Explained with ayahs 47–49
میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا
جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لئے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ چناچہ ابو جہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہوجائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
سورة الْاَنْفَال 39
یعنی مدینہ کے منافقین اور وہ سب لوگ جو دنیا پر ستی اور خدا سے غفلت کے مرض میں گرفتار تھے، یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر بےسروسامان جماعت قریش جیسی زبردست طاقت سے ٹکرا نے کے لیے جارہی ہے، آپس میں کہتے تھے کہ یہ لوگ اپنے دینی جوش میں دیوانے ہوگئے ہیں، اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی ہے، مگر اس نبی نے کچھ ایسا افسوں ان پر پھونک رکھا ہے کہ ان کی عقل خبط ہوگئی ہے اور آنکھوں دیکھے یہ موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →شیطانی دجل و فریب اور اس سے بچنے کا طریقہ
اول یہ کہ شیطان انسان کا دشمن ہے اس کو نقصان پہنچانے کے لئے طرح طرح کے حیلے کرتا اور بہروپ بدلتا ہے۔ بعض اوقات محض دل میں وسوسہ ڈال کر پریشان کرتا ہے اور بعض اوقات سامنے آکر دھوکا دیتا ہے۔
دوسرے یہ کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدرت دی ہے کہ وہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ایک مشہور حنفی فقیہ کی کتاب آکام المرجان فی احکام الجان میں اس کو بوضاحت ثابت کیا گیا ہے۔ اسی لئے محققین صوفیائے کرام جو اصحاب کشف و شہود ہیں انہوں نے لوگوں کو اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ کسی شخص کو دیکھ کر یا اس کا کلام سن کر بغیر تحقیق حال کے اس کے پیچھے چلنا بڑا خطرناک ہوتا…
Read the full tafseer →اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ ھٰٓؤُلَاۗءِ دِيْنُهُمْ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ لفظ مرض جب نفاق کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد حسد ہوتا ہے۔ یہود کی ریشہ دوانیوں کے بعد اب یہ منافقین اور حاسدین کی حوصلہ شکنیوں کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے بھی اس موقع پر مسلمانوں کا حوصل پست کرنے کے لیے یہ کہنا شروع کیا کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کردیا ہے۔ ہیں تو مٹھی بھر، مقابلہ کرنے اٹھے ہیں قریش کی دل با دل فوج سے یہ ہاتھی سے گنا کھانے چلے ہیں۔ مذہب کے خبط نے ان کو ہوش و خرد سے عاری کردیا ہے۔ اس قسم کے فقرے اور طعنے بالخصوص جب…
Read the full tafseer →49۔ 1 اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور مسلمانوں کی کامیابی کے بارے میں انہیں شک تھا، یا اس سے مراد مشرکین ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ مدینہ میں رہنے والے یہودی مراد ہوں۔
49۔ 2 یعنی ان کی تعداد تو دیکھو اور سرو سامان جو حال ہے، وہ بھی ظاہر ہے۔ لیکن مقابلہ کرنے چلے ہیں مشرکین مکہ سے، جو تعداد میں بھی ان سے کہیں زیادہ ہیں اور ہر طرح کے سامان حرب اور وسائل سے مالا مال بھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دین نے ان کو دھوکے اور فریب میں ڈال دیا ہے۔ اور یہ موٹی سی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آرہی۔
49۔ 3 اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان اہل دنیا کو اہل ایمان کے عزم و ثبات کا کیا اندازہ ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
35: جب مسلمانوں نے بےسروسامانی کی حالت میں اتنے بڑے لشکر سے ٹکر لے لی تو منافقین نے کہا تھا کہ یہ اپنے دین کے گھمنڈ میں بڑا دھوکہ کھا رہے ہیں، ان میں کفار مکہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے
Read the full tafseer →منافقین جو دل کے مریض ہوتے ہیں یہ تعداد میں اکثر کم ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو مکہ میں تھے اور اسلام کی طرف مائل ہوگئے تھے لیکن ان کے عقائد صحیح نہ تھے اور نہ ہی ان کے دل اسلام پر مطمئن ہوئے تھے۔ یہ لوگ بھی اس مکی لشکر کے ساتھ چلے آئے تھے۔ لیکن یہ مذبذب تھے۔ ڈھل مل یقین۔ یہ تبصرہ ایسے لوگوں کا تھا کہ جنہوں نے دیکھا کہ مسلمان کم ہیں اور مشرکین بہت زیادہ ہیں۔
یہ منافقین جن کے دلوں میں بیماری ہوتی ہے۔ در اصل فتح و نصرت کے حقیقی اسباب سے باخبر ہی نہ تھے۔ یہ صرف ظاہری حالات کو دیکھ پاتے تھے اور ان کو اس قدر بصیرت یہ دی گئی تھی کہ وہ پوشیدہ امور کو یا ان حقائق کو سمجھتے جو بظاہر نظر نہیں آتے۔ ان کو…
Read the full tafseer →1 مسلمانوں کی تھوڑی جمعیت اور بےسروسامانی اور اس پر ایسی دلیری و شجاعت کو دیکھتے ہوئے منافقین اور ضعیف القلب کلمہ گو کہنے لگے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دین اور حقانیت کے خیال پر مغرور ہیں جو اس طرح اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال دیتے ہیں حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ غرور نہیں، توکل ہے۔ جس کو خدا کی زبردست قدرت پر اعتماد ہو اور یقین رکھے کہ جو کچھ ادھر سے ہوگا عین حکمت و صواب ہوگا، وہ حق کے معاملہ میں ایسا ہی بےجگر اور دلیر ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
آیت 49 اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ
ابھی تک ایک طرف کے حالات کا نقشہ پیش کیا جا رہا تھا۔ یعنی لشکر قریش کی مکہ سے روانگی ‘ اس لشکر کی کیفیت ‘ ان کے سرداروں کے متکبرانہ خیالات ‘ شیطان کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا اور پھر عین وقت پر بھاگ کھڑے ہونا۔ اب اس آیت میں مدینہ کے حالات پر تبصرہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لشکر لے کر نکلے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین کیا کیا باتیں بنا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے :
غَرَّ ہٰٓؤُلَآءِ دِیْنُہُمْ ط
یعنی ان لوگوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے جو قریش کے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنے چل پڑے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی ان کو سفھَاء احمق سمجھتے تھے…
Read the full tafseer →54 مجاہدین بدر کو یہودیوں اور منافقوں کا طعنہ :۔ مدینہ کے منافق اور یہودی یہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دینی جوش میں دیوانے ہوگئے ہیں۔ بھلا ان کی اس مٹھی بھر بےسروسامان جماعت کا قریش جیسی زبردست طاقت سے ٹکر لینے کے لیے تیار ہوجانا دیوانگی نہیں تو کیا ہے۔ یہ لوگ پتہ نہیں کس دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ ہمیں تو اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی نظر آرہی ہے اور سب کچھ دیکھتے بھالتے یہ لوگ اپنی موت کو دعوت دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : دیوانے مسلمان نہیں بلکہ دیوانے یہ خود ہیں جو یہ بات نہیں سمجھتے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرتا ہے وہ مدد کرنے پر…
Read the full tafseer →77 ۔ (کہ اس میں آکر یہ اس بےسروسامانی پر اتنے زبردست لشکر سے مقابلہ کا حوصلہ کربیٹھے ہیں) حالات ظاہری کی بنا پر منافقوں اور کچھے ایمان والوں کا ایسا کہہ گزرنا بالکل قدرتی تھا۔ (آیت) ” المنفقون والذین فی قلوبھم مرض ‘۔ المنافقون سے تو منافقین مدینہ کا مراد ہونا ظاہر ہی ہے۔ الذین فی قلوبھم مرض سے مکہ کے کچ دلے مسلمان مراد ہیں۔ ھم قوم من قریش اسلموا وما قوی اسلامھم فی قلومھم ولم یھاجروا (کبیر)
78 ۔ (وہ اپنے مومنین متوکلین کو ہر حال میں غلبہ دلا سکتا ہے اور جب نہیں دلاتا تو یہ بھی کسی خاص حکمت ومصلحت ہی کے ماتحت ہوتا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
آیت نمبر 49 تا 58
ترجمہ : اور جبکہ منافقین اور وہ لوگ کہ جن کے قلوب میں ضعفِ اعتقاد کا روگ لگا ہوا تھا کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کو تو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے اس لئے کہ اپنی قلب تعداد کے باوجود ایک بڑی جماعت کے ساتھ لڑنے کے لئے اس خام خیالی کی وجہ سے کہ دین سے ان کی مدد کی جائے گی نکل پڑے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ غالب ہوگا یقینا اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے کاش اے محمد تم اس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں (یتوفیٰ ) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، ان کے منہ پر اور ان کے کو…
Read the full tafseer →اذ یقول المنافقون (یاد کرو) جب (مدینہ میں) منافق کہہ رہے تھے۔ منافقوں نے دیکھا کہ کچھ اوپر تین سو دس مسلمان مدینہ سے گئے ہیں اور یہ بھی انہوں نے سنا کہ ابوجہل ایک ہزار کی تعداد ساتھ لے کر مسلمانوں سے لڑنے کیلئے مکہ سے روانہ ہوگیا ہے تو منافق کہنے لگے : یہ لوگ مذہبی فریب میں ایسے پھنسے کہ ان لوگوں سے لڑنے چلے ہیں جن سے مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں۔
والذین فی قلوبھم مرضٌ اور وہ لوگ بھی کہہ رہے تھے جن کے دلوں میں بیماری تھی۔ یعنی جن کا ایمان خالص اور پختہ نہ تھا ‘ دلوں میں شبہات باقی تھے۔ بعض لوگوں کے نزدیک اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرضٌ سے مشرک مراد ہیں۔ بعض نے کہا : منافق ہی مراد ہیں…
Read the full tafseer →(49) جو لوگ بدر سے واپس ہوگئے تھے اور جن کے دلوں میں شک اور کجی تھی اور تمام کافر کہتے تھے کہ محمد ﷺ اور ان کی جماعت کو ان کے دین و توحید نے بھول میں ڈال رکھا ہے۔
اور جو اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں بڑے طاقتور ہیں۔ اور جو آپ پر توکل کرے اس کی نصرت فرمانے میں بڑی حکمت والے ہیں جیسا کہ بدر کے دن رسول اکرم ﷺ کی مدد فرمائی۔
شان نزول : (آیت) ”اذ یقول المنافقون“۔ (الخ)
طبرانی ؒ نے اوسط میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنے نبی کریم پر یہ آیت ”۔ سیھزم الجمع ویولون الدبر“۔ نازل فرمائی تو حضرت عمر…
Read the full tafseer →اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ :”جن کے دلوں میں بیماری“ سے مراد نئے مسلمان ہیں، جن کے دلوں میں شک ختم ہو کر یقین کی پوری کیفیت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہودی اور مدمقابل مشرکین بھی مراد ہوسکتے ہیں۔
غَرَّ ھٰٓؤُلَاۗءِ دِيْنُهُمْ : یعنی ان کے دینی جوش نے ان کو بالکل دیوانہ بنادیا ہے، دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تھوڑی سی تعداد ہے، کوئی سروسامان بھی نہیں ہے، حتیٰ کہ لڑنے کے لیے ایک کے سوا دوسرا گھوڑا بھی نہیں ہے، مگر چلے ہیں قریش کے مسلح اور عظیم الشان لشکر سے مقابلہ کرنے، پاگل ہی تو ہیں جو اپنی موت کو خود دعوت دے رہے ہیں۔ رسولوں اور ان کے ساتھیوں کو پاگل و دیوانہ کہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
( آیت نمبر 49)
کہا گیا ہے : منافق وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپائے رکھا۔ اور والذین فی قلوبھم مرض سے مراد شک کرنے والے ہیں اور وہ منافقین کے سوا تھے، کیونکہ ابھی وہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان میں بعض ایسے بھی تھے جن کی نیتیں کمزور اور ضعیف تھیں۔ انہوں نے قتال کی طرف نکلتے وقت اور مقابلے کے لیے صفیں باندھتے وقت کہا : غرھولاء دینھم ” انہیں دن کے دین نے مغرور کردیا “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : دونوں سے مراد ایک ہی قسم ہے۔ اور یہی اولیٰ ہے، کیا آپ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرف دیکھتے نہیں : الذین یومنون بالغیب ( البقرہ : 3) پھر فرمایا : والذین یومنون بما انزل الیک (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
1۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذ زین لہم الشیطن اعمالہم “ مراد ہے کہ بدر کے دن شیطان نے قریش کے اعمال مزین کردیئے۔
جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھ کر شیطان کا بھاگنا۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس شیاطین کے ایک لشکر میں آیا اور اس کے ساتھ ایک جھنڈا تھا بنومدیح کے ایک آدمی سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں تھا اور شیطان نے کہا (آیت) ” لا غالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم “ جبرائیل جب ابلیس کے قریب آئے اس وقت اس کا ہاتھ مشرکین کے ایک آدمی کے ہاتھ میں تھا جب اس نے جبرائیل کو دیکھا تو ہاتھ کھینچ لیا…
Read the full tafseer →اِذْ [ جب ] يَقُوْلُ [ کہتے تھے ] الْمُنٰفِقُوْنَ [ منافق لوگ ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جن کے ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ دلوں میں ] مَّرَضٌ [ اور ایک مرض تھا ] غَرَّ [ دھوکا دیا ] ھٰٓؤُلَاۗءِ [ ان کو ] دِيْنُهُمْ ۭ [ ان کے دین نے ] وَ [ حالانکہ ] مَنْ [ جو ] يَّتَوَكَّلْ [ بھروسہ کرتا ہے ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] فَاِنَّ اللّٰهَ [ تو یقینا اللہ ] عَزِيْزٌ [ بالا دست ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →منافقین کی بد اعتقادی اور بد زبانی
منافقین آستین کا خنجر تھے مسلمانوں میں بھی اپنے کو شمار کراتے تھے اور کافر تو تھے ہی۔ ان کا کام یہ تھا کہ اسلام کو نقصان پہنچائیں اور مسلمانوں پر طنز کریں۔ ان کی انہیں طنزیہ باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب صحابہ ؓ تھوڑی تعداد میں ہوتے ہوئے اپنے سے تین گنا تعداد سے جنگ کرنے کے لیے آمادہ ہوگئے تو ان لوگوں نے کہا کہ انہیں اپنے دین پر بڑا غرور ہے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چونکہ حق پر ہیں اس لیے غالب ہو کر رہیں گے۔ یہ اپنے اس گھمنڈ کی وجہ سے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہم کس سے بھڑ رہے ہیں اور کس سے مقابلہ کر رہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ جو شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
ذکر آداب جہاد وقتال
قال اللہ تعالی۔ یا ایہا الذین امنوا اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ عزیز حکیم
(ربط): اوپر سے بدر کے واقعات اور جہاد و قتال کے احکام کا ذکر چلا آرہا ہے اب ان آیات میں مسلمانوں کو جہاد کے ظاہری وباطنی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے کہ جہاد و قتال کے وقت ان امور کو خاص طور پر ملحوظ رکھیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو جب تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ اللہ تعالٰ ضعیف اور ناتواں اور بےسروسامان کو قوی اور سازوسامان والے پر غلبہ عطا کرنے پر قادر ہے اور جنگ بدر میں تم اس کا مشاہدہ بھی کرچکے ہو لہذا تم کو کافروں کے مقابلہ میں ضعیف اور کمزور نہ بننا چاہئے بلکہ جب کافروں کی جماعت…
Read the full tafseer →52: یہ پانچویں علت ہے۔ یہ بات منافقین نے مدینہ میں کہی تھی کیونکہ جنگ بدر میں کوئی منافق شریک نہیں ہوا۔ منافقین نے مدینہ میں مسلمانوں کے بارے میں کہا تھا کہ یہ لوگ تو اپنے مذہب کے پیچھے دیوانے ہوگئے ہیں۔ یہ اتنی قلیل تعداد (تین سو تیرہ) سے مشرکین کی اتنی بڑی فوج کا کس طرح مقابلہ کرسکیں گے۔ “ اغتروا بدینھم فخرجوا وھم ثلثمائة و بضعة عشر الی ذھاء الف ” (مدارک ج 2 ص 82) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا “ وَ مَنْ يَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰه الخ ” جو لوگ قلت عدد اور ضعف اسباب کے باوجود اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیتے ہیں وہ اپنی حکمت اور تدبیر سے ان کو غلبہ عطا کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
مدینے کے منافق :
گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کے اصول بتلائے گئے تھے ، پھر ان کی سازشوں اور نافرمانیوں اور ان کو دی جانے والی سزا کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کی ذلت و خواری ہوئی اور آخرت میں وہ دائمی سزا کے مستحق ہوں گے اب اسی ضمن میں منافقوں کے کردار کا ذکر بھی ہو رہا ہے ہجرت کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پر تین قسم کے لوگ تھے ایک قسم تو وہ صحابہ کرام تھے جو آپ پر ایمان لا کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے دوسری قسم کے لوگ وہ تھے جو غیر جانبدار تھے ، وہ نہ مخالف کرتے تھے اور نہ موافقت البتہ تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو ظاہر میں تو ایمان لے آئے مگر ان کے دل کفر پر اڑے…
Read the full tafseer →اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ غَرَّ ھٰٓؤُلَاۗءِ دِيْنُہُمْ 0 ۭ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ فَاِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 49
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
والقَوْلُ يستعمل علی أوجه :
أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى القصیدة والخطبة ونحوهما قَوْلًا .
الثاني :
يقال للمتصوّر في النّفس قبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
ترکیب : اذیقول ممکن ہے کہ معمول اذکر ہو یا زین کا ظرف ہو۔ الذین کفروا مفعول ہے یتوفی کا الملائکۃ فاعل ذوالحال یضربون حال وذوقوا ای یقولون معطوف ہوگا یضربون پر یہ بھی حال ہو کر ملائکہ کا مقولہ ہوگا اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو یعنی بعد موت کے ہم ان سے کہیں گے۔
تفسیر : چونکہ تزیین شیطانی کا ذکر آیا تھا کہ شیطان نے مکہ کے کافروں کو یوں گمراہ کر رکھا تھا۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ تزیین کچھ انہیں میں منحصر نہیں بلکہ مدینہ کے منافق کہ جن کے دل میں مرض شک و نفاق ہے بدر کے واقعہ کی نسبت مسلمانوں کو یہ کہتے تھے کہ ان کو ان کے دین نے مغرور کردیا ہے۔ محمد ﷺ کے وعدوں پر تین سو تیرہ ٹوٹے پھوٹے مسلمان…
Read the full tafseer →اِذْیَـقُوْلُ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ غَرَّھٰٓؤُلَآئِ دِیْنُھُمْ طوَمَنْ یَّتََوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ۔ (الانفال : 49)
(یاد کرو ! جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہتے تھے ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اور جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اللہ عزیز و حکیم ہے )
منافقین کا تبصرہ
مسلمان جب قریش کے مقابلے میں میدانِ بدر کی طرف نکلے تو جو لوگ صرف سر کی آنکھوں سے دیکھتے اور دماغ سے سوچتے تھے ان کے لیے یہ بات ناقابلِ فہم تھی کہ یہ مٹھی بھر لوگ قریش کے عظیم لشکر کا مقابلہ کیسے کرپائیں گے۔ افرادی قوت توجیسی کچھ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بدر کے موقع پر منافقین کا رد عمل۔
منافق کا لفظ ” نفق “ سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کہ چوہے کی ایسی بل جس کے دو منہ ہوں۔ اگر ایک منہ بند کردیا جائے تو چوہا دوسری طرف سے نکل جائے جب تک بل کے دونوں منہ بند نہ کیے جائیں چوہا قابو نہیں آسکتا۔ منافق کو اس لیے منافق کہتے ہیں کہ اگر اسے مسلمانوں کی طرف سے فائدہ ہو تو وہ اسلام اسلام پکارتا ہے اگر دین کے حوالے سے کسی آزمائش سے واسطہ پڑے تو وہ کافروں کا ہمدرد بن کر ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
انسانی جسم دو چیزوں سے مکمل ہوا ہے روح اور جسم، روح آفاقی ہے اور جسم زمین سے بنا ہے۔ جسم کی خوراک کا تعلق زمین سے ہے، روح کا تعلق…
Read the full tafseer →منافقین کا ڈھنڈورا :
آیت 49: اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ (اور وہ وقت یاد کرو جب منافقین کہتے تھے) مدینہ میں۔ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ (اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی) نمبر 1: یہ منافقین کی صفت ہے۔ نمبر 2۔ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو ایک کنارے پر تھے۔ اسلام میں ثابت قدم نہ تھے۔ غَرَّ ھٰٓؤُ لَآئِ دِیْنُھُمْ (ان کو ان کے دین نے بھول میں ڈال رکھا ہے) اس سے مراد وہ مسلمان تھے جنکوان کے دین نے دھوکہ میں مبتلا کیا کہ ایک ہزار کے مقابلہ میں تین سو سے کچھ اوپر مقابلہ کرنے آئے ہیں۔ پھر ان کو جوابًا کہا وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے) اپنا…
Read the full tafseer →تفسیر 49(اذ یقول المنفقون والذین فی قلوبھم مرض غرھولآء دینھم) یعنی مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈال دیا۔ یہ لوگ تھے جو مکہ میں کمزور تھے اسلام لا چکے تھے اور ان کے اقرباء نے ان کو ہجرت سے روک رکھا تھا۔ جب قریش بدر کی طرف نکلے تو ان کو زبردستی ساتھ لے آئے۔ جب انہوں نے مسلمانوں کی کم تعداد دیکھی تو شک میں مبتلا ہوگئے یامرتد ہوگئے اور کہنے لگے ان کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈالا ہے، یہ سب بھی مارے گئے ان میں سے قیس بن مغیرہ، ابو قیس بن القا کہ بن مغیرہ، مخزمیان حارث بن زمعہ بن اسود بن مطلب ، علی بن امیہ بن خلف حجحی، عاص بن منبہ بن حجاج۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (ومن یتوکل علی اللہ) یعنی…
Read the full tafseer →49۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب مسلمانوں کی فوج کفار کی فوج سے قریب ہوئی اور اللہ پاک نے مسلمان کو کفار کی نظر میں اور کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھلا دیا تو مشرک کہنے لگے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہو کر باوجود اس تھوڑی سی تعداد کے لڑنے آئے ہیں اس پر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس کمی اور بیشی پر نہ جاؤ خدا پر جو بھروسہ کرتا ہے اسے سرخروئی ہوتی ہے خدا بڑا زبردست اور حکمت والا ہے ابوجہل نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب کو تھوڑا دیکھ کر سرکشی کی راہ سے بات بھی کہی تھی کہ آج تک تو خیر مگر آج کے بعد پھر کبھی اللہ کی عبادت خالص نہ کی جائے گی کیونکہ وہ مشرک یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
آیت 45
(یایھا الذین امنوا اذالقیتم فۃ) ” اے ایمان والو ! جب ملو تم کسی گروہ کو “ یعنی کفار کا گروہ جو تمہارے ساتھ جنگ کرتا ہے (فاثبوتوا) ” تو ثابت قدم رہو “۔ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبرے سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ (لعلکم تفلحون) ” تاکہ تم فلاح پاؤ “ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤ جو تمہارا مطلوب و منشاء ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔
(واطیعوا اللہ و رسولہ) ” اور اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
جنگ میں اطاعت خدا اور رسول
قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
98 کفار کی روش سے بچنے کے لئے تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور دکھلاوا کرتے ہوئے نکلے تھے جیسا کہ کفار قریش اور مشرکین مکہ نکلے تھے، جو کہ اپنے فخر و غرور کے نشے میں چور اور بدمست و مخمور تھے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار قریش کا قافلہ سلامتی کے ساتھ نکل گیا اور وہ لوگ مسلمانوں کی زد سے بچ گئے تو امیر قافلہ ابو سفیان بن حرب نے لشکرکفار کی طرف پیغام بھیجا کہ چونکہ ہم سلامتی کے ساتھ نکل آئے ہیں، اس لیے اب لڑنے بھڑنے اور جنگ وجدال کی کوئی ضرورت نہیں۔ لہذا آپ سب لوگ اب واپس چلے جائیں۔ تو اس کے جواب میں ابو جہل اینڈ کمپنی نے نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
غزوہ بدر میں شیطان کی کفار کے لشکر کو ہمت افزائی اور شکست
تشریح : قرآن کا ایک خاص طریقہ ہے کہ ہر حکم کو حکمت اور دلیل کے ساتھ پیش کرتا ہے تاکہ سننے اور پڑھنے والے کو اللہ کے حکم کی فضیلت اور فائدہ اچھی طرح سمجھ آجائے۔ یہاں بھی شیطان کی چالوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے وہ کسی بھی صورت سے مسلمان کو راہ راست سے بھٹکانے کا سوچتا رہتا ہے۔ اس کو اللہ کی طرف سے یہ صلاحیت بھی دی گئی ہے کہ بعض اوقات وہ انسان کی شکل جانور کی شکل یا کسی بھی دوسری چیز یا مخلوق کی شکل اختیار کرسکتا ہے غرض یہ ہوتی ہے کہ مومن اور اچھے لوگوں کو ایمان اور نیکی سے بھٹکایا جاسکے ہاں بھی شیطان کا وہ کردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
آیات 49 تا 58
اسرار و معارف
بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔
دل کامرض
گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ان کے دینی جو ش نے ان کو بالکل دیوانہ بنادیا ہے۔ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تھوڑی سی تعداد ہے کوئی سروسامان بھی نہیں ہے حتی ٰ کہ لڑنے کے لیے ایک کے علاوہ دوسرا گھوڑا بھی نہیں ہے مگر چلے میں قریش کے مسلح اور عظیم الشان لشکر سے مقا بلہ کر کے پاگل ہی تو ہیں جو اپنی خو دعوت دے رہے ہیں ( کبیر ابن کثیر) صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ مسلمانوں کی دلیری دیکھ کر منافق طعن کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ غرور نہیں توکل نہیں ہے۔ ( موضح)10 اور زبر دست پر جس کا بھر وسا ہو اس کا دل یقینا مظبوط ہوگا اس لیے مسلمان قریش کے عظیم الشان لشکر کے مقابلہ میں خوش اور آمادہ ہیں۔ ج ( کذافی الو حیدی)
Read the full tafseer →(8:49) غر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے فریب دیا۔ دھوکہ دیا۔ غرور مصدر (باب نصر) ۔ ھؤلائ۔ ای المسلمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیات : 48 تا 49
لغات القرآن۔
زین۔ خوبصورت بنا دیا۔ لاغالب۔ کوئی غالب نہ آسکے گا۔ جار۔ پڑوسی۔ ترءت۔ دیکھا۔ نکص۔ الٹا پھر گیا۔ عقبیہ۔ (عقبین۔ عقب) ۔ ایڑیاں۔ انی بریء۔ بیشک میں الگ ہوں۔ میرا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ انی اری۔ بیشک میں دیکھ رہا ہوں۔ لا ترون۔ تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ غر۔ دھوکے میں ڈال دیا۔ ھولاء۔ ان لوگوں کو۔
تشریح : ان آیات میں اہل ایمان کو شیطان کی چال بازویں سے ہوشیار رہنے کے لئے فرمایا جا رہا ہے کیونکہ شیطان سو بھیس بدل کر ایمان والوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے۔
مفسرین نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار کا یہ لشکر مدینہ کیطرف بڑھ رہا تھ تو راستے میں بنو کنانہ تھے جن…
Read the full tafseer →کفار کی موت
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جب مسلمانوں کی فوج کفار کی فوج سے قریب ہوئی اور اللہ نے مسلمانوں کو کفار کی نظر میں اور کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا کرکے دکھایا تو مشرک کہنے لگے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہوکر باوجود اس تھوڑی تعداد کے لڑنے آئے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کمی بیشی پر نہ جاؤ خدا پر جو بھروسہ کرتا ہے اسے سرخ روئی (کامیابی) ہوتی ہے۔ خدا بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منافقین نے کیونکر بزدلی کا ثبوت دیا ، انہیں تعجب تھا کہ مٹھی بھر مسلمان کس طرح غالب آجائیں گے وہ کہتے کہ یہ مذہب کی محبت میں اندھے ہو رہے ہیں ، مگر ان کو معلوم نہیں تھا کہ کامیابی کا تعلق ایمان و توکل سے ہے ، اللہ اپنے دوستوں کو ذلیل نہیں کرتا ۔
حل لغات :
ترآء ت : نظر پڑے ، دکھائی دینے ، نکص لوٹ گیا ، پھر گیا ، غر : غرور سے ہے یعنی دھوکا دیا ۔
Read the full tafseer →49 وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یوں کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے مغرور کررکھا اور ان کو دھوکہ میں مبتلا کردیا ہے حالانکہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے یعنی اوس و خزرج کے منافق اور ضعیف الاعتقاد مسلمان یا وہ غیر مہاجر مسلمان جن کو ابو جہل زبردستی مدینہ والوں سے لڑنے کے لئے لے آیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی اس بےسروسامانی کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ حالت جنگ کنے کے قابل نہ تھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلمان دھوکہ میں ہیں اور ان کو ان کے دین نے بھول میں ڈال دیا ہے کہ قریش کی مسلح فوج سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 2۔ مدینہ والوں میں سے۔
3۔ مکہ والوں میں سے۔
4۔ غرض ظاہری سامان وبے سامانی پر مدار نہیں قادر کوئی اور ہی ہے۔
Read the full tafseer →منافقوں اور دوسرے دل کے روگیوں کا بیان جو انہوں نے مسلمانوں کو دیکھ کردیا :
68: بلاشبہ منافقین بھی ایک قسم کے روگی ہی تھے لیکن وہ لوگ جن کا نفاق واضح تھا اور وہ اپنے گروہ کے سردار تھے ان کے رویئے اور دوسرے وہ لوگ جو ابھی نفاق میں بھی کھلے نہ تھے اور مسلمان بھی نہ ہوئے تھے دونوں اوصاف کے لحاظ سے بلاشبہ ایک دوسرے کے قریب قریب تھے اور آپس میں مل کر مسلمانوں کے خلاف کھلی باتیں کرلیتے تھے اور جو ابھی تک زندگی اور موت ، فتح و شکست ، عزت و ذلر کے اسلامی معیار سے ابھی واقف نہ تھے انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان تعداد میں بہت کم ہیں اور نہتے بھی ہیں یہ اتنا بڑے لشکر کا مقابلہ نہیں کرسکتے یہ لوگ اتنی بڑی…
Read the full tafseer →The Anatomy of Shaitanic Deception and Personal Defence
There are some elements of guidance we receive from what has been mentioned in this verse:
(1) That the 'Shaitan' is man's enemy who employs all sorts of tricks, guises and stratagems to bring loss to him. There are occasions when he would simply inject a scruple in the heart and harass his victim and there are times when he would deceive man by appearing before him.
(2) That Allah Ta` ala has given him the ability to appear before man in various guises. There is a well-known book of Hanaf'i jurisprudence called آکام المرجان فی أحکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
39. Observing that a small band of resourceless Muslims was getting ready to confront the powerful Quraysh, the hypocrites as well as those who were heedless of God and cared only for worldly interests, often tended to say to one another that the religious passion of the Muslims had driven them to utter fanaticism and zealotry. They were sure that the Muslims would face a total rout on the battlefield. They were puzzled by how the Prophet (peace be on him), in whom the Muslims believed, had cast such a spell over them that they were altogether incapable of rational calculation and were hence…
Read the full tafseer →