Al-Anfaal 8:32

Al-Anfaal · from ayah 32

8:32

وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰذَا هُوَ الۡحَـقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَ لِيۡمٍ

اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [remember] when they said, "O Allah, if this should be the truth from You, then rain down upon us stones from the sky or bring us a painful punishment."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 4 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:32

اور وہ بات بھی یاد ہے جو اُنہوں نے کہی تھی کہ“خدایا اگر یہ واقعی حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی درد ناک عذاب ہم پر لے آ"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب کہ ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر کوئی دردناک عذاب واقع کر دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور ایک وقت وہ تھا) جب انہوں نے کہا تھا کہ : یا اللہ ! اگر یہ (قرآن) ہی وہ حق ہے جو تیری طرف سے آیا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے، یا ہم پر کوئی اور تکلیف دہ عذاب ڈال دے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب بولے کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب انہوں نے (طعناً) کہا: اے اللہ! اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو (اس کی نافرمانی کے باعث) ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب بھیج دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب انھوں نے کہا اے اللہ ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب کافروں نے کہا تھا : اے اللہ ! اگر یہی (دین) حق ہے جو تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے یا ہمیں کسی درد ناک عذاب سے دوچار کردے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب انہوں نے کہا کہ اے اللہ اگر یہی حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی اور دردناک عذاب لا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اے اللہ ! اگر یہ دین واقعی حق ہے تیری طرف سے، تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا لے آ ہم پر اور کوئی دردناک عذاب،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت بھی یاد دلائیے) جب (ان لوگوں نے) کہا تھا کہ اے اللہ اگر یہ (کلام) تیری طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا پھر (کوئی اور ہی) عذاب درد ناک لے آ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب انہوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر یہ (قرآن) تیری ہی طرف سے برحق ہے تو برسا دے ہم پر پتھر آسمان سے یابھیج دے ہم پر کوئی دردناک عذاب۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب انہوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی تکلیف دہ عذاب بھیج دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And also recall when they said: 'O Allah! If this indeed be the truth from You, then rain down stones upon us from heaven, or bring upon us a painful chastisement.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (recall) when they said, :O Allah, if this is indeed the truth (revealed) from You, then, rain down stones upon us from the heavens, or bring upon us a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

And (recall) when they said, :O Allah, if this is indeed the truth (revealed) from You, then, rain down stones upon us from the heavens, or bring upon us a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when they said: "O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth (revealed) from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they said: O Allah! If this be indeed the truth from Thee, then rain down stones on us or bring on us some painful doom!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [remember] when they said, "O Allah, if this should be the truth from You, then rain down upon us stones from the sky or bring us a painful punishment."

— Saheeh International

They also say, "Lord, if this (Quran) is the Truth from you, shower down stones on us from the sky instead of rain or send us a painful punishment".

— Muhammad Sarwar

And when they said: O Allah! if this is the truth from Thee, then rain upon us stones from heaven or inflict on us a painful punishment.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time they said: O God! if this indeed be the truth from before Thee, then rain down stones upon us from heaven or bring on us a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

Remember how they said: "O Allah if this is indeed the Truth from Thee, rain down on us a shower of stones form the sky, or send us a grievous penalty."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–33

عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور وتکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہہ دیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہوگئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْفَال 26 یہ بات وہ دعا کے طور پر نہیں کہتے تھے بلکہ چیلنج کے انداز میں کہتے تھے۔ یعنی ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر واقعی یہ حق ہوتا اور خدا کی طرف سے ہوتا تو اس کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم پر آسمان سے پتھر برستے اور عذاب الیم ہمارے اوپر ٹوٹ پڑتا۔ مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ نہ حق ہے نہ منجانب اللہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔ یعنی اے اللہ اگر یہی قرآن آپ کی طرف سے حق ہے تو ہم پر پتھر برسا دیجئے یا کوئی دوسرا سخت عذاب نازل کر دیجئے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 31–32

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ، یہ مضمون انعام آیت 92 میں بھی گزر چکا ہے، یہاں یہ آیتیں یہ واضح کرنے کے لیے آئی ہیں کہ قریش کی طرف سے برابر خدا کو کس طرح کے چیلنج پر چیلنج دیے جا رہے تھے اور پیغمبر کو زچ کرنے کے لیے کیا کیا شیخیاں بگھاری جا رہی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے چیلنج کے جواب میں ان پر عذاب نہیں بھیجا جس سے ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 30–32

30۔ 1 یہ اس سازش کا تذکرہ جو روسائے مکہ نے ایک رات دار الندہ میں تیار کی تھی اور بالاخر یہ طے پایا تھا کہ مختلف قبیلوں کے نوجوانوں کو آپ کے قتل پر مامور کیا جائے تاکہ کسی ایک کو قتل کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے بلکہ دیت دیکر جان چھوٹ جائے۔ 30۔ 2 چناچہ اس سازش کے تحت ایک رات یہ نوجوان آپ کے گھر کے باہر اس انتظار میں کھڑے رہے کہ آپ ﷺ باہر نکلیں تو آپ کا کام تمام کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سازش سے آگاہ فرمادیا اور آپ ﷺ کے نکلنے کا پتہ ہی نہیں لگا، حتیٰ کہ آپ غار ثور میں پہنچ گئے۔ یہ کافروں کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر تھی۔ جس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 30–32

18: یہ آیت آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ کررہی ہے، کفار مکہ نے جب یہ دیکھا کہ اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور مدینہ منورہ میں بڑی تعداد مسلمان ہوچکی ہے، تو انہوں نے ایک مجلس مشاورت منعقد کی اس میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں، یہ آیت ان تمام تجویزوں کا ذکر کررہی ہے، یعنی گرفتاری، قتل، اور جلا وطنی، آخر میں فیصلہ یہ ہوا تھا کہ مختلف قبیلوں سے ایک ایک نوجوان لے کر سب یکبارگی آپ ﷺ پر حملہ آور ہوں، اللہ تعالیٰ نے یہ ساری باتیں آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے بتادیں اور ہجرت کا حکم دے دیا، آپ کے گھر کا محاصرہ ہوچکا تھا، مگر آپ وہاں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اس طرح نکل آئے کہ وہ آپ کو نہ دیکھ سکے،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ذرا آگے ملاحظہ کیجیے۔ جب قرآن کے مقابلے سے یہ دشمن عاجز آجاتے ہیں اور ان کی سازش ناکام ہوجاتی ہے تو یہ اس کے مقابلے میں عجیب طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور ان کا جذبہ عناد اور ان کا غرور انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ یہ رویہ اختیار کریں اور کسی صورت میں بھی مان کر نہ دیں۔ اب یہ لوگ تمناؤں کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں کہ اگر یہ حق ہے تو اے اللہ ہم پر پتھر برسا دے۔ یا اور کوئی دردناک عذاب ہم پر نازل کردے۔ لیکن وہ حق کے اتباع اور حق کی حمایت کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ یہ عجیب و غریب دعاء ہے ۔ اس سے اس کٹر بغض وعناد کا اندازہ ہوجاتا ہے جو ان لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف پایا جاتا تھا کہ وہ ہلاکت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 اس آیت میں مشرکین مکہ کے انتہائی جہل اور شقاوت وعناد کا اظہار ہے یعنی وہ کہتے تھے کہ خداوندا اگر واقعی یہ ہی دین حق ہے جس کی ہم اتنی دیر اور اس قدر شدومد سے تکذیب کر رہے ہیں تو پھر دیر کیوں ہے ؟ گزشتہ اقوام کی طرح ہم پر بھی پتھروں کا مینہ کیوں نہیں برسا دیا جاتا۔ یا اسی طرح کے کسی دوسرے عذاب میں مبتلا کر کے ہمارا استیصال کیوں نہیں کردیا جاتا ؟ کہتے ہیں کہ یہ دعاء ابو جہل نے مکہ سے نکلتے وقت کعبہ کے سامنے کی۔ آخر جو کچھ مانگا تھا اس کا ایک نمونہ بدر میں دیکھ لیا۔ وہ خود مع 29 سرداروں کے کمزور اور بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارا گیا۔ ستر سردار اسیری کی ذلت میں گرفتار ہوئے۔ اس طرح خدا نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 وَاِذْ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ اءْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ سرداران قریش کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوگیا تھا کہ مکہ کے عام لوگوں کو محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے اثرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ اس کے لیے وہ مختلف قسم کی تدبیریں کرتے رہتے تھے ‘ جن کا ذکر قرآن میں بھی متعدد بار ہوا ہے۔ اس آیت میں ان کی ایسی ہی ایک تدبیر کا تذکرہ ہے۔ ان کے بڑے بڑے سردار عوام کے اجتماعات میں علی الاعلان اس طرح کی باتیں کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے اور ہم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 ابو جہل کا مطالبہ عذاب :۔ یہ بات ابو جہل نے کہی تھی اور ازراہ طنز کہی تھی اور مسلمانوں کو سنا کر کہی تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ مسلمان سچے ہیں تو جس قدر دکھ اور تکلیفیں ہم انہیں پہنچا رہے ہیں اس کی پاداش میں تو ہم پر اب تک آسمان سے عذاب نازل ہوجانا چاہیے تھا اور وہ عذاب چونکہ آج تک ہم پر نازل نہیں ہوا۔ لہذا مسلمانوں کا دین جھوٹا ہے اور یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوسکتا۔ ابوجہل کی اس دعا کا ایک جواب تو پہلے اسی سورة میں گزر چکا ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس (غزوہ بدر) سے پہلے تم حق اور باطل میں فیصلہ کرنے کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ سو اب غزوہ بدر کی صورت میں میرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

45 ۔ (یعنی اس طرح کا کوئی خارق عادت) صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ اس قول کا قائل ابوجہل بن ہشام تھا، اور طبرانی وغیرہ دوسری روایتوں میں نام نضر بن الحارث کا آتا ہے لیکن بہرحال ایک کا نام دوسرے کے منافی نہیں اور جیسا کہ محدث حافظ ابن حجر نے فیصلہ کیا ہے ممکن ہے دونوں نے ہی کہا ہو، لیکن ترجیح ابوجہل والی روایت کو ہے۔ ولانھا فی ذالک مافی الصحیح لاحتمال ان یکون قالاہ ولکن نسبتہ الی ابی جھل اولی (فتح الباری) یہ بھی بہ آسانی ممکن ہے کہ کہنے والا کوئی ایک ہو، اور اس کے ہم زبان اور بہت سے اہل قریش ہوگئے ہوں۔ قال الجمھور قائل ذالک کفار قریش (بحر) وان کان ھذا القول نسب الی جماعۃ فلعلہ بدأورضی الباقون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–32

وَاذایتلی عَلَیھم آیاتنا قالوا سَمِعْنا لو نشائُ لَقُلْنا مِثلَ ھذا، نضر بن حارث جو ایک چرب زبان تیز طرار قسم کا شخص تھا، اسی نے کہا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا قرآن بنا کر پیش کرسکتے ہیں، یہ وہی شخص ہے جس کو بدر کی لڑائی میں حضرت مقداد ؓ نے پکڑ لیا تھا باوجود اس کے کہ بدر کے قیدی فدیہ لے کر رہا کردیئے گئے تھے مگر نضربن حارث کو نبی ﷺ نے قتل کرادیا تھا کہ وہ قرآن مجید کی شان میں ناشائستہ اور سخت الفاظ کہا کرتا تھا، تجارت کے سلسلہ میں یہ شخص عجمی ممالک کا اکثر سفر کیا کرتا تھا جس کی وجہ سے رستم واسفندار کی داستانیں اس کو خوب یاد تھیں قرآن کے مقابلہ میں مشرکوں کو وہ داستانیں سنایا کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذ قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃً من السمآء اور جب انہوں نے کہا : اے اللہ ! اگر یہ (قرآن) تیری جانب سے حق ہی ہے (اور ہم اس کی صداقت سے انکار کرتے ہیں تو انکار کی پاداش میں) ہم پر آسمان سے پتھر برسا جیسے اصحاب فیل اور قوم لوط کو تو نے سزا دی تھی۔ اوائتنا بعذاب الیم۔ یا کوئی اور اذیت رساں عذاب ہم پر بھیج دے۔ یہ بات کہنے سے ان کا مقصد محض استہزاء کرنا اور یہ بتانا تھا کہ ہم یقین رکھتے ہیں اور بصیرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ بات کہنے والا نضر بن حارث ہی تھا ‘ اسی کے متعلق یہ آیت نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(32) اور جب نضر بن حارث نے کہا کہ اے اللہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں کہ تو اکیلا ہے اگر یہ واقعی درست ہے تو اس کے انکار پر ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی دردناک عذاب نازل کردے، چناچہ یہ نضر بن حارث بدر کے دن مارا گیا۔ شان نزول : (آیت) ”واذ قالوا اللہم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے سعید بن جبیر ؓ سے اس فرمان الہی کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ : یہ آیت اس بات کی مثال ہے کہ انسان جب مخالفت اور شدید دشمنی پر اتر آئے تو وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یا کر رہا ہوں اس میں خود میرا کس قدر نقصان ہے۔ اب مکہ کے جاہل کافروں کو دیکھیے، اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنے کے بجائے کہ یا اللہ ! اگر یہ دین حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہمیں اس کے قبول کرنے کی توفیق دے، وہ رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں کہہ رہے ہیں کہ یا اللہ ! اگر یہ دین واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر عذاب الیم لے آ۔ اپنے خیال میں انھوں نے یہ بڑی دانش مندی کی بات کی ہوگی، مگر یہ قیامت تک کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 32 قراء نے الحق کو کان کی خبر ہونے کی بنا پر منصوب پڑھا ہے اور درمیان میں ھو ضمیر فصل ہے۔ اور آیت : ھو الحق مرفوع بھی جائز ہے۔ آیت : من عندک ( تیری طرف سے) زجاج نے کہا ہے : مین کسی کو نہیں جانتا جس نے اس کے ساتھ پڑھا ہو۔ اور اس کے جائز ہونے میں علماء نحو کے ددمیان کوئی اختلاف نہیں، لیکن قراءت سنت ہے اور اس میں صرف قرات مرضیہ کے ساتھ ہی پڑھا جائے گا۔ اس بارے میں بھی اختلاف ہے کہ یہ قول کس نے کیا ہے ؟ پس حضرت مجاہد اور ابن جبیر نے کہا ہے : یہ کہنے والا نضر بن حارث تھا۔ حجرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا : یہ کہنے والا ابو جہل ہے (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورة انفال، جلد 2، صفحہ 669 ) ۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–34

1۔ البخاری وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ابوجہل بن ہشام نے کہا ( آیت) ” اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمائ اوائتنا بعذاب الیم (32) تب یہ نازل ہوا (آیت) وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون (34) “ 2:۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) اذقالوا اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک کے بارے میں فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذْ : اور جب ] [ قَالُوا : انھوں نے کہا ] [ اللّٰهُمَّ : اے اللہ ] [ اِنْ : اگر ] [ كَانَ : ہے ] [ هٰذَا : یہ ] [ هُوَ الْحَقَّ : ہی حق ] [ مِنْ عِنْدِكَ : تیرے پاس سے ] [ فَاَمْطِرْ : تو، تو برسا ] [ عَلَيْنَا : ہم پر ] [ حِجَارَةً : کچھ پتھر ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ اَوِ : یا ] [ ائْتِنَا : تو لے آہم پر ] [ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ : کوئی درد ناک عذاب ] ترکیب : (آیت ۔ 32) ان شرطیہ کی وجہ سے کان کا ترجمہ حال میں ہوگا ، کان کا اسم ھذا ہے اور الحق اس کی خبر ہے، جبکہ ھو ضمیر فاصل ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–33

مشرکین کا عناد اور جھوٹا دعویٰ کہ ہم بھی قرآن جیسا کلام کہہ سکتے ہیں قبیلہ بنی عبدالدار میں سے ایک شخص نضربن الحارث تھا یہ بھی رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ دشمنی رکھتا تھا۔ مشرکین مکہ قرآن مجید سنتے تھے اور اس کے مقابلہ میں کوئی ایک آیت لانے سے عاجز تھے۔ اس کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے جب ان کو چیلنج دیا گیا کہ اس کے مقابلہ میں ایک سورت بنا کر لاؤ تو عاجز رہ گئے۔ لیکن نضر بن الحارث نے ” کھسیانی بلی کھمبا نوچے “ کے طریقہ پر خفت مٹانے کے لیے یوں کہا کہ ” لَوْنَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ۔ “ (اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام کہہ دیں) مطلب یہ تھا کہ یہ بات نہیں کہ ہم عاجز ہیں کہہ تو سکتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–37

تفصیل مکائکفار در ابطال دین پروردگار قال اللہ تعالیٰ ٰ واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا قد سمعنا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ذات نبوی کے متعلق کفار کے کید اور مکر کا حال بیان فرمایا اب آئندہ آیات میں دین محمد کے بارے میں کفار کے کید ومکر کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ وہ دین اسلام کے مٹانے کے لیے کیا کیا حیلے اور بہانے تراشتے تھے اور کس طرح جان ومال سے اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت اور دشمنی کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار قریش کے تمرد اور عناد اور ان کے متکبرانہ دعاوی اور احمقانہ عادتوں کا بیان ہے اولئک ھم المخسروان۔ تک یہی مضمون چلا گیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

34: یہ ساتویں علت ہے۔ نضر بن حارث، ابوجہل اور دیگر صنادید قریش نے اللہ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ اگر یہ اسلام اور قرآن جو محمد ﷺ لے کر آئے سچا ہے اور تیری طرف سے ہے۔ تو ہمیں آسمان سے پتھر برسا کر یا کسی دوسرے المناک عذاب سے ہلاک کردے۔ چناچہ مشرکین خود اپنے منہ سے عذاب کا مطالبہ کر کے مکہ سے نکلے تھے۔ اس لیے اللہ نے بدر میں ان پر منہ مانگا عذاب نازل کر ان کو مغلوب اور تم کو غالب کیا۔ اس لیے اب انفال کی تقسیم اللہ ہی کے حکم کے مطابق کرو۔ “ وَ مَا کَانَ اللّٰهُ الخ ” یہ مشرکین پر عذاب نازل نہ کرنے کی وجہ ہے یعنی اللہ کی سنت مستمرہ یہ ہے کہ جب تک پیغمبر اور مومنین شہر میں موجود ہوں اس وقت تک ان پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–34

ربط ِ آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فلاں کے پانچ اصول بیان فرمائے ہیں ، پانچواں اصول خوفِ خدا یعنی تقوی کا راستہ اختیار کرنا اور اسی کی ذات پر بھروسہ رکھنا ہے ، اگر اہل ایمان اس اصول پر کاربند رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہر چیز کو فیصلہ کن بنا دیگا اور یہ چیز ان کے باطن کے لحاظ سے نور بصیرت ہوگی ، ان کے دلوں میں احسان کی حالت راسخ ہوجائے گی ، حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا ہوگا اور خارجی دنیا میں ہر قسم کے شکوک و شبہات دفع ہوجائیں گے یہی تقوے کا نتیجہ ہے اور یہی مدار فلاح ہے ان کے لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوگی جس کی بین مثال غزوہ بد ہے ، اس جنگ میں کامیابی کے لیے اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنْ كَانَ ہٰذَا ہُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۝ 32 «اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–35

ترکیب : واذیمکر اور اذ قالوا کا عامل عامہ مفسرین کے نزدیک اذکر ہے والا رجح ماذکرنا فی مقدمۃ تفسیر نا۔ واذ شرط قالوا جواب شرط۔ ان شرطیہ ھذا کان کا اسم الحق خبر ہے دونوں میں فاصل من عندک الحق کی صفت فامطر الی عذاب الیم جواب شرط مجموعہ مقولہ ہے قالوا کا۔ اللہم نداء ای یا اللہ۔ ان لایعذبہم ای فی ان لا یعذبھم فھو فی موضع نصب اوجر۔ صلاتہم جمہور صلوۃ کو بالرفع اور مکاء کو بالنصب پڑھتے ہیں اور اعمش بالعکس پڑھتے ہیں۔ مکاء کی ہمزہ و سے بدل ہے من مکایمکو 1 ؎۔ تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے قیام مکہ کی چند باتیں یاد دلاتا ہے جو مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں کہ ہم نے تم کو ان حوادث…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–32

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآئُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ لا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الانفال : 31) (اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں بس سن لیا اگر ہم چاہیں ہم بھی ایسا کلام پیش کردیں یہ تو بس اگلوں کی کہانیاں ہیں۔ ) قریش کا اسلام سے متعلق عام رویہ گزشتہ آیت کریمہ میں کافروں نے جس طرح آنحضرت ﷺ کی جان لینے اور اسلامی دعوت کو فنا کرنے کی تدبیر کی اور اللہ نے جس طرح اسے ناکام بنایا اس کا تذکرہ ہم نے پڑھا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ قریش نے اس آخری منصوبہ بندی سے پہلے بھی کوئی تدبیر ایسی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–33

فہم القرآن ربط کلام : قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی وجہ جدوجہد سے تنگ آکر کفار کی انتہا درجے کی جہالت، اکھڑ مزاجی اور اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی۔ مکہ کے سردار اس قدر ہٹ دھرمی اور جہالت پر اتر آئے کہ ایک دن ابو جہل کے ساتھ مل کر بیت اللہ میں جمع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور اس کی توفیق مانگنے کے بجائے بیت اللہ کے غلاف کو پکڑ کر یہ دعا مانگتے ہیں۔ بار الٰہا ! اگر واقعی محمد ﷺ سچارسول ہے اور اس پر تو نے حق نازل کیا ہے تو پھر ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا۔ یا ہمیں اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔ دنیا کی تاریخ میں شاید یہ پہلا اور آخری واقعہ ہوگا کہ جس میں انسان اس حد تک بغاوت پر اتر آیا ہو کہ وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جو مانگا وہ مل گیا : آیت 32: وَاِذْ قَالُوا اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا (اور جب ان لوگوں نے کہا اے اللہ اگر یہ) یعنی قرآن ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ (آپ کی جانب سے حق ہی ہے) نحو : ہذا۔ کان کا اسم ہے ہو، ضمیر فصل ہے اور الحق خبر کان ہے۔ روایت میں ہے نضر نے جب کہا : ان ھٰذا الا اساطیر الاولین۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس کو فرمایا افسوس ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ نضر نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہنے لگا : اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآ ئِ (تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجئے) یعنی اگر قرآن برحق ہے تو سزا کے طور پر ہم کو پتھروں سے سزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32(واذا قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا) یہ آیت بنو عبدالدار کے شخص نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے پہلی امتوں کے واقعات بیان کئے تو نضر کہنے لگا اگر میں چاہتا تو اس کی مثل کہہ لیتا، یہ تو صرف پہلے لوگوں کے احوال ہیں۔ یعنی یہ تو وہ چیزیں ہیں جو پہلوں نے اپنی کتابوں میں لکھی تھیں تو اس کو عثمان بن مظعون ؓ نے کہا کہ اللہ سے ڈر محمد ﷺ حق بات کہتے ہیں، وہ کہنے لگا میں بھی حق کہتا ہوں تو عثمان ؓ نے کہا کہ محمد ﷺ ” لا الہ الا اللہ “ کہتے ہیں۔ نضر نے جواب دیا میں بھی ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہوں لیکن یہ بات اللہ کی بیٹیاں ہیں، پھر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–32

31۔ 32۔ ایک شخص مشرکین مکہ میں نضر بن حارث تھا اس کو بدر کی لڑائی میں مقداد صحابی نے پکڑا تھا اور باوجود اس کے کہ بدر کے اور قیدی فدیہ لے کر چھوڑ دیے گئے مگر نضر بن حارث کو ایسی وجہ سے آنحضرت نے قتل کیا کہ وہ قرآن شریف کی شان میں ناشائستہ اور سخت الفاظ کہا کرتا تھا مجوس کے ملک کا سفر اس نضربن حارث نے اکثر کیا تھا اور رستم واسفند یار وغیرہ کی داستانیں اس کو خوب یاد تھیں۔ قرآن کے مقابلہ میں مشرکین کو وہ داستانیں سنایا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ کہو میرے قصے اچھے ہیں یا محمد ﷺ کے اور کہتا تھا چاہوں تو میں ایسا قرآن بنا سکتا ہوں اس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آگے کی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–33

آیت 30 یعنی اے رسول ﷺ ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، (واذیمکر بک الذین کفروا) ” جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں “ جب مشرکین مکہ نے ” دارلندوہ “ میں مشورہ کیا کہ رسول ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ (1) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کردیا جائے۔ (2) آپ کو قتل کردیا جائے تاکہ۔۔۔ بزعم خود۔۔۔ ہمیشہ کے لئے آپ سے نجات حاصل کرلیں۔ (3) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کردیا جائے۔ ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لعنہ اللہ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–32

فتنہ کا مفہوم قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

55 منکرین کی ہٹ دھرمی کا ایک اور مظہر و نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ جب ان لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اے اللہ اگر یہ واقعی حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا ہم پر کوئی اور دردناک عذاب لے آ۔ سو یہ ایسے بدبخت ہیں کتاب خداوندی پر ایمان لانے کی بجائے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سو یہ ان کفار و معاندین کی بدبختی اور عناد و ہٹ دھرمی کا ایک اور نمونہ و مظہر تھا۔ ان کی بدبختی ملاحظہ ہو کہ بجائے اس کے کہ وہ یوں کہتے کہ اے اللہ اگر یہ دین حق ہے تیری طرف سے تو تو ہمیں اس کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ نہیں تو نہیں۔ مگر وہ الٹا یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ حق اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–34

عذاب کا مطالبہ اور عذاب نہ آنے کی وجہ تشریح : یہ آیات اس زمانہ کے حالات بتا رہی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تھی 610 عیسوی میں غار حرا میں پہلی وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ توحید کی تعلیم اہل مکہ کے لیے بڑی عجیب و غریب تھی۔ اس لیے اکثریت میں لوگ آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے تب 622 ء میں آپ نے مدینہ ہجرت کی۔ 1 ہجری 14 نبوت تھی۔ ہجرت سے پہلے کے حالات یہ تھے کہ جب آپ ﷺ لوگوں کو قرآنی آیات پڑھ کر سناتے تو کفار مکہ لاپروائی سے کہتے کہ یہ کوئی بڑے کمال کی آیات نہیں ہیں ہم تو اس سے اچھا کلام سنا سکتے ہیں اور پھر دوسرا اعتراض یہ کرتے کہ کیا رکھا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–37

آیات 29 تا 37 اسرار و معارف تقوی کے ثمرات اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ یہ دعا کرنے والا ابو جہل تھا چونکہ باقی سب بےا سے پسند کیا تھا اس لیے اسے سب کی طرف منسوب کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 31–32

(8:31) اساطیر۔ کہانیاں ۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ اسطورۃ کی جمع۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–33

آیات : 30 تا 33 لغات القرآن۔ یمکر۔ وہ تدبیر کرتا ہے۔ لیثبوک۔ تاکہ وہ تجھے قید کرلیں۔ خیر الماکرین۔ بہترین تدبیر کرنے والا۔ اساطیر۔ (اسطورۃ) ۔ پرانی کہانیاں۔ لکھی ہوئی چیز۔ اللھم۔ میرے اللہ۔ امطر۔ برسادے۔ حجارۃ۔ (حجر) ۔ پتھر۔ انت فیھم۔ تو ان میں ہے ) (آپ ﷺ ان میں ہیں) ۔ یستغفرون۔ وہ معافی مانگتے ہیں۔ تشریح : وہ آخری دن جب آپ ﷺ ہجرتے سے پہلے شہر مکہ میں تھے۔ اور بہت سے صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے حبشہ اور دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے کفار مکہ آثار و قرائن سے یقین کرچکے تھے کہ اب حضرت محمد ﷺ بھی ہجرت کر جانے والے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہجرت کی صورت میں ان کے سامنے کیا کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–32

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کی بددعا ابوجہل اور بضر بن حارث نے کی تھی، اس طرح کی بددعا مسلمان شخص کو کسی حال میں جائز نہیں ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–40

[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–32

(ف 1) یعنی یہ لوگ قرآن کی عظمت حقیقی سے آگاہ نہ ہوسکے ، قرآن کو جب سنتے ، تو کہتے قصے کہانیاں ہیں ، ہم بھی اس طرح کے قصے بیان کرسکتے ہیں ۔ مگر یہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ قبول کریں ، یا قرآن کے مقاصد اصلیہ تک ان کی رسائی ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

32 اور وہ اقعہ بھی قابل ذکر ہے جب ان منکروں نے یوں دعا مانگی تھی اے اللہ ! اگر یہ قرآن اور یہ دین آپ کی طرف سے واقعی ہے اور یہ قرآن حق ہے اور آپ ہی کا نازل کردہ ہے تو ہم پر اس کے نہ ماننے کی وجہ سے آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر لے آ۔ یعنی کوئی خارق عادت عذاب آجائے مثلاً پتھر برس جائیں یا آگ برس جائے یا اور کوئی ایسا عذاب جس سے پہلی امتیں تباہ ہوئی ہیں ہمارا بھی استیصال کردیا جائے بعض علاء کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تکذیب اور دین کی تکذیب میں ان کی شقادت یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر دعائیں مانگتے تھے کہ اگر یہ قرآن اور یہ دین تیرا ہی بھیجا ہوا ہے تو ہم…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قریش مکہ جواب پیش کرنے کی بجائے بوکھلا کر بد دعا کرنے لگے اور زد میں خود ہی آگئے : 44: انسان کی یہ بھی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بات کا عقل و فکر اور سمجھ سوچ کر جواب نہ دے سکے تو وہ خود اپنی ذات ہی کو گالیاں دینے پر اتر آتا ہے اور برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے۔ یہی بات قریش مکہ نے کی جب ان کو بار بار بلایا گیا اور ان ہی کی کہی ہوئی بات کے مطابق ان سے مطالبہ کیا گیا کہ لاؤ ذرا اپنا سانپ پٹارہ سے باہر بھی نکال کر دکھاؤ تو بو بوکھلا گئے اور کہنے لگے کہ ” خدایا اگر یہ بات (پیغمبر اسلام کی دعوت) تیری جانب سے امر حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا دے یا ہمیں کسی دوسرے دردناک عذاب میں مبتلا کردے۔ “ غور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ‌ عَلَيْنَا حِجَارَ‌ةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ O Allah, if this be indeed the truth [ revealed ] from You, then, rain down upon us stones from the heavens, or bring upon us a painful punishment - 32.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26. These words were uttered by way of challenge rather than a prayer to God. What they meant was that had the message of the Prophet (peace be on him) been true, and from God, its rejection would have entailed a heavy scourge, and stones would have fallen on them from heaven. Since nothing of the sort happened, it was evident that the message was neither true nor from God.

Read the full tafseer →