Explained with ayahs 45–46
جہاد کے وقت کثرت سے اللہ کا ذکر
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو لڑائی کی کامیابی کی تدبیر اور دشمن کے مقابلے کے وقت شجاعت کا سبق سکھا رہا ہے ایک غزوے میں رسول مقبول ﷺ نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا ! لوگو دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہوجائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما (بخاری مسلم) عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ دشمن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
سورة الْاَنْفَال 36
یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی ﷺ مسلمانوں کو لے کر مدینہ سے نکل رہے تھے یا راستہ میں کسی منزل پر تھے اور یہ متحقق نہ ہوا تھا کہ کفار کا لشکر فی الواقع کتنا ہے۔ اس وقت حضور ﷺ نے خواب میں اس لشکر کو دیکھا اور جو منظر آپ کے سامنے پیش کیا گیا اس سے آپ نے اندازہ لگایا کہ دشمنوں کی تعداد کچھ بہت زیادہ نہیں ہے۔ یہی خواب آپ نے مسلمانوں کو سنا دیا اور اس سے ہمت پا کر مسلمان آگے بڑھتے چلے گئے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو جب تم کو (کفار کی کسی) جماعت سے (جہاد میں) مقابلہ کا اتفاق ہوا کرے تو (ان آداب کا لحاظ رکھو ایک یہ کہ) ثابت قدم رہو (بھاگو مت) اور (دوسرے یہ کہ) اللہ کا خوب کثرت سے ذکر کرو (کہ ذکر سے قلب میں قوت ہوتی ہے) امید ہے تم (مقابلہ میں) کامیاب ہو (کیونکہ ثبات قدم اور ثبات قلب جب جمع ہوں تو کامیابی غالب ہے) اور (تیسرے یہ کہ تمام امور متعلقہ حرب میں) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت (کا لحاظ) کیا کرو (کہ کوئی کارروائی خلاف شرع نہ ہو) اور (چوتھے یہ کہ اپنے امام سے اور باہم بھی) نزاع مت کرو ورنہ (باہمی نااتفاقی سے) کم ہمت ہوجاؤ گے (کیونکہ قوتیں منتشر ہوجائیں گی ایک کو دوسرے پر وثوق…
Read the full tafseer →جنگ کے باب میں مومنین کو ہدایات : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔
یہ آگے کے مراحل کے لیے ہدایت دی جارہی ہے کہ جب تمہارا کفار کے کسی گروہ سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو تاکہ فلاح پاؤ۔ ثابت قدمی اس لیے ضروری ہے کہ اللہ کی نصرت ہمیشہ اسباب کے پردے سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دنیا بندوں کے لیے امتحان گاہ ہے۔ جب بندے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیتے ہیں تو اس کے پردے میں اللہ کی نصرت ظاہر ہوتی ہے۔ بندوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بنی سرائیل کی طرح خدا کا امتحان کریں کہ خود تو گھروں میں بیٹھ رہیں…
Read the full tafseer →45۔ 1 اب مسلمانوں کو لڑائی کے وہ آداب بتائے جا رہے ہیں جن کو دشمن کے مقابلے کے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات ثبات قدمی اور استقلال ہے، کیونکہ اس کے بغیر میدان جنگ میں ٹھہرنا ممکن ہی نہیں ہے تاہم اس سے تحرف اور تحیز کی وہ دونوں صورتیں مستشنٰی ہوں گی جن کی پہلے وضاحت کی جا چکی ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ ثبات قدمی کے لئے بھی تحرف یا تحیز ناگزیر ہوتا ہے۔ دوسری ہدایت یہ ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو۔ تاکہ مسلمان اگر تھوڑے ہوں تو اللہ کی مدد کے طالب رہیں اور اللہ بھی کثرت ذکر کی وجہ سے ان کی طرف متوجہ رہے اور اگر مسلمان تعداد میں زیادہ ہوں تو کثرت کی وجہ سے ان کے اندر عجب اور غرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
31: یہ اس خواب کے علاوہ بیداری کا واقعہ ہے جو عین اس وقت پیش آیا جب دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کچھ ایسی کیفیت طاری فرمادی کہ کفار کا وہ لشکر جرار ان کو بہت معمولی محسوس ہوا۔
Read the full tafseer →اگر معاملہ ایسا ہی ہے ، تدبیر سب کی سب اللہ کی ہے۔ نصرت اللہ کی جانب سے ہے۔ محض کثرت عداد ہی فیصلہ کن فیکٹر نہیں ہے اور محض مادی سازوسامان ہی کسی معرکے کے لیے فیصلہ کن نہیں ہوتا ، لہذا جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کو چاہئے کہ جب کفار کے ساتھ ان کی مڈ بھیڑ ہوجائے تو وہ ثابت قدمی اختیار کریں۔ اور ان کو چاہی کہ وہ حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی کے لیے حقیقی سازوسامان تیار کریں اور ان کو وہ سائل اختار کرنے چاہئیں جن کا تعلق صاب تدبیر اور صاحب تقدیر کے اسلحہ خانہ سے ہو۔ اور فتح و نصرت اور صاب عون مالک حقیقی سے امداد حاصل کریں۔ اس ذات کی طرف رجوع کریں جو مقتدر اعلی اور قوت و سطوت کا مالک ہے۔ اور ان…
Read the full tafseer →2 اس میں نماز، دعا، تکبیر اور ہر قسم کا ذکر اللہ شامل ہے۔ " ذکر اللہ " کی تاثیر یہ ہے کہ ذاکر کا دل مضبوط اور مطمئن ہوتا ہے جس کی جہاد میں سب سے زیادہ ضرورت ہے صحابہ ؓ کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہی تھا۔ (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ) 13 ۔ الرعد :28)
Read the full tafseer →آیت 45 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِءَۃً فَاثْبُتُوْا
یہ وہ دور تھا جب حق و باطل میں مسلّح تصادم شروع ہوچکا تھا اور دین کے غلبے کی جدوجہد آخری مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ غزوۂ بدر اس سلسلے کی پہلی جنگ تھی اور ابھی بہت سی مزید جنگیں لڑی جانی تھیں۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کو میدان جنگ اور جنگی حکمت عملی کے بارے میں ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں کہ جب بھی کسی فوج سے میدان جنگ میں تمہارا مقابلہ ہو تو تم ثابت قدم رہو ‘ اور کبھی بھی ‘ کسی بھی حالت میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤ۔
وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔
حالت جنگ میں بھی اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ‘…
Read the full tafseer →50 دوران جنگ اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنا اور اسی پر بھروسہ کرنا :۔ یہاں سے آگے جنگ سے متعلق مسلمانوں کو ہدایات اور ان کی جنگی داخلی اور خارجہ پالیسی کے متعلق احکام بیان کئے جا رہے ہیں :۔
سب سے پہلی ہدایت یہ ہے کہ اگر مقابلہ پیش آجائے تو پھر پوری دلجمعی اور ثابت قدمی سے مقابلہ پر ڈٹ جاؤ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دشمن سے مقابلہ کی آرزو مت کرو اور اگر مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر پوری ہمت اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرو۔ اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد، باب لاتمنوالقاء العدو) اور اس دوران اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو۔ ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا تمہاری ثابت قدمی کا باعث بن جائے…
Read the full tafseer →71 ۔ یہ حکم عام ہے۔ یہاں یہ بتا دیا گیا کہ فلاح کا ذریعہ یہی ثبات قلب وثبات قدم کا اجتماع ہے۔ اور فلاح کے عموم میں شخصی واجتماعی، دنیوی واخروی ہر قسم کی فلاح آگئی۔ (آیت) ” اذا لقیتم فءۃ “۔ اس لقاء یا مڈبھیڑہو جانے سے جہاد میں سامنا ہوجانا مراد ہے، (آیت) ” فاثبتوا “۔ یعنی پست ہمتی اور بزدلی نہ دکھاؤ (آیت) ” واذکروا اللہ کثیر “۔ کہ قلب میں قوت وثبات اسی ذکر الہی اور کثرت ذکر الہی سے پیدا ہوگی ،۔ امر بالذکر حتی یثبت القلب علی الیقین ویثبت اللسان علی الذکر (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت نمبر 45 تا 48
ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تمہاری کسی کافر جماعت سے مڈ بھیڑ ہوجائے تو ان سے قتال کے لئے ثابت قدم رہو، بزدلی نہ دکھاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور اس سے نصرت کی دعاء کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تو تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، تمہاری شوکت و طاقت جاتی رہے گی، صبر سے کام لو، یقینا اللہ نصرت و اعانت کے ذریعہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور ان جیسے نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اپنے قافلے کو بچانے کے لئے اتراتے ہوئے لوگوں کو (شان و سامان) دکھاتے ہوئے نکلے تھے، اور قافلے کے…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا اذا لقیتم فءۃ فاثبتوا واذکروا اللہ کثیرًا لعلکم تفلحون اے ایمان والو ! (لڑنے کیلئے) تمہارا مقابلہ کسی (کافر) گروہ سے ہوجائے تو جمے رہو اور اللہ کی یاد بکثرت کرو تاکہ کامیاب ہوجاؤ۔
فءۃ سے مراد ہے : کافر گروہ اور مقابلہ سے مراد ہے لڑنے کیلئے مقابلہ۔ گروہ کے الفاظ کے ساتھ کافر کا لفظ نہ ذکر کرنا بتارہا ہے کہ مسلمان صرف کافروں سے ہی لڑتے ہیں۔ جمے رہنے سے مراد ہے لڑنے والے دشمنوں کے سامنے جمے رہنا۔ مقابلہ کے وقت بھاگنا گناہ کبیرہ ہے ‘ صحیح احادیث میں یہی آیا ہے۔ اللہ کی یاد کرنے سے مراد ہے فتح کی دعا کرنا تاکہ اللہ کی یاد سے قوت حاصل ہو اور کامیابی کی قوی امید ہو۔ اس آخری جملہ…
Read the full tafseer →(45) اے اصحاب رسول ﷺ بدر میں جب تم لوگوں کو کفار کی جماعت سے مقابلہ کا اتفاق ہو تو اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ لڑائی میں ثابت قدم رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا : ”لَقِيْتُمْ“ ”لِقَاءٌ“ سے ہے، یعنی ملنا اور آمنے سامنے ہونا، اکثر لڑائی کی ملاقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہاں بھی یہی مراد ہے۔ ”فِئَةً“ جماعت، گروہ۔ یہ ”فَاءَ یَفِیْءُ فَیْءًا“ (لوٹنا) سے مشتق ہے، کیونکہ ایک جماعت کے لوگ مدد کے لیے ایک دوسرے کی طرف لوٹ کر آتے ہیں۔ (راغب) قرآن مجید میں زیادہ تر یہ لفظ لڑنے والی جماعت کے لیے استعمال ہوا ہے، خواہ وہ کفار کی جماعت ہو یا مسلمانوں کی اور خواہ مستقل جماعت ہو یا کمک کے لیے آنے والی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ) [ البقرۃ : 249 ] ”کتنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
قولہ تعالیٰ : واذیریکموھم اذا التقیتم فی اعینکم قلیلا یہ رویت حالت بیداری میں تھی۔ اور پہلی آیت میں بھی رئویت کو بیداری کی حالت پر محمول کرنا جائز ہے جب آپ یہ کہیں کہ منام سے مراد سونے کی جگہ ہے اور وہ معین ہے، پس اس بنا پر پہلی رئویت حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ خاص ہے اور یہ تمام کے لیے ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : میں نے بدر کے دن ایک آدمی کو کہا جو میرے پہلو میں تھا : کیا تو انہیں ستر دیکھ رہا ہے ؟ تو اس نے کہا : وہ تقریبا سو ہیں۔ پھر ہم نے ایک آدمی کو قید کیا تو ہم نے اس سے پو چھا : تم کتنے تھے ؟ تو اس نے بتایا : ہم ہزار تھے (1) ۔ ویقللکم فی اعیھم یہ صورت حال جنگ کی ابتداء میں تھی…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں وابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دشمن سے ملنے کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو اگر تم ان سے ملو (یعنی ان سے آمنا سامنا ہوجائے) تو (پھر) ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو جب تم کو دھمکائیں اور چیخیں تو تم پر خاموشی لازم ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قرآن کی قرات اور ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو نماز اور قتال کا حکم نہ فرماتے کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوگوں کو لڑائی کے وقت…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِذَا [ جب بھی ] لَقِيْتُمْ [ تم لوگ سامنے آؤ] فِئَةً [ کسی جماعت کے ] فَاثْبُتُوْا [ تو تم لوگ ڈٹے رہو ] وَاذْكُرُوا [ اور یاد کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] كَثِيْرًا [ کثرت سے ] لَّعَلَّكُمْ [ شاید تم لوگ ] تُفْلِحُوْنَ [ مراد پاؤ]
Read the full tafseer →دشمنوں سے مقابلہ ہوجائے تو جم کر مقابلہ کرو اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو
ان آیات میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کبھی کسی جماعت سے تمہارے مڈ بھیڑ ہوجائے یعنی جنگ اور لڑائی کی نوبت آجائے تو ثابت قدمی کے ساتھ جم کر مقابلہ کرو حضرت عبداللہ بن اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دشمن سے مڈ بھیڑ ہونے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو پھر جب مڈ بھیڑ ہوجائے تو جم کر لڑو۔ اتنا مضمون صحیح بخاری ص 424 ج 2 میں ہے۔ مسند دارمی ص 135 ج 2 میں یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کی ہے اس میں یوں ہے کہ دشمن سے مقابلہ ہونے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
ذکر آداب جہاد وقتال
قال اللہ تعالی۔ یا ایہا الذین امنوا اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ عزیز حکیم
(ربط): اوپر سے بدر کے واقعات اور جہاد و قتال کے احکام کا ذکر چلا آرہا ہے اب ان آیات میں مسلمانوں کو جہاد کے ظاہری وباطنی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے کہ جہاد و قتال کے وقت ان امور کو خاص طور پر ملحوظ رکھیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو جب تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ اللہ تعالٰ ضعیف اور ناتواں اور بےسروسامان کو قوی اور سازوسامان والے پر غلبہ عطا کرنے پر قادر ہے اور جنگ بدر میں تم اس کا مشاہدہ بھی کرچکے ہو لہذا تم کو کافروں کے مقابلہ میں ضعیف اور کمزور نہ بننا چاہئے بلکہ جب کافروں کی جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
49: مضمونِ ثانی (قوانین جہاد)
پہلا قانون جہاد برائے مؤمنین : اے ایمان والو ! جب کسی کافر فوج سے مقابلہ ہوجائے۔ تو مقابلے میں ثابت قدم رہو اور فتح و نصرت کے لیے اللہ کو یاد کرو اور اسی کو پکارو۔ “ وَ اَطِیعُوْ اللّٰهَ الخ ” اور اللہ و رسول کے احکام کی پیروی کرو اور آپس میں نزاع وجدال سے پرہیز کرو۔ ورنہ تم کمزور و بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری قوت اور شان و شوکت جاتی رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ربط آیات :
اس سورة کی ابتداء سے قانونِ صلح وجنگ بیان ہو رہا ہے اور اب تک پانچ اصول بیان ہوچکے ہیں ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کر کے فرمایا کہ جب کفار سے تمہاری مڈبھیڑ ہوجائے (آیت ) ” فلا تولوھم الادبار “ تو پشت پھیر کر مت بھاگو پھر دوسری بات یہ فرمائی کہ ایمان والوں ! (آیت ) ” اطیعوا اللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور دیدہ دانستہ روگردانی نہ کرو۔ اللہ نے تیسرا اصول یہ فرمایا کہ اللہ اور رسول کی بات کو قبول کرو جب وہ تہ میں بلائیں ، اسی میں تمہاری حیات ہے پھر چوتھا اصول یہ بیان فرمایا کہ اے اہل ایمان ! نہ تو اللہ سے خیانت کرو اور نہ رسول سے اور نہ ہی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللہَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 45 ۚ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
ترکیب : اذ منصوب ہے با ضمار اذکریا بدل ثانی ہے یوم الفرقان سے یا متعلق ہے سمیع علیم سے یری کا فاعل اللّٰہ ک مفعول اول ہم مفعول ثانی قلیلا مفعول ثالث فی فعل سے متعلق ولو شرط لفشلتم الخ جواب واذ معطوف ہے اذا ول پر یہ بھی بدل ہے۔
تفسیر : یہ بھی یوم الفرقان کے بیان کا تتمہ ہے۔ مجاہد اور مقاتل کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو خواب میں اللہ تعالیٰ نے بدر کا واقعہ دکھایا۔ اس میں کفار تھوڑے دکھائی دیے۔ آپ نے اس بات کی صحابہ کو خبر دی۔ اس سے ان کو اور بھی جرأت مقابلہ کے لئے ہوئی۔ پھر جب مقابلہ کا وقت آیا اور دونوں طرف سے صفیں بندھیں تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نگاہ میں کفار کو کم کرکے دکھایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ ج وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَاتَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْاط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ ج (الانفال : 45، 46 )
(اے ایمان والو ! جب تم بھڑو کسی فوج سے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں مت جھگڑو ورنہ تم کمزور ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ )
آئندہ پیش آنے والے حالات کے لیے ہدایات
ان آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : غزوۂ بدر کے واقعات کی روشنی میں آئندہ کے لیے ہدایات۔
غزوۂ بدر کے معرکہ سے پہلے مسلمانوں میں اس بات پر کچھ اختلاف تھا کہ اب اس معرکہ کی ضرورت ہے یا واپس مدینہ پلٹ جانا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ معرکہ برپا ہو۔ اس لیے مسلمانوں کی کچھ کمزوریوں کو صرف نظر فرما کر ان کی زبردست مدد فرمائی۔ جس کا نتیجہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ اب مسلمانوں کو آئندہ کے لیے ہدایات دی جا رہی ہیں کہ جب تمہارا دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہو۔ تو تمہیں ان باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ بصورت دیگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوجاؤ گے۔
1۔ جنگ میں ثابت قدمی دکھانا۔
2۔ مسلسل اللہ…
Read the full tafseer →مسلمانوں کو ثابت قدمی کا حکم :
آیت 45: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً (اے ایمان والو جب تم کو کسی جماعت سے مقابلہ کا اتفاق ہوا کرے) جب کفار کی کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو۔ فئۃ کی صفت کو چھوڑ دیا کیونکہ مسلمانوں کی لڑائی ہی کفار سے ہوتی ہے۔ اللقاء یہ تغلبًا لڑائی کا نام ہے۔ فَاثْبُتُوْا ( تو ثابت قدم رہو) ان سے لڑائی کیلئے اور مت بھاگو۔ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ کا خوب کثرت سے ذکر کرو) لڑائی کے مقامات میں اس کے ذکر سے پشت پناہی اور مدد طلب کرنے والے ہو۔ اور دشمن کے خلاف اس کو پکارنے والے ہو۔ اللّٰھم اخذلھم اللھم اقطع دابرھم اے اللہ ان کو رسوا…
Read the full tafseer →تفسیر 45(یایھا الذین امنوآ اذا لقیتم فئۃ) کافر جماعت سے (فائبتوا لڑائی کے وقت قتال میں ثابت قدم رہو (واذکروا اللہ کثیراً ) اللہ تعالیٰ سے نصرت اور کامیابی کی دعا کرو (لعلکم تفلحون) تاکہ تم کامیابی کی امیدی پر ہو جائو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم مراد پائو)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
45۔ 46۔ اوپر کی آیتوں میں اس مدد کا ذکر تھا جو اس لڑائی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچی اب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو میدان جنگ کے آداب سمجھائے ہیں عبداللہ ؓ بن اوفی کی ایک حدیث صحیحین میں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو تم دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو خدا سے عافیت چاہتے رہو اور جب دشمن سے مقابلہ ہوجاوے تو صبر اختیار کرو اور جان لو کہ جنت تلوار کے سایہ میں ہے آیتوں اور حدیث کو ملا کر مطلب یہ ہو کہ اے مسلمانوں جب کسی جماعت دشمن سے مقابلہ کرو تو صبر و سکون کو کام میں لاکر اپنے قدم اس معرکہ میں ثابت رکھو اور خدا کو یاد کرتے رہو اور بہت یاد کرو جس سے تمہیں فلاحیت ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
آیت 45
(یایھا الذین امنوا اذالقیتم فۃ) ” اے ایمان والو ! جب ملو تم کسی گروہ کو “ یعنی کفار کا گروہ جو تمہارے ساتھ جنگ کرتا ہے (فاثبوتوا) ” تو ثابت قدم رہو “۔ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبرے سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ (لعلکم تفلحون) ” تاکہ تم فلاح پاؤ “ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤ جو تمہارا مطلوب و منشاء ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔
(واطیعوا اللہ و رسولہ) ” اور اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →جنگ میں یاد خدا
قول باری ہے (واذالقیم فئۃ فاذکوا اللہ کثیرا۔ جب کسی گروہ سے تمہارا مقبالہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو) ایک قول کے مطابق الفئۃ اس گروہ کو کہتے ہیں جو دوسرے گروہ سے بچھڑ چکا ہو۔ اس کی اصل اس محاورہ سے ماخوذ ہے۔ فاوت راسہ بالسیف (میں نے تلوار سے اس کا سر کاٹ دیا) اس لفظ سے یہاں کفار کا گروہ مراد ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں ڈٹ جانے اور ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ آیت اس قول باری کے معنوں میں ہے (وذالقتم الذین کفروا زحفا فلا تولوھم الادبار۔ جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو۔
اس آیت میں جو صورتیں…
Read the full tafseer →91 اہل ایمان کو ثبات اور استقامت کا حکم وارشاد : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ثابت قدم رہو دشمن کے مقابلے میں اور راہ حق و صواب پر۔ اور اس سے گریز و فرار کا کبھی خیال بھی اپنے دل میں نہ لانا کہ تمہارا راستہ بہرحال حق اور تمہارا انجام بہرکیف فوز و فلاح ہے کہ انجام کار کامیابی انہی لوگوں کیلئے ہے جو ایمان اور تقویٰ کی دولت سے سرشار و سرفراز ہیں۔ سو دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے پر تم کو سربلندی اور فائز المرامی سے نوازا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور راہ حق میں ثابت قدمی اس لئے ضروری ہے کہ اللہ پاک کی نصرت و امداد ہمیشہ اسباب کے پردوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دنیا بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
جہاد میں کامیابی کے اصول
تشریح : جیسا کہ باقی زندگی گزارنے کے لیے اللہ جل شانہ ‘ نے مسلمانوں کو بہترین اصول بتائے ہیں اسی طرح جنگ کے اصول بھی بتائے ہیں۔
-1 پہلا اصول ثابت قدم رہو۔ ثابت قدمی تو زندگی کے ہر مرحلہ میں ضروری ہے۔ کیونکہ جہاں انسان کا ارادہ کمزور ہوا وہاں ناکامی ہوگئی، اس لیے اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان جنگ میں اترو۔ کفار کی طرح نہیں کہ فوجیوں کو جوش و جذبہ دلانے کے لیے بینڈ باجے بجائے جاتے ہیں۔ مسلمان کو جذبہ جہاد کو ابھارنے اور ثابت قدم رکھنے کے لیے اللہ کا ذکر بہترین ذریعہ ہے۔ اسی جذبہ کے تحت جب مسلمان نعرہ تکبیر لگاتا ہے تو مشرکوں کے دل پر رعب طاری ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیات 45 تا 48
اسرار و معارف
جنگ اور جہاد
اسلام نے جنگ کو بھی جہاد میں بدل دیا اور ایک بالکل نیا فلسفہ عطا فرمایا جنگ تو اقوام عالم میں پہلے سے عام تھی اسلام نے اس میں ایک بہت بڑی تبدیلی یہ کردی کہ جنگ میں مخالف کو تباہ کرنا اس کی طاقت کو ختم کرنا اور اسے ذلیل ورسوا کرنا لوٹ مار آگ لگا دنیا وغیرہ سب امور ہوتے تھے ۔ اسلام نے جہاد کا لفظ دیا جو جہد یعنی کوشش اور محنت سے بنا ہے اور جہاد سے مرادمخالف کی اصلاح اور اس کی بھی بہتری چاہتا ہے ۔ اسی لیے آپ اسلامی افواج کو دی گئی ہدایات کا مطالعہ کریں تو یہ ملے گا کہ کسی نہتے آدمی پر تلوارنہ اٹھائی جائے فصل خراب نہ کئے جائیں درخت نہ کاٹے جائیں عبادت…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی صرف اسی پر بھروسا کرو اور اسی کو اپنا مقصود بنائ۔
Read the full tafseer →(8:45) فاثبتوا۔ ثبات سے (باب نصر) امر جمع مذکر حاضر۔ تم ثابت قدم رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
آیات : 45 تا 47
لغات القرآن۔
فاثبتوا۔ پس جمے رہو۔ اذکروا اللہ۔ اللہ کو خوب یاد کرو۔ لا تنازعوا ۔ آپس میں نہ جھگڑو۔ فتفشلوا۔ پھر تم بزدل ہو جائو گے۔ تذھب ریحکم۔ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اصبروا۔ صبر کرو۔ خرجوا۔ جو نکلے من دیارھم۔ اپنے گھروں سے ۔ رء الناس۔ لوگوں کو دکھاتے ۔ یصدون۔ وہ روکتے ہیں۔ محیط۔ گھیرنے والا۔
تشریح :
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جہاد و قتال کے چھ قوانین بتائے ہیں جو اہل اسلام کے لئے رہبر و رہنما ہیں۔
(1) ثابت قدمی (2) اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر (3) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت (4) آپس میں میل محبت اور اختلافات سے دور (5) صبر و تحمل (6) دکھاوے اور ریا کاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آداب جنگ
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ کے آداب سکھائے ہیں کہ اے مسلمانو ! جب کسی دشمن جماعت سے مقابلہ کرو تو صبر و سکون کو کام میں لاکر اپنے قدم اس معرکے میں ثابت رکھو اور خدا کی یاد کرتے رہو اور بہت یاد کرو جس سے تمہیں فلاحیت ہوگی۔ لڑائی کے وقت ذکر کا حکم اس لئے فرمایا کہ گھبراہٹ کے وقت خدا کا ذکر مددگار بنے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنگ میں تکبیر اور نعرہ اللہ اکبر بلند کرنا ہے۔ پھر فرمایا کہ ہر حال میں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو، اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ ورنہ تمہاری رائیں مختلف ہوجائیں گی اور تم میں سستی آجائے گی اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی، اور فتح یابی رائیگاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →مسلمان سپاہی :
(ف 1) اسلامی غزوات چونکہ دینی اور مادی مقاصد کے لئے نہیں ، اس لئے سپاہیوں کو جو ہدایت دی جاتی ہے ، وہ بھی خاص روحانی ہے یعنی ثبات و استقلال کے ساتھ اللہ کا ذکر کثیرہ کیونکہ مسلمان کی جنگ خدا پرستی اور دہریت کی جنگ ہوتی ہے ، یہ جب جہاد میں آتا ہے ، تو مقصد کفر و طغیان کی بیخ کنی کرتا ہے مال و دولت کو سمیٹنا نہیں ۔
اسلامی فتوحات کا راز یہی للہیت ہے ، غیر مسلم سپاہی شراب میں مخمور فسق وفجور کے عادی لعب وشتم کرتے اور واہیات بکتے ہوئے میدان جنگ میں آئے اور مسلمان نشئہ توحید سے سرشار اللہ کا نام بلند کرتے ہوئے پھر جن کے دلوں میں اللہ کی محبت ہے اور جو تلواروں کی جھنکار میں بھی اس…
Read the full tafseer →45 اے ایمان لانے والو ! جب تم جہاد میں کافروں کی کسی جماعت سے نبرد آزما ہو اور تمہارا مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور مضبوطی سے جمے رہو اور اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرو تاکہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو یعنی جہاد کے یہ آداب ہیں کہ جب مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور خدا تعالیٰ کا خوب ذکر کرو کیونکہ خدا تعالیٰ کی یاد سے دل مضبوط ہوتے ہیں اور جنگ میں دوہی چیزوں سے کامیابی ہوتی ہے ایک قدم کی جمائو دوسرے دل کی ہمت۔
حدیث میں ہے دشمن کے مقابلہ کی تمنا نہ کیا کرو اور اگر مقابلہ ہوجائے تو صبر کرو اور ثابت قدم رہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مدد اللہ کی چاہو تو اسباب ظاہری سے نہیں دل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
ف 2۔ ادھر والے سے مراد مدینہ سے نزدیک کا موقع اور ادھر والے سے مراد مدینہ سے دور کا موقع ہے۔
3۔ یعنی سمندر کے کنارے کنارے جارہا تھا۔
4۔ مطلب یہ کہ اللہ کو منظور تھا لڑائی ہونا تاکہ ایک خاص طریق سے اسلام کا حق ہونا ظاہر ہوجائے کہ اس قلت عدد وکم سامانی پر مسلمان غالب آئے جو کہ خارق عادت ہے جس سے معلوم ہوا کہ اسلام حق ہے پس اس سے حجت الہیہ تام ہوگئی اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح حق کے بعد ہوگا جس میں عذاب کا پورا استحقاق ہوگیا اور عذر کی گنجائش ہی نہ رہی اسی طرح جس کو ہدایت ہونا ہوگا وہ حق کو قبول کرے گا خلاصہ حکمت کا یہ ہوا کہ حق واضح ہوجائے۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو ہدایت کہ کسی میدان میں مڈبھیڑ ہوجائے تو اللہ کو یاد کرو :
61: اب مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تمہاری دنیوی کامیابی اور فتح دی کا اور اخروی فلاح و نجات کا نسخہ اکسیر یہ ہے کہ میدان جنگ میں جب تمہارا آمنا سامنا کی کفر کی جماعت سے ہوجائے تو ثابت قدم رہنا اور جم کر یعنی ڈٹ کر لڑنا اور گھبراہٹ کو قریب نہ آنے دینا کیونکہ جب تک دل مضبوط اور قائم رہے جوارح اپنا کام کرتے ہیں اور اگر انسان دل ہار بیٹھے تو اعضاء ثابت نہیں رہ سکتے اور یہ چیز ایسی ہے جس کو ہر مومن و کافر جانتا ہے اور دنیا کی ہر قوم اپنی جنگوں میں اس کا اہتمام کرتی ہے کیونکہ اہل تجربہ سے یہ مخفی نہیں کہ میدان جنگ کا سب سے…
Read the full tafseer →Commentary
Qur'anic Instructions for Success in Jihad
Given in the first two verses cited above is a special set of instructions for Muslims when they confront enemies on the battlefield. These instructions from Allah Ta` ala are for them the master prescription of success and ascendancy in the present world as well as that of salvation and prosperity in the eternal life to come. In fact, the secret of unusual successes and victories achieved by Muslims in all wars fought by them during the early period lies hidden behind their adherence to these very golden guidelines - and they are:
1. Be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
36. This refers to the time when the Prophet (peace be on him) was leaving Madina along with the Muslims, or was on his way to Badr for the encounter with the Quraysh and did not have any definite information about the strength of the enemy. In a dream, however, the Prophet (peace be on him) had a vision of the enemy. On the basis of that vision, the Prophet (peace he on him) estimated that the enemy, was not too powerful. Later when the Prophet (peace be on him) narrated his dream to the Muslims, they; were also encouraged and boldly went ahead to confront the enemy,
Read the full tafseer →