Explained with ayahs 53–54
اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہوسکتا ہے۔ تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گذشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
سورة الْاَنْفَال 40
یعنی جب تک کوئی قوم اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی نعمت کا غیر مستحق نہیں بنا دیتی اللہ اس سے اپنی نعمت سلب نہیں کیا کرتا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(پس اس امر تغییر میں بھی) ان کی حالت فرعون والوں اور ان سے پہلے والوں کی سی حالت ہے کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا اس پر ہم نے ان کو ان کے (ان) گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور (ان میں) فرعون والوں کو خاص طور پر ہلاک کیا کہ (ان کو) غرق کردیا اور وہ (فرعون والے اور پہلے والے) سب ظالم تھے بلاشبہ بدترین خلائق اللہ کے نزدیک یہ کافر لوگ ہیں (جب یہ علم الہی میں ایسے ہیں) تو یہ ایمان نہ لائیں گے جن کی یہ کیفیت ہے کہ آپ ان سے (کئی بار) عہد لے چکے ہیں (مگر) پھر (بھی) وہ ہر بار اپنا عہد توڑ ڈالتے ہیں اور وہ (عہد شکنی سے) ڈرتے نہیں سو اگر آپ لڑائی میں ان لوگوں پر قابو پائیں (اور یہ آپ کے…
Read the full tafseer →كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ۔ یہ وہ انجام بیان ہو رہا ہے جو آگے قریش کا ہوگا۔ اگر انہوں نے ان تنبیہات سے سبق حاصل نہ کیا جو ان کو کی جا رہی ہیں۔ یعنی پھر وہ تنبیہات کے بجائے خدا کے فیصلہ کن عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ ان دونوں آیتوں میں الفاظ اور لہجہ کا جو فرق ہے اس کو نگاہ میں رکھیے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کفروا بایات اللہ اس میں ہے کذبوا بایات ربہم اوپر ہے۔ فاخذھم اللہ بذنوبہم، یہاں ہے، فاھلکناہم بذنوبہم واغرقنا ال فرعون۔ اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر دونوں آیتوں کا موقع و محل واضح نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →54۔ 1 یہ اس بات کی تاکید ہے جو پہلے گزری، البتہ اس میں ہلاکت کی صورت کا اضافہ ہے کہ انہیں غرق کردیا گیا۔ علاوہ ازیں یہ واضح کردیا کہ اللہ نے ان کو غرق کر کے ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ یہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔ اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا (وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ) 41۔ فصلت :46)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
36: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو عذاب سے اسی وقت بدلتا ہے جب کوئی قوم اپنی حالت کو خود بدل لیتی ہے، کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن میں سب سے بڑی نعمت یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کو انہی کے درمیان مبعوث کیا گیا اگر وہ اس وقت ضد سے کام لینے کے بجائے حق طلبی اور انصاف سے کام لیتے تو ان کے لئے اسلام قبول کرنا کچھ مشکل نہیں تھا لیکن انہوں نے اس نعمت کی ناشکری کرکے اور ضد سے کام لے کر اپنی حالت کو بدل لیا اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسلام قبول کرنے کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا جس سے حق کو قبول کرنا ان کے لئے مشکل ہوگیا، جب انہوں نے اپنی حالت اس طرح بدل لی تو اللہ تعالیٰ نے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
اللہ نے انہیں تب ہلاک کیا جب انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔ اس سے قبل ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔ باوجودیکہ وہ کافر تھے کیونکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اس کا کرم ہے کہ اس نے یہ اصول مقرر کیا ہے۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیج دیں۔ یہاں آل فرعون اور ان سے پہلے یہ اقوام جن کے پاس آیات الہی بھیجی گئیں اور انہوں نے تکذیب کی اور اللہ نے ان پر ہلاکت و بربادی نازل کی۔ یہ کارروائی ان کے خلاف کیون کی گئی ، اس لیے کہ (وہ ظالم تھے) یہاں لفظ ظلم بمعنی کفر یا شرک استعمال ہوا ہے۔ اور قرآن کریم میں یہ لفظ اکثر انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
یہاں اس…
Read the full tafseer →6 فرعونیوں اور ان سے پہلی قوموں کو ان کے جرائم کی پاداش میں ہلاک کیا۔ اور خصوصیت کے ساتھ فرعونیوں کا بیڑا غرق کردیا۔ یہ سب اس وقت ہوا جب انہوں نے خدا سے بغاوت اور شرارت کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کیے۔ ورنہ خدا کو کسی مخلوق سے ذاتی عداوت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
آیت 53 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ لا
اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف اپنا پیغمبر مبعوث کیا ‘ جس نے اللہ کی توحید اور اس کے احکام کے مطابق اس قوم کو دعوت دی۔ پیغمبر کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے نوازا ‘ ان پر اپنے انعامات و احسانات کی بارشیں کیں۔ پھر اپنے پیغمبر کے بعد ان لوگوں نے آہستہ آہستہ کفرو ضلالت کی روش اختیار کی اور توحید کی شاہراہ کو چھوڑ کر شرک کی پگڈنڈیاں اختیار کرلیں تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں نے بھی ان سے منہ موڑ لیا ‘ انعامات کی جگہ اللہ کے عذاب نے لے لی اور یوں وہ…
Read the full tafseer →57۔ الف یعنی ان کفار مکہ سے پہلے ہم نے آل فرعون پر اور بہت سی دوسری اقوام پر انعامات کی بارش کی تھی۔ لیکن انہوں نے ان انعامات کی ناقدری کی۔ ان کی نیتوں میں فتور آگیا۔ اللہ کا شکر ادا کرنے اور اس کی فرمانبرداری کرنے کے بجائے وہ اس کی نافرمانی اور سرکشی پر اتر آئے تھے۔ لہذا ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں تباہ و برباد کر ڈالا اور آل فرعون کو تو سمندر میں ڈبو کر ان کا نام و نشان تک ختم کر ڈالا۔ یہ سب قومیں نافرمان تھیں اور سب ہی ہلاک کردی گئی تھیں تو اب کیا یہ کافر اپنے انجام بد سے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →84 ۔ عذاب جن جن کو بھی آیا، کفر ونافرمانی کی پاداش ہی میں آیا۔ (آیت) ” کداب ال فرعون، والذین من قبلھم۔ یہ تشبیہ نعمت کے لحاظ سے ہے۔ یہ امر سب میں مشترک رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
ذالک باَنَّ اللہ لَمْ یک مغیراً نعمة الخ اللہ تعالیٰ نے اعطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ بیان نہیں فرمایا نہ ان کے لئے کوئی قید لگائی نہ ان کو کسی اچھے عمل پر موقوف رکھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت حق جلّ شانہ کی عجیب صنعت گری سے ہزاروں نعمتیں ودیعت رکھی گئی ہیں یہ نعمتیں ظاہر ہے کہ اس وقت عطا ہوئیں جب کہ نہ ہم تھے اور نہ ہمارا کوئی عمل، اگر حق تعالیٰ کے انعامات و احسانات بندوں کے نیک اعمال کے منتظر رہا کرتے تو ہمارا وجود ہی قائم نہ ہوتا۔
حق تعالیٰ کی نعمت و رحمت تو اس کے رب العالیمن اور رحمٰن و رحیم ہونے کے نتیجہ میں خود بخود ہے البتہ اس نعمت و…
Read the full tafseer →کداب ال فرعون والذین من قبلھم کذبوا بایت ربھم فاھلکنھم بذنوبھم واغرقنا ال فرعون وکل کانوا ظلمین۔ ان کی حالت فرعون والوں اور ان سے پہلے والے (کافروں) کی سی حالت ہے کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا ‘ اس پر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب سے ہلاک کردیا اور فرعون والوں کو غرق کردیا ‘ اور وہ سب ظالم تھے۔
فَاَھْلَکْنَاھُمْ یعنی مختلف طریقوں سے ان کو ہلاک کیا ‘ کسی کو ڈبو کر ‘ کسی کو زلزلہ کے ذریعہ سے ‘ کسی کو زمین میں دھنسا کر ‘ کسی کی صورتیں بگاڑ کر اور کسی کو طوفان سے۔ کَدَأبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ کو مکرر ذکر کرنے کی وجہ محض تاکید بیان ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ عذاب کے نزول کی وجہ پہلے کفر کو قرار…
Read the full tafseer →(54) ان کی حالت فرعون کی جماعت اور ان سے پہلے والوں کی سی ہے جیسا کہ ان لوگوں نے آسمانی کتابوں اور رسولوں کی تکذیب کی، اسی طرح یہ کفار مکہ کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے انکی اس تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا اور فرعون والوں کو غرق کردیا اور یہ سب کافر تھے۔
Read the full tafseer →كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ : یعنی آپ سے لڑنے والے ان لوگوں کا حال آل فرعون اور ان سے پہلے کفار جیسا ہے۔ یہ بات دہرانے سے مقصود ایک تو پہلی بات کی تاکید ہے، جیسے فرمایا : (اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى۔ ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى) [ القیامۃ : 34، 35 ] دوسرا اس میں پچھلی آیت کی کچھ تفصیل ہے، اس میں ”ۭكَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ“ یعنی اللہ کی آیات کے انکار اور نہ ماننے کا ذکر تھا، یہاں تفصیل ہے کہ انھوں نے انکار کے ساتھ انھیں جھٹلایا بھی تھا۔ تیسرا اس میں گناہوں پر گرفت کا ذکر تھا، اس میں آل فرعون پر اس گرفت کی تفصیل، یعنی غرق کا بیان ہے اور عذاب کے سبب کی صاف الفاظ میں وضاحت ہے کہ وہ سب ظالم تھے، جب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
( آیت نمبر 52) ( آیت نمبر 53)
یہ علت بیان ہو رہی ہے یعنی یہ سزا اس لیے ہے کہ انہوں نے تبدیل کردیا اور بدل ڈالا اور قریش پر اللہ تعالیٰ کا انعام شادابی، خوشحالی اور امن و عافیت کی صورت میں تھا، ( جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے) اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویبحطف الناس من حولھم الایہ ( العنکبوت :67) ” کیا انہوں نے ( غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے بنا دیا ہے حرم کو امن والا حالانکہ اچک لیا جاتا ہے لوگوں کو ان کے آس پاس سے “
سدی (رح) نے کہا ہے : ان پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام حضور نبی مکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرای تھی تو انہوں نے آپ کا انکار کیا اور کفر کا ارتکاب کیا، پس آپ ﷺ مدینہ طیبہ منتقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ “ سے مراد مشرکین ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ دو نشانیاں ہیں جس کے ذریعہ کافر کو اپنی موت کے وقت (دکھائی جاتی ہیں) یعنی (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ یضربون وجوہہم وادبارھم “۔
3:۔ سعید بن منصور ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وادبارہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ان کے مشابہ لوگ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کریم ہیں کنایہ پہلی فرماتے ہیں
4:۔ ابن ابی حاتم اور…
Read the full tafseer →كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ [ فرعون کے پیروکاروں کی عادت کی طرح ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کی طرح جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے تھے ] كَذَّبُوْا [ انھوں نے جھٹلایا ] بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی نشانیوں کو ] فَاَهْلَكْنٰهُمْ [ تو ہم نے ہلاک کیا ان کو ] بِذُنُوْبِهِمْ [ ان کے گناہوں کے سبب سے ] وَاَغْرَقْنَآ [ اور ہم نے غرق کیا ] اٰلَ فِرْعَوْنَ ۚ [ فرعون کے پیروکاروں کو ] وَكُلٌّ [ اور سب کے سب ] كَانُوْا ظٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والے تھے ]
Read the full tafseer →پہلے (کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ) فرمایا اور دوسری جگہ (کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ ) فرمایا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان ربوبیت کا بھی انہوں نے خیال نہ کیا جس نے پیدا فرمایا، پرورش فرمائی، پرورش کے سامان پیدا فرمائے۔ حاجات پوری کیں، اس کی آیات کو جھٹلانا سراسر نا شکری اور بےعقلی ہے لہٰذا ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا گیا۔ پھر آل فرعون کے غرق کیے جانے کی تصریح فرمائی۔ (وَ اَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ) (اور ہم نے فرعون والوں کو ہلاک کردیا) ۔
آخر میں فرمایا (وَ کُلٌّ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ) اور یہ سب آل فرعون اور اس سے پہلے تکذیب کرنے والی امتیں تھی (جیسے حضرت نوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
بیان ذلت کفار در عالم برزخ
قال اللہ تعالیٰ ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل کانوا ظلمین
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی دنیوی ذلت اور مغلوبیت اور رسوائی کا بیان تھا جو ان کی پہلی بار اپنی زندگی میں پیش آئی۔ اب ان آیات میں کفار کی برزخی ذلت اور رسوائی کا بیان ہے کہ موت کے وقت ان کی کیا حالت ہوتی ہے اور کس ذلت آمیز طریقہ سے ان کی روح قبض کی جاتی ہے اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں ان کو کیا عذاب دیا جاتا ہے اور اس وقت ان پر تزئین شیطانی کی ساری قلعی کھلی اور سمجھے کہ ہم دھوکہ میں مبتلا تھے خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ ہم نے خود اپنے آپ کو تباہ وبرباد کیا اور آل فرعون کی…
Read the full tafseer →56: تخویف دنیوی ہے۔ یہ مضمون ماقبل کی تمثیل ہے۔ قوم فرعون اور ان سے پہلے کی سرکش اقوام کا حال دیکھو، ہم نے ان کو تمام دنیوی نعمتیں اور آسائشیں دے کر سرفراز کیا مگر جب ہمارے پیغمبر ہماری آیتیں لے کر ان کے پاس گئے تو انہوں نے ان کی تکذیب کی اور گناہوں میں منہمک ہوگئے اور ہماری نعمتوں کی ناشکری کی تو ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ “ کُلٌّ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ” یہ تمام اقوام ظالم تھیں۔ انہوں نے ہماری دی ہوئی نعمتوں کا غلط اور بےموقع استعمال کیا۔ میری نافرمانی کی میرے پیغمبروں اور میری کتابوں کو جھٹلایا اور اسی کی پاداش میں مبتلائے عذاب کیے گئے۔ بالکل یہی حال ان مشرکین مکہ کا تھا۔ ان کو ہم نے عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
مدینے کے منافق :
گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کے اصول بتلائے گئے تھے ، پھر ان کی سازشوں اور نافرمانیوں اور ان کو دی جانے والی سزا کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کی ذلت و خواری ہوئی اور آخرت میں وہ دائمی سزا کے مستحق ہوں گے اب اسی ضمن میں منافقوں کے کردار کا ذکر بھی ہو رہا ہے ہجرت کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پر تین قسم کے لوگ تھے ایک قسم تو وہ صحابہ کرام تھے جو آپ پر ایمان لا کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے دوسری قسم کے لوگ وہ تھے جو غیر جانبدار تھے ، وہ نہ مخالف کرتے تھے اور نہ موافقت البتہ تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو ظاہر میں تو ایمان لے آئے مگر ان کے دل کفر پر اڑے…
Read the full tafseer →كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ 0 ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ 0 ۭ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّہِمْ فَاَہْلَكْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ 0 ۚ وَكُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِيْنَ 54
دأب
الدَّأْب : إدامة السّير، دَأَبَ في السّير دَأْباً. قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ
[إبراهيم/ 33] ، والدّأب : العادة المستمرّة دائما علی حالة، قال تعالی: كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ، أي : کعادتهم التي يستمرّون عليها .
( د ء ب ) الداب
کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ داب السیر دابا ۔ وہ مسلسل چلا ۔ قرآن میں ہے وَسَخّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
ترکیب : اذیقول ممکن ہے کہ معمول اذکر ہو یا زین کا ظرف ہو۔ الذین کفروا مفعول ہے یتوفی کا الملائکۃ فاعل ذوالحال یضربون حال وذوقوا ای یقولون معطوف ہوگا یضربون پر یہ بھی حال ہو کر ملائکہ کا مقولہ ہوگا اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو یعنی بعد موت کے ہم ان سے کہیں گے۔
تفسیر : چونکہ تزیین شیطانی کا ذکر آیا تھا کہ شیطان نے مکہ کے کافروں کو یوں گمراہ کر رکھا تھا۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ تزیین کچھ انہیں میں منحصر نہیں بلکہ مدینہ کے منافق کہ جن کے دل میں مرض شک و نفاق ہے بدر کے واقعہ کی نسبت مسلمانوں کو یہ کہتے تھے کہ ان کو ان کے دین نے مغرور کردیا ہے۔ محمد ﷺ کے وعدوں پر تین سو تیرہ ٹوٹے پھوٹے مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لاوَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْط کَفَرُوْابِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْط اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ لاوَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ط کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ فَاَھْلَکْنٰـھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ج وَ کُلٌّ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الانفال : 52 تا 54)
(ان کا حال وہی ہے) جیسے حال تھا قوم فرعون اور ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ :
آل فرعون کی طرح اہل مکہ کی تباہی ان کے گناہوں کی وجہ سے ہوئی ورنہ اللہ تعالیٰ کسی کو بےوجہ نہ تباہ کرتا ہے اور نہ ہی اپنے انعام کو عتاب میں تبدیل کرتا ہے۔
قرآن مجید اپنے طے شدہ اسلوب کے مطابق وضاحت کرتا ہے کہ آل فرعون کی اقتدار اور اختیار سے محرومی، مصر جیسے سبز و شاداب ملک سے بےدخلی اور انواع و اقسام کی نعمتوں کے بدلے مختلف قسم کی تنگیوں اور مصائب میں مبتلا ہونے کا سبب یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بلاوجہ انھیں اپنی نعمتوں سے محروم کردیا۔ یہ تو کسی قوم کا مسلسل منفی کردار ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے انعام و کرام سے محروم ہو کر…
Read the full tafseer →ہلاکت میں آل فرعون کی طرح ہیں :
آیت 54: کَدَاْبِ ٰالِ فِرْعَوْنَ (ان کی حالت آل فرعون جیسی ہے) نمبر 1۔ تاکید کیلئے دوبارہ لائے۔ نمبر 2۔ پہلی مرتبہ بلا وضاحت گناہ کی بناء پر پکڑنا ذکر کیا اور یہاں اس کی وضاحت اہلاک و استیصال سے کردی۔ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ (اور ان سے پہلے والوں جیسی حالت ہے۔ کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا) اور بٰایات ربہم لاکر واضح کردیا کہ خاص طور پر اس نعمت کو ٹھکرا یا۔ اور حق کا انکار کیا۔ فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَغْرَقْنَآ ٰالَ فِرْعَوْنَ (اور اس پر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ہم نے آل فرعون کو ڈبو…
Read the full tafseer →54(کداب ال فرعن والذین من قبلھم ط کذبوا بایت ربھم فاھلکنھم بذنوبھم) بعض کو زلزلہ سے ہلاک کیا، بعض کو دھنسا کر اور بعض کی صورت بگاڑ کر اور بعض کو آندھی سے اور بعض کو ڈبو کر ہلاک کیا۔ اسی طرح ہم نے بدر کے کافروں کو تلوار کے ساتھ ہلاک کیا جب انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا۔ (واعرقنا ال فرعن و کل کانوا ظلمین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
53۔ 54۔ اللہ پاک نے اس آیت میں یہ فرمایا کہ ان کفار پر جو عذاب آیا جنگ بدر میں قتل و غارت ہوئے مسلمانوں کی قید میں آئے ان کے مال لوٹ لئے گئے اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حالت خود بدل دی عمر وبن لحی نے ملت ابراہیمی کو بدل کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی جس میں ان کے بڑے مبتلا ہوئے حال کے لوگ اپنے بڑوں کے قدم بقدم چلے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے فورا ان کو ہلاک نہیں کیا بلکہ ان کی حالت کو درست کرنے کے لئے نبی آخر الزمان کو بھیجا قرآن نازل فرمایا تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو روایتیں ہیں ان میں ہے کہ یہاں نعمت سے مطلب حضرت رسول مقبول ﷺ ہیں کیونکہ اللہ پاک نے یہ نعمت اہل مکہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
آیت 53
(ذلک) وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی قوموں پر نازل فرمایا تھا اور وہ نعمتیں جو انہیں حاصل تھیں، ان سے سلب کرلی گئی تھیں۔ اس کا سبب ان کے گناہ اور ان کا اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار کرنا تھا۔ (بان اللہ لم یک مغیرا نعمتہ انعمھا علی قوم) ” اللہ بدلنے والا نہیں ہے اس نعمت کو جودی اس نے کسی قوم کو “ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو دین و دنیا کی نعمتیں عطا کرتا ہے تو ان کو سلب نہیں کرتا، بلکہ ان کو باقی رکھتا ہے اور اگر وہ شکر کرتے رہیں تو ان میں اضافہ کرتا ہے۔ (حتی یغیر و امابا نفسھم) ” جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے دلوں کی بات “ یعنی جب تک کہ وہ اطاعت کے رویے کو بدل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
جنگ میں اطاعت خدا اور رسول
قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…
Read the full tafseer →115 کفر و انکار کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے : چناچہ منکرین و معاندین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو۔ تو آخرکار ہم نے ہلاک کردیا ان سب کو ان کے گناہوں کی پاداش میں۔ سو ان کی ہلاکت و تباہی ان کے اپنے کفر وانکار وغیرہ سنگین جرائم کا ایک لازمی نتیجہ اور طبعی اثر تھا جو قانون قدرت کے مطابق ان پر چسپاں ہوا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے ازخود یونہی ان سے اپنی نعمتوں کو چھین نہیں لیا کہ یہ اس کی شان نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ لوگ جب اپنے کفر و انکار میں بڑھتے ہی چلے گئے تو آخرکار یہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ ان میں سے کسی قوم کی صورتوں کو مسخ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
موت کے وقت کفار کی حالت
تشریح : یہاں کفار کے اعمال باطل کے وجہ سے ان کے انجام کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ میدان جنگ، یعنی غزوہ بدر میں کفار کی تکلیف دہ موت کا ذکر اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ فرشتے کس قدر تکلیف کے ساتھ کفار کی جان نکال رہے تھے اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہ تو صرف دنیا کی ذلت و خواری اور ہلاکت تم دیکھ رہے ہو۔ اس عذاب کا تمہیں علم ہی نہیں جو موت کے بعد شدید آگ کا عذاب تمہیں دیا جائے گا اور یہ سب کچھ تمہیں اپنے ہی کیے ہوئے کاموں کے بدلہ میں ملے گا۔ ویسے اس کا حکم عام بھی ہے کہ کفار کی موت کیسے واقع ہوتی ہے کیونکہ اللہ ارحم الراحمین ہے وہ کبھی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
آیات 49 تا 58
اسرار و معارف
بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔
دل کامرض
گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ…
Read the full tafseer →ف 5 اگر گنہگار نہ ہوتے اور صحیح طرز عمل اختیار کر ن تو اللہ تعالیٰ کو ان سے کوئی ذاتی بیر نہ تھا کہ انہیں بلاوجہ ہلاک یا غر کردیتا۔
Read the full tafseer →(8:54) کداب ۔۔ قبلہم۔ یہ تکریر تاکید کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
آیات : 50 تا 54
لغات القرآن۔
یتوفی۔ موت دے گا۔ یضربون۔ ماریں گے۔ وجوہ۔ (وجہ) ۔ چہرے۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ ظلام۔ بہت زیادہ ظلم کرنے والا۔ العبید۔ (عبد) ۔ بندے۔ کداب۔ جیسا کہ دستور تھا۔ جیسا کہ طریقہ تھا ۔ ال اولاد۔ اخذ۔ اس نے پکڑ لیا۔ ذنوب۔ (ذنب) ۔ گناہ۔ قوی۔ مضبوط۔ طاقتور۔ لم یک۔ (لم یکن) نہیں ہے۔ مغیر۔ تبدیل کرنے والا۔ انعمھا۔ اس نے انعام کیا۔ حتی یغیروا۔ جب تک وہ بدل نہ ڈالیں۔ ما بانفسھم۔ اپنے دلوں کی کیفیت۔ حالت۔ اھلکنا۔ ہم نے ہلاک کردیا۔ اغرقنا۔ ہم نے غرق کردیا۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے وہ سارا عالم ہم بندوں کی نظروں سے چھپا لیا ہے جو نزع، قبر اور برزخ میں ہوتا ہے ورنہ اگر واقعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ ان کفار پر جو عذاب آیا جنگ بدر میں قتل و غارت ہوئے، قید میں آئے، ان کے مال لوٹ لئے گئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حالت خود بدل دی۔ عمرو بن یحییٰ نے ملت ابراہیمی کو بدل کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی، جس میں ان کے بڑے مبتلا ہوئے ۔ حال کے لوگ اپنے بڑوں کے قدم بقدم چلے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے فورا ان کو ہلاک نہیں کیا بلکہ ان کی حالت کو درست کرنے کے لئے نبی آخر الزماں ﷺ کو بھیجا۔ قرآن شریف نازل فرمایا۔ یہ نعمت اہل مکہ کو دی تھی ان لوگوں نے کچھ قدر نہ کی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ سے مدینہ انصار کے پاس بھیج دیا، اس کے بعد پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
[17] یعنی جس قوم کو اللہ تعالیٰ نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے اس سے وہ اس وقت تک واپس نہیں لیتا جب تک وہ اپنے حالات و اعمال کو بدل کر خود ہی اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے۔ حالات اور اعمال کے بدلنے سے مراد یہ ہے کہ اچھے اعمال اور اچھے حالات کو بدل کر برے اعمال اور برے حالات اختیار کرے یا یہ کہ اللہ کی نعمتیں پانے کے وقت جن اعمال بد اور گناہوں میں مبتلا تھی ان سے زیادہ برے اعمال میں مبتلا ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
اللہ کا قانون :
(ف 3) قوموں کے متعلق اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب تک ان میں کوئی تبدیلی نہ پیدا ہو ، وہ خود ان میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا ، یعنی ہر قوم جو باعروج ہے اور اس کے عروج کے اسباب وعلل ہیں ، جب تک وہ خود ذلت ومسکنت کے اسباب نہ پیدا کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں کو ذلت سے نہیں بدلتا ۔
حل لغات :
کداب : داب ، حالت شان ، کیفیت ۔
Read the full tafseer →54 ان لوگوں کا حال سلب نعمت میں ایسا ہی ہے جیسے فرعون والوں کا اور ان لوگوں کا حال جوان سے پہلے تھے انہوں نے اپنے پروردگار کی آیات کو جھٹلایا اور آیات الٰہی کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا اور ڈبو دیا اور وہ سب کے سب ظالم تھے۔ یعنی یہ بات بتائی تاکہ منکروں کو تنبیہہ ہو اور وہ ڈریں کہ کہیں ہمارا بھی وہی حال ہو جو آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 7۔ یعنی کہ بلاجرم ہم سزا نہیں دیتے۔
8۔ ان کفار موجودین نے اپنی یہ حالت بدلی کہ ان میں باوجود کفر کے اول ایمان لانے کی استعداد قریب تھی انکار و مخالفت کرکے اس کو بعید کرڈالا پس ہم نے اپنی نعمت امہال کو جو پہلے سے ان کو حاصل تھی مبدل یہ داروگیر کردیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے بطریق مذکور نعمت قرب استعداد کو بدل ڈالا۔
Read the full tafseer →تاکید مزید کے لئے آل فرعون اور اس کے لوگوں کی داستان کی طرف دوبارہ توجہ دلا دی :
73: یہ آیت وہی ہے جو پیچھے ایک ہی آیت سے پہلے گزر چکی یعنی آیت 52 اور 54 بالکل ایک ہی طرح کی آیت اور ایک قوم کا ذکر ہے۔ معمولی الفاظ کا فرق کر کے اس کو دوبارہ بیان کردیا اور دونوں مفہومات میں بہت زیادہ فرق پڑگیا اور دونوں کے اسباق بالکل مختلف ہوگئے اور دونوں ہی کے بیان کرنے میں اپنی اپنی جگہ ایک افادیت رکھ دی گئی۔ پہلی آیت میں اس کا بیان مقصود تھا کہ ان لوگوں کا کفر ان کے عذاب کا سبب بنا اور اس آیت کا مقصود یہ ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ نعمتیں مبذول کرتا ہے اور وہ اگر ان نمعتوں کی قدر نہ کرے…
Read the full tafseer →Commentary
The words used in the first of the verses cited above are almost the same as have appeared a verse earlier in: كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ ' (Their way is) like the way of the people of Pharaoh and of those before them - 52.' But, the purpose behind these two statements differs in both. The purpose in the first verse (52) was to state that the disbelief of those people became the cause of their punishment while, in the present verse (54), the purpose is to state that, according to the common…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
40. Unless a nation renders itself totally unworthy of God's favour, it is not deprived of it.
Read the full tafseer →