کفار اللہ کے ازلی دشمن ہیں
ان کافروں نے بھی تیرے ساتھ وہی کیا جو ان سے پہلے کافروں نے اپنے نبیوں کے ساتھ کیا تھا پس ہم نے بھی ان کے ساتھ وہی کیا جو ہم نے ان سے گذشتہ لوگوں کے ساتھ کیا تھا جو ان ہی جیسے تھے۔ مثلا فرعونی اور ان سے پہلے کے لوگ جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو نہ مانا جس کے باعث اللہ کی پکڑ ان پر آئی۔ تمام قوتیں اللہ ہی کی ہیں اور اس کے عذاب بھی بڑے بھاری ہیں کوئی نہیں جو اس پر غالب آسکے کوئی نہیں جو اس سے بھاگ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
سورة الْاَنْفَال 39
یعنی مدینہ کے منافقین اور وہ سب لوگ جو دنیا پر ستی اور خدا سے غفلت کے مرض میں گرفتار تھے، یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر بےسروسامان جماعت قریش جیسی زبردست طاقت سے ٹکرا نے کے لیے جارہی ہے، آپس میں کہتے تھے کہ یہ لوگ اپنے دینی جوش میں دیوانے ہوگئے ہیں، اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی ہے، مگر اس نبی نے کچھ ایسا افسوں ان پر پھونک رکھا ہے کہ ان کی عقل خبط ہوگئی ہے اور آنکھوں دیکھے یہ موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں بتلایا گیا کہ ان مجرموں پر اللہ تعالیٰ کا یہ عذاب کوئی انوکھی چیز نہیں بلکہ عادة اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے ان کو عقل و فہم دیتے ہیں۔ گرد و پیش میں ان کے لئے بیشمار ایسی چیزیں موجود ہوتی ہیں جن میں غور و فکر کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت و عظمت کو پہچانیں اور عاجز مخلوق کو اس کا شریک نہ بنائیں پھر مزید تنبیہ کے لئے اپنی کتابیں اور رسول بھیجتے ہیں۔ اللہ کے رسول ان کے افہام و تفہیم میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ کے مظاہر بھی بشکل معجزات دکھلاتے ہیں۔ جب کوئی فرد یا قوم ان سب چیزوں سے بالکل آنکھیں بند کرلے اور خدائی…
Read the full tafseer →كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔
‘ اٰل کا مفہوم ’ اٰل پر دوسری جگہ ہم تفصیل سے بحث کر کے بتا چکے ہیں کہ یہ صرف اولاد کے معنی میں نہیں آتا بلکہ اس کا اطلاق قوم اور اتباع سب پر ہوتا ہے۔
اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ قریش کو یہ افتا جو پیش آئی ہے یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جیسا کہ قوم فرعون اور اس سے پہلے کی قوموں کو پیش آیا کہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری، اس کی نشانیوں کی ناقدری اور اس کی آیات کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑا اس لیے کہ خدا…
Read the full tafseer →52۔ 1 دَأبً کے معنی ہیں عادت۔ کاف تشبیہ کے لئے ہے۔ یعنی ان مشرکین کی عادت یا حال، اللہ کے پیغمبروں کے جھٹلانے میں، اسی طرح ہے۔ جس طرح فرعون اور اس سے قبل دیگر منکرین کی عادت یا حال تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
35: جب مسلمانوں نے بےسروسامانی کی حالت میں اتنے بڑے لشکر سے ٹکر لے لی تو منافقین نے کہا تھا کہ یہ اپنے دین کے گھمنڈ میں بڑا دھوکہ کھا رہے ہیں، ان میں کفار مکہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے
Read the full tafseer →بدر کے حالات پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد اب سیاق کلام ایک قاعدہ کلیہ کے بیان کی طرف منتقل ہوجاتا ہے یہ واقعہ اور یہ منظر اسی کلیہ کا ایک جزئیہ ہے۔ یہ کہ اہل کفر کو نہایت ہی توہین آمیز انداز میں گرفت میں لینا ایک جاری وساری سنت ہے اور اس میں کوئی تبدیلی کبھی بھی نہیں ہوتی۔ یہ سلوک اس وقت سے جاری ہے جب سے اللہ نے حق و باطل کی کشمکش کو اس جہاں میں چلایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں ہے کہ لوگوں کو سمندر کی لہروں کے حوالے کردے یا ان کو اتفاقات زمانہ کے سپرد کردے اور وہ کسی اصول اور ضابطے کے پابند نہ ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو اپنے ضابطہ قضا و قدر کا پابند کیا ہے۔ مشرکین کو یوم…
Read the full tafseer →4 یعنی قدیم سے یہ ہی دستور رہا ہے کہ جب لوگ آیات اللہ کی تکذیب و انکار یا انبیاء سے جنگ کرنے پر مصر ہوئے تو اللہ نے ان کو کسی نہ کسی عذاب میں پکڑ لیا۔
Read the full tafseer →آیت 52 کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا والَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط۔
آل فرعون سے پہلے قوم شعیب علیہ السلام تھی ‘ قوم شعیب علیہ السلام سے پہلے قوم لوط علیہ السلام ‘ ان سے پہلے قوم ثمود ‘ ان سے پہلے قوم عاد اور ان سے پہلے قوم نوح علیہ السلام۔ ان ساری قوموں کے انجام کے بارے میں ہم سورة الاعراف میں پڑھ چکے ہیں۔
کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ یقیناً اللہ قوی ہے اور سزا دینے میں سخت ہے۔
Read the full tafseer →56 یعنی آل فرعون اور قوم عاد، ثمود اور نوح وغیرہ میں اور ان مشرکین مکہ میں کوئی فرق نہیں۔ انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور نافرمانی اور سرکشی پر اتر آئے تھے اور یہ لوگ بھی وہی کچھ کر رہے ہیں۔ لہذا جیسے انہیں اپنے گناہوں کی پاداش میں عذاب سے دو چار ہونا پڑا تھا۔ اسی طرح انہیں بھی عذاب بدر سے دو چار ہونا پڑا اور آگے ہونا پڑے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی سزا دینے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →81 ۔ (جس کی گرفت سے ان لوگوں کو کوئی بھی مادی قوت وتدبیر نہ بچا سکی) خدائے اسلام جس طرح ظالم و جابر نہیں اسی طرح مشرکوں کے بعض دیوتاؤں کی طرح عضو معطل اور بےدست وپا بھی نہیں، کہ سب کچھ دیکھے اور محض دیکھتا رہ جائے اس کی گرفت بھی اس کے مرتبہ عظمت و حرمت کے لحاظ سے شدید وبے پناہ ہوتی ہے۔ (آیت) ” کداب ال فرعون “۔ یہ تشبیہ کفر وعناد مسلسل پر معذب ہونے میں ہے۔ (آیت) ” الذین من قبلھم “۔ ظاہر ہے کہ وہ کافر و مشرک قومیں مراد ہیں جو فرعون سے بھی پہلے تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
آیت نمبر 49 تا 58
ترجمہ : اور جبکہ منافقین اور وہ لوگ کہ جن کے قلوب میں ضعفِ اعتقاد کا روگ لگا ہوا تھا کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کو تو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے اس لئے کہ اپنی قلب تعداد کے باوجود ایک بڑی جماعت کے ساتھ لڑنے کے لئے اس خام خیالی کی وجہ سے کہ دین سے ان کی مدد کی جائے گی نکل پڑے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ غالب ہوگا یقینا اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے کاش اے محمد تم اس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں (یتوفیٰ ) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، ان کے منہ پر اور ان کے کو…
Read the full tafseer →کدأب ال فرعون والذین من قبلھم کفروا بایت اللہ فاخذھم اللہ بذنوبھم اللہ قوی شدید العقاب۔ ان کی حالت ایسی ہے جیسی فرعون والوں کی اور ان سے پہلے کے (کافر) لوگوں کی حالت تھی کہ انہوں نے آیات الٰہیہ کا انکار کیا ‘ سو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا ‘ سخت عذاب دینے والا ہے۔
کَدَأْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَمحذوف مبتداء کی خبر ہے ‘ یعنی کافروں کا عمل اور طریقہ جس کے یہ عادی اور پابند ہیں ‘ آل فرعون کے عمل و طریقہ کی طرح ہے۔ اَلَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْسے مراد ہے قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود اور دوسری گذشتہ کافر اقوام۔ کَفَرُوْا بَایٰتِ اللّٰہِیہ عمل و طریقہ کی تشریح…
Read the full tafseer →(52) اور ان کی حالت ایسی ہے جیسی فرعون کی جماعت کی اور ان سے پہلوں کی جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی یا یہ کہ جیسا فرعون اور اس کی قوم اور ان سے پہلے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور اس کے رسولوں کا انکار کیا، اسی طرح مکہ کے کافروں نے بھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو جھٹلایا اور ان کے جھٹلانے پر اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑ لیا کیوں کہ جب وہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ سخت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یہاں مبتدا محذوف ہے ”دَأْبُھُمْ کَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ۔۔“ یعنی ان کا حال اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور اس کے نتیجے میں عذاب میں مبتلا ہونے میں آل فرعون اور ان سے پہلے کفار کی طرح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
( آیت نمبر 52) ( آیت نمبر 53)
یہ علت بیان ہو رہی ہے یعنی یہ سزا اس لیے ہے کہ انہوں نے تبدیل کردیا اور بدل ڈالا اور قریش پر اللہ تعالیٰ کا انعام شادابی، خوشحالی اور امن و عافیت کی صورت میں تھا، ( جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے) اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویبحطف الناس من حولھم الایہ ( العنکبوت :67) ” کیا انہوں نے ( غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے بنا دیا ہے حرم کو امن والا حالانکہ اچک لیا جاتا ہے لوگوں کو ان کے آس پاس سے “
سدی (رح) نے کہا ہے : ان پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام حضور نبی مکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرای تھی تو انہوں نے آپ کا انکار کیا اور کفر کا ارتکاب کیا، پس آپ ﷺ مدینہ طیبہ منتقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ “ سے مراد مشرکین ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ دو نشانیاں ہیں جس کے ذریعہ کافر کو اپنی موت کے وقت (دکھائی جاتی ہیں) یعنی (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ یضربون وجوہہم وادبارھم “۔
3:۔ سعید بن منصور ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وادبارہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ان کے مشابہ لوگ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کریم ہیں کنایہ پہلی فرماتے ہیں
4:۔ ابن ابی حاتم اور…
Read the full tafseer →كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ [ فرعون کے پیروکاروں کی عادت کی طرح ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کی طرح جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے تھے ] كَفَرُوْا [ انھوں نے انکار کیا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں کا ] فَاَخَذَهُمُ [ تو پکڑ ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] بِذُنُوْبِهِمْ ۭ [ ان کے گناہوں کے سبب سے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] قَوِيٌّ [ قوت والا ہے ] شَدِيْدُ الْعِقَابِ [ پکڑنے کا سخت ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
اس کے بعد فرمایا (کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ) ان مجرموں پر جو اللہ کی طرف سے عذاب آیا یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے اپنی آیات بھیجتا ہے۔ یہ آیات آفاقیہ بھی ہوتی ہیں اور آیات انفسیہ بھی ہوتی ہیں اور آیات صحفیہ بھی جو اللہ کے کتابوں اور صحیفوں میں موجود ہوتی ہیں۔ بندے اگر غور و فکر سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کو پہچانیں اور اس کے نبیوں اور کتابوں پر ایمان لائیں اور احکام الٰہیہ کو بجا لائیں تو ایمان قبول کرنے کی طرف ذہن چلے، مجرمین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ اللہ کی آیات کے منکر ہوئے اس کے نبیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
بیان ذلت کفار در عالم برزخ
قال اللہ تعالیٰ ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل کانوا ظلمین
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی دنیوی ذلت اور مغلوبیت اور رسوائی کا بیان تھا جو ان کی پہلی بار اپنی زندگی میں پیش آئی۔ اب ان آیات میں کفار کی برزخی ذلت اور رسوائی کا بیان ہے کہ موت کے وقت ان کی کیا حالت ہوتی ہے اور کس ذلت آمیز طریقہ سے ان کی روح قبض کی جاتی ہے اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں ان کو کیا عذاب دیا جاتا ہے اور اس وقت ان پر تزئین شیطانی کی ساری قلعی کھلی اور سمجھے کہ ہم دھوکہ میں مبتلا تھے خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ ہم نے خود اپنے آپ کو تباہ وبرباد کیا اور آل فرعون کی…
Read the full tafseer →54: تخویف دنیوی ہے اور یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے “ اي دابھم کداب اٰل فرعون ” یعنی ان مقتولین بدر کا حال قوم فرعون اور اس سے پہلے کی سرکش قوموں مثلا قوم نوح قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ کی طرح ہے۔ “ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ” یہ ان کے حال کی تفسیر ہے۔ انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اسی طرح مشرکین قریش کو بھی جنگ بدر میں ان کے کفر وعناد ہی کی سزا دی گئی۔ “ عادة ھؤلاء الکفار فی کفرھم کعادة کفار اٰل فرعون فی کفرھم فجوزي ھؤلاء بالقتل والاسر یوم بدر کما جو زي ال فرعون بالاغراق ”(خازن ج 3 ص 35) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
مدینے کے منافق :
گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کے اصول بتلائے گئے تھے ، پھر ان کی سازشوں اور نافرمانیوں اور ان کو دی جانے والی سزا کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کی ذلت و خواری ہوئی اور آخرت میں وہ دائمی سزا کے مستحق ہوں گے اب اسی ضمن میں منافقوں کے کردار کا ذکر بھی ہو رہا ہے ہجرت کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پر تین قسم کے لوگ تھے ایک قسم تو وہ صحابہ کرام تھے جو آپ پر ایمان لا کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے دوسری قسم کے لوگ وہ تھے جو غیر جانبدار تھے ، وہ نہ مخالف کرتے تھے اور نہ موافقت البتہ تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو ظاہر میں تو ایمان لے آئے مگر ان کے دل کفر پر اڑے…
Read the full tafseer →كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ 0 ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ 0 ۭ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللہِ فَاَخَذَہُمُ اللہُ بِذُنُوْبِہِمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ 52
دأب
الدَّأْب : إدامة السّير، دَأَبَ في السّير دَأْباً. قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ
[إبراهيم/ 33] ، والدّأب : العادة المستمرّة دائما علی حالة، قال تعالی: كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ، أي : کعادتهم التي يستمرّون عليها .
( د ء ب ) الداب
کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ داب السیر دابا ۔ وہ مسلسل چلا ۔ قرآن میں ہے وَسَخّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
ترکیب : اذیقول ممکن ہے کہ معمول اذکر ہو یا زین کا ظرف ہو۔ الذین کفروا مفعول ہے یتوفی کا الملائکۃ فاعل ذوالحال یضربون حال وذوقوا ای یقولون معطوف ہوگا یضربون پر یہ بھی حال ہو کر ملائکہ کا مقولہ ہوگا اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو یعنی بعد موت کے ہم ان سے کہیں گے۔
تفسیر : چونکہ تزیین شیطانی کا ذکر آیا تھا کہ شیطان نے مکہ کے کافروں کو یوں گمراہ کر رکھا تھا۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ تزیین کچھ انہیں میں منحصر نہیں بلکہ مدینہ کے منافق کہ جن کے دل میں مرض شک و نفاق ہے بدر کے واقعہ کی نسبت مسلمانوں کو یہ کہتے تھے کہ ان کو ان کے دین نے مغرور کردیا ہے۔ محمد ﷺ کے وعدوں پر تین سو تیرہ ٹوٹے پھوٹے مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لاوَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْط کَفَرُوْابِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْط اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ لاوَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ط کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ فَاَھْلَکْنٰـھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ج وَ کُلٌّ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الانفال : 52 تا 54)
(ان کا حال وہی ہے) جیسے حال تھا قوم فرعون اور ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین مکہ کا انجام :
جس طرح فرعون اور اس کے ساتھی تکبر اور غرور کی وجہ سے دنیا میں ذلیل اور آخرت میں اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوئے اسی طرح مشرکین مکہ دنیا میں خوار ہوئے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے سورة مزمل میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح کا رسول فرعون کے پاس بھیجا تھا۔ اس اعتبار سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی قوم کے انکار اور کردار میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ اسی بنا پر بدر کے واقعات، اہل مکہ اور منافقین کا کردار اور انجام بیان کرنے کے دوران…
Read the full tafseer →ان کا حال آل فرعون جیسا ہے :
آیت 52: کَدَاْبِ ٰالِ فِرْعَوْنَ (ان کی حالت آل فرعون جیسی ہے) کاف محل رفع میں ہے یعنی دأب ہٰولاء کداب ٰال فرعون۔ دابہم انکا وہ عمل اور عادت جس پر مدا ومت کرنے والے تھے۔ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (اور جیسے ان سے پہلے لوگوں کی حالت تھی) نمبر 1۔ قریش سے پہلے نمبر 2۔ آل فرعون سے پہلے۔ کَفَرُوْا (انہوں نے انکار کیا) یہ داب آل فرعون کی تفسیر ہے۔ بِٰایٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَ ھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اللہ کی آیات کا پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑ لیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قدرت والے سخت سزا دینے والے ہیں) مطلب یہ…
Read the full tafseer →52(کداب ال فرعون) مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی کفر کی عادت آل فرعون کی عادت کی طرح ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آل فرعون کو یقین ہوگیا تھا کہ موسیٰ علیہ اسللام اللہ کے نبی ہیں پھر بھی انہوں نے ان کی تکذیب کی اسی طرح یہ لوگ ہیں کہ محمد ﷺ ان کے پاس سچ لے کر آئے پھر انہوں نے تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی ویسے سزا بھیجی جیسے آل فرعون پر بھیجی تھی۔ (والذین من قبلھم کفروا بایت اللہ فاخذھم اللہ بذتوبھم ان اللہ قوی شدید العقاب)
Read the full tafseer →52۔ اللہ پاک نے کفار بدر کے عذاب کے ذکر فرمانے کے بعد مشرکوں کو پہلی امتوں کا عذاب یاد دلا کر فرمایا کہ ان مشرکین مکہ کو جو ہم نے ان کی گمراہی اللہ کے آیتوں اور اس کے رسول کے جھٹلانے کے سب سے بدر کی لڑائی میں ہلاک کردیا یہ کوئی نئی بات نہ تھی بلکہ ہمیشہ سے یہی عادت الٰہی ہے کہ جو قومیں ان سے پہلے گذریں جو کفر کرتی گئیں اور انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا پھر فورا اس خطا پر اللہ نے انہیں پکڑلیا اللہ پاک بہت یہی قوی ہے اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا ہے اور اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے اس سے کوئی بھاگ بھی نہیں سکتا ہے معتبر سند سے مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
آیت 52
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کررہے ہوں گے، ان کو سکت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے۔ (یضربون وجوھھم و ادبار ھم) ” مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے “ اور ان سے کہتے ہیں ” اپنی جان نکالو “۔ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی، کیونکہ انہیں علم ہے کہ انہیں کس درد ناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وذوقوا عذاب الحریق) ” اور عذاب آتش چکھو “۔ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔ یہ عذاب تمہیں تمہارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
جنگ میں اطاعت خدا اور رسول
قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…
Read the full tafseer →112 کفر کا نتیجہ بہرحال بہت برا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑا ان کے گناہوں کی پاداش میں۔ یعنی ان کے کفر و شرک اور تکذیب و انکار کے جرم میں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دور حاضر کے ان کافروں اور منکروں کا حال بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ فرعون والوں اور ان لوگوں کا تھا جو ان سے بھی پہلے گزر چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا۔ تو آخر کار اللہ نے ان کو پکڑا انکے گناہوں کی پاداش میں۔ سو جو حال ان کا تھا وہی ان کا ہے۔ اور اس کے جس وبال و نکال اور انجام و مآل سے ان کو دوچار ہونا پڑا وہی ان کے لئے بھی مقرر ہے۔ کہ جزا جنس عمل سے ہوتی ہے۔ سو جب جرم میں یہ دونوں فریق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
موت کے وقت کفار کی حالت
تشریح : یہاں کفار کے اعمال باطل کے وجہ سے ان کے انجام کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ میدان جنگ، یعنی غزوہ بدر میں کفار کی تکلیف دہ موت کا ذکر اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ فرشتے کس قدر تکلیف کے ساتھ کفار کی جان نکال رہے تھے اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہ تو صرف دنیا کی ذلت و خواری اور ہلاکت تم دیکھ رہے ہو۔ اس عذاب کا تمہیں علم ہی نہیں جو موت کے بعد شدید آگ کا عذاب تمہیں دیا جائے گا اور یہ سب کچھ تمہیں اپنے ہی کیے ہوئے کاموں کے بدلہ میں ملے گا۔ ویسے اس کا حکم عام بھی ہے کہ کفار کی موت کیسے واقع ہوتی ہے کیونکہ اللہ ارحم الراحمین ہے وہ کبھی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
آیات 49 تا 58
اسرار و معارف
بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔
دل کامرض
گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 3 یعنی اعتقاد اور نیت جب تک بہ بد لے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ ( مو ضح) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی عطا کردہ نعمت سے بایں صوت محروم کرتا ہے جب وہ اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق کو بد ل کر اپنے آپ کو اس نعمت کا قطع غیر مستحق ثابت کردیتی ہے۔ مثلا ایمان کی بجائے کفر شکر کی بجائے ناشکری اور نیکی کی بجائے گناہ کرنے لگتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی عطا کردہ نعمت واپس لے لیتا ہے اور اسے مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ فرعون کی قوم اور اسی طرح قریش کو اللہ تعالیٰ نے بڑی شان و شوکت اور خو شحالی سے نوا زا تھا لیکن ان سے اپنی نعمتیں چھینن لیں۔ اس زمانے میں…
Read the full tafseer →(8:52) کداب۔ ک حرف تشبیہ داب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں جیسے داب فی السیر۔ وہ مسلسل چلا۔ اور قرآن حکیم میں ہے : وسخر الشمس والقمر دائبین (14:33) اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا رکھا ہے کہ دونوں دن رات ایک دستور پر چل رہے ہیں۔
داب۔ عادت مستمرہ پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ آیۃ ہذا ۔ ونیز آیہ (3:11) یعنی آل فرعون کی سی عادت جس پر وہ ہمیشہ چلتے رہے ہیں۔ کذاب ال فرعون۔ ای داب ھؤلاء مثل داب آل فرعون۔ ان کی عادت مستمرہ بھی وہی ہے جو آل عمران کی تھی۔ اور وہ عادت مستمرہ کیا تھی۔ کفروا بایت اللہ۔ اللہ تعالٰٰ کی آیات کا انکار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
آیات : 50 تا 54
لغات القرآن۔
یتوفی۔ موت دے گا۔ یضربون۔ ماریں گے۔ وجوہ۔ (وجہ) ۔ چہرے۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ ظلام۔ بہت زیادہ ظلم کرنے والا۔ العبید۔ (عبد) ۔ بندے۔ کداب۔ جیسا کہ دستور تھا۔ جیسا کہ طریقہ تھا ۔ ال اولاد۔ اخذ۔ اس نے پکڑ لیا۔ ذنوب۔ (ذنب) ۔ گناہ۔ قوی۔ مضبوط۔ طاقتور۔ لم یک۔ (لم یکن) نہیں ہے۔ مغیر۔ تبدیل کرنے والا۔ انعمھا۔ اس نے انعام کیا۔ حتی یغیروا۔ جب تک وہ بدل نہ ڈالیں۔ ما بانفسھم۔ اپنے دلوں کی کیفیت۔ حالت۔ اھلکنا۔ ہم نے ہلاک کردیا۔ اغرقنا۔ ہم نے غرق کردیا۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے وہ سارا عالم ہم بندوں کی نظروں سے چھپا لیا ہے جو نزع، قبر اور برزخ میں ہوتا ہے ورنہ اگر واقعی…
Read the full tafseer →مشرکین کو ہدایت
اللہ تعالیٰ نے کفار بدر کے عذاب کا ذکر فرمانے کے بعد مشرکوں کو پہلی امتوں کا عذاب یاد دلاکر فرمایا کہ ان مشرکین مکہ کو جو ہم نے ان کی گمراہی، اللہ کی آیتوں اور اللہ کے رسول کے جھٹلانے کے سبب سے بدع کی لڑائی میں ہلاک کردیا، یہ کوئی نئی بات نہ تھی بلکہ ہمیشہ یہی عادت الہی ہے کہ جو قومیں ان سے پہلے ہو گزریں جو کفر کرتی گئیں، اور انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا پھر فورا اس خطا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑلیا اور اللہ تعالیٰ بہت ہی قوی ہے اور اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا ہے، اور اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے اس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →(ف 2) کدابھم : خبر ہے ، اور مبتداء محذوف ہے یعنی ان کی حالت بالکل آل فرعون کی سی ہے ، کیا ایمان ویقین کی آیات کو ٹھکراتے ہیں ۔
Read the full tafseer →52 ان کی حالت کفر پر سزا ملنے میں ایسی ہے جیسے فرعون والوں کو اور ان سے پہلے لوگوں کی حالت کہ انہوں نے آیات الٰہی سے انکار کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور ان کی گرفت فرمائی یقیناً اللہ تعالیٰ بڑی قوت کا مالک سخت سزا دینے والا ہے۔ یعنی آل فرعون اور ان سے پہلے کفار کا جو حال ہوا وہی ان کا ہوا کیونکہ گناہوں میں یہ تمام مشترک تھے عذاب میں بھی مشترک ہوئے اور جو ان کا حال ہوا وہی ان کا حال کیا گیا۔
Read the full tafseer →ف 6۔ ان کے مقابلہ میں کوئی ایسی قوت نہیں رکھتا کہ ان کے عذاب کو ہٹاسکے۔
Read the full tafseer →پہلوں کو پیش آنے والا ان کے اور تم کو پیش آنے والا تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوگا :
71: پچھلی آیت کی مزید وضاحت فرمادی کہ دیکھو جس طرح قوم فرعون اور متعدد دوسری قوموں پر ان کی مسلسل نافرمانیوں اور پیہم ایذا رسانیوں کے باعث عذاب آیا اس طرح ان کا بھی انجام ہونے والا ہے جو اس وقت نافرمانیاں اور ایذا رسانیاں کر رہے ہیں۔ وہ ان کے اعمال کا نتہجا تھا اور یہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوگا۔ ہاں ! یہ حقیقت ہے کہ اللہ پیچھا کرنے میں بہت ہی سخت ہے اور کوئی اس کی گرفت سے بھاگ کر بچ نہیں سکتا۔ غور کرو کہ اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا اور پھر ان کو عقل و فہم عطا کیا تاکہ وہ غور و فکر کرسکیں پھر ان کے گرد و پیش میں ان…
Read the full tafseer →The third verse (52) tells us that the punishment of Allah visiting these criminals is not something totally unprecedented. In fact, it is nothing but the customary practice of Allah that He would give reason and understanding to His servants so that they could act as guided. Then, all around them, they have countless things they can think about and go on to know Allah Ta` ala and recognize His great power, and then do not stoop to the level of taking the weak ones from among His creation as His partners, associates or equals and, after that, He sends His Books and Messengers for additional…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
39. Observing that a small band of resourceless Muslims was getting ready to confront the powerful Quraysh, the hypocrites as well as those who were heedless of God and cared only for worldly interests, often tended to say to one another that the religious passion of the Muslims had driven them to utter fanaticism and zealotry. They were sure that the Muslims would face a total rout on the battlefield. They were puzzled by how the Prophet (peace be on him), in whom the Muslims believed, had cast such a spell over them that they were altogether incapable of rational calculation and were hence…
Read the full tafseer →