Explained with ayahs 47–49
میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا
جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لئے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ چناچہ ابو جہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہوجائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
سورة الْاَنْفَال 38
اشارہ ہے کفار قریش کی طرف، جن کا لشکر مکہ سے اس شان سے نکلا تھا کہ گانے بجانے والی لونڈیاں ساتھ تھیں، جگہ جگہ ٹھہر کر رقص و سرور اور شراب نوشی کی محفلیں برپا کرتے جا رہے تھے، جو جو قبیلے اور قریے راستہ میں ملتے تھے ان پر اپنی طاقت و شوکت اور اپنی کثرت تعداد اور اپنے سروسامان کا رعب جماتے تھے اور ڈینگیں مارتے تھے کہ بھلا ہمارے مقابلہ میں کون سر اٹھا سکتا ہے۔ یہ تو تھی ان کی اخلاقی حالت۔ ، اور اس پر مزید لعنت یہ تھی کہ ان کے نکلنے کا مقصد ان کے اخلاق سے بھی زیادہ ناپاک تھا۔ وہ اس لیے جان و مال کی بازی لگانے نہیں نکلے تھے کہ حق اور راستی اور انصاف کا علم بلند ہو، بلکہ اس لیے…
Read the full tafseer →سینتالیسویں آیت میں ایک اور مضر پہلو پر تنبیہ اور اس سے پرہیز کی ہدایت دی گئی ہے وہ ہے اپنی قوت و کثرت پر ناز یا کام میں اخلاص کے بجائے اپنی کوئی اور غرض مضمر ہونا کیونکہ یہ دونوں چیزیں بھی بڑی طاقتور جماعتوں کو پسپا اور زیر کردیا کرتی ہیں۔
اس آیت میں اشارہ قریش مکہ کے حالات کی طرف بھی ہے جو اپنے تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے بھاری تعداد اور سامان لے کر اپنی قوت و کثرت پر اتراتے ہوئے نکلے تھے۔ اور جب تجارتی قافلہ مسلمانوں کی زد سے باہر ہوگیا اس وقت بھی اس لئے واپس نہیں ہوئے کہ اپنی شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کرنا تھا۔
مستند روایات میں ہے کہ جب ابوسفیان اپنا تجارتی قافلہ لے کر مسلمانوں کی زد سے…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔
بطر کا مفہوم : بطر کے معنی حق سے اکڑنے اور اس سے متکبرانہ منہ موڑنے کے ہیں۔ قرآن نے اس سے اس بدمستی اور سرکشی کو تعبیر فرمایا ہے جو الہ کی نعمتیں پا کر کسی شخص یا گروہ پر طاری ہوجاتی ہے اور ہو شکر اور تواضع کے بجائے غرور اور طغیان میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ سورة قصص میں ہے و کم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا : اور کتنی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا جو اپنے وسائل معیشت کی فراوانی پر اکڑنے لگی تھیں۔
یہ قرآن نے اس روش کے منافی روش سے سلمانوں کو روکا ہے جس کی تعلیم اوپر والی آیت میں ‘…
Read the full tafseer →47۔ 1 مشرکین مکہ، جب اپنے قافلے کی حفاظت اور لڑائی کی نیت سے نکلے، تو بڑے اتراتے اور فخرو غرور کرتے ہوئے نکلے، مسلمانوں کو اس کافرانہ شیوے سے روکا گیا ہے۔
Read the full tafseer →32:: اس سے مراد کفار قریش کا وہ لشکر ہے جو جنگ بدر کے موقع پر بڑا اکڑتا اور اتراتا اور اپنی شان و شوکت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نکلا تھا، سبق یہ دینا ہے کہ جنگی طاقت کتنی بھی ہو اس پر بھروسہ کرکے تکبر میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ؛ بلکہ بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر رکھنا چاہیے۔
33: مطلب غالباً یہ ہے کہ بعض مرتبہ ایک شخص بظاہر اخلاص سے کام کرتا نظر آتا ہے۔ لیکن اس کی نیت دکھاوے کی ہوتی ہے، یا اس کے بر عکس بعض مرتبہ کسی شخص کا انداز بظاہر دکھاوے کا ہوتا ہے (جیسے دشمن کو مرعوب کرنے کے لیے کبھی طاقت کا مظاہرہ بھی کرنا پڑتا ہے) لیکن وہ اخلاص کے ساتھ بھروسہ اللہ ہی پر کرتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو تمام اعمال…
Read the full tafseer →یہ ہدایات امت مسلمہ اور جماعت مجاہدین کی تطہیر کے لیے دی جا رہی ہیں کہ وہ قتال اور جہاد میں شرکت ایسے حالات میں نہ کریں کہ اپنی قوت اور کثرت پر اترا رہے ہوں اور اپنی قوت کو جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے ان راہوں میں خرچ نہ کریں جن کے بارے میں اللہ کا حکم نہیں ہے۔ کیونکہ مومنین کے دستے قتال فی سبیل اللہ کے لیے نکلتے ہیں ، ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں اللہ کی بادشاہت نافذ ہو۔ لوگ صرف اللہ کے غلام ہوں اور یہ اس لیے علم جہاد بلند کرتے ہیں کہ ان تمام طاغوتی طاقتوں کو کرش کرکے رکھ دیں جنہوں نے لوگوں کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہوا ہے اور جو طاقتیں زمین پر خدا کے مقابلے میں اپنی الوہیت…
Read the full tafseer →5 ابو جہل لشکر لے کر بڑی دھوم دھام اور با جے گاجے کے ساتھ نکلا تھا تاکہ مسلمان مرعوب ہوجائیں اور دوسرے قبائل عرب پر مشرکین کی دھاک بیٹھ جائے۔ راستہ میں اس کو ابو سفیان کا پیام پہنچا کہ قافلہ سخت خطرہ سے بچ نکلا ہے۔ اب تم مکہ کو لوٹ جاؤ۔ ابو جہل نے نہایت غرور سے کہا کہ ہم اس وقت واپس جاسکتے ہیں جبکہ بدر کے چشمہ پر پہنچ کر مجلس طرب و نشاط منعقد کرلیں۔ گانے والی عورتیں خوشی اور کامیابی کے گیت گائیں، شرابیں پئیں، مزے اڑائیں اور تین روز تک اونٹ ذبح کر کے قبائل عرب کی ضیافت کا انتظام کریں، تاکہ یہ دن عرب میں ہمیشہ کے لیے ہماری یادگار رہے۔ اور آئندہ کے لیے ان مٹھی بھر مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں…
Read the full tafseer →آیت 47 وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بَطَرًا وَّرِءَآء النَّاسِ
یہ قریش کے لشکر کی طرف اشارہ ہے۔ جب یہ لشکر مکہ سے روانہ ہوا تو اس کی شان و شوکت واقعی مرعوب کن تھی۔ اس کے ساتھ عیش و طرب کا سامان بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ابو جہل اور دیگر سرداران قریش اپنے غرور اور تکبر کے باعث اس زعم میں تھے کہ مٹھی بھر مسلمان ہمارے اس طاقتور لشکر کے سامنے خس و خاشاک ثابت ہوں گے اور اہم انہیں کچل کر رکھ دیں گے۔
وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِط وَاللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ
وہ اپنی ساری کوششیں اور توانائیاں مخلوق خدا کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے تھے ‘ مگر ان…
Read the full tafseer →52 لشکر کفار کا شان وشوکت کا مظاہرہ :۔ یہاں ان لوگوں سے مراد مشرکین ہیں۔ جن کا سردار ابو جہل اپنا لشکر لے کر مکہ سے بڑی دھوم دھام اور باجے گاجے کے ساتھ نکلا تھا تاکہ مسلمان انہیں دیکھ کر ہی مرعوب ہوجائیں۔ نیز دوسرے قبائل عرب پر ان کی دھاک بیٹھ جائے۔ راستہ میں اسے ابو سفیان کا یہ پیغام مل بھی گیا کہ قافلہ خطرہ سے بچ نکلا ہے لہذا تم واپس آجاؤ۔ لیکن ابو جہل نے غرور سے کہا۔ اب ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک بدر کے چشمہ پر پہنچ کر مجلس طرب و نشاط منعقد نہ کرلیں۔ وہاں گانے بجانے والی عورتیں خوشی اور کامیابی کے گیت گائیں گی۔ ہم وہاں شراب پئیں گے۔ مزے اڑائیں گے اور تین دن تک اونٹ ذبح کر کے…
Read the full tafseer →73 ۔ (اور وقت مناسب پر جزاء اعمال بھی دے گا) (آیت) ” الذین خرجوا “۔ الخ مراد قریش کے لشکریان بدر میں جو ناحق و باطل کی راہ میں حمیت جاہلی کے علمبردار ہو کر لڑنے کو نکلے تھے۔ (آیت) ” بطرا “۔ اللہ کی طرف سے جب نعمتوں کا فیضان ہونے لگتا ہے تو اب بندہ کے لیے دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں اللہ ہی کی جانب منسوب کرتا رہے اور اسی کی رضا جوئی میں انہیں لگائے اور اس کا نام شکر ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان سے اپنے معاصرین کے مقابلہ میں فخر کا کام لینے لگے یہی بطر ہے قال الزجاج البطر الطغیان فی النعمۃ والتحقیق ان النعم اذا کثرت من اللہ علی العبد فان صرفھا الی مرضاتہ وعرف انھا من اللہ تعالیٰ فذک ھو الشکر…
Read the full tafseer →ولا تکونوا کا لذین خرجوا من دیار ھم بطراو وران الناس مشرکین مکہ جب مکہ سے نکلے تو اتراتے ہوئے بڑے فخر و غرور کے
ساتھ نکلے مسلمانوں کو اس شیوہ سے منع کیا جارہا ہے۔
لشکر کفار کی بدر کی طرف روانگی : کفار کا لشکر مکہ سے اس شان سے نکلا تھا کہ گانے بجانے والی لونڈیاں ساتھ تھیں، جگہ جگہ ٹھہر ٹھہر کر رقص و سرود اور شراب نوشی کی محفلیں سجاتے جارہے تھے اور جو قبیلے اور قریہ راستہ میں ملتے تھے اب پر اپنی طاقت و شوکت اور اپنی تعداد اور اپنے سازوسامان کا رعب جماتے تھے اور ڈینگیں مارتے تھے کہ بھلا ہمارے مقابلہ میں کون سر اٹھا سکتا ہے۔
کفار کے نکلنے کا مقصد یہ نہ تھا کہ حق و انصاف کا جھنڈا بلند ہو، بلکہ اس…
Read the full tafseer →ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارھم بطرا ورئاء الناس ویصدون عن سبیل اللہ وا اللہ بما تعلمون محیط۔ اور ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روک رہے تھے اور اللہ ان کے اعمال کو (اپنے علمی) احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔ یعنی جہاد اور جنگ میں تم اہل مکہ کی طرح نہ ہونا جو قافلہ کی مدد کیلئے نکلے تھے مگر فخر و اکڑ کے ساتھ اور لوگوں کو دکھانے کیلئے۔
بطر کا معنی ہے فخر اور اکڑ۔ زجاج نے کہا : بطر کا معنی ہے نعمت پا کر سرکشی کرنا اور شکر ادا نہ کرنا۔ بعض اہل لغت نے کہا : بطر کا معنی ہے نعمت کے نشہ میں سرمست ہوجانا اور شکر نہ کرنا۔ رئاء…
Read the full tafseer →(47) اور نافرمانی میں ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو مکہ مکرمہ سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو اپنی شان دکھلاتے ہوئے باہر نکلے اور یہ بھی مقصود تھا کہ لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے رسول اکرم ﷺ کے مقابلہ کے لیے نکلنے سے بخوبی آگاہ ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ولا تکونو کالذین خرجوا“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے محمد بن کعب قرظی ؒ سے روایت کیا ہے کہ قریش جب مکہ مکرمہ سے بدر کی طرف بڑھے تو گانے اور دف بجانے والیاں کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ : مسلمانوں کو لڑائی میں ثابت قدمی اور ذکر الٰہی کی کثرت کا حکم دینے کے بعد اب کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) ان سے مراد ہیں ابو جہل اور اس کے ساتھی، جو تین مقصد لے کر نکلے تھے، ”بَطَرًا“ اپنی اکڑ اور بڑائی ثابت کرنے کے لیے، ”وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ“ لوگوں کو اپنی شان و شوکت اور شجاعت دکھانے کے لیے اور ”وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ اللہ کے راستے، یعنی اسلام سے لوگوں کو روکنے کے لیے، جبکہ مومن صرف اور صرف اللہ کا دین غالب کرنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شان و شوکت کا اظہار،…
Read the full tafseer →( آیت 47)
اس میں مراد ابو جہل اور اس کے وہ ساتھی ہیں جو بدر کے دن قافلے کی مدد نصرت کے لیے نکلے تھے۔ وہ دو شیزائوں گانا گانے والیوں اور آلات موسیقی کو ساتھ لے کر نکلے تھے۔ جب وہ حجفہ کے مقام پر پہنچے تو خفاف کنانی جو کہ ابو جہل کا دوست تھا اس نے اپنے بیٹے کے ہمراہ تحائف اور ہدایا اس کی طرف بھیجے اور کہا بھیجا : اگر و چاہے تو میں مردوں کے ساتھ تیری امداد کروں اور اگر چاہے تو میں بذات خود ہی اپنی قوم کے اونٹوں سمیت تیری امداد کو آجائوں۔ تو ابو جہل نے کہا : اگر ہماری جنگ اللہ تعالیٰ سے ہئی جیسا کہ محمد ﷺ گمان کرتے ہیں، تو قسم بخدا ! ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ لڑنے کی کوئی طاقت نہیں۔ اور…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارہم بطرا ورء آء الناس “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے بدر کے دن رسول اللہ ﷺ سے قتال کیا۔
2:۔ ابن جریز نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ جب قریش مکہ سے بدر کی طرف نکلے گانے والی لونڈیوں اور ڈھولکیوں کے ساتھ نکلے تھے اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی (آیت) ” ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارہم بطرا “
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارہم بطرا “ سے مراد بدر کے دن ابوجہل اور اس کے ساتھی…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا [ اور تم لوگ مت ہونا ] كَالَّذِيْنَ [ ان لوگوں جیسے جو ] خَرَجُوْا [ نکلے ] مِنْ دِيَارِهِمْ [ اپنے گھروں سے ] بَطَرًا [ اتراتے ہوئے ] وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ [ اور لوگوں کا دکھاوا کرتے ہوئے ] وَيَصُدُّوْنَ [ اور روکتے ہوئے ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ: اللہ کی راہ سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] بِمَا [ اس کا جو ] يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے ہیں ] مُحِيْطٌ [ احاطہ کرنے والا ہے ]
ب ط ر ، (س) ۔ بطرا ، (1) زیادہ نعمت پاکر بہک جانا ۔ اترا جانا ۔ (2) نعمت کی ناشکری کرنا ۔ ناقدری کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 47 اور وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۢ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا [ اور ہم نے ہلاک کیں…
Read the full tafseer →ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اکڑتے مکڑتے ریا کاری کے لیے نکلے
پھر فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْاکَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًا وَّ رِءَآء النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے لوگوں کو دکھانے کے لیے نکلے) جو لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان میں اکڑ مکڑ اور اترانے اور فخر کرنے کا مرض ہوتا ہے۔ پھر وہ اس کی وجہ سے نیچا دیکھتے ہیں۔ علامہ بغوی (رح) معالم التنزیل ص 254 ج 2 میں لکھتے ہیں کہ آیت بالا مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ بدر کے لیے روانہ ہوئے تو فخر اور تکبر کے انداز میں چلے۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
ذکر آداب جہاد وقتال
قال اللہ تعالی۔ یا ایہا الذین امنوا اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ عزیز حکیم
(ربط): اوپر سے بدر کے واقعات اور جہاد و قتال کے احکام کا ذکر چلا آرہا ہے اب ان آیات میں مسلمانوں کو جہاد کے ظاہری وباطنی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے کہ جہاد و قتال کے وقت ان امور کو خاص طور پر ملحوظ رکھیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو جب تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ اللہ تعالٰ ضعیف اور ناتواں اور بےسروسامان کو قوی اور سازوسامان والے پر غلبہ عطا کرنے پر قادر ہے اور جنگ بدر میں تم اس کا مشاہدہ بھی کرچکے ہو لہذا تم کو کافروں کے مقابلہ میں ضعیف اور کمزور نہ بننا چاہئے بلکہ جب کافروں کی جماعت…
Read the full tafseer →50 یہ زجر ہے۔ “ بَطَرًا ” فخر اور غرور۔ موصول سے ابوجہل اور اس کا لشکر مراد ہے جو کہ قافلہ کی حمایت کے لیے اپنی تعداد اور بہادری اور سامان جنگ پر فخر و ناز کرتے ہوئے اور لوگوں سے داد شجاعت وصول کرنے کی غرض سے مکہ مکرمہ سے نکلے تھے۔ “ والمراد بھم اھل مکة ابوجهل و اصحابه حین خرجوا الحمایة العیر ”(روح ج 10 ص 14) ۔ “ وَ یُصُدُّوْنَ ” یہ “ بَطَرًا ” پر معطوف ہے اور بتاویل اسم فاعل “ خَرَجُوْا ” فاعل سے حال ہے۔ “ سَبِیْلِ اللّٰه ” سے اللہ کا دین مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ربط آیات :
گزشتہ درس میں ان چھ باتوں کا ذکر ہوچکا ہے جو دشمن سے مقابلے کے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہیں۔ وہاں پر فرمایا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ میدان جہاد میں اترو تو پھر ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو تا کہ تمہیں فلاح نصیب ہو ۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تلقین کی گئی کہ یہ ہر حالت میں ضروری ہے اس کے بعد فرمایا کہ اہل ایمان کو آپس میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے ورنہ وہ کمزور ہوجائیں گے اور ان کی ہوا اکھڑ جائیگی اور چھٹی بات یہ تھی کہ ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اب ساتویں بات کا ذکر ان آیات میں آرہا ہے۔
فرمایا اگر ان…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ 47
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
ترکیب : فتفشلوا موضع نصب میں ہے کیونکہ جواب نہی ہے اور اسی طرح تذھب ہے۔ بطر اور ریاء الناس مفعول خرجوا کے
ویصدون معطوف ہے معنی مصدر پر غالب مبنی ہے اسم لا کی وجہ سے۔ لکم اس کی خبر الیوم معمول خبر ہے۔ من الناس حال ہے ضمیر لکم سے فلما تراءت شرط نکص رجع جواب علی عقبیہ حال ہے ای ھارباً وقال معطوف ہے نکص پر۔
تفسیر : فتح بدر کے سامان غیبی ذکر فرما کر اور یہ بات جتلا کر کہ اللہ تمہارا مددگار ہے۔ مسلمانوں کو یہ چند حکم دیتا ہے۔ اول یہ کہ جب تمہارا لشکر مخالفین سے مقابلہ ہوا کرے تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو خوب یاد کیا کرو کیونکہ یہ فتح و ظفر اس کی طرف سے ہے اور نیز اس کی یاد سے ہر مشکل آسان ہوجاتی…
Read the full tafseer →وَلَاتَکُوْنُوْاکَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًاوَّرِئَآئَ النَّاسِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ (الانفال : 47)
(اور ان لوگوں کی طرح نہ بنوجو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور وہ اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اللہ کے قابو میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ )
مسلمان کا کردار اس کی پہچان ہے
مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے سیرت و کردار کے جس معیا رکو اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے ان میں سے کچھ ہدایات تو وہ ہیں جن کا تعلق مسلمانوں کی امن کی زندگی سے ہے۔ لیکن اس رکوع میں وہ ہدایات دی جارہی ہیں جن کا تعلق حالت جنگ سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جنگ کے بارے میں مزید ہدایات۔
جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کی ہدایات دینے کے بعد شکست سے دو چار کردینے والی مذموم حرکات سے روکا گیا ہے۔
1۔ غرور، تکبر اور اترانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
2۔ شہرت، نمائش سے بچ کر اخلاص کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
3۔ بےمقصد جنگ کرنے کے بجائے اللہ کی رضا کے لیے جہاد کرنا چاہیے۔
مشرکین مکہ بدر کے لیے نکلے تو ان میں اس قدر غرور تھا کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کی حالت یہ تھی کہ جس کسی نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ جب تجارتی قافلہ بچ کر مکہ پہنچ چکا ہے اور قافلے کے سردار ابو سفیان کا پیغام آچکا ہے…
Read the full tafseer →لشکر ابوجہل کا حال :
آیت 47: وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًا وَّرِئَآئَ النَّاسِ (اور ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے) وہ اہل مکہ ہیں جو قافلے کی حمایت میں نکل کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان کا قاصد ان کو آملا اور کہنے لگا۔ تم واپس لوٹ چلو۔ تمہارا قافلہ صحیح سلامت گزر گیا۔ ابوجہل نے انکار کیا اور کہا ہم تو بدر تک جائیں گے۔ وہاں شراب کے جام انڈیلیں گے اور اونٹ ذبح کر کے انکا گوشت اڑائیں گے۔ اور ناچ رنگ کی محفلیں منعقد کریں گے اور عرب سرداروں کی دعوت کریں گے اسی کو بطر فرمایا اور رِئَآء لوگوں کو کھانا کھلانا تھا۔ مگر اس…
Read the full tafseer →تفسیر 47(ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارھم یطرا ورثآء الناس ویصدون عن سبیل اللہ ط واللہ بما یعملون محیط) بطرہ کا معنی ہے فخر اور اکثر صورثاء الناس) زجاج کا قول ہے کہ بطر کا معنی ہے نعمت باکر سرکشی کرنا اور شکر ادا نہ کرنا اور راء کا معنی دکھاوٹ یعنی اچھائی کو دنیا کے سامنے ظاہر کرنا اور اپنی برائی کو چھپانا۔ (ویصدون عن سبیل اللہ واللہ بما یعملون محیط) آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب وہ بدر کی طرف آئے تو ان کے لئے بڑا فخر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ ! یہ قریش اپنے غرور وتکبر کے ساتھ آئے ہیں تجھ سے جھگڑتے اور تیرے رسول کی تکذیب کرتے ہیں۔ اے اللہ ! پس تیری مدد جس کا تو نے…
Read the full tafseer →47۔ تفسیر ابن جریر تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے دن شام کی طرف سے قافلہ جو مشرکین مکہ کی تجارت کا مال لارہا تھا جب وہ قافلہ مسلمانوں کے ہاتھ سے بچ گیا تو ابوسفیان نے ابوجہل سے کہا تھا کہ تم لوگ مکہ سے اپنے قافلہ کی مدد کو آئے تھے اب قافلہ تو بچ گیا چلو مکہ کو واپس چلنا چاہئے ابوجہل نے کہا نہیں تین روز بدر میں ٹھہریں گے اور شراب پیویں گے اور کئی کئی اونٹ روز ذبح کریں گے اور گانے والی چھوکریاں جو ہمارے ساتھ ہیں ان کا گانا سنیں گے جس سے لوگوں پر ذرا ہمارا رعب پڑیگا چناچہ اس کے موافق بدر پر مقام ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
آیت 45
(یایھا الذین امنوا اذالقیتم فۃ) ” اے ایمان والو ! جب ملو تم کسی گروہ کو “ یعنی کفار کا گروہ جو تمہارے ساتھ جنگ کرتا ہے (فاثبوتوا) ” تو ثابت قدم رہو “۔ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبرے سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ (لعلکم تفلحون) ” تاکہ تم فلاح پاؤ “ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤ جو تمہارا مطلوب و منشاء ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔
(واطیعوا اللہ و رسولہ) ” اور اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
جنگ میں اطاعت خدا اور رسول
قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
98 کفار کی روش سے بچنے کے لئے تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور دکھلاوا کرتے ہوئے نکلے تھے جیسا کہ کفار قریش اور مشرکین مکہ نکلے تھے، جو کہ اپنے فخر و غرور کے نشے میں چور اور بدمست و مخمور تھے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار قریش کا قافلہ سلامتی کے ساتھ نکل گیا اور وہ لوگ مسلمانوں کی زد سے بچ گئے تو امیر قافلہ ابو سفیان بن حرب نے لشکرکفار کی طرف پیغام بھیجا کہ چونکہ ہم سلامتی کے ساتھ نکل آئے ہیں، اس لیے اب لڑنے بھڑنے اور جنگ وجدال کی کوئی ضرورت نہیں۔ لہذا آپ سب لوگ اب واپس چلے جائیں۔ تو اس کے جواب میں ابو جہل اینڈ کمپنی نے نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
جہاد میں کامیابی کے اصول
تشریح : جیسا کہ باقی زندگی گزارنے کے لیے اللہ جل شانہ ‘ نے مسلمانوں کو بہترین اصول بتائے ہیں اسی طرح جنگ کے اصول بھی بتائے ہیں۔
-1 پہلا اصول ثابت قدم رہو۔ ثابت قدمی تو زندگی کے ہر مرحلہ میں ضروری ہے۔ کیونکہ جہاں انسان کا ارادہ کمزور ہوا وہاں ناکامی ہوگئی، اس لیے اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان جنگ میں اترو۔ کفار کی طرح نہیں کہ فوجیوں کو جوش و جذبہ دلانے کے لیے بینڈ باجے بجائے جاتے ہیں۔ مسلمان کو جذبہ جہاد کو ابھارنے اور ثابت قدم رکھنے کے لیے اللہ کا ذکر بہترین ذریعہ ہے۔ اسی جذبہ کے تحت جب مسلمان نعرہ تکبیر لگاتا ہے تو مشرکوں کے دل پر رعب طاری ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیات 45 تا 48
اسرار و معارف
جنگ اور جہاد
اسلام نے جنگ کو بھی جہاد میں بدل دیا اور ایک بالکل نیا فلسفہ عطا فرمایا جنگ تو اقوام عالم میں پہلے سے عام تھی اسلام نے اس میں ایک بہت بڑی تبدیلی یہ کردی کہ جنگ میں مخالف کو تباہ کرنا اس کی طاقت کو ختم کرنا اور اسے ذلیل ورسوا کرنا لوٹ مار آگ لگا دنیا وغیرہ سب امور ہوتے تھے ۔ اسلام نے جہاد کا لفظ دیا جو جہد یعنی کوشش اور محنت سے بنا ہے اور جہاد سے مرادمخالف کی اصلاح اور اس کی بھی بہتری چاہتا ہے ۔ اسی لیے آپ اسلامی افواج کو دی گئی ہدایات کا مطالعہ کریں تو یہ ملے گا کہ کسی نہتے آدمی پر تلوارنہ اٹھائی جائے فصل خراب نہ کئے جائیں درخت نہ کاٹے جائیں عبادت…
Read the full tafseer →ف 4 مسلمانوں کے کو لڑائی میں ثبات اور کثرت ذکر الہیٰ کا حکم دین کے بعد ابن کفار کے تشبہ سے منع فرمایا ہے۔ ( ابن کثیر) ان سے مراد ہیں ابو جہل اور اس کے ساتھی جو باجے گاجوں اور گانے والی لو نڈیوں سمیت ابو سفیان کے تجاریت قافلہ کر بچانے مکہ سے نکلے، جب حجفہ کے مقام پر پہنچے تو انہیں اگرچہ معلوم ہوگیا کہ قافلہ تو مسلمانوں کو زد سے بچ کر نکل آیا ہے مگر وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس وقت تک مکہ واپس نہ جائیں گے جب تک مقام بدر پہنچ کر خوب شرابیں نہ پی لیں اور اونٹ ذبح کر کے گانا بجانا نہ کرلیں اور ہمارے نکلنے کی سارے عرب میں دھوم نہ مچ جائے۔ علمائے تفسیر لکھتے ہیں کہ وہ بدر میں وارد ہوئے تو شراب کے بجائے…
Read the full tafseer →(8:47) بطرا۔ مصدر۔ اترانا۔ اشارہ ہے لشکر کفار کی طرف جو قافلہ کی حمایت میں مکہ سے بڑے طمطراق سے نکلا تھا۔ بطر (سمع) بطرا زیادہ نعمت میں پڑکر اترانا یا بہک جانا۔ بطرالحق۔ تکبر سے حق کے قبول کرنے سے انکار کرنا۔
محیط اسم فاعل۔ واحد مذکر قیاسی احاطۃ مصدر (باب افعال) حوطمادہ۔ ہر طرف سے گھیر لینے والا۔ یہاں بمعنی عالم کل ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
آیات : 45 تا 47
لغات القرآن۔
فاثبتوا۔ پس جمے رہو۔ اذکروا اللہ۔ اللہ کو خوب یاد کرو۔ لا تنازعوا ۔ آپس میں نہ جھگڑو۔ فتفشلوا۔ پھر تم بزدل ہو جائو گے۔ تذھب ریحکم۔ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اصبروا۔ صبر کرو۔ خرجوا۔ جو نکلے من دیارھم۔ اپنے گھروں سے ۔ رء الناس۔ لوگوں کو دکھاتے ۔ یصدون۔ وہ روکتے ہیں۔ محیط۔ گھیرنے والا۔
تشریح :
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جہاد و قتال کے چھ قوانین بتائے ہیں جو اہل اسلام کے لئے رہبر و رہنما ہیں۔
(1) ثابت قدمی (2) اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر (3) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت (4) آپس میں میل محبت اور اختلافات سے دور (5) صبر و تحمل (6) دکھاوے اور ریا کاری…
Read the full tafseer →نشان عبرت
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ قریش جب مکہ سے جنگ بدر کو نکلے تو ناچ رنگ کا سامان ساتھ لئے ہوئے چلے۔ راستہ میں ابوسفیان کا قاصد ملا اور کہا کہ جس قافلہ کی مدد کو تم آئے تھے وہ تو صحیح سلامت راہ کتراکر نکل گیا اب لوٹ چلو ! ابوجہل بولا کہ نہیں بدر میں فتح پاکر تین روز ٹھریں گے اور شراب پیویں گے، اور کئی کئی اونٹ ذبح کریں گے اور گانے والی چھوکریاں جو ہمارے ساتھ ہیں ان کا گانا سنیں گے۔ جس سے لوگوں پر ذرا ہمارا رعب پڑے گا۔ چناچہ ان کے موافق بدر پر مقام ہوا اور نتیجہ اس شیخی مارنے اور اترانے کا یہ ہوا بجائے شراب کے جام کے، جام مرگ ستر آدمیوں کے ساتھ ابوجہل کو پینا پڑا اور بجائے گانے کے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →(ف 3) جب قافلہ ابو سفیان کا بچ کر نکل گیا تو لوگوں نے ابوجہل سے کہا ، اب لوٹ چلیں کیونکہ ہم صرف قافلہ کی حفاظت کے لئے جمع ہو کر آئے تھے ، ابو جہل نے کہا یہ نہیں ہو سکتا ہم بدر تک جائیں گے ، اور شان و شکوہ کا اظہار کرتے ہوئے بادہ انگور کے دور چلیں گے ، اونٹ ذبح ہوں گے ، عورتیں گائیں گی اور عرب ہماری کامرانی سے آگاہ ہوں گے ۔
چناچہ یہ فخر و غرور کا مظاہرہ کرتے ہوئے جام پر جام لنڈھاتے ہوئے آئے اور شکست کھا کر لوٹے ،
آیت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان جب کسی جشن یا جنگ میں شریک ہوں تو متواضع ہو کر وقار ومتانت کو ہاتھ سے نہ دیں ، کیونکہ غرور کا سرنیچا ہے ۔
Read the full tafseer →47 اور تم ان کافروں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے گھروں سے اتراتے اور شیخی مارتے ہوئے اور لوگوں کے دکھانے کو نکل آئے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور ان لوگوں کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہیں۔ بدر میں ابوجہل نہایت مفرورانہ انداز میں پہنچا اور باوجود ابو سفیان کے بچکر نکل جانے پر بھی جشن منانے کو ٹھہر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے مغرور، ریاکار اور شیخی خورو (رح) ں کا طرزعمل اختیار کرنے سے مسلمانوں کو روکا ان ریاکاروں کا مقصد نیک نہیں تھا بلکہ یہ لوگ ایک طرف ریاکاری کرتے اور اتراتے تھے اور دوسری طرف مسلمانوں کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور غلبہ حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
ف 2۔ ادھر والے سے مراد مدینہ سے نزدیک کا موقع اور ادھر والے سے مراد مدینہ سے دور کا موقع ہے۔
3۔ یعنی سمندر کے کنارے کنارے جارہا تھا۔
4۔ مطلب یہ کہ اللہ کو منظور تھا لڑائی ہونا تاکہ ایک خاص طریق سے اسلام کا حق ہونا ظاہر ہوجائے کہ اس قلت عدد وکم سامانی پر مسلمان غالب آئے جو کہ خارق عادت ہے جس سے معلوم ہوا کہ اسلام حق ہے پس اس سے حجت الہیہ تام ہوگئی اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح حق کے بعد ہوگا جس میں عذاب کا پورا استحقاق ہوگیا اور عذر کی گنجائش ہی نہ رہی اسی طرح جس کو ہدایت ہونا ہوگا وہ حق کو قبول کرے گا خلاصہ حکمت کا یہ ہوا کہ حق واضح ہوجائے۔
Read the full tafseer →تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جو ڈینگیں مارتے اور اتراتے ہوئے گھر سے نکلے تھے :
64> : اس آیت میں کفار کے لشکر کی تیاری اور مکہ سے روانگی کی پوری تصویر کھینچ کر رکھ دی اور مسلمانوں کو ہدایت دی کہ اس طرح کرنے والوں کا انجام یہی کچھ ہوتا ہے جو ان کا ہوا۔ تم یاد رکھو ایسی حرکت کبھی نہ کرنا۔ تاریخ وضاحت کرتی ہوئی ہمیں بتاتی ہے کہ کفار کا لشکر جب مکہ سے بدر کی طرف روانہ ہوا تو ان کے ہمارہ ایسی دو شیزائیں بھی تھیں جو گانے بجانے اور ناچنے میں اپنا جواب نہ رکھتی تھیں اور علاوہ ازیں ان کے ساتھ شراب ناب کے بھرے ہوئے مٹکے بھی تھے اور یہ لوگ بڑے طمطراق سے نکلے اور جہاں ڈیرہ ڈالتے ان کی بزم عیش و طرب منعقد…
Read the full tafseer →Another negative and detrimental aspect of conduct against which warning has been given in verse 47 and from which abstinence has been advised is that believers should not wax proud over their strength and numbers nor should they be guilty of nursing some per-sonal interest of theirs rather than remaining sincere to their mission at hand, because these two approaches would usually bring down great powers of the world on their knees.
Embedded in this verse, there is an allusion to the circumstances under which the Quraysh of Makkah who had marched off from their city to give military cover to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
38. This alludes to the army of the disbelieving Qurayash, which, when it proceeded on a military expedition against the Muslims, was accompanied by singing and dancing minstrels. (See Ibn Sa'd. vol. 2, p. 13 - Ed.) Whenever the army halted, dancing and drinking parties were held. Also the army arrogantly vaunted its military power and numerical strength before the tribes and localities which fell on the way, and boasted of its invincibility. (See al-Waqidi, vol. 1, p. 39 - Ed.) This much is about the moral state of the Quraysh army. What was even worse was the object of their fighting. They…
Read the full tafseer →