Al-Anfaal 8:53

Al-Anfaal · from ayah 53

8:53

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۙ— وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۟ۙذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرًا نِّـعۡمَةً اَنۡعَمَهَا عَلٰى قَوۡمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ‌ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌۙ

یہ اس لیے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لیے کہ خدا سنتا جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is because Allah would not change a favor which He had bestowed upon a people until they change what is within themselves. And indeed, Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:53

یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِ عمل کو نہیں بدل دیتی اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ اس لیے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لیے کہ خدا سنتا جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے جب تک کہ وه خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں جو کہ ان کی اپنی تھی اور یہ کہ اللہ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اس نے جو نعمت کسی قوم کو دی ہو اسے اس وقت تک بدلنا گوارا نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت تبدیل نہ کرلیں اور اللہ ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ (عذاب) اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر اَرزانی فرمائی ہو یہاں تک کہ وہ لوگ اَز خود اپنی حالتِ نعمت کو بدل دیں (یعنی کفرانِ نعمت اور معصیت و نافرمانی کے مرتکب ہوں اور پھر ان میں احساسِ زیاں بھی باقی نہ رہے تب وہ قوم ہلاکت و بربادی کی زد میں آجاتی ہے)، بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس لیے کہ بیشک اللہ کبھی وہ نعمت بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر کی ہو، یہاں تک کہ وہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے اور اس لیے کہ بیشک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر اللہ کسی قوم کو نعمت سے نوازے تو وہ اس نعمت کو اس وقت تک ان سے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزعمل کو بدل نہیں دیتی اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ اس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتا ہے اسوقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اس چیز کو نہ بدل ڈالے جس کا تعلق خود اس سے ہے اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ اس لئے کہ اللہ ایسا نہیں کہ بدل دے کسی ایسی نعمت کو جو اس نے عطا فرمائی ہو کسی قوم کو، یہاں تک کہ وہ لوگ (اپنی بدنصیبی سے) خود بدل نہ دیں ان حالات کو، جن کا تعلق خود ان کی اپنی ذاتوں سے ہے، بیشک اللہ سنتا (ہر کسی کی اور) جانتا ہے (سب کچھ) ،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ (سب) اس سبب سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو جس کا انعام وہ کسی قوم پر کرچکا ہونہی بدلتا جب تک کہ وہی لوگ اس کو نہ بدل دیں جو کچھ ان کے پاس ہے۔ اور بیشک اللہ خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اس لیے کہ اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کوئی نعمت جو اس نے کسی قوم کو دی ہو اس میں تغیر کرے جب تک کہ وہ قوم اپنی اندرونی کیفیت کو متغیر نہ کر دے) اور یہ کہ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اس لیے کہ جو نعمت اللہ کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں اللہ اسے بدلا نہیں کرتا۔ اس لیے کہ اللہ سنتا جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This happened because Allah is not one to change the favour which He has bestowed upon a people until they have changed their attitude., Surely Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

All this is because Allah is not the one who may change a favour He has conferred on a people unless they change their own condition, and that Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

All this is because Allah is not the one who may change a favour He has conferred on a people unless they change their own condition, and that Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That is so because Allah will never change a grace which He has bestowed on a people until they change what is in themselves. And verily, Allah is All-Hearer, All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That is because Allah never changeth the grace He hath bestowed on any people until they first change that which is in their hearts, and (that is) because Allah is Hearer, Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is because Allah would not change a favor which He had bestowed upon a people until they change what is within themselves. And indeed, Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

God does not change the favor that He has bestowed on a nation unless that nation changes what is in its soul. God is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

This is because Allah has never changed a favor which He has conferred upon a people until they change their own condition; and because Allah is Hearing, Knowing;

— Muhammad Habib Shakir

This, because Allah is not one to change His favour wherewith He hath favoured a people until they have changed that which is in themselves; and verily Allah is Hearing, Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

"Because Allah will never change the grace which He hath bestowed on a people until they change what is in their (own) souls: and verily Allah is He Who heareth and knoweth (all things)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 53–54

اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہوسکتا ہے۔ تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گذشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–55

سورة الْاَنْفَال 40 یعنی جب تک کوئی قوم اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی نعمت کا غیر مستحق نہیں بنا دیتی اللہ اس سے اپنی نعمت سلب نہیں کیا کرتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے انعام و عطا کے قائم اور باقی رکھنے کا ایک ضابطہ بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا (آیت) بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو نعمت کسی قوم کو عطا فرماتے ہیں اس کو اس وقت تک بدلتے نہیں جب تک یہ لوگ خود ہی اپنے حالات اور عمال کو نہ بدل دیں۔ یہاں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے عطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ نہیں بیان فرمایا، نہ اس کے لئے کوئی قید و شرط لگائی نہ اس کو کسی کے اچھے عمل پر موقوف رکھا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ۔ یہ حکمت بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کیوں فرمایا کہ قوموں کو تذکیر و تنبیہ ہوتی رہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قو پر انعم فرماتا ہے تو یوں ہی نہیں فرماتا بلکہ وہ انعام کچھ صفات و کردار پر مبنی ہوتا ہے، اسی طرح جب وہ کسی قوم کو اپنے اس انعام سے محروم کرتا ہے تو یوں ہی محروم نہیں کردیتا بلکہ وہ یہ دیکھ کر کرتا ہے کہ قوم نے اپنے آپ کو ان صفات و اخلاق سے محروم کرلیا کجن کی بنا پر وہ مستحق انعام ٹھہری تھی۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ جب کوئی انعام یافتہ قو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم کفران نعمت کا راستہ اختیار کرکے اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے اعراض کر کے اپنے احوال و اخلاق کو نہیں بدل لیتی، اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتوں کا دروازہ بند نہیں فرماتا۔ دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ گناہوں کی وجہ سے اپنی نعمتیں سلب فرمالیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کا مستحق بننے کے لئے ضروری ہے کہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ گویا تبدیلی کا مطلب یہی ہے کہ قوم گناہوں کو چھوڑ کر اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–54

36: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو عذاب سے اسی وقت بدلتا ہے جب کوئی قوم اپنی حالت کو خود بدل لیتی ہے، کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن میں سب سے بڑی نعمت یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کو انہی کے درمیان مبعوث کیا گیا اگر وہ اس وقت ضد سے کام لینے کے بجائے حق طلبی اور انصاف سے کام لیتے تو ان کے لئے اسلام قبول کرنا کچھ مشکل نہیں تھا لیکن انہوں نے اس نعمت کی ناشکری کرکے اور ضد سے کام لے کر اپنی حالت کو بدل لیا اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسلام قبول کرنے کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا جس سے حق کو قبول کرنا ان کے لئے مشکل ہوگیا، جب انہوں نے اپنی حالت اس طرح بدل لی تو اللہ تعالیٰ نے بھی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 53–54

اللہ نے انہیں تب ہلاک کیا جب انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔ اس سے قبل ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔ باوجودیکہ وہ کافر تھے کیونکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اس کا کرم ہے کہ اس نے یہ اصول مقرر کیا ہے۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیج دیں۔ یہاں آل فرعون اور ان سے پہلے یہ اقوام جن کے پاس آیات الہی بھیجی گئیں اور انہوں نے تکذیب کی اور اللہ نے ان پر ہلاکت و بربادی نازل کی۔ یہ کارروائی ان کے خلاف کیون کی گئی ، اس لیے کہ (وہ ظالم تھے) یہاں لفظ ظلم بمعنی کفر یا شرک استعمال ہوا ہے۔ اور قرآن کریم میں یہ لفظ اکثر انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جب لوگ اپنی بےاعتدالی اور غلط کاری سے نیکی کے فطری قویٰ اور استعداد کو بدل ڈالتے ہیں اور خدا کی بخشی ہوئی داخلی یا خارجی نعمتوں کو اس کے بتلائے ہوئے کام میں ٹھیک موقع پر خرچ نہیں کرتے بلکہ الٹے اس کی مخالفت میں صرف کرنے لگتے ہیں تو حق تعالیٰ اپنی نعمتیں ان سے چھین لیتا ہے اور شان انعام کو انتقام سے بدل دیتا ہے۔ وہ بندوں کی تمام باتوں کو سنتا اور تمام احوال کو جانتا ہے کوئی چیز اس سے پردہ میں نہیں۔ لہذا جس سے جو معاملہ کرے گا نہایت ٹھیک اور برمحل ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " نیت اور اعتقاد جب تک نہ بدلے تو اللہ کی بخشی ہوئی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ " گویا " مَابِاَنْفُسِہِمْ " سے خاص…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 53–54

آیت 53 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ لا اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف اپنا پیغمبر مبعوث کیا ‘ جس نے اللہ کی توحید اور اس کے احکام کے مطابق اس قوم کو دعوت دی۔ پیغمبر کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے نوازا ‘ ان پر اپنے انعامات و احسانات کی بارشیں کیں۔ پھر اپنے پیغمبر کے بعد ان لوگوں نے آہستہ آہستہ کفرو ضلالت کی روش اختیار کی اور توحید کی شاہراہ کو چھوڑ کر شرک کی پگڈنڈیاں اختیار کرلیں تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں نے بھی ان سے منہ موڑ لیا ‘ انعامات کی جگہ اللہ کے عذاب نے لے لی اور یوں وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

57 نیت کے فتور سے نعمت چھن جاتی ہے :۔ اس آیت کے الفاظ بڑے وسیع معنی رکھتے ہیں اور اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں مثلاً ایک یہ کہ ما کو کسی قوم کی خوشحالی پر محمول کیا جائے۔ اس صورت میں اس کے وہی معنی ہیں جو ترجمہ میں کئے گئے ہیں۔ البتہ (مَا بِاَنْفُسِهِمْ 53؀ۙ ) 8 ۔ الانفال :53) کا معنی طرز عمل کے بجائے نیت کا فتور بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی جب تک کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار بن کر رہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے وہ نعمت نہیں چھینتا، پھر جب ان لوگوں کی نیتوں میں فتور آگیا یا بگاڑ پیدا ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ان سے چھین لی جاتی ہے۔ اور اگر ما کو کسی قوم کی بدحالی اور مصائب پر محمول کیا جائے تو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82 ۔ یعنی جب تک کوئی قوم خود اپنی حالت اس سے مختلف نہ کرلے جو نزول نعمت کے وقت اس کی تھی اور اپنے اندر بجائے ایمان وطاعت کے کفر وخباثت پیدا کرلے، نعمت اور خبث کا اجتماع خلاف حکمت الہی ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی قانون جو اوپر بیان ہوا۔ یہ کہ بےجرم شدید اللہ کسی کو سزا نہیں دیتا اور جب سزا دینا چاہتا ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ (آیت) ” نعمۃ “۔ کا لفظ عام ہے دنیوی واخروی، مادی، روحانی، انفرادی وقومی سب ہی طرح کی نعمتیں اس میں آگئیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت کے عموم میں وہ صورت بھی داخل ہے کہ سالک سے جب کوئی معصیت سرزد ہوجاتی یا کوئی طاعت ترک ہوجاتی ہے تو اس سے انوار وبرکات مقصودہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–57

ذالک باَنَّ اللہ لَمْ یک مغیراً نعمة الخ اللہ تعالیٰ نے اعطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ بیان نہیں فرمایا نہ ان کے لئے کوئی قید لگائی نہ ان کو کسی اچھے عمل پر موقوف رکھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت حق جلّ شانہ کی عجیب صنعت گری سے ہزاروں نعمتیں ودیعت رکھی گئی ہیں یہ نعمتیں ظاہر ہے کہ اس وقت عطا ہوئیں جب کہ نہ ہم تھے اور نہ ہمارا کوئی عمل، اگر حق تعالیٰ کے انعامات و احسانات بندوں کے نیک اعمال کے منتظر رہا کرتے تو ہمارا وجود ہی قائم نہ ہوتا۔ حق تعالیٰ کی نعمت و رحمت تو اس کے رب العالیمن اور رحمٰن و رحیم ہونے کے نتیجہ میں خود بخود ہے البتہ اس نعمت و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک بان اللہ لم یک مغیرًا نعمۃً انعمھا علی قوم حتی یغیروا ما بانفسھم وان اللہ سمیع علیم۔ یہ بات اس سبب سے ہے کہ اللہ کسی ایسی نعمت کو جو کسی قوم کو عطا فرمائی ہو ‘ نہیں بدلتا جب تک وہی لوگ اپنے ذاتی اعمال کو نہیں بدل ڈالتے اور اس سبب سے بھی ہے کہ اللہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔ ذٰلِکَیعنی یہ عذاب جو ان پر نازل ہوا (یہ ظلم نہیں ہے بلکہ) بِاَنَّ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ جو نعمت کسی قوم کو عطا فرماتا ہے ‘ اس کو دکھ اور عذاب سے اس وقت تک نہیں بدلا کرتا جب تک وہ اپنی اچھی حالت کو بری حالت سے خود تبدیل نہ کرلیں (اور مستحق عذاب نہ ہوجائیں) مثلاً اہل مکہ کو اللہ نے رزق ‘ عزت اور امن سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) اور یہ سزا اس لیے تھے کہ اللہ نے کتاب اور رسول اور امن وسلامتی کی جو نعمت عطا فرمائی ہے اس کو اس وقت تک نہیں بدلتے جبکہ وہی لوگ کفران نعمت پر نہ تل جائیں اور اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو سننے والے اور ان کی قبولیت کو جاننے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ : ”جو ان کے دلوں میں ہے“ یعنی اعتقاد اور نیت جب تک نہ بدلے اللہ کی بخشی ہوئی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی عطا کردہ نعمت سے اسی صورت میں محروم کرتا ہے جب وہ اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق کو بدل کر اپنے متعلق ثابت کردیتی ہے کہ وہ اس نعمت کی مستحق ہرگز نہیں ہے، مثلاً ایمان کے بجائے کفر، شکر کے بجائے نا شکری اور نیکی کے بجائے گناہ کرنے لگتی ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی عطا کردہ نعمت واپس لے لیتا ہے اور اسے مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ فرعون کی قوم اور اسی طرح قریش کو اللہ تعالیٰ نے بڑی شان و شوکت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–55

( آیت نمبر 52) ( آیت نمبر 53) یہ علت بیان ہو رہی ہے یعنی یہ سزا اس لیے ہے کہ انہوں نے تبدیل کردیا اور بدل ڈالا اور قریش پر اللہ تعالیٰ کا انعام شادابی، خوشحالی اور امن و عافیت کی صورت میں تھا، ( جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے) اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویبحطف الناس من حولھم الایہ ( العنکبوت :67) ” کیا انہوں نے ( غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے بنا دیا ہے حرم کو امن والا حالانکہ اچک لیا جاتا ہے لوگوں کو ان کے آس پاس سے “ سدی (رح) نے کہا ہے : ان پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام حضور نبی مکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرای تھی تو انہوں نے آپ کا انکار کیا اور کفر کا ارتکاب کیا، پس آپ ﷺ مدینہ طیبہ منتقل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–54

1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ “ سے مراد مشرکین ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ دو نشانیاں ہیں جس کے ذریعہ کافر کو اپنی موت کے وقت (دکھائی جاتی ہیں) یعنی (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ یضربون وجوہہم وادبارھم “۔ 3:۔ سعید بن منصور ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وادبارہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ان کے مشابہ لوگ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کریم ہیں کنایہ پہلی فرماتے ہیں 4:۔ ابن ابی حاتم اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّ [ اس سبب سے ہے کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] لَمْ يَكُ [ ہرگز نہیں ہے ] مُغَيِّرًا [ بدلنے والا ] نِّعْمَةً [ کسی ایسی نعمت کو ] اَنْعَمَهَا [ اس نے انعام کیا جسے ] عَلٰي قَوْمٍ [ کسی قوم پر ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يُغَيِّرُوْا [ وہ لوگ بدلیں ] مَا [ اس کو جو ] بِاَنْفُسِهِمْ ۙ [ ان کے جیبوں میں ہے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] سَمِيْعٌ [ سننے والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] (آیت ۔ 53) بان کا اسم اللہ ہے ۔ اور لم یک مغیرا پورا جملہ اس کی خبر ہے ۔ اس جملہ میں لم یک دراصل لم یکن ہے۔ اس کا دونوں طرح استعمال جائز ہے۔ اور قرآن مجید میں بھی یہ دونوں طرح آیا ہے ۔ اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 52–53

اس کے بعد فرمایا (کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ) ان مجرموں پر جو اللہ کی طرف سے عذاب آیا یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے اپنی آیات بھیجتا ہے۔ یہ آیات آفاقیہ بھی ہوتی ہیں اور آیات انفسیہ بھی ہوتی ہیں اور آیات صحفیہ بھی جو اللہ کے کتابوں اور صحیفوں میں موجود ہوتی ہیں۔ بندے اگر غور و فکر سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کو پہچانیں اور اس کے نبیوں اور کتابوں پر ایمان لائیں اور احکام الٰہیہ کو بجا لائیں تو ایمان قبول کرنے کی طرف ذہن چلے، مجرمین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ اللہ کی آیات کے منکر ہوئے اس کے نبیوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–54

بیان ذلت کفار در عالم برزخ قال اللہ تعالیٰ ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل کانوا ظلمین (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی دنیوی ذلت اور مغلوبیت اور رسوائی کا بیان تھا جو ان کی پہلی بار اپنی زندگی میں پیش آئی۔ اب ان آیات میں کفار کی برزخی ذلت اور رسوائی کا بیان ہے کہ موت کے وقت ان کی کیا حالت ہوتی ہے اور کس ذلت آمیز طریقہ سے ان کی روح قبض کی جاتی ہے اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں ان کو کیا عذاب دیا جاتا ہے اور اس وقت ان پر تزئین شیطانی کی ساری قلعی کھلی اور سمجھے کہ ہم دھوکہ میں مبتلا تھے خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ ہم نے خود اپنے آپ کو تباہ وبرباد کیا اور آل فرعون کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

55: یہ بیان مذکور کی طرف اشارہ ہے اور “ بِاَنْ ” کا متعلق محذوف ہے “ اي لتستیقنوا ” یعنی یہ مذکورہ امور اس لیے بیان کیے گئے تاکہ تمہیں یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی کسی نعمت سے اس وقت تک محروم نہیں فرماتا جب تک لوگ خود ہی اپنے ان اعمال واحوال کو نہ بدل ڈالیں جن سے وہ اللہ کی نعمتوں اور اس کی دی ہوئی فطری صلاحیتوں اور خوبیوں کو غلط استعمال کرنے لگتے ہیں اور ان سے ٹھیک اور برمحل کام نہیں لیتے اور ان کو اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کی مخالفت میں بروئے کار لانے میں مصروف ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمتیں چھین کر ان کو سخت عذاب میں مبتلا کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–54

مدینے کے منافق : گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کے اصول بتلائے گئے تھے ، پھر ان کی سازشوں اور نافرمانیوں اور ان کو دی جانے والی سزا کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کی ذلت و خواری ہوئی اور آخرت میں وہ دائمی سزا کے مستحق ہوں گے اب اسی ضمن میں منافقوں کے کردار کا ذکر بھی ہو رہا ہے ہجرت کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پر تین قسم کے لوگ تھے ایک قسم تو وہ صحابہ کرام تھے جو آپ پر ایمان لا کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے دوسری قسم کے لوگ وہ تھے جو غیر جانبدار تھے ، وہ نہ مخالف کرتے تھے اور نہ موافقت البتہ تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو ظاہر میں تو ایمان لے آئے مگر ان کے دل کفر پر اڑے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۝ 0 ۙ وَاَنَّ اللہَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ 53 ۙ ( غیر) تَّغْيِيرُ والتَّغْيِيرُ يقال علی وجهين : أحدهما : لتغيير صورة الشیء دون ذاته . يقال : غَيَّرْتُ داري : إذا بنیتها بناء غير الذي كان . والثاني : لتبدیله بغیره . نحو : غَيَّرْتُ غلامي ودابّتي : إذا أبدلتهما بغیرهما . نحو : إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ ما بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا ما بِأَنْفُسِهِمْ [ الرعد/ 11] . والفرق بين غيرين ومختلفین أنّ الغیرین أعمّ ، فإنّ الغیرین قد يکونان متّفقین في الجواهر بخلاف المختلفین، فالجوهران…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–54

ترکیب : اذیقول ممکن ہے کہ معمول اذکر ہو یا زین کا ظرف ہو۔ الذین کفروا مفعول ہے یتوفی کا الملائکۃ فاعل ذوالحال یضربون حال وذوقوا ای یقولون معطوف ہوگا یضربون پر یہ بھی حال ہو کر ملائکہ کا مقولہ ہوگا اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو یعنی بعد موت کے ہم ان سے کہیں گے۔ تفسیر : چونکہ تزیین شیطانی کا ذکر آیا تھا کہ شیطان نے مکہ کے کافروں کو یوں گمراہ کر رکھا تھا۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ تزیین کچھ انہیں میں منحصر نہیں بلکہ مدینہ کے منافق کہ جن کے دل میں مرض شک و نفاق ہے بدر کے واقعہ کی نسبت مسلمانوں کو یہ کہتے تھے کہ ان کو ان کے دین نے مغرور کردیا ہے۔ محمد ﷺ کے وعدوں پر تین سو تیرہ ٹوٹے پھوٹے مسلمان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 52–54

کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لاوَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْط کَفَرُوْابِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْط اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ لاوَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ط کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ فَاَھْلَکْنٰـھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ج وَ کُلٌّ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الانفال : 52 تا 54) (ان کا حال وہی ہے) جیسے حال تھا قوم فرعون اور ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–53

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین مکہ کا انجام : جس طرح فرعون اور اس کے ساتھی تکبر اور غرور کی وجہ سے دنیا میں ذلیل اور آخرت میں اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوئے اسی طرح مشرکین مکہ دنیا میں خوار ہوئے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة مزمل میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح کا رسول فرعون کے پاس بھیجا تھا۔ اس اعتبار سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی قوم کے انکار اور کردار میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ اسی بنا پر بدر کے واقعات، اہل مکہ اور منافقین کا کردار اور انجام بیان کرنے کے دوران…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نعمت ‘ نقمت سے اعمال کے بدلنے پر بدلتی ہے : آیت 53: ذٰلِکَ (یہ بات) یہ عذاب یا انتقام بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ (اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی نعمت کو جو کسی قوم کو عطاء فرمائی ہو، نہیں بدلتے جب تک کہ وہی لوگ اپنے ذاتی اعمال کو نہیں بدل ڈالتے) اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ کسی قوم کے ساتھ نعمت والا معاملہ اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہیں بدل لیتے۔ یہ بلاشبہ درست ہے کہ مشرکین مکہ اور آل فرعون کا پہلے بھی طرز عمل ایسا نہ تھا کہ پھر اس کو انہوں نے ناراضگی میں بدلا بلکہ بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

53(ذلک بان اللہ لم یک مغیرا نعمۃ انعمھا علی قوم حتی یغیروا ما بانفسھم ) مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر کئے ہوئے انعامات اس وقت تک نہیں بدلتے جب تک وہ ناشکری اور کفر کر کے اپنی حالت نہ بدل لیں۔ جب وہ ایسا کریں تو اللہ بھی ان کی حالت تبدیل کر دے گا اور نعمت کو چھین لیتا ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی نعمت محمد ﷺ کہ ان کو قریش اور اہل مکہ پر بھیجا تو انہوں نے تکذیب کی اور کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو انصار کی طرف منتقل کردیا (وان اللہ سمیع علیم)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 53–54

53۔ 54۔ اللہ پاک نے اس آیت میں یہ فرمایا کہ ان کفار پر جو عذاب آیا جنگ بدر میں قتل و غارت ہوئے مسلمانوں کی قید میں آئے ان کے مال لوٹ لئے گئے اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حالت خود بدل دی عمر وبن لحی نے ملت ابراہیمی کو بدل کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی جس میں ان کے بڑے مبتلا ہوئے حال کے لوگ اپنے بڑوں کے قدم بقدم چلے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے فورا ان کو ہلاک نہیں کیا بلکہ ان کی حالت کو درست کرنے کے لئے نبی آخر الزمان کو بھیجا قرآن نازل فرمایا تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو روایتیں ہیں ان میں ہے کہ یہاں نعمت سے مطلب حضرت رسول مقبول ﷺ ہیں کیونکہ اللہ پاک نے یہ نعمت اہل مکہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 53–54

آیت 53 (ذلک) وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی قوموں پر نازل فرمایا تھا اور وہ نعمتیں جو انہیں حاصل تھیں، ان سے سلب کرلی گئی تھیں۔ اس کا سبب ان کے گناہ اور ان کا اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار کرنا تھا۔ (بان اللہ لم یک مغیرا نعمتہ انعمھا علی قوم) ” اللہ بدلنے والا نہیں ہے اس نعمت کو جودی اس نے کسی قوم کو “ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو دین و دنیا کی نعمتیں عطا کرتا ہے تو ان کو سلب نہیں کرتا، بلکہ ان کو باقی رکھتا ہے اور اگر وہ شکر کرتے رہیں تو ان میں اضافہ کرتا ہے۔ (حتی یغیر و امابا نفسھم) ” جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے دلوں کی بات “ یعنی جب تک کہ وہ اطاعت کے رویے کو بدل کر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–56

جنگ میں اطاعت خدا اور رسول قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

114 قوموں کی ترقی اور ان کے عروج کی بنیاد اخلاق و کردار : سو اللہ تعالیٰ کسی قوم سے اپنی عطا کردہ نعمت کو چھینتا نہیں۔ یہاں تک کہ وہ لوگ اپنی حالت کو خود بدل دیں کہ کرم والی کوئی ذات کسی پر کوئی عنایت کرنے کے بعد اس کو واپس نہیں لیتی کہ یہ بات اس کی اپنی شان کرم کے خلاف ہوتی ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس و اعلیٰ کے کہنے ہی کیا جو کہ اکرم الاکرمین ہے۔ اور جس کا کرم حقیقی اور لامتناہی کرم ہے اور جس کی شان ہی کرم فرمانا ہے۔ مگر جب کوئی بدنصیب قوم اپنی ناشکری اور بداطواری سے اپنے آپ کو اس نعمت کے قابل نہ رہنے دے تو پھر اس قادر مطلق کے عدل وانصاف کا مقتضیٰ اور اس قوم کی اس ناشکری کا طبعی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–55

موت کے وقت کفار کی حالت تشریح : یہاں کفار کے اعمال باطل کے وجہ سے ان کے انجام کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ میدان جنگ، یعنی غزوہ بدر میں کفار کی تکلیف دہ موت کا ذکر اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ فرشتے کس قدر تکلیف کے ساتھ کفار کی جان نکال رہے تھے اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہ تو صرف دنیا کی ذلت و خواری اور ہلاکت تم دیکھ رہے ہو۔ اس عذاب کا تمہیں علم ہی نہیں جو موت کے بعد شدید آگ کا عذاب تمہیں دیا جائے گا اور یہ سب کچھ تمہیں اپنے ہی کیے ہوئے کاموں کے بدلہ میں ملے گا۔ ویسے اس کا حکم عام بھی ہے کہ کفار کی موت کیسے واقع ہوتی ہے کیونکہ اللہ ارحم الراحمین ہے وہ کبھی بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 49–58

آیات 49 تا 58 اسرار و معارف بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔ دل کامرض گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 52–53

ف 3 یعنی اعتقاد اور نیت جب تک بہ بد لے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ ( مو ضح) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی عطا کردہ نعمت سے بایں صوت محروم کرتا ہے جب وہ اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق کو بد ل کر اپنے آپ کو اس نعمت کا قطع غیر مستحق ثابت کردیتی ہے۔ مثلا ایمان کی بجائے کفر شکر کی بجائے ناشکری اور نیکی کی بجائے گناہ کرنے لگتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی عطا کردہ نعمت واپس لے لیتا ہے اور اسے مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ فرعون کی قوم اور اسی طرح قریش کو اللہ تعالیٰ نے بڑی شان و شوکت اور خو شحالی سے نوا زا تھا لیکن ان سے اپنی نعمتیں چھینن لیں۔ اس زمانے میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:53) ذلک۔ ای ذلک العذاب۔ لم یک۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ کون سے اصل میں کان سے مضارع تکون تھا۔ لم کے آنے سے ن پر جزم آئی۔ ن اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگیا۔ واؤ حرف علت ہونے کی وجہ سے ساقط ہوئی۔ لم یک رہ گیا۔ یہاں بمعنی فعل استمراری ہے۔ یعنی نہیں ہے۔ نہیں تھا۔ نہیں ہوگا۔ مغیرا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ تغیر (باب تفعیل) بدلنے والا۔ لم یک مغیرا۔ وہ (اللہ تعالیٰ ) کبھی نہیں ہوا بدلنے والا۔ اور نہ ہی ہوگا۔ یغیروا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ تغیر مصدر (یہاں تک) کہ وہ بدل ڈالیں ۔ (بھلائی کو برائی سے۔ خوشحالی کو بدحالی سے) ۔ ما بانفسھم۔ ای ما بھم۔ یعنی یہاں تک کہ وہ خود بدل ڈالیں ان نعمتوں کو جو اللہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–54

آیات : 50 تا 54 لغات القرآن۔ یتوفی۔ موت دے گا۔ یضربون۔ ماریں گے۔ وجوہ۔ (وجہ) ۔ چہرے۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ ظلام۔ بہت زیادہ ظلم کرنے والا۔ العبید۔ (عبد) ۔ بندے۔ کداب۔ جیسا کہ دستور تھا۔ جیسا کہ طریقہ تھا ۔ ال اولاد۔ اخذ۔ اس نے پکڑ لیا۔ ذنوب۔ (ذنب) ۔ گناہ۔ قوی۔ مضبوط۔ طاقتور۔ لم یک۔ (لم یکن) نہیں ہے۔ مغیر۔ تبدیل کرنے والا۔ انعمھا۔ اس نے انعام کیا۔ حتی یغیروا۔ جب تک وہ بدل نہ ڈالیں۔ ما بانفسھم۔ اپنے دلوں کی کیفیت۔ حالت۔ اھلکنا۔ ہم نے ہلاک کردیا۔ اغرقنا۔ ہم نے غرق کردیا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے وہ سارا عالم ہم بندوں کی نظروں سے چھپا لیا ہے جو نزع، قبر اور برزخ میں ہوتا ہے ورنہ اگر واقعی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 53–54

اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ ان کفار پر جو عذاب آیا جنگ بدر میں قتل و غارت ہوئے، قید میں آئے، ان کے مال لوٹ لئے گئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حالت خود بدل دی۔ عمرو بن یحییٰ نے ملت ابراہیمی کو بدل کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی، جس میں ان کے بڑے مبتلا ہوئے ۔ حال کے لوگ اپنے بڑوں کے قدم بقدم چلے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے فورا ان کو ہلاک نہیں کیا بلکہ ان کی حالت کو درست کرنے کے لئے نبی آخر الزماں ﷺ کو بھیجا۔ قرآن شریف نازل فرمایا۔ یہ نعمت اہل مکہ کو دی تھی ان لوگوں نے کچھ قدر نہ کی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ سے مدینہ انصار کے پاس بھیج دیا، اس کے بعد پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–55

[17] یعنی جس قوم کو اللہ تعالیٰ نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے اس سے وہ اس وقت تک واپس نہیں لیتا جب تک وہ اپنے حالات و اعمال کو بدل کر خود ہی اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے۔ حالات اور اعمال کے بدلنے سے مراد یہ ہے کہ اچھے اعمال اور اچھے حالات کو بدل کر برے اعمال اور برے حالات اختیار کرے یا یہ کہ اللہ کی نعمتیں پانے کے وقت جن اعمال بد اور گناہوں میں مبتلا تھی ان سے زیادہ برے اعمال میں مبتلا ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 53–54

اللہ کا قانون : (ف 3) قوموں کے متعلق اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب تک ان میں کوئی تبدیلی نہ پیدا ہو ، وہ خود ان میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا ، یعنی ہر قوم جو باعروج ہے اور اس کے عروج کے اسباب وعلل ہیں ، جب تک وہ خود ذلت ومسکنت کے اسباب نہ پیدا کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں کو ذلت سے نہیں بدلتا ۔ حل لغات : کداب : داب ، حالت شان ، کیفیت ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

53 اس گرفت کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو اس کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ ارباب نعمت خود اپنی حالت کو نہ بدل دیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ بلاجرم کسی کو سزا نہیں جب جرم واقع ہوتا ہے تو سزا دی جاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اعتقاد اور نیت جب تک نہ بدلئے تو اللہ کی بخشی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 53–54

ف 7۔ یعنی کہ بلاجرم ہم سزا نہیں دیتے۔ 8۔ ان کفار موجودین نے اپنی یہ حالت بدلی کہ ان میں باوجود کفر کے اول ایمان لانے کی استعداد قریب تھی انکار و مخالفت کرکے اس کو بعید کرڈالا پس ہم نے اپنی نعمت امہال کو جو پہلے سے ان کو حاصل تھی مبدل یہ داروگیر کردیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے بطریق مذکور نعمت قرب استعداد کو بدل ڈالا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ نے اپنے انعام کے باقی رکھنے کا ضابطہ بیان فرمادیا تاکہ لوگ اپنے کئے پر غور کریں : 72: زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعام عطاء کے قائم اور باقی رکھنے کا قانون بڑء وضاحر سے بیان کردیا جس کی بات مبہم نہ رکھی کہ ” اللہ تعالیٰ جو نعمت کسی قوم کو عطا فرماتا ہے اس کو اس وقت تک نہیں بدلتاجب تک لوگ خود ہی اپنے حالات اور اعمال کو نہ بدل دیں۔ “ غور کرو کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے عطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ نہیں بیان فرمایا اور نہ ہی اس لئے کوئی قید یا شرط لگائی اور نہ اس کو کسی کے اچھے عمل پر موقوف رکھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت خداوندی کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Stated in the fourth verse (53) there is a standing rule which spells out the condition under which Allah Ta` ala allows a people to continue enjoying blessings bestowed by Him. It was said: بِأَنَّ اللَّـهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرً‌ا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُ‌وا مَا بِأَنفُسِهِمْ (because Allah is not to change a favour He has conferred on a people unless they change their own selves - 53). The first thing worth pondering about at this place is that Allah Ta` ala has not set forth any rule as to the bestowal of blessing and favour, nor has He put any restriction and…

Read the full tafseer →