Explained with ayahs 34–35
ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن آنحضرت ﷺ کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چناچہ آپ کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کردیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چناچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے ھم الذین کفروا الخ، یعنی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة الْاَنْفَال 27
یہ ان کے اس سوال کا جواب ہے جو ان کی اوپر والی ظاہری دعا میں متضمن تھا۔ اس جواب میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں کیوں عذاب نہیں بھیجا۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ جب تک نبی کسی بستی میں موجود ہو اور حق کی طرف دعوت دے رہا ہو اس وقت تک بستی کے لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے اور عذاب بھیج کر قبل از وقت ان سے اصلاح پذیری کا موقع سلب نہیں کرلیا جاتا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جب تک بستی میں سے ایسے لوگ پے در پے نکلتے چلے آرہے ہوں جو اپنی سابقہ غفلت اور غلط روی پر متنبہ ہو کر اللہ سے معافی کی درخواست کرتے ہوں اور آئندہ کے لیے اپنے رویہ کی اصلاح کرلیتے ہوں، اس وقت تک کوئی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (ان موانع کے سبب عذاب خارق نازل نہ ہونے سے باکل ہی عذاب سے مطمئن نہ ہوجائیں کیونکہ جس طرح امور مذکورہ مانع عذاب ہیں اسی طرح ان کی حرکتیں مقتضی عذاب بھی ہیں پس مانع کا اثر عذاب خارق میں ظاہر ہوا اور مقتضی کا اثر نفس عذاب میں ظاہر ہوگا کہ عذاب غیر خارق ان پر نازل ہوگا چناچہ اس مقتضی کا بیان فرماتے ہیں کہ) ان کا کیا استحقاق ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ (بالکل ہی معمولی) سزا (بھی) نہ دے حالانکہ (ان کی یہ حرکتیں مقتضی سزا کی ہیں مثلا) وہ لوگ (پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو) مسجد حرام (میں جانے اور اس میں نماز پڑھنے اور اس میں طواف کرنے) سے روکتے ہیں (جیسا حدیبیہ میں حقیقةً روکا جس کا قصہ سورة…
Read the full tafseer →وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ۔ اردو میں اس اسلوب کا مدعا یہ ہوگا کہ آخر ان کو ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ خدا ان کو عذاب نہیں دے گا، یہ قریش کے اس غرور باطل پر ضرب لگائی گئی ہے جو خانہ کعبہ کی تولیت اور اس سے متعلق بعض رسوم و خدمات کی ادائیگی کی بنا پر ان کو تھا۔ قوموں کی یہ عجیب مشترک بد قسمتی رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کو تو ہمیشہ اپنی خواہشات و بدعات کے سانچہ میں ڈھال کر مسخ کیا لیکن انہی مسخ شدہ رسوم کی پرستش کو اتنی اہمیت دی کہ اپنے آپ کو دین کی محسن، خدا کی چہیتی اور محبوب بنا بیٹھیں اور یہ گمان کیا کہ جب ان کے ہاتھوں خدمت دین کے یہ کارنامے انجام پا رہے ہیں تو…
Read the full tafseer →34۔ 1 یعنی وہ مشرکین اپنے آپ کو مسجد حرام (خانہ کعبہ) کا متولی سمجھتے تھے اور اس اعتبار سے جس کو چاہتے طواف کی اجازت دیتے اور جس کو چاہتے نہ دیتے۔ چناچہ مسلمانوں کو بھی وہ مسجد حرام میں آنے سے روکتے تھے حالانکہ وہ اس کے متولی ہی نہیں تھے، زبردستی بنے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس کے متولی تو متقی افراد ہی بن سکتے ہیں نہ کہ مشرک۔ علاوہ ازیں اس آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے، اس سے مراد فتح مکہ ہے جو مشرکین کے لئے عذاب عظیم رکھتا ہے۔ اس سے قبل کی آیت میں جس عذاب کی نفی ہے، جو پیغمبر کی موجودگی یا استغفار کرتے رہنے کی وجہ سے نہیں آتا، اس سے مراد عذاب استیصال اور ہلاکت کلی ہے۔ عبرت وتبیہ کے طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
20: یعنی اگرچہ مذکورہ بالا دو وجہ سے ان پر دنیا میں کوئی عام عذاب تو نہیں آیا مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق نہیں ہیں، واقعہ یہ ہے کہ کفر وشرک کے علاوہ ان کی ایک خرابی یہ ہے کہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں، جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کے واقعے میں پیچھے گزرچکا (دیکھئے اس سورت کا ابتدائی تعارف) لہذا جب آنحضرت ﷺ اور دوسرے صحابہ مکہ مکرمہ سے نکل جائیں گے تو ان پر جزوی عذاب آئے گا، جو بعد میں فتح مکہ کی صورت میں سامنے آیا اور پھر آخرت میں ان کو مکمل عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →ان پر یہ عذاب اس لیے نہیں لیٹ ہورہا ہے جس کا وہ دعوی کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں یا وہ بیت اللہ کے متولی ہیں۔ یہ تو ان کا محض دعوی ہی دعوی تھا ، اس کی کوئی اساس نہ تھی۔ یہ لوگ در اصل اس گھر کے خادم اور متولی تھے ہی نہیں۔ یہ تو اس گھر کے دشمن تھے۔ انہوں نے زبردستی اس پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ کوئی ترکہ تو تھا نہیں جو آباؤ اجداد سے وراثت میں لیا جاتا۔ بیت اللہ کی تولیت کا حق تو اللہ کے متقی بندوں کا حق ہے۔ ان کا یہ دعوی کہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہیں ، یہ بھی غلط ہے۔ اس لیے کہ سچائی کا تعلق خون اور نسب سے نہیں ہوتا۔ سچائی میں وراثت تو دین اور عقیدے کی وراثت ہوتی…
Read the full tafseer →7 یعنی عذاب کا نہ آنا ان دو سبب سے ہے جو اوپر مذکور ہوئے، ورنہ تمہاری شرارتیں اور ظلم و شقاوت تو ایسی چیزیں ہیں کہ فوراً عذاب آجانا چاہیے۔ اس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا کہ موحدین کو حرم شریف میں آنے یا عبادت کرنے سے طرح طرح کے حیلے تراش کر روکا جائے بلکہ ان کے وطن (مکہ معظمہ) سے نکال کر ہمیشہ کے لیے کوشش کی جائے کہ یہ خدا کے پاکباز اور عبادت گزار بندے یہاں نہ آنے پائیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ظلم کے جواز کے لیے یہ سند پیش کی جاتی ہے کہ ہم حرم شریف کے متولی با اختیار ہیں جس کو چاہیں آنے دیں جسے چاہیں روک دیں، یہ ہمارا حق ہے۔ حالانکہ اول تو یہ حق متولی کو بھی نہیں کہ مسجد میں لوگوں کو نماز و عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت 33 وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ ط اگرچہ وہ لوگ عذاب کے پوری طرح مستحق ہوچکے تھے ‘ لیکن جس طرح کے عذاب کے لیے وہ لوگ دعائیں کر رہے تھے ویسا عذاب سنت الٰہی کے مطابق ان پر اس وقت تک نہیں آسکتا تھا جب تک اللہ کے رسول ﷺ مکہ میں ان کے درمیان موجود تھے ‘ کیونکہ ایسے عذاب کے نزول سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے رسول علیہ السلام اور اہل ایمان کو ہجرت کا حکم دے دیتا ہے اور ان کے نکل جانے کے بعد ہی کسی آبادی پر اجتماعی عذاب آیا کرتا ہے۔
وَمَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔
اس لحاظ سے مکہ کی آبادی کا معاملہ بہت گڈ مڈ تھا۔ مکہ میں عوام الناس بھی تھے ‘ سادہ لوح…
Read the full tafseer →35 تولیت کعبہ کے لئے شرائط کفار مکہ کا بیت اللہ پر غاصبانہ قبضہ :۔ یعنی ان لوگوں کے عذاب کے مستحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر ان پر عذاب نہیں آ رہا تو اس کی مندرجہ بالا وجوہ ہیں اور ان کے عذاب کے مستحق ہونے کی بھی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ انہوں نے مسلمانوں پر بیت اللہ میں داخلہ پر پابندی لگا رکھی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بیت اللہ پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم اس کے متولی ہیں کیونکہ ہم سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ حالانکہ متولی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو بیت اللہ میں داخل ہونے سے ہی روک دے۔ نیز یہ کہ تولیت کے لیے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد…
Read the full tafseer →47 ۔ (اور عبادت الہی تو ان مومنین عابدین کا ایسا حق ہے کہ اس سے روکنے کا اختیار متولیوں کو بھی نہیں) آیت کا مطلب یہ ہوا کہ عذاب خارق عادت کے لئے تو موانع موجود ہیں لیکن نفس عذاب سے مانع تو کوئی بھی نہیں بلکہ اس کا تو عین مقتضاء موجود ہے۔ (آیت) ” یصدون عن المسجد الحرام “۔ یعنی حرم شریف کے اندر داخلہ سے اس میں نماز پڑھنے سے، اس کے اندر طواف کرنے سے یہ ظالم لوگ مسلمانوں کو اور رسول اسلام ﷺ کو برابر روک رہے ہیں۔ (آیت) ” وما کانوا اولیآء ہ “۔ قریش کا ایک زعم باطل یہ بھی تھا کہ چونکہ ہمارے باپ دادا خانہ کعبہ کے متولی رہ چکے ہیں۔ ہم میں اس کی تولیت آج تک چلی آرہی ہے یہاں اسی عقیدہ کی تردید ہے۔ (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
وَما لَھُمْ اَلَّا یُعذ بھم اللہ، جب آپ مکہ مکرمہ میں تشریف رکھتے تھے تو یہ آیت اتری تھی وَمَا کان اللہ لیعذبھم وَاَنْتَ فیھم، یعنی جب تک اللہ کا رسول ان میں ہے اللہ ان پر عذاب نازل نہ کرے گا، اور جب آپ مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے تشریف لے آئے تو یہ آیت اتری وما کان اللہ لیعذبھم یستغفرون، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ان کفار پر عذاب نازل نہیں کرے گا کیونکہ کچھ لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جو استغفار کرتے ہیں یہ وہ ضعفاء مسلمین تھے جو مکہ میں مجبورًا رہ گئے تھے، جب یہ لوگ بھی مکہ سے رفتہ رفتہ نکل گئے تو یہ آیت '' وَمَا لھم اَلَّا یعذبھم اللہ '' الخ نازل ہوئی، جس میں فرمایا، اب کیوں نہ اللہ ان پر عذاب…
Read the full tafseer →وما لھم الایعذبھم اللہ وھم یصدون عن المسجد الحرام : اور ان کو کیا استحقاق ہے کہ اللہ ان کو (بالکل) عذاب نہ دے حالانکہ وہ مسجد حرام سے (مسلمانوں کو) روکتے ہیں۔
اس آیت کے تفسیری معنی میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ محمد ابن اسحاق نے اس آیت کو سابق آیت کا تتمہ اور مشرکوں کے قول کا جزء قرار دیا ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ مشرک کہتے ہیں : اللہ ہم کو عذاب نہیں دے گا ‘ ہم تو اس سے استغفار کرتے ہیں۔ نبی کی موجودگی میں اس کی امت کو اللہ عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ اللہ نے ان کی جہالت اور فریب خوردگی اور خود اپنے لئے بددعا کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے بطور تردید فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ استغفار کرتے ہیں اور آپ بھی…
Read the full tafseer →(34) اور جب آپ ان کے ہاں سے تشریف لے آئے تو اب ان کا کیا حق ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک نہ کرے وہ تو حدیبیہ کے سال رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو مسجد حرام کا طواف کرنے سے بھی منع کرتے ہیں حالانکہ وہ مسجد کے متولی بننے کے بھی مستحق نہیں، اس کے حقیقی متولی تو رسول اکرم ﷺ اور آپ کی جماعت ہے جو کہ کفر وشرک اور فواحش سے پرہیز کرتے ہیں مگر ان میں سے سب اس چیز کی خبر نہیں رکھتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ومالہم الا یعذبھم اللہ“۔ (الخ)
اس کے بعد آپ مدینہ منورہ آگئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون“۔ کیوں کہ مسلمانوں میں سے کچھ حضرات…
Read the full tafseer →وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ : اس آیت میں ان کے عذاب کا مستحق ہونے کی چند وجہیں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کے مسجد حرام میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ زبردستی مسجد حرام کے مالک اور متولی بنے بیٹھے ہیں، حالانکہ کعبہ کی تولیت صرف موحدین متقین کا حق ہے، مشرکین کا نہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (17، 18) تیسری یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی شان کے لائق اور اس کے بتائے ہوئے طریقے سے کرنے کے بجائے تالیاں پیٹ کر اور سیٹیاں بجا کر قوالی کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ اس لیے ان پر عذاب کیوں نہ آئے، عذاب آئے گا اور ضرور آئے گا۔ پچھلی آیت میں جس عذاب کی نفی کی تھی وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 34
قولہ تعالیٰ : آیت : ومالھم الا یعذبھم اللہ اس کا معنی ہے : کون سی شے ان کے لیے اس سے مانع ہے کہ وہ عذاب دیئے جائیں، یعنی بلاشبہ وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں ان برائیوں اور دیگر اسباب کے سبب جن کا انہوں نے ارتکاب کیا ہے، لیکن شے کے لیے ایک مقررہ وقت ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم ﷺ کے (مکہ مکرمہ) سے نکلنے کے بعد انہیں تلوار کے ساتھ عذاب دیا۔ اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت : سال سآئل بعذاب واقع (المعارج) اور اخفش نے کہا ہے : بیشک ان زائدہ ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اگر ایسے ہوتا جیسے انہوں نے کہا تو یعذبھم مرفوع ہوتا۔ آیت : ولکن اکثرھم لا یعلمون یعنی بلاشبہ متقین اس کے دوست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
1۔ البخاری وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ابوجہل بن ہشام نے کہا ( آیت) ” اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمائ اوائتنا بعذاب الیم (32) تب یہ نازل ہوا (آیت) وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون (34) “
2:۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) اذقالوا اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک کے بارے میں فرمایا کہ…
Read the full tafseer →[ وَمَا لَهُمْ : اور ان کے لیے کیا ہے ] [ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ : کہ عذاب نہ دے ان کو ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَصُدُّوْنَ : روکتے ہیں ] [ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام سے ] [ وَ : حالانکہ ] [ مَا كَانُوْٓا : وہ نہیں ہیں ] [ اَوْلِيَاۗءَهٗ ۭ: اس کے والیو وارث ] [ اِنْ : نہیں ہیں ] [ اَوْلِيَاۗؤُهٗٓ : اس کے والی ووارث ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْمُتَّقُوْنَ : تقوی کرنے والے ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اَكْثَرَهُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں ]
(آیت ۔ 34) اولیاء ہ کی ضمیر المسجد الحرام کے لیے ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
مشرکین کی عبادت یہ تھی کہ بیت اللہ کے قریب سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے تھے
گزشتہ آیت میں یہ بتایا تھا کہ نبی کریم ﷺ کے تشریف فرما ہوتے ہوئے اور اہل مکہ کے استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا اور اس آیت میں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب کیوں نہ دے حالانکہ ان کی حرکتیں ایسی ہیں جو سزا کی مقتضی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا اور وہاں عبادت و طواف کرنے سے روک دیا پھر جب 6 ہجری میں آپ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تو مسجد حرام تک نہ پہنچنے دیا اور عمرہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
تفصیل مکائکفار در ابطال دین پروردگار
قال اللہ تعالیٰ ٰ واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا قد سمعنا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ذات نبوی کے متعلق کفار کے کید اور مکر کا حال بیان فرمایا اب آئندہ آیات میں دین محمد کے بارے میں کفار کے کید ومکر کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ وہ دین اسلام کے مٹانے کے لیے کیا کیا حیلے اور بہانے تراشتے تھے اور کس طرح جان ومال سے اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت اور دشمنی کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار قریش کے تمرد اور عناد اور ان کے متکبرانہ دعاوی اور احمقانہ عادتوں کا بیان ہے اولئک ھم المخسروان۔ تک یہی مضمون چلا گیا…
Read the full tafseer →36: مکہ معظمہ میں مشرکین پر عذاب نہ بھیجنے کی وجوہ بیان کرنے کے بعد فرمایا مگر یہ لوگ اپنے انکار و جحود اور ضد وعناد کی وجہ سے عذاب کے مستحق ضرور ہیں۔ کیونکہ ان کے تمام اعمال و افعال خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہیں اور حد یہ ہے کہ وہ ایمان والوں، اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبرداروں کو مسجد حرام (بیت اللہ) سے روک رہے ہیں (جیسا کہ عام الحدیبیہ میں انہوں نے ایسا کیا) حالانکہ وہ بیت اللہ کے متولی نہیں تھے اور نہ وہ بیت اللہ کی تولیت کے لائق اور اس کے حقدار ہی ہیں۔ کیونکہ وہ مشرک ہیں۔ بیت اللہ کی تولیت کا حق صرف انہی لوگوں کو پہنچتا ہے جو اللہ کے اس گھر کو شرک کی نجاست سے پاک رکھیں اور وہ مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
ربط ِ آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فلاں کے پانچ اصول بیان فرمائے ہیں ، پانچواں اصول خوفِ خدا یعنی تقوی کا راستہ اختیار کرنا اور اسی کی ذات پر بھروسہ رکھنا ہے ، اگر اہل ایمان اس اصول پر کاربند رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہر چیز کو فیصلہ کن بنا دیگا اور یہ چیز ان کے باطن کے لحاظ سے نور بصیرت ہوگی ، ان کے دلوں میں احسان کی حالت راسخ ہوجائے گی ، حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا ہوگا اور خارجی دنیا میں ہر قسم کے شکوک و شبہات دفع ہوجائیں گے یہی تقوے کا نتیجہ ہے اور یہی مدار فلاح ہے ان کے لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوگی جس کی بین مثال غزوہ بد ہے ، اس جنگ میں کامیابی کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →وَمَا لَہُمْ اَلَّا يُعَذِّبَہُمُ اللہُ وَہُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوْٓا اَوْلِيَاۗءَہٗ 0 ۭ اِنْ اَوْلِيَاۗؤُہٗٓ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 34
صدد
الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24]
( ص د د ) الصدود والصد
۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
ترکیب : واذیمکر اور اذ قالوا کا عامل عامہ مفسرین کے نزدیک اذکر ہے والا رجح ماذکرنا فی مقدمۃ تفسیر نا۔ واذ شرط قالوا جواب شرط۔ ان شرطیہ ھذا کان کا اسم الحق خبر ہے دونوں میں فاصل من عندک الحق کی صفت فامطر الی عذاب الیم جواب شرط مجموعہ مقولہ ہے قالوا کا۔ اللہم نداء ای یا اللہ۔ ان لایعذبہم ای فی ان لا یعذبھم فھو فی موضع نصب اوجر۔ صلاتہم جمہور صلوۃ کو بالرفع اور مکاء کو بالنصب پڑھتے ہیں اور اعمش بالعکس پڑھتے ہیں۔ مکاء کی ہمزہ و سے بدل ہے من مکایمکو 1 ؎۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے قیام مکہ کی چند باتیں یاد دلاتا ہے جو مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں کہ ہم نے تم کو ان حوادث…
Read the full tafseer →وَمَا لَھُمْ اَلَّا یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ وَھُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ وَمَاکَانُوْآ اَوْلِیَآئَ ہٗ ط اِنْ اَوْلِیَآؤُ ہٗٓ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ ۔ (الانفال : 34)
(اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دے ؟ جبکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں۔ اس کے متولی تو وہی ہیں جو پرہیز گار ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر اس حقیقت سے واقف نہیں۔ )
کعبہ کی تولیت کے حقدار متقی لوگ ہیں، قریش جیسے لوگ نہیں
اللہ کو ماننے والی یا کسی بھی مذہب کی پرستار قومیں جب بگڑتی ہیں تو وہ اللہ کے دین اس کے احکام اور اس کے عطاکردہ ضابطہ حیات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
مشرکین مکہ نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر اپنے لیے عذاب کی دعا کی جس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ انھیں عذاب نہ دینے کی و جہ یہ ہے کہ ہمارا رسول ﷺ اور اس کے استغفار کرنے والے ساتھی یہاں موجود ہیں۔ حالانکہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ کیونکہ یہ مسجد حرام میں توحید کی دعوت دینے سے روکتے ہیں۔ جب کہ بیت اللہ کی بناء کا مقصد ہی اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کی توحید کا پرچار ہے۔ لیکن یہ بیت اللہ کی تولیت کے زعم میں آکر اپنے اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں جبکہ مسجد کی تولیت کا مطلب صرف اس کی خدمت کرنا ہے۔ یہ لوگ اپنے عقیدہ اور کردار کی…
Read the full tafseer →قریش مستحق عذاب ہوچکے :
آیت 34: وَمَا لَھُمْ اَلَّا یُعَذِّ بَھُمُ اللّٰہُ (اور ان کا کیا استحقاق کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا نہ دے) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو آپ کے ہوتے ہوئے عذاب نہ دیں گے۔ بلکہ جب آپ جدا ہوجائیں گے ان کو عذاب دیا جائے گا۔ اور ان کو اللہ تعالیٰ عذاب کیوں نہ دے۔ وَھُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدَ الْحَرَامِ (حالانکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں) ان کو کیسے عذاب نہ دیا جائے جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں۔
جیسا انہوں نے حدیبیہ والے سال آپ کو روک لیا اور آپ ﷺ اور مومنوں کو مسجد حرام سے نکال دیا۔ بلکہ وہ تو بڑے فخر سے کہتے ہم بیت اللہ کے متولی ہیں جس کو ہم…
Read the full tafseer →تفسیر 34 (وما لھم الا یعذبھم اللہ) یعنی ان پر عذاب آنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ آپ (علیہ السلام) کے نکلنے کے بعد (وھم یصدون عن المسجد الحرام) یعنی مئومنین کو بیت اللہ کے طواف سے روکتے ہیں۔ بعض نے کہا پہلے عذاب سے جڑ سے اکھاڑنے والا عذاب مراد ہے اور اس آیت میں تلوار کا عذاب مراد ہے اور بعض نے کہا پہلی آیت سے دنیا کا عذاب اور اس آیت سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔
اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ پہلی آیت ” وما کان اللہ لیعذبھم “ منسوخ ہے اور ناسخ “ ومالھم الا یعذبھم اللہ “ ہے۔ (وما کانوا اولیآءہ) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے کہ ہم مسجد حرام کے اولیاء ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تردید کردی کہ ” وما کانو ا…
Read the full tafseer →34۔ جب آنحضرت ﷺ مکہ میں تشریف رکھتے تھے تو یہ آیت اتری تھی وما کان اللہ لیعذ بھم وانت فیہم جس میں فرمایا تھا کہ جب تک اللہ کے رسول ان لوگوں میں ہیں اللہ پاک ان پر عذاب نہیں کرے گا پھر جب آپ مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے چلے گئے تو یہ آیت اتری وما کان اللہ لیعذبھم تا وھم یستغفرون جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ان کفار مکہ پر عذاب نہیں کریگا کیونکہ کچھ لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جو استغفار کرتے ہیں یہ بقیہ مسلمان تھے جو مکہ میں رہ گئے تھے پھر یہ لوگ وہاں سے جب نکل گئے تو یہ آیت اتری جس میں فرمایا کہ اب کیا وجہ ہے جو اللہ ان پر عذاب نہ کرے کیونکہ وہ دونوں سبب جن کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آتا تھا اب باقی…
Read the full tafseer →آیت 34
رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واذا تتلی علیھم ایتنا) ” اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں “ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں (قالوا قد سمعنا لو نشآء لقلنا مثل ھذا ان ھذا الا اساطیر الاولین) ” تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں “ یہ انہوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لئے بلا سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
قوم کو پیغمبر کی موجودگی میں عذاب الٰہی نہیں ہوتا
قول باری ہے وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون۔ اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہیں تھا جب کہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ یہ اللہ کا باقاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے) یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسا عذاب دینے والا نہیں تھا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا جبکہ حضور ﷺ کے درمیان موجود ہوتے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تھا اس لئے آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے انہیں عذاب نہیں دیا جائے گا جب آپ ﷺ ان کے یعنی اہل مکہ کے درمیان سے نکل جائیں گے تو یہ لوگ عذاب کے مستحق قرار…
Read the full tafseer →58 مسجد حرام سے روکنا باعث عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مسجد حرام سے روکنا عذاب الہی کا ایک بڑا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان عذاب میں اب کیا مانع ہوسکتا ہے جبکہ یہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے حضرت امام الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین ۔ کو اور آپ ﷺ کے قدسی صفت ساتھیوں یعنی حضرات صحابہ کرام ؓ کو بھی مسجد حرام کی زیارت اور عمرہ کی ادائیگی سے روک دیا۔ جیسا کہ حدیبیہ میں ہوا۔ سو مسجد حرام سے روکنا ۔ والعیاذ باللہ ۔ عذاب الہی کا ایک بڑا باعث اور ذریعہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا ۔ سو اب جبکہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
عذاب کا مطالبہ اور عذاب نہ آنے کی وجہ
تشریح : یہ آیات اس زمانہ کے حالات بتا رہی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تھی 610 عیسوی میں غار حرا میں پہلی وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ توحید کی تعلیم اہل مکہ کے لیے بڑی عجیب و غریب تھی۔ اس لیے اکثریت میں لوگ آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے تب 622 ء میں آپ نے مدینہ ہجرت کی۔ 1 ہجری 14 نبوت تھی۔ ہجرت سے پہلے کے حالات یہ تھے کہ جب آپ ﷺ لوگوں کو قرآنی آیات پڑھ کر سناتے تو کفار مکہ لاپروائی سے کہتے کہ یہ کوئی بڑے کمال کی آیات نہیں ہیں ہم تو اس سے اچھا کلام سنا سکتے ہیں اور پھر دوسرا اعتراض یہ کرتے کہ کیا رکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
آیات 29 تا 37
اسرار و معارف
تقوی کے ثمرات
اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…
Read the full tafseer →ف 8 اس پر انہوں نے ایسی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے کسی توحید پرست انسان کو اس کا طواف کرنے یا اس میں عبادت کر نیکی اجازت نہیں دیتے اس عذاب سے عذاب استیصال مراد نہیں ہے بلکہ ان کا مسلمانوں ہو ہونے والی جنگوں میں قید اور قتل ہونا مراد ہے۔ چناچہ جنگ بدر میں میں ان کے بڑے بڑے سے سردارمارے گئے اور ان میں بہت سے لوگ قید ہوئے اور پھر حدیبہ کے بعد فتح مکہ کی اجازت دیدی گئی ( ابن کثیر)9 یعنی جو شرک پر ییز کرنے والے ہیں اور وہ آنحضرت ﷺ اور انکے صحابہ ؓ ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت سے سوال پر آپ ﷺ نے فرمایا ہر پرہیز گار مومن مبری آل ہے، ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(8:34) ومالہم۔ اور کیا عذر ہے ان کے لئے ۔ کیا وجہ ۔ کیا امر مانع رہ گیا ہے ان کے لئے۔
یصدون۔ صد یصد (نصر) سے مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ باز رکھتے ہیں۔ وہ روکتے ہیں ۔
اولیاء ہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب المسجد الحرام کی طرف راجع ہے۔ اولیاء اس کے متولی۔ اس کی ولایت کے مستحق۔ مضاف ۔ ہ مضاف الیہ۔ اولیاء جمع ہے اس کا واحد ولی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
آیات : 34 تا 40
لغات القرآن۔
مکاء۔ سیٹیاں۔ تصدیۃ۔ (صدی) ۔ تالیاں بجانا۔ لیصدوا۔ تاکہ وہ روک دیں۔ لیمیز۔ (یمیز) تاکہ وہ الگ الگ کردے۔ الخبیث۔ گندگی۔ الطیب۔ پاکیزگی۔ یرکم۔ (رحکم) ۔ وہ ڈھیر بنا دے گا۔ گٹھا بنا دے گا۔ ان ینتھوا۔ اور اگر وہ رک جائیں۔ سلف۔ گزر گیا۔ ان یعودوا۔ اور اگر وہ پلٹ جائیں۔ مضت۔ گزر گئی۔ سنت الاولین۔ پہلے لوگوں کا طریقہ۔ مولی۔ ستھی۔ نعم المولیٰ ۔ بہترین ساتھی۔ نعم النصیر۔ بہترین مددگار۔
تشریح : قریش مکہ نے خیر مانگے کے بجائے اللہ سے یہ مانگا کہ ان پر پتھروں کی بارش کردی جائے یا درد ناک عذاب بھیج دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بدر کے میدان میں زبردست شکست تمہارے لئے اس…
Read the full tafseer →قریش کی کعبہ شریف سے علیحدگی
قریش اپنے آپ کو اولاد ابراہیم سمجھ کر کعبہ کا متولی ٹھراتے تھے اور جس کو چاہتے اس کو کعبہ میں نہ آنے دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تولیت نامنظور فرمائی اور یہ آیت نازل فرمائی اور یہ آیت نازل فرما کر جتلادیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جنہوں نے خانہ کعبہ بنایا تھا وہ تو پکے مسلمان تھے اور یہ اہل مشرک ہیں، اتنے اختلاف عقائد پر نسب بھلا کیا کام آسکتا ہے۔ اس کے متولی وہی ہیں جو پرہیزگار اللہ کے نیک بندے مسلمان ہیں، اور فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے ہر ایک مشرک شخص کو کعبہ کے طواف سے منع فرمایا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔
Read the full tafseer →(ف 1) غرض یہ ہے کہ وہ کس برتے پر عذاب طلب کرتے ہیں ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ مسجد حرام سے مسلمانوں کو روکنا بہت بڑا جرم ہے یعنی جہاں تک ان کے جرائم کا تعلق ہے وہ قطعا سزاوار تعزیر ہیں ۔
Read the full tafseer →34 اور جو حرکات وہ کررہے ہیں ان حرکات کے بعد کیا حق ہے اور کون سا استحقاق ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کچھ بھی عذاب نہ کرے یعنی غیر خارق عادت عذاب نہ کیا جائے جبکہ وہ مسلمانو کو مسجد حرام سے روکتے ہیں حالانکہ وہ لوگ اس مسجد حرام کی تولیت کے اہل بھی نہیں ہیں اس مسجد حرام کی تولیت کے حقدار تو سوائے متقی لوگوں کے کوئی دوسرا شخص نہیں ہوسکتا لیکن ان کافروں میں سے اکثر اس حقیقت کو نہیں جانتے۔
یعنی ان کافروں کی حرکات مذمومہ کی یہ حالت ہے کہ یہ پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو مسجد حرام میں آنے سے روکتے ہیں اور اس مسجد حرام کی تولیت کا حقدار اپنے کو سمجھتے ہیں ان حرکات مذمومہ کے بعد وہ یقیناً سزا کے مستحق ہیں…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی مسجد حرام میں جانے اور اس میں نماز پڑھنے اور اس میں طواف کرنے سے روکتے تھے۔
1۔ خواہ علم ہی نہ ہو یا یہ کہ جب اس علم پر عمل نہ کیا تو وہ مثل عدم علم کے ہے۔
Read the full tafseer →اچھا لو ، اب وہ وقت آگیا تو ان پر عذاب نازل ہوتے کتنی دیر لگی ؟
46: فرمایا اچھا دیکھو اب جب کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کو ہجرت پر مجبور کردیا اور ان کی سرکشی یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ اللہ کے بندوں کو اس کی عبادت گاہ سے جبراً روکنے لگے تو کوئی وجہ نہیں کہ اب پاداش عمل کی نمود میں تاخیر ہو چناچہ وہ ظاہر ہوا اور قریش مکہ کے جماعتی اقبال کا چاند بھی ساتھ ہی غروب ہوگیا۔ گویا اس طرح دونوں مانع عذاب رفع ہوگئے۔ نہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں رہے اور نہ ہی استغفار کرنے والے لوگ مکہ میں باقی رہ گئے اور عذاب الٰہی کا سلسلہ تو اس وقت شروع ہوگیا جب نبی اعظم و آخر ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو مکہ والوں کو قحط…
Read the full tafseer →Commentary
It was said in previous verses that the disbelievers of Makkah were though deserving, because of their disbelief and denial, of heavenly punishment coming down upon them, but the presence of the Holy Prophet ﷺ in Makkah was a prohibitive factor against the coming of a mass punishment on them. Then, after his migration to Madinah, such punishment would still not come upon them because of the weaker ones among Muslims who, while living in Makkah, kept seeking forgiveness from Allah.
In the verses quoted above, it has been stated that though their due punishment was advanced till…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
27. This is a rejoinder to the challenge implicit in the above-mentioned remark of the unbelievers. In response it was explained why people were spared heavenly scourge during the Makkan period of the Prophet's life. The first reason being that God does not punish a people as long as the Prophet is in their midst, busy inviting them to the truth. Such people are rather granted respite and are not deprived of the opportunity to reform themselves by sending a scourge all too quickly. Second, if there are a good number of people in a land who recognize that they have been negligent and heedless…
Read the full tafseer →