Explained with ayahs 47–49
میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا
جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لئے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ چناچہ ابو جہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہوجائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
سورة الْاَنْفَال 38
اشارہ ہے کفار قریش کی طرف، جن کا لشکر مکہ سے اس شان سے نکلا تھا کہ گانے بجانے والی لونڈیاں ساتھ تھیں، جگہ جگہ ٹھہر کر رقص و سرور اور شراب نوشی کی محفلیں برپا کرتے جا رہے تھے، جو جو قبیلے اور قریے راستہ میں ملتے تھے ان پر اپنی طاقت و شوکت اور اپنی کثرت تعداد اور اپنے سروسامان کا رعب جماتے تھے اور ڈینگیں مارتے تھے کہ بھلا ہمارے مقابلہ میں کون سر اٹھا سکتا ہے۔ یہ تو تھی ان کی اخلاقی حالت۔ ، اور اس پر مزید لعنت یہ تھی کہ ان کے نکلنے کا مقصد ان کے اخلاق سے بھی زیادہ ناپاک تھا۔ وہ اس لیے جان و مال کی بازی لگانے نہیں نکلے تھے کہ حق اور راستی اور انصاف کا علم بلند ہو، بلکہ اس لیے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اس وقت کا ان سے ذکر کیجئے جب کہ شیطان نے ان (کفار) کو (بذریعہ وسوسہ) انکے اعمال (کفریہ عداوت و مخالفت رسول اللہ ﷺ (خوشنما کرکے دکھلائے (کہ انہوں نے ان باتوں کو اچھا سمجھا) اور (وسوسہ سے بڑھ کر یہ کیا کہ بالمشافہ ان سے) کہا کہ (تم کو وہ قوت و شوکت ہے کہ تمہارے مخالف) لوگوں میں سے آج کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور میں تمہارا حامی ہوں (نہ بیرونی دشمنوں سے ڈرو اور نہ اندرونی دشمنوں سے اندیشہ کرو) پھر جب دونوں جماعتیں (کفار و مسلیمن کی) ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئیں (اور اس نے ملائکہ کا نزول دیکھا) تو وہ الٹے پاؤں بھاگا اور یہ کہا کہ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں (میں حامی وامی کچھ…
Read the full tafseer →وَاِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّىْ جَارٌ لَّكُمْ ۚ فَلَمَّا تَرَاۗءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰي عَقِبَيْهِ وَقَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكُمْ اِنِّىْٓ اَرٰي مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ ۭوَاللّٰهُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔
یعنی قریش کے اس بطر و ریا کے مظاہرے میں تعداد اور وسائل کی کثرت کو تو دخل تھا ہی، شیطان نے بھی جس کو اللہ کی راہ مانرے کے کام ہی کے لیے مہلت ملی ہوئی ہے، ان کو پٹی پڑھائی کہ شاباش، آگے بڑھو، بھلا آج کس میں دم ہے کہ تمہارا مقابلہ کرسکے، میں تمہارا ساتھی اور مددگار ہوں لیکن وہ اس وقت تک تو ان…
Read the full tafseer →48۔ 1 مشرکین جب مکہ سے روانہ ہوئے تو انہیں اپنے حریف قبیلے بنی بکر بن کنانہ سے اندیشہ تھا کہ وہ پیچھے سے انہیں نقصان نہ پہنچائے چناچہ شیطان سراقہ بن مالک کی صورت بنا کر آیا، جو بنی بکر بن کنانہ کے ایک سردار تھے، اور انہیں نہ صرف فتح و غلبہ کی بشارت دی بلکہ اپنی حمایت کا بھی پورا یقین دلایا۔ لیکن جب ملائکہ کی صورت میں امداد الٰہی اسے نظر آئی تو ایڑیوں کے بل بھاگ کھڑا ہوا۔
48۔ 2 اللہ کا خوف تو اس کے دل میں کیا ہونا تھا ؟ تاہم اسے یقین ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کو اللہ کی خاص مدد حاصل ہے مشرکین ان کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔
48۔ 3 ممکن ہے یہ شیطان کے کلام کا حصہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اللہ…
Read the full tafseer →34: شیطان کی طرف سے یہ یقین دہانی اس طرح بھی ہوسکتی ہے کہ اس نے مشرکین کے دل میں یہ خیال ڈالا ہو، لیکن اگلے جملے میں جو واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے اس سے ظاہر یہی ہے کہ اس نے کسی انسانی شکل میں آکر مشرکین کو اکسایا تھا ؛ چنانچہ حافظ ابن جریر ؒ وغیرہ نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جب مشرکین مکہ جنگ کے ارادے سے روانہ ہونے لگے تو انہیں یہ خطرہ لاحق ہوا کہ انکے پیچھے ان کے گھروں پر قبیلہ بکر کے لوگ حملہ نہ کردیں جن سے ان کی پرانی دشمنی چلی آتی تھی، اس موقع پر شیطان اس قبیلے کے ایک سردار سراقہ کے روپ میں ان کے سامنے آیا اور اس نے اطمینان دلایا کہ تمہارے لشکر کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کوئی تم پر غالب نہیں…
Read the full tafseer →یہاں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بارے میں متعدد روایات منقول ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا درجہ نہیں رکھتی۔ صرف ایک حدیث ہے جو امام مالک نے موطا میں نقل کی ہے۔ احمد روایت کرتے ہیں ، عبدالمالک ابن عبدالعزیز سے ، ابن الماجشون سے ، مالک سے ، ابراہیم ابن ابو عبلہ سے ، طلحہ ابن عبیداللہ ابن کریز سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابلیس یوم عرفہ میں جس قدر چھوٹا سا ، حقیر سا غضبناک ہوتا ہے۔ اس قدر عام حالات میں نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے کہ اس دن رحمت نازل ہوتی ہے۔ اللہ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔ ہاں یوم بدر کے دن بھی وہ ایسا ہی تھا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ…
Read the full tafseer →6 قریش اپنی قوت و جمعیت پر مغرور تھے لیکن بنی کنانہ سے ان کی چھیڑ چھاڑ رہتی تھی۔ خطرہ یہ ہوا کہ کہیں بنی کنانہ کامیابی کے راستے میں آڑے نہ آجائیں۔ فوراً شیطان ان کی پیٹھ ٹھونکنے اور ہمت بڑھانے کے لیے کنانہ کے سردار اعظم سراقہ بن مالک کی صورت میں اپنی ذریت کی فوج لے کر نمودار ہوا اور ابو جہل وغیرہ کو اطمینان دلایا کہ ہم سب تمہاری امداد و حمایت پر ہیں۔ " کنانہ کی طرف سے بےفکر رہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جب بدر میں زور کا رن پڑا اور شیطان کو جبرائیل وغیرہ فرشتے نظر آئے تو ابو جہل کے ہاتھ میں سے ہاتھ چھڑا کر الٹے پاؤں بھاگا۔ ابو جہل نے کہا، سراقہ ! عین وقت پر دغا دے کر کہاں جاتے ہو، کہنے لگا میں…
Read the full tafseer →آیت 48 وَاِذْ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ وَقَالَ لاَ غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ
یعنی ان کے دلوں میں شیطان نے متکبرانہ خیالات پیدا کردیے تھے اور انہیں خوش فہمی میں مبتلا کردیا تھا کہ تمہارا یہ سازوسامان ‘ یہ اسلحہ ‘ یہ اتنا بڑا لشکر ‘ یہ سب کچھ غیر معمولی اور انہونی صورت حال ہے۔ عرب کی تاریخ میں اس طرح کے مواقع بہت کم ملتے ہیں۔ کس میں ہمت ہے کہ آج اس لشکر کے سامنے ٹھہر سکے اور کس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ آج تمہارے اوپر غلبہ پا سکے ؟
وَاِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ ج فَلَمَّا تَرَآءَ تِ الْفِءَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَقَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْکُمْ اِنِّیْٓ اَرٰی مَا…
Read the full tafseer →53 جنگ بدر میں سراقہ بن مالک کا موجود ہونا اور کافروں کی حوصلہ افزائی :۔ قریش اور بنو کنانہ کی آپس میں دشمنی تھی اور انہیں یہ خطرہ تھا کہ بنو کنانہ کہیں مسلمانوں کی حمایت کر کے ہمارے لیے خطرہ یا شکست کا باعث نہ بن جائیں۔ ان کے اس خدشہ کو مٹانے کے لیے شیطان خود بنو کنانہ کے رئیس سراقہ بن مالک کی شکل میں کافروں کے لشکر میں آموجود ہوا اور ابو جہل سے کہنے لگا کہ ہماری طرف سے تم لوگ بالکل مطمئن رہو۔ اس معاملہ میں ہم لوگ تمہاری حمایت کریں گے اور مل کر مسلمانوں کا استیصال کریں گے۔ ویسے بھی تم لوگوں کی فتح یقینی ہے۔ تمہاری اتنی بڑی جمعیت کے سامنے ان تھوڑے سے مسلمانوں کی کیا حیثیت ہے۔ پھر جب میدان کار…
Read the full tafseer →74 ۔ (جو وہ اسلام و رسول اسلام ﷺ کی مخالفت میں کررہے تھے) ۔ (آیت) ” میں کالذین بہت غور کے قابل ہے مسلمان ظاہر ہے کہ بطرورئاء میں مبتلا نہ تھے لیکن انہیں تصریح کے ساتھ ممانعت اس امر میں مشرکین کے ساتھ مشابہ ہونے سے بھی کی جارہی ہے، آج کے مسلمان سوچیں کہ وہ اولیاء اللہ ہونے کے مدعی ہو کر کن کن چیزوں میں اور کیسی کیسی حرام ومکروہ چیزوں میں مشابہت اعداء اللہ سے حاصل کرتے جارہے ہیں۔ شیطان کی اصلی کارفرمائی یہی تو ہے کہ وہ ہر معصیت، ہر کفر کو انسان کی نظر میں خوشمنا ودلفریب بنا دیتا ہے اس سے زیادہ کوئی قوت اسے ہرگز حاصل نہیں۔ انسان کی تربیت اگر صحیح ہوئی ہے۔ اور اس نے اپنی عقل سلیم سے کام لینا سیکھ…
Read the full tafseer →واذزین لھم الشیطٰن اعمالھم (الآیة) ابن جریر نے حضرت عنداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ
جب قریش مکہ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے مکہ سے روانہ ہوا تو ان کے دلوں پر ایک خطرہ اس کا سوار تھا کہ ہمارے قریب میں قبیلہ بنو بکر بھی ہمارا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ ہم مسلمانوں کے مقابلہ میں جائیں اور یہ دشمن قبیلہ موقع پا کر ہمارے گھروں، عورتوں، بچوں پر چھاپہ مار دے تو اچانک شیطان سراقہ بن مالک کی صورت میں اس طرح سامنے آیا کہ اس کے ہاتھ میں جھنڈا اور اس کے ساتھ ایک دستہ بہادر فوج کا ہے سراقہ اس علاقہ اور قبیلہ کا بڑا سردار تھا جس سے حملہ کا خطرہ تھا، شیطان نے آگے بڑھ کر قریشی جوانوں کے لشکر سے خطاب…
Read the full tafseer →واز زین لھم الشیطن اعمالھم وقال لا غالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم اور یاد کرو اس حالت کو جب کہ شیطان نے ان کے (برے) اعمال کو ان کی نظروں میں اچھا کر کے دکھایا تھا اور شیطان نے ان سے کہا تھا کہ آج کوئی شخص تم پر غالب نہیں آسکتا۔ اور میں (بنی کنانہ کی طرف سے) تمہارا ضامن ہوں۔
اعمالھم سے مراد ہیں برے اعمال ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرنا ‘ آپ کو قتل کرنے اور آپ سے لڑنے کا ارادہ کرنا۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ قریش نے جب دارالندوہ میں اجتماع کیا تھا تو شیطان بھی وہاں سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں آکر شریک جلسہ ہوگیا تھا۔ قریش اور بنی بکر کے درمیان جو جنگ تھی ‘ اس کا ذکر بھی ہم نے کردیا ہے۔ لا…
Read the full tafseer →(48) اور ابلیس نے ان کے لڑائی کے لیے نکلنے کا وانھیں خوشنما کرکے دکھلایا اور یہ وسوسہ اور خیال دل میں ڈالا کہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ تم پر غالب آنے والے نہیں اور میں تمہاری مدد کروں گا۔
پھر جب مسلمانوں کی جماعتیں اور کافروں کی جماعتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئیں اور ابلیس نے حضرت جبرائیل امین کو فرشتوں کے ساتھ دیکھا تو واپس بھاگا اور کافروں سے کہنے لگا کہ میرا تم سے اور تمہارے قتال سے کوئی تعلق نہیں، میں جبرائیل امین ؑ کو دیکھ رہا ہوں اور تم نہیں دیکھتے، شیطان کو اس بات کا خوف ہوا کہ کہیں حضرت جبرائیل ؑ اس کو پکڑ کر سب لوگوں کو اس کی صورت سے آشنا نہ کردیں کہ پھر دنیا میں اس کی کوئی…
Read the full tafseer →وَاِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ : ”جَارٌ“ کا معنی یہاں مجیر، معین، ناصر یعنی حمایتی و مدد گار ہے۔ ”نَكَصَ“ الٹے پاؤں پیچھے ہٹا۔ شیطان کے ان کے لیے ان کے اعمال کو مزین کرنے، انھیں ان کے غالب ہونے اور اپنی حمایت کا یقین دلانے کی تفسیر بعض مفسرین، مثلاً طبری، ابن کثیر اور قرطبی ؒ نے ابن عباس ؓ سے نقل فرمائی ہے کہ قریش اور بنو کنانہ کی باہم دشمنی تھی اور انھیں ان کی طرف سے خطرہ تھا کہ وہ پیچھے سے ہم پر حملہ نہ کردیں۔ شیطان نے ان کے سردار سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں آکر ان کی طرف سے قریش کو بےفکر ہوجانے کا اور اپنی حمایت کا یقین دلایا اور اپنے لشکر کو بھی لے کر آیا، مگر بدر…
Read the full tafseer →روایت ہے کہ اس دن شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں ان کے پاس آیا اور سراقہ بن بکر بنی کنانہ میں سے تھا، اور قریش بنی بکر کے بارے خوف رکھتے تھے کہ کہیں وہ ان کے پیچھے آجائیں، کیونکہ انہوں نے ان کا ایک آدمی قتل کیا ہوا تھا۔ پس جب وہ اس شکل میں ان کے پاس آیا تو کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے اسے کوئی خبر نہیں دی۔
حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : غزوہ بدر کے دن ابلیس اپنے چھنڈے اور اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پاس آیا اور ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ وہ ہر گز شکست نہیں دیئے جاسکیں گے اور وہ اپنے آباء کے دین پر لڑ رہے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم حضرت محمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
1۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذ زین لہم الشیطن اعمالہم “ مراد ہے کہ بدر کے دن شیطان نے قریش کے اعمال مزین کردیئے۔
جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھ کر شیطان کا بھاگنا۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس شیاطین کے ایک لشکر میں آیا اور اس کے ساتھ ایک جھنڈا تھا بنومدیح کے ایک آدمی سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں تھا اور شیطان نے کہا (آیت) ” لا غالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم “ جبرائیل جب ابلیس کے قریب آئے اس وقت اس کا ہاتھ مشرکین کے ایک آدمی کے ہاتھ میں تھا جب اس نے جبرائیل کو دیکھا تو ہاتھ کھینچ لیا…
Read the full tafseer →وَاِذْ [ اور جب ] زَيَّنَ [ مزین کیا ] لَهُمُ [ ان کے لیے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان نے ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ] وَقَالَ [ اور اس نے کہا ] لَا غَالِبَ [ کوئی غلبہ پانے والا نہیں ہے ] لَكُمُ [ تم لوگوں پر ] الْيَوْمَ [ آج کے دن ] مِنَ النَّاسِ [ لوگوں میں سے ] وَاِنِّىْ [ اور یہ کہ میں ] جَارٌ [ حمایتی ہوں ] لَّكُمْ ۚ [ تمہارے لیے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] تَرَاۗءَتِ [ آمنے سامنے ہوئیں ] الْفِئَتٰنِ [ دو جماعتیں ] نَكَصَ [ تو وہ پلٹا ] عَلٰي عَقِبَيْهِ [ اپنی دونوں ایڑیوں پر ] وَقَالَ [ اور اس نے کہا ] اِنِّىْ [ کہ میں ] بَرِيْۗءٌ [ بری ہوں ] مِّنْكُمْ [ تم لوگوں سے ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ]…
Read the full tafseer →مشرکین کو شیطان کا جنگ کے لیے پھسلانا پھر بدر کے میدان کا رزار سے بھاگ جانا
شیطان ملعون ہمیشہ سے انسان کا دشمن ہے وہ چاہتا ہے کہ کافر کفر پر جمے رہیں اور اہل اسلام سے جنگ کرتے رہیں اس کی خواہش ہے کہ کفر پھیلے اور اسلام کی اشاعت نہ ہو، جیسے وہ قریش مکہ کے اس مشورے میں شیخ نجدی کی صورت بنا کر شریک ہوگیا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے قتل کرنے یا شہر بدر کرنے کے مشورے کر رہے تھے اسی طرح سے وہ غزوۂ بدر کے موقعہ پر بھی آموجود ہوا۔ اول تو وہ مکہ معظمہ ہی میں اس وقت مشرکین کے پاس پہنچا جب وہ بدر کے لیے روانہ ہونے کا مشورہ کر رہے تھے اور ساتھ ہی انہیں بنی بکر کی دشمنی کا بھی خیال ہو رہا تھا کہ ممکن ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
ذکر آداب جہاد وقتال
قال اللہ تعالی۔ یا ایہا الذین امنوا اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ عزیز حکیم
(ربط): اوپر سے بدر کے واقعات اور جہاد و قتال کے احکام کا ذکر چلا آرہا ہے اب ان آیات میں مسلمانوں کو جہاد کے ظاہری وباطنی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے کہ جہاد و قتال کے وقت ان امور کو خاص طور پر ملحوظ رکھیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو جب تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ اللہ تعالٰ ضعیف اور ناتواں اور بےسروسامان کو قوی اور سازوسامان والے پر غلبہ عطا کرنے پر قادر ہے اور جنگ بدر میں تم اس کا مشاہدہ بھی کرچکے ہو لہذا تم کو کافروں کے مقابلہ میں ضعیف اور کمزور نہ بننا چاہئے بلکہ جب کافروں کی جماعت…
Read the full tafseer →51: یہ چوتھی علت ہے۔ جنگ بدر کی اہمیت کو ابلیس نے بھی محسوس کرلیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اگر فتح مسلمانوں کی ہوئی تو عرب سے کفر و شرک کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس لیے مشرکین کی تائید وحمایت کے لیے وہ بھی ایک عرب سردار سراقہ بن مالک کنانی کی صورت میں شیاطین کی فوج لے کر میدان جنگ میں آ نمودار ہوا۔ اور آتے ہی کہا اب میں کمک لے کر تمہاری پشت پناہی کیلئے آگیا ہوں۔ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔ مشرکین یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ لیکن جب اس نے فرشتوں کے جتھے دیکھے اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو مع شیاطین میدان سے بھاگ نکلا۔ اس وقت وہ حارث بن ہشام کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ربط آیات :
گزشتہ درس میں ان چھ باتوں کا ذکر ہوچکا ہے جو دشمن سے مقابلے کے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہیں۔ وہاں پر فرمایا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ میدان جہاد میں اترو تو پھر ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو تا کہ تمہیں فلاح نصیب ہو ۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تلقین کی گئی کہ یہ ہر حالت میں ضروری ہے اس کے بعد فرمایا کہ اہل ایمان کو آپس میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے ورنہ وہ کمزور ہوجائیں گے اور ان کی ہوا اکھڑ جائیگی اور چھٹی بات یہ تھی کہ ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اب ساتویں بات کا ذکر ان آیات میں آرہا ہے۔
فرمایا اگر ان…
Read the full tafseer →وَاِذْ زَيَّنَ لَہُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّىْ جَارٌ لَّكُمْ 0 ۚ فَلَمَّا تَرَاۗءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰي عَقِبَيْہِ وَقَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكُمْ اِنِّىْٓ اَرٰي مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللہَ 0 ۭ وَاللہُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ 48 ۧ
زين
الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين،
( زی ن ) الزینہ
زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
ترکیب : فتفشلوا موضع نصب میں ہے کیونکہ جواب نہی ہے اور اسی طرح تذھب ہے۔ بطر اور ریاء الناس مفعول خرجوا کے
ویصدون معطوف ہے معنی مصدر پر غالب مبنی ہے اسم لا کی وجہ سے۔ لکم اس کی خبر الیوم معمول خبر ہے۔ من الناس حال ہے ضمیر لکم سے فلما تراءت شرط نکص رجع جواب علی عقبیہ حال ہے ای ھارباً وقال معطوف ہے نکص پر۔
تفسیر : فتح بدر کے سامان غیبی ذکر فرما کر اور یہ بات جتلا کر کہ اللہ تمہارا مددگار ہے۔ مسلمانوں کو یہ چند حکم دیتا ہے۔ اول یہ کہ جب تمہارا لشکر مخالفین سے مقابلہ ہوا کرے تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو خوب یاد کیا کرو کیونکہ یہ فتح و ظفر اس کی طرف سے ہے اور نیز اس کی یاد سے ہر مشکل آسان ہوجاتی…
Read the full tafseer →وَاِذْ زَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ وَقَالَ لَاغَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ ج فَلَمَّا تَرَآئَ تِ الْفِئَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَقَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّنْکُمْ اِنِّیْٓ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ ط وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ع (الانفال : 48)
(اور یاد کرو ! جب مزین کردیئے ان کے لیے شیطان نے ان کے اعمال اور کہا کہ آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں ہوگا اور میں تمہارا حمائیتی ہوں تو جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو وہ الٹا پھرا اپنی ایڑیوں پر اور بولا کہ میں تم سے بری ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہاں ہوں جو تم نہیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بدر کے دن شیطان کا کردار۔ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا، فخر و غرور اور نمود و نمائش کا مظاہرہ کرنا شیطانی کام ہے۔ شیطان ان کاموں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔
اللہ کے راستے کو اختیار کرنا، عاجزی اپنانا اور فخر و غرور، ریاکاری سے اجتناب کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کا نتیجہ ہے اس کے مقابلے میں فخر و غرور، نمود و نمائش اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں رکاوٹ بننا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ شیطان برائی پر پکا رکھنے کے لیے رواج، خاندانی روایات اور برائی کو خوبصورت بنا کر فیشن کے طور پر دکھاتا ہے۔ اکثر اوقات شیطان انسانوں کے ذریعے ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور کبھی خود بھی…
Read the full tafseer →تریین شیطانی :
آیت 48: وَاِذْ زَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ (اور اس وقت کا ان سے ذکر کرو جب کہ شیطان نے ان کو ان کے اعمال خوشنما کر کے دکھائے اور کہا کہ لوگوں میں سے آج تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں) اذکروا۔ اس وقت کو یاد کرو جب شیطان نے ان کے لئے اعمال کو مزین کردیا۔ وہ اعمال جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں کئے تھے۔ اور ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ وہ بالکل مغلوب نہ ہونگے۔ غالب یہ مبنی بالفتح ہے جیسے لارجل لکم موضع رفع میں لا کی خبر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے لا غالب کائن لکم کوئی غالب تم پر ہونے والا نہیں۔ وَاِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ…
Read the full tafseer →48(واذ زین لھم الشیطن اعمالھم) یہ ” تزیین “ تھی کہ جب وہ نکلنے لگے تھے تو بنو بکر کا خوف تھا جس کی وجہ سے وہ واپس جاتے ہی لگے تھے کہ شیطان اپنے شیطانوں کے لشکر کے ساتھ جھنڈا لے کر آگیا اور خود سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں تھا (وقال لاغالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم) یعنی تمہیں بنو کنانہ سے پناہ دیتا ہوں (فلما ترآء ت القتن) تو شیطان نے فرشتوں کے اثرات دیکھ لئے کہ وہ آسمان اتر رہے ہیں اور جان گیا کہ یہ لوگ ان اک مقابلہ نہ کرسکیں گے (نکص علی عقبہ) ضحاک کا قول ہے کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا۔ نضر بن شمیل کا قول ہے کہ قہقری پیٹھ پھیر کر بھاگا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ جب آپس میں آمنا سامنا ہوا…
Read the full tafseer →48۔ طبرانی ‘ مغازی محمد بن اسحاق اور تفسیر ابن ابی حاتم میں شان نزول اس آیت کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو کچھ بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ نے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کی غرض سے مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو بہ سبب اس کے کہ مشرکین مکہ سے اور قبیلہ بنی بکر سے مدت سے عداوت تھی اس لئے مشرکین مکہ کے جی میں یہ خیال گذرا کہ ایسا نہ ہو آج پچھلی عداوت کے سبب سے قبیلہ بنی بکر بھی ہماری مخالفت پر کھڑا ہوجاوے اس صورت میں لشکر اسلام اور قبیلہ بنی بکر دو لشکروں سے ہم کو مقابلہ کرنا پڑے اس خیال سے مشرکین مکہ سے نکلنے میں ذرا پس وپشل کر رہے تھے شیطان نے اتنے میں کیا دھوکا دیا کہ بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
آیت 45
(یایھا الذین امنوا اذالقیتم فۃ) ” اے ایمان والو ! جب ملو تم کسی گروہ کو “ یعنی کفار کا گروہ جو تمہارے ساتھ جنگ کرتا ہے (فاثبوتوا) ” تو ثابت قدم رہو “۔ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبرے سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ (لعلکم تفلحون) ” تاکہ تم فلاح پاؤ “ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤ جو تمہارا مطلوب و منشاء ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔
(واطیعوا اللہ و رسولہ) ” اور اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
جنگ میں اطاعت خدا اور رسول
قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
98 کفار کی روش سے بچنے کے لئے تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور دکھلاوا کرتے ہوئے نکلے تھے جیسا کہ کفار قریش اور مشرکین مکہ نکلے تھے، جو کہ اپنے فخر و غرور کے نشے میں چور اور بدمست و مخمور تھے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار قریش کا قافلہ سلامتی کے ساتھ نکل گیا اور وہ لوگ مسلمانوں کی زد سے بچ گئے تو امیر قافلہ ابو سفیان بن حرب نے لشکرکفار کی طرف پیغام بھیجا کہ چونکہ ہم سلامتی کے ساتھ نکل آئے ہیں، اس لیے اب لڑنے بھڑنے اور جنگ وجدال کی کوئی ضرورت نہیں۔ لہذا آپ سب لوگ اب واپس چلے جائیں۔ تو اس کے جواب میں ابو جہل اینڈ کمپنی نے نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
غزوہ بدر میں شیطان کی کفار کے لشکر کو ہمت افزائی اور شکست
تشریح : قرآن کا ایک خاص طریقہ ہے کہ ہر حکم کو حکمت اور دلیل کے ساتھ پیش کرتا ہے تاکہ سننے اور پڑھنے والے کو اللہ کے حکم کی فضیلت اور فائدہ اچھی طرح سمجھ آجائے۔ یہاں بھی شیطان کی چالوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے وہ کسی بھی صورت سے مسلمان کو راہ راست سے بھٹکانے کا سوچتا رہتا ہے۔ اس کو اللہ کی طرف سے یہ صلاحیت بھی دی گئی ہے کہ بعض اوقات وہ انسان کی شکل جانور کی شکل یا کسی بھی دوسری چیز یا مخلوق کی شکل اختیار کرسکتا ہے غرض یہ ہوتی ہے کہ مومن اور اچھے لوگوں کو ایمان اور نیکی سے بھٹکایا جاسکے ہاں بھی شیطان کا وہ کردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیات 45 تا 48
اسرار و معارف
جنگ اور جہاد
اسلام نے جنگ کو بھی جہاد میں بدل دیا اور ایک بالکل نیا فلسفہ عطا فرمایا جنگ تو اقوام عالم میں پہلے سے عام تھی اسلام نے اس میں ایک بہت بڑی تبدیلی یہ کردی کہ جنگ میں مخالف کو تباہ کرنا اس کی طاقت کو ختم کرنا اور اسے ذلیل ورسوا کرنا لوٹ مار آگ لگا دنیا وغیرہ سب امور ہوتے تھے ۔ اسلام نے جہاد کا لفظ دیا جو جہد یعنی کوشش اور محنت سے بنا ہے اور جہاد سے مرادمخالف کی اصلاح اور اس کی بھی بہتری چاہتا ہے ۔ اسی لیے آپ اسلامی افواج کو دی گئی ہدایات کا مطالعہ کریں تو یہ ملے گا کہ کسی نہتے آدمی پر تلوارنہ اٹھائی جائے فصل خراب نہ کئے جائیں درخت نہ کاٹے جائیں عبادت…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی ان کے ذہنوں یہ غرور بھر دیا، فالقول مجاز عن الو سو ستہ ابن جریر (رح) وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ قریش اور بنو کنانہ میں سخت دشمنی تھی جب قریش مسلمانوں سے مقابلہ کے لیے نکلے تو انہیں ڈرہوا کہ کہیں پیچھے سے بنو کنا ہم پر حملہ نہ کردیں اس وقت شیطان بنو کنانہ کے ایک سردار سراقہ بن مالک کی صورت میں ان کے ساتھ شریک ہوگیا اور اپنے ساتھ ایک جھنڈا اور شیطا نوں کا ایک لشکر بھی لے آیا۔ اسی وقت قریش سے اس نے وہ بات کہی جو اس آیت میں مذکور ہے ( ابن کثیر) واضح رہے کہ شیطان کا انسانی شکل میں آنان مستبعدا نہیں فالقول علی مضاۃ ا حقیقی۔
7 یعنی سب کچھ بھول گیا اور بھاگ نکلا۔7…
Read the full tafseer →(8:48) جار پڑوسی۔ ہمسایہ۔ مجازا حمایتی۔ مددگار۔ رفیق۔
تراءت وہ سامنے ہوئی۔ وہ روبرو ہوئی۔ وہ دیکھنے لگی۔ تراء ی (تفاعل) سے ماضی واحد مؤنث غائب۔ تراء ی۔ ایک دوسرے کے باہم اس طرح مقابل اور قریب ہونا کہ یہ اس کو اور وہ اس کو دیکھ سکے۔ رای۔ مادہ ۔ مہموز العین و ناقص یائی۔ رأی یری رأیا و رؤیۃ۔ اس کا امر رہے۔ تراءت الفئتین ای تلافی الفریقان۔ جب دونوں فریق بالمقابل ہوئے۔
نکص۔ نکص و نکوص۔ مصدر۔ (باب ضرب و نصر) الٹے پاؤں بھاگنا۔ بددل ہونا۔ نکص وہ الٹے پاؤں بھاگا۔ نکص کے اصل معنی ہیں جس کام کے درپے ہو اس سے لوٹ جانا۔ پلٹ جانا۔
عقبیہ۔ اس کی دونوں ایڑیاں۔ عقب۔ واحد ۔ اعقاب جمع۔
شدید العقاب۔ سخت سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیات : 48 تا 49
لغات القرآن۔
زین۔ خوبصورت بنا دیا۔ لاغالب۔ کوئی غالب نہ آسکے گا۔ جار۔ پڑوسی۔ ترءت۔ دیکھا۔ نکص۔ الٹا پھر گیا۔ عقبیہ۔ (عقبین۔ عقب) ۔ ایڑیاں۔ انی بریء۔ بیشک میں الگ ہوں۔ میرا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ انی اری۔ بیشک میں دیکھ رہا ہوں۔ لا ترون۔ تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ غر۔ دھوکے میں ڈال دیا۔ ھولاء۔ ان لوگوں کو۔
تشریح : ان آیات میں اہل ایمان کو شیطان کی چال بازویں سے ہوشیار رہنے کے لئے فرمایا جا رہا ہے کیونکہ شیطان سو بھیس بدل کر ایمان والوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے۔
مفسرین نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار کا یہ لشکر مدینہ کیطرف بڑھ رہا تھ تو راستے میں بنو کنانہ تھے جن…
Read the full tafseer →جنگ بدر میں شیطان کی شرارت
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ جب کافروں کا لشکر لڑائی کو نکلا تو راستہ میں ایک بوڑھا شخص ملا اور کہا میں بھی مسلمانوں کا جانی دشمن ہوں اور جنگ کا بڑا ماہر ہوں، تمہاری حمایت کو آیا ہوں پھر جب میدان کارزار گرم ہوا اور مسلمانوں کی جانب سے حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) اور دیگر فرشتوں کو لڑتے دیکھا تو ابوجہل سے ہاتھ چھڑاکر بھاگ گیا۔ یہ شخص شیطان تھا۔ آگے فرمایا کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سخت ہونا معلوم ہے، اور اس ملعون کو اس عذاب کا خوف بھی ہے لیکن اس سبب سے کہ وہ ملعون علم الہی میں گمراہ ٹھر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →(ف 1) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ شیطان سراقہ بن مالک کی شکل میں قریش کے پاس آیا اور کہنے لگا تم ضرور لڑو ، میں بنی کنانہ کی طرف سے ذمہ دار ہوں ، وہ تم سے تعرض نہیں کریں گے قریش اور بنی کنانہ میں باہمی عداوت تھی ) جب مکہ والے میدان میں نکلے اور مسلمانوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو یہ بھاگ کھڑا ہوا ، لوگوں نے کہا بھاگ رہا ہے ، سراقہ نے جوابا کہا تمہیں کیا معلوم بات کیا ہے ، فرشتے مسلمانوں کی اعانت میں آسمان سے نازل ہو رہے ہیں مجھے وہ کچھ نظر آرہا ہے جو تم نہیں دیکھ سکتے ،
Read the full tafseer →48 اور اے پیغمبر ﷺ ! اس وقت کو یاد دلائیے جب کہ شیطان نے ان کافروں کو ان کے اعمال مزین اور خوش نما کرکے دکھائے اور ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا اور کہا کہ آج بدر کے دن ان مخالف مسلمان لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب آنے والا اور غلبہ پانے والا نہیں ہے اور میں تمہارا حمایتی اور تم کو پناہ دینے والا ہوں پھر جب دونوں جماعتیں اور کفار و مسلمانوں کی دونوں فوجیں بالمقابل ہوئیں تو وہ شیطان اپنی ایڑیوں کے بل الٹا پھرا اور الٹا بھاگا اور کہنے لگا میں تم سے بری الذمہ ہوں اور میں تمہارے ساتھ نہیں کیونکہ میں ان چیزوں کو دیکھ رہا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتیں۔ میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے میں…
Read the full tafseer →ف 1۔ چونکہ نر اخوف بدون ایمان کے مقبول نہیں اس لیے شیطان کا خدا سے ڈرنا اگر واقعی بھی ہو تو کچھ محل اشکال نہیں۔
Read the full tafseer →شیطان نے ان کے اس کرتوت کو ان کی نظر میں اچھا کر دکھایا :
65: شیطان نے یہ فریب ان کو کیوں کردیا اور کیسے ان کو باور کرادیا ؟ مفسرین نے اس کی مختلف صورتیں نقل کی ہیں اور کسی نے کسی انسان کی شکل میں بنا کر دکھایا ہے اور کسی نے کسی دوسرے انسان کی شکل میں اور ہمارے رائے میں وہی رائے زیادہ صائب اور زیادہ صحیح ہے جو علامہ بیضاوی (رح) نے نقل کی ہے کہ شیطان کا یہ نکال الفاظ کا جامہ پہنے ہوئے نہ تھا بلکہ وسوسہ اندازی کی صورت میں تھا اس نے ان لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال دیا تھا کہ ان کی کامیابی یقینی ہے اور ان کا یہ لشکر جرار مسلمانوں کے مٹھی بھر غیر مسلح سپاہیوں کو چشم زدن میں ہڑپ کر جائے گا۔ اسی…
Read the full tafseer →Commentary
Since its beginning, Surah al-Anfal has been dealing with the actual events and attending circumstances of the battle of Badr along with subsequent lessons learnt and related injunctions given.
One such event from here relates to the Shaitan who misled the disbelievers of Makkah, exhorted them to go to battle against Muslims and then he disengaged, and left them all by themselves right there in the middle of the battlefield. This event has been mentioned at the beginning of verse 48.
Did this deception of the Shaitan take the form of scruples put into the hearts of the Quraysh?…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
38. This alludes to the army of the disbelieving Qurayash, which, when it proceeded on a military expedition against the Muslims, was accompanied by singing and dancing minstrels. (See Ibn Sa'd. vol. 2, p. 13 - Ed.) Whenever the army halted, dancing and drinking parties were held. Also the army arrogantly vaunted its military power and numerical strength before the tribes and localities which fell on the way, and boasted of its invincibility. (See al-Waqidi, vol. 1, p. 39 - Ed.) This much is about the moral state of the Quraysh army. What was even worse was the object of their fighting. They…
Read the full tafseer →