Explained with ayahs 36–37
شکست خوردہ کفار کی سازشیں
قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو افیسان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی ؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چناچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ، اسی پر یہ آیت اتری کہ خرچ کرو ورنہ یہ بھی غارت جائے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
سورة الْاَنْفَال 30
اس سے بڑھ کر دیوالیہ پن اور کیا ہوسکتا ہے کہ انسان جس راہ میں اپنا تمام وقت، تمام محنت، تمام قابلیت، اور پورا سرمایہ زندگی کھپا دے اس کی انتہا پر پہنچ کر اسے معلوم ہو کہ وہ اسے سیدھی تباہی کی طرف لے آئی ہے اور اس راہ میں جو کچھ اس نے کھپایا ہے اس پر کوئی سود یا منافع پانے کے بجائے اسے الٹا جرمانہ بھگتنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →سینتیسویں آیت میں واقعات مذکورہ کے کچھ نتائج کا بیان جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے جو اموال کفار نے اسلام کے خلاف استعمال کئے اور پھر ان کو حسرت و ندامت ہوئی اور ذلیل و خوار ہوئے اس کا فائدہ یہ ہے کہ
(آیت) لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ۔ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ گندی چیز اور پاک صاف چیز میں فرق ظاہر کردیں۔ لفظ خبیث اور طیب دو متقابل لفظ ہیں۔ لفظ خبیث ناپاک، گندے اور حرام کے لئے بولا جاتا ہے اور طیب اس کے بالمقابل پاک، صاف ستھرے اور حلال کے لئے بولا جاتا ہے۔ اس جگہ ان دونوں لفظوں سے کفار کے اموال خبیثہ اور مسلمانوں کے اموال طیبہ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ کفار نے…
Read the full tafseer →لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ الایہ، یہ اس فرقان کا بیان ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ وہاں اللہ تعالیٰ سارے خبیث کو طیب سے بالکل الگ کردے گا۔ پھر خبیث کو ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ڈھیر کردے گا۔ پھر اس پورے ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے گا ، ‘ رکم ’ کے معنی کسی شے کو ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ڈھیر کرنے کے ہیں۔ کوڑے کرکٹ کو جلانا ہو تو اسکے لیے طریقہ یہی اختیار کیا جاتا ہے۔ سب کو جمع کر کے تہ بہ تہ ڈھیر کیا جاتا ہے پھر اس کو آگ دکھا دی جاتی ہے۔ تہ بہ تہ جمع کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آگ زیادہ مقدار میں ایندھن پا کر پورے زور سے بھرکتی ہے اور جمع شدہ انبار کا ہر حصہ دوسرے حصہ کو جلانے میں…
Read the full tafseer →37۔ 1 یہ علیحدگی یا تو آخرت میں ہوگی کہ اہل سعادت کو اہل بدبخت سے الگ کردیا جائے گا، جیسا کہ فرمایا۔ (وَامْتَا زُوا الْیَوْ مَ اَتُہاَ الْمُجْرِمُوْنَ) (سورت یس۔ 59) ' اے گناہ گارو ! آج الگ ہوجاؤ ' یعنی نیک لوگوں سے اور مجرموں سے یعنی کافروں، مشرکوں اور نافرمانوں کو اکٹھا کرکے سب کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یا پھر اس کا تعلق دنیا سے ہے۔ یعنی کافر اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے جو مال خرچ کر رہے ہیں، ہم ان کو ایسا کرنے کا موقع دیں گے تاکہ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ خبیث کو طیب سے، کافر کو مومن سے اور منافق کو مخلص سے الگ کردے۔ اس اعتبار سے آیت کے معنی ہونگے، کفار کے ذریعے سے ہم تمہاری آزمائش کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
21: جنگ بدر کے بعد قریش کے بچے کھچے سرداروں نے چندہ جمع کرنا شروع کیا تھا کہ اس سے ایک بڑی جنگ کی تیاری کریں۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →یہ عمل کس طرح جاری ہوگا ، یہ مال جو خرچ کیا جا رہا ہے یہ باطل کی قوتوں کو مجتمع کرتا ہے اور ان کو حق پر دست درازی کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ اور حق اس کا مقابلہ کرتا ہے اور سعی و جہد کا میدان گرم ہوتا ہے۔ حق ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اس کشمکش اور کڑوے عمل میں ہی حق و باطل کا امتیاز ہوجاتا ہے۔ اہل حق اور اہل باطل متمیز ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اسلامی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان سے بھی کمزور لوگ چھٹ جاتے ہیں اور وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو ثابت قدم ، صابر اور بہادر اور اللہ کی نصرت کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے ہی لوگ اس عظیم امانت کے اٹھانے کے قابل…
Read the full tafseer →4 موضح القرآن میں ہے کہ آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اسلام کو غالب کرے گا اس درمیان میں کافر اپنا جان و مال کا زور خرچ کرلیں گے۔ تاکہ نیک و بد جدا ہوجاوے۔ یعنی جن کی قسمت میں اسلام لکھا ہے وہ سب مسلمان ہو چکیں اور جن کو کفر پر مرنا ہے وہی اکٹھے دوزخ میں جائیں۔
5 یعنی دنیاوی و اخروی دونوں قسم کا نقصان اور خسارہ اٹھایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت 36 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔
قریش کی طرف سے لشکر کی تیاری ‘ سازو سامان کی فراہمی ‘ اسلحہ کی خریداری ‘ اونٹوں ‘ گھوڑوں اور راشن وغیرہ کا بندوبست بھی اس قسم کے انفاق فی سبیل الشیطان اور فی سبیل الشرک کی مثال ہے۔ وہ لوگ گویا شیطان کے راستے کے مجاہدین تھے اور اللہ کی مخلوق کو اس کے راستے سے روکنا ان کا مشن تھا۔
فَسَیُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ط۔
یہ خرچ کرنا ان کے لیے موجب حسرت ہوگا اور یہ پچھتاوا ان کی جانوں کا روگ بن جائے گا کہ اپنا مال بھی کھپا دیا ‘ جانیں بھی ضائع کردیں ‘ لیکن اس…
Read the full tafseer →38 یعنی اسلام کے بتدریج غلبہ اور کفر کے بتدریج استیصال سے یہ فائدہ از خود حاصل ہوتا رہا ہے کہ معاندین اسلام مرکھپ جائیں گے یا قتل ہوجائیں گے اور باقی صرف وہ لوگ رہ جائیں گے۔ جن کے نصیب میں اسلام قبول کرنا ہوگا۔ اور معاندین کے اس گندے عنصر کو اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر اس سارے ملبے کو جہنم میں پھینک دے گا۔ ان لوگوں کا نقصان اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ جس راہ میں انہوں نے اپنا تمام وقت، تمام محنت، تمام قابلیت اور پورا سرمایہ زندگی کھپا دیا ہو اور آخر میں انہیں یہ معلوم ہو کہ یہ راہ تو ہمیں تباہی اور جہنم کی طرف لے آئی ہے۔
Read the full tafseer →51 ۔ یہ معاندین کا انجام پوری وضاحت سے بتادیا ہے۔ (آیت) ” فیرکمہ “۔ میںتفسیری ہے۔ (آیت) ” لیمیز اللہ الخبیث من الطیب “۔ خبیث سے مراد کافر اور طیب سے مراد مومن ہے۔ ای المومن من الکافر (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اِنَّ الذین کفروا ینفقون اَمْوالھم لیصدّوا عن سبیل اللہ، جب مشرکین مکہ کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کے شکست خوردہ اصحاب مکہ واپس گئے ادھر ابو سفیان بھی اپنا تجارتی قافلہ لیکر مکہ پہنچ گیا تو کچھ لوگ جن کے باپ بیٹے یا بھائی اس جنگ میں مارے گئے تھے، اور ان کا مال تجارت میں بھی حصہ تھا ابوسفیان کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ ہمارا مال مسلمانوں سے انتقام لینے میں استعمال کریں مسلمانوں نے ہمیں بڑا سخت نقصان پہنچایا ہے اس لئے ان سے انتقامی جنگ ضروری ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں یا اسی کردار کے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ بیشک یہ لوگ اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکنے کے لئے اپنا مال خرچ…
Read the full tafseer →لیمیز اللہ الخبیچ من الطیب ویجعل الخبیث بعضہ علی بعض فیرکمہ جمیعًا فیجعلہ فی جھنم ط تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ان ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا کر سب کو متصل کر کے جہنم میں ڈال دے۔
ناپاک و پاک سے مراد کافر و مؤمن ہے ‘ یا بگاڑ و بناؤ اور لیمیز کے لام کا تعلق یحشرون سے ہے یا یغلبون سے۔
یا ناپاک سے مراد وہ مال ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں کفار نے صرف کیا تھا اور پاک سے مراد وہ مال ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مدد میں مسلمانوں نے صرف کیا تھا۔
یرکم یعنی باہم ملا دے (رکمٌجمع کرنا ‘ باہم ملانا) سحاب مرکوم (گھٹا ‘ تہہ بہ تہہ بادل) اسی معنی کے لحاظ سے کہا جاتا ہے۔
اولئک ھم الخسرون۔ یہی لوگ گھاٹا…
Read the full tafseer →(37) قیامت کے دن ابوجہل اور اس کی جماعت دوزخ میں جمع کیا جائے گی تاکہ کافر مومن سے اور منافق مخلص سے اور بدکار نیکو کار سے نمایاں اور ممتاز ہوجائے تاکہ سب ناپاک آدمیوں کو ایک دوسرے سے ملا کر اور جمع کرکے دوزخ میں ڈال دے ایسے ہی لوگ انجام کے اعتبار سے گھاٹے میں ہیں۔
Read the full tafseer →لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ : ناپاک کو پاک سے جدا کرنے سے مراد یا تو قیامت کے دن کفار اور مسلمانوں کو جدا جدا کرکے خبیث کفار کو تہ بہ تہ جمع کرکے جہنم میں پھینکنا ہے، یا دنیا ہی میں جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے اہل ایمان اور اہل کفر کو جدا جدا کرنے کے بعد خبیث لوگوں یعنی کفار کو تہ تیغ کرکے جہنم میں پھینکنا ہے اور یہی لوگ ہیں جو اصل خسارا اٹھانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
آیت نمبر : 35۔ 36۔ 37
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : قریش ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرتے تھے، وہ تالیاں بجاتے تھے اور سیٹیاں مارتے تھے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 627) اور یہ ان کے گمان میں عبادت تھی۔ مکاء کا معنی سیٹی مارنا ہے اور التصدیہ کا معنی تالی بجانا ہے۔ یہ حضرت مجاہد، سدی اور حضرت ابن عمر ؓ نے کہا ہے اور اسی کے مطابق عنترہ کا قول بھی ہے :
وحلیل غانیۃ ترکت مجدلا تمکو فریضتہ کشدق الاغلم (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 523 )
یعنی اس میں تمکو بمعنی تصوت ( آواز نکالنا، سیٹی مارنا کے) ہے۔ اور اسی سے مکت است الدابہ یہ تب کہا جاتا ہے جب جانور ہوا خارج کرے۔ سدی نے کہا ہے ؛ المکاء بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
1۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں سب نے اپنی سند سے زبیری محمد بن یحییٰ بن حیان عاصم بن عمر بن قتادہ اور حصین بن عبدالرحمن بن عمر سے روایت کیا کہ جب قریش کو بدر کے دن مصیبت پہنچی اور وہ مکہ کی طرف لوٹے اور ابوسفیان بھی اپنے قافلے کے ساتھ لوٹ آیا تو عبداللہ بن ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل اور صفوان بن امیہ قریش کے دیگر افراد کے ساتھ ان افراد کے پاس گئے حسن کے پاس سامان تجارت تھا اور انہوں نے کہا اے قریش کے گروہ کہ محمد ﷺ نے تم کو اذیت میں مبتلا کیا ہے اور تمہارے سرداروں کو قتل کردیا اب تم اس مال کے ساتھ مدد کرو محمد ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے شاید کہ ہم اس سے اپنے…
Read the full tafseer →[ لِيَمِيْزَ : تاکہ الگ کرے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ الْخَبِيْثَ : ناپاک کو ] [ مِنَ الطَّيِّبِ : پاکیزہ سے ] [ وَيَجْعَلَ : اور تاکہ وہ کردے ] [ الْخَبِيْثَ : ناپاک کو ] [ بَعْضَهٗ : اس کے بعض کو ] [ عَلٰي بَعْضٍ : بعض کے اوپر ] [ فَيَرْكُمَهٗ : تب وہ ڈھیر لگائے گا اس کا ] [ جَمِيْعًا : سب کے سب کا ] [ فَيَجْعَلَهٗ : تب وہ رکھے گا اس کو ] [ فِيْ جَهَنَّمَ ۭ : جہنم میں ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : ہی خسارہ پانے والے ہیں ]
ر ک م : (ن) رکما ۔ تہہ در تہہ کرنا ۔ ڈھیر لگانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 37 ۔ مرکوم ۔ اسم المفعول ہے ۔ تہہ بہ تہہ کیا ہوا ۔ یقولوا سحاب مرکوم [ تو وہ لوگ کہیں…
Read the full tafseer →لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ یہ یُحْشَرُوْنَ سے متعلق ہے مطلب یہ ہے کہ دوزخ میں اہل کفر کا داخلہ اس لیے ہوگا کہ پاک اور ناپاک یعنی مومن اور کافر میں اللہ تعالیٰ تمیز فرما دیں۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں اور اہل کفر اپنے کفر کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے۔
(وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَہٗ فِیْ جَھَنَّمَ ) (تاکہ اللہ تعالیٰ خبیث کو بعض کو بعض کے ساتھ ملا دے اور اس کو اکٹھا کر کے دوزخ میں داخل فرما دے) دنیا میں تمام اہل کفر آپس میں ایک دوسرے کے مددگار تھے۔ اسلام کے خلاف اموال خرچ کرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
تفصیل مکائکفار در ابطال دین پروردگار
قال اللہ تعالیٰ ٰ واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا قد سمعنا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ذات نبوی کے متعلق کفار کے کید اور مکر کا حال بیان فرمایا اب آئندہ آیات میں دین محمد کے بارے میں کفار کے کید ومکر کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ وہ دین اسلام کے مٹانے کے لیے کیا کیا حیلے اور بہانے تراشتے تھے اور کس طرح جان ومال سے اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت اور دشمنی کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار قریش کے تمرد اور عناد اور ان کے متکبرانہ دعاوی اور احمقانہ عادتوں کا بیان ہے اولئک ھم المخسروان۔ تک یہی مضمون چلا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
38: تخویف اخروی ہے۔ “ يُنْفِقُوْنَ ” ، “ اِنَّ ” کی خبر ہے۔ کافر اپنا مال و دولت مسلمانوں کے خلاف جنگ و قتال میں خرچ کر رہے ہیں تاکہ ان کو اللہ کے دین سے روک سکیں۔ وہ اب خرچ کر رہے ہیں جیسا کہ جنگ بدر میں خرچ کیا اور آئندہ بھی خرچ کریں گے۔ مثلاً جنگ احد وغیرہ میں۔ مگر ہر بار انہیں اپنی دولت خرچ کرنے کے بعد حسرت اور افسوس ہی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ کیونکہ ہر میدان میں وہ اپنی تمام کوششوں کے باوجود مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور ہوں گے۔ “ والمعنی ان الکفار یقصدون بنفقتھم الصد عن سبیل اللہ و غلبة المؤمنین فلا یقع الا عکس ما قصدوا وھو تندمھم و تحسرھم علی ذھاب اموالھم ثم غلبتھم والتمکن منھم اسرا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ربط آیات :
گزشتہ درس میں حضور ﷺ کے واقعہ ہجرت کی طرف اشارہ تھا جب کہ کفار مکہ آپ کو قتل کرنے کے درپے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی مخفی تدبیر کا ناکام بنا دیا ، اور حضور ﷺ کی حفاظت کے لیے ایسی مخفی تدبیر بنائی کہ آپ ان کی آنکھوں میں مٹی ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل گئے۔ گزشتہ درس ہی میں اللہ نے مشرکین کے تعصب اور عناد کا ذکر بھی فرمایا اور یہ بھی کہ یہ لوگ فوری سزا کے مستحق ہیں مگر ان کی سزا دو وجہ سے رکی ہوئی ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ کا پیغمبر ان کے درمیان موجود ہے ، اور جب تک کسی بھی قوم کا پیغمبر ان میں موجود ہوتا ہے ، وہ قوم سزا سے بچی رہتی ہے اور پھر جب پیغمبر علیحدہ ہوجاتا ہے تو قوم سزا…
Read the full tafseer →لِيَمِيْزَ اللہُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيْثَ بَعْضَہٗ عَلٰي بَعْضٍ فَيَرْكُمَہٗ جَمِيْعًا فَيَجْعَلَہٗ فِيْ جَہَنَّمَ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِــرُوْنَ 37 ۧ
ميز
المَيْزُ والتَّمْيِيزُ : الفصل بين المتشابهات، يقال : مَازَهُ يَمِيزُهُ مَيْزاً ، ومَيَّزَهُ تَمْيِيزاً ، قال تعالی: لِيَمِيزَ اللَّهُ [ الأنفال/ 37] ، وقرئ : لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ والتَّمْيِيزُ يقال تارة للفصل، وتارة للقوّة التي في الدّماغ، وبها تستنبط المعاني، ومنه يقال : فلان لا تمييز له، ويقال : انْمَازَ وامْتَازَ ، قال : وَامْتازُوا الْيَوْمَ [يس/ 59] وتَمَيَّزَ كذا مطاوعُ مَازَ.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ترکیب : ینفقون اموالہم خبر ہے ان کی لیصدوا ینفقون سے متعلق ویجعل کا۔ الخبیث مفعول الاول بعضہ اس سے بدل ‘ بدل
البعض علی بعض مفعول ثانی بواسطہ جر ای لبعض الخبیث علی بعض او بعض الخبیث غالبا علی بعض ان ینتہوا شرط یغفر جواب۔ ماقد سلف مفعول مالم یسم فاعلہ یغفر کا۔ فتنۃ اسم ہے کان تامہ کا کلہ الدین کی تاکید یہ اسم اللّٰہ خبر نعم المولیٰ مخصوص بالمدح اللہ محذوف۔
تفسیر : یہاں ان کے قابل عذاب ہونے کی ایک اور بات بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مال اللہ کے رستے سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ چناچہ بدر کی جنگ میں ابو جہل وغیرہ قریش کے مال داروں نے خدا پرستوں کے مقابلہ میں ان کفاروں کو کھانا دیتے تھے جن کو ہدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط فَسَیُنْفِقُوْنَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ 5 ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلٰی جَھَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ ۔ لا لِیَمِیْزَاللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَیَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَہٗ فِیْ جَھَنَّمَ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ ع (الانفال : 36 تا 37)
(بےشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ اپنے مال خرچ کررہے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں سوابھی وہ اور خرچ کریں گے پھر یہ ان کے لیے سرمایہ حسرت بنیں گے اور آخر مغلوب ہوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرک اور کافر فکر و عمل کے اعتبار سے گندے لوگ ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعے مومنوں اور مشرکوں کے درمیان ایک امتیاز پیدا کرنا چاہتا ہے اور قیامت کے دن اسی امتیاز کی بناء پر انھیں الگ کردیا جائے گا۔
انسان جب کفر و شرک کا وطیرہ اختیار کرلیتا ہے تو وہ فکری طور پر منتشر اور عملی طور پر خبیث اور گندا ہوجاتا ہے قرآن مجید میں عقیدۂ کفر و شرک کو شجرۂ خبیثہ کہا ہے اور شرک کے مرتکب شخص کو نجس قرار دیا ہے۔ (ابراہیم : 26)
عربی میں گندی، پلید اور بری چیز کو خبیث کہا جاتا ہے۔ شیطان ہر قسم کی خباثت کا منبع ہے اس بنا پر اس کا دوسرا نام خبیث ہے۔ خبیث کے…
Read the full tafseer →مومن و کافر میں امتیاز ہوگا :
آیت 37: لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ (تاکہ اللہ ناپاک کو الگ کر دے) خبیث کفار کا گروپ مِنَ الطَّیِّبِ (پاک سے) ایمان والوں کی جماعت۔
نحو : لِیَمِیْزَ کا لام یُحْشَرُوْنَ سے متعلق ہے۔
قراءت : حمزہ وعلی نے لِیُمَیِّزَ پڑھا ہے۔ وَیَجْعَلَ الْخَبِیْثَ (اور ملا دے ناپاکوں کو) خبیث گروہ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہٗ جَمِیْعًا ( ایک دوسرے سے ان سب کو جمع کر دے) پس ان کو جمع کرے گا۔ فَیَجْعَلَہٗ فِیْ جَھَنَّمَ (پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے) فریق خبیث کو اُولٰٓپکَ ( ایسے لوگ) یہ اشارہ فریق خبیث کی طرف ہے۔ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ( وہی پورے خسارے میں ہیں) اپنے نفوس و…
Read the full tafseer →تفسیر 37 (لیمیز اللہ الخبیب من الطیب) یعنی کافر کو مئومن سے ۔ پس مئومن کو جنت اور کافر کو آگ میں ٹھکانہ دے گا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ناپاک عمل کو پاک عمل سے جدا کر دے ۔ پس نیک اعمال پر جنت اور ناپاک اعمال پر جہنم دے گا اور بعض نے کہا شیطان کے راستے میں ناپاک خرچ کو اللہ کے راستے میں پاک خرچ سے جدا کر دے۔ (ویجعل الخبیب بعضہ علی بعض فیرکمہ جمیعاً ) یعنی اس کو جمع کر دے اسی سے السحاب المرکوم ہے گھنے بادلوں کے جھنڈ کو کہتے ہیں۔ (فیجعلہ فی جھنم و اولئک ھم الخسرون)
اس کو اپنے قول (ان الذین کفروا ینفقون اموالھم … اولئک ھم الخاسرون ) کی طرف لوٹایا ہے جن کی تجارت خسارہ میں پڑگئی۔ ان اپنے اموال سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 37 تفسیر سدی اور مغازی محمد بن اسحاق وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین چندہ کر کے اور اپنے طور پر ایسے کاموں میں اپنا روپیہ خرچ کرتے تھے جن کاموں سے انہیں مسلمان کو حرج پہنچانا اور ان کا زور گھٹانا منظور ہوتا تھا مثلا جب بدر کی لڑائی میں ابوجہل مارا گیا تو عکرمہ ابوجہل کے بیٹے نے شام کی تجارت کا اپنے حصہ کا روپیہ ابوسفیان کے حوالہ کیا تھا کہ مسلمانوں سے اس کے باپ کے قتل کا بدلہ لیا جاوے اور ابوسفیان نے اپنا روپیہ خرچ کر کے احد کی لڑائی میں حبشی لوگ مسلمانوں سے لڑنے کے لئے نوکر رکھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ اس روپیہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 37
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکرو فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لئے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انہی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ (ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبل اللہ) ” کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستی سے روکیں “ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمٰن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
قوم کو پیغمبر کی موجودگی میں عذاب الٰہی نہیں ہوتا
قول باری ہے وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون۔ اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہیں تھا جب کہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ یہ اللہ کا باقاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے) یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسا عذاب دینے والا نہیں تھا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا جبکہ حضور ﷺ کے درمیان موجود ہوتے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تھا اس لئے آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے انہیں عذاب نہیں دیا جائے گا جب آپ ﷺ ان کے یعنی اہل مکہ کے درمیان سے نکل جائیں گے تو یہ لوگ عذاب کے مستحق قرار…
Read the full tafseer →65 ناپاک کو پاک سے الگ کرنے کے مقصد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا اس لیے کیا جائے گا کہ تاکہ اللہ جدا کردے ناپاکوں کو پاکوں سے۔ عملی طور پر اس طرح کہ ناپاکوں کو ان کے اپنے کئے کرائے کے باعث دوزخ میں جھونک دے اور پاکوں کو وہ اپنے فضل و کرم سے نعمتوں سے بھری جنت میں داخل فرما دے تاکہ ہر کوئی اپنے کئے کا بھرپور صلہ و بدلہ پا سکے۔ ۔ فَوَفِّقْنَا اللّٰہُمَّ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی حَتَّی نَحْظٰی وَنَتَشَرَّفَ بِنَعِیْمِ جَنَّتِکَ وَمَرْضَاتِکَ ۔ اور طیب و خبیث یعنی پاکوں اور ناپاکوں کے درمیان یہ نسبت وتمیز آخرت کے اس جہاں میں کامل اور اس کی حقیقی شکل میں ہوگی تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
مشرکین مکہ کے بڑے بڑے گناہ
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو کفار کے غلط طریقے اور غلط خیال کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح کہ انہوں نے نیک اور عبادت گزار لوگوں کو خانہ کعبہ میں عبادت کرنے سے منع کیا، یعنی وہ سمجھتے تھے کہ وہی خانہ کعبہ کے متولی ہیں اور ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہاں تو صرف پاکباز لوگ ہی عبادت کرسکتے ہیں۔ ان کی عبادت کا طریقہ تو سو فیصد غلط اور بےہودہ تھا وہ اس طرح کہ خانہ کعبہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے اور خانہ کعبہ کا طواف یوں کرتے کہ سیٹیاں بجاتے تالیاں پیٹتے اور برہنہ ہو کر طواف کرتے۔
دوسری بہت بڑی غلطی جو انہوں نے کی وہ مال خرچ کرنے کا غلط طریقہ اختیار کیا۔ وہ اس طرح کہ اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
آیات 29 تا 37
اسرار و معارف
تقوی کے ثمرات
اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی کافر کو مومن سے یا بدبخت کو نیک بخت سے یا شیطان کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال سے ،۔
Read the full tafseer →(8:37) فیرکمہ۔ رکوم۔ مصدر سے مضارع واحد مذکر غائب۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ باب نصر۔ ہ ضمیر الخبیث کی طرف راجع ہے۔ الخبیث یہاں اسم جنس ہے ۔ یعنی خبیثون کا گروہ۔ خبیث لوگ۔
فیجعلہ۔ پھر ڈال دے اس جنس خبیث کو۔ اولئک۔ الفریق الخبیث۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
آیات : 34 تا 40
لغات القرآن۔
مکاء۔ سیٹیاں۔ تصدیۃ۔ (صدی) ۔ تالیاں بجانا۔ لیصدوا۔ تاکہ وہ روک دیں۔ لیمیز۔ (یمیز) تاکہ وہ الگ الگ کردے۔ الخبیث۔ گندگی۔ الطیب۔ پاکیزگی۔ یرکم۔ (رحکم) ۔ وہ ڈھیر بنا دے گا۔ گٹھا بنا دے گا۔ ان ینتھوا۔ اور اگر وہ رک جائیں۔ سلف۔ گزر گیا۔ ان یعودوا۔ اور اگر وہ پلٹ جائیں۔ مضت۔ گزر گئی۔ سنت الاولین۔ پہلے لوگوں کا طریقہ۔ مولی۔ ستھی۔ نعم المولیٰ ۔ بہترین ساتھی۔ نعم النصیر۔ بہترین مددگار۔
تشریح : قریش مکہ نے خیر مانگے کے بجائے اللہ سے یہ مانگا کہ ان پر پتھروں کی بارش کردی جائے یا درد ناک عذاب بھیج دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بدر کے میدان میں زبردست شکست تمہارے لئے اس…
Read the full tafseer →مشرکین کا انجام
اس آیت میں کفار کا حال بیان کیا کہ یہ لوگ باوجود اس کے کہ شکست پر شکست کھاتے گئے، پھر بھی اپنے کفر پر جمے رہے۔ دنیا میں جو کچھ ان کے مال اور جان کا نقصان ہوا۔ وہ تو ہوا ہی مگر آخرت میں بھی ان کے واسطے نقصان ہی ہے۔ یہ سب کے سب دوزخ کو ہانکے جاویں گے، اور پاک کا جدا کرنا ناپاک سے یہ ہے کہ فتح مکہ تک ان میں کے جو لوگ شرک کی ناپاکی کو ساتھ لے کر دنیا سے اٹھ گئے وہ دوزخی ہوئے، اور جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے وہ پچھلی سب ناپاکیوں سے پاک ہوگئے۔ پھر فرمایا کہ جو مال ان کفار نے اللہ کے رسول کی عداوت میں خرچ کیا ہے اس مال خبیث کو اس پاک مال سے جس کو مومنین نے آنحضرت ﷺ کی مدد کے لئے صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
(ف 3) یعنی مکہ والے پوری قوت کے ساتھ اسلام کے خلاف صف آراء ہوں ، انجام کار انہیں شکست ہوگئی ، کیونکہ فتح و کامرانی کے لئے روپیہ کی ضرورت نہیں ، دولت ایمان کی احتیاج ہے ، مدرسے شکست کھا کر ان لوگوں نے آئندہ کے لئے تیاریاں کیں ، امراء نے مالی امداد دی قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ یہ مال و دولت جو اسلام کی مخالفت میں جمع کیا جا رہا ہے ان کے لئے بالآخر حسرت وندامت کا باعث ہوگا ۔
حل لغات :
مکآئ : پرندے کی آواز ، سیٹی بجانا ۔
تصدیۃ : صدی سے ہے یعنی ہاتھ پر ہاتھ مارنا یعنی تالی بجانا ۔
Read the full tafseer →37 تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک لوگوں کو پاک لوگوں سے الگ کردے پھر ناپاکوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر ان کا ڈھیر بنائے اور اس ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ پورے خسارے میں ہوں گے اور یہی لوگ ہر قسم کا نقصان اٹھانے والے ہیں۔ یعی جب اہل جہنم کو جہنم کی طرف لے جائیں گے تو اہل جنت ان سے جدا ہوجائیں گے پھر سب اہل جہنم کو ملاجلاکر جہنم کے سپرد کردیا جائے گا اور اس طرح ناپاک اور پاک میں امتیاز ہوجائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آہستہ آہستہ اللہ اسلام کو غالب کرے گا اسی بیچ میں کافر اپنا زور جان اور مال کا خرچ کرلیں گے تانیک اور بد جدا ہوجاوے یعنی جن کی قسمت میں اسلام لکھا ہے وہ سب مسلمان ہوچکیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 5۔ چناچہ نبی ﷺ کے مقابلہ اور مخالفت کے سامان جمع کرنے میں ظاہر ہے کہ جو خرچ ہوتا تھا اس میں یہی غرض تھی۔
Read the full tafseer →نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ پاک کو ناپاک سے الگ کردیا جائے گا :
50: گزشتہ آیات کریمات کا نتیجہ زیر نظر آیت میں بیان فرمادیا گیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے جو اموال کفار نے اسلام کے خلاف استعمال کئے اور پھر ان کو حسرت و ندامت ہوئی اور وہ ذلیل و خوار ہوئے اس کا فائدہ کیا رہا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ فرمایا اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اللہ نے ناپاک اور پاک کو الگ الگ کردیا اس طرح خبیث و طیب کا فرق بھی واضح ہوگیا اور خود انسانوں میں اس کی تقسیم سے دونوں طرح کے انسان الگ الگ کر کے رکھ دیئے گئے اور یہ تقسیم قیامت کو واضح دکھائی دے گی۔ فرمایا پھر خبیث کو ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ڈھیر کردیا جائے گا اور پھر اس…
Read the full tafseer →Verse 37 describes some consequences of the events mentioned earlier which, in a nutshell, are that the disbelievers used their wealth against Islam, then they were bitten by remorse and were utterly disgraced. This series of happenings had its own advantages which find mention in the opening sentence of this verse: لِيَمِيزَ اللَّـهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ (so that Allah separates the impure from the pure).
The two words, الْخَبِيثَ (al-khabith: impure) and الطَّيِّبِ (at-tayyib : pure), stand in contrast to each other. The word, الْخَبِيثَ al-khabith, is used to refer to that which is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
30. What can be more calamitous than a person's discovery at the end of the road that all the time, energy, ability and the very quintessence of his life which he has devoted has driven him straight to his utter ruin; that his investments far from yielding any interest or dividend will require from him the payment of a grievous penalty instead.
Read the full tafseer →