Al-Anfaal 8:36

Al-Anfaal · from ayah 36

8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ— فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ؕ۬— وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰی جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ ۟ۙاِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَـصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ؕ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ ؕوَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَـنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَۙ‏

جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who disbelieve spend their wealth to avert [people] from the way of Allah. So they will spend it; then it will be for them a [source of] regret; then they will be overcome. And those who have disbelieved - unto Hell they will be gathered.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 4 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:36

جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر کار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعﺚ حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اپنے مال اس کام کے لیے خرچ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ خرچ تو کریں گے، مگر پھر یہ سب کچھ ان کے لیے حسرت کا سبب بن جائے گا، اور آخر کار یہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور (آخرت میں) ان کافر لوگوں کو جہنم کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک کافر لوگ اپنا مال و دولت (اس لئے) خرچ کرتے ہیں کہ (اس کے اثر سے) وہ (لوگوں کو) اللہ (کے دین) کی راہ سے روکیں، سو ابھی وہ اسے خرچ کرتے رہیں گے پھر (یہ خرچ کرنا) ان کے حق میں پچھتاوا (یعنی حسرت و ندامت) بن جائے گا پھر وہ (گرفتِ الٰہی کے ذریعے) مغلوب کر دیئے جائیں گے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں، تاکہ اللہ کے راستے سے روکیں۔ پس عنقریب وہ انھیں خرچ کریں گے، پھر وہ ان پر افسوس کا باعث ہوں گے، پھر وہ مغلوب ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ کافر اپنے مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روک دیں اور ابھی یہ لوگ اور بھی خرچ کریں گے، پھر یہی بات ان کے لئے حسرت کا باعث بن جائے گی پھر وہ مغلوب ہوں گے پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔ وہ اس کو خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لیے سرمایہ حسرت بنے گا۔ پھر یہ مغلوب ہوں گے اور یہ کافر جمع کر کے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک کافر لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ روکیں اللہ کی راہ سے، سو وہ ان کو خرچ تو کریں گے مگر آخرکار وہ ان کے لئے سراسر حسرت ہوں گے، پھر یہ مغلوب ہوں گے، پھر ان کافروں کو دوزخ کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ کفر (اختیار) کئے ہوئے ہیں اپنے مال کو اس لیے خرچ کررہے ہیں کہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکیں سو یہ لوگ تو خرچ کرتے ہی رہیں گے لیکن وہی (اموال) ان کے حق میں حسرت بن جائیں گے پھر یہ لوگ مغلوب ہوجائیں گے اور جو لوگ مغلوب ہوجائیں گے اور جو لوگ کفر (اختیار) کئے ہوئے ہیں انہیں دوزخ کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً کافر لوگ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں تاکہ (لوگوں کو) روکیں اللہ کے رستے سے تو وہ (اور بھی) خرچ کریں گے پھر یہ ان کے لیے ایک حسرت بن جائے گا پھر یہ مغلوب ہو کر رہیں گے اور جو کفر پر رہیں گے وہ جہنم کی طرف گھیر کرلے جائے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ خرچ کرنا ان کے لیے افسوس کا باعث ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely those who deny the truth spend their wealth to hinder people from the way of Allah, and will continue to so spend until their efforts become a source of intense regret for them, and then they will be vanquished, and then these deniers of the truth will be driven to Hell,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, those who disbelieve spend their wealth to prevent (people) from the way of Allah. So, they shall spend it, then it will become remorse for them, then they shall be overpowered, and those who disbelieve shall be gathered into Jahannam ,

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, those who disbelieve spend their wealth to prevent (people) from the way of Allah. So, they shall spend it, then it will become remorse for them, then they shall be overpowered, and those who disbelieve shall be gathered into Jahannam ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who disbelieve spend their wealth to hinder (men) from the path of Allah, and so will they continue to spend it; but in the end it will become an anguish for them. Then they will be overcome. And those who disbelieve will be gathered unto Hell.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who disbelieve spend their wealth in order that they may debar (men) from the way of Allah. They will spend it, then it will become an anguish for them, then they will be conquered. And those who disbelieve will be gathered unto hell,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who disbelieve spend their wealth to avert [people] from the way of Allah. So they will spend it; then it will be for them a [source of] regret; then they will be overcome. And those who have disbelieved - unto Hell they will be gathered.

— Saheeh International

The disbelievers spend their wealth to turn men away from the way of God. They will continue to spend but it will become a source of regret for them and they will be defeated (because of their evil plans). The disbelievers will be gathered all togdher in Hell.

— Muhammad Sarwar

Surely those who disbelieve spend their wealth to hinder (people) from the way of Allah; so they shall spend it, then it shall be to them an intense regret, then they shall be overcome; and those who disbelieve shall be driven together to hell.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who disbelieve are expending their riches in order to hinder People from the way of Allah; so they will go on expending them; thereafter they shall become an anguish unto them; then they shall be overcome. And those who disbelieve shall be gathered for Hell.

— Abdul Majid Daryabadi

The Unbelievers spend their wealth to hinder (man) from the path of Allah, and so will they continue to spend; but in the end they will have (only) regrets and sighs; at length they will be overcome: and the Unbelievers will be gathered together to Hell;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–37

شکست خوردہ کفار کی سازشیں قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو افیسان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی ؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چناچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ، اسی پر یہ آیت اتری کہ خرچ کرو ورنہ یہ بھی غارت جائے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 35–36

سورة الْاَنْفَال 28 یہ اشارہ اس غلط فہمی کی تردید میں ہے جو لوگوں کے دلوں میں چھپی ہوئی تھی اور جس سے عام طور پر اہل عرب دھوکا کھا رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قریش چونکہ بیت اللہ کے مجاور اور متولی ہیں اور وہاں عبادت بجا لاتے ہیں اس لیے ان پر اللہ کا فضل ہے۔ اس کے رد میں فرمایا کہ محض میراث میں مجاورت اور تولیت پالینے سے کوئی شخص یا گروہ کسی عبادت گاہ کا جائز مجاور ومتولی نہیں ہوسکتا۔ جائز مجاور و متولی تو صرف خدا ترس اور پرہیزگار لوگ ہی ہو سکتے ہیں۔ اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ ایک جماعت کو، جو خالص خدا کی عبادت کرنے والی ہے، اس عبادت گاہ میں آنے سے روکتے ہیں جو خا لص خدا کی عبادت ہی کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخر آیت میں آخرت کے اعتبار سے ان لوگوں کے انجام بد کا بیان ہے (آیت) وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحْشَرُوْنَ۔ یعنی جو لوگ کافر ہیں ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ مذکورہ آیتوں میں دین حق سے روکنے کے لئے مال خرچ کرنے کا جو انجام بد ذکر کیا گیا ہے اس میں آج کے وہ کفار بھی داخل ہیں جو لوگوں کو اسلام سے روکنے اور اپنے باطل کی طرف دعوت دینے پر لاکھوں روپیہ شفاخانوں، تعلیم گاہوں اور صدقہ خیرات کے عنوان سے خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ گمراہ لوگ بھی اس میں داخل ہیں جو اسلام کے اجماعی عقائد میں شبہات و اوہام پیدا کرکے ان کے خلاف لوگوں کو دعوت دینے کے لئے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ الایہ، اب یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ اس وقت قریش کے لیڈروں میں اسلام کے مٹانے کے لیے جو جوش و خروش ہے اور اس جوش میں وہ بڑی فیاضی سے جو اپنی دولت لٹا رہے ہیں، یہ چیز بھی اس فرقانِ حق کے نمایاں ہونے میں مانع نہ ہوسکے گی جس کا اہل ایمان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لیے تھی کہ فی الواقع قریش کے لیڈروں نے بدر کے موقع پر بڑی دریا دلی دکھائی تھی، جنگ کا سامان اور فوج کی رسد فراہم کرنے میں ہر سردار نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی، کمزور قسم کے مسلمانوں پر یہ چیز بھی اثر انداز ہوئی کہ قریش کے پاس تعداد اور سامانِ جنگ کی کثرت بھی ہے، مال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 جب قریش مکہ کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کے شکست خوردہ اصحاب مکہ واپس گئے۔ ادھر سے ابو سفیان بھی اپنا تجارتی قافلہ لے کر وہاں پہنچ چکے تھے تو کچھ لوگ، جن کے باپ، بیٹے یا بھائی اس جنگ میں مارے گئے تھے، ابو سفیان اور جن کا تجارت سامان میں حصہ تھا، ان کے پاس گئے اور ان سے استدعا کی وہ اس مال کو مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے استعمال کریں۔ مسلمانوں نے ہمیں بڑا نقصان پہنچایا ہے اس لئے ان سے انتقامی جنگ ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انہی لوگوں یا اسی قسم کا کردار اپنانے والوں کے بارے میں فرمایا کہ بیشک یہ لوگ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لئے اپنا مال خرچ کرلیں لیکن ان کے حصے میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 36–37

21: جنگ بدر کے بعد قریش کے بچے کھچے سرداروں نے چندہ جمع کرنا شروع کیا تھا کہ اس سے ایک بڑی جنگ کی تیاری کریں۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب ذرا ان کفار کے طرز عمل کو دیکھو یہ لوگ اپنے اموال اس مقصد کے لیے صرف کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں۔ بدر میں ان کے مقاصد کیا تھے ، یہی کہ اس جنگ سے ان کے پیش نظر صرف یہ تھا کہ اس گروہ کو ختم کر کے دین داری کی تحریک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جس طرح پہلے کیا گیا۔ بدر کے بعد بھی ان کی سوچ یہی رہی۔ اللہ تعالیٰ انہیں خبر دار فرماتے ہیں کہ آخر کار تم نے ناکام ہونا ہے اور تمہیں اپنے رویے پر بےحد افسوس ہوگا اس لیے کہ تم نے دنیا میں شکست سے دوچار ہونا ہے اور آخرت میں تمہارے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ جب قریش کو بدر میں شکست ہوئی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 بدر میں بارہ سرداروں نے ایک ایک دن اپنے ذمہ لیا تھا کہ ہر روز ایک شخص لشکر کو کھانا کھلائے گا۔ چناچہ دس اونٹ روزانہ کسی ایک کی طرف سے ذبح کیے جاتے تھے۔ پھر جب شکست ہوگئی تو ہزیمت خوردہ مجمع نے مکہ پہنچ کر ابو سفیان وغیرہ سے کہا کہ جو مال تجارتی قافلہ لایا ہے، وہ سب محمد ﷺ سے انتقام لینے میں صرف کیا جائے چناچہ سب اس پر راضی ہوگئے۔ اسی طرح کے خرچ کرنے کا یہاں ذکر ہے۔ 3 جب دنیا میں مغلوب و مقہور اور آخرت میں معذب ہوں گے، تب افسوس و حسرت سے ہاتھ کاٹیں گے کہ مال بھی گیا اور کامیابی بھی نہ ہوئی۔ چناچہ اول بدر میں احد وغیرہ میں سب مالی اور جسمی طاقتیں خرچ کر دیکھیں کچھ نہ کرسکے آخر ہلاک یا رسوا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت 36 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔ قریش کی طرف سے لشکر کی تیاری ‘ سازو سامان کی فراہمی ‘ اسلحہ کی خریداری ‘ اونٹوں ‘ گھوڑوں اور راشن وغیرہ کا بندوبست بھی اس قسم کے انفاق فی سبیل الشیطان اور فی سبیل الشرک کی مثال ہے۔ وہ لوگ گویا شیطان کے راستے کے مجاہدین تھے اور اللہ کی مخلوق کو اس کے راستے سے روکنا ان کا مشن تھا۔ فَسَیُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ط۔ یہ خرچ کرنا ان کے لیے موجب حسرت ہوگا اور یہ پچھتاوا ان کی جانوں کا روگ بن جائے گا کہ اپنا مال بھی کھپا دیا ‘ جانیں بھی ضائع کردیں ‘ لیکن اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 کفار کا مالی اور جانی نقصان پر حسرت کرنا :۔ غزوہ بدر کے دوران کافروں کے ایک ہزار لشکر کی خوراک کا خرچہ روزانہ دس اونٹ تھا۔ اور یہ صرف گوشت کا خرچہ تھا۔ دیگر سب اخراجات اس کے علاوہ تھے۔ پھر ابو سفیان کے تجارتی قافلہ کا سارے کا سارا منافع مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ غرض اس آیت میں جو غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی کافروں کے حق میں ایک ایسی پیشین گوئی کی گئی جو بعد کے ادوار میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ یعنی غزوہ بدر کے بعد بھی کافر خرچ بھی کرتے رہیں گے اور شکست کھا کر پٹتے بھی رہیں گے اور ایک وقت آئے گا جب اسلام دشمنی کی راہ میں ان کا خرچ کیا ہوا مال، خرچ کیا ہوا وقت اور اپنی جسمانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–37

اِنَّ الذین کفروا ینفقون اَمْوالھم لیصدّوا عن سبیل اللہ، جب مشرکین مکہ کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کے شکست خوردہ اصحاب مکہ واپس گئے ادھر ابو سفیان بھی اپنا تجارتی قافلہ لیکر مکہ پہنچ گیا تو کچھ لوگ جن کے باپ بیٹے یا بھائی اس جنگ میں مارے گئے تھے، اور ان کا مال تجارت میں بھی حصہ تھا ابوسفیان کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ ہمارا مال مسلمانوں سے انتقام لینے میں استعمال کریں مسلمانوں نے ہمیں بڑا سخت نقصان پہنچایا ہے اس لئے ان سے انتقامی جنگ ضروری ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں یا اسی کردار کے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ بیشک یہ لوگ اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکنے کے لئے اپنا مال خرچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبیل اللہ ط جن لوگوں نے کفر کیا ‘ وہ اپنا مال راہ خدا سے لوگوں کو روکنے کیلئے خرچ کرتے ہیں۔ سبیل اللہ سے مراد ہے اللہ کا دین۔ کلبی نے کہا : اس آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جنہوں نے بدر کے موقع پر (قریش کے سارے لشکر کو) کھانا کھلایا تھا۔ یہ بارہ آدمی تھے : ابوجہل بن ہشام ‘ ربیعہ بن عبدالشمس کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ ‘ حجاج کے دونوں بیٹے نبیہ اور منبہ ‘ ابو البختری بن ہشام ‘ نضر بن حارث ‘ حکیم بن حزام ‘ اُبی بن خلف ‘ زمعہ بن اسود ‘ حارث بن عامر بن نوفل ‘ عباس بن عبدالمطلب۔ یہ سب افراد قریشی تھے اور ہر شخص روزانہ دس اونٹ ذبح کیا کرتا تھا۔ محمد بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(36) بدر کے دن ابوجہل اور اس کے لوگ یہ تیرہ آدمی زیادہ سرگرم تھے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، کہ یہ لوگ اپنے مالوں کو اس لیے خرچ کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین اور اطاعت خداوندی سے روکیں، سو یہ دنیا میں خرچ کرتے رہیں گے اور بالآخر یہ چیز ندامت و حسرت کا باعث ہوگی اور یہاں بھی بدر کے دن مارے جائیں گے اور مغلوب ہوں گے۔ شان نزول : (آیت) ”ان الذین کفروا“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے زہری ؒ اور محمد بن یحییٰ بن حبان ؒ اور عاصم بن عمیر بن قتادہ ؒ اور حصین بن عبدالرحمن ؒ سے روایت کیا کہ جب قریش بدر کے دن شکست کھاچکے اور مکہ مکرمہ واپس آئے تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمۃ بن ابی جہل اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ : یہاں ”عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ سے مراد اسلام ہے، یعنی کفار خصوصاً اہل مکہ کہ جن کا یہاں ذکر ہو رہا ہے، وہ اپنے اموال لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لیے ہر طرح سے خرچ کرتے ہیں، مال کا لالچ دے کر بھی اور جنگ کی تیاری کے لیے خوراک، سواریاں اور اسلحہ و افراد مہیا کرکے بھی۔ انھیں اسلام سے اس قدر دشمنی اور عناد ہے کہ اس سے روکنے کے لیے وہ اپنی محبوب ترین چیز مال خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کردیا کہ آئندہ جب بھی یہ مسلمانوں کے خلاف کوئی کار روائی کریں گے انھیں اسی طرح ناکامی اور حسرت کا سامنا کرنا پڑے گا جس طرح اب بدر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 35–37

آیت نمبر : 35۔ 36۔ 37 حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : قریش ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرتے تھے، وہ تالیاں بجاتے تھے اور سیٹیاں مارتے تھے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 627) اور یہ ان کے گمان میں عبادت تھی۔ مکاء کا معنی سیٹی مارنا ہے اور التصدیہ کا معنی تالی بجانا ہے۔ یہ حضرت مجاہد، سدی اور حضرت ابن عمر ؓ نے کہا ہے اور اسی کے مطابق عنترہ کا قول بھی ہے : وحلیل غانیۃ ترکت مجدلا تمکو فریضتہ کشدق الاغلم (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 523 ) یعنی اس میں تمکو بمعنی تصوت ( آواز نکالنا، سیٹی مارنا کے) ہے۔ اور اسی سے مکت است الدابہ یہ تب کہا جاتا ہے جب جانور ہوا خارج کرے۔ سدی نے کہا ہے ؛ المکاء بمعنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–37

1۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں سب نے اپنی سند سے زبیری محمد بن یحییٰ بن حیان عاصم بن عمر بن قتادہ اور حصین بن عبدالرحمن بن عمر سے روایت کیا کہ جب قریش کو بدر کے دن مصیبت پہنچی اور وہ مکہ کی طرف لوٹے اور ابوسفیان بھی اپنے قافلے کے ساتھ لوٹ آیا تو عبداللہ بن ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل اور صفوان بن امیہ قریش کے دیگر افراد کے ساتھ ان افراد کے پاس گئے حسن کے پاس سامان تجارت تھا اور انہوں نے کہا اے قریش کے گروہ کہ محمد ﷺ نے تم کو اذیت میں مبتلا کیا ہے اور تمہارے سرداروں کو قتل کردیا اب تم اس مال کے ساتھ مدد کرو محمد ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے شاید کہ ہم اس سے اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں ] [ اَمْوَالَهُمْ : اپنے مال ] [ لِيَصُدُّوْا : تاکہ وہ روکیں ] [ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ: اللہ کے راستے سے ] [ فَسَيُنْفِقُوْنَهَا : پس وہ لوگ (ابھی اور ) خرچ کریں گے ان کو ] [ ثُمَّ : پھر ] [ تَكُوْنُ : وہ ہوگا ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ حَسْرَةً : ایک حسرت ] [ ثُمَّ : پھر ] [ يُغْلَبُوْنَ ڛ : وہ لوگ مغلوب کیے جائیں گے ] [ وَالَّذِيْنَ : اور جنھوں نے ] [ كَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [ اِلٰى جَهَنَّمَ : جہنم کی طرف ہی ] [ يُحْشَرُوْنَ : وہ اکٹھا کیے جائیں گے ] (آیت ۔ 36) فسینفقونھا میں ھا کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ کی راہ سے روکنے والے مغلوب ہوں گے اور ان کے اخراجات حسرت کا باعث ہونگے مفسر ابن کثیر (ص 307 ج 2) میں تحریر فرماتے ہیں کہ جب قریش کو بدر میں شکست ہوئی اور جو زندہ رہ گئے وہ مکہ مکرمہ واپس پہنچے تو ابو سفیان کے گلے پڑگئے کہ ہم لوگ تیرے قافلہ کی حفاظت کے لیے نکلے تھے تم لوگ تو صحیح سالم آگئے اور ہمارے آباء اور ہماری اولاد اور ہمارے بھائی بدر میں مقتول ہوگئے۔ لہٰذا تم لوگ مال سے ہماری مدد کرو تاکہ ہم دو بارہ جنگ کریں اور محمد ﷺ سے اپنا بدلہ لے لیں۔ چناچہ ان لوگوں نے اس سلسلہ میں چندے دیئے اور مال خرچ کیے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آیت بالا ان کے اسی مال کے خرچ کرنے کے سلسلے میں نازل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–37

تفصیل مکائکفار در ابطال دین پروردگار قال اللہ تعالیٰ ٰ واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا قد سمعنا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ذات نبوی کے متعلق کفار کے کید اور مکر کا حال بیان فرمایا اب آئندہ آیات میں دین محمد کے بارے میں کفار کے کید ومکر کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ وہ دین اسلام کے مٹانے کے لیے کیا کیا حیلے اور بہانے تراشتے تھے اور کس طرح جان ومال سے اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت اور دشمنی کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار قریش کے تمرد اور عناد اور ان کے متکبرانہ دعاوی اور احمقانہ عادتوں کا بیان ہے اولئک ھم المخسروان۔ تک یہی مضمون چلا گیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 36–37

38: تخویف اخروی ہے۔ “ يُنْفِقُوْنَ ” ، “ اِنَّ ” کی خبر ہے۔ کافر اپنا مال و دولت مسلمانوں کے خلاف جنگ و قتال میں خرچ کر رہے ہیں تاکہ ان کو اللہ کے دین سے روک سکیں۔ وہ اب خرچ کر رہے ہیں جیسا کہ جنگ بدر میں خرچ کیا اور آئندہ بھی خرچ کریں گے۔ مثلاً جنگ احد وغیرہ میں۔ مگر ہر بار انہیں اپنی دولت خرچ کرنے کے بعد حسرت اور افسوس ہی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ کیونکہ ہر میدان میں وہ اپنی تمام کوششوں کے باوجود مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور ہوں گے۔ “ والمعنی ان الکفار یقصدون بنفقتھم الصد عن سبیل اللہ و غلبة المؤمنین فلا یقع الا عکس ما قصدوا وھو تندمھم و تحسرھم علی ذھاب اموالھم ثم غلبتھم والتمکن منھم اسرا و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 35–37

ربط آیات : گزشتہ درس میں حضور ﷺ کے واقعہ ہجرت کی طرف اشارہ تھا جب کہ کفار مکہ آپ کو قتل کرنے کے درپے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی مخفی تدبیر کا ناکام بنا دیا ، اور حضور ﷺ کی حفاظت کے لیے ایسی مخفی تدبیر بنائی کہ آپ ان کی آنکھوں میں مٹی ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل گئے۔ گزشتہ درس ہی میں اللہ نے مشرکین کے تعصب اور عناد کا ذکر بھی فرمایا اور یہ بھی کہ یہ لوگ فوری سزا کے مستحق ہیں مگر ان کی سزا دو وجہ سے رکی ہوئی ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ کا پیغمبر ان کے درمیان موجود ہے ، اور جب تک کسی بھی قوم کا پیغمبر ان میں موجود ہوتا ہے ، وہ قوم سزا سے بچی رہتی ہے اور پھر جب پیغمبر علیحدہ ہوجاتا ہے تو قوم سزا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِيَصُدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝ 0 ۭ فَسَيُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَيْہِمْ حَسْــرَۃً ثُمَّ يُغْلَبُوْنَ۝ 0ۥۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَہَنَّمَ يُحْشَــرُوْنَ۝ 36 ۙ نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–40

ترکیب : ینفقون اموالہم خبر ہے ان کی لیصدوا ینفقون سے متعلق ویجعل کا۔ الخبیث مفعول الاول بعضہ اس سے بدل ‘ بدل البعض علی بعض مفعول ثانی بواسطہ جر ای لبعض الخبیث علی بعض او بعض الخبیث غالبا علی بعض ان ینتہوا شرط یغفر جواب۔ ماقد سلف مفعول مالم یسم فاعلہ یغفر کا۔ فتنۃ اسم ہے کان تامہ کا کلہ الدین کی تاکید یہ اسم اللّٰہ خبر نعم المولیٰ مخصوص بالمدح اللہ محذوف۔ تفسیر : یہاں ان کے قابل عذاب ہونے کی ایک اور بات بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مال اللہ کے رستے سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ چناچہ بدر کی جنگ میں ابو جہل وغیرہ قریش کے مال داروں نے خدا پرستوں کے مقابلہ میں ان کفاروں کو کھانا دیتے تھے جن کو ہدم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 36–37

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط فَسَیُنْفِقُوْنَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ 5 ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلٰی جَھَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ ۔ لا لِیَمِیْزَاللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَیَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَہٗ فِیْ جَھَنَّمَ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ ع (الانفال : 36 تا 37) (بےشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ اپنے مال خرچ کررہے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں سوابھی وہ اور خرچ کریں گے پھر یہ ان کے لیے سرمایہ حسرت بنیں گے اور آخر مغلوب ہوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو ان کے کردار کا آئینہ دکھاتے ہوئے یہ احساس دلایا گیا ہے عنقریب تمہیں اپنے کیے پر حسرت و افسوس ہوگا۔ کفار صرف زبانی اور جسمانی طور پر ہی اللہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے ہوئے تھے بلکہ وہ اس کے لیے اپنا مال بھی خرچ کرتے تھے۔ انھوں نے نبی محترم ﷺ کو دعوت توحید سے روکنے کے لیے بڑی بڑی پیش کشیں کی تھیں جب آپ نے ان کی پیشکشوں کو مسترد کردیا تو پھر ان لوگوں نے آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس پر بس نہیں کی پھر آپ کے خلاف جنگ وجدال کا راستہ اختیار کیا اور بہت سامال خرچ کر ڈالا لیکن بدر سے لے کر فتح مکہ تک نہ صرف ان کا جانی نقصان ہوا بلکہ بےپناہ وسائل بھی ضائع ہوئے اس طرح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صنادید قریش کی شہ خرچی اور اس پر ندامت : آیت 36: یہ آیت ان کے بارے میں اتری جو بارہ آدمی بدر کے ایام میں یومیہ دس اونٹ ذبح کرتے اور لشکر کو کھلاتے یہ تمام خاندان قریش سے تھے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْاعَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (بےشک یہ کافر اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکیں) اس انفاق سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو اتباع محمد ﷺ جو کہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے اس سے روکیں۔ فَسَیُنْفِقُوْنَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃً (پس یہ لوگ اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے پھر وہ مال ان کے حق میں باعث حسرت ہوجائیں گے) ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36(ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبیل اللہ) کلبی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت بدر کے دن قریش میں بارہ دکھانے کھلانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ لوگ ہر ایک ان میں سے روزانہ دس اونٹ ذبح کر کے کفار کے لشکر کو کھلاتا ۔ یہ بارہ لوگ ابو جہل ، عتبہ، شیبہ، نبیہ، منبہ، ابوالبختری ، نضر بن حارث، حیک بن حزام، ابی بن خلف، زمعہ بن اسود، حارث بن عامر، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ حکم بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابوسفیان کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اس نے احد کے دن مشرکین پر چالیس اوقیہ خرچ کئے۔ (فسینفقونھا ثم تکون علیھم حسرۃ) یعنی جو دنیا میں خرچ کر رہے ہیں وہ آخرت میں ان پر حسرت بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–37

36۔ 37 تفسیر سدی اور مغازی محمد بن اسحاق وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین چندہ کر کے اور اپنے طور پر ایسے کاموں میں اپنا روپیہ خرچ کرتے تھے جن کاموں سے انہیں مسلمان کو حرج پہنچانا اور ان کا زور گھٹانا منظور ہوتا تھا مثلا جب بدر کی لڑائی میں ابوجہل مارا گیا تو عکرمہ ابوجہل کے بیٹے نے شام کی تجارت کا اپنے حصہ کا روپیہ ابوسفیان کے حوالہ کیا تھا کہ مسلمانوں سے اس کے باپ کے قتل کا بدلہ لیا جاوے اور ابوسفیان نے اپنا روپیہ خرچ کر کے احد کی لڑائی میں حبشی لوگ مسلمانوں سے لڑنے کے لئے نوکر رکھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ اس روپیہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 35–36

آیت 35 اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد حرام صرف اس لئے بنائی ہے کہ اس میں اس کے دین کو قائم کیا جائے اور اس میں خلاص اسی کی عبادت کی جائے۔ پس اہل ایمان ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی اور رہے یہ مشرکین جنہوں نے لوگوں کو مسجد حرام سے روکا تو ان کی نماز، جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے، (الا مکآء وتصدیۃ) ” سیٹیوں اور تایوں کے سوا کچھ بھی نہیں “ جو کہ جہلا اور کم عقل لوگوں کا فعل ہے جن کے دل اپنے رب کی تعظیم سے خالی ہوتے ہیں، جو اپنے رب کے حقوق کی معرفت سے تہی دست ہوتے ہیں اور ان کے دل میں افضل ترین خطہ زمین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ جب ان کی نماز کا یہ حال ہے تو ان کی بقیہ عبادات…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–38

قوم کو پیغمبر کی موجودگی میں عذاب الٰہی نہیں ہوتا قول باری ہے وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون۔ اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہیں تھا جب کہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ یہ اللہ کا باقاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے) یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسا عذاب دینے والا نہیں تھا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا جبکہ حضور ﷺ کے درمیان موجود ہوتے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تھا اس لئے آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے انہیں عذاب نہیں دیا جائے گا جب آپ ﷺ ان کے یعنی اہل مکہ کے درمیان سے نکل جائیں گے تو یہ لوگ عذاب کے مستحق قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

62 کافروں کا انفاق، اللہ کی راہ سے روکنے کیلئے : تا سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافر لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ اس طرح وہ خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکیں کہ جس نور حق سے وہ خود محروم ہیں اس سے دوسروں کو بھی محروم کردیں۔ اور اس طرح دوہرے جرم کے مرتکب اور دوہرے عذاب کے مستحق بنیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اوپر ان کی بدنی عبادت کا بیان تھا اور اب یہ ان کی مالی عبادت کا نمونہ پیش کیا جا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نور حق و ہدایت سے محرومی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ان کی عبادت ان کے عذاب میں اضافے ہی کا باعث بنتی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دشمنانِ حق کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–40

مشرکین مکہ کے بڑے بڑے گناہ تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو کفار کے غلط طریقے اور غلط خیال کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح کہ انہوں نے نیک اور عبادت گزار لوگوں کو خانہ کعبہ میں عبادت کرنے سے منع کیا، یعنی وہ سمجھتے تھے کہ وہی خانہ کعبہ کے متولی ہیں اور ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہاں تو صرف پاکباز لوگ ہی عبادت کرسکتے ہیں۔ ان کی عبادت کا طریقہ تو سو فیصد غلط اور بےہودہ تھا وہ اس طرح کہ خانہ کعبہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے اور خانہ کعبہ کا طواف یوں کرتے کہ سیٹیاں بجاتے تالیاں پیٹتے اور برہنہ ہو کر طواف کرتے۔ دوسری بہت بڑی غلطی جو انہوں نے کی وہ مال خرچ کرنے کا غلط طریقہ اختیار کیا۔ وہ اس طرح کہ اپنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–37

آیات 29 تا 37 اسرار و معارف تقوی کے ثمرات اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 کلبی (رح) ، ضحاک (رح) ، اور مقاتل (رح) کہتے ہیں کہ بدر میں قریش کے بارہ سرداروں نے ایک ایک دن اپنے ذمہ لیا تھا کہ ہر روز ایک شخص لشکر کو کھانا کھلائے گا چناچہ ان میں سے کسی ایک کی طرف سے ہر روز دس اونٹ ذبح کیے جاتے تھے، پھر جب شکست ہوگئی تو مکہ بہنچ کر صفوان بن امیہ عکرمہ بن ابی جہل اور بعض دوسرو لوگوں نے جن کے باپ ی ابیٹے بدر میں مارے گئے تھے ابو سفیان وغیرہ سے کہا کہ جو مال تجارت قافلہ لایا ہے اسے محمد ﷺ سے انتقام لینے میں صرف کیا جائے چناچہ اس سب راضی ہوگئے۔ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابن کثیر، قر طبی ) 4 پہلے سے خبر دار کردیا کہ آئندہ جب بھی یہ مسلمانوں کے خلاف کوئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:36) فسینفقونھا۔ س مستقبل کے لئے آیا ہے۔ ینفقون۔ انفاق سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اموال کی طرف راجع ہے ۔ یہ آئندہ بھی (اسی طرح) خرچ کریں گے۔ ثم تکون۔ ای ثم تکون عاقبۃ انفاقھا۔ پھر ان کا یہ مال خرچ کرنا اس کے لئے باعث حسرت (وندامت) بن جائے گا۔ جھنم۔ اگر مجرور ہے لیکن م بالفتح آیا ہے بوجہ غیر منصرف ہونے کے ۔ غیر منصرف بوجہ عجمہ اور تانیث کے ہے۔ یحشرون۔ یساقون۔ ہانک کر لیجائے جائیں گے۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–40

آیات : 34 تا 40 لغات القرآن۔ مکاء۔ سیٹیاں۔ تصدیۃ۔ (صدی) ۔ تالیاں بجانا۔ لیصدوا۔ تاکہ وہ روک دیں۔ لیمیز۔ (یمیز) تاکہ وہ الگ الگ کردے۔ الخبیث۔ گندگی۔ الطیب۔ پاکیزگی۔ یرکم۔ (رحکم) ۔ وہ ڈھیر بنا دے گا۔ گٹھا بنا دے گا۔ ان ینتھوا۔ اور اگر وہ رک جائیں۔ سلف۔ گزر گیا۔ ان یعودوا۔ اور اگر وہ پلٹ جائیں۔ مضت۔ گزر گئی۔ سنت الاولین۔ پہلے لوگوں کا طریقہ۔ مولی۔ ستھی۔ نعم المولیٰ ۔ بہترین ساتھی۔ نعم النصیر۔ بہترین مددگار۔ تشریح : قریش مکہ نے خیر مانگے کے بجائے اللہ سے یہ مانگا کہ ان پر پتھروں کی بارش کردی جائے یا درد ناک عذاب بھیج دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بدر کے میدان میں زبردست شکست تمہارے لئے اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

روپیہ پیسہ بری جگہ خرچ کرنے پر مواخذہ شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین چندہ کرکے اپنے طور پر ایسے کاموں میں اپنا رپیہ خرچ کرتے تھے جن کاموں سے انہیں مسلمانوں کو ہرج پہنچانا اور ان کا زور گھٹانا منظور ہوتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اس روپیہ کے خرچ کرنے کا نتیجہ دین ودنیا میں ندامت ہے کہ باوجود روپیہ خرچ کرنے کے ان کا مقصد حاصل نہ ہوگا اور آخر مکہ فتح ہوکر مسلمانوں کے قبضہ میں آجاوے گا اور آخرت میں یہ لوگ اس کا مواخذہ بھگتیں گے۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی ایسے کام میں روپیہ خرچ کرنا جس سے نیک کام سے باز رہیں بڑے مواخذہ کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–40

[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–38

(ف 3) یعنی مکہ والے پوری قوت کے ساتھ اسلام کے خلاف صف آراء ہوں ، انجام کار انہیں شکست ہوگئی ، کیونکہ فتح و کامرانی کے لئے روپیہ کی ضرورت نہیں ، دولت ایمان کی احتیاج ہے ، مدرسے شکست کھا کر ان لوگوں نے آئندہ کے لئے تیاریاں کیں ، امراء نے مالی امداد دی قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ یہ مال و دولت جو اسلام کی مخالفت میں جمع کیا جا رہا ہے ان کے لئے بالآخر حسرت وندامت کا باعث ہوگا ۔ حل لغات : مکآئ : پرندے کی آواز ، سیٹی بجانا ۔ تصدیۃ : صدی سے ہے یعنی ہاتھ پر ہاتھ مارنا یعنی تالی بجانا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

36 بلاشبہ جو لوگ دین حق کے منکر ہیں وہ اپنے مال لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں تو یہ لوگ اس غرض کے لئے ابھی اپنا مال خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر میں وہ اموال ان پر موجب حسرت ہوں گے اور بالآخر وہ مغلوب ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کررکھی ہے اور دین حق سے انکار ان کا شیوہ ہے ان سب کو دوزخ کی طرف لے جانے کے لئے جمع کیا جائے گا۔ یعنی کفر کی اشاعت کے لئے جو لوگ روپیہ خرچ کررہے ہیں وہ ابھی کرتے رہیں گے لیکن ایک دن ان کے اموال موجب حسرت و پشیمانی ہوں گے کفر مغلوب ہوگا یہ تو دنیا میں ہوگا اور آخرت میں ان کو دوزخ میں دھکیلنے کو اکٹھا کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

ف 5۔ چناچہ نبی ﷺ کے مقابلہ اور مخالفت کے سامان جمع کرنے میں ظاہر ہے کہ جو خرچ ہوتا تھا اس میں یہی غرض تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے مال خرچ کرنے والوں کا حال : 48: زیر نظر آیت میں جو یہ فرمایا گیا کہ ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ اپنا مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں اور یہ لوگ آئندہ بھی خرچ کریں گے لیکن پھر ان کے لئے سراسر پچھتاوا ہوگا ( اس لئے کہ وہ مال خرچ کرنے کے باوجود) مغلوب کئے جائیں گے۔ یہ ایک طرف تو ان کی وہ حالت بیان کردی جو اس وقت ان کو درپیش تھی کہ میدان بدر میں ان کو جانی نقصان کے ساتھ مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا اور پھر یہ بھی کہ جو لوگ قید کر لئے گئے تھے ان کا فدیہ دے کر ان کو چھڑوانا پڑا اور آئندہ کے لئے اس آیت میں پیش گوئی بھی فرمادی کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

At the end of the verse (36), given there is the evil end of these people in terms of the Hereafter: وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُ‌ونَ (And those who disbelieve shall be gathered into Jahannam). In the verse under study, the mention of an evil end of spending wealth to stop people from following the true faith also includes the disbelievers of today who spend enormous wealth in the name of hospitals, educational institutions and charities only to stop people from following Islam and to attract them to their call for the false. Similarly, also included here are all those who…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–36

28. This is to dispel a misconception common among the Arabs of those days. They were generally inclined to assume that since the Quraysh were the guardians and keepers of the Ka'bah and were also engaged in worship at that holy spot, they were recipients of God's special favours. Here people are told that the defacto guardianship of the Ka'bah should not be confused with its de jure guardianship. For only the God-fearing and pious are the rightful guardians of the Ka,bah. As for the Quraysh, far from behaving in a manner becoming of the guardians of the Ka'bah, they had virtually installed…

Read the full tafseer →