Explained with ayahs 31–33
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور وتکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہہ دیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہوگئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة الْاَنْفَال 27
یہ ان کے اس سوال کا جواب ہے جو ان کی اوپر والی ظاہری دعا میں متضمن تھا۔ اس جواب میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں کیوں عذاب نہیں بھیجا۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ جب تک نبی کسی بستی میں موجود ہو اور حق کی طرف دعوت دے رہا ہو اس وقت تک بستی کے لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے اور عذاب بھیج کر قبل از وقت ان سے اصلاح پذیری کا موقع سلب نہیں کرلیا جاتا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جب تک بستی میں سے ایسے لوگ پے در پے نکلتے چلے آرہے ہوں جو اپنی سابقہ غفلت اور غلط روی پر متنبہ ہو کر اللہ سے معافی کی درخواست کرتے ہوں اور آئندہ کے لیے اپنے رویہ کی اصلاح کرلیتے ہوں، اس وقت تک کوئی…
Read the full tafseer →قرآن کریم نے خود اس کا جواب دیا۔ پہلے ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کریں گے کہ آپ کے مکہ میں ہوتے ہوئے ان پر عذاب نازل کریں کیونکہ اول تو سب ہی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ حق تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جس بستی میں وہ موجود ہوں اس پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں فرماتے جب تک اپنے پیغمبروں کو وہاں سے نکال نہ لیں۔ جیسے حضرت ہود ؑ اور صالح ؑ اور لوط ؑ کے معاملہ میں مشاہدہ ہوا کہ جب تک یہ حضرات بستی میں رہے عذاب نہیں آیا جب وہاں سے نکال لئے گئے اس وقت عذاب نازل ہوا۔ خصوصا سید الانبیاء جو رحمة للعالمین کا لقب دے کر بھیجے گئے ہیں آپ…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۔ یہ جواب ہے اس سوال کا جو اوپر مذکور ہوا اور چونکہ مقصود اس موقع پر خاص طور پر پیغمبر کی دل نوازی ہے اس وجہ سے خطاب پیغمبر سے ہوا۔ فرمایا کہ اللہ اس بات کا روادار نہیں ہوسکتا تھا کہ ان پر عذاب نازل فرمائے در آنحالیکہ تم ان کے اندر موجود ہو۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ نے کسی نبی کی قوم پر عذاب بھیجنے کے معاملے میں مقرر فرمائی ہے۔ وہ سنت یہ ہے کہ نبی جب تک اپنی قوم کے اندر موجود رہتا ہے وہ قوم کے اندر بمنزلہ دل کے ہوتا ہے۔ وہ قوم کے لیے اپنے رب سے مغفرت بھی مانگتا رہتا…
Read the full tafseer →33۔ 1 یعنی پیغمبر کی موجودگی میں قوم پر عذاب نہیں آتا، اس لحاظ سے آپ ﷺ کا وجود گرامی ان کے حفظ وامان کا سبب تھا۔
33۔ 2 اس سے مراد یہ ہے کہ آئندہ مسلمان ہو کر استغفار کریں گے، یا یہ کہ طواف کرتے وقت مشرکین
غَفْرَانَکَ رَبَّنَا غْفُرَانَکَ کہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →19: مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے کفر اور شرک کی وجہ سے مستحق تو اسی بات کے تھے کہ ان پر عذاب نازل کیا جائے، لیکن دو وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل نہیں فرمایا، ایک وجہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں موجود ہیں اور آپ کے ہوتے ہوئے عذاب نازل نہیں ہوسکتا، کیونکہ نبی کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتا، جب نبی بستی سے نکل جاتے ہیں تب عذاب آتا ہے، اس کے علاوہ آنحضرت ﷺ کو رحمۃ اللعلمین بناکر بھیجا گیا ہے اس لئے آپ کی برکت سے عذاب عام اس امت پر نہیں آئے گا، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں بہت سے مسلمان استغفار کرتے رہتے ہیں ان کے استغفار کی برکت سے عذاب…
Read the full tafseer →اس عناد اور اس دعاء کے جواب میں قرآن کیا کہتا ہے ؟ ٹھیک ہے کہ یہ لوگ پتھروں کی بارش کے مستحق ہیں اور اس کا مطالبہ وہ اس شرط کے ساتھ کرتے ہیں کہ اگر یہ قرآن سچا ہو اور ظاہر ہے کہ قرآن سچا ہے اور شرط پوری ہے۔ لیکن ان کی جانب سے بربادی کی دعوت دینے کے باوجود اللہ ان پر یہ عمومی عذاب اس لیے نازل نہیں کرتا کہ حبیب خدا ان میں موجود ہیں اور مسلسل ان کو دعوت حق دے رہے ہیں اور اللہ نے کسی قوم کو بھی اس وقت تک مکمل بربادی سے دوچار نہیں کیا جب تک رسول ان میں موجود ہوتا ہے۔ دعوت دے رہا ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اللہ اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک وہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے رہتے ہیں۔ اور ان پر یہ…
Read the full tafseer →5 سنت اللہ یہ ہے کہ جب کسی قوم پر تکذیب انبیاء کی وجہ سے عذاب نازل کرتے ہیں تو اپنے پیغمبر کو ان سے علیحدہ کرلیتے ہیں خدا نے جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے علیحدہ کرلیا تب مکہ والے بدر کے عذاب میں پکڑے گئے۔
6 نزول عذاب سے دو چیزیں مانع ہیں ایک ان کے درمیان پیغمبر کا موجود رہنا۔ دوسرے استغفار۔ یعنی مکہ میں حضرت ﷺ کے قدم سے عذاب تک اٹک رہا تھا۔ اب ان پر عذاب آیا۔ اسی طرح جب تک گنہگار نادم رہے اور توبہ کرتا رہے تو پکڑا نہیں جاتا اگرچہ بڑے سے بڑا گناہ ہو۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ گنہگاروں کی پناہ دو چیزیں ہیں۔ ایک میرا وجود، اور دوسرے استغفار، کذا فی الموضح (تنبیہ) وَمَا کَان اللّٰہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت 33 وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ ط اگرچہ وہ لوگ عذاب کے پوری طرح مستحق ہوچکے تھے ‘ لیکن جس طرح کے عذاب کے لیے وہ لوگ دعائیں کر رہے تھے ویسا عذاب سنت الٰہی کے مطابق ان پر اس وقت تک نہیں آسکتا تھا جب تک اللہ کے رسول ﷺ مکہ میں ان کے درمیان موجود تھے ‘ کیونکہ ایسے عذاب کے نزول سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے رسول علیہ السلام اور اہل ایمان کو ہجرت کا حکم دے دیتا ہے اور ان کے نکل جانے کے بعد ہی کسی آبادی پر اجتماعی عذاب آیا کرتا ہے۔
وَمَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔
اس لحاظ سے مکہ کی آبادی کا معاملہ بہت گڈ مڈ تھا۔ مکہ میں عوام الناس بھی تھے ‘ سادہ لوح…
Read the full tafseer →34 عذاب سے امان کی صورتیں :۔ ابو جہل کے اس قول کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ سیدنا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ابو جہل نے یہ کہا تھا کہ اے اللہ ! اگر یہ قرآن تیری طرف سے (نازل شدہ) سچا کلام ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی عذاب ہم پر بھیج دے۔ اس کے جواب میں اگلی آیات وَمَاکَان اللّٰہُ سے لے کر عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ تک نازل ہوئیں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
2۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے دو امان کی چیزیں اتاری ہیں۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ پھر فرمایا کہ جب میں (دنیا سے) چلا گیا تو تمہارے لیے امن کی چیز استغفار کو قیامت…
Read the full tafseer →46 ۔ (گو وہ استغفار ایمان صحیح کی عدم موجودگی کی بنا پر آخرت میں نجات کیلئے کافی نہ ہو) یہاں یہ بتلایا کہ جس طرح کا خارق عادت عذاب یہ لوگ طلب کررہے ہیں، اس کی راہ میں دو ، دو مانع موجود ہیں۔ ( 1) ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان زندہ و سلامت موجود ہیں۔ (2) دوسرے یہ کہ باوجود ان کے کفر وشرک ومعصیت شعاری کے، اللہ سے تعلق استغفار ان کا کسی درجہ میں باقی وقائم ہے چناچہ طواف کے وقت یہ اس وقت بھی غفرانک، غفرانک کہتے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَا کانَ اللہ لیعذبَھُمْ وانت فیھم، ابوجہل اور نضربن حارث نے جب یہ دعاء مانگی کہ یا اللہ یہ دین جس کہ طرف محمد ﷺ ہم کو دعوت دے رہے ہیں اگر حق ہے تو ہم پر تو آسمان سے پتھر برسادے یا عذاب الیم نازل فرمادے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب تک تو تم لوگوں پر عذاب نازل ہوچکا ہوتا لیکن دو سبب سے تم پر عذاب نازل نہیں ہوا، ہجرت سے پہلے تو بنی قوت تم میں موجود تھے نبی کی ہجرت کے بعد ضعیف اہل ایمان جو ہجرت نہیں کرسکتے تھے وہ مکہ میں تھے جو ہمیشہ اللہ سے مغفرت کی دعاء کرتے رہتے تھے صلح حدیبیہ کے بعد رفتہ رفتہ وہ لوگ بھی مکہ سے نکل آئے تھے، اب تم پر بدر میں عذاب آیا بدر میں ستر بڑے بڑے سردار مارے…
Read the full tafseer →وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم وھم یسغفرون : اور اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ ان کے اندر آپ کے موجود ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ایسی حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(33) اللہ تعالیٰ آپ کے ان میں موجود ہوتے ہوئے ابوجہل بن ہشام نے کہا اے اللہ اگر یہ قرآن واقعی آپ کی طرف سے نازل شدہ شدہ ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسائیے یا ہم پر کوئی سخت عذاب نازل کیجیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اللہ ایسا ہرگز نہ کریں گے کہ ان میں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے ان کو ایسا اجتماعی عذاب دیں۔
ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور ”غفرانک غفرانک“۔ کہتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”وما کان اللہ لعیذبھم“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے یزید بن رومان اور محمد بن قیس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش میں سے کچھ لوگوں نے بعض سے…
Read the full tafseer →وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ : یعنی جب تک آپ ان میں موجود تھے اللہ تعالیٰ ان پر کبھی عذاب بھیجنے والا نہیں تھا، کیونکہ اس کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ان کا رسول اور ایمان والے ان میں موجود رہتے ہیں۔ چناچہ نوح، ہود، صالح اور لوط ؑ کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ قوم لوط کے متعلق فرمایا : (فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) [ الذاریات : 35 ] ”ہم نے اس بستی سے جو بھی مومن تھا نکال لیا۔“ اسی طرح نوح ؑ کو حکم ہوا کہ تمام اہل ایمان کو کشتی میں بٹھا لو، پھر عذاب بڑھنا شروع ہوا۔ دیکھیے سورة ہود (40) اور سورة مومنون…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 33
جب ابو جہل نے کہا : آیت : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک، الایہ تب یہ آیت نازل ہوئی : آیت : وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم اسی طرح صحیح مسلم میں ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اہل بستی کو عذاب نہیں دیا یہاں تک کہ حضور نبی مکرم ﷺ اور مومنین اس سے نکل گئے اور وہاں پہنچ گئے جہاں کا انہیں حکم دیا گیا (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 625 ) ۔ آیت : وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : وہ طواف میں کہا کرتے تھے : غفرانک اور استغفار ان مسلمانوں کی طرف راجع ہے جو ان کے درمیان تھے، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دینے والا نہیں ہے حالانکہ ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
1۔ البخاری وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ابوجہل بن ہشام نے کہا ( آیت) ” اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمائ اوائتنا بعذاب الیم (32) تب یہ نازل ہوا (آیت) وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون (34) “
2:۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) اذقالوا اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک کے بارے میں فرمایا کہ…
Read the full tafseer →[ وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لِيُعَذِّبَهُمْ : کہ وہ عذاب دے ان کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتَ : آپ ] [ فِيْهِمْ ۭ : ان میں ہیں ] [ وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ مُعَذِّبَهُمْ : ان کو عذاب دینے والا ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَسْتَغْفِرُوْنَ : استغفار کرتے ہیں ]
(آیت ۔ 33) کان کی خبر ہونے کی وجہ سے معذبھم حالت نصب میں ہے ۔
نوٹ ۔ 1: اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی دوصورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ پوری قوم کا نام ونشان مٹا دیا جائے ۔ یہ فیصلہ کن عذاب ہوتا ہے، جیسا کہ قوم نوح ، قوم لوط ، قوم شعیب وغیرہ پر نازل ہوا ، دوسری صورت یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
مشرکین کا عناد اور جھوٹا دعویٰ کہ ہم بھی قرآن جیسا کلام کہہ سکتے ہیں
قبیلہ بنی عبدالدار میں سے ایک شخص نضربن الحارث تھا یہ بھی رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ دشمنی رکھتا تھا۔ مشرکین مکہ قرآن مجید سنتے تھے اور اس کے مقابلہ میں کوئی ایک آیت لانے سے عاجز تھے۔ اس کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے جب ان کو چیلنج دیا گیا کہ اس کے مقابلہ میں ایک سورت بنا کر لاؤ تو عاجز رہ گئے۔ لیکن نضر بن الحارث نے ” کھسیانی بلی کھمبا نوچے “ کے طریقہ پر خفت مٹانے کے لیے یوں کہا کہ ” لَوْنَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ۔ “ (اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام کہہ دیں) مطلب یہ تھا کہ یہ بات نہیں کہ ہم عاجز ہیں کہہ تو سکتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
تفصیل مکائکفار در ابطال دین پروردگار
قال اللہ تعالیٰ ٰ واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا قد سمعنا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ذات نبوی کے متعلق کفار کے کید اور مکر کا حال بیان فرمایا اب آئندہ آیات میں دین محمد کے بارے میں کفار کے کید ومکر کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ وہ دین اسلام کے مٹانے کے لیے کیا کیا حیلے اور بہانے تراشتے تھے اور کس طرح جان ومال سے اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت اور دشمنی کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار قریش کے تمرد اور عناد اور ان کے متکبرانہ دعاوی اور احمقانہ عادتوں کا بیان ہے اولئک ھم المخسروان۔ تک یہی مضمون چلا گیا…
Read the full tafseer →35 یہ عذاب نہ آنے کی دوسری وجہ ہے۔ اور اس سے یا تو مشرکین کا استغفار مراد ہے۔ کیونکہ وہ طواف کرتے وقت اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کے استغفار سے بھی عذاب الٰہی ٹل سکتا ہے (روح ج 9 ص 200) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ اس سے ان مؤمنین کا استغفار مراد ہے جو مکہ مکرمہ میں تھے۔ اس کی تائید سورة فتح کی اس آیت سے ہوتی ہے۔ “ لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ” امام رازی لکھتے ہیں۔ “ وَ مَا کَانَ اللّهُ مُعذب ھؤلاء الکفار و فیھم مؤمنون یستغفرون ” (کبیر ج 4 ص 541) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
ربط ِ آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فلاں کے پانچ اصول بیان فرمائے ہیں ، پانچواں اصول خوفِ خدا یعنی تقوی کا راستہ اختیار کرنا اور اسی کی ذات پر بھروسہ رکھنا ہے ، اگر اہل ایمان اس اصول پر کاربند رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہر چیز کو فیصلہ کن بنا دیگا اور یہ چیز ان کے باطن کے لحاظ سے نور بصیرت ہوگی ، ان کے دلوں میں احسان کی حالت راسخ ہوجائے گی ، حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا ہوگا اور خارجی دنیا میں ہر قسم کے شکوک و شبہات دفع ہوجائیں گے یہی تقوے کا نتیجہ ہے اور یہی مدار فلاح ہے ان کے لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوگی جس کی بین مثال غزوہ بد ہے ، اس جنگ میں کامیابی کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ اللہُ لِيُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِيْہِمْ 0 ۭ وَمَا كَانَ اللہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ 33
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في
العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21]
واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر،
( ع ذ ب )
العذاب
سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
ترکیب : واذیمکر اور اذ قالوا کا عامل عامہ مفسرین کے نزدیک اذکر ہے والا رجح ماذکرنا فی مقدمۃ تفسیر نا۔ واذ شرط قالوا جواب شرط۔ ان شرطیہ ھذا کان کا اسم الحق خبر ہے دونوں میں فاصل من عندک الحق کی صفت فامطر الی عذاب الیم جواب شرط مجموعہ مقولہ ہے قالوا کا۔ اللہم نداء ای یا اللہ۔ ان لایعذبہم ای فی ان لا یعذبھم فھو فی موضع نصب اوجر۔ صلاتہم جمہور صلوۃ کو بالرفع اور مکاء کو بالنصب پڑھتے ہیں اور اعمش بالعکس پڑھتے ہیں۔ مکاء کی ہمزہ و سے بدل ہے من مکایمکو 1 ؎۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے قیام مکہ کی چند باتیں یاد دلاتا ہے جو مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں کہ ہم نے تم کو ان حوادث…
Read the full tafseer →وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ بَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ ط وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّ بَھُمْ وَ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔
( الانفال : 33)
اور اللہ ہرگز ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب تک آپ ان میں تھے اور اللہ ان کو عذاب دینے کا روادار نہیں ہوسکتا ہے جب تک وہ معافی مانگتے رہیں گے۔
عذاب نہ دینے کے دو سببـ
قریش کا یہ سمجھنا کہ چونکہ اللہ کی طرف سے اب تک عذاب نہیں آیا ہے حالانکہ پیغمبر نے انھیں باربار تنبیہ کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب آنے کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے پروردگار نے اپنی ایک سنت ذکر فرمائی ہے۔ اللہ کی سنت اور قانون یہ ہے کہ جب تک اللہ کا رسول اپنی قوم میں موجود ہوتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی وجہ جدوجہد سے تنگ آکر کفار کی انتہا درجے کی جہالت، اکھڑ مزاجی اور اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی۔
مکہ کے سردار اس قدر ہٹ دھرمی اور جہالت پر اتر آئے کہ ایک دن ابو جہل کے ساتھ مل کر بیت اللہ میں جمع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور اس کی توفیق مانگنے کے بجائے بیت اللہ کے غلاف کو پکڑ کر یہ دعا مانگتے ہیں۔ بار الٰہا ! اگر واقعی محمد ﷺ سچارسول ہے اور اس پر تو نے حق نازل کیا ہے تو پھر ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا۔ یا ہمیں اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔ دنیا کی تاریخ میں شاید یہ پہلا اور آخری واقعہ ہوگا کہ جس میں انسان اس حد تک بغاوت پر اتر آیا ہو کہ وہ اللہ…
Read the full tafseer →ہجرت تک عذاب رکا رہا :
آیت 33: وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ بَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ (اور اللہ ایسا نہیں کریگا کہ ان کے اندر آپ کے موجود ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے) اس میں لام نفی تاکید کیلئے ہے۔ اس میں یہ دلالت ہے کہ جب تک آپ ان میں اقامت پذیر ہیں ان کو عذاب نہ دیا جائے گا کیونکہ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا اور اللہ تعالیٰ کا طریقہ سابقہ امم میں یہ چلا آرہا ہے کہ کسی قوم کو استیصال کا عذاب اس وقت نہیں دیا جاتا جب تک انکا پیغمبران میں موجود ہو۔ اس سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ پیغمبر ﷺ کے ہجرت کرنے تک عذاب ان سے رکا ہوا ہے۔ وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (اور اللہ…
Read the full tafseer →33(وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم)
اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔ محمد ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں یہ مشرکین کا قول نقل کیا ہے۔ یہ پہلی آیت سے متصل ہے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہم استغفار کرتے ہیں اللہ ہمیں عذاب نہ دیں گے اور اللہ کسی ایسی امت کو عذاب نہیں دیتا جن کا نبی ان میں ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کی جہالت ، دھوکہ اور اپنے خلاف بد دعا کرنے کو ذکر کیا۔” واذا قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمائ “ اور انہوں نے کہا ” وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معلبھم وھم یستغفرون “ پھر ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ” ومالھم الا یعذبھم اللہ اگرچہ آپ (علیہ…
Read the full tafseer →33۔ ابوجہل اور نضر بن حارث نے جب یہ دعا مانگی کہ یا اللہ یہ دین جس کی طرف محمد ﷺ ہم کو مائل کرنا چاہتے ہیں اگر حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اب تک تو تم لوگوں پر کب کا عذاب نازل ہوچکا ہوتا لیکن دوسبب سے تم پر عذاب نہیں آیا ہجرت سے پہلے تو نبی وقت تم میں تھے اور ان کے سبب سے ایک دو مسلمان ہوتے رہتے تھے نبی کی ہجرت کے بعد ضعیف لوگ جو ہجرت نہیں کرسکے وہ مکہ میں تھے جو ہمیشہ اللہ سے مغفرت کی دعا کرتے رہتے تھے صلح حدیبیہ کے بعدرفتہ رفتہ وہ لوگ بھی مکہ سے نکل آئے اب تم پر عذاب آیا بدر میں ستر بڑے بڑے سردار مارے گئے آخر خود مکہ فتح ہوگیا بعضے مفسروں نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
آیت 30
یعنی اے رسول ﷺ ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، (واذیمکر بک الذین کفروا) ” جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں “ جب مشرکین مکہ نے ” دارلندوہ “ میں مشورہ کیا کہ رسول ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟
(1) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کردیا جائے۔
(2) آپ کو قتل کردیا جائے تاکہ۔۔۔ بزعم خود۔۔۔ ہمیشہ کے لئے آپ سے نجات حاصل کرلیں۔
(3) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کردیا جائے۔
ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لعنہ اللہ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
قوم کو پیغمبر کی موجودگی میں عذاب الٰہی نہیں ہوتا
قول باری ہے وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون۔ اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہیں تھا جب کہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ یہ اللہ کا باقاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے) یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسا عذاب دینے والا نہیں تھا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا جبکہ حضور ﷺ کے درمیان موجود ہوتے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تھا اس لئے آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے انہیں عذاب نہیں دیا جائے گا جب آپ ﷺ ان کے یعنی اہل مکہ کے درمیان سے نکل جائیں گے تو یہ لوگ عذاب کے مستحق قرار…
Read the full tafseer →56 پیغمبر کا وجود باعث رحمت اور ذریعہ امن وامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ایسا نہیں کہ ان لوگوں کو عذاب دے جبکہ آپ اے پیغمبر بذات خود ان کے اندر موجود ہوں۔ آپ ﷺ کا وجود باجود اہل زمین کے لئے امن وامان کا ذریعہ اور باعث خیر و برکت ہے۔ اور اللہ پاک کا قانون اور دستور یہی ہے کہ جب پیغمبر اپنی امت کے اندر موجود ہوں تو ان پر عذاب نازل نہیں ہوتا۔ (معارف، صفوۃ اور تفسیر کبیر وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد سے ان بدبختوں کے اس سوال کا جواب دے دیا گیا اور ان کی اس غلط فہمی کا ازالہ کردیا گیا کہ اگر ہم باطل پر ہیں تو ہم پر عذاب آتا کیوں نہیں ؟ سو ان کو یہ جواب دیا گیا کہ " اللہ ایسا نہیں کہ ان کو عذاب دے جبکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
عذاب کا مطالبہ اور عذاب نہ آنے کی وجہ
تشریح : یہ آیات اس زمانہ کے حالات بتا رہی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تھی 610 عیسوی میں غار حرا میں پہلی وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ توحید کی تعلیم اہل مکہ کے لیے بڑی عجیب و غریب تھی۔ اس لیے اکثریت میں لوگ آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے تب 622 ء میں آپ نے مدینہ ہجرت کی۔ 1 ہجری 14 نبوت تھی۔ ہجرت سے پہلے کے حالات یہ تھے کہ جب آپ ﷺ لوگوں کو قرآنی آیات پڑھ کر سناتے تو کفار مکہ لاپروائی سے کہتے کہ یہ کوئی بڑے کمال کی آیات نہیں ہیں ہم تو اس سے اچھا کلام سنا سکتے ہیں اور پھر دوسرا اعتراض یہ کرتے کہ کیا رکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
آیات 29 تا 37
اسرار و معارف
تقوی کے ثمرات
اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی جب تک آپ ﷺ ان میں موجود تھے اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے والا نہیں تھا کیونکہ اس کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ کیس قوم پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتا جب تک اس کا رسول ( علیہ السلام) ان میں موجود رہتا ہے۔ چناہ حضرت نوح ( علیہ السلام) ہود، صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کے وقعات ہمارے سامنے ہیں۔ ( ابن کثیر)7 یعنی یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنے گنا ہوں پر نادم ہو کر استغفار کرتی رہتی ہے وہ اسے ہلاک نہیں کرتا نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ کنہگاروں کو دو چیز پناہ ہیں ایک میرا وجود اور دوسرے استٖغفار، ( مو ضح) منقول ہے کہ مشرکین طواف کے وقت عغرانک غفرانک کہا کرتے تھے یا مقصد یہ…
Read the full tafseer →(8:33) وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیہم۔ وما کان اللہ لیعدذبھم وھم یستغفرون۔ اور جب تک تو (اے محمد ﷺ ) ان (مشرکین مکہ) میں موجود تھا۔ تو یہ اللہ ان کو عذاب دینے کا نہ ہوا۔ اور نہ ہی وہ ان کو عذاب دینے والا ہوا جب تک وہ استغفار کرسکتے تھے یعنی ان میں یہ صلاحیت موجود تھی۔ وھم یستغفرون کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔
بعض کے نزدیک یہ کہ جب مشرکین بیت اللہ کا طواف کرتے تو یہ پڑھتے تھے۔ لبیک اللہم لبیک لا شریک لک لبیک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک غفرانک۔ اسی طلب غفران کی وجہ سے وہ عذاب سے مامون رہے ۔ لیکن یہ صورت حال تو فتح مکہ تک بدستور رہی اور اس کی موجودگی میں ہی فتح مکہ کی صورت میں وہ معتوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
آیات : 30 تا 33
لغات القرآن۔
یمکر۔ وہ تدبیر کرتا ہے۔ لیثبوک۔ تاکہ وہ تجھے قید کرلیں۔ خیر الماکرین۔ بہترین تدبیر کرنے والا۔ اساطیر۔ (اسطورۃ) ۔ پرانی کہانیاں۔ لکھی ہوئی چیز۔ اللھم۔ میرے اللہ۔ امطر۔ برسادے۔ حجارۃ۔ (حجر) ۔ پتھر۔ انت فیھم۔ تو ان میں ہے ) (آپ ﷺ ان میں ہیں) ۔ یستغفرون۔ وہ معافی مانگتے ہیں۔
تشریح : وہ آخری دن جب آپ ﷺ ہجرتے سے پہلے شہر مکہ میں تھے۔ اور بہت سے صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے حبشہ اور دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے کفار مکہ آثار و قرائن سے یقین کرچکے تھے کہ اب حضرت محمد ﷺ بھی ہجرت کر جانے والے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہجرت کی صورت میں ان کے سامنے کیا کیا…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کا وجود کفار کے لئے بھی باعث رحمت تھا۔ اس لئے جب تک آپ ان میں رہے اس وقت تک ان پر کوئی عذاب نازل نہ ہوا مگر جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ گنہگار گو کیسا ہی بڑے سے بڑا گناہ کرلے دوچیزیں پناہ کی ہیں : ایک تو میرا وجود، دوسرے استغفار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔
Read the full tafseer →(ف 2) حضور ﷺ کی رحمۃ اللعالمینی کا تذکرہ ہے یعنی گو یہ لوگ عذاب طلب کرتے ہیں ، مگر جب تک آپ کو وجود گرامی ان میں رہے گا ، اللہ تعالیٰ عذاب نہیں بھیج سکتے ، حضور ﷺ کا احترام عذاب سے مانع ہے ، اور پھر دوسری وجہ یہ تھی کہ عذاب طلبی میں وہ صادق بھی نہ تھے ، دل میں خائف تھے کہ کہیں واقعی عذاب نہ آجائے ، اس لئے چھپ چھپ کر استغفار کرتے ۔
جب حضور ﷺ نے مکہ کو چھور دیا اور مدینہ میں رہنے لگے تو اس وقت بدر کی صورت میں قریش کی یہ طلب بھی پوری ہوگئی یعنی عذاب ؤیا ، اور ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے ۔
Read the full tafseer →33 اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں اور حضرت حق تعالیٰ کو یہ مناسب نہیں کہ اے محمد ﷺ ! آپ ان میں موجود ہوں اور پھر وہ ان کو ایسا عذاب کے اور کوئی خارق عادت عذاب بھیج کر ان کا استیصال کردے اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان بھی نہیں کہ وہ ان کو عذاب کرے درآنحالیکہ وہ بخشش مانگنے والے ہوں۔
یعنی سنت اللہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں پیغمبر موجود رہتا ہے اور وہ قوم بخشش طلب کرتی رہتی ہے تو اس قوم پر عذاب استیصال نہیں آتا اور وہ قوم بالکلیہ فنا نہیں کی جاتی۔ یہ مطلب نہیں کہ کفر وعناد کے باوجود کسی قسم کا عذاب ہی نہیں آتا، ادھر تو نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے۔ دوسری طرف یہ کافر طواف کے موقعہ پر غفرانک غفرانک کہتے…
Read the full tafseer →ف 3۔ مطلب یہ کہ ان عقوبات خارقہ سے دوامر مانع ہیں ایک نبی ﷺ کا تشریف رکھنا مکہ میں یا دنیا میں اور دوسرا لوگوں کا اپنے طواف وغیرہ میں یہ کہنا غفرانک غفرانک جو کہ بعد ہجرت بعد وفات بھی باقی تھا۔
Read the full tafseer →فرمایا جتنے جلد باز تم ہو اللہ بھی ایسا جلد باز ہوتا تو تمہارا تیا پانچا کردیا جاتا :
45: قرآن کریم ان کو جواب دیتا ہے کہ اے قریش مکہ ! جتنا جلد باز تم ہو اللہ اتنا جلد باز نہیں۔ جس شخص کی باتوں سے تنگ آکر تم نے ایسی بات منہ سے نکالی ہے دراصل وہی اس عذاب الٰہی کی رکاوٹت کا باعث ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے اندر اللہ کا رسول بھی موجود ہو اور تم پر عذاب بھی نازل ہوجائے یہ بات اللہ کے قانون کے خلاف ہے اور اللہ کبھی اپنے قانون کے خلاف نہیں کرتا۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ جس بستی میں اللہ کا رسول موجود ہو اس بستی میں وہ اس قت تک عذاب نازل نہیں کرتا جب تک کہ اس رسول اللہ کو وہاں سے نکال نہ لے۔ اگر…
Read the full tafseer →The answer to this was given by the Qur'an itself. First, it was said: وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ (And Allah is not to send punishment upon them while you are in their midst [ in Makkah ] - 33). The reason is that it is the customary practice of Allah Ta` ala with all blessed prophets that He would not send His punishment over a habitation where they are present until He takes out his prophets from there. This is as it happened in the case of Sayyidna Hud, Sayyidna Salih and Sayyidna Lut, may peace be upon them all. Punishment did not come as long as they remained in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
27. This is a rejoinder to the challenge implicit in the above-mentioned remark of the unbelievers. In response it was explained why people were spared heavenly scourge during the Makkan period of the Prophet's life. The first reason being that God does not punish a people as long as the Prophet is in their midst, busy inviting them to the truth. Such people are rather granted respite and are not deprived of the opportunity to reform themselves by sending a scourge all too quickly. Second, if there are a good number of people in a land who recognize that they have been negligent and heedless…
Read the full tafseer →