Explained with ayahs 50–51
کفار کے لیے سکرات موت کا وقت بڑا شدید ہے۔
کاش کہ تو اے پیغمبر دیکھتا کے فرشتے کس بری طرح کافروں کی روح قبض کرتے ہیں وہ اس وقت ان کے چہروں اور کمروں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں آگ کا عذاب اپنی بداعمالیوں کے بدلے چکھو۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھی بدر کے دن کا ہے کہ سامنے سے ان کافروں کے چہروں پر تلواریں پڑتی تھیں اور جب بھاگتے تھے تو پیٹھ پر وار پڑتے تھے فرشتے انکا خوب بھرتہ بنا رہے تھے۔ ایک صحابی نے حضور ﷺ سے کہا میں نے ابو جہل کی پیٹھ پر کانٹوں کے نشان دیکھے ہیں آپ نے فرمایا ہاں یہ فرشتوں کی مار کے نشان ہیں۔ حق یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے ساتھ مخصوص تو نہیں الفاظ عام ہیں ہر کافر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
سورة الْاَنْفَال 39
یعنی مدینہ کے منافقین اور وہ سب لوگ جو دنیا پر ستی اور خدا سے غفلت کے مرض میں گرفتار تھے، یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر بےسروسامان جماعت قریش جیسی زبردست طاقت سے ٹکرا نے کے لیے جارہی ہے، آپس میں کہتے تھے کہ یہ لوگ اپنے دینی جوش میں دیوانے ہوگئے ہیں، اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی ہے، مگر اس نبی نے کچھ ایسا افسوں ان پر پھونک رکھا ہے کہ ان کی عقل خبط ہوگئی ہے اور آنکھوں دیکھے یہ موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اگر آپ (اس وقت کا واقعہ) دیکھیں (تو عجیب واقعہ نظر آئے) جب کہ فرشتے ان (موجودہ) کافروں کی جان قبض کرتے جاتے ہیں (اور) ان کے منہ پر اور ان کی پشتوں پر مارتے جاتے ہیں اور یہ کہتے جاتے ہیں کہ (ابھی کیا ہے آگے چل کر) آگ کی سزا جھیلنا (اور) یہ عذاب ان اعمال (کفریہ) کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں (سو اللہ تعالیٰ نے بےجرم سزا نہیں دی پس) ان کی حالت (اس بارے میں کہ کفر پر سزا یاب ہوئے) ایسی ہے جیسی فرعون والوں کی اور ان سے پہلے (کافر) لوگوں کی حالت تھی کہ انہوں نے آیات الہیہ کا انکار کیا سو اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →آیات 50 تا 58 کا مضمون : آگے یہ واضح فرمایا کہ یہ مار جو ان پر پڑی اسی پر بس نہیں ہے۔ اصل سزا جو انہیں ملنی ہے اس کا مرحلہ تو آگے آنے والا ہے۔ جب یہ موت سے دوچار ہوں گے۔ یہ مار تو محض بطور تنبیہ ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی بخشی ہوئی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا۔ جب تک وہ خود اپنی روش بگار نہ لے۔ جب کوئی قوم اپنی روش بگار لیتی ہے تو پہلے اللہ اس کو تنبیہ فرماتا ہے۔ جب وہ تنبیہ سے کوئی سبق نہیں لیتی بلکہ اپنی سرکشی میں بڑھتی جاتی ہے تو پھر اس پر خدا فیصلہ کن عذاب آجاتا ہے۔ قوم فرعون کے ساتھ اللہ نے جو معاملہ کیا وہ ان کے لیے مثال ہے، پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختلف آزمائشوں…
Read the full tafseer →50۔ 1 بعض مفسرین نے اسے جنگ بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کی بابت قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب مشرکین مسلمانوں کی طرف آتے تو مسلمان ان کے چہروں پر تلواریں مارتے، جس سے بچنے کے لئے وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو فرشتے ان کی دبروں پر تلواریں مارتے، لیکن یہ آیت عام ہے جو ہر کافر و مشرک کو شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت فرشتے ان کے مونہوں اور پشتوں (یا دبروں یعنی چوتڑوں) پر مارتے ہیں، جس طرح سورة انعام میں بھی فرمایا : (وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ) 6۔ الانعام :93) فرشتے ان کو مارنے کے لئے ہاتھ دراز کرتے ہیں " اور بعض کے نزدیک فرشتوں کی یہ مار قیامت والے دن جہنم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
35: جب مسلمانوں نے بےسروسامانی کی حالت میں اتنے بڑے لشکر سے ٹکر لے لی تو منافقین نے کہا تھا کہ یہ اپنے دین کے گھمنڈ میں بڑا دھوکہ کھا رہے ہیں، ان میں کفار مکہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
اب اللہ اس معرکے میں ربانی قوتوں کے عمل و دخل کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ اس منظر میں فرشتے کام کر رہے ہیں۔ چشم بصیرت سے اس منظر کو دیکھو۔ فرشتے اس معرکے میں شریک ہیں۔ اور کفار کی پکڑ دھکڑ انہوں نے شروع کردی ہے۔ ان کی روحوں کو نہایت ہی حقارت سے قبض کر رہے ہیں اور ان کو سخت سے سخت اذیت دے رہے ہیں۔ یہ محض اس لیے کہ یہ لوگ نہایت ہی تکبر سے اتراتے ہوئے شان و شوکت سے آ رہے تھے۔ اس میں ان کو بتایا جاتا ہے کہ اس سخت اور مشکل وقت میں تمہارے ساتھ یہ سلوک تمہارے اعمال بد کی وجہ سے ہورہا ہے اور اس میں تم پر کوئی بھی ظلم نہیں ہے۔ پھر اس منظر کشی کے بعد بتایا جاتا ہے کہ جھٹلانے کی وجہ سے کفار کو جو سزا دی…
Read the full tafseer →2 یعنی مار کر کہتے ہیں کہ ابھی تو یہ لو، اور عذاب جہنم کا مزہ آئندہ چکھنا۔ بہت سے مفسرین نے اس کو بھی بدر کے واقعہ میں داخل کیا ہے یعنی اس وقت جو کافر مارے جاتے تھے ان کے ساتھ فرشتوں کا یہ معاملہ تھا۔ مگر الفاظ آیت کے سب کافروں کو عام ہیں اس لیے راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ عالم برزخ کا ہوا۔ اب بدر کے واقعات سے تعلق یہ ہوگا کہ دنیا میں ان کافروں کی یہ گت بنی۔ برزخ میں یہ ہوگا اور آخرت کے عذاب کا تو کہنا ہی کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
آیت 49 اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ
ابھی تک ایک طرف کے حالات کا نقشہ پیش کیا جا رہا تھا۔ یعنی لشکر قریش کی مکہ سے روانگی ‘ اس لشکر کی کیفیت ‘ ان کے سرداروں کے متکبرانہ خیالات ‘ شیطان کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا اور پھر عین وقت پر بھاگ کھڑے ہونا۔ اب اس آیت میں مدینہ کے حالات پر تبصرہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لشکر لے کر نکلے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین کیا کیا باتیں بنا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے :
غَرَّ ہٰٓؤُلَآءِ دِیْنُہُمْ ط
یعنی ان لوگوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے جو قریش کے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنے چل پڑے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی ان کو سفھَاء احمق سمجھتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
55 ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ اس آیت میں روئے سخن ان کافروں کی طرف ہے جو غزوہ بدر میں مارے گئے تھے جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اس کا حکم عام ہے۔ اور سب کافروں سے ایسا معاملہ پیش آسکتا ہے کہ ان کی موت کے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر چوٹیں بھی لگائیں اور جہنم کے عذاب کی نوید بھی سنائیں اور کہیں کہ یہ سزا تمہیں تمہارے ہی شامت اعمال سے مل رہی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں سزا دینے کا کوئی شوق نہیں۔
Read the full tafseer →79 ۔ یعنی یہ تکلیفیں تو صرف نزع وسکرات کی ہیں، ابھی کیا ہے ابھی کیا ہے ابھی آگے چل کر عذاب جہنم کو برداشت کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ واضح رہے کہ قرآن مجید نے نزع وسکرات کی یہ ہولناک تفصیلات جہاں بھی بیان کی ہیں وہاں یہ تصریح بھی کردی ہے کہ یہ کافروں اور دشمنان دین کے لئے ہیں، مطلق موت کا جہاں ذکر ہے وہاں الفاظ ” غمرات “ یا ” سکرۃ “ وغیرہ ایسے رکھے ہیں جن کا مفہوم لازمی طور پر تکلیف ہی کا نہیں بلکہ مطلق غفلت، غشی اور بےہوشی کو شامل ہے۔ متکلمین نے آیت سے یہ استنباط بھی کیا ہے کہ انسان جس شے کا نام ہے وہ اس جسم سے الگ ہے اور اس کا اطلاق روح پر ہوتا ہے۔ قال الواحدی ھذا یدل علی ان الانسان شیء مغائر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
آیت نمبر 49 تا 58
ترجمہ : اور جبکہ منافقین اور وہ لوگ کہ جن کے قلوب میں ضعفِ اعتقاد کا روگ لگا ہوا تھا کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کو تو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے اس لئے کہ اپنی قلب تعداد کے باوجود ایک بڑی جماعت کے ساتھ لڑنے کے لئے اس خام خیالی کی وجہ سے کہ دین سے ان کی مدد کی جائے گی نکل پڑے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ غالب ہوگا یقینا اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے کاش اے محمد تم اس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں (یتوفیٰ ) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، ان کے منہ پر اور ان کے کو…
Read the full tafseer →ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم وذوقوا عذاب الحریق اور اگر آپ اس وقت کا واقعہ دیکھتے جب فرشتے ان کی جانیں قبض کر رہے تھے ‘ ان کے چہروں اور ان کی پشتوں پر مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آگ کی سزا کا مزہ چکھو۔
تَرٰی (صیغۂ مضارع) بمعنی ماضی ہے کیونکہ لَوْکی وجہ سے مضارع بمعنی ماضی ہوجاتا ہے۔ یتوفّٰی یعنی روحیں قبض کر رہے تھے ‘ خواہ بدر میں یا دوسری جگہ۔ یتوفّٰیکا فاعل ملائکہ ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ فاعل ہو اور الملآئکۃ مبتداء اور یضربون خبر۔
یَضُرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْیعنی آگ کے کوڑوں اور لوہے کے گرزوں سے ان کے سامنے سے (چہروں پر) اور پیچھے سے (پشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(50۔ 51) اے محمد اگر آپ وہ منظر دیکھتے جب فرشتے بدر کے دن ان کافروں کی جانوں کو قبض کرتے جارہے تھے اور ان کے چہروں اور پشتوں پر وہ مارتے جارہے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ یہ عذاب تمہارے اعمال شرکیہ کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ بغیر جرم کے کسی کو سزا نہیں دیتے۔
Read the full tafseer →وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا : کفار کی زندگی کے بعض احوال بیان کرنے کے بعد ان کی موت کی حالت بیان کی ہے۔ یہ آیت یہاں اگرچہ واقعۂ بدر کے سلسلے میں آئی ہے، اس لیے بعض مفسرین نے اسے بدر کے کفار کا حال قرار دیا ہے، لیکن لفظ عام ہونے کی وجہ سے یہ ہر کافر کے مرنے کے وقت کا حال بیان کر رہی ہے۔ فرمایا کہ کافروں کی روح قبض کرتے وقت فرشتے جس طرح ان کے مونہوں اور پشتوں پر مارتے اور جس طرح جھڑکتے اور سختی کرتے ہیں، کاش آپ وہ منظر دیکھ لیں، کیونکہ سننے میں وہ بات نہیں جو دیکھنے میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة انعام (93) اور سورة محمد (27، 28) میں یہی بات بیان فرمائی ہے اور احادیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
( آیت نمبر 49)
کہا گیا ہے : منافق وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپائے رکھا۔ اور والذین فی قلوبھم مرض سے مراد شک کرنے والے ہیں اور وہ منافقین کے سوا تھے، کیونکہ ابھی وہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان میں بعض ایسے بھی تھے جن کی نیتیں کمزور اور ضعیف تھیں۔ انہوں نے قتال کی طرف نکلتے وقت اور مقابلے کے لیے صفیں باندھتے وقت کہا : غرھولاء دینھم ” انہیں دن کے دین نے مغرور کردیا “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : دونوں سے مراد ایک ہی قسم ہے۔ اور یہی اولیٰ ہے، کیا آپ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرف دیکھتے نہیں : الذین یومنون بالغیب ( البقرہ : 3) پھر فرمایا : والذین یومنون بما انزل الیک (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ “ سے مراد مشرکین ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ دو نشانیاں ہیں جس کے ذریعہ کافر کو اپنی موت کے وقت (دکھائی جاتی ہیں) یعنی (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو المئکۃ یضربون وجوہہم وادبارھم “۔
3:۔ سعید بن منصور ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وادبارہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ان کے مشابہ لوگ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کریم ہیں کنایہ پہلی فرماتے ہیں
4:۔ ابن ابی حاتم اور…
Read the full tafseer →وَلَوْ [ اور اگر ] تَرٰٓي [ آپ دیکھتے ] اِذْ [ جب ] يَتَوَفَّى [ پورا پورا لیتے تھے ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَفَرُوا ۙ [ کفر کیا ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] يَضْرِبُوْنَ [ مارتے ہوئے ] وُجُوْهَهُمْ [ ان کے چہروں کو ] وَاَدْبَارَهُمْ ۚ [ اور ان کی پیٹھوں کو ] وَذُوْقُوْا [ اور (کہتے ہوئے کہ ) چکھو ] عَذَابَ الْحَرِيْقِ [ جلنے کا عذاب ]
Read the full tafseer →موت کے وقت کافروں کی پٹائی
ان آیات میں اول تو کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جو انہیں موت کے وقت ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ معرکہ بدر میں جو کفار قریش مسلمانوں کے مقابلہ میں آئے تھے اور پھر جنگ میں مارے گئے جب وہ مقتول ہو رہے تھے تو فرشتے ان کو ان کے مونہوں پر اور پشتوں پر مار رہے تھے اور موت کے بعد جہنم کے عذاب میں مبتلا ہونے کی خبر انہیں دے رہے تھے۔ مفسر ابن کثیر نے حضرت مجاہد (رح) سے یہی نقل کیا ہے اور دیگر مفسرین نے اس مضمون کو عام بتایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت فرشتوں کا کافروں کے چہروں اور پشتوں پر مارنا مقتولین بدر کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام کافروں کے ساتھ ایسا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
بیان ذلت کفار در عالم برزخ
قال اللہ تعالیٰ ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل کانوا ظلمین
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی دنیوی ذلت اور مغلوبیت اور رسوائی کا بیان تھا جو ان کی پہلی بار اپنی زندگی میں پیش آئی۔ اب ان آیات میں کفار کی برزخی ذلت اور رسوائی کا بیان ہے کہ موت کے وقت ان کی کیا حالت ہوتی ہے اور کس ذلت آمیز طریقہ سے ان کی روح قبض کی جاتی ہے اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں ان کو کیا عذاب دیا جاتا ہے اور اس وقت ان پر تزئین شیطانی کی ساری قلعی کھلی اور سمجھے کہ ہم دھوکہ میں مبتلا تھے خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ ہم نے خود اپنے آپ کو تباہ وبرباد کیا اور آل فرعون کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
53: یہ تخویف واخروی ہے۔ “ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ” سے وہ کفار مراد ہیں جو بدر میں قتل ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
مدینے کے منافق :
گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کے اصول بتلائے گئے تھے ، پھر ان کی سازشوں اور نافرمانیوں اور ان کو دی جانے والی سزا کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کی ذلت و خواری ہوئی اور آخرت میں وہ دائمی سزا کے مستحق ہوں گے اب اسی ضمن میں منافقوں کے کردار کا ذکر بھی ہو رہا ہے ہجرت کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پر تین قسم کے لوگ تھے ایک قسم تو وہ صحابہ کرام تھے جو آپ پر ایمان لا کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے دوسری قسم کے لوگ وہ تھے جو غیر جانبدار تھے ، وہ نہ مخالف کرتے تھے اور نہ موافقت البتہ تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو ظاہر میں تو ایمان لے آئے مگر ان کے دل کفر پر اڑے…
Read the full tafseer →وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا 0 ۙ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْ 0 ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 50
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
وفی (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
ترکیب : اذیقول ممکن ہے کہ معمول اذکر ہو یا زین کا ظرف ہو۔ الذین کفروا مفعول ہے یتوفی کا الملائکۃ فاعل ذوالحال یضربون حال وذوقوا ای یقولون معطوف ہوگا یضربون پر یہ بھی حال ہو کر ملائکہ کا مقولہ ہوگا اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو یعنی بعد موت کے ہم ان سے کہیں گے۔
تفسیر : چونکہ تزیین شیطانی کا ذکر آیا تھا کہ شیطان نے مکہ کے کافروں کو یوں گمراہ کر رکھا تھا۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ تزیین کچھ انہیں میں منحصر نہیں بلکہ مدینہ کے منافق کہ جن کے دل میں مرض شک و نفاق ہے بدر کے واقعہ کی نسبت مسلمانوں کو یہ کہتے تھے کہ ان کو ان کے دین نے مغرور کردیا ہے۔ محمد ﷺ کے وعدوں پر تین سو تیرہ ٹوٹے پھوٹے مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا لا الْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارََھُمْ ج وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ لا (الانفال : 50، 51 )
(اور اگر تم دیکھ پاتے جب روح قبض کرتے ہیں فرشتے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا ہے، مارتے ہیں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر (اور یہ کہتے ہیں) اب چکھو مزہ جلنے کے عذاب کا۔ یہ بدلہ ہے اسی کا جو تم نے آگے بھیجا اپنے ہاتھوں سے اور اللہ بندوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔ )
جواب شرط کے حذف کا فائدہ
وَلَوْ تَرٰٓی میں ” لَوْ “ حرف شرط ہے۔ لیکن اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
فہم القرآن
ربط کلام : منافق کا انجام اور موت کے وقت اس کی سزا۔
” تَرٰی “ کا معنی ہے بصیرت یا جسمانی آنکھوں کے ساتھ کسی چیز کو دیکھنا۔ یہاں صاحب ایمان شخص کو توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر وہ بصیرت یا بصارت کے ساتھ منافقین کی موت کا وقت دیکھ سکے تو اسے معلوم ہو کہ ان کا انجام کتنا بد ترین ہوتا ہے۔ موت کے فرشتے ان کے چہروں اور کمروں پر تھپڑ مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب جہنم کا جلا دینے والا عذاب ہمیشہ کے لیے چکھتے رہو۔ اس آیت سے پہلے منافقوں کا ذکر ہو رہا تھا لیکن ان کا انجام بیان کرتے ہوئے منافق کی بجائے کافر کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ منافق بظاہر کلمہ گو اور مسلمانوں جیسے کام کرتا ہے لیکن اصلاً وہ…
Read the full tafseer →منافقین کی حالت ِمرگ :
آیت 50: وَلَوْ تَرٰٰٓی (اور اگر دیکھیں) اگر تم مشاہدہ کرتے اور آنکھوں سے دیکھتے۔ لَوْؔ مضارع کو ماضی کی طرف بدل ڈالتا ہے۔ جیسا اِنْ ماضی کو مضارع کے معنی میں کردیتا ہے۔ اذؔ یہ ظرف ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا (جبکہ ان کافروں کی جان قبض کرتے جاتے ہیں) ان کی روحوں کو قبض کرتے ہیں الْمَلٰٓپکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ (فرشتے ان کے منہ پر مارتے ہیں) نحو : نمبر 1: ملائکہ فاعل ہے اور یضربون حال ہے۔ وجوہھم ان کے چہروں پر مارتے ہیں۔ جب وہ سامنے آتے ہیں۔ وَ اَدْبَارَھُمْ (اور ان کی پشتوں پر) ان کی پشتوں اور سرینوں پر جب وہ واپس مڑتے ہیں۔ نمبر…
Read the full tafseer →50(ولوتری) اے محمد ﷺ (اذیتوفی الذین کفروا الملٓئکۃ یضربون) اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا موت کے وقت فرشتے کافروں کے چہروں پر آگ کے کوڑے مارتے ہیں اور بعض نے کہا کہ بدر میں جو کافر مارے گئے وہ مراد ہیں کہ ان کو مارتے تھے فرشتے (وجوھھم وادبارھم)
سعید بن جبیر ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ دبر سے ان کی پاخانہ کی جگہ مراد ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کنایہ اس کا ذکر کیا یہ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مشرکین جب مسلمانوں کی طرف رخ کرتے تھے تو فرشتے ان کو چہروں پر تلواریں مارتے تھے اور جب مڑ کر بھاگنے لگتے تو فرشتے ان کی پیٹھ پر مارتے۔ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے ا ن کا اگلا اور پچھلا حصہ یعنی تمام جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
50۔ 51۔ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب مشرکین مسلمانوں کی طرف منہ کرتے تھے تو سامنے سے مسلمانوں کی تلوار پڑتی تھی اور جب پیٹھ پھیرتے تھے فرشتے پیچھے سے مارتے تھے بدر کی لڑائی میں جو مشرک مارے گئے یہ تو ان پر فرشتوں کی مار کے پڑنے کا حال ہے عام مشرکوں کا بھی یہی حال ہے کہ اللہ کے فرشتے جب ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو ان کو مارتے پیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب عذاب الٰہی کا مزہ چکھو چناچہ ایک جگہ ابوداؤد اور مسند امام احمد کے حوالہ سے برائ بن عازب ؓ کی ایک صحیح حدیث اس باب میں گذر چکی ہے بھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ یہ لوگ کرتے تھے یہ اسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
آیت 52
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کررہے ہوں گے، ان کو سکت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے۔ (یضربون وجوھھم و ادبار ھم) ” مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے “ اور ان سے کہتے ہیں ” اپنی جان نکالو “۔ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی، کیونکہ انہیں علم ہے کہ انہیں کس درد ناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وذوقوا عذاب الحریق) ” اور عذاب آتش چکھو “۔ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔ یہ عذاب تمہیں تمہارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
جنگ میں اطاعت خدا اور رسول
قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…
Read the full tafseer →108 کافروں کے منہ اور انکے دبر ایک برابر : سو یہاں پر { اَدبار } اور { وجوہ } کو ایک ساتھ بیان فرمایا گیا ہے کہ ان دونوں پر مار پڑ رہی ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر کا منہ اور اس کا دبر ایک برابر ہیں۔ اور وجہ ظاہر ہے کہ ان دونوں سے گندگی اور نجاست نکلتی ہے۔ سو ان میں سے کہ ایک سے پیشاب پاخانے کی حسی اور ظاہری ناپاکی نکلتی ہے اور دوسرے سے کفر و شرک کی معنوی اور باطنی نجاست ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کا ایک مظہر اب بھی اس صورت میں سامنے آتا ہے کہ جو لوگ مرنے کے بعد اپنے مردوں کو جلاتے ہیں وہ سب سے پہلے آگ ان کے منہ میں ہی لگاتے ہیں۔ اور یہ کام بھی وہی شخص کرتا ہے جو کہ مرنے والے کا سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
موت کے وقت کفار کی حالت
تشریح : یہاں کفار کے اعمال باطل کے وجہ سے ان کے انجام کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ میدان جنگ، یعنی غزوہ بدر میں کفار کی تکلیف دہ موت کا ذکر اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ فرشتے کس قدر تکلیف کے ساتھ کفار کی جان نکال رہے تھے اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہ تو صرف دنیا کی ذلت و خواری اور ہلاکت تم دیکھ رہے ہو۔ اس عذاب کا تمہیں علم ہی نہیں جو موت کے بعد شدید آگ کا عذاب تمہیں دیا جائے گا اور یہ سب کچھ تمہیں اپنے ہی کیے ہوئے کاموں کے بدلہ میں ملے گا۔ ویسے اس کا حکم عام بھی ہے کہ کفار کی موت کیسے واقع ہوتی ہے کیونکہ اللہ ارحم الراحمین ہے وہ کبھی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
آیات 49 تا 58
اسرار و معارف
بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔
دل کامرض
گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ…
Read the full tafseer →ف 1 کفار کے احوال بیان کرنے کے بعد اب ان کی موت کی حالت بیان کی ہے ، ( کبیر) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بدر میں کافر جب مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے تو فرشتے ان کے منہ پر ضرب لگاتے اور جب وہ پیٹھ موڑ کر بھاگتے تو ان کی پیٹھ پر ضرب لگاتے۔ اس صورت میں الذین کفروا سے مراد وہ کفارہوں گے جو بدر کے دن قتل ہوئے۔ ( ابن کثیر، الروح ج۔ ) دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ( اے پیغمبر کاش تو کافروں کا حال اس وقت دیکھے جب فرشتے ان کی جان نکال رہے اور انہیں آگے پیچھے چار چوٹ کی مار دے رہے ہوتے ہیں اور ( کیے جاتے ہیں) جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو اس صورت میں یہ آیت بدر کے مقتول کافروں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(8:50) لو تری۔ اگر تو دیکھے۔ کاش تو دیکھتا یا دیکھ سکتا۔
یتوفی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ توفی (تفعل) مصدر وہ جان نکالتا ہے۔ یہاں الملئکۃ (جمع) کے لئے استعمال ہوا۔ وہ جان نکالتے ہیں۔ توفی۔ کے اصل معنی کسی چیز کو پورا لینا اور اس پر پورے طور پر قبضہ کرلینے کے ہیں۔ موت کے وقت بھی روح پورے طور پر قبض کرلی جاتی ہے۔
ذوقوا۔ ای ویقولون ذوقوقا۔ تم چکھو۔ ذوق سے امر ۔ جمع مذکر حاضر ۔ (باب نصر) ذو۔ تو چکھ۔
عذاب الحریق۔ جلا دینے والا عذاب۔ آگ کا عذاب۔ حرق سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
آیات : 50 تا 54
لغات القرآن۔
یتوفی۔ موت دے گا۔ یضربون۔ ماریں گے۔ وجوہ۔ (وجہ) ۔ چہرے۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ ظلام۔ بہت زیادہ ظلم کرنے والا۔ العبید۔ (عبد) ۔ بندے۔ کداب۔ جیسا کہ دستور تھا۔ جیسا کہ طریقہ تھا ۔ ال اولاد۔ اخذ۔ اس نے پکڑ لیا۔ ذنوب۔ (ذنب) ۔ گناہ۔ قوی۔ مضبوط۔ طاقتور۔ لم یک۔ (لم یکن) نہیں ہے۔ مغیر۔ تبدیل کرنے والا۔ انعمھا۔ اس نے انعام کیا۔ حتی یغیروا۔ جب تک وہ بدل نہ ڈالیں۔ ما بانفسھم۔ اپنے دلوں کی کیفیت۔ حالت۔ اھلکنا۔ ہم نے ہلاک کردیا۔ اغرقنا۔ ہم نے غرق کردیا۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے وہ سارا عالم ہم بندوں کی نظروں سے چھپا لیا ہے جو نزع، قبر اور برزخ میں ہوتا ہے ورنہ اگر واقعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں مشرکین مسلمانوں کی طرف (مونہہ) کرتے تھے تو سامنے سے مسلمانوں کی تلوار پڑتی تھی اور جب پیٹھ پھیرتے تھے تو فرشتے پیچھے سے مارتے تھے۔ بدر کی لڑائی میں جو مشرک مارے گئے یہ تو ان پر فرشتوں کی مار پڑنے کا حال ہے۔ عام مشرکوں کا بھی یہی حال ہے کہ اللہ کے فرشتے جن ان کی روحیں قبض کرنے آتے ہیں تو ان کو مارتے پیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب عذاب الہی کا مزہ چکھو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ یہ لوگ کرتے تھے یہ اسی کا عوض اور خمیازہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم ان پر نہیں کیا۔ کیونکہ اس کی عادت ظلم کی نہیں ہے۔ وہ ظلم سے بالکل پاک ہے حضور اکرم نور مجسم ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(ف 1) یعنی اگر ان منافقین کو یہ معلوم ہوجائے کو موت کے بعد ان کا کیا حشر ہونے والا ہے ، تو کبھی غداری کا ارتکاب نہ کریں اور آپ دیکھیں تو حیرت زدہ ہوجاویں ۔
Read the full tafseer →50 اور اگر آپ ان کافروں کی حالت کو اس وقت دیکھیں جب فرشتے ان کافروں کی اس طرح جان قبض کرتے ہیں کہ ان کے مونہوں پر اور ان کی پیٹھوں پر سخت مار مارتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ آتش سوزاں کا مزہ چکھو۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ عام کافر مراد ہیں ہوسکتا ہے کہ بدر میں جو کافر مرگئے ان کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے۔ آتش اور عذاب محرق کا یہ مطلب ہے کہ ابھی کیا ہے آگے جلانے والے عذاب کا مزہ چکھنا شرط کی جزا مخدوف ہے یعنی اگر آپ دیکھتے تو بڑاہی ہولناک منظر دیکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 2۔ مدینہ والوں میں سے۔
3۔ مکہ والوں میں سے۔
4۔ غرض ظاہری سامان وبے سامانی پر مدار نہیں قادر کوئی اور ہی ہے۔
Read the full tafseer →کفار کی موت کا ذکر کر کے ان کی اس ایذا کا واضح کردیا جب ان کی جان نکال لی جاتی ہے :
69 : اس دار فانی میں جو پیدا ہوا ہے سب مرنے ہی کے لئے پیدا ہوا ہے کون ہے جو اس جگہ ہمیشہ رہے گا ؟ میدان جنگ میں جانے والوں کو اگر موت آتی ہے تو گھر میں بسترون پر آران کرنے والوں کو بھی ہمیشہ رہنا نصیب نہیں ہے ، مرنا ان کو بھی ضرور ہے۔ پھر ان پاپولر لوگوں کی موت کا وقت اور ان کو موت کے وقت فرشتوں کی سزا بڑء ہی ایذا وہ چیز ہے۔ اس وقت وہ محض اس لئے شریک جنگ نہیں ہوتے کہ کہیں میدان کار زار میں ان کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے لیکن اس وقت وہ کیا کریں گے جب موت کے فرشتے ان کے پاس آکھڑے ہوں گے اور ان کے م انہوں اور ان کی…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the first two of the verses cited above is the punishment of disbelievers at the time of their death and the warnings given to them by the angels. Here, addressing the Holy Prophet ﷺ ، it has been said that had he seen the condition of the disbelievers at that time when the angels of Allah were beating their faces and backs as they extracted their souls and telling them to have a taste of the punishment of burning in the Fire, then, he would have seen some-thing awesome.
Some of the leading Commentators have declared this statement to be about the particular…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
39. Observing that a small band of resourceless Muslims was getting ready to confront the powerful Quraysh, the hypocrites as well as those who were heedless of God and cared only for worldly interests, often tended to say to one another that the religious passion of the Muslims had driven them to utter fanaticism and zealotry. They were sure that the Muslims would face a total rout on the battlefield. They were puzzled by how the Prophet (peace be on him), in whom the Muslims believed, had cast such a spell over them that they were altogether incapable of rational calculation and were hence…
Read the full tafseer →