Al-Anfaal 8:46

Al-Anfaal · from ayah 46

8:46

وَاَطِیْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۟ۚوَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ‌ وَاصۡبِرُوۡا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ‌ۚ

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And obey Allah and His Messenger, and do not dispute and [thus] lose courage and [then] your strength would depart; and be patient. Indeed, Allah is with the patient.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:46

اور اللہ اور اس کے رسُول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی صبر سے کام لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑجاؤ گے، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑ و نہیں کہ پھر بز د لی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ (متفرق اور کمزور ہو کر) بزدل ہو جاؤ گے اور (دشمنوں کے سامنے) تمہاری ہوا (یعنی قوت) اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں مت جھگڑو، ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا چلی جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اور صبر سے کام لو۔ اللہ تعالیٰ یقینا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ تم پست ہمت ہوجاؤ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے اور ثابت قدم رہو بے اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور دل وجان سے کہا مانا کرو تم لوگ اللہ کا، اور اس کے رسول کا، اور آپس میں جھگڑا (اور اختلاف) نہ کیا کرو کہ اس سے تم کمزور ہوجاؤ گے، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر (وضبط) سے ہی کام لیتے رہا کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور (آپس میں) جھگڑا مت کرو ورنہ کم ہمت ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرتے رہو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول ﷺ کا اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم ڈھیلے پڑجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور ثابت قدم رہو۔ یقیناً اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ ایسا کرو گے تو تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی (کمزور ہوجاؤ گے) اور صبر سے کام لو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And obey Allah and His Messenger, and do not quarrel with one another lest you should lose courage and your power depart. Be steadfast, surely Allah is with those who remain steadfast.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Obey Allah and His Messenger, and do not quarrel with each other, lest you should lose courage, and your prowess should evaporate; and be patient. Surely, Allah is with the patient.

— Muhammad Taqi Usmani

Obey Allah and His Messenger, and do not quarrel with each other, lest you should lose courage, and your prowess should evaporate; and be patient. Surely, Allah is with the patient.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And obey Allah and His Messenger, and do not dispute (with one another) lest you lose courage and your strength departs, and be patient. Surely, Allah is with the patients.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And obey Allah and His messenger, and dispute not one with another lest ye falter and your strength depart from you; but be steadfast! Lo! Allah is with the steadfast.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And obey Allah and His Messenger, and do not dispute and [thus] lose courage and [then] your strength would depart; and be patient. Indeed, Allah is with the patient.

— Saheeh International

Obey God and His Messenger. Do not quarrel with each other lest you fail or lose honor. Exercise patience; God is with those who have patience.

— Muhammad Sarwar

And obey Allah and His Apostle and do not quarrel for then you will be weak in hearts and your power will depart, and be patient; surely Allah is with the patient.

— Muhammad Habib Shakir

And obey Allah and His apostle, and dispute not, lest ye flag and your predominance depart, and be patient. Verily Allah is with the patient

— Abdul Majid Daryabadi

And obey Allah and His Messenger; and fall into no disputes, lest ye lose heart and your power depart; and be patient and persevering: For Allah is with those who patiently persevere:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–46

جہاد کے وقت کثرت سے اللہ کا ذکر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو لڑائی کی کامیابی کی تدبیر اور دشمن کے مقابلے کے وقت شجاعت کا سبق سکھا رہا ہے ایک غزوے میں رسول مقبول ﷺ نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا ! لوگو دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہوجائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما (بخاری مسلم) عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ دشمن کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْفَال 37 یعنی اپنے جذبات و خواہشات کو قابو میں رکھو۔ جلد بازی، گھبراہٹ، ہراس، طمع اور نامناسب جوش سے بچو۔ ٹھنڈے دلی اور جچی تلی قوت فیصلہ کے ساتھ کام کرو۔ خطرات اور مشکلات سامنے ہوں تو تمہارے قدموں میں لغزش نہ آئے۔ اشتعال انگیز مواقع پیش آئیں تو غیظ و غضب کا ہیجان تم سے کوئی بےمحل حرکت سر زد نہ کرنے پائے۔ مصائب کا حملہ ہو اور حالات بگڑتے نظر آرہے ہوں تو اضطراب میں تمہارے حواس پراگندہ نہ ہوجائیں۔ حصول مقصد کے شوق سے بےقرار ہو کر یا کسی نیم پختہ تدبیر کو سرسری نظر میں کارگر دیکھ کر تمہارے ارادے شتاب کاری سے مغلوب نہ ہوں۔ اور اگر کبھی دنیوی فوائد و منافع اور لذات نفس کی ترغیبات تمہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چھیالیسویں آیت میں ایک تیسری چیز کی تلقین اور کی گئی وہ ہے (آیت) وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی امداد و نصرت اس کی اطاعت ہی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے معصیت اور نافرمانی تو اللہ کی ناراضی اور ہر فضل سے محرومی کے اسباب ہوتے ہیں۔ اس طرح میدان جنگ کے لئے قرآنی ہدایت نامہ کی تین دفعات ہوگئیں ثبات، ذکر اللہ، اطاعت۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا، اس میں مضر پہلوؤں پر تنبیہ کرکے ان سے بچنے کی ہدایت ہے۔ اور وہ مضر پہلو جو جنگ کی کامیابی میں مانع ہوتا ہے باہمی نزاع و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اطاعت اللہ و رسول کا ایک خاص مفہو : وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔ یہاں اللہ اور رسول کی اطاعت کے عام مفہوم کے سوا اس کا ایک خاص مفہوم بھی پیش نظر ہے۔ یعنی دشمن کے مقابل میں کامل نظم اور کامل ڈسپلن کا ثبوت دو۔ جو حکم اللہ نے دیے ہیں ان کی بھی پوری اطاعت کرو اور جو حکم رسول دے اس کی بھی بےچون و چرا تعمیل کرو۔ جس طرح دل ذکر الٰہی سے محروم ہو تو اس میں انتشار برپا ہوجاتا ہے اسی طرح جماعت اگر اطاعت میں ڈھیلی ہو تو جماعت کا نظم درہم برہم ہوجاتا ہے اور پھر اس کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ۔ اسی بات کو منفی پہلو سے واضح فرمایا کہ اللہ و رسول کے دیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔ 1 تیسری ہدایت، اللہ اور رسول کی اطاعت، ظاہر بات ہے ان نازک حالات میں اللہ اور رسول کی نافرمانی کتنی سخت خطرناک ہوسکتی ہے۔ اس لئے ایک مسلمان کے لئے ویسے تو ہر حالت میں اللہ اور رسول کی اطاعت ضروری ہے۔ تاہم میدان جنگ میں اس کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے اور اس موقع پر تھوڑی سی بھی نافرمانی اللہ کی مدد سے محرومی کا باعث بن سکتی ہے۔ چوتھی ہدایت کہ آپس میں تنازع اور اختلاف نہ کرو، اس سے تم بزدل ہوجاؤ گے اور ہوا اکھڑ جائے گی۔ نبی ﷺ نے بھی ایک حدیث میں فرمایا ' لوگو ! دشمن سے مڈ بھیڑ کی آرزو مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگا کرو ' تاہم جب کبھی دشمن سے لڑائی کا موقع پیدا ہوجائے تو صبر کرو (یعنی جم کر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–46

31: یہ اس خواب کے علاوہ بیداری کا واقعہ ہے جو عین اس وقت پیش آیا جب دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کچھ ایسی کیفیت طاری فرمادی کہ کفار کا وہ لشکر جرار ان کو بہت معمولی محسوس ہوا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

رہا اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول کی اطاعت کا حکم تو ان کا مقصد یہ ہے کہ معرکے میں داخل ہوتے ہی انسان سر تسلیم خم کردے اور وہ دواعی ہی ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان باہم نزاع پیدا ہوجاتی ہے۔ اور حکم یہ ہے ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم " آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی " لوگوں کے درمیان تنازعات صرف اس وقت سر اٹھاتے ہیں جب ان کی قیادت کے مراجع ایک سے زیادہ ہوجائیں اور وہ مختلف جہتوں سے ہدایات لینے والے ہوں یا وہ صرف اپنی خواہشات کے پیروکار ہوں اور ان کے افکار اور تصورات کا ماخذ صرف ان کے سفلی جذبات ہوں۔ اس کے مقابلے میں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی ہوا خیزی ہو کر اقبال و رعب کم ہوجائے گا۔ بد رعبی کے بعد فتح و ظفر کیسے حاصل کرسکو گے۔ 4 جو سختیاں اور شدائد جہاد کے وقت پیش آئیں ان کو صبر و استقامت سے برداشت کرو ہمت نہ ہارو، مثل ہے کہ ہمت کا حامی خدا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو بتلا دیا گیا کہ کامیابی کی کنجی کیا ہے ؟ معلوم ہوا کہ دولت، لشکر اور میگزین وغیرہ سے فتح و نصرت حاصل نہیں ہوتی۔ ثابت قدمی، صبر و استقلال، قوت و طمانینت قلب، یاد الٰہی، خدا و رسول اور ان کے قائم مقام سرداروں کی اطاعت و فرمانبرداری اور باہمی اتفاق و اتحاد سے حاصل ہوتی ہے۔ اس موقع پر بےساختہ جی چاہتا ہے کہ صحابہ ؓ کے متعلق " ابن کثیر " کے چند الفاظ نقل کر دوں جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یہ تیسرا حکم ڈسپلن کے بارے میں ہے کہ جو حکم تمہیں رسول ﷺ کی طرف سے ملے اس کی دل و جان سے پابندی کرو۔ اگرچہ یہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی بات ہوئی ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو عملی طور پر یہ اطاعت رسول اللہ ﷺ ہی کی تھی ‘ کیونکہ جو حکم بھی آتا تھا وہ آپ ﷺ ہی کی طرف سے آتا تھا۔ قرآن بھی حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہوتا تھا اور اگر آپ ﷺ اپنی کسی تدبیر سے اجتہاد کے تحت کوئی فیصلہ فرماتے یا کوئی رائے ظاہر فرماتے تو وہ بھی آپ ﷺ ہی کی زبان مبارک سے ادا ہوتا تھا۔ لہٰذا عملاً اللہ کی اطاعت آپ ﷺ ہی کی اطاعت میں مضمر ہے۔ اقبالؔ نے اس نکتے کو بہت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 اختلاف اور جھگڑے کی ممانعت :۔ اور جو کچھ اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہیں حکم دے۔ اس میں نہ اختلاف پیدا کرو اور نہ تنازعہ کی شکل بنا لو۔ اگرچہ یہ حکم عام ہے۔ تاہم دوران جنگ اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو بالخصوص بیان کیا گیا ہے۔ اگر تم اس دوران اختلاف کا شکار ہوگئے تو تمہاری ہمتیں پست ہوجائیں گی اور تمہاری ساکھ کو سخت دھچکا لگے گا جو بالآخر تمہاری شکست کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اور اس دوران پیدا ہونے والی مشکلات کو برداشت کرنے اور ان پر قابو پانے کو اپنا شعار بناؤ اور یہ یاد رکھو کہ اگر ایسی مشکلات پر صبر کرو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72 ۔ (آیت) ” اطیعوا اللہ ورسولہ “۔ اللہ اور رسول کے احکام کی اطاعت تو ہمیشہ اور ہر حال میں واجب ہے۔ اس بیان میں اس کی تاکید سے مراد یہ ہے کہ حالت جہاد میں بھی احکام شریعت کے دائرہ سے قدم ذرا بھی باہر نہ نکلے، (آیت) ” ولا تنازعوا “۔ کوئی نزاع نہ افراد امت میں باہم ہونی چاہیے نہ امام یا امیر قوم سے، یہ اندرونی کشمکش، ڈسپلن (نظم و اطاعت) کے حق میں زہر قاتل ہے۔ (آیت) ” فتفشلوا “۔ یہاں گویا یہ اشارہ کردیا کہ انتشار قوت کا لازمی نتیجہ پست ہمتی ہے۔ (آیت) ” وتذھب ریحکم “۔ یعنی جو رعب تمہاری یک دلی، یک جہتی، یک رنگی کی بنا پر چھایا ہوا ہے، وہ جاتا رہے گا، اے قوتکم ونصرکم کما یقال الریح الفلان اذا کان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–46

آیت نمبر 45 تا 48 ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تمہاری کسی کافر جماعت سے مڈ بھیڑ ہوجائے تو ان سے قتال کے لئے ثابت قدم رہو، بزدلی نہ دکھاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور اس سے نصرت کی دعاء کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تو تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، تمہاری شوکت و طاقت جاتی رہے گی، صبر سے کام لو، یقینا اللہ نصرت و اعانت کے ذریعہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور ان جیسے نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اپنے قافلے کو بچانے کے لئے اتراتے ہوئے لوگوں کو (شان و سامان) دکھاتے ہوئے نکلے تھے، اور قافلے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واطیعوا اللہ ورسولہ اور (تمام امور میں عموماً اور خصوصاً دشمن خدا سے لڑنے اور دین خدا کو سربلند کرنے میں) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔ ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی۔ تفشلوا اور تذھبنہی کا جواب ہے ‘ اسی لئے دونوں منصوب ہیں ‘ اَنْمضمر ہے۔ اخفش کے نزدیک ریح کا مجازی معنی مراد ہے یعنی اقتدار ‘ حکومت ‘ اپنی منشاء کے موافق حکم کا اجراء۔ جس طرح ہوا جس طرف کو چاہتی ہے آزادی کے ساتھ چلتی ہے ‘ اسی طرح خودمختار حکومت بھی اپنی چال اور حکم میں آزاد ہوتی ہے ‘ پس اسی آزادئ رفتار اور حریت حکم کی وجہ سے ریح کے لفظ سے حکومت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(46) اور دل و زبان کے ساتھ خوب تہلیل وتکبیر کرو تاکہ غصہ اور عذاب سے نجات پاؤ اور تمہاری غیبی مدد ہو، لڑائی کے معاملات میں اطاعت کرو اور لڑائی کے امور میں باہم اختلاف سے بچو کیوں کہ اس سے تمہاری طاقت کمزور پڑجاتی ہے اور لڑائی میں اپنے نبی کے ساتھ صبر کرو کیوں کہ لڑائی میں صبر کرنیوالوں کی اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 45–46

اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا : ”لَقِيْتُمْ“ ”لِقَاءٌ“ سے ہے، یعنی ملنا اور آمنے سامنے ہونا، اکثر لڑائی کی ملاقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہاں بھی یہی مراد ہے۔ ”فِئَةً“ جماعت، گروہ۔ یہ ”فَاءَ یَفِیْءُ فَیْءًا“ (لوٹنا) سے مشتق ہے، کیونکہ ایک جماعت کے لوگ مدد کے لیے ایک دوسرے کی طرف لوٹ کر آتے ہیں۔ (راغب) قرآن مجید میں زیادہ تر یہ لفظ لڑنے والی جماعت کے لیے استعمال ہوا ہے، خواہ وہ کفار کی جماعت ہو یا مسلمانوں کی اور خواہ مستقل جماعت ہو یا کمک کے لیے آنے والی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ) [ البقرۃ : 249 ] ”کتنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : واطعیو اللہ ورسولہ ولا تنازعوا یہ ان کے لیے وصیت پر اسمرا ہے اور بدر کے معاملہ میں ان کے اختلاف اور ان کے تنازع کی صورت میں ان کے ہاتھوں کو پکڑنا ہے۔ فتفشلوا یہ فا کے سبب منصوب ہے اور جواب نہی ہے۔ سیبویہ فا کے کے حذف اور جزم دینے کی اجزت نہیں دیتے لیکن کسائی نے اس کی اجازت دی ہے۔ شین کے کسرہ کے ساتھ فشلوا بھی پڑھا گیا ہے لیکن یہ غیر معروف ہے۔ وتذھب ریحکم یعنی تمہاری قوت اور تمہاری مدد و نصرت ختم ہوجائے گی۔ پھر یہ ایسے ہی ہے) جیسے تو کہتا ہے۔ الریح الفلان ( ہوا تو فلاں کے لیے ہے)ٌ جب وہ المر میں غالب ہو۔ شاعر نے کہا ہے۔ اذ ھبت ریاحک فاغتنمھا فان لکل حافقۃ سکون تو اس میں ریح اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم (آپس میں) اختلاف نہ کرو ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری مدد اٹھائی جائے گی۔ 2:۔ فریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتذھب ریحکم “ یعنی تمہاری مدد نصرت اٹھائی جائے گی اور محمد ﷺ کے اصحاب کی ہوا اکھڑ گئی جب انہوں نے احد کے دن آپس میں جھگڑا کیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن زید سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وتذھب ریحکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ریح سے مراد ہے کہ کبھی بھی مدد ونصرت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَطِيْعُوا [ اور اطاعت کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَرَسُوْلَهٗ [ اور اس کے رسول کی ] وَلَا تَنَازَعُوْا [ اور آپس میں کھینچا تانی مت کرو ] فَتَفْشَلُوْا [ نتیجتا تم لوگ ہمت ہار جاؤگے ] وَتَذْهَبَ [ اور نتیجتا اکھڑ جائیگی ] رِيْحُكُمْ [ تمہاری ہوا ] وَاصْبِرُوْا ۭ [ اور ثابت قدم رہو ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] [ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ : ثابت قدموں کے ساتھ ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 46) فتفشلوا کا فاسببیہ ہے اور اسی پر عطف ہونے کی وجہ سے تذھب بھی حالت نصب میں آیا ہے۔ نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 46 میں لا تنازعوا فرمایا ہے یعنی باہمی کشاکش کو روکا ہے ، رائے کے اختلاف یا اس کے اظہار سے منع نہیں کیا ، اختلاف رائے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آپس میں جھگڑنے سے ہوا خیزی ہوجاتی ہے : پھر فرمایا (وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ ) (اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی) (وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ ) (اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا خیزی ہوجائے گی) ۔ اور آپس میں جھگڑنے کی وجہ سے ساکھ ختم ہوجاتی ہے اور مسلمانوں کے با ہمی اختلاف اور انتشار کو دیکھ کر دشمن بےخوف ہوجاتے ہیں اور ان کے دلوں سے مسلمانوں کی ہیبت جاتی رہتی ہے۔ باہمی اختلاف ضعف کا سبب ہے۔ قلوب مجتمع نہ رہیں تو اجسام بھی اتحاد اور اعتماد کا مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ کافروں کو شکست دینے کی بہت سی تدبیریں ہیں (مثلاً جنگی مشقیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–49

ذکر آداب جہاد وقتال قال اللہ تعالی۔ یا ایہا الذین امنوا اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ عزیز حکیم (ربط): اوپر سے بدر کے واقعات اور جہاد و قتال کے احکام کا ذکر چلا آرہا ہے اب ان آیات میں مسلمانوں کو جہاد کے ظاہری وباطنی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے کہ جہاد و قتال کے وقت ان امور کو خاص طور پر ملحوظ رکھیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو جب تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ اللہ تعالٰ ضعیف اور ناتواں اور بےسروسامان کو قوی اور سازوسامان والے پر غلبہ عطا کرنے پر قادر ہے اور جنگ بدر میں تم اس کا مشاہدہ بھی کرچکے ہو لہذا تم کو کافروں کے مقابلہ میں ضعیف اور کمزور نہ بننا چاہئے بلکہ جب کافروں کی جماعت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 45–46

49: مضمونِ ثانی (قوانین جہاد) پہلا قانون جہاد برائے مؤمنین : اے ایمان والو ! جب کسی کافر فوج سے مقابلہ ہوجائے۔ تو مقابلے میں ثابت قدم رہو اور فتح و نصرت کے لیے اللہ کو یاد کرو اور اسی کو پکارو۔ “ وَ اَطِیعُوْ اللّٰهَ الخ ” اور اللہ و رسول کے احکام کی پیروی کرو اور آپس میں نزاع وجدال سے پرہیز کرو۔ ورنہ تم کمزور و بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری قوت اور شان و شوکت جاتی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–46

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء سے قانونِ صلح وجنگ بیان ہو رہا ہے اور اب تک پانچ اصول بیان ہوچکے ہیں ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کر کے فرمایا کہ جب کفار سے تمہاری مڈبھیڑ ہوجائے (آیت ) ” فلا تولوھم الادبار “ تو پشت پھیر کر مت بھاگو پھر دوسری بات یہ فرمائی کہ ایمان والوں ! (آیت ) ” اطیعوا اللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور دیدہ دانستہ روگردانی نہ کرو۔ اللہ نے تیسرا اصول یہ فرمایا کہ اللہ اور رسول کی بات کو قبول کرو جب وہ تہ میں بلائیں ، اسی میں تمہاری حیات ہے پھر چوتھا اصول یہ بیان فرمایا کہ اے اہل ایمان ! نہ تو اللہ سے خیانت کرو اور نہ رسول سے اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۝ 46 ۚ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–48

ترکیب : فتفشلوا موضع نصب میں ہے کیونکہ جواب نہی ہے اور اسی طرح تذھب ہے۔ بطر اور ریاء الناس مفعول خرجوا کے ویصدون معطوف ہے معنی مصدر پر غالب مبنی ہے اسم لا کی وجہ سے۔ لکم اس کی خبر الیوم معمول خبر ہے۔ من الناس حال ہے ضمیر لکم سے فلما تراءت شرط نکص رجع جواب علی عقبیہ حال ہے ای ھارباً وقال معطوف ہے نکص پر۔ تفسیر : فتح بدر کے سامان غیبی ذکر فرما کر اور یہ بات جتلا کر کہ اللہ تمہارا مددگار ہے۔ مسلمانوں کو یہ چند حکم دیتا ہے۔ اول یہ کہ جب تمہارا لشکر مخالفین سے مقابلہ ہوا کرے تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو خوب یاد کیا کرو کیونکہ یہ فتح و ظفر اس کی طرف سے ہے اور نیز اس کی یاد سے ہر مشکل آسان ہوجاتی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–46

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ ج وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَاتَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْاط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ ج (الانفال : 45، 46 ) (اے ایمان والو ! جب تم بھڑو کسی فوج سے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں مت جھگڑو ورنہ تم کمزور ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ) آئندہ پیش آنے والے حالات کے لیے ہدایات ان آیات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–46

فہم القرآن ربط کلام : غزوۂ بدر کے واقعات کی روشنی میں آئندہ کے لیے ہدایات۔ غزوۂ بدر کے معرکہ سے پہلے مسلمانوں میں اس بات پر کچھ اختلاف تھا کہ اب اس معرکہ کی ضرورت ہے یا واپس مدینہ پلٹ جانا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ معرکہ برپا ہو۔ اس لیے مسلمانوں کی کچھ کمزوریوں کو صرف نظر فرما کر ان کی زبردست مدد فرمائی۔ جس کا نتیجہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ اب مسلمانوں کو آئندہ کے لیے ہدایات دی جا رہی ہیں کہ جب تمہارا دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہو۔ تو تمہیں ان باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ بصورت دیگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوجاؤ گے۔ 1۔ جنگ میں ثابت قدمی دکھانا۔ 2۔ مسلسل اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور جھگڑا نہ کرو : آیت 46: وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو) جہاد کے حکم اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدمی وغیرہ میں۔ وَلَا تَنَا زَعُوْا فَتَفْشَلُوْا ( اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ کم ہمت ہوجائو گے) پس تم بزدل ہوجائوگے۔ یہ اَنْ مضمرہ کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کے لئے دلیل وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ ہے۔ یعنی تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ رعب جاتا رہے گا جیساکہتے ہیں ہبت ریاح فلان ای دالت لہ الدولۃ ونفذ امرہ۔ اس کا حکم چلتا ہے۔ بزدلی کے اثر و نفوذ کو ہوا اور اس کے چلنے سے تشبیہ دی۔ ایک قول یہ ہے کہ مدد بالکل نہ تھی مگر ایک ہوا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46(واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا ) بزدل یا کمزور ہو جائو گے (وتذھب ریحکم) مجاہد (رح) فرماتے ہیں تمہارے مدد۔ سدی (رح) کہتے ہیں تمہاری جرأت۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں تمہاری تیزی۔ نضر بن شمیل (رح) فرماتے ہیں کہ تمہاری قوت۔ اور اخفش (رح) فرماتے ہیں ”’ دولتکم “ اور ” الریح “ یہاں کنایہ ہے امر کے نافذ ہونے اور اس کے مراد پر جاری ہونے سے عرب کہتے ہیں ” ھیت ریح فلان “ جب اس کا حکم اس کی مراد پر متوجہ ہو۔ قتادہ اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ مدد کی ہوا ہے۔ مدد ہمیشہ ہوا کے ذریعے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجتے ہیں جو دشمن کے چہروں کو مارتی ہے اور اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–46

45۔ 46۔ اوپر کی آیتوں میں اس مدد کا ذکر تھا جو اس لڑائی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچی اب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو میدان جنگ کے آداب سمجھائے ہیں عبداللہ ؓ بن اوفی کی ایک حدیث صحیحین میں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو تم دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو خدا سے عافیت چاہتے رہو اور جب دشمن سے مقابلہ ہوجاوے تو صبر اختیار کرو اور جان لو کہ جنت تلوار کے سایہ میں ہے آیتوں اور حدیث کو ملا کر مطلب یہ ہو کہ اے مسلمانوں جب کسی جماعت دشمن سے مقابلہ کرو تو صبر و سکون کو کام میں لاکر اپنے قدم اس معرکہ میں ثابت رکھو اور خدا کو یاد کرتے رہو اور بہت یاد کرو جس سے تمہیں فلاحیت ہوگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–49

آیت 45 (یایھا الذین امنوا اذالقیتم فۃ) ” اے ایمان والو ! جب ملو تم کسی گروہ کو “ یعنی کفار کا گروہ جو تمہارے ساتھ جنگ کرتا ہے (فاثبوتوا) ” تو ثابت قدم رہو “۔ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبرے سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ (لعلکم تفلحون) ” تاکہ تم فلاح پاؤ “ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤ جو تمہارا مطلوب و منشاء ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔ (واطیعوا اللہ و رسولہ) ” اور اللہ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–56

جنگ میں اطاعت خدا اور رسول قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

94 اطاعت خدا و رسول کا حکم وارشاد : سو اس سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کہا مانو تم لوگ اللہ اور اسکے رسول کا : اور رضا ورغبت اور دل کی خوشی اور چاہت سے مانو کہ اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے کہ اس سے تم کو اس دارفانی میں سکون و اطمینان اور راحت قلبی کی سعادت اور حیات طیبہ کی انمول دولت نصیب ہوگی۔ اور آخرت کے اس جہان ابدی میں حقیقی اور دائمی کامیابی سے سرفرازی بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور اس ضمن میں عمومی اطاعت کے ساتھ ساتھ خاص طور پر دشمن کے مقابلے میں کامل نظم و نسق اور ڈسپلن کا ثبوت دو ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–47

جہاد میں کامیابی کے اصول تشریح : جیسا کہ باقی زندگی گزارنے کے لیے اللہ جل شانہ ‘ نے مسلمانوں کو بہترین اصول بتائے ہیں اسی طرح جنگ کے اصول بھی بتائے ہیں۔ -1 پہلا اصول ثابت قدم رہو۔ ثابت قدمی تو زندگی کے ہر مرحلہ میں ضروری ہے۔ کیونکہ جہاں انسان کا ارادہ کمزور ہوا وہاں ناکامی ہوگئی، اس لیے اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان جنگ میں اترو۔ کفار کی طرح نہیں کہ فوجیوں کو جوش و جذبہ دلانے کے لیے بینڈ باجے بجائے جاتے ہیں۔ مسلمان کو جذبہ جہاد کو ابھارنے اور ثابت قدم رکھنے کے لیے اللہ کا ذکر بہترین ذریعہ ہے۔ اسی جذبہ کے تحت جب مسلمان نعرہ تکبیر لگاتا ہے تو مشرکوں کے دل پر رعب طاری ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–48

آیات 45 تا 48 اسرار و معارف جنگ اور جہاد اسلام نے جنگ کو بھی جہاد میں بدل دیا اور ایک بالکل نیا فلسفہ عطا فرمایا جنگ تو اقوام عالم میں پہلے سے عام تھی اسلام نے اس میں ایک بہت بڑی تبدیلی یہ کردی کہ جنگ میں مخالف کو تباہ کرنا اس کی طاقت کو ختم کرنا اور اسے ذلیل ورسوا کرنا لوٹ مار آگ لگا دنیا وغیرہ سب امور ہوتے تھے ۔ اسلام نے جہاد کا لفظ دیا جو جہد یعنی کوشش اور محنت سے بنا ہے اور جہاد سے مرادمخالف کی اصلاح اور اس کی بھی بہتری چاہتا ہے ۔ اسی لیے آپ اسلامی افواج کو دی گئی ہدایات کا مطالعہ کریں تو یہ ملے گا کہ کسی نہتے آدمی پر تلوارنہ اٹھائی جائے فصل خراب نہ کئے جائیں درخت نہ کاٹے جائیں عبادت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی صرف اس پر بھروسہ کرو اسی سے مددطلب کرو کیونکہ فتح ونصرت کا انحصار ظاہر اسباب پر نہیں بلکہ دل کی استقامت اللہ کی یاد اور اس کی حکم بر داری پر ہے۔ اسی طالوت کے ساتھیوں نے دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت یہ دعا کی تھی، ربنا افرغ علینا صبرا وثبت قادامنا وانصر نا علی القوم الکافرین اے ہمارے رب ہمیں صبر کی توفیق دے ہمارے قدم جما دے اور ان کافروں پر ہمیں فتح نصیب کر۔ (بقرہ :250) حضرت سہیل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو وقت دعارد نہیں ہوگی ایک اذان کے وقت دوسرے دشمن سے لڑائی کے وقت ( الحاکم بسند) صحیح) یہ اں ثبات سے مقصود انہتایہ بےجگری سے لڑ نا ہے۔ لہذا یہ آیت الا متح فالقتال او…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:46) فتفشلوا۔ ورنہ تم ہمت ہار دو گے۔ وتذھب ریحکم۔ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–47

آیات : 45 تا 47 لغات القرآن۔ فاثبتوا۔ پس جمے رہو۔ اذکروا اللہ۔ اللہ کو خوب یاد کرو۔ لا تنازعوا ۔ آپس میں نہ جھگڑو۔ فتفشلوا۔ پھر تم بزدل ہو جائو گے۔ تذھب ریحکم۔ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اصبروا۔ صبر کرو۔ خرجوا۔ جو نکلے من دیارھم۔ اپنے گھروں سے ۔ رء الناس۔ لوگوں کو دکھاتے ۔ یصدون۔ وہ روکتے ہیں۔ محیط۔ گھیرنے والا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جہاد و قتال کے چھ قوانین بتائے ہیں جو اہل اسلام کے لئے رہبر و رہنما ہیں۔ (1) ثابت قدمی (2) اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر (3) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت (4) آپس میں میل محبت اور اختلافات سے دور (5) صبر و تحمل (6) دکھاوے اور ریا کاری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–46

آداب جنگ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ کے آداب سکھائے ہیں کہ اے مسلمانو ! جب کسی دشمن جماعت سے مقابلہ کرو تو صبر و سکون کو کام میں لاکر اپنے قدم اس معرکے میں ثابت رکھو اور خدا کی یاد کرتے رہو اور بہت یاد کرو جس سے تمہیں فلاحیت ہوگی۔ لڑائی کے وقت ذکر کا حکم اس لئے فرمایا کہ گھبراہٹ کے وقت خدا کا ذکر مددگار بنے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنگ میں تکبیر اور نعرہ اللہ اکبر بلند کرنا ہے۔ پھر فرمایا کہ ہر حال میں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو، اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ ورنہ تمہاری رائیں مختلف ہوجائیں گی اور تم میں سستی آجائے گی اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی، اور فتح یابی رائیگاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–52

[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یہ آیت صرف جہاد سے مختص نہیں ، بلکہ ہر حال میں مسلمان کو اطاعت کے شیرازہ میں منسلک رہنا چاہئے ، جب بھی کتاب وسنت کو چھوڑ کر مسلمان اختلاف وتنازع پیدا کریگا ہوا اکھڑ جائے گی ، اور ہمتیں پست ہوجائیں گی ، قوت و غلبہ ” اعتصام بحبل اللہ “ میں مضمر ہے ، ” واصبروا “ قرآن کی اصطلاح میں شمات و استقلال کا دوسرا نام ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

46 اور جملہ امور میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم کم ہمت اور بزدل ہوجائوگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور اگر کوئی بات طبیعت کے خلاف پیش آجائے تو ایسی حالت میں برداشت سے کام لیا کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ صبر اور سہار کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لڑائی میں جو حالات پیش آئیں ان میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو اور باہمی منازعت میں نہ پڑو ورنہ باہمی خانہ جنگی سے تمہاری مہتیں پست ہوجائیں گی اور دشمن کی نظر میں تمہاری ہوا بگڑ جائے گی اور اگر کوئی امر ناگوار طبع پیش آجائے تو صبر سے کام لو اللہ تعالیٰ کی معیت صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–47

ف 2۔ ادھر والے سے مراد مدینہ سے نزدیک کا موقع اور ادھر والے سے مراد مدینہ سے دور کا موقع ہے۔ 3۔ یعنی سمندر کے کنارے کنارے جارہا تھا۔ 4۔ مطلب یہ کہ اللہ کو منظور تھا لڑائی ہونا تاکہ ایک خاص طریق سے اسلام کا حق ہونا ظاہر ہوجائے کہ اس قلت عدد وکم سامانی پر مسلمان غالب آئے جو کہ خارق عادت ہے جس سے معلوم ہوا کہ اسلام حق ہے پس اس سے حجت الہیہ تام ہوگئی اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح حق کے بعد ہوگا جس میں عذاب کا پورا استحقاق ہوگیا اور عذر کی گنجائش ہی نہ رہی اسی طرح جس کو ہدایت ہونا ہوگا وہ حق کو قبول کرے گا خلاصہ حکمت کا یہ ہوا کہ حق واضح ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوسری ہدایت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور جھگڑا مت کرو : 62: اس آیت نے یہ وضاحت کردی کہ میدان جنگ میں بھی مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے باہر قدم نہیں رکھنا چاہئے اور دوسرا یہ کہ جنگ کے متعلق بھی اسلام کے پاس اللہ اور اس کے رسول کی دی ہوئی ہدایات موجود ہیں اور انہی ہدایات میں جنگ لڑنے اور جنگ جیتنے کے گر موجودد ہیں اور پھر اس اطاعت الٰہی کی جگہ جگہ وضاحت بھی ارشاد فرمادی کہ دشمن کے مقابلہ میں کامل نظم و ضبط اور مکمل ڈسپلن قائم رکھنا اللہ ہی کی فرمانبرداری ہے اور میدان جنگ میں نظم ونسق کا فقدان اور آرزو و حکم کی خلاف ورزی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Moving to verse 46, we see that believers have been prompted to follow a third instruction and that أَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ (obey Allah and His Messenger) - because, help and support from Allah Ta` ala can be expected to come only through obedience to Him. Negligence and disobedience can only be the causes of the displeasure of Allah and a certain deprivation from whatever grace could come from Him. Thus, we have before us three articles of the Qur'anic code of conduct for the battle-field: (1) Firmness (2) Dhikr of Allah (3) Obedience. After that, it was said: وَلَا تَنَازَعُوا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

37. The believers were asked to exercise self-restraint. They were required to refrain from haste, panic, consternation, creed and uncalled-for enthusiasm. They were counselled to proceed cool-headedly and to take well-considered decisions. They were also asked not to relent an inch even in the face of crave dangers: refrain from acting rashly under provocation; to desist from taking hasty action out of impatience. They were also asked to exercise control over themselves lest they were tempted by worldly gains. All these instructions are implicit in the Qur'anic directive of patience given to…

Read the full tafseer →