Explained with ayahs 43–44
لڑائی میں مومن کم اور کفار زیادہ دکھائی دئیے
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خواب میں مشرکوں کی تعداد بہت کم دکھائی آپ نے اپنے اصحاب سے ذکر کیا یہ چیز ان کی ثابت قدمی کا باعث بن گئی۔ بعض بزرگ کہتے ہیں کہ آپ کو آپ کی آنکھوں سے ان کی تعداد کم دکھائی۔ جن آنکھوں سے آپ سوتے تھے۔ لیکن یہ قول غریب ہے جب قرآن میں منام کے لفظ ہیں تو اس کی تاویل بلا دلیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ ممکن تھا کہ ان کی تعداد کی زیادتی میں رعب بٹھا دے اور آپس میں اختلاف شروع ہوجائے کہ آیا ان سے لڑیں یا نہ لڑیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے ہی بچا لیا اور ان کی تعداد کم کرکے دکھائی۔ اللہ پاک دلوں کے بھید سے سینے کے راز سے واقف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
سورة الْاَنْفَال 36
یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی ﷺ مسلمانوں کو لے کر مدینہ سے نکل رہے تھے یا راستہ میں کسی منزل پر تھے اور یہ متحقق نہ ہوا تھا کہ کفار کا لشکر فی الواقع کتنا ہے۔ اس وقت حضور ﷺ نے خواب میں اس لشکر کو دیکھا اور جو منظر آپ کے سامنے پیش کیا گیا اس سے آپ نے اندازہ لگایا کہ دشمنوں کی تعداد کچھ بہت زیادہ نہیں ہے۔ یہی خواب آپ نے مسلمانوں کو سنا دیا اور اس سے ہمت پا کر مسلمان آگے بڑھتے چلے گئے۔
Read the full tafseer →آخری آیت میں اس کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے (آیت) يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھی مقابل لشکر کی نظر میں کم کرکے دکھلایا۔ اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں مسلمانوں کی تعداد تو حقیقت ہی میں کم تھی وہ صحیح تعداد ان کو دکھلا دی اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جتنی تعداد واقعی تھی اس سے بھی کم کرکے دکھلایا گیا جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ ابوجہل نے مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کی تعداد تو اس سے زیادہ معلوم نہیں ہوتی جن کی خوراک ایک اونٹ ہو۔ عرب میں کسی لشکر کی تعداد معلوم کرنے کے لئے اس سے اندازہ قائم کیا جاتا تھا کہ کتنے جانور ان کی خوراک کے لئے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی ایک اور کارسازی : وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ۭوَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۔
یہ اللہ تعالیٰ اسی سلسلہ کی اپنی ایک اور کارسازی بیان فرما رہا ہے کہ جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل میں ہوئیں تو ابتدائی مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نظروں میں کفار کے لشکر کو کم کر کے دکھایا اور کفار کی نظروں میں مسلمانوں کو کم کر کے دکھایا تاکہ دونوں میں سے کوئی فریق بھی ٹکر لینے میں خوف نہ کھائے۔ اور وہ معرکہ ہو کے رہے جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردے اور…
Read the full tafseer →44۔ 1 تاکہ وہ کافر بھی تم سے خوف کھا کر پیچھے نہ ہٹیں، پہلا واقعہ خواب کا تھا اور یہ دکھلانا عین قتال کے وقت تھا، جیسا کہ الفاظ قرآنی سے واضح ہے۔ تاہم یہ معاملہ ابتدا میں تھا، لیکن جب باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئی تو پھر کافروں کو مسلمان اپنے سے دوگنا نظر آتے تھے، جیسا کہ سورة ، آل عمران کی آیت 13 سے معلوم ہوتا ہے۔ بعد میں زیادہ دکھانے کی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ کثرت دیکھ کر ان کے اندر مسلمانوں کا خوف اور دہشت بیٹھ جائے، جس سے ان کے اندر بزدلی اور پست ہمتی پیدا ہو، اس کے برعکس پہلے کم دکھانے میں حکمت یہ تھی کہ وہ لڑنے سے گریز نہ کریں۔
44۔ 2 اس سب کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
31: یہ اس خواب کے علاوہ بیداری کا واقعہ ہے جو عین اس وقت پیش آیا جب دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کچھ ایسی کیفیت طاری فرمادی کہ کفار کا وہ لشکر جرار ان کو بہت معمولی محسوس ہوا۔
Read the full tafseer →اب جب فوجیں آمنے سامنے میدان بدر میں تیار کھڑی ہیں تو حضور کا سچا خواب پھر سامنے آتا ہے اور یہ جانبین کی صٖ آرائی کی حالت میں آتی ہے۔ یہ بھی اللہ کی تدابیر میں سے ایک خاص تدبیر تھی۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذرا اس کو دوبارہ پیش نظر رکھو ، اس معرکے کے واقعات پر تبصرے کے دوران یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ۔ اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کرکے پیش کیا تاکہ جو بات ہونی تھی ، اسے اللہ ظہور میں لے آئے اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں "
تدابیر الہیہ میں سے اہم تدابیر یہ تھی کہ یہ معرکہ ٹل نہ جائے اور…
Read the full tafseer →1 پیغمبر کو خواب میں کافر تھوڑے نظر آئے اور مسلمانوں کو مقابلہ کے وقت تاکہ جرأت سے لڑیں۔ پیغمبر کا خواب غلط نہیں، ان میں کافر رہنے والے کم ہی تھے، اکثر وہ تھے جو پیچھے مسلمان ہوئے اور خواب کی تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تھوڑی تعداد سے مقصود ان کی مغلوبیت کا اظہار ہو۔ باقی کفار کی نظر میں جو مسلمان تھوڑے دکھلائی دیے تو وہ واقعی تھوڑے تھے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب دونوں فوجیں اول آمنے سامنے ہوئیں۔ پھر جب مسلمانوں نے دلیرانہ حملے کیے اور فرشتوں کا لشکر مدد کو پہنچا اس وقت کفار کو مسلمان دگنے نظر آنے لگے کما فی (وَاُخْرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ ) 3 ۔ آل عمران :13)
Read the full tafseer →آیت 44 وَاِذْ یُرِیْکُمُوْہُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلاً وَّیُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِہِمْ
جب دونوں لشکر مقابلے کے لیے آمنے سامنے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ایسی کیفیت پیدا کردی کہ مسلمانوں کو بھی دیکھنے میں کفار تھوڑے لگ رہے تھے اور کفار کو بھی مسلمان تھوڑے نظر آ رہے تھے۔ ایسی صورت حال اللہ تعالیٰ نے اس لیے پیدا فرما دی تاکہ یہ جنگ ڈٹ کر ہو۔ اس لیے کہ وہ اس دن کو یوم الفرقان بنانا چاہتا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ کوئی فریق بھی میدان سے کنی کترائے۔
Read the full tafseer →49 آپ کی خالی مربع کی صورت میں صف بندی :۔ یعنی تم مسلمان کافروں کی تعداد اصل تعداد سے تھوڑی سمجھ رہے تھے اور دشمن یہ سمجھتا تھا کہ مسلمان ہماری نسبت بہت تھوڑے ہیں۔ اس طرح فریقین کے حوصلے بڑھ گئے اور لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس طرح جو کام مشیت الٰہی میں ہونا مقدر تھا۔ اس کے اسباب پیدا ہوتے گئے اور وہ بالآخر ہو کے رہا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب دونوں لشکر ابھی صف آرا نہ ہوئے تھے اور جب صف آرا ہوگئے تو اس وقت کافروں کو مسلمانوں کی تعداد ان کی اصل تعداد سے دگنی نظر آنے لگی تھی۔ جیسا سورة آل عمران میں مذکور ہے۔ (يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ 13) 3 ۔…
Read the full tafseer →69 ۔ اب ذکر خواب کا نہیں عالم بیداری کا ہورہا ہے۔ اور بیان اس کا ہورہا ہے کہ یہ دونوں مشاہدات وواقعات عین حکمت پر مبنی تھے۔ (آیت) ” لیقضی اللہ امرا کان مفعولا “۔ مراد دو چیزیں ہیں، ایک تو کافروں کے لشکروں سے مذبھیڑ کرانا، دوسرے مشرکین کی ہلاکت وذلت اور اسلام کی فتح وسربلندی۔ کرر ھذا لان المعنی فی الاول من اللقاء وفی الثانی من قتل المشرکین و اعزاز الدین وھو اتمام النعمۃ علی المسلمین (قرطبی) مفصل حاشیہ سورة آل عمران، پارہ 4 میں گزر چکے۔
70 ۔ (اور اسی کا فیصلہ ہر گمراہ اور ہر راہ یاب کے حق میں ناطق ہوگا) آیت میں اشارہ اس طرف بھی آگیا کہ دنیا میں جو کچھ بھی پیش آرہا ہے یہ بجائے خود مقصود نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
اِذاَنتم با لعدوة الدنیا وھم بالعدوة القصویٰ ، عُدوة میں عین پر تینوں اعراب ہیں اس کے معنی ہیں ایک جانب، دُنیا ادنی سے بنا ہے جس کے معنی ہیں قریب تر، آخرت کے مقابلہ میں اس دنیا کو دنیا اس لئے کہتے ہیں کہ یہ آخرت کے مقابلہ میں قریب تر ہے، اور قصویٰ ، اقصیٰ سے ہے اس کے معنی ہیں بعید تر۔
لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلْکَ عن بینة الخ یعنی علی وجہ البصیرت یہ بات ثابت ہوجانے کے جو زندہ رہا اس کو زندہ ہی رہنا چاہیے تھا اور جو ہلاک ہوا اسے ہلاک ہی ہونا چاہیے تھا، یہاں زندہ رہنے اور مرنے والوں سے افراد مراد نہیں ہیں، بلکہ اسلام اور کفر مراد ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہاں موت وحیات سے اس کے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں،…
Read the full tafseer →واذ یریکموھم اذا لتقیتم فی اعینکم قلیلاً ویقللکم فی اعینھم اور جب تم دوبدو آمنے سامنے آگئے تو اللہ ان کی تعداد تمہاری نظروں میں کم کر کے دکھا رہا تھا اور تمہاری تعداد بھی ان کو کم دکھا رہا تھا۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : دشمنوں کی تعداد ہم کو اتنی کم نظر آتی تھی کہ میں نے اپنے برابر والے آدمی سے کہا : کیا تمہارے خیال میں یہ لوگ نوے ہوں گے ؟ اس نے جواب دیا : میرے خیال میں سو ہوں گے۔ جب ہم نے ان کا ایک آدمی قید کرلیا (اور جنگ کے بعد) اس سے پوچھا : تم کتنے تھے ؟ تو اس نے اس کہا : ایک ہزار۔ کافروں کی نظروں میں مسلمانوں کی تعداد کم دکھانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کی زیادہ تعداد دیکھ کر بھاگ نہ…
Read the full tafseer →(44) اور اس وقت کو بھی یاد کیجیے جب بدر کے تم باہم مقابل ہوئے تو تمہاری نگاہوں میں کفار کو ہم تھوڑے کرکے دکھلا رہے تھے تاکہ تمہیں ان پر جرأت ہو اور اسی طرح ان کو بھی تاکہ وہ تم پر جرأت کریں تاکہ جو بات اللہ تعالیٰ کو کرنا منظور تھی، اس کو مکمل کردے یعنی رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو فتح وغنیمت دے اور ابوجہل اور اس کی جماعت کو شکست ہو اور وہ مارے جائیں اور آخرت میں تمام باتوں کے انجام اسی کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا : پہلا واقعہ رسول اللہ ﷺ کے خواب کا تھا، یہ عین میدان جنگ کا واقعہ ہے، جب جنگ ہونے والی تھی مگر ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، کافر مسلمانوں کو تھوڑے نظر آتے تھے، حتیٰ کہ بعض نے دوسرے سے پوچھا، تمہارے خیال میں یہ کتنے ہوں گے ؟ اس نے کہا، ستر (70) کے قریب ہوں گے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کے خواب کی بھی تائید ہو رہی تھی اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی ہمت بڑھ جائے اور کفار کی نظر میں مسلمانوں کو کم دکھانے کی حکمت یہ تھی کہ وہ زیادہ تیاری کی ضرورت نہ سمجھیں اور لڑائی سے گریز نہ کریں، بلکہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کم سمجھتے ہوئے لڑائی پر آمادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
قولہ تعالیٰ : واذیریکموھم اذا التقیتم فی اعینکم قلیلا یہ رویت حالت بیداری میں تھی۔ اور پہلی آیت میں بھی رئویت کو بیداری کی حالت پر محمول کرنا جائز ہے جب آپ یہ کہیں کہ منام سے مراد سونے کی جگہ ہے اور وہ معین ہے، پس اس بنا پر پہلی رئویت حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ خاص ہے اور یہ تمام کے لیے ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : میں نے بدر کے دن ایک آدمی کو کہا جو میرے پہلو میں تھا : کیا تو انہیں ستر دیکھ رہا ہے ؟ تو اس نے کہا : وہ تقریبا سو ہیں۔ پھر ہم نے ایک آدمی کو قید کیا تو ہم نے اس سے پو چھا : تم کتنے تھے ؟ تو اس نے بتایا : ہم ہزار تھے (1) ۔ ویقللکم فی اعیھم یہ صورت حال جنگ کی ابتداء میں تھی…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابوالشیخ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بدر کے دن ہماری آنکھوں میں کفار کے لشکر کو کم کردیا گیا یہاں تک کہ میں نے اپنے پہلو سے موجود ایک سے کہا تم ان کو ستر (عدد) دیکھ رہے ہو اس نے کہا نہیں بلکہ سو ہیں یہاں تک کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کو پکڑا اور اس سے ہم نے پوچھا تو اس نے کہا کہ ہم ہزار ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واذیریکموہم اذ التقیتم فی اعینکم قیلاویقللکم فی اعینہم “ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بعض کو بعض پر اکسایا۔
Read the full tafseer →وَاِذْ [ اور جب ] يُرِيْكُمُوْهُمْ [ اس نے دکھایا تم کو لوگوں کو انھیں ] اِذِ الْتَقَيْتُمْ [ جب تم لوگ آمنے سامنے ہوئے ] فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ [ تمہاری آنکھوں میں ] قَلِيْلًا [ تھوڑا ہوتے ہوئے ] وَّ يُقَلِّلُكُمْ [ اور اس نے تھوڑا کیا تم لوگوں کو ] فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ [ ان کی آنکھوں میں ] لِيَقْضِيَ [ تاکہ پورا کرے ] اللّٰهُ اَمْرًا [ اللہ ایک ایسے کام کو جو ] كَانَ [ تھا ] مَفْعُوْلًا ۭ [ کیا جانے والا ] وَاِلَى اللّٰهِ [ اور اللہ کی طرف ہی ] تُرْجَعُ [ لوٹائے جائیں گے ] الْاُمُوْرُ [ تمام کام ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
بدر میں محاذ جنگ کا نقشہ اور اللہ تعالیٰ کی مدد
ان آیات میں اول تو غزوۂ بدر کے محاذ جنگ کا نقشہ بتایا ہے پھر اپنے انعامات ذکر فرمائے ہیں جو غزوۂ بدر کے دن مسلمانوں کے فتح یاب ہونے کا ذریعہ بنے۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ مشرکین مکہ نے مقام بدر میں پہنچ کر ایسی جگہ پر قیام کیا تھا جو مدینہ سے دور ہے اور وہ لوگ ایسی جگہ لے چکے تھے جو بظاہر محاذ جنگ کے لیے زیادہ مناسب تھی جب مسلمان پہنچے تو ان کو نیچے والی جگہ ملی یہ جگہ ریتلی تھی اور مدینہ سے قریب تھی اور تیسری جماعت یعنی ابو سفیان کا تجارتی قافلہ وہ اس جگہ سے نیچے کی طرف تھا۔ کیونکہ یہ لوگ ساحل سمندر پر چل رہے تھے جو مقام بدر سے تین میل دور تھا۔…
Read the full tafseer →انعام ہشتم
قال اللہ تعالی۔ واذ یریکموھم اذ التقیتم فی اعینکم قلیلا۔۔۔ الی۔۔۔ والی اللہ ترجع الامور ؎
اور اے مسلمانو وہ وقت بھی یاد کرو کہ جب خدا نے عین موقعہ جنگ پر تمہارے دشمن کو تمہارے نگاہوں میں تھوڑا دکھلایا تاکہ نبی برحق نے جو خواب دیکھا تھا تم بیدار میں اس کی تصدیق کرلو اور تمہارا یقین اور تمہاری جرات اور ہمت اور بڑھ جائیے چناچہ جب مسلمان اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے مقابل ہوئے اور دونوں صفوں کا آمنا سامنا ہوا تو عبداللہ بن مسعود ؓ اپنے پاس والے شخص سے کہنے لگے کہ شاید یہ کافر کل ستر ہوں گے اس نے کہا میرے خیال میں سو کے قریب ہوں گے حالانکہ وہ نو سو پچاس تھے اور اسی طرح تمہیں بھی دشمنوں کی…
Read the full tafseer →48: یہ تیسری علت ہے۔ جب دونوں فوجیں بالمقابل ہوئیں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے تصرف سے مسلمانون کو مشرکین بہت کم نظر آئے تاکہ وہ جرات سے لڑیں نیز تاکہ پیغمبر (علیہ السلام) کے خواب کی تصدیق ہوجائے اور کافروں کو مسلمان کم نظر آرہے تھے اور وہ واقعہ میں بھی کم ہی تھے۔ یہ تو مسلمانوں کی فتح اور کامیابی کے ظاہری اسباب تھے۔ “ وَ اِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ” اور حقیقت میں تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے قبضہ و تصرف میں ہیں اور وہی متصرف و مختار ہے۔ اور فتح و شکست اس کے ہاتھ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ربطِ آیات :
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے ضمن میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کے حصص کا تذکرہ فرمایا کل مال کے پانچ حصے کیے جائیں گے جن میں سے چار حصے تو غازیوں میں تقسیم ہو جائینگے اور پانچواں حصہ یعنی خمس پھر آگے پانچ حصوں میں تقسیم ہوگا ، پھر ان میں سے ایک ایک حصہ (1) حضور ﷺ (2) آپ کے قرابت داروں (3) یتیموں (4) مسکینوں (5) مسافروں تقسیم کردیا جائیگا۔ حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ کا اور آپ کے مددگار قرابت داروں کا حصہ عملا ختم ہوگیا اب خمس کا مال صرف تین قسم کے مستحقین میں ہی قابل تقسیم ہے حضور ﷺ کے قرابت دار وہ ہیں جن کا تعلق بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے ہے آپ کے بعد ان کا علیحدہ حصہ تو…
Read the full tafseer →وَاِذْ يُرِيْكُمُوْہُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّيُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِہِمْ لِيَقْضِيَ اللہُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا 0 ۭ وَاِلَى اللہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ 44 ۧ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
ترکیب : اذ منصوب ہے با ضمار اذکریا بدل ثانی ہے یوم الفرقان سے یا متعلق ہے سمیع علیم سے یری کا فاعل اللّٰہ ک مفعول اول ہم مفعول ثانی قلیلا مفعول ثالث فی فعل سے متعلق ولو شرط لفشلتم الخ جواب واذ معطوف ہے اذا ول پر یہ بھی بدل ہے۔
تفسیر : یہ بھی یوم الفرقان کے بیان کا تتمہ ہے۔ مجاہد اور مقاتل کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو خواب میں اللہ تعالیٰ نے بدر کا واقعہ دکھایا۔ اس میں کفار تھوڑے دکھائی دیے۔ آپ نے اس بات کی صحابہ کو خبر دی۔ اس سے ان کو اور بھی جرأت مقابلہ کے لئے ہوئی۔ پھر جب مقابلہ کا وقت آیا اور دونوں طرف سے صفیں بندھیں تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نگاہ میں کفار کو کم کرکے دکھایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
اِذْ یُرِیْکَھُمُ اللّٰہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًا ط وَلَوْاَرٰکَھُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ ط اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ وَاِذْ یُرِیْکُمُوْھُمْ اِذِالْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلًا وَّیُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِھِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ ع (الانفال : 43، 44 )
(یاد کرو ! جب اللہ نے آپ کو وہ کافر دکھلائے آپ کے خواب میں تھوڑے اور اگر آپ کو وہ کافر زیادہ دکھا دیتا (تو اے مسلمانو) تم پست ہمت ہوجاتے اور معاملے میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے بچالیا بیشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ میدان بدر کا نقشہ اور فریقین کا ایک دوسرے کو اصل تعداد سے کم دکھائی دینا۔
اس سے پہلی آیت میں غزوۂ بدر کے معرکہ کو یوم الفرقان کہا گیا ہے۔ یعنی ایسا دن جس میں حق اور باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان دو اور دو چار کی طرح فرق واضح کردیا گیا۔ غزوۂ بدر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ جو مرے وہ دلیل پر مرے اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل پر زندہ رہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کے گھر سے نکلنے کے بارے میں فرمایا کہ آپ کو آپ کے رب نے ہی گھر سے نکالا تھا حالانکہ مومنوں میں سے ایک جماعت اسے پسند نہیں کر رہی تھی۔ (الانفال : 6)
یہاں بدر کا نقشہ پیش…
Read the full tafseer →کفار کو مسلمان قلیل اور کثیر دونوں طرح دکھلائے :
آیت 44: وَاِذْ یُرِیْکُمُوْھُمْ (اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کو دکھلا رہا تھا) دونوں ضمیریں مفعول کی ہیں یعنی تمہیں وہ دکھا رہا تھا۔ اِذِ الْتَقَیْتُمْ (جب کہ تم مقابل ہوئے) دشمن سے ملاقات کے وقت فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلاً (تمہاری نظر میں تھوڑے) یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے کفار کو مسلمانوں کی آنکھوں میں تھوڑا کر کے دکھایا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے خواب کی تصدیق ہوجائے۔ اور صحابہ آنکھوں سے خبر کو دیکھ کر خوب کوشش کریں۔ اور ثابت قدم رہیں اور ان کے یقین میں اضافہ ہوجائے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں وہ ہماری آنکھوں میں اتنے قلیل…
Read the full tafseer →44…(واذا یریکموھم اذا لتقبتم فی اعینکم قلیلاً )
مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ دشمن کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور اپنے صحابہ کرام ؓ کو یہ خبر دی تو جب بدر میں ٹکرائو ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نگاہ میں مشرکوں کو کم دکھایا۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ وہ ہماری نگاہ میں اتنے کم ہوگئے کہ میں نے ایک صحابی کو کہا کہ یہ ستر کی تعداد لگتے ہیں اس نے کہا مجھے سو کی تعداد کے برابر لگتے ہیں، پھر جب ہم نے ایک کافر کو قید کیا تو اس سے ان کی تعداد پوچھی تو اس نے کہا ایک زہار تھی (ویقللکم فی اغینھم) سدی (رح) فرماتے ہیں کہ مشرکین کے کچھ لوگ کہنے لگے کہ تجارتی قافلہ حفاظت سے جا چکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
43۔ 44۔ مجاہد کہتے ہیں کہ لڑائی کے شروع ہونے سے پہلے اللہ پاک نے دشمنوں کے متعلق حضرت ﷺ کو ایک خواب دکھایا کہ وہ لوگ بہت ہی تھوڑے آدمی ہیں آپ نے اس خواب کو اپنے اصحاب سے بیان کیا وہ لوگ حضرت کے خواب کو سچا سمجھا کرتے تھے اس لئے یہ خواب سن کر ان کے دل مضبوط ہوگئے اور جرأت ان کی بڑھ گئی اور اگر خواب میں ان کی پوری تعداد دکھلا دی جاتی اور وہی خواب اللہ کے رسول لوگوں کے روبرو بیان کرتے تو ان کے جی پہلے ہی چھوٹ جاتے معرکہ جنگ میں شریک نہ ہوتے آپس میں جھگڑا ہونے لگتا بعضے لڑائی میں شرکت چاہتے اور بعضے لڑائی کے ٹال دینے کو ترجیح دیتے اسی کو اللہ پاک نے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے اللہ نے خواب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت 42
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بناء پر آپ نے اپنے اصحاب کرام ؓ کو خوشخبری دے دی، اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولوارکھم کثیراً ) ” اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمہیں دکھاتا “ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحاب ؓ کو دی ہوتی (لفشلتم و لتنازعتم فی الامر) تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمہیں در پیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کردیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
آنحضور ﷺ کی وفات کے بعد خمس کا مصرف
حضور ﷺ کی وفات کے بعد خمس میں آپ کے حصے کے مصرف کے متعلق سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ سفیان نے قیس بن مسلم سے انہوں نے حسن بن محمد بن الحنفیہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے حصے اور آپ کے قرابت داروں کے حصے کے متعلق لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ ایک گروہ کا خیال یہ تھا کہ آپ کے بعد آپ کا حصہ آپ کی خلیفہ کو ملنا چاہیے۔ ایک اور گروہ کا خیال تھا کہ آپ کے قرابت داروں کا حصہ خلیفہ کے قرابت داروں کو ملنا چاہیے پھر سب کا اس پر اجماع ہوگیا کہ یہ دونوں حصے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے سازوسامان اور ہتھیاروں کی تیاری نیز اس…
Read the full tafseer →88 بدر میں قدرت کی تدبیر و کارستانی کا ایک اور مظہر : کہ کفار کو اہل ایمان کی نگاہوں میں کم دکھایا گیا۔ سو یہ اہل بدر کیلئے ایک اور عنایت خداوندی تھی۔ یعنی کفار کو اہل ایمان کیلئے کم کرکے دکھانا۔ تاکہ اس طرح تمہارے حوصلے بڑھیں۔ جیسا کہ روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اپنے ساتھی سے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ کافر تو یہی کچھ ستر کے لگ بھگ ہوں گے۔ تو اس نے جواب میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ سو تک ہوں گے۔ (الروح، قرطبی، ابن کثیر، صفوۃ اور محاسن وغیرہ) ۔ حالانکہ وہ ایک ہزار سے بھی زیادہ تھے۔ یہ اس غیبی امداد کا ایک اور مظہر تھا، جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے بدر کے اس معرکہ حق و باطل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
جنگ بدر کی وجہ سے مسلمانوں کی آزمائش اور اللہ کی مدد
تشریح : ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ جنگ صرف اللہ کی مرضی اور پروگرام کے تحت ہوئی اور اسی کی مرضی اور پروگرام کے تحت جنگ کا نقشہ اور مسلمانوں کی فتح اور کفار کی شکست ہوئی۔ یہ خالصتاً اللہ ہی کی مرضی تھی ویسے تو اللہ ہی سب کچھ کرتا ہے کیونکہ وہی سب سے زیادہ طاقت والا اور قدرت والا ہے۔ اور اس جنگ کے بظاہر کوئی آثار نہ تھے اور مقابلہ بھی برابر کا نہ تھا مگر کیونکہ اللہ نے اپنی قدرت سے حق کی حمایت اور کفر کی جڑ کاٹنا تھی اس لیے اس نے ایسے حالات پیدا کیے مثلاً دونوں جماعتیں ہی باقاعدہ معاہدہ، یعنی جنگی حالات کا اعلان کیے بغیر آمنے سامنے آگئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیات 42 تا 44
اسرار و معارف
جب جہاد کے میدان کی بات ہوئی تو غنیمت کا مسئلہ ارشاد فرمادیا گیا غنیمت وہ مال ہوتا ہے جو فتح کے نتیجہ میں کفار سے ہاتھ آئے یہ تو فطری بات ہے کہ شکست کھانے والا لشکر مال ومنال بہت کچھ کھو بیٹھتا ہے ۔ اور فاتح اسے اپنا حق سمجھتے ہیں مگر انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام نے جب کبھی جہاد کیا اور کفار کا مال ہاتھ لگاتو اسے میدان میں جمع کردیا جاتا تھا آسمان سے آگ آتی شعلہ لپکتا اور وہ مال راکھ ہوجاتا یہ بات قبولیت جہاد اور خلوص کی دلیل بھی تھی اگر لوگوں نے جہاد کا حق ادانہ کیا ہوتا یا زیادتی کی ہوتی تو یہ مال جلانے آسمان سے آگ یا بجلی نہ آتی تھی غزوئہ بدروہ پہلا جہاد تھا جو…
Read the full tafseer →ف 12 یہ اس وقت کی کیفیت ہے جب جنگ ہونے والی تھی لیکن وہ شروع نہیں ہوئی تھی۔ کافر مسلمانوں کو تھوڑے نظر آتے حتی کہ بعض نے خیال کیا کہ وہ ستر سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس سے آنحضرت ﷺ کو خواب کی بھی تائید ہو رہی تھی اور یہ بھی کہ مسلمانوں کو ہمت بڑھ جائے نیزکفار زیادہ تیاری کی ضرورت نہ سمجھیں مگر جب جنگ شروع ہوگئی تو کافروں کو مسلمانوں کی تعداد زیادہ نظر آنے لگی جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا، یر ونھم مثلیھم رای العین : ( وہ بظاہر ان کے اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے، ( اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جنگ شروع ہونے پر کافروں کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ جلدی ہی شکست کھا کر پیچھے کی طرف بھا گنے لگے اور اور مسلمانوں…
Read the full tafseer →(8:44) یریکموہم۔ اس نے تمہاری نظروں میں ان کو دکھایا۔ کموا اصل میں کم ہے۔ واؤ اشباع کا ہے اور دو ضمیروں کے درمیان فرق کرنے کو لایا گیا ہے۔
التقیتم۔ تم ملے۔ تمہارا آمنا سامنا ہوا۔ التقاء (افتعال) سے ماضی جمع مذکر حاضر۔
یقللکم فی اعینھم۔ وہ ان کی نظروں میں تمہیں کم کرکے دکھا رہا تھا۔ یا کم محسوس کرا رہا تھا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ نیز ملاحظہ ہو 3:13 ۔
لیقضی اللہ امرا کان مفعولا۔ اوپر ملاحظہ ہو 8:42 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیات : 42 تا 44
لغات القرآن۔
بالعدوۃ ال دنیا۔ قریب کے کنارے پر۔ بالعدوۃ القصوی۔ دور کے کنارے پر۔ الرکب۔ قافلہ۔ اسفل۔ نیچے۔ تو اعدتم۔ تم نے وعدہ کیا۔ میعاد۔ مدت مقرر۔ لیقضی۔ تاکہ فیصلہ کردے۔ امر۔ کام۔ مفعول۔ کیا گیا۔ لیھلک۔ تاکہ ہلاک ہوجائے۔ بینۃ۔ پہنچان کر۔ یحی۔ زندہ رہے گا۔ یریکھم۔ تمہیں دکھایا اس نے۔ منام۔ نیند۔ خواب۔ لفشلتم۔ البتہ تم بزدلی دکھاتے ۔ لتنازعتم۔ البتہ تم ضرور جھگڑے۔ سلم۔ اس نے حفاظت کی۔ فی اعینکم۔ تمہاری آنکھوں میں ۔ قلیل۔ تھوڑے۔ ترجع الامور۔ کام لوٹائے جائیں گے۔
تشریح : سورة انفال میں اللہ تعالیٰ نے دس رکوعوں میں مسلسل جہاد و قتال کے متعلق بیان فرمایا ہے یہ آیات جو صرف حکمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فتح اسلام
مجاہد کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو خواب میں اللہ تعالیٰ نے بدر کا واقعہ کھایا اس میں کفار تھوڑے دکھائی دیتے۔ آپ نے اس بات کی صحابہ سے خبر کی اس سے ان کو اور بھی جرات مقابلہ کے لئے ہوئی۔ پھر جب مقابلہ کا وقت آیا اور دونوں طرف سے صفیں بندھیں، تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نگاہ میں کفار کو کم کرکے دکھایا۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ مخالفین ہم کو اس قدر کم دکھائی دیئے کہ میں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے پوچھا کہ کیا تو انہیں ستر آدمی خیال کرتا ہے۔ اس نے کہا :” سو خیال کرتا ہوں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ہزار تھے “۔ مسلمانوں کی نظر میں وقت مقابلہ کم کرکے دکھانا تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(ف 1) یعنی حضور ﷺ کو رؤیا میں دکھایا گیا کہ کفار نہایت قلیل تعداد میں ہیں ، یا صنام سے مراد آنکھ ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فی اعینکم “ کا لفظ موجود ہے ، بہرحال غرض یہ ہے کہ وہ تمہاری نگاہوں میں کم نظر آئے ، تاکہ تمہاری ہمتیں پست نہ ہوجائیں ، یہ بھی نصرت الہی کی ایک مخصوص سورت ہے ۔
حل لغات :
ولذی القربی : رسول ﷺ کے عزیز و اقارب ۔
یوم الفرقان : بدر کا فیصلہ کن دن ،
العدوۃ : کنارہ موڑ ، نقطہ ، تجاوز ۔
Read the full tafseer →44 اور وقت یاد کرو جس وقت اے صحابہ ؓ کی جماعت تم کافروں کے مقابل ہوئے اور دشمنوں سے بھڑے تم کو تمہاری آنکھوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی آنکھوں میں تم کو کم کرکے دکھایا تاکہ اللہ تعالیٰ کو جو کام کرنا تھا اور اس کے علم ازلی میں جو کام طے شدہ تھا وہ پورا ہوجائے اور تمام کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جملہ امور کا مرجع اسی کی ذات ہے۔ مسلمانوں کا تھوڑا دکھائی دینا تو ظاہر ہے کہ مسلمان کم ہی تھے اور کافروں کا باوجود زیادہ ہونے کے کم دکھائی دینا شاید اس بنا پر ہو کہ وہ مغلوب و مقہور ہونے والے تھے۔ سورة آل عمران میں تفصیل گزر چکی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پیغمبر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
ف 2۔ ادھر والے سے مراد مدینہ سے نزدیک کا موقع اور ادھر والے سے مراد مدینہ سے دور کا موقع ہے۔
3۔ یعنی سمندر کے کنارے کنارے جارہا تھا۔
4۔ مطلب یہ کہ اللہ کو منظور تھا لڑائی ہونا تاکہ ایک خاص طریق سے اسلام کا حق ہونا ظاہر ہوجائے کہ اس قلت عدد وکم سامانی پر مسلمان غالب آئے جو کہ خارق عادت ہے جس سے معلوم ہوا کہ اسلام حق ہے پس اس سے حجت الہیہ تام ہوگئی اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح حق کے بعد ہوگا جس میں عذاب کا پورا استحقاق ہوگیا اور عذر کی گنجائش ہی نہ رہی اسی طرح جس کو ہدایت ہونا ہوگا وہ حق کو قبول کرے گا خلاصہ حکمت کا یہ ہوا کہ حق واضح ہوجائے۔
Read the full tafseer →عام مشاہدہ کے دیکھنے میں بھی بعض اوقاتت کثیر قلیل یا قلیل کثیردکھائی دے جاتا ہے :
60: زیر نظر آیتت میں دونوں جماعتوں کے آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھنے کی صورت حال کا بیان ہے فرمایا تو خواب تتھا لیکن جب تم دونوں جماعتوں یعنی مسلمانوں کی جماعت اور کفار مکہ کی جماعت کا آمنا سامنا ہوا تتو اس وقت بھی دونوں جماعتیں ہی ایک دوسرے کو قلیل یعنی تھوڑا ہی دیکھ رہی تھیں اگرچہ مسلمانوں کی جماعت تو فی الحقیقت تھوڑی ہی تھی لیکن کفار کی بڑی جماعت کو بھی مسلمان جس جگہ سے دیکھ رہے تھے وہ ان کو تھوڑے ہی نظر آرہے تھے اور اس میں وہ ایمانی قوت بھی اپنا کام دکھا رہی تھی جو ان کو رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے سنائی گئی…
Read the full tafseer →In the last verse, along with this, it has also been mentioned: وَيُقَلِّلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ (and reduced your number in their eyes - 44). This could also mean that Muslims were, in reality, already few in number, thus, what was shown to disbelievers was their number as it was. And it could also mean that the number shown to them was much reduced than it really was - as it appears in many narrations that Abu Jahl on seeing the Muslim 'army' said to his compatriots: The number of these people does not seem to be any more than the number who would eat a camel as their daily ration. In…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
36. This refers to the time when the Prophet (peace be on him) was leaving Madina along with the Muslims, or was on his way to Badr for the encounter with the Quraysh and did not have any definite information about the strength of the enemy. In a dream, however, the Prophet (peace be on him) had a vision of the enemy. On the basis of that vision, the Prophet (peace he on him) estimated that the enemy, was not too powerful. Later when the Prophet (peace be on him) narrated his dream to the Muslims, they; were also encouraged and boldly went ahead to confront the enemy,
Read the full tafseer →