Explained with ayahs 55–57
زمین کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں
زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بدتر اللہ کے نزدیک بےایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول وقرار کیا ادھر پھرگئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آجائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہوجائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
سورة الْاَنْفَال 40
یعنی جب تک کوئی قوم اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی نعمت کا غیر مستحق نہیں بنا دیتی اللہ اس سے اپنی نعمت سلب نہیں کیا کرتا۔
Read the full tafseer →اس کے بعد کی آیت میں انھیں کافروں کے بارے میں ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اس میں لفظ دواب دابہ کی جمع ہے جس کے لغوی معنی زمین پر چلنے والے کے ہیں اس لئے انسان اور جتنے جانور زمین پر چلتے ہیں سب کو یہ لفظ شامل ہے مگر عام محاورات میں یہ لفظ خاص چوپائے جانوروں کے لئے بولا جاتا ہے۔ ان لوگوں کا حال بےشعوری میں جانوروں سے بھی زیادہ گرا ہوا تھا اس لئے اس لفظ سے تعبیر کیا گیا۔ معنی آیت کے واضح ہیں کہ تمام جانوروں اور انسانوں میں سب سے بدترین جانور یہ لوگ ہیں۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ۔ یعنی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ مطلب یہ…
Read the full tafseer →اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔
یہود کی وعدہ خلافیاں۔ اب یہ یہود اور ان قبائل کے باب میں ہدایت دی جا رہی ہے جن سے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد نبی ﷺ نے ناطرفداری کے معاہدے کرلیے تھے مثلاً جہینہ، بنی ضمر، بنی مدلج وغیرہ، نبی ﷺ نے اپنے کیے ہوئے معاہدے کا برابر احترام باقی رکھا لیکن یہود نے ایک دن بھی اس کا احترام نہیں کیا اور یہ قبائل بھی یہود کی انگیخت یا قریش کے دباؤ سے برابر معاہدے کی خفیہ یا علانیہ خلاف ورزیاں کرتے رہے۔
شَرَّ الدَّوَاۗبِّ کا مفہوم : ان شر الدواب کے اسلوب میں جو زور شدت ہے اس کی وضاحت آیت 22 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہ اسلوب ان…
Read the full tafseer →55۔ 1 شَرُّ النَّا سِ (لوگوں میں سب سے بدتر) کے بجائے انہیں شَرَّ الدَّ وَابِّ کہا گیا ہے۔ جو لغوی معنی کے لحاظ سے تو انسانوں اور چوپایوں وغیرہ سب پر بولا جاتا ہے۔ لیکن عام طور پر اس کا استعمال چوپایوں کے لئے ہوتا ہے۔ گویا کافروں کا تعلق انسانوں سے ہے ہی نہیں۔ کفر کا ارتکاب کرکے وہ جانور بلکہ جانوروں میں بھی سب سے بدتر جانور بن گئے ہیں۔
Read the full tafseer →37: دیکھئے پیچھے آیت نمبر 22 کا حاشیہ
Read the full tafseer →درس نمبر 86 ایک نظر میں
سورت انفال کا یہ چوتھا اور آخری سبق ہے۔ اس میں دوسرے ممالک اور بلاکوں کے ساتھ صلح و جنگ کے کچھ قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشرے کی داخلی تنظیم اور دوسری تنظیموں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کو منضبط کیا گیا ہے۔ مختلف احوال میں اسلام اور دوسری اقوام کے ساتھ معاہدوں کی نوعیت پر بحث ہے۔ نیز خون رنگ و نسل ، علاقائیت اور قائد و نظریات کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کو متعین کیا گیا ہے
اس سبق میں ان موضوعات کے بارے میں ایسے احکام بھی دیے گئے ہیں جو اپنے موضوع پر فائنل ہیں۔ اور بعض ایسے ہیں جو اس مرحلے کے لیے تھے جن میں یہ صورت اتری ہے اور متعین حالات کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
1 جو لوگ ہمیشہ کے لیے کفر اور بےایمانی پر تل گئے اور انجام سے بالکل بےخوف ہو کر غداری اور بدعہدی کے خوگر ہو رہے ہیں، وہ خدا کے نزدیک بدترین جانور ہیں۔ فرعونیوں کا حال بدعہدی اور غداری میں یہ ہی تھا۔ (وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ 134ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ يَنْكُثُوْنَ 135) 7 ۔ الاعراف :134 ۔ 135) اور حضور ﷺ کے زمانہ میں یہود بنی قریظہ وغیرہ کی یہ ہی خصلت تھی۔ آپ سے…
Read the full tafseer →آیت 55 اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ
یہی بات اس سے پہلے ہم سورة الاعراف کی آیت 179 میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ یہ لوگ انسان نظر آتے ہیں ‘ حقیقت میں انسان نہیں ہیں : لَہُمْ قُلُوْبٌ لاَّ یَفْقَہُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اٰذَانٌ لاَّ یَسْمَعُوْنَ بِہَاط اولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ط یعنی حقیقت میں وہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ان ہی لوگوں کو یہاں شَرَّ الدَّوَآب کہا گیا ہے ‘ کہ یہی وہ حیوان نماانسان ہیں جو تمام جانوروں سے برے ہیں۔ جو عقل ‘ شعور اور ایمان کی نعمتوں کے…
Read the full tafseer →58 بدترین مخلوق کون ہے ؟ :۔ بدترین اس لحاظ سے کہ انہیں عقل اور تمیز کی قوت بخشی گئی ہے جو عام جانوروں کو عطا نہیں ہوئی۔ پھر اگر یہ لوگ ان قوتوں کے باوجود حق کو سمجھنے یا دیکھنے یا سننے کی زحمت ہی گوارا نہ کریں اور نہ حق پر ایمان لانے پر آمادہ ہوں تو یہ عام جانوروں سے بدتر ٹھہرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
85 ۔ اشارہ خاص یہود بنی قریظہ کی جانب ہے جو رسول اللہ ﷺ سے بار بار یہ معاہدہ کرتے کہ ہم آپ کے مقابلہ میں مشرکین کی مدد نہ کریں گے، اور پھرجا کر انہی کے شریک ہوجاتے۔ قال ابن عباس ھم قریظۃ (کبیر) (آیت) ’ ’ شر الدوآب “۔ کافر تو سب ہی اللہ کے ہاں بدتر مخلوق ہیں، ان میں بھی بدترین وہ ہیں جنہوں نے کفر پر بدعہدی کا اضافہ کرلیا، بین تعالیٰ ان من جمع بین الکفر الدائم وبین نقض العھد علی ھذا الوجہ کان شرالدواب (کبیر) (آیت) ” منھم “۔ میں من تبعیض کیلئے ہے کہ معاہدہ ان کے سرداروں اور اشراف ہی سے ہوتے تھے۔ ومن للتبعیض لان العھد انما کان یجری مع اشرافھم (قرطبی) (آیت) ’ وھم لا یتقون “۔ یعنی نہ ان کے دلوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
ذالک باَنَّ اللہ لَمْ یک مغیراً نعمة الخ اللہ تعالیٰ نے اعطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ بیان نہیں فرمایا نہ ان کے لئے کوئی قید لگائی نہ ان کو کسی اچھے عمل پر موقوف رکھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت حق جلّ شانہ کی عجیب صنعت گری سے ہزاروں نعمتیں ودیعت رکھی گئی ہیں یہ نعمتیں ظاہر ہے کہ اس وقت عطا ہوئیں جب کہ نہ ہم تھے اور نہ ہمارا کوئی عمل، اگر حق تعالیٰ کے انعامات و احسانات بندوں کے نیک اعمال کے منتظر رہا کرتے تو ہمارا وجود ہی قائم نہ ہوتا۔
حق تعالیٰ کی نعمت و رحمت تو اس کے رب العالیمن اور رحمٰن و رحیم ہونے کے نتیجہ میں خود بخود ہے البتہ اس نعمت و…
Read the full tafseer →ان شر الدوآب عند اللہ الذین کفروا فھم لا یؤمنون۔ بلاشبہ بدترین جانور اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کفر پر جمے رہے ‘ پس وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
کَفَرُوْا یعنی کفر پر جمے رہے اور قائم رہے۔ فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَکی شرط لگانے سے وہ لوگ حکم آیت سے خارج ہوگئے جو پہلے کافر تھے اور پھر خلوص کے ساتھ ایمان لے آئے اور اسلامی کردار ان کا اچھا رہا۔ یا فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَسے ان لوگوں کے متعلق خبر دی گئی ہے جن کی سرشت ہی کفر پر ہوئی ہے۔ فاء عاطفہ لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ ان کافروں کا کفر اللہ کے علم میں قائم ہوچکا ہے ‘ اسلئے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت آیت کا حکم ان تمام کافروں کیلئے عام ہوگا جن کی…
Read the full tafseer →(55) یعنی بنوقریظہ وغیرہ خلقت اور اخلاق کے اعتبار سے بدترین خلائق ہیں یہ قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ پر کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
شان نزول : (آیت) ان شر الدواب“۔ (الخ)
ابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کی چھ جماعتوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جن میں سے ’ ابن التابوت“۔ بھی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ : اوپر کی آیت میں جب تمام کفار کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ ظالم ہیں تو اب یہاں کفار کی بعض خاص شرارتوں کا ذکر فرمایا۔ ”وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتے، یا وہ اپنی بد عہدی کے انجام سے نہیں ڈرتے۔ ان سے مراد خاص طور پر مدینہ منورہ کے یہودی ہیں، جن سے مدینہ منورہ پہنچ کر نبی ﷺ نے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت انھیں ایک نظر نہ بھاتی تھی، چناچہ کبھی وہ اوس و خزرج کے درمیان جاہلی عصبیت ابھار کر ان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے اور کبھی اسلام کے دشمنوں کی ہتھیاروں سے مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
( آیت نمبر 52) ( آیت نمبر 53)
یہ علت بیان ہو رہی ہے یعنی یہ سزا اس لیے ہے کہ انہوں نے تبدیل کردیا اور بدل ڈالا اور قریش پر اللہ تعالیٰ کا انعام شادابی، خوشحالی اور امن و عافیت کی صورت میں تھا، ( جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے) اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویبحطف الناس من حولھم الایہ ( العنکبوت :67) ” کیا انہوں نے ( غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے بنا دیا ہے حرم کو امن والا حالانکہ اچک لیا جاتا ہے لوگوں کو ان کے آس پاس سے “
سدی (رح) نے کہا ہے : ان پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام حضور نبی مکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرای تھی تو انہوں نے آپ کا انکار کیا اور کفر کا ارتکاب کیا، پس آپ ﷺ مدینہ طیبہ منتقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
1۔ ابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ان شرالدوآب عند اللہ الذین کفروا فہم لا یومنون (55) یہودیوں کے چھ گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ان میں ایک تابوت بھی تھا۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) الذین عھدت منہم ثم ینقضون عہدھم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یہودیوں کا قبیلہ قریظہ ہے جس نے جنگ خندق کے دوران محمد ﷺ کے خلاف آپ کے دشمنوں کی مدد کی۔
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فشردبہم من خلفہم ‘ تم ان کو عبرت ناک سزا دو کو جو ان کے بعد ہیں۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس سے روایت ہے کہ (آیت ) ”…
Read the full tafseer →اِنَّ [ بیشک ] شَرَّ الدَّوَاۗبِّ [ چلنے والے جانداروں کے بدترین ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] فَهُمْ [ پھر وہ لوگ ] لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ہیں ]
Read the full tafseer →اہل کفر جانوروں سے بدتر ہیں :
پھر فرمایا (اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) (الآیۃ) (بےشک اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے پھرنے والوں میں سب سے زیادہ برے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا) الدّواب، دَآبَّۃٌ کی جمع ہے، ہر وہ چیز جو زمین پر چلے پھرے لغوی اعتبار سے یہ لفظ سب کو شامل ہے۔ لیکن محاورات میں دابۃ چوپایوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ صاحب روح المعانی ص 21 ج 10 لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شَرُّ النَّاس نہیں فرمایا اس میں اس طرح اشارہ ہے کہ گویا یہ لوگ جنس انسانی سے نہیں ہیں جنس دواب میں سے ہیں اور اس جنس کے بدترین افراد میں سے ہیں (فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (سو یہ لوگ ایمان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
بیان احوال وحاکم کفار اہل کتاب
قال اللہ تعالیٰ ان شر الدواب عندا لہ الذین کفرو۔۔۔۔ الی۔۔۔ انھم لا یعجزون
(ربط) شروع سورت سے یہاں تک کفار مشرکین کے احوال و قتال کا بیان تھا اب ان آیات میں کفار اہل کتاب یعنی یہود کے احوال و قتال کا بیان ہے کیونکہ ان آیات کا سبب نزول یہود بنی قریظہ کی عہد شکنی اور اسلام کی دشمنی ہے یہود نے آں حضرت ﷺ سے عہد کیا تھا کہ ہم آپ کے دشمنوں (کفار مکہ) کو کوئی مدد نہ دیں گے مگر پھر ان کی غزوہ احراب میں مدد کی اور بھی چند بار ایسا ہی کیا اور ہر مرتبہ یہ کہ دیتے کہ ہمیں عہد یاد نہیں رہا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی اور اسی عہد شکنی اور حق کی دشمنی کی وجہ سے ان کو بدترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
57: یہ زجر ہے جو کفار معاندین کفر میں راسخ اور عناد پر مصر ہیں وہ خدا کے نزدیک اس کی ساری مخلوق سے بدتر ہیں وہ ایمان کبھی نہیں لائیں گے۔ ان کی شرارت اور خبث باطن کا یہ حال ہے کہ جب بھی آپ ان سے کوئی عہد لیتے ہیں وہ ہر بار عہد شکنی کرتے ہیں اور عہد توڑنے میں ذرا نہیں ہچکچاتے۔ اس سے بنی قریظہ کے یہود مراد ہیں جنہوں نےحضور ﷺ سے عہد کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی نہ امداد کریں گے اور نہ ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسائیں گے۔ مگر وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہے اور انہوں نے جنگ بدر میں اسلحہ سے مشرکین کی امداد کی۔ جب مشرکین شکست کھا گئے تو یہودحضور ﷺ سے معذرت کرنے لگے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
ربطِ آیات :
اللہ تعالٰٰ نے جہاد سے متعلق سات اہم اصول بیان کردیے ہیں۔ منافقوں کا حال بھی بیان ہوا ہے کہ جب مسلمان بدر کی طرف روانہ ہوئے تو منافق کہنے لگے کہ مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ اللہ نے فرمایا یہ دھوکہ نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ ہے جو کوئی اللہ کی ذات پر بھروسہ کریگا تو اللہ تعالیٰ اسے غلبہ نصیب فرمائے گا پھر اللہ نے منافقوں اور مشرکوں کی عادت کو آلِ فرعون کی عادت سے تشبیہ دی جنہوں نے کفر پر اصرار کیا اور دین حق کی مخالفت کی ، وہ اپنے گناہوں کے بدلے میں پکڑے گئے اور اللہ نے انہیں ذلیل و خوار کیا ۔ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں ، وہ ان کو چھوڑتا…
Read the full tafseer →اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللہِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 55 ۖۚ
شر
الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77]
( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے ۔
دب
الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
ترکیب : الذین کفروا خبر ان فاما شرط تثقفنھم تجدنہم چونکہ شرط کا کلمہ ان ما کے ساتھ مؤکد ہوگیا اس لئے اس کے بعد فعل کو نون تاکید کے ساتھ لانا مستحسن ہو۔ افشرد جواب شرط فرق بہم ای بسببہم متعلق ہے شرد سے۔ من موصولہ خلفہم ثبت کے متعلق ہو کر اس کا صلہ یہ سب شرد کا مفعول ہوا خیانۃ مفعول ہے تخافن کا فانبذا طرح عہد ھم علی سوا حال ہے ای مستویاسب جواب شرط۔ من قوۃ ومن رباط الخیل ما کا بیان ہے الذین کفروا یحسبن کا فاعل ‘ سبقوا مفعول اور بعض نے تحسبن بھی پڑھا ہے۔
تفسیر : کافروں کو کہا تھا کل کانوا ظالمین اب ان ظالموں میں سے زیادہ تر راندہ درگاہوں کا ذکر اور ان کی عادت کا بیان فرماتا ہے کہ ان سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
اِنَّ شَرَّالدَّ وَآبِّ عِنْدَاللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ ۔ ج اَلَّذِیْنَ عٰھَدْتَّ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّھُمْ لَایَتَّقُوْنَ ۔ فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِیْ الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِھِمْ مَّنْ خَلْفَھُمْ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔ ( الانفال : 55 تا 57)
(بےشک سب جانداروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا پھر وہ کسی طرح ایمان نہیں لاتے۔ (خصوصاً ان میں سے وہ لوگ) جن سے آپ نے معاہدہ کیا ہے پھر وہ ہر مرتبہ اس معاہدے کو توڑ دیتے ہیں اور وہ بالکل نہیں ڈرتے۔ سو اگر آپ پائیں انھیں لڑائی میں تو انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ :
آل فرعون کی طرح اہل مکہ کی تباہی ان کے گناہوں کی وجہ سے ہوئی ورنہ اللہ تعالیٰ کسی کو بےوجہ نہ تباہ کرتا ہے اور نہ ہی اپنے انعام کو عتاب میں تبدیل کرتا ہے۔
قرآن مجید اپنے طے شدہ اسلوب کے مطابق وضاحت کرتا ہے کہ آل فرعون کی اقتدار اور اختیار سے محرومی، مصر جیسے سبز و شاداب ملک سے بےدخلی اور انواع و اقسام کی نعمتوں کے بدلے مختلف قسم کی تنگیوں اور مصائب میں مبتلا ہونے کا سبب یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بلاوجہ انھیں اپنی نعمتوں سے محروم کردیا۔ یہ تو کسی قوم کا مسلسل منفی کردار ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے انعام و کرام سے محروم ہو کر…
Read the full tafseer →یہ کفر پر مصر ہیں :
آیت 55: اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ (بلاشبہ وہ مخلوق میں بدترین لوگ ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ کافر لوگ ہیں تو یہ ایمان نہ لائیں گے) انہوں نے کفر پر اصرار کیا ہے ان سے ایمان کی توقع نہیں ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 55(ان شر الدوآب عند اللہ الذین کفروا فھم لایئومنون) کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بنو فریظہ کے یہود میں سے کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
55۔ 58۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں مجاہد سے اور تفسیر ابوالشیخ میں سعید بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت اور یہود بنی قریظہ کا یہ معاہدہ تھا کہ نہ وہ لوگ آنحضرت سے لڑیں گے نہ مسلمانوں کے دشمن کو مدد دینگے پہلے انہوں نے خلاف معاہدہ کر کے مشرکین مکہ کو ہتھیاروں کی مدد دی اور جب ان سے پوچھا گیا تو معاہدہ کے یاد نہ رہنے کا عذر کیا پھر دوبارہ معاہدہ کیا اور پھر معاہدہ کے برخلاف تمام قبائل عرب کو بہکا کر خندق کی لڑائی میں چڑھا لائے ان میں ایک شخص کعب بن اشرف شاعر بڑا شریر تھا مسلمانوں کی ہمیشہ ہجو کیا کرتا تھا یہ وہی کعب بن اشرف ہے جس نے مشرکین مکہ سے یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
آیت 55
فرمایا (ان) بیشک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں۔۔۔ یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت۔۔۔ خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں اس پر پکے نہیں رہتے (شرالدوآب عنداللہ) ” سب جان داروں میں بدترین ہیں اللہ کے ہاں “ پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے، لہٰذا ان کو ختم کرنا اور ہلاک کرنا ضروری ہے، تاکہ ان کی بیماری دوسروں میں نہ پھیلے، اسی لئے فرمایا : (فاما تتقفنھم فی الحرب) ” پس جب تم ان کو حالت جنگ میں پاؤ ‘ ق جب کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہد و میثاق نہ ہو۔ (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
جنگ میں اطاعت خدا اور رسول
قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم…
Read the full tafseer →118 اہل کفر و باطل اللہ کی بدترین مخلوق ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں کہ کفر کی میل ان کے دلوں پر چھا گئی اور جم کر رہ گئی اور معاصی وذنوب کے زنگ نے ان کے باطن کو ایسا کھوکھلا کردیا کہ یہ بدبخت قبول حق کی استعداد ہی سے محروم ہوگئے جو کہ لازمی نتیجہ ہے ضد اور ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نور ایمان سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے اور کفر و انکار جڑ بنیاد ہے ہر خرابی اور برائی کی۔ اس لئے یہ لوگ ہر جانور سے برے اور بدتر ہوگئے اگرچہ وہ اپنے آپ کو کتنا ہی بڑا کیوں نہ جانتے اور مانتے ہوں۔ عام لوگ ان کو کیا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
موت کے وقت کفار کی حالت
تشریح : یہاں کفار کے اعمال باطل کے وجہ سے ان کے انجام کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ میدان جنگ، یعنی غزوہ بدر میں کفار کی تکلیف دہ موت کا ذکر اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ فرشتے کس قدر تکلیف کے ساتھ کفار کی جان نکال رہے تھے اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہ تو صرف دنیا کی ذلت و خواری اور ہلاکت تم دیکھ رہے ہو۔ اس عذاب کا تمہیں علم ہی نہیں جو موت کے بعد شدید آگ کا عذاب تمہیں دیا جائے گا اور یہ سب کچھ تمہیں اپنے ہی کیے ہوئے کاموں کے بدلہ میں ملے گا۔ ویسے اس کا حکم عام بھی ہے کہ کفار کی موت کیسے واقع ہوتی ہے کیونکہ اللہ ارحم الراحمین ہے وہ کبھی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
آیات 49 تا 58
اسرار و معارف
بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔
دل کامرض
گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ف 6 اوپر کی آیت میں جب تمام کفار کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ ظالم ہیں تو اب یہاں بعض کفار کی خصوصی شرارتون کا ذکر فرمایا۔ ( کبیر) وھم لا یتقون، کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہے کہ وہ بد عہدی کے انجام سے نہیں ڈرتے، ان سے مراد خاص طو پر مدینہ منورہ کے یہودی ہیں جن سے مدینہ منورہ پہنچ کر نبی ﷺ نے حسن جوار اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت انہیں ایک نظر نہ بھائی تھی چناچہ کبھی وہ اوس خزرج کے کے درمیان جاہلی عصبیت ابھار کر ان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے اور کبھی اسلام کے دشمنوں کی ہتھیاروں سے مدد کر کے معاہدہ باربار خلاف ورزی کرتے اور جب ان سے کہا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہمیں…
Read the full tafseer →(8:55) شرالدواب۔ بدترین جانور۔ ملاحظہ ہو 8:22 ۔
الذین کفروا فہم لا یؤمنون۔۔ ای اصروا علی الکفر والجوافیہ فلا یتوقع منھم الایمان۔ وہ لوگ جو کفر پر مصر رہے ان سے ایمان کی توقع نہیں کی جاسکتی (یہ بنو قریظہ تھے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
آیات : 55 تا 59
لغات القرآن۔
عاھدت۔ تو نے معاہدہ کیا۔ ینقضون۔ وہ توڑتے ہیں۔ لا یتقون۔ وہ ڈر نہیں رکھتے۔ تثقفنھم۔ تو ان کو پائے۔ الحرب۔ جنگ۔ شرد۔ تو بھگا دے۔ تو سزا دے ان کو ۔ خلفھم۔ ل جو ان کے پیچھے ہیں۔ تخافن۔ تجھے ڈر ہو۔ خوف ہو۔ خیانۃ۔ بےایمانی۔ بددیانتی۔ انبذ۔ پھینک دے۔ سواء۔ برابری۔ لا یحب۔ پسند نہیں کرتا۔ الخائنین۔ خیانت کرنے والے۔ لا یحسبب۔ وہ گمان نہ کریں۔ وہ نہ سمجھیں۔ سبقوا۔ وہ آگے بڑھ گئے۔ وہ بچ گئے۔ لا یعجزون۔ وہ عاجز و بےبس نہیں کرسکتے۔
تشریح :
سورۃ الانفال میں نہ صرف ان اصولوں کو پیش کیا گیا ہے جو میدان جنگ میں لڑنے سے متعلق ہیں بلکہ ان اصولوں اور قوانین کو بھی بہت زور دار انداز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
یہود کی بدعہدی
جس کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں میں تو عقل نہیں کہ وہ اس سے کام لیں۔ کافروں میں عقل ہے، اور پھر اس سے کام نہیں لیتے۔ عقل سے کام لیں تو چاروناچار ایمان لے آویں۔ یہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ آگے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہود بنی قریظہ اور مسلمانوں کا عہد و پیمان ہوگیا تھا کہ ہمارے مقابلہ میں کفار کو مدد نہ دینا۔ انہوں نے عہد توڑ دیا اور اور جنگ احد میں ہتھیاراوں سے دشمنوں کی مدد کی اور بعد میں کہنے لگے کہ ہم بھول گئے تھے۔ پھر دوسری بار عہد ہوا کہ آئندہ ہم مسلمانوں کے دشمنوں کو ہرگز ہرگز مدد نہ پہنچائیں گے، لیکن جنگ خندق میں کفار سے پھر اتفاق کر کے دوسری بار عہد توڑا۔ اس پر یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
[17] یعنی جس قوم کو اللہ تعالیٰ نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے اس سے وہ اس وقت تک واپس نہیں لیتا جب تک وہ اپنے حالات و اعمال کو بدل کر خود ہی اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے۔ حالات اور اعمال کے بدلنے سے مراد یہ ہے کہ اچھے اعمال اور اچھے حالات کو بدل کر برے اعمال اور برے حالات اختیار کرے یا یہ کہ اللہ کی نعمتیں پانے کے وقت جن اعمال بد اور گناہوں میں مبتلا تھی ان سے زیادہ برے اعمال میں مبتلا ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
بدترین خلائق :
(ف 1) یعنی جن کی آنکھیں انوار نبوت کو شب وروز دیکھیں اور نہ مانیں ، جو تیس سال تک آفتاب نبوت کو چمکتا ہوا دیکھیں ، اور ایمان کی حرارت و تمازت سے متاثر نہ ہوں ، ان کے متعلق اس کے سوا اور کیا کہا جائے ، کہ بدترین لوگ ہیں ۔
Read the full tafseer →55 بے شک سب جانداروں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین خلائق وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر و انکار کا شیوہ اختیار کیا پھر وہ ایمان نہیں لائے۔ یعنی ان کی بداعمالیوں کے سبب توفیق ہی نہیں ملتی جو ایمان لائیں۔
Read the full tafseer →ف 9۔ لایومنون فرماناان ہی کے اعتبار سے ہے جو علم الہی میں عمر کافر رہنے والے تھے۔
Read the full tafseer →حقائق کو دیکھ کر ایمان نہ لانے والے چارپایوں سے بھی بدتر ہیں :
74: آیت زیر نظر کا پہلا حصہ پیچھے آیت 22 میں بھی گزر چکا اور اس کی وضاحت وہاں بیان کردی تھی۔ یہ اسلوب بیان گویا ان لوگوں کے وجود و بقا کے جواز کی نفی کر رہا ہے کہ وہ انسان جو شکل و صورت سے تو بہت بہر حال انسان نظر آتے ہیں لیکن سوچنے سمجھنے کی رمق بھی ان میں موجود نہیں تو وہ انسان کہلانے کے کب مستحق ہیں ؟ وہ تو چارپائے ہیں اور وہ بھی ایسے چار پائے شرارتی قسم کے اور برے گنے جاتے ہیں جیسے گیدڑ اور بھیڑیا۔ مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے کسی گروہ کی قدر و قیمت اس وقت تک ہے جب تک ان میں عقل و فکر سے کام لینے کی صلاحیت ہے اور وہ اس سے کام لیں…
Read the full tafseer →In the verse which follows immediately, it was said about the same disbelievers: إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الَّذِينَ كَفَرُوا (Surely, the worst of all the living, in the sight of Allah, are those who reject Faith - 55). Here, the word: دَوَابّ (dawabb) is the plural form of dabbah which literally means creatures who walk on the earth. Therefore, this word covers human beings and whatever of the animals walk on the earth. But, in common usage, this word is used particularly for quadruped animals. Since they were far below animals in their state of insensitiveness, they were…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
40. Unless a nation renders itself totally unworthy of God's favour, it is not deprived of it.
Read the full tafseer →