Al-Anfaal 8:35

Al-Anfaal · from ayah 35

8:35

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّتَصْدِیَةً ؕ— فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ۟وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمۡ عِنۡدَ الۡبَيۡتِ اِلَّا مُكَآءً وَّتَصۡدِيَةً‌  ؕ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ‏

اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And their prayer at the House was not except whistling and handclapping. So taste the punishment for what you disbelieved.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 4 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:35

بیت اللہ کے پاس ان لوگوں کی نماز کیا ہوتی ہے، بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں پس اب لو، اِس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اُس انکارِ حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ سو اپنے کفر کے سبب اس عذاب کا مزه چکھو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ لہذا (اے کافرو) جو کافرانہ باتیں تم کرتے رہے ہو ان کی وجہ سے اب عذاب کا مزہ چکھو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیت اللہ (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس ان کی (نام نہاد) نماز سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، سو تم عذاب (کا مزہ) چکھو اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کی نماز اس گھر کے پاس سیٹیاں بجانے اور تالیاں بجانے کے سوا کبھی کچھ نہیں ہوتی۔ سو عذاب چکھو اس وجہ سے جو تم کفر کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بیت اللہ میں ان لوگوں کی نماز بس یہی ہوتی کہ وہ سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے تھے۔ تو لو اب (بدر میں شکست) عذاب کا مزا چکھو۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو تم حق کا انکار کردیا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیت اللہ کے سامنے ان کی نماز سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ تو چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور خود ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سیٹیاں بجانے، اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتی، سو اب چکھو تم لوگ عذاب اپنے اس کفر کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (خود) ان کی نماز (ہی) خانہ (کعبہ) کے پاس کیا تھی بجز سیٹی بجانے اور تالی بجانے کے سو عذاب (کامزہ) چکھو اپنے کفر کی پاداش میں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سوائے سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا تو اب چکھو مزہ عذاب کا اپنے کفر کی پاداش میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Their Prayer at the House is nothing but whistling and handclapping. Taste, then, this chastisement for your denying the truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And their prayer near the House was not more than whistling and clapping. So, taste the punishment, because you used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani

And their prayer near the House was not more than whistling and clapping. So, taste the punishment, because you used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Their Salah at the House was nothing but Muka' and Tasdiyah. Therefore taste the punishment because you used to disbelieve.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And their worship at the (holy) House is naught but whistling and hand-clapping. Therefore (it is said unto them): Taste of the doom because ye disbelieve.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And their prayer at the House was not except whistling and handclapping. So taste the punishment for what you disbelieved.

— Saheeh International

Their (unbelievers) prayer at the mosque is nothing but whistling and clapping of hands. We shall tell them, "Suffer torment for your disbelief."

— Muhammad Sarwar

And their prayer before the House is nothing but whistling and clapping of hands; taste then the chastisement, for you disbelieved.

— Muhammad Habib Shakir

And naught was their prayer at the House but whistling and hand-clapping. Taste then the torment for ye were to disbelieve.

— Abdul Majid Daryabadi

Their prayer at the House (of Allah) is nothing but whistling and clapping of hands: (Its only answer can be), "Taste ye the penalty because ye blasphemed."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–35

ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن آنحضرت ﷺ کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چناچہ آپ کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کردیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چناچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے ھم الذین کفروا الخ، یعنی یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 35–36

سورة الْاَنْفَال 28 یہ اشارہ اس غلط فہمی کی تردید میں ہے جو لوگوں کے دلوں میں چھپی ہوئی تھی اور جس سے عام طور پر اہل عرب دھوکا کھا رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قریش چونکہ بیت اللہ کے مجاور اور متولی ہیں اور وہاں عبادت بجا لاتے ہیں اس لیے ان پر اللہ کا فضل ہے۔ اس کے رد میں فرمایا کہ محض میراث میں مجاورت اور تولیت پالینے سے کوئی شخص یا گروہ کسی عبادت گاہ کا جائز مجاور ومتولی نہیں ہوسکتا۔ جائز مجاور و متولی تو صرف خدا ترس اور پرہیزگار لوگ ہی ہو سکتے ہیں۔ اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ ایک جماعت کو، جو خالص خدا کی عبادت کرنے والی ہے، اس عبادت گاہ میں آنے سے روکتے ہیں جو خا لص خدا کی عبادت ہی کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسرا جرم ان لوگوں کا یہ بتلایا کہ کفر و شرک کی گندگی تو تھی ہی ان کے افعال و اعمال تو عام انسانی سطح سے بھی گرے ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے جس فعل کا نام نماز رکھتے ہیں وہ بجز اس کے نہیں کہ اس میں کچھ منہ سے سیٹیاں بجائیں کچھ ہاتھوں سے تالیاں اور یہ ظاہر ہے کہ جس کو ذرا بھی عقل ہو وہ ان افعال کو عبادت و نماز کیا کوئی صحیح انسانی فعل بھی نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۔ یعنی تمہارے کفر اور جرائم کا انجام یہی ہے کہ اب اللہ کا عذاب چکھو۔ عذاب سے اس جگہ عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے اور عذاب دنیا بھی جو غزوہ بدر میں مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَاۗءً وَّتَصْدِيَةً ۭ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۔ یہ ایک مثال بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ نہ یہ خانہ کعبہ کی تولیت کے اہل ہیں نہ انہیں اس گھر کے مقصد تعمیر کا کچھ پتا ہے۔ خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم نے جس مقصد کے لیے کی تھی اس کا ذکر سورة بقرہ میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں سورة ابراہیم کی مندرجہ ذیل آیات پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ . رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

35۔ 1 مشرکین جس طرح بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے، اسی طرح طواف کے دوران وہ انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹیاں اور ہاتھوں سے تالیاں بجاتے۔ اس کو بھی وہ عبادت اور نیکی تصور کرتے تھے۔ جس طرح آج بھی جاہل صوفی مسجدوں اور آستانوں میں رقص کرتے، ڈھول پیٹتے اور دھمالیں ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں۔ یہی ہماری نماز اور عبادت ہے۔ ناچ ناچ کر ہم اپنے یار (اللہ) کو منالیں گے۔ نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–35

20: یعنی اگرچہ مذکورہ بالا دو وجہ سے ان پر دنیا میں کوئی عام عذاب تو نہیں آیا مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق نہیں ہیں، واقعہ یہ ہے کہ کفر وشرک کے علاوہ ان کی ایک خرابی یہ ہے کہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں، جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کے واقعے میں پیچھے گزرچکا (دیکھئے اس سورت کا ابتدائی تعارف) لہذا جب آنحضرت ﷺ اور دوسرے صحابہ مکہ مکرمہ سے نکل جائیں گے تو ان پر جزوی عذاب آئے گا، جو بعد میں فتح مکہ کی صورت میں سامنے آیا اور پھر آخرت میں ان کو مکمل عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ لوگ ، اگرچہ اس گھر میں اپنی نماز پڑھتے ہیں۔ اس گھر کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں۔ پھر ان کی نماز ہی کیا ہے ؟ سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ ایسا شور و شغب اور ہائے ہو جس میں کوئی متانت اور سنجیدگی نہیں ہے نہ اس گھر کے احترام کا شعور ہے اور نہ اس میں اللہ کے تقدس اور کبریائی کا کچھ احساس ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہ لوگ اپنی گالوں کو زمین پر رکھتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔ اور اس سے عالم اسلام ، نام نہاد عالم اسلام کی وہ تصویر ذہن میں آجاتی ہے جس میں لوگ آستانوں پر گاتے بجاتے ہیں ، شور شغب کرتے ہیں اور اللہ ہو کے نعرے لگاتے ہیں اور قبروں کی چوکھٹوں پر چہرے رگڑتے ہیں۔ غرض یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی حقیقی نمازیوں کو مسجد سے روکتے ہیں اور خود ان کی نماز کیا ہے ؟ کعبہ کا برہنہ ہو کر طواف کرنا اور ذکر اللہ کی جگہ سیٹیاں اور تالیاں بجانا مسلمانوں کی عبادت میں خلل ڈالنے کے لیے ہوتا تھا یا از راہ استہزاء تمسخر ایسا کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 35 وَمَا کَانَ صَلاَتُہُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ الاَّ مُکَآءً وَّتَصْدِیَۃً ط۔ قریش مکہ نے اپنی عبادات کا حلیہ اس طرح بگاڑا تھا کہ اپنی نماز میں سیٹیوں اور تالیوں جیسی خرافات بھی شامل کر رکھی تھیں۔ اسی طرح خانہ کعبہ کا سب سے اعلیٰ طواف ان کے نزدیک وہ تھا جو بالکل برہنہ ہو کر کیا جاتا۔ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ یہاں واضح کردیا گیا کہ اللہ کا عذاب صرف آسمان سے پتھروں کی صورت ہی میں نہیں آیا کرتا بلکہ غزوۂ بدر میں ان کی فیصلہ کن شکست ان کے حق میں اللہ کا عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 کفار مکہ کی عبادت بیت اللہ :۔ ان مشرک متولیوں کی بیت اللہ کے اندر عبادت کے بھی عجیب اطوار ہیں جو ننگے ہو کر طواف کرتے ہیں اور سیٹیاں اور تالیاں بجا کر جو اپنی تفریح طبع کا سامان کرتے ہیں۔ اس کا نام انہوں نے عبادت رکھ لیا۔ پھر اس پر دعویٰ یہ کہ اگر مسلمانوں کا دین سچا ہے تو ہم پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا غالباً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عذاب صرف آسمان سے پتھروں کی شکل میں یا خوفناک چیخ یا زبردست زلزلہ وغیرہ کی صورت میں ہی آیا کرتا ہے جو خرق عادت کے طور پر واقع ہو۔ حالانکہ غزوہ بدر میں ان کی شکست فاش اللہ کا ایسا عذاب تھا جس نے کفر اور کافروں کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ انہوں نے جنگ پر اصرار تو محض اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

49 ۔ (چنانچہ اس وعید کے مطابق عذاب غیر خارق عادت غزوات نبوی کی شکل میں مسلمانوں کے ہاتھوں ان کافروں پر نازل ہو کر رہو (آیت) ” وما کان۔۔۔ تصدیۃ “۔ یہاں مشرکوں کی عبادت کی تحلیل کرکے بتایا ہے کہ بجز اس کے کہ منہ سے سیٹیاں بجائیں اور ہاتھ سے تالیاں، اور ان کی عبادت تھی ہی کیا ؟ خوب غور کرکے دیکھ لیاجائے کہ آج بھی عبادت کے جو غیر اسلامی اور جاہلی طریقے چلے ہوئے ہیں ان کا جزء اعظم یہی باجا گاجا، تالیاں اور سیٹیاں ہیں یا نہیں ؟ فقہاء ومفسرین نے لکھا ہے کہ ان میں ان جاہل صوفیہ کے لیے بھی وعید ہے جو وجدوحال لاکراچھلتے کودتے، تالیاں بجاتے اور ناچتے ہیں۔ اور اسے کوئی کمال روحانی سمجھتے ہیں، یہ صاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 34–35

وَما لَھُمْ اَلَّا یُعذ بھم اللہ، جب آپ مکہ مکرمہ میں تشریف رکھتے تھے تو یہ آیت اتری تھی وَمَا کان اللہ لیعذبھم وَاَنْتَ فیھم، یعنی جب تک اللہ کا رسول ان میں ہے اللہ ان پر عذاب نازل نہ کرے گا، اور جب آپ مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے تشریف لے آئے تو یہ آیت اتری وما کان اللہ لیعذبھم یستغفرون، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ان کفار پر عذاب نازل نہیں کرے گا کیونکہ کچھ لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جو استغفار کرتے ہیں یہ وہ ضعفاء مسلمین تھے جو مکہ میں مجبورًا رہ گئے تھے، جب یہ لوگ بھی مکہ سے رفتہ رفتہ نکل گئے تو یہ آیت '' وَمَا لھم اَلَّا یعذبھم اللہ '' الخ نازل ہوئی، جس میں فرمایا، اب کیوں نہ اللہ ان پر عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان صلاتھم عند البیت الا مکاءً وتصدیۃً ط اور کعبہ کے پاس ان کی نماز صرف سیٹیاں اور تالیاں بجانا ہوتی ہے۔ صلٰوۃ سے مراد دعا ہے ‘ یا وہ عبادت مراد ہے جس کو مشرک نماز کہتے تھے۔ مُکاء کا ترجمہ حضرت ابن عباس اور حسن نے سیٹی کیا ہے۔ اصل میں مکاء اس سفید پرندہ کو کہا جاتا تھا جس کی آواز سیٹی کی طرح ہوتی تھی ‘ یہ پرندہ حجاز میں ہوتا تھا۔ اس معنی کے لحاظ سے آیت میں مکاء سے مراد مکاء کی آواز ہوگی۔ تصدیۃ کا معنی تالی بجانا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر کیا کرتے تھے اور طواف کی حالت میں سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔ واحدی نے حضرت ابن عمر کی طرف بھی اس بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(35) اور ان کی عبادت، خانہ کعبہ کے پاس صرف یہ تھی کہ سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا، لہٰذا رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہونے کے سبب بدر کے دن مزہ چکھو۔ شان نزول : (آیت) وما کان صلاتہم عند البیت“۔ (الخ) واحدی ؒ نے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ کافر لوگ بیت اللہ شریف کے طواف کے وقت سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے، اس پر یہ آیت اتری اور ابن جریر ؒ نے سعید ؒ سے روایت کیا ہے کہ قریش رسول اکرم ﷺ کو طواف میں پریشان کرتے تھے، اور آپ کا مذاق اڑاتے اور سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے اس پر یہ آیت اتری ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَاۗءً وَّتَصْدِيَةً : (مُكَاۗءً) مَکَا یَمْکُوْ مَکْوًا وَ مُکَاءً“ سیٹی بجانا اور ”وَّتَصْدِيَةً“ ”صَدّٰی یُصَدِّیْ تَصْدِیَۃً“ (تفعیل) تالیاں بجانا۔ یعنی وہ لوگ کعبہ کے پاس عین حرم میں تالیاں پیٹتے اور سیٹیاں بجاتے اور اسے اپنی نماز، اللہ کی عبادت اور اس کے قرب کا ذریعہ قرار دیتے۔ افسوس کہ اب مسلمانوں نے بھی نمازیں اور قرآن چھوڑ کر عاشقانہ اشعار، سیٹیوں اور تالیوں کے مجموعے قوالی کو طریقت و معرفت کا نام دے کر روح کی غذا قرار دے رکھا ہے۔ بیشمار لوگ اسے تصوف کا اہم رکن قرار دے کر صرف سیٹیوں اور تالیوں ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ باقاعدہ مرشد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 35–37

آیت نمبر : 35۔ 36۔ 37 حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : قریش ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرتے تھے، وہ تالیاں بجاتے تھے اور سیٹیاں مارتے تھے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 627) اور یہ ان کے گمان میں عبادت تھی۔ مکاء کا معنی سیٹی مارنا ہے اور التصدیہ کا معنی تالی بجانا ہے۔ یہ حضرت مجاہد، سدی اور حضرت ابن عمر ؓ نے کہا ہے اور اسی کے مطابق عنترہ کا قول بھی ہے : وحلیل غانیۃ ترکت مجدلا تمکو فریضتہ کشدق الاغلم (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 523 ) یعنی اس میں تمکو بمعنی تصوت ( آواز نکالنا، سیٹی مارنا کے) ہے۔ اور اسی سے مکت است الدابہ یہ تب کہا جاتا ہے جب جانور ہوا خارج کرے۔ سدی نے کہا ہے ؛ المکاء بمعنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ قریش طواف میں نبی کریم ﷺ سے بدتمیزی کرتے تھے۔ مذاق اڑاتے تھے سیٹیاں بجاتے تھے اور تالیاں بجاتے تھے اور تالیاں پیٹتے تھے تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت) ” وما کان صلاتہم عند البیت الا مکاء وتصدیۃ۔ “ 2:۔ ابو الشیخ نے نبی ط ؓ سے روایت کیا کہ جو صحابہ ؓ میں سے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس قول (آیت) ” وما کان صلاتہم عند البیت “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام ؓ بیت الحرام کا طواف کررہے ہوتے تھے جبکہ قریش سیٹیاں بجاتے تھے۔ 3:۔ ابان ابی حاتم وابوالشیخ، ابن مدویہ والضیاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ (یعنی مشرکین) بیت اللہ کا ننگے طواف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَا كَانَ : اور نہیں تھی ] [ صَلَاتُهُمْ : ان کی نماز ] [ عِنْدَ الْبَيْتِ : اس گھر کے پاس ] [ اِلَّا : مگر ] [ مُكَاۗءً : سیٹی بجانا ] [ وَّتَصْدِيَةً ۭ : اور تالی پٹینا ] [ فَذُوْقُوا : پس تم لوگ چکھو ] [ الْعَذَابَ : اس عذاب کو ] [ بِمَا : بہ سبب اس کے جو ] [ كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ : تم لوگ کفر کرتے تھے ] م ک و : (ن) مکاء ۔ منہ سے سیٹی بجانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 35 ۔ ص د و : (ن) ۔ صدوا (1) کسی چیز کا لمبا ہونا ۔ (2) تالی بجانا ۔ (تفعیل ) تصدیۃ دونوں ہاتھوں سے تالی پٹینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 35 ۔ (تفعل ) تصدی کسی کی طرف متوجہ ہونا ۔ فانت لہ تصدی [ تو آپ اس کے لیے متوجہ ہوئے ] ۔ 80:6 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–35

مشرکین کی عبادت یہ تھی کہ بیت اللہ کے قریب سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے تھے گزشتہ آیت میں یہ بتایا تھا کہ نبی کریم ﷺ کے تشریف فرما ہوتے ہوئے اور اہل مکہ کے استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا اور اس آیت میں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب کیوں نہ دے حالانکہ ان کی حرکتیں ایسی ہیں جو سزا کی مقتضی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا اور وہاں عبادت و طواف کرنے سے روک دیا پھر جب 6 ہجری میں آپ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تو مسجد حرام تک نہ پہنچنے دیا اور عمرہ نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–37

تفصیل مکائکفار در ابطال دین پروردگار قال اللہ تعالیٰ ٰ واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا قد سمعنا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ذات نبوی کے متعلق کفار کے کید اور مکر کا حال بیان فرمایا اب آئندہ آیات میں دین محمد کے بارے میں کفار کے کید ومکر کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ وہ دین اسلام کے مٹانے کے لیے کیا کیا حیلے اور بہانے تراشتے تھے اور کس طرح جان ومال سے اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت اور دشمنی کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار قریش کے تمرد اور عناد اور ان کے متکبرانہ دعاوی اور احمقانہ عادتوں کا بیان ہے اولئک ھم المخسروان۔ تک یہی مضمون چلا گیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

37: یہ کفار مکہ کو عذاب دینے کی دوسری وجہ۔ ہے۔ “ مُکَاءً ” سیٹی بجانا۔ “ تَصْدِيَة ” تالی بجانا۔ یعنی جو اصلی اور صحیح معنوں میں نمازی ہیں ان کو تو خدا کے گھر سے روکتے ہیں اور اپنا حال یہ ہے کہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور اللہ کے ذکر کی جگہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ہیں۔ چونکہ وہ عذاب کے مستحق ہوچکے تھے اور مکہ معظمہ میں ان پر عذاب نازل کرنے میں موانع تھے۔ اس لیے ہم نے ان کو مکہ سے نکالا اور میدان بدر میں ان کو المناک اور ذلت آمیرز عذاب (قتل اور قید و بند) میں مبتلا کردیا اور فرمایا یہ تمہارے کفر و تمرد اور عناد کی سزا ہے۔ اب اسے چکھو “ اي عذاب القتل والاسر یوم بدر ” (روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 35–37

ربط آیات : گزشتہ درس میں حضور ﷺ کے واقعہ ہجرت کی طرف اشارہ تھا جب کہ کفار مکہ آپ کو قتل کرنے کے درپے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی مخفی تدبیر کا ناکام بنا دیا ، اور حضور ﷺ کی حفاظت کے لیے ایسی مخفی تدبیر بنائی کہ آپ ان کی آنکھوں میں مٹی ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل گئے۔ گزشتہ درس ہی میں اللہ نے مشرکین کے تعصب اور عناد کا ذکر بھی فرمایا اور یہ بھی کہ یہ لوگ فوری سزا کے مستحق ہیں مگر ان کی سزا دو وجہ سے رکی ہوئی ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ کا پیغمبر ان کے درمیان موجود ہے ، اور جب تک کسی بھی قوم کا پیغمبر ان میں موجود ہوتا ہے ، وہ قوم سزا سے بچی رہتی ہے اور پھر جب پیغمبر علیحدہ ہوجاتا ہے تو قوم سزا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ صَلَاتُہُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَاۗءً وَّتَصْدِيَۃً۝ 0 ۭ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۝ 35 صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–35

ترکیب : واذیمکر اور اذ قالوا کا عامل عامہ مفسرین کے نزدیک اذکر ہے والا رجح ماذکرنا فی مقدمۃ تفسیر نا۔ واذ شرط قالوا جواب شرط۔ ان شرطیہ ھذا کان کا اسم الحق خبر ہے دونوں میں فاصل من عندک الحق کی صفت فامطر الی عذاب الیم جواب شرط مجموعہ مقولہ ہے قالوا کا۔ اللہم نداء ای یا اللہ۔ ان لایعذبہم ای فی ان لا یعذبھم فھو فی موضع نصب اوجر۔ صلاتہم جمہور صلوۃ کو بالرفع اور مکاء کو بالنصب پڑھتے ہیں اور اعمش بالعکس پڑھتے ہیں۔ مکاء کی ہمزہ و سے بدل ہے من مکایمکو 1 ؎۔ تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے قیام مکہ کی چند باتیں یاد دلاتا ہے جو مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں کہ ہم نے تم کو ان حوادث…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَاکَانَ صَلَا تُھُمْ عِنْدَالْبَیْتِ اِلَّا مُکَآئً وَّتَصْدِیَۃً ط فَذُوْقُوْا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ ( الانفال : 35 ) (نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ کے پاس مگر سیٹی بجانا اور تالیاں پیٹنا تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں۔ ) تمہاری بیخبر ی کا عالم تو یہ ہے کہ تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا کیا دعائیں مانگی تھیں اور اس میں بطور خاص اقامتِ صلوٰۃ کی جو دعا مانگی تھی اس کی شکل و صورت اور اس کا مفہوم کیا تھا ؟ قرآن کریم نے سورة ابراہیم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعائوں کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے : وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–35

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرکین مکہ نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر اپنے لیے عذاب کی دعا کی جس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ انھیں عذاب نہ دینے کی و جہ یہ ہے کہ ہمارا رسول ﷺ اور اس کے استغفار کرنے والے ساتھی یہاں موجود ہیں۔ حالانکہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ کیونکہ یہ مسجد حرام میں توحید کی دعوت دینے سے روکتے ہیں۔ جب کہ بیت اللہ کی بناء کا مقصد ہی اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کی توحید کا پرچار ہے۔ لیکن یہ بیت اللہ کی تولیت کے زعم میں آکر اپنے اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں جبکہ مسجد کی تولیت کا مطلب صرف اس کی خدمت کرنا ہے۔ یہ لوگ اپنے عقیدہ اور کردار کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مشرکین کی نماز : آیت 35: وَمَا کَانَ صَلَا تُھُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُکَآئً (ان کی نماز تو خانہ کعبہ کے پاس صرف سیٹیاں تھی) مکاء پر ندے جیسی آواز یہ خوبصورت آواز والا پرندہ ہے اس کا وزن فعال ہے مکا، یمکو سیٹی بجانا۔ وَّ تَصْدِیَۃً (اور تالیاں بجانا) تالی بجانا۔ یہ تفعلۃ کا وزن الصدٰی سے ہے۔ واقعہ اس طرح ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف ننگا کرتے وہ دوران طواف اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈال کر آواز نکالتے اور تالیاں بجاتے اور رسول ﷺ جب نماز ادا فرما رہے ہوتے تو اس وقت بھی یہ حرکات کرتے تاکہ نماز میں خلل ڈالیں۔ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ (پس اس عذاب کا مزہ چکھو) قتل اور بدر کے دن قید کا عذاب بِمَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

الا مکاء و تصدیۃ کی تفسیر تفسیر 35(وما کان صلاتھم عند البیت الا مکآء و تصدیۃ) ابن عباس ؓ اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مکاء بمعنی سیٹی لغت میں، مکاء سفید رنگ کے پرندے کو کہتے ہیں جو حجاز میں پایا جاتا ہے اور اس کے لئے سیٹی جیسی آواز ہوتی ہے۔ گویا کہ کہا ہے سیٹیوں کی آوازیں ” تصدیۃ ‘ بمعنی تالی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قریش بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے اور بیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بنو عبدالدار کا ہر آدمی جب طواف میں نبی کریم ﷺ سے گزرتا تو وہ استہزاء کرتے اور انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹیاں بجاتے۔ اور تصدیہ تالیاں بجانا اور اسی سے صدی ہے اور المکاء انگلیاں جبڑے میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

35۔ تفسیر ابن جریر تفسیر بدی اور تفسیر واحدی میں حضرت ابن عمر ؓ اور عکرمہ وغیرہ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں اور آنحضرت کو نماز پڑھتا ہوا دیکھ کر نماز میں خیال بٹانے کی غرض سے ٹھٹے کے طور پر مشرکین سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ ٹھٹھے کے طور پر نیک کام میں ہرج ڈالنا چھوٹی بات نہیں بڑا سخت گناہ ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ اپنے آپ کو کعبہ کا متولی جو ٹھہراتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ کعبہ نماز اور طواف کے لئے ہے طواف میں تو یہ لوگ اللہ کے نام کے ساتھ بتوں کا نام لیتے ہیں اور خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 35–36

آیت 35 اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد حرام صرف اس لئے بنائی ہے کہ اس میں اس کے دین کو قائم کیا جائے اور اس میں خلاص اسی کی عبادت کی جائے۔ پس اہل ایمان ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی اور رہے یہ مشرکین جنہوں نے لوگوں کو مسجد حرام سے روکا تو ان کی نماز، جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے، (الا مکآء وتصدیۃ) ” سیٹیوں اور تایوں کے سوا کچھ بھی نہیں “ جو کہ جہلا اور کم عقل لوگوں کا فعل ہے جن کے دل اپنے رب کی تعظیم سے خالی ہوتے ہیں، جو اپنے رب کے حقوق کی معرفت سے تہی دست ہوتے ہیں اور ان کے دل میں افضل ترین خطہ زمین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ جب ان کی نماز کا یہ حال ہے تو ان کی بقیہ عبادات…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–38

قوم کو پیغمبر کی موجودگی میں عذاب الٰہی نہیں ہوتا قول باری ہے وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون۔ اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہیں تھا جب کہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ یہ اللہ کا باقاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے) یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسا عذاب دینے والا نہیں تھا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا جبکہ حضور ﷺ کے درمیان موجود ہوتے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تھا اس لئے آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے انہیں عذاب نہیں دیا جائے گا جب آپ ﷺ ان کے یعنی اہل مکہ کے درمیان سے نکل جائیں گے تو یہ لوگ عذاب کے مستحق قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

60 مشرکین مکہ کی نماز، خرافات کا پلندہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ سو بیت اللہ کی تولیت کا دعویٰ کرنے والے مشرکین کی نماز بیت اللہ کے پاس محض تالیاں پیٹنا اور سیٹیاں بجانا ہے اور بس۔ جو انتہا درجے کی گمراہی بھی ہے اور پرلے درجے کی حماقت بھی۔ بھلا سیٹیوں اور تالیوں کا عبادت جیسے مقدس عمل سے کیا لگاؤ ہوسکتا ہے ؟ افسوس کہ آج کا جاہل مسلمان بھی کچھ اسی طرح کی خرافات میں مبتلا ہے۔ وہ بھی اپنے عرسوں وغیرہ میں اسی طرح کے مختلف کھیل تماشوں کو اپنا مشغلہ اور دین و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–40

مشرکین مکہ کے بڑے بڑے گناہ تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو کفار کے غلط طریقے اور غلط خیال کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح کہ انہوں نے نیک اور عبادت گزار لوگوں کو خانہ کعبہ میں عبادت کرنے سے منع کیا، یعنی وہ سمجھتے تھے کہ وہی خانہ کعبہ کے متولی ہیں اور ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہاں تو صرف پاکباز لوگ ہی عبادت کرسکتے ہیں۔ ان کی عبادت کا طریقہ تو سو فیصد غلط اور بےہودہ تھا وہ اس طرح کہ خانہ کعبہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے اور خانہ کعبہ کا طواف یوں کرتے کہ سیٹیاں بجاتے تالیاں پیٹتے اور برہنہ ہو کر طواف کرتے۔ دوسری بہت بڑی غلطی جو انہوں نے کی وہ مال خرچ کرنے کا غلط طریقہ اختیار کیا۔ وہ اس طرح کہ اپنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–37

آیات 29 تا 37 اسرار و معارف تقوی کے ثمرات اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 حضرت ابن عمر ؓ اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ کہ قریش ننگے اور سیٹیا بجا بجا کر خانہ کعبہ کو طواف کیا گیا ہے۔ ( ابن کثیر)2 عذاب سے مراد وہ جانی اور مالی نقصان جو انہیں بدر کے دن پہنچا، ( ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:35) مکائ۔ منہ سے سیٹی بجانا۔ اور انگلیوں سے چٹکی بجانا۔ مکایمکو (نصر) مکاء کے معنی پرند کے سیٹی بجانے کے ہیں۔ (مشرکین و کفار کی نماز بےروح ہونے کے اعتبار سے پرندوں کی سیٹی کے بمنزلہ ہے) ۔ مکاء مکو۔ دونوں مصدر ہیں۔ مکو مادہ تصدیۃ۔ صدی یصدی تصدیۃ (تفعیل) بیدیہ۔ دونوں ہاتھوں سے تالی بجانا۔ الصدی صدائے باز گشت کو کہتے ہیں۔ مشرکین کی نماز کو مکاء و تصدیہ اس کے بےروح ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے جیسا کہ بحوالہ بالا راغب (رح) نے تحریر کیا ہے۔ یا جیسا کہ امام قرطبی (رح) نے لکھا ہے :۔ کانت قریش تطوف بالبیت عراۃ یصفقون ویصفرون فنکا ذلک عبارۃ فی ظنہم۔ قریش ننگے ہوکر طواف کعبہ کیا کرتے تھے اور تالیاں اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–40

آیات : 34 تا 40 لغات القرآن۔ مکاء۔ سیٹیاں۔ تصدیۃ۔ (صدی) ۔ تالیاں بجانا۔ لیصدوا۔ تاکہ وہ روک دیں۔ لیمیز۔ (یمیز) تاکہ وہ الگ الگ کردے۔ الخبیث۔ گندگی۔ الطیب۔ پاکیزگی۔ یرکم۔ (رحکم) ۔ وہ ڈھیر بنا دے گا۔ گٹھا بنا دے گا۔ ان ینتھوا۔ اور اگر وہ رک جائیں۔ سلف۔ گزر گیا۔ ان یعودوا۔ اور اگر وہ پلٹ جائیں۔ مضت۔ گزر گئی۔ سنت الاولین۔ پہلے لوگوں کا طریقہ۔ مولی۔ ستھی۔ نعم المولیٰ ۔ بہترین ساتھی۔ نعم النصیر۔ بہترین مددگار۔ تشریح : قریش مکہ نے خیر مانگے کے بجائے اللہ سے یہ مانگا کہ ان پر پتھروں کی بارش کردی جائے یا درد ناک عذاب بھیج دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بدر کے میدان میں زبردست شکست تمہارے لئے اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

نماز میں مشرکین کا مسخرا پن شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو نماز میں خیال ہٹانے کی غرض سے ٹھٹھے کے طور پر اکثر مشرکین سیٹیاں اوت تالیں بجاتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس سے معلوم ہوا کہ نیک کام میں ٹھٹھے وغیرہ سے ہرج ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ اپنے کو جو کعبہ کا متولی ٹھراتے تھے، اللہ تعالیٰ نے نے ان کو یہ جواب دیا کہ کعبہ نماز اور طواف کے لئے ہے۔ طواف میں تو یہ لوگ اللہ کے نام کے ساتھ بتوں کا نام لیتے ہیں اور خود تو نماز کے قائل نہیں ہیں، اللہ کے رسول اور اس کے ساتھی اللہ کے گھر میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تو ان کا خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–40

[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) حضور ﷺ جب صحن کعبہ میں نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو مکہ والے احترام بیت اللہ کو بالائے طاق رکھ کر تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ، تاکہ نماز کو آپ دلجمعی اور سکون کے ساتھ نہ ادا کرسکیں ۔ فرمایا اگر ان کی یہی عبادت ہے اور یہی جذبہ احترام ہے تو آج بدر کے دن اس گستاخی کا مزہ چکھیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

35 اور بیت اللہ کے پاس یعنی مسجد حرام میں ان کی نماز سوائے اس کے اور کچھ نہ تھی کہ وہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے لہٰذا اب اس کفر کی پاداش میں جو تم کیا کرتے تھے عذاب کا مزہ چکھو۔ یعنی مسلمانوں کو جو اللہ کی عبادت کرنے کی غرض سے کعبہ میں آئیں تو ان کو آنے نہ دیا جائے اور خود مسجد حرام میں سیٹیاں اور تالیاں بجائیں اور اس توہین آمیز فعل کو نماز کہیں۔ لہٰذا ان افعال شنیعہ کا یہ تقاضا تھا کہ ان کو عذاب کیا جائے خواہ وہ عذاب خارق عادت نہ ہو بلکہ محض عادی ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی بجائے نماز کے ان کی یہ نامعقول حرکتیں ہوتی تھیں۔ 3۔ چناچہ غزوات متعددہ میں یہ سزا واقع ہوئی۔ 4۔ یہاں تک تو ان لوگوں کے اقوال و اعمال بدنیہ کا ذکر تھا آگے ان کے اعمال مالیہ کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کی عبادت کیا تھی ؟ بیت اللہ کے پاس تالیاں اور سیٹیاں بجانا : 47: اس آیت نے مکہ والوں کی عبادت گزاری کا سارا قصہ نہ بیان کرنے کے باوجود اس کا سارا نچوڑ نکال کر سامنے رکھ دیا کہ ان کی عبادت کیا تھی ؟ ناچنا ، گانا ، تالیاں اور سیٹیاں بجانا۔ گویا کفر و شرک کی گندگی تو ان میں پہلے ہی موجود تھی لیکن ان کے افعال و اعمال ایسے ہوچکے تھے کہ وہ عام انسانی سطح سے بھی نیچے گر گئے تھے حتیٰ کہ یہ لوگ اپنے جس طریق عبادت کا نام نماز رکھتے تھے وہ وہی تھا جس کو آج کی زبان میں ” چوکی بھرنے “ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ بھی بتادیا کہ مشرک قومیں ہمیشہ سے یہ کرتی آئی ہیں اور آج بھی کر رہی ہیں کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

3. The third crime of these people, other than the filth of Kufr and Shirk which was already their way of life, was the state of their doings which were low down, much lower than the ordinary human level. A sampling of this was pointed to when it was said that the act of prayer which these people called Salah was nothing but that they would whistle with their mouths and clap with their hands. It is obvious that no reasonable person would call these acts 'worship' and 'prayer,' in fact, not even a regular human act. Therefore, at the end of the verse (35), it was said: فَذُوقُوا الْعَذَابَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–36

28. This is to dispel a misconception common among the Arabs of those days. They were generally inclined to assume that since the Quraysh were the guardians and keepers of the Ka'bah and were also engaged in worship at that holy spot, they were recipients of God's special favours. Here people are told that the defacto guardianship of the Ka'bah should not be confused with its de jure guardianship. For only the God-fearing and pious are the rightful guardians of the Ka,bah. As for the Quraysh, far from behaving in a manner becoming of the guardians of the Ka'bah, they had virtually installed…

Read the full tafseer →