ابو سفیان کے قافلہ تجارت میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

7: یہ دوسری علت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ دونوں (لشکر اور تجارتی قافہ) میں سے ایک پر تم کو ضرور فتح دوں گا تم نے ب سروسامان قافلہ پر حملہ کرنا پسند کیا مگر اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ تمہیں اس قلت عدد اور بےسروسامانی کے ساتھ مشرکین کے مضبوط لشکر سے لڑا کر دین حق کو بلند اور باطل کو سرنگوں کرے اور مشرکین کی جڑ ہی کاٹ ڈالے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–8

ربط آیات : اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جماعت کے نظم وضبط کا قانون بیان فرمایا۔ پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات کا ذکر کیا اور آخر میں ان انعامات کا ذکر کیا جو ان کو ملنے والے ہیں۔ یہ تین انعامات درجات کی بلندی ، گناہوں کی معافی اور باعزت روزی ہیں آج کا درس بھی اسی آیت کے ساتھ مربوط ہے کہ یہ انعامات اسی طرح ۔۔ یقینی ہیں جس طرح اے پیغمبر ! آپ کو آپ کے پروردگار نے مدینے سے نکال کر فتح سے ہمکنار کیا یعنی جنگِ بدر میں کامیابی عطا فرمائی۔ ” کما “ بطور تشبیہ آج کا درس لفظ کما سے شروع ہو رہا ہے جس کا معنی ” جس طرح “ ہے مفسرین کرام نے اس کی بہت سے توجیہات کی ہیں۔ بعض فرماتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللہُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّہَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَۃِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِہٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ۝ 7 ۙ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–8

ترکیب : کما صفت ہے مصدر محذوف کی اے ھذہ الحالۃ فی کراھتھم لھا مثل اخراجک فی حال کر اہتھم وقد کان خیرا پس یہ کما خبر ہوگی مبتداء محذوف کی جو ھذہ ہے وان فریقاً جملہ حال ہے کہ اخرجک سے یجادلونک الخ جملہ حال ثانی ہے کانما جملہ صفت ہے مصدر محذوف کی۔ اذ یعدکم کا عامل اذکر محذوف کم مفعول اول احدی الطائفتین مفعول ثانی یعد کا انہالکم بدل ہے مفعول ثانی سے بدل الاشتمال۔ تفسیر : کما اخرجک اس تشبیہ میں علمائِ مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ ازانجملہ سب سے راجح یہ ہے کہ تقسیم بھی مسلمانوں کو بظاہر ایسی ہی ناگوا رہے جیسا کہ اے پیغمبر اس جنگ کے لئے آپ کا بحکم الٰہی گھر سے نکلنا ناگوار تھا لیکن جس طرح وہاں ان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّھَا لَکُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ وَیُرِیْدُاللّٰہُ اَنْ یَّحِقّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَیَقْطَعَ دَابِرَالْکٰفِرِیْنَ ۔ لا لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ ج (الانفال : 7، 8) (اور اس وقت کو یاد کرو جس وقت اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک یقینا تمہارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کو حق ثابت کردے اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے۔ تاکہ وہ حق کو حق ثابت کرے اور باطل کو باطل ثابت کرے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

شام کے لیے ایک تجارتی قافلہ تیار کیا کہ جس کی رقم کا پیشتر حصہ مدینہ فتح کرنے پر لگانا تھا ادھر نبی محترم بھی مکہ والوں کی سرگرمیوں سے پوری طرح آگاہ تھے جناب عباس اور کچھ دوسرے لوگ نبی ﷺ کو مکہ کے حالات سے باخبر رکھتے تھے۔ آپ کو تجارتی قافلہ کی غرض وغایت کا علم ہوا تو آپ نے اس قافلہ پر شبخون مارنے کا فیصلہ کیا۔ حالات کی تیزرفتاری کی وجہ سے آپ نے اعلان فرمایا کہ جو لوگ بھی اس ایمر جنسی میں تیار ہوسکتے ہیں وہ ہمارے ہم رکاب ہوجائیں۔ آپ کے اس فیصلے کو اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کہ آپ کے رب نے ہی آپ کو آپ کے گھر سے نکالا تھا۔ یہاں گھر سے مراد مدینہ طیبہ کا گھر اور شہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وعدئہ الٰہی اور قافلہ سے ٹکرائو کی خواہش : آیت 7: وَاِذْ یَعِدُ کُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآپفَتَیْنِ (اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو جبکہ اللہ تعالیٰ تم کو ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کرتے تھے) : اذ۔ اذکر کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ احدی مفعول ثانی ہے۔ اَنَّھَا لَکُمْ (کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی) احدی الطائفتین سے بدل ہے۔ الطائفتین سے مراد۔ قافلہ اور لشکر تقدیر عبارت یہ ہے واذیعدکم اللّٰہ ان احدی الطائفتین لکم جب اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ کیا کہ دو گروہوں میں سے ایک تمہارا ہوگا۔ (اس پر کامیابی دی جائے گی) وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ (اور تم اس تمنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(آیت 7) تفسیر 7 (واذ بعد کم اللہ احدی الطآئفتین) ابوسفیان کا تجارتی قافلہ اور عاتکہ بنت عبدالمطلب کا خواب ابن عباس، ابن زبیر ؓ ، محمد بن اسحاق اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان شام سے قریش کا ایک تجارتی قافلہ لے کر آ رہا تھا اس میں چالیس آدمی قریش کے بڑے بڑے تھے ان میں عمرو بن عاص ار مخرمہ بن نوفل زہری بھی تھے ۔ اس میں قریش کا بہت زیادہ تجارتی سامان تھا، جب وہ بدر کے قریب پہنچے تو نبی کریم ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ (علیہ السلام) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو اطلاع دی کہ مال زیادہ ہے اور تعداد تھوڑی ہے اور فرمایا یہ قریش کا قافلہ ہے اس میں تمہارے مال ہیں تم نکلو شاید…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–8

7۔ 8۔ اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے محمد بن اسحاق حضرت عبداللہ ؓ بن عباس سے اس قصہ بدر کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ابوسفیان قریش کا بہت سا مال لیکر ملک شام سے چلا یہ خبر حضرت کو ملی آپ نے صحابہ سے کہا تم مدینہ سے باہر نکلو اگر خدا نے چاھا تو تمہیں یہ سب مال مل جائیگا اکثر لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے اور بعضے رہ گئے کیونکہ لڑائی کا ارادہ تو تھا ہی نہیں جو سب کے سب نکلتے ابوسفیان نے مدینہ کے قریب پہنچ کر جاسوس بھیجے جاسوس سے جو شخص ملتا تھا اس سے حال پوچھتے چلے جاتے تھے ایک قافلہ سے معلوم ہوا کہ حضرت مع صحابہ کے تمہارے قافلہ پر آیا چاہتے ہیں یہ خبر جاسوس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–8

آیت 5 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انہیں اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہوجاتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لئے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لئے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–8

غزو بدر میں وعدہ خداوندی قول باری ہے واذیعدکم اللہ احدی الطائفتین انھالکم۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا) اس واقعہ میں حضور ﷺ کی نبوت کی صداقت کے کئی دلائل موجود ہیں ایک تو یہ کہ آپ نے لوگوں کو یہ بتادیا تھا کہ قافلہ قریش اور لشکر قریش میں سے ایک کے ساتھ مسلمانوں کو واسطہ پڑے گا قریش کا یہ تجارتی قافلہ واپسی کے سفر پر تھا اور اس میں پورے قریش کا سرمایہ لگا ہوا تھا اس کی حفاظت اور حمایت کے لئے قریش کا لشکر مکہ سے چل پڑا تھا پھر وہی کچھ ہوا جس کا آیت میں وعدہ کیا گیا تھا۔ قول باری ہے وتودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم۔ اور تم چاہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

10 جہاد فی سبیل اللہ کے ایک اہم مقصد کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا ایک اہم اور بنیادی مقصد کفر اور اہل کفر کے اشرار کی بیخ کنی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ جڑ کاٹ دے ایسے کافروں کی۔ جو کہ حق کی راہ روکتے اور اللہ کے پیغمبر اور ایسے مومنین کاملین کے مقابلے میں صف آرا ہو رہے تھے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا۔ غزوئہ بدر میں کفار قریش کے ستر سردار تہ تیغ ہوئے جن میں اس امت کا فرعون یعنی ابوجہل بھی شامل تھا۔ اور ستر ہی قید و بند میں پکڑے اور جکڑے گئے۔ اور اس طرح ان کا غرور ہمیشہ کیلئے خاک میں مل گیا اور ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ اور بالآخر وہ سب فی النار والسقر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–17

اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سورة الانفال یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ، آیات 1 تا 10 اسرار و معارف آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 7–8

(8:7) واذ۔ جب۔ اس سے قبل اذکر محذوف ہے (یاد کرو) یعنی اذکراذ ۔۔ یاد کرو جب۔ یعدکم۔ وعد یعد (ضرب) وہ وعدہ کرتا ہے۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی استعمال ہوا ہے۔ جب اس نے تم سے (دو گروہوں میں سے ایک کا) وعدہ کیا تھا۔ احدی الطائفتین۔ دو گروہوں میں سے ایک ۔ یعد کا مفعول ثانی ہے۔ انھا لکم۔ کہ وہ تمہارے لئے ہے۔ احدی الطائفتین کا بدل ہے۔ یہاں طائفتان (دو گروہ) سے مراد۔ ایک تو وہ قافلہ جو شام سے سامان تجارت لئے جا رہا تھا ۔ اور دوسرا وہ مسلح لشکر جو ابو سفیان کی قیادت میں مدینہ کی طرف بڑھا چلا آرہا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ تھا کہ ان دونوں میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–8

لغات القرآن۔ اخرج۔ نکالا۔ بیت۔ گھر۔ لکرھون۔ البتہ برا سمجھنے والے ہیں۔ ناگوار محسوس کرنے والے ہیں۔ یجادلون۔ وہ جھگڑتے ہیں۔ تبین۔ کھل گیا۔ کھل چکا۔ واضح ہوگیا۔ کانما۔ جیسے۔ گویا کہ وہ۔ یساقون۔ وہ ہانکے جا رہے ہیں۔ ینظرون۔ وہ دیکھ رہے ہیں۔ یعد۔ وہ عدد کرتا ہے۔ احدی۔ کوئی ایک۔ الطائفین۔ دو جماعتیں۔ تو دون۔ تم پسند کرتے ہو۔ غیر ذات الشوکۃ۔ کانٹانہ لگے۔ ان یحق۔ یہ کہ وہ ثابت کردے۔ یقطع۔ وہ کاٹتا ہے۔ دابر۔ (دبر) ۔ جڑ ۔ بنیاد۔ یبطل۔ وہ باطل کرتا ہے۔ مٹاتا ہے۔ کرہ۔ برا لگا۔ تشریح : درحقیقت غزوہ بدر ہر اعتبار سے اس قدر فیصلہ کن تاریخی واقعہ ہے جس نے کفار مکہ کو نہ صرف ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا تھا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان دو گروہ میں سے ایک کا وعدہ میں کرچکا ہوں کہ ایک تمہارا ہے۔ تم ان میں سے ایک پر غالب ہوجاؤگے۔ انہیں قتل کرو اور مال غنیمت لو وہ تمہیں دفع نہیں کرسکے گا، اور جو یہ چاہتے ہو کہ نرم لقمہ تمہارے ہاتھ لگے، ابو سفیان کا قافلہ بےلڑے بھڑے لوٹ لو یہ قافلہ بےہتھیار ہے۔ تو یہ بات اللہ کو پسند نہیں ہے۔ خدا کا ارادہ تو یہ ہے کہ مشرکین کی جو فوج سامان جنگ سے درست ہے، ہتھیار لگائے ہوئے ہے اس پر تمہیں فتح مند کرے اور اپنی حق بات پوری کرے اور کفار کو نیست ونابود کرے۔ بہت سے لوگ قید ہوں اور بہت سامان تمہارے ہاتھ لگے۔ حق کو غلبہ ہو جھوٹ مغلوب ہو۔ یہ بات اچھی ہے یا وہ بات اچھی ہے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–7

[1] اصل میں لفظ '' انفال '' استعمال ہوا ہے جو جمع ہے نفل کی۔ نفل کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی ہے وہ نفل ہے۔ اس طرح کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو جتنا حق سے زیادہ دیا اسے نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے ان اموال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ جنگ بدر کے بعد جب مسلمانوں کو پہلی بار بحیثیت جماعت کے شکست کھائے ہوئے کفار کا مال میدان جنگ میں ہاتھ آیا تو تقسیم غنیمت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ ہر شخص اپنے آپ کو زیادہ مستحق سمجھتا تھا۔ یہاں اموال…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–9

غزوہ بدر : (ف 1) 2 ھ؁ میں مسلمانوں کو ضرورت محسوس ہوئی کہ مکہ والوں کی شرارتوں کا قطعی سدباب کردیا جائے یہ تقریبا 300 میل کی دوری کے باوجود مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دیتے تھے اکثر دھمکیاں دیتے ، کہ ہم یثرب پہنچ کر تمہیں مزہ چکھائین گے ربیع الاول 2 ھ؁ میں ایک شخص کو زبن جابر الفہری مدینہ پہنچا اور اونٹ لوٹ کرلے گیا ، حضور ﷺ نے فیصلہ کرلیا ، کہ مدینے سے باہر نکل کر فیصلہ کن جنگ ہوجائے ، تاکہ کفر کو آیندہ ایمان کے خلاف جرات نہ رہے ۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے مشورہ کیا ، سب نے رضا مندی کا اظہار کیا یہ ایک جماعت ایسی تھی ، جسے باہر نکل کر کامیابی کا بھروسہ نہ تھا وہ کہتے تھے ہم اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تم سے یہ وعدہ کررہا تھا یعنی رسول کے واسطے سے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت تمہارے قابو میں آجائے گی ، اور تمہارے ہاتھ لگ جائے گی ، یعنی یا تو لشکر سے مقابلہ ہوگا، اور وہ مغلوب ہوجائے گا یا کفار قریش کے قافلہ پر قبضہ کرلو گے اور تم یہ چاہتے تھے اور تمہاری خواہش یہ تھی کہ تم کو غیر مسلح اور بےکانٹے والی جماعت ہاتھ لگ جائے، یعنی قافلہ قبضہ میں آجائے جس میں مقابلہ کرنے کی طاقت ہی نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے احکام سے اور اپنی باتوں سے سچ کو سچ کردکھائے اور حق کو ثابت کردے اور منکرین حق کی جڑ کاٹ دے اور ان کی بنیادیں ہلا دے۔ حضرت شاہ صاحب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–10

ف 1۔ اس غلبہ کے باوجود اس کے تمام کفار قریش ہلاک نہ ہوئے تھے قطع دابر اس لیے کہا گیا کہ اس واقعہ سے ان کی قوت بالکل فنا ہوگئی تھی کیونکہ ان کے بڑے بڑے سردار ستر قتل اور ستر قید ہوئے تھے اس طرح گویا وہ سب ہی ختم ہوگئے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دو جماعتوں میں سے ایک کو تمہارے ہاتھ ینے کا وعدہ الٰہی : 13: نبی اعظم و آخر ﷺ اور دوسرے مسلمانوں کو جب یہ اطلاع ملی کہ قریشیوں کا ایک اعظم لشکر اپنے تتجارتی قافلہ کی حفاظت کے لیے نکل چکا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے عزائم مدینہ پر چڑھائی کرنے کے ہیں تو اس طرح گویا قریش کی دو جماعتیں پیش نظر تھیں ایک وہ جماعت جو تجارتی قافلہ کی تھی جس کو قرآن کریم نے غَیْرَ سے تعبیر کیا ہے اور دوسری قریش مکہ کے لشکر عظیم کی جماعت جس کو قرآن کریم نے نفیر کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ گویا عام مسلمانوں کی آزمائش بھی تھی کہ ان کا ذہن اور ان کی توجہ کس جماعت کی طرف مبذول ہوتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ انسان آسانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

Then, the same event has been alluded to in the second verse (6): يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُ‌ونَ (they were disputing with you about the truth after it became clear, as if they were being driven to a death being seen by them). Though the noble Companions had not disobeyed any command given to them - in fact, what they had done was a certain expression of their weakness and lack of courage as part of their response when consulted. But, even such expression of personal opinion coming from the Companions of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5. God's promise was that the Muslims would be able to overcome whichever of the two parties they wished to attack - the trading caravan or the Quraysh army. 6. This refers to the trading caravan which had some 30 to 40 armed guards for protection.

Read the full tafseer →