Al-Anfaal 8:51

Al-Anfaal · from ayah 51

8:51

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ۟ۙذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ لَـيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّـلۡعَبِيۡدِۙ

یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا بندوں پر ظلم نہیں کرتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is for what your hands have put forth [of evil] and because Allah is not ever unjust to His servants."

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:51

یہ وہ جزا ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا، ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے "

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا بندوں پر ظلم نہیں کرتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ بسبب ان کاموں کے جو تمہارے ہاتھوں نے پہلے ہی بھیج رکھا ہے بیشک اللہ اپنے بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب کچھ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیج رکھے تھے، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ (عذاب) ان (اعمالِ بد) کے بدلہ میں ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے اور اللہ ہرگز بندوں پر ظلم فرمانے والا نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس کے بدلے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اس لیے کہ یقینا اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ تمہارے ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم نے اپنے آگے بھیجے ہیں ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کرتوت ہے اور اللہ بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ سب بدلہ ہے اس کا جو تم لوگوں نے آگے بھیجا خود اپنے ہاتھوں سے، ورنہ اللہ ایسا نہیں کہ (ذرہ برابر کوئی) ظلم کرے اپنے بندوں پر،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ (عذاب) اس کے پاداش میں ہے جو کچھ تمہارے ہاتھوں نے سمیٹا ہے اور اللہ ہرگز ظالم نہیں ہے بندوں کے حق میں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ وہ کچھ ہے جو تمہارے اپنے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور اللہ تو ہرگز اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ ان اعمال کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This is your punishment for what your hands wrought. Allah is not unjust in the least to His creatures.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That is due to what your hands sent ahead, and that Allah is not cruel to (His) servants.

— Muhammad Taqi Usmani

That is due to what your hands sent ahead, and that Allah is not cruel to (His) servants.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"This is because of that which your hands forwarded. And verily, Allah is not unjust to His servants."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This is for that which your own hands have sent before (to the Judgment), and (know) that Allah is not a tyrant to His slaves.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is for what your hands have put forth [of evil] and because Allah is not ever unjust to His servants."

— Saheeh International

This is the result of their deeds. God is not unjust to His servants."

— Muhammad Sarwar

This is for what your own hands have sent on before, and because Allah is not in the least unjust to the servants;

— Muhammad Habib Shakir

This, because of that which your hands have sent forth, and verily Allah is never unjust unto His creatures.

— Abdul Majid Daryabadi

"Because of (the deeds) which your (own) hands sent forth; for Allah is never unjust to His servants:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–51

کفار کے لیے سکرات موت کا وقت بڑا شدید ہے۔ کاش کہ تو اے پیغمبر دیکھتا کے فرشتے کس بری طرح کافروں کی روح قبض کرتے ہیں وہ اس وقت ان کے چہروں اور کمروں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں آگ کا عذاب اپنی بداعمالیوں کے بدلے چکھو۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھی بدر کے دن کا ہے کہ سامنے سے ان کافروں کے چہروں پر تلواریں پڑتی تھیں اور جب بھاگتے تھے تو پیٹھ پر وار پڑتے تھے فرشتے انکا خوب بھرتہ بنا رہے تھے۔ ایک صحابی نے حضور ﷺ سے کہا میں نے ابو جہل کی پیٹھ پر کانٹوں کے نشان دیکھے ہیں آپ نے فرمایا ہاں یہ فرشتوں کی مار کے نشان ہیں۔ حق یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے ساتھ مخصوص تو نہیں الفاظ عام ہیں ہر کافر کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–52

سورة الْاَنْفَال 39 یعنی مدینہ کے منافقین اور وہ سب لوگ جو دنیا پر ستی اور خدا سے غفلت کے مرض میں گرفتار تھے، یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر بےسروسامان جماعت قریش جیسی زبردست طاقت سے ٹکرا نے کے لیے جارہی ہے، آپس میں کہتے تھے کہ یہ لوگ اپنے دینی جوش میں دیوانے ہوگئے ہیں، اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی ہے، مگر اس نبی نے کچھ ایسا افسوں ان پر پھونک رکھا ہے کہ ان کی عقل خبط ہوگئی ہے اور آنکھوں دیکھے یہ موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں کفار کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ یہ عذاب دنیا و آخرت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے چونکہ عام کاروبار ہاتھوں ہی سے وجود میں آتے ہیں اس لئے ہاتھوں کا ذکر کردیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں کہ بلاوجہ کسی کو عذاب میں مبتلا کردیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ہر ایک کے آگے اس کے اپنے اعمال پیش ہوں گے : ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ۔ یعنی ان کے سامنے یہ انہی کے ہاتھوں کی کرتوت رکھی جائے گی۔ جو بِس بھری فصل انہوں نے دنیا میں بوئی، سینچی اور پروان چڑھائی اسی کا حاصل ان کے سامنے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کوئی ظلم و ناانصافی نہیں کرے گا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ رتی بھر ظلم کا بھی روادار نہیں۔ اس کا قانون اور عدل بےلاگ ہے۔ ہر شخص جو کرے گا وہی بھرے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51۔ 1 یہ ضرب و عذاب تمہارے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں، بلکہ وہ تو عادل ہے جو ہر قسم کے ظلم و جور سے پاک ہے، حدیث قدسی میں بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو ! میں نے اپنے نفس پر ظلم حرام کیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام کیا ہے پس تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔ اے میرے بندو ! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جو میں نے شمار کر کے رکھے ہوئے ہیں، پس جو اپنے اعمال میں بھلائی پائے۔ اس پر اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے برعکس پائے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے (صحیح مسلم)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–52

35: جب مسلمانوں نے بےسروسامانی کی حالت میں اتنے بڑے لشکر سے ٹکر لے لی تو منافقین نے کہا تھا کہ یہ اپنے دین کے گھمنڈ میں بڑا دھوکہ کھا رہے ہیں، ان میں کفار مکہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 50–51

اب اللہ اس معرکے میں ربانی قوتوں کے عمل و دخل کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ اس منظر میں فرشتے کام کر رہے ہیں۔ چشم بصیرت سے اس منظر کو دیکھو۔ فرشتے اس معرکے میں شریک ہیں۔ اور کفار کی پکڑ دھکڑ انہوں نے شروع کردی ہے۔ ان کی روحوں کو نہایت ہی حقارت سے قبض کر رہے ہیں اور ان کو سخت سے سخت اذیت دے رہے ہیں۔ یہ محض اس لیے کہ یہ لوگ نہایت ہی تکبر سے اتراتے ہوئے شان و شوکت سے آ رہے تھے۔ اس میں ان کو بتایا جاتا ہے کہ اس سخت اور مشکل وقت میں تمہارے ساتھ یہ سلوک تمہارے اعمال بد کی وجہ سے ہورہا ہے اور اس میں تم پر کوئی بھی ظلم نہیں ہے۔ پھر اس منظر کشی کے بعد بتایا جاتا ہے کہ جھٹلانے کی وجہ سے کفار کو جو سزا دی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی یہ سب تمہاری کرتوت کی سزا ہے ورنہ خدا کے یہاں ظلم کی کوئی صورت ہی نہیں۔ اگر معاذ اللہ ادھر سے رتی برابر ظلم کا امکان ہو تو پھر وہ اپنی عظمت شان کے لحاظ سے ظالم نہیں ظلام ہی ٹھہرے کیونکہ کامل کی ہر صفت کامل ہی ہونی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 49–51

آیت 49 اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ ابھی تک ایک طرف کے حالات کا نقشہ پیش کیا جا رہا تھا۔ یعنی لشکر قریش کی مکہ سے روانگی ‘ اس لشکر کی کیفیت ‘ ان کے سرداروں کے متکبرانہ خیالات ‘ شیطان کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا اور پھر عین وقت پر بھاگ کھڑے ہونا۔ اب اس آیت میں مدینہ کے حالات پر تبصرہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لشکر لے کر نکلے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین کیا کیا باتیں بنا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے : غَرَّ ہٰٓؤُلَآءِ دِیْنُہُمْ ط یعنی ان لوگوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے جو قریش کے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنے چل پڑے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی ان کو سفھَاء احمق سمجھتے تھے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 50–51

55 ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ اس آیت میں روئے سخن ان کافروں کی طرف ہے جو غزوہ بدر میں مارے گئے تھے جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اس کا حکم عام ہے۔ اور سب کافروں سے ایسا معاملہ پیش آسکتا ہے کہ ان کی موت کے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر چوٹیں بھی لگائیں اور جہنم کے عذاب کی نوید بھی سنائیں اور کہیں کہ یہ سزا تمہیں تمہارے ہی شامت اعمال سے مل رہی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں سزا دینے کا کوئی شوق نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

80 ۔ (جیسا کہ مشرک قوموں نے اپنے اپنے دیوتاؤں کے حق میں گمان کر رکھا ہے) (آیت) ” بما قدمت ایدیکم “۔ تصریح کردی ہے کہ عذاب جو کچھ بھی ہوگا کفر کے پاداش ہی میں ہوگا، خواہ مخواہ ہرگز نہ ہوگا، یہ تصریح مشرک قوموں کی ان خام خیالیوں کی تردی میں ضروری تھی جو وہ اپنے معبودوں کے جبار وظلام ہونے کے متعلق قائم کئے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 49–52

آیت نمبر 49 تا 58 ترجمہ : اور جبکہ منافقین اور وہ لوگ کہ جن کے قلوب میں ضعفِ اعتقاد کا روگ لگا ہوا تھا کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کو تو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے اس لئے کہ اپنی قلب تعداد کے باوجود ایک بڑی جماعت کے ساتھ لڑنے کے لئے اس خام خیالی کی وجہ سے کہ دین سے ان کی مدد کی جائے گی نکل پڑے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ غالب ہوگا یقینا اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے کاش اے محمد تم اس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں (یتوفیٰ ) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، ان کے منہ پر اور ان کے کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک بما قدمت ایدیکم وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ یہ (عذاب) ان اعمال کی پاداش میں ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سے پہلے (یعنی دنیوی زندگی میں) سمیٹے تھے اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ بِمَا میں مَا سببیہ ہے۔ ما قدمت سے مراد ہے کفر اور گناہ۔ چونکہ عموماً کام ہاتھوں سے ہی کئے جاتے ہیں ‘ اسلئے اَیَدِیْسے بطور کنایہ ذات مراد ہوتی ہے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ کا عطف ما قدمت پر ہے۔ عذاب کا سبب اعمال ضرور ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی ہے کہ اللہ ظالم نہیں ورنہ بغیر گناہ کے بھی عذاب دیتا۔ آیت وَاَنَّ اللّٰہَ سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مجرم کو عذاب نہ دینے کا اختیار اللہ کو نہیں ہے کیونکہ مستحق…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 50–51

(50۔ 51) اے محمد اگر آپ وہ منظر دیکھتے جب فرشتے بدر کے دن ان کافروں کی جانوں کو قبض کرتے جارہے تھے اور ان کے چہروں اور پشتوں پر وہ مارتے جارہے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ یہ عذاب تمہارے اعمال شرکیہ کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ بغیر جرم کے کسی کو سزا نہیں دیتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ : یعنی یہ عذاب عین عدل ہے، کیونکہ اس نے تمہارے سمجھانے کے لیے اپنے رسول بھیجے، کتابیں نازل فرمائیں، مگر تم نے ایک نہ مانی۔ ”ظَلَّامٌ“ مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت ظلم کرنے والا، مگر یہاں اس پر نفی آئی ہے تو مبالغے کی نفی نہیں کہ معنی یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر بہت ظلم کرنے والا نہیں (گویا تھوڑا کرسکتا ہے) بلکہ یہاں نفی میں مبالغہ مراد ہوگا، یعنی اللہ تعالیٰ بندوں پر ذرہ برابر ظلم کرنے والا بھی نہیں۔ دیکھیے فوائد سورة آل عمران (182) ایک لمبی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندو ! میں نے ظلم اپنے اوپر حرام قرار دے رکھا ہے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( آیت نمبر 51) کہا گیا ہے : مراد وہ لوگ لیے ہیں جو باقی بچے اور بدر کے دن مارے نہ گئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کے بارے میں ہے جو بدر میں قتل کردیئے گئے۔ اور لوکا جواب محذوف ہے، اس کی تقدیر عبادت یہ ہے : لرایت امراعظیما ” اگر تو دیکھے جب جان نکالتے ہیں کافروں کی فرشتے ......... تو تو امر عظیم کو دیکھتا “۔ یضربون یہ حال کے محل میں ہے۔ وجوھم وادبارھم ” اس حال میں کہ وہ مارتے ہیں ان کے چہروں اور پشتوں پر ”۔ یعنی ان کی سرینوں پر، کنایۃ اسے اوبار کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ یہ حضرت مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر نے کہا ہے۔ حسن نے کہا ہے : ادبارھم سے مراد ان کی پشتیں ہیں اور کہا : بیشک کسی آدمی نے رسول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–54

1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ “ سے مراد مشرکین ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ دو نشانیاں ہیں جس کے ذریعہ کافر کو اپنی موت کے وقت (دکھائی جاتی ہیں) یعنی (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ یضربون وجوہہم وادبارھم “۔ 3:۔ سعید بن منصور ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وادبارہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ان کے مشابہ لوگ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کریم ہیں کنایہ پہلی فرماتے ہیں 4:۔ ابن ابی حاتم اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ذٰلِكَ [ یہ ] بِمَا [ بسبب اس کے ہے جو ] قَدَّمَتْ [ آگے بھیجا ] اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھوں نے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] بِظَلَّامٍ [ کچھ بھی ظلم کرنے والا ] لِّلْعَبِيْدِ [ بندوں پر ] ترکیب : (آیت ۔ 51) لیس بظلام کا ترجمہ سمجھنے کے لیے آیت نمبر ۔ 3: 182، نوٹ ۔ 3 کو دوبارہ دیکھ لیں ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ ) کہ یہ جو کچھ موت کے وقت اور موت کے بعدسزا ہے تمہارے اپنے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں کرتے رہے اور انہیں آگے بھیجتے رہے۔ (وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ) (اور بلاشبہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے) کیونکہ جو سزا اللہ کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے۔ وہ بندوں کے اعمال کا بدلہ ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–54

بیان ذلت کفار در عالم برزخ قال اللہ تعالیٰ ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل کانوا ظلمین (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی دنیوی ذلت اور مغلوبیت اور رسوائی کا بیان تھا جو ان کی پہلی بار اپنی زندگی میں پیش آئی۔ اب ان آیات میں کفار کی برزخی ذلت اور رسوائی کا بیان ہے کہ موت کے وقت ان کی کیا حالت ہوتی ہے اور کس ذلت آمیز طریقہ سے ان کی روح قبض کی جاتی ہے اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں ان کو کیا عذاب دیا جاتا ہے اور اس وقت ان پر تزئین شیطانی کی ساری قلعی کھلی اور سمجھے کہ ہم دھوکہ میں مبتلا تھے خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ ہم نے خود اپنے آپ کو تباہ وبرباد کیا اور آل فرعون کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 50–51

53: یہ تخویف واخروی ہے۔ “ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ” سے وہ کفار مراد ہیں جو بدر میں قتل ہوئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–54

مدینے کے منافق : گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کے اصول بتلائے گئے تھے ، پھر ان کی سازشوں اور نافرمانیوں اور ان کو دی جانے والی سزا کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کی ذلت و خواری ہوئی اور آخرت میں وہ دائمی سزا کے مستحق ہوں گے اب اسی ضمن میں منافقوں کے کردار کا ذکر بھی ہو رہا ہے ہجرت کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پر تین قسم کے لوگ تھے ایک قسم تو وہ صحابہ کرام تھے جو آپ پر ایمان لا کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے دوسری قسم کے لوگ وہ تھے جو غیر جانبدار تھے ، وہ نہ مخالف کرتے تھے اور نہ موافقت البتہ تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو ظاہر میں تو ایمان لے آئے مگر ان کے دل کفر پر اڑے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَاَنَّ اللہَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ۝ 51 ۙ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–54

ترکیب : اذیقول ممکن ہے کہ معمول اذکر ہو یا زین کا ظرف ہو۔ الذین کفروا مفعول ہے یتوفی کا الملائکۃ فاعل ذوالحال یضربون حال وذوقوا ای یقولون معطوف ہوگا یضربون پر یہ بھی حال ہو کر ملائکہ کا مقولہ ہوگا اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو یعنی بعد موت کے ہم ان سے کہیں گے۔ تفسیر : چونکہ تزیین شیطانی کا ذکر آیا تھا کہ شیطان نے مکہ کے کافروں کو یوں گمراہ کر رکھا تھا۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ تزیین کچھ انہیں میں منحصر نہیں بلکہ مدینہ کے منافق کہ جن کے دل میں مرض شک و نفاق ہے بدر کے واقعہ کی نسبت مسلمانوں کو یہ کہتے تھے کہ ان کو ان کے دین نے مغرور کردیا ہے۔ محمد ﷺ کے وعدوں پر تین سو تیرہ ٹوٹے پھوٹے مسلمان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–51

وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا لا الْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارََھُمْ ج وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ لا (الانفال : 50، 51 ) (اور اگر تم دیکھ پاتے جب روح قبض کرتے ہیں فرشتے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا ہے، مارتے ہیں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر (اور یہ کہتے ہیں) اب چکھو مزہ جلنے کے عذاب کا۔ یہ بدلہ ہے اسی کا جو تم نے آگے بھیجا اپنے ہاتھوں سے اور اللہ بندوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔ ) جواب شرط کے حذف کا فائدہ وَلَوْ تَرٰٓی میں ” لَوْ “ حرف شرط ہے۔ لیکن اس کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–51

فہم القرآن ربط کلام : منافق کا انجام اور موت کے وقت اس کی سزا۔ ” تَرٰی “ کا معنی ہے بصیرت یا جسمانی آنکھوں کے ساتھ کسی چیز کو دیکھنا۔ یہاں صاحب ایمان شخص کو توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر وہ بصیرت یا بصارت کے ساتھ منافقین کی موت کا وقت دیکھ سکے تو اسے معلوم ہو کہ ان کا انجام کتنا بد ترین ہوتا ہے۔ موت کے فرشتے ان کے چہروں اور کمروں پر تھپڑ مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب جہنم کا جلا دینے والا عذاب ہمیشہ کے لیے چکھتے رہو۔ اس آیت سے پہلے منافقوں کا ذکر ہو رہا تھا لیکن ان کا انجام بیان کرتے ہوئے منافق کی بجائے کافر کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ منافق بظاہر کلمہ گو اور مسلمانوں جیسے کام کرتا ہے لیکن اصلاً وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 51: ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ (یہ عذاب ان اعمال کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں کئے ہیں) یعنی کمایا اس آیت میں جبریہ فرقہ کی تردید ہے۔ نمبر 1۔ یہ کلام اللہ تعالیٰ کا ہے۔ نمبر 2۔ یہ ملائکہ کا قول ہے۔ نحو : ذٰلک مبتداء، بما قدمت اس کی خبر ہے وَاَنَّ اللّٰہَ (اور بیشک اللہ تعالیٰ ) اس کا معطوف ہے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ یعنی یہ عذاب دو وجہ سے ہے۔ نمبر 1۔ کفرو معاصی کی وجہ سے نمبر 2۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ذرہ بھر ظلم کرنے والے نہیں۔ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں) کیونکہ کفار کو سزا دینا عین عدل ہے۔ ظلاّم : نمبر 1: انواع ظلم کی نفی کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 51(ذلک) یہ مار جو تم کو پڑی ہے (بما قدمت ایدیکم) تو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہے (وان اللہ لیس بظلام للعبید)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–51

50۔ 51۔ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب مشرکین مسلمانوں کی طرف منہ کرتے تھے تو سامنے سے مسلمانوں کی تلوار پڑتی تھی اور جب پیٹھ پھیرتے تھے فرشتے پیچھے سے مارتے تھے بدر کی لڑائی میں جو مشرک مارے گئے یہ تو ان پر فرشتوں کی مار کے پڑنے کا حال ہے عام مشرکوں کا بھی یہی حال ہے کہ اللہ کے فرشتے جب ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو ان کو مارتے پیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب عذاب الٰہی کا مزہ چکھو چناچہ ایک جگہ ابوداؤد اور مسند امام احمد کے حوالہ سے برائ بن عازب ؓ کی ایک صحیح حدیث اس باب میں گذر چکی ہے بھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ یہ لوگ کرتے تھے یہ اسی کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–52

آیت 52 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کررہے ہوں گے، ان کو سکت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے۔ (یضربون وجوھھم و ادبار ھم) ” مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے “ اور ان سے کہتے ہیں ” اپنی جان نکالو “۔ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی، کیونکہ انہیں علم ہے کہ انہیں کس درد ناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وذوقوا عذاب الحریق) ” اور عذاب آتش چکھو “۔ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔ یہ عذاب تمہیں تمہارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–56

جنگ میں اطاعت خدا اور رسول قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

110 دوزخ انسان کے عمل و کردار کا طبعی نتیجہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخ کی آگ انسان کے خود اپنے ہاتھوں کی کمائی کا بدلہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان سے کہا جائے گا کہ یہ بدلہ ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا جو تم لوگوں نے آگے بھیجی تھی۔ پس اب تم اپنے سوا کسی کی بھی ملامت نہیں کرسکتے کہ یہ سب کچھ تمہارے اپنے ہی کئے کرائے کا نتیجہ اور پھل ہے۔ پس ملامت خود اپنی ہی کرو، جیسا کہ شیطان ان سے دوزخ میں کہے گا { فَلا تَلُوْمُوْنِیْ وَلُوْمُوْا اَنْفُسَکُمْ } الاٰیۃ (ابراہیم :) یعنی " تم لوگ مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنی ہی کو ملامت کرو " کہ اپنے اس انجام کے ذمہ دار تم خود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–55

موت کے وقت کفار کی حالت تشریح : یہاں کفار کے اعمال باطل کے وجہ سے ان کے انجام کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ میدان جنگ، یعنی غزوہ بدر میں کفار کی تکلیف دہ موت کا ذکر اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ فرشتے کس قدر تکلیف کے ساتھ کفار کی جان نکال رہے تھے اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہ تو صرف دنیا کی ذلت و خواری اور ہلاکت تم دیکھ رہے ہو۔ اس عذاب کا تمہیں علم ہی نہیں جو موت کے بعد شدید آگ کا عذاب تمہیں دیا جائے گا اور یہ سب کچھ تمہیں اپنے ہی کیے ہوئے کاموں کے بدلہ میں ملے گا۔ ویسے اس کا حکم عام بھی ہے کہ کفار کی موت کیسے واقع ہوتی ہے کیونکہ اللہ ارحم الراحمین ہے وہ کبھی بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 49–58

آیات 49 تا 58 اسرار و معارف بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔ دل کامرض گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی یہ عذاب عین عدل ہے کیونکہ اس نے تمہارے سمجھانے کے لیے اپنے رسول ( علیہ السلام) بھیجے کتابیں نازل فرمائیں مگر تم نے ایک نہ مانی یہی مضمون ایک حدیث میں بھی بیان ہوا ہے۔ (آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ میرے بندوں ! میں نے طلم اپنے اوپر حرام قرار دے لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام ٹھہر ایا ہے لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ میرے بندو ! یہ تمہارے اپنے اعمال ہیں جن کو میں شمار کرتا رہتا ہوں لہذا جو نعمت پائے اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور جو سزاپائے اسے اپنے آپ ہی کو ملامت کرنی چاہیے۔ ( صحیح مسلم بروایت ابو ذر ؓ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 50–51

(8:50) لو تری۔ اگر تو دیکھے۔ کاش تو دیکھتا یا دیکھ سکتا۔ یتوفی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ توفی (تفعل) مصدر وہ جان نکالتا ہے۔ یہاں الملئکۃ (جمع) کے لئے استعمال ہوا۔ وہ جان نکالتے ہیں۔ توفی۔ کے اصل معنی کسی چیز کو پورا لینا اور اس پر پورے طور پر قبضہ کرلینے کے ہیں۔ موت کے وقت بھی روح پورے طور پر قبض کرلی جاتی ہے۔ ذوقوا۔ ای ویقولون ذوقوقا۔ تم چکھو۔ ذوق سے امر ۔ جمع مذکر حاضر ۔ (باب نصر) ذو۔ تو چکھ۔ عذاب الحریق۔ جلا دینے والا عذاب۔ آگ کا عذاب۔ حرق سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–54

آیات : 50 تا 54 لغات القرآن۔ یتوفی۔ موت دے گا۔ یضربون۔ ماریں گے۔ وجوہ۔ (وجہ) ۔ چہرے۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ ظلام۔ بہت زیادہ ظلم کرنے والا۔ العبید۔ (عبد) ۔ بندے۔ کداب۔ جیسا کہ دستور تھا۔ جیسا کہ طریقہ تھا ۔ ال اولاد۔ اخذ۔ اس نے پکڑ لیا۔ ذنوب۔ (ذنب) ۔ گناہ۔ قوی۔ مضبوط۔ طاقتور۔ لم یک۔ (لم یکن) نہیں ہے۔ مغیر۔ تبدیل کرنے والا۔ انعمھا۔ اس نے انعام کیا۔ حتی یغیروا۔ جب تک وہ بدل نہ ڈالیں۔ ما بانفسھم۔ اپنے دلوں کی کیفیت۔ حالت۔ اھلکنا۔ ہم نے ہلاک کردیا۔ اغرقنا۔ ہم نے غرق کردیا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے وہ سارا عالم ہم بندوں کی نظروں سے چھپا لیا ہے جو نزع، قبر اور برزخ میں ہوتا ہے ورنہ اگر واقعی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 50–51

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں مشرکین مسلمانوں کی طرف (مونہہ) کرتے تھے تو سامنے سے مسلمانوں کی تلوار پڑتی تھی اور جب پیٹھ پھیرتے تھے تو فرشتے پیچھے سے مارتے تھے۔ بدر کی لڑائی میں جو مشرک مارے گئے یہ تو ان پر فرشتوں کی مار پڑنے کا حال ہے۔ عام مشرکوں کا بھی یہی حال ہے کہ اللہ کے فرشتے جن ان کی روحیں قبض کرنے آتے ہیں تو ان کو مارتے پیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب عذاب الہی کا مزہ چکھو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ یہ لوگ کرتے تھے یہ اسی کا عوض اور خمیازہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم ان پر نہیں کیا۔ کیونکہ اس کی عادت ظلم کی نہیں ہے۔ وہ ظلم سے بالکل پاک ہے حضور اکرم نور مجسم ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–52

[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–51

(ف 1) یعنی اگر ان منافقین کو یہ معلوم ہوجائے کو موت کے بعد ان کا کیا حشر ہونے والا ہے ، تو کبھی غداری کا ارتکاب نہ کریں اور آپ دیکھیں تو حیرت زدہ ہوجاویں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

51 اور یہ عذاب ان اعمال شرکیہ اور کفریہ کا بدلہ ہے اور ان اعمال کی وجہ سے ہے جن کو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ورنہ یہ امر واقعی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتا۔ یعنی جان قبض کرتے وقت جو مار پڑرہی ہے اور جہنم کے عذاب کی جو اطلاع دی جارہی ہے یہ ان اعمال بد کی پاداش ہے جو تم کرچکے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرمایا یہ مار جو ان کو پڑتی ہے انہیں کے لئے کا نتیجہ ہوتی ہے کوئی ان پر زیادتی نہیں کی جاتی : 70: اس آیت میں اس بات کی وضاحت فرمادی کہ یہ جو ان کو مار پڑے گی تو یہ انکے اپنے ہی کرتوتوں کا بدلہ ہوگی۔ ان کے ساتھ کسی زیادتی کے باعث ایسا نہیں ہوگا۔ چناچہ کفار کو مخاطب کر کے ان سے کہا گیا کہ ” یہ بدلہ ہے اس کو جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے “ چونکہ عام کاروبار انسان ہاتھو ہی سے کرتا ہے اور یہ محاورہ بھی ہے کہ ” ہاتھوں کا بیچا انسان کاٹتا ہے “ اس کے مطابق اس جگہ ہاتھوں کا ذکر کردیا جس کا مطلب یہی ہے کہ یہ تمہارے اپنے ہی کئے کا نتیجہ ہے اور مزید وضاحت کے لئے ارشاد فرمایا کہ بندہ کتنا ہی گناہ گار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Addressing the disbelievers in the second verse (51), it was said that the punishment of this world and that of the Hereafter was nothing but what they had earned with their own hands. Since things done usually take their shape through the work of hands, therefore, mention was made of hands. The sense is that the punishment coming to them was a direct outcome of their own deeds. And as for Allah Ta` ala, He was not the kind of authority who would bring injustice upon His servants and go about subjecting someone to punishment just for no reason.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–52

39. Observing that a small band of resourceless Muslims was getting ready to confront the powerful Quraysh, the hypocrites as well as those who were heedless of God and cared only for worldly interests, often tended to say to one another that the religious passion of the Muslims had driven them to utter fanaticism and zealotry. They were sure that the Muslims would face a total rout on the battlefield. They were puzzled by how the Prophet (peace be on him), in whom the Muslims believed, had cast such a spell over them that they were altogether incapable of rational calculation and were hence…

Read the full tafseer →