Al-Anfaal 8:31

Al-Anfaal · from ayah 31

8:31

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ ۙ— اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۟وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَـقُلۡنَا مِثۡلَ هٰذَٓا‌ ۙ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when Our verses are recited to them, they say, "We have heard. If we willed, we could say [something] like this. This is not but legends of the former peoples."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 4 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:31

جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ“ہاں سُن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پُرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں "

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس کے برابر ہم بھی کہہ دیں، یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بے سند باتیں ہیں جو پہلوں سے منقول چلی آرہی ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ : (بس) ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس جیسی باتیں ہم بھی کہہ لائیں۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں، صرف پچھلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں (تو) وہ کہتے ہیں: بیشک ہم نے سن لیا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس (کلام) کے مثل کہہ سکتے ہیں یہ تو اگلوں کی (خیالی) داستانوں کے سوا (کچھ بھی) نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں بیشک ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو یقینا اس جیسا ہم بھی کہہ دیں، یہ تو پہلے لوگوں کی فرضی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان کافروں پر ہماری آیات پڑھی جاتی تھیں تو کہتے تھے : ہم نے یہ کلام سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام بناسکتے ہیں۔ یہ تو وہی پرانی داستانیں ہیں جو پہلے لوگ سناتے چلے آئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتیں، کہتے، بس سن لیا، اگر ہم چاہیں ہم بھی ایسا ہی کلام یش کردیں۔ یہ تو بس اگلوں کے فسانے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیتیں تو یہ پوری ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ہاں صاحب، ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام بنا کرلے آئیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہنے لگتے ہیں بس ہم نے سن لیا ہم چاہیں تو اسی کا سا ہم بھی کہہ لائیں یہ ہے ہی کیا بجز اگلوں کی کہانیوں کے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں بہت سن لیا ہم نے (یہ کلام) اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام ہم بھی کہہ دیں یہ کچھ نہیں سوائے پچھلے لوگوں کی کہانیوں کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ کلام ہم نے سن لیا ہے۔ اگر ہم چاہئیں تو ایسا ہی کلام ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And when Our verses are recited to them, they say: 'We have heard. We could, if we willed, compose the like of it. They, are nothing but fables of the ancient times.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When Our verses are recited to them, they say, :We have heard; if we wish, we can compose a discourse like this. It is nothing but the tales of the ancient people.

— Muhammad Taqi Usmani

When Our verses are recited to them, they say, :We have heard; if we wish, we can compose a discourse like this. It is nothing but the tales of the ancient people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Our Ayat are recited to them, they say: "We have heard (the Qur'an); if we wish we can say the like of this. This is nothing but the tales of the ancients."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Our revelations are recited unto them they say: We have heard. If we wish we can speak the like of this. Lo! this is naught but fables of the men of old.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when Our verses are recited to them, they say, "We have heard. If we willed, we could say [something] like this. This is not but legends of the former peoples."

— Saheeh International

When Our revelations are recited to them (the unbelievers), they say, "We have heard them. Had we wanted, we could also have composed such statements; they are no more than ancient legends."

— Muhammad Sarwar

And when Our communications are recited to them, they say: We have heard indeed; if we pleased we could say the like of it; this is nothing but the stories of the ancients.

— Muhammad Habib Shakir

And when Our revelations are rehearsed unto them, they say: we have heard; we could if we willed, surely say something the like thereof; naught is this but fables of the ancients.

— Abdul Majid Daryabadi

When Our Signs are rehearsed to them, they say: "We have heard this (before): if we wished, we could say (words) like these: these are nothing but tales of the ancients."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–33

عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور وتکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہہ دیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہوگئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 30–31

سورة الْاَنْفَال 25 یہ اس موقع کا ذکر ہے جبکہ قریش کا یہ اندیشہ یقین کی حد کو پہنچ چکا تھا کہ اب محمد ﷺ بھی مدینہ چلے جائیں گے۔ اس وقت وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ شخص مکہ سے نکل گیا تو پھر خطرہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائے گا۔ چناچہ انہوں نے آپ کے معاملہ میں ایک آخری فیصلہ کرنے کے لیے دارالنَّدوہ میں تمام رؤسائے قوم کا ایک اجتماع کیا اور اس امر پر باہم مشاورت کی کہ اس خطرے کا سدّ باب کس طرح کیا جائے۔ ایک فریق کی رائے یہ تھی کہ اس شخص کو بیڑیاں پہنا کر ایک جگہ قید کردیا جائے اور جیتے جی رہا نہ کیا جائے۔ لیکن اس رائے کو قبول نہ کیا گیا کیونکہ کہنے والوں نے کہا کہ اگر ہم نے اسے قید کردیا تو اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اکتیسویں اور بتیسویں آیتوں میں اسی دارالندوہ کے ایک شریک نضر بن حارث کی ایک بےہودہ گفتگو اور تینتیسویں آیت میں یہود و نصاری کی کتابیں اور ان کی عبادتیں دیکھنے کا بار بار اتفاق ہوتا تھا اس لئے جب اس نے قرآن کریم میں پچلھی امتوں کے حالات سنے تو کہنے لگا کہ (آیت) قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ، یعنی یہ باتیں تو ہماری سنی ہوئی ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں یہ تو پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اور جب بعض صحابہ نے اس کو لاجواب کیا کہ اگر تم ایسا کلام کہہ سکتے ہو تو پھر کہتے کیوں نہیں جب کہ قرآن نے حق و باطل کا فیصلہ اس پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 31–32

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ، یہ مضمون انعام آیت 92 میں بھی گزر چکا ہے، یہاں یہ آیتیں یہ واضح کرنے کے لیے آئی ہیں کہ قریش کی طرف سے برابر خدا کو کس طرح کے چیلنج پر چیلنج دیے جا رہے تھے اور پیغمبر کو زچ کرنے کے لیے کیا کیا شیخیاں بگھاری جا رہی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے چیلنج کے جواب میں ان پر عذاب نہیں بھیجا جس سے ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 30–32

30۔ 1 یہ اس سازش کا تذکرہ جو روسائے مکہ نے ایک رات دار الندہ میں تیار کی تھی اور بالاخر یہ طے پایا تھا کہ مختلف قبیلوں کے نوجوانوں کو آپ کے قتل پر مامور کیا جائے تاکہ کسی ایک کو قتل کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے بلکہ دیت دیکر جان چھوٹ جائے۔ 30۔ 2 چناچہ اس سازش کے تحت ایک رات یہ نوجوان آپ کے گھر کے باہر اس انتظار میں کھڑے رہے کہ آپ ﷺ باہر نکلیں تو آپ کا کام تمام کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سازش سے آگاہ فرمادیا اور آپ ﷺ کے نکلنے کا پتہ ہی نہیں لگا، حتیٰ کہ آپ غار ثور میں پہنچ گئے۔ یہ کافروں کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر تھی۔ جس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 30–32

18: یہ آیت آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ کررہی ہے، کفار مکہ نے جب یہ دیکھا کہ اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور مدینہ منورہ میں بڑی تعداد مسلمان ہوچکی ہے، تو انہوں نے ایک مجلس مشاورت منعقد کی اس میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں، یہ آیت ان تمام تجویزوں کا ذکر کررہی ہے، یعنی گرفتاری، قتل، اور جلا وطنی، آخر میں فیصلہ یہ ہوا تھا کہ مختلف قبیلوں سے ایک ایک نوجوان لے کر سب یکبارگی آپ ﷺ پر حملہ آور ہوں، اللہ تعالیٰ نے یہ ساری باتیں آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے بتادیں اور ہجرت کا حکم دے دیا، آپ کے گھر کا محاصرہ ہوچکا تھا، مگر آپ وہاں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اس طرح نکل آئے کہ وہ آپ کو نہ دیکھ سکے،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب یہاں سے آگے سیاق کلام میں کفار کے افعال اور احوال بیان کیے جاتے ہیں۔ ان کے دعوے اور ان کے اعترافات کا بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کا یہ دعویٰ بھی یہاں ریکارڈ کردیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ اس قسم کا کلام پیش کرسکتے ہیں جبکہ یہ قرآن ان کے زعم میں محض پرانے قصوں پر مشتمل کتاب ہے۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سعید ، سدی اور ابن جریج وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بات کہنے والا نضر ابن الحارث تھا۔ ” یہ ملعون فارس کے علاقوں میں پھرتا رہا تھا۔ اس نے ملوک فارس کی تاریخ اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر رکھے تھے۔ جب وہ فارس سے واپس ہوا تو حضور ﷺ کی بعثت ہوگئی تھی اور آپ لوگوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 نضر بن الحارث کہا کرتا تھا کہ ہم چاہیں تو قرآن جیسا کلام بنا لائیں اس میں قصے کہانیوں کے سوا کیا رکھا ہے۔ مگر قرآن تو سب جھگڑوں کا فیصلہ اسی بات پر رکھتا تھا۔ پھر چاہا کیوں نہیں ؟ کسی نے کہا تھا کہ میرا گھوڑا اگر چلے تو ایک دن میں لندن پہنچے، مگر چلتا نہیں۔ بہرحال پچھلی قوموں کے احوال سن کر کہا کرتے تھے کہ سب قصے کہانیاں ہیں۔ اب بدر میں دیکھ لیا کہ محض افسانے نہ تھے، وعدہ عذاب تم پر بھی آیا جیسا پہلوں پر آیا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذَآلا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں یہ قول نضر بن حارث سے منسوب ہے۔ لیکن ان کی اس طرح کی باتیں صرف کہنے کی حد تک تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو بار بار یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم لوگ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں سمجھتے تو تم بھی اسی طرح کا کلام بنا کرلے آؤ اور کسی ثالث سے فیصلہ کرا لو ‘ مگر وہ لوگ اس چیلنج کو قبول کرنے کی کبھی جرأت نہ کرسکے۔ اسی طرح پچھلی صدی تک عام مستشرقین بھی یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ محمد ﷺ نے تورات…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 نضر بن حارث کا قول کہ ہم بھی ایسا کلام لاسکتے ہیں :۔ یہ نضر بن حارث تھا جو روسائے قریش میں سے تھا اور فارس کی طرف تجارتی سفر کیا کرتا تھا وہ کہتا تھا کہ اس کلام کو ہم نے سن لیا ہے۔ اس میں سوائے قصے کہانیوں کے اور کیا رکھا ہے ہم چاہیں تو ایسا کلام لاسکتے ہیں۔ چناچہ وہ فارس سے رستم و اسفند یار کے قصے اٹھا لایا اور کہنے لگا کہ قرآن میں عاد اور ثمود کے قصے ہیں اور میرے پاس رستم و اسفند یار کے قصے ہیں۔ لیکن اس کی اس بات کو اس کے ہم مشرب کافروں نے بھی تسلیم نہ کیا۔ کیونکہ جب قرآن نے ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ کفار کو چیلنج کیا کہ اپنے تمام ادیبوں اور شاعروں کو اکٹھا کر کے قرآن جیسی ایک ہی سورت بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44 ۔ (اور کلام حق ہرگز نہیں) یہ کہنے والا کون تھا ؟ اہل تاریخ وسیر کا بیان ہے کہ یہ کہنے والانضر بن حارث تھا، اپنے زمانہ کا بڑا جہاندیدہ اور ” روشن خیال “ ایران جیسے مہذب ومتمدن ملک کی سیر کئے ہوئے، جیسے آج کا ” ولایت پلٹ “ ہندوستانی ! قد قیل ان قائل لذالک ھو النضربن الحارث کما قد قص علی ذالک سعید بن جبیر والسدی وابن جریج وغیرھم فانہ لعنہ اللہ کان قد ذھب الی بلاد فارس و تعلم من اخبار ملوکھم رستم واسفند یار (ابن کثیر) ھذا سے اشارہ دونوں جگہ قرآن مجید کی طرف ہے۔ (آیت) ” قالوا قد سمعنا۔۔۔ “۔ بولے کہ بس ہم نے سن لیا اور حال معلوم ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–32

وَاذایتلی عَلَیھم آیاتنا قالوا سَمِعْنا لو نشائُ لَقُلْنا مِثلَ ھذا، نضر بن حارث جو ایک چرب زبان تیز طرار قسم کا شخص تھا، اسی نے کہا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا قرآن بنا کر پیش کرسکتے ہیں، یہ وہی شخص ہے جس کو بدر کی لڑائی میں حضرت مقداد ؓ نے پکڑ لیا تھا باوجود اس کے کہ بدر کے قیدی فدیہ لے کر رہا کردیئے گئے تھے مگر نضربن حارث کو نبی ﷺ نے قتل کرادیا تھا کہ وہ قرآن مجید کی شان میں ناشائستہ اور سخت الفاظ کہا کرتا تھا، تجارت کے سلسلہ میں یہ شخص عجمی ممالک کا اکثر سفر کیا کرتا تھا جس کی وجہ سے رستم واسفندار کی داستانیں اس کو خوب یاد تھیں قرآن کے مقابلہ میں مشرکوں کو وہ داستانیں سنایا کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا اور جب ان کو ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں۔ یعنی نضر بن حارث کہتا ہے۔ چونکہ نضر کے قول پر سب راضی تھے ‘ اسلئے قول کی نسبت سب کی طرف کردی۔ جس طرح حضرت صالح کی اونٹنی کا قاتل صرف قدار بن سالف تھا مگر تمام قوم ثمود اس فعل پر راضی تھی ‘ اسلئے فَعَقَرُوْھَا میں کونچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کردی گئی۔ قد سمعنا لو نشاء لقلنا مثل ھذالا ہم نے (قرآن) سن لیا ‘ اگر ہم چاہیں تو ہم ایسا ہی (کلام) کہہ سکتے ہیں۔ ان کا یہ قول انتہائی عناد اور جاہلانہ خصوصیت کا مظہر تھا۔ دس سال تک قرآن ان کو مقابلہ کی دعوت دیتا رہا اور چیلنج کرتا رہا کہ اگر ایسا کلام بنا سکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(31) اور جب نضر بن حارث اور اس کی جماعت کے سامنے ہمارے احکام پڑھے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ تو ہم نے سن لیا اگر ہم ارادہ کریں تو جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں، اس جیسا ہم بھی کہہ سکتے ہیں محمد ﷺ جو کچھ کہتے ہیں وہ تو پہلے لوگوں کی بےبنیاد باتیں ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”واذا تتلی علیہم ایتنا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے حضرت سعید بن جبیر ؒ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط، طعیمۃ بن عدی اور نضر بن حارث کو قتل کروایا اور مقداد نے نضر کو قید کیا تھا جب نضر کی گردن مارنے کا آپ نے حکم فرمایا تو مقداد نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ یہ میرا قیدی ہے، آپ نے ارشاد فرمایا اس نے اللہ کی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا : ”اَسَاطِيْرُ“ یہ ”اُسْطُوْرَۃٌ، اُسْطَارَۃٌ، اُسْطِیْرَۃٌ“ کی جمع ہے، بےترتیب کہانیاں۔ (قاموس) ابن جریر نے فرمایا کہ ”سَطْرٌ“ کی جمع ”اَسْطُرٌ“ ہے اور اس کی جمع ”اَسَاطِيْرُ“ ہے۔ کفار کہتے تھے کہ یہ قرآن ہے ہی کیا، محض پہلے لوگوں کی بےترتیب فرضی کہانیاں ہیں۔ یہ انھوں نے محض جہل کی وجہ سے کہا، کیونکہ قرآن ترتیب وار تاریخ اور قصے بیان کرنے کے لیے نہیں، بلکہ نصیحت کے لیے اتارا گیا ہے، اس لیے جس مقام پر جس واقعے کے جس قدر بیان کی ضرورت تھی، بیان فرما دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر ان کا یہ اعتراض اور اس کا جواب اس مقام سے کچھ مفصل ذکر فرمایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 31 یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ تجارت کی غرض سے حیرہ کی طرف نکلا اور اس نے کلیلہ ودمنہ، کسری اور قیصر کی کہانیاں خرید لیں۔ جب رسول اللہ ﷺ ماضی کی اخبار بیان فرماتے تو نضر کہتا : اگر آپ چاہیں تو میں بھی اس کی مثل بیان کروں۔ اور یہ انتہائی بےشرم اور جھوٹا تھا۔ اور بعض نے یہ کہا ہے : بیشک وہ اس وہم میں پڑگئے کہ وہ اس کی مثل لا سکتے ہیں، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جادوگروں کو وہم ہوا تھا، پھر انہوں نے اس کا قصد کیا تو اس سے عاجز آگئے اور ازروئے عناد کہنے لگے : یہ تو فقط اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن عقبہ بن ابی معیط اور نضربن حارث کو قتل کرنے کے لئے بند کردیا۔ مقداد نے نضر کو قید کیا تھا جب اس کو قتل کا حکم دیا گیا تو مقداد نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ میرا قیدی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی کتاب کے بارے میں جو کہتا ہے سو کہتا ہے اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) واذا تتلی علیہم ایتنا قالوا قد سمعنا لونشاء لقلنا مثل ھذا ان ھذا الا اساطیر الاولین (31) 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ نضر بن حارث بار بار حیرہ (شہر) کی طرف جایا کرتا تھا اور وہاں رہنے والوں کی مقفی عبارت اور ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ تُتْلٰى عَلَيْهِمْ : پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] [ اٰيٰتُنَا : ہماری آیتیں ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ قَدْ سَمِعْنَا : ہم سن چکے ہیں ] [ لَوْ : اگر ] [ نَشَاۗءُ : ہم چاہیں ] [ لَقُلْنَا : تو ہم (بھی) ضرور کہہ لیں گے ] [ مِثْلَ هٰذَآ ۙ : اس کے جیسا ] [ اِنْ : نہیں ہے ] [ هٰذَآ : یہ ] [ اِلَّآ : مگر ] [ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ پہلے لوگوں کی کہانیاں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–33

مشرکین کا عناد اور جھوٹا دعویٰ کہ ہم بھی قرآن جیسا کلام کہہ سکتے ہیں قبیلہ بنی عبدالدار میں سے ایک شخص نضربن الحارث تھا یہ بھی رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ دشمنی رکھتا تھا۔ مشرکین مکہ قرآن مجید سنتے تھے اور اس کے مقابلہ میں کوئی ایک آیت لانے سے عاجز تھے۔ اس کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے جب ان کو چیلنج دیا گیا کہ اس کے مقابلہ میں ایک سورت بنا کر لاؤ تو عاجز رہ گئے۔ لیکن نضر بن الحارث نے ” کھسیانی بلی کھمبا نوچے “ کے طریقہ پر خفت مٹانے کے لیے یوں کہا کہ ” لَوْنَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ۔ “ (اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام کہہ دیں) مطلب یہ تھا کہ یہ بات نہیں کہ ہم عاجز ہیں کہہ تو سکتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–37

تفصیل مکائکفار در ابطال دین پروردگار قال اللہ تعالیٰ ٰ واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا قد سمعنا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ذات نبوی کے متعلق کفار کے کید اور مکر کا حال بیان فرمایا اب آئندہ آیات میں دین محمد کے بارے میں کفار کے کید ومکر کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ وہ دین اسلام کے مٹانے کے لیے کیا کیا حیلے اور بہانے تراشتے تھے اور کس طرح جان ومال سے اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت اور دشمنی کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار قریش کے تمرد اور عناد اور ان کے متکبرانہ دعاوی اور احمقانہ عادتوں کا بیان ہے اولئک ھم المخسروان۔ تک یہی مضمون چلا گیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

33: یہ شکوی ہے اور اس میں ان معاندین کے مستحق عذاب ہونے کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ جب ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتیں تو ان میں سے بعض مثلاً نضر بن حارث جیسے لوگ بول اٹھتے، جی سن لی ہیں ہم یہ آیتیں۔ ان میں پہلے لوگوں کے قصے ہی تو مذکور ہیں اور ایسے قصے تو ہم بھی بیان کرسکتے ہیں۔ نضر بن حارث کی فارس اور حیرہ میں آمد و رفت تھی اور وہ وہاں کے لوگوں سے عجمیوں کے قصے کہانیاں سنتا رہتا تھا۔ قرآن مجید میں انبیاء (علیہم السلام) اوردیگر گذشتہ اقوام کے قصے عبرت اور موعظت کی غرض سے ذکر کیے گئے ہیں اس ظالم اور کم فہم نے قرآن مجید کو محض قصوں اور کہانیوں ہی کی کتاب سمجھ لیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–34

ربط ِ آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فلاں کے پانچ اصول بیان فرمائے ہیں ، پانچواں اصول خوفِ خدا یعنی تقوی کا راستہ اختیار کرنا اور اسی کی ذات پر بھروسہ رکھنا ہے ، اگر اہل ایمان اس اصول پر کاربند رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہر چیز کو فیصلہ کن بنا دیگا اور یہ چیز ان کے باطن کے لحاظ سے نور بصیرت ہوگی ، ان کے دلوں میں احسان کی حالت راسخ ہوجائے گی ، حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا ہوگا اور خارجی دنیا میں ہر قسم کے شکوک و شبہات دفع ہوجائیں گے یہی تقوے کا نتیجہ ہے اور یہی مدار فلاح ہے ان کے لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوگی جس کی بین مثال غزوہ بد ہے ، اس جنگ میں کامیابی کے لیے اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذَآ۝ 0 ۙ اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۝ 31 تلاوة تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، لا يقال : تلوت رقعتک، وإنما يقال في القرآن في شيء إذا قرأته وجب عليك اتباعه . هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت[يونس/ 30] ، وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31] التلاوۃ ۔ بالخصوص خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں کے اتباع تلاوۃ کہا جاتا ہے کبھی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–35

ترکیب : واذیمکر اور اذ قالوا کا عامل عامہ مفسرین کے نزدیک اذکر ہے والا رجح ماذکرنا فی مقدمۃ تفسیر نا۔ واذ شرط قالوا جواب شرط۔ ان شرطیہ ھذا کان کا اسم الحق خبر ہے دونوں میں فاصل من عندک الحق کی صفت فامطر الی عذاب الیم جواب شرط مجموعہ مقولہ ہے قالوا کا۔ اللہم نداء ای یا اللہ۔ ان لایعذبہم ای فی ان لا یعذبھم فھو فی موضع نصب اوجر۔ صلاتہم جمہور صلوۃ کو بالرفع اور مکاء کو بالنصب پڑھتے ہیں اور اعمش بالعکس پڑھتے ہیں۔ مکاء کی ہمزہ و سے بدل ہے من مکایمکو 1 ؎۔ تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے قیام مکہ کی چند باتیں یاد دلاتا ہے جو مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں کہ ہم نے تم کو ان حوادث…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–32

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآئُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ لا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الانفال : 31) (اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں بس سن لیا اگر ہم چاہیں ہم بھی ایسا کلام پیش کردیں یہ تو بس اگلوں کی کہانیاں ہیں۔ ) قریش کا اسلام سے متعلق عام رویہ گزشتہ آیت کریمہ میں کافروں نے جس طرح آنحضرت ﷺ کی جان لینے اور اسلامی دعوت کو فنا کرنے کی تدبیر کی اور اللہ نے جس طرح اسے ناکام بنایا اس کا تذکرہ ہم نے پڑھا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ قریش نے اس آخری منصوبہ بندی سے پہلے بھی کوئی تدبیر ایسی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کفار کی دشمنی قرآن کی وجہ سے تھی۔ جس بنا پر کفار نے آپ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا ان کی عادت اور غلطی یہ تھی کہ وہ دل لگا کر قرآن سنتے ہی نہیں تھے اگر کسی طرح سن لیتے تو کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ رسول محترم ﷺ مشرکین مکہ کے سامنے قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے مختلف قسم کے بہانے بناتے اور الزامات لگایا کرتے تھے۔ ان الزامات میں ایک الزام یہ بھی تھا کہ محمد ﷺ اپنی طرف سے ایسا کلام بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتا ہے۔ حالانکہ اس پر کسی قسم کی وحی نازل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر انھیں یکے بعد دیگرے چیلنج دیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 31: آپ ﷺ قرآن پڑھتے اور اپنی قراءت میں گزشتہ زمانے کے واقعات ذکر کرتے۔ ایک دن نضر بن حارث کہنے لگا اگر میں چاہوں تو ایسے واقعات بیان کرسکتا ہوں۔ یہ فارس کے سفر میں رستم، اسفند یار اور عجمیوں کے قصے لے کر آتا اور لوگوں کو سناتا اس پر یہ آیت اتری۔ قرآن کے متعلق کفار کا تا ثر : وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ ٰایٰتُنَا (اور جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں) یعنی قرآن قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْنَشَآئُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (تو وہ کہتے ہیں سن لیا۔ اگر ہم ارادہ کریں تو ایسا ہی ہم بھی کہہ سکتے ہیں یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بےسند باتیں ہیں جو پہلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 31(واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا) یعنی نضر بن حارث (قد سمعنا لو نشآء لقلنا مثل ھذآ) کیونکہ نضر تجارت کی غرض سے فارس اور حیرۃ کی طرف جاتا رہتا تھا اور وہاں رستم اور اسفند یار کے قصے سنتا اور عجمیوں کی کہانیاں سنتا اور یہود و نصاریٰ پر گزرتا تو ان کو رکوع اور سجدہ میں دیکھتا اور یہ کہ وہ توریت اور انجیل پڑھتے ہیں تو وہ مکہ آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ بھی نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو نضر کہنے لگا ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس کی مثل کہہ لیں (ان ھذا انا اساطیر الاولین) گزشتہ امتوں کی خبریں اور نام ہیں اور جو کچھ انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھا۔ ” اساطیر اسورۃ “ کی جمع ہے بمعنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–32

31۔ 32۔ ایک شخص مشرکین مکہ میں نضر بن حارث تھا اس کو بدر کی لڑائی میں مقداد صحابی نے پکڑا تھا اور باوجود اس کے کہ بدر کے اور قیدی فدیہ لے کر چھوڑ دیے گئے مگر نضر بن حارث کو ایسی وجہ سے آنحضرت نے قتل کیا کہ وہ قرآن شریف کی شان میں ناشائستہ اور سخت الفاظ کہا کرتا تھا مجوس کے ملک کا سفر اس نضربن حارث نے اکثر کیا تھا اور رستم واسفند یار وغیرہ کی داستانیں اس کو خوب یاد تھیں۔ قرآن کے مقابلہ میں مشرکین کو وہ داستانیں سنایا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ کہو میرے قصے اچھے ہیں یا محمد ﷺ کے اور کہتا تھا چاہوں تو میں ایسا قرآن بنا سکتا ہوں اس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آگے کی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–33

آیت 30 یعنی اے رسول ﷺ ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، (واذیمکر بک الذین کفروا) ” جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں “ جب مشرکین مکہ نے ” دارلندوہ “ میں مشورہ کیا کہ رسول ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ (1) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کردیا جائے۔ (2) آپ کو قتل کردیا جائے تاکہ۔۔۔ بزعم خود۔۔۔ ہمیشہ کے لئے آپ سے نجات حاصل کرلیں۔ (3) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کردیا جائے۔ ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لعنہ اللہ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–32

فتنہ کا مفہوم قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

54 کفار کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ پوری ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے کہتے ہیں کہ ہاں صاحب ہم نے سن لیا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام بنا کرلے آئیں۔ تو یہ محض قصے کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی۔ سو یہ لوگ محض عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر ایسا کہتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی بات کہتے ہیں اپنے جہل وعناد کی بناء پر۔ جیسا کہ نضربن الحارث جیسے رو ساء کفار کا کہنا تھا۔ جبکہ اندر سے یہ لوگ خوب جانتے تھے کہ ہم جھوٹے ہیں اور قرآن حکیم کا مقابلہ ہمارے بس میں نہیں۔ اور قرآن کے چیلنج کے مقابلے میں ان کی اور سب دنیا کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–34

عذاب کا مطالبہ اور عذاب نہ آنے کی وجہ تشریح : یہ آیات اس زمانہ کے حالات بتا رہی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تھی 610 عیسوی میں غار حرا میں پہلی وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ توحید کی تعلیم اہل مکہ کے لیے بڑی عجیب و غریب تھی۔ اس لیے اکثریت میں لوگ آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے تب 622 ء میں آپ نے مدینہ ہجرت کی۔ 1 ہجری 14 نبوت تھی۔ ہجرت سے پہلے کے حالات یہ تھے کہ جب آپ ﷺ لوگوں کو قرآنی آیات پڑھ کر سناتے تو کفار مکہ لاپروائی سے کہتے کہ یہ کوئی بڑے کمال کی آیات نہیں ہیں ہم تو اس سے اچھا کلام سنا سکتے ہیں اور پھر دوسرا اعتراض یہ کرتے کہ کیا رکھا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–37

آیات 29 تا 37 اسرار و معارف تقوی کے ثمرات اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 جمہور مفسرین کے قول کے مطابق یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ ایران کا سفر کر تارہتا تھا اس لیے اس نے رستم اور اسفند یا رو غیر کی کہانیاں یاد کرلی تھیں ایک مرتبہ مکہ آیا اور قرآن سنا تو وہ بات کہنے لگا جس کا اس آیت میں مذکور ہے۔ ( کبیر۔ ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 31–32

(8:31) اساطیر۔ کہانیاں ۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ اسطورۃ کی جمع۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–33

آیات : 30 تا 33 لغات القرآن۔ یمکر۔ وہ تدبیر کرتا ہے۔ لیثبوک۔ تاکہ وہ تجھے قید کرلیں۔ خیر الماکرین۔ بہترین تدبیر کرنے والا۔ اساطیر۔ (اسطورۃ) ۔ پرانی کہانیاں۔ لکھی ہوئی چیز۔ اللھم۔ میرے اللہ۔ امطر۔ برسادے۔ حجارۃ۔ (حجر) ۔ پتھر۔ انت فیھم۔ تو ان میں ہے ) (آپ ﷺ ان میں ہیں) ۔ یستغفرون۔ وہ معافی مانگتے ہیں۔ تشریح : وہ آخری دن جب آپ ﷺ ہجرتے سے پہلے شہر مکہ میں تھے۔ اور بہت سے صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے حبشہ اور دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے کفار مکہ آثار و قرائن سے یقین کرچکے تھے کہ اب حضرت محمد ﷺ بھی ہجرت کر جانے والے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہجرت کی صورت میں ان کے سامنے کیا کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–32

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کی بددعا ابوجہل اور بضر بن حارث نے کی تھی، اس طرح کی بددعا مسلمان شخص کو کسی حال میں جائز نہیں ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–40

[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–32

(ف 1) یعنی یہ لوگ قرآن کی عظمت حقیقی سے آگاہ نہ ہوسکے ، قرآن کو جب سنتے ، تو کہتے قصے کہانیاں ہیں ، ہم بھی اس طرح کے قصے بیان کرسکتے ہیں ۔ مگر یہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ قبول کریں ، یا قرآن کے مقاصد اصلیہ تک ان کی رسائی ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

31 اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اور ان کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں بس جی ہم نے سن لیا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسا کہہ سکتے ہیں اور اس جیسا قرآن بناسکتے ہیں یہ تو کچھ بھی نہیں محض گزشتہ لوگوں کے بےسروپا قصے اور کہانیاں ہیں۔ یعنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں کہ بس جی ہم نے سن لیا یہ تو کوئی معجزہ نہیں ہم اگر چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام بناسکتے ہیں یہ تو بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں اور پہلے لوگ بھی جنت و دوزخ اور مرکر جی اٹھنے کا ذکر کیا کرتے تھے اور پہلی ملتوں میں بھی یہ قصے سنائے جاتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہمیشہ یہ کہتے تھے اب…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آیات الٰہی کو سن کر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم چاہیں تو ایسی باتیں ہم بھی کہہ سکتے ہیں : 43: وہ ڈینگیں مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہماری پہلے ہی سنی ہوئی ہیں اگر چاہیں تو ہم بھی اس طرح کی باتیں کہہ سکتے ہیں۔ آخر ان میں ہے ہی کیا۔ پچھلے سرسڑوں کی باتیں ہی تو ہیں ؟ جب ان کو کہا جاتا کہ تم ان باتوں کا جواب کیوں نہیں دیتے تو ان کا جواب یہی ہوتا کہ اس طرح تو یہ تہریک مزید پھیلے گی اور لوگ اس میں دلچسپی لینے لگیں گے۔ پس اس باتیں سن کر ان سنی کردو گے تو یقیناً یہ تحریک آج نہیں تو کل اپنی موت آپ مرجائے گی اس طرح نہ بانس رہے گا نہ بانسری بجے گی۔ دیکھو آخر اس کی ساری باتیں ہی تو تمہارے باپ داد کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Mentioned in verses 31 and 32 is the absurd remark made by Nadr ibn Harith, a participant of the same meeting at Dar al-Nadwah, with its reply appearing in verse 33. Nadr ibn Harith was a businessman who used to travel to different countries where he had repeated opportunities of seeing religious books of the Jews and Christians as well as witnessing their modes of worship. When he heard about the accounts of past communities appearing in the Holy Qur'an, he said: قَد سَمِعنَا لَونَشَآءُ لَقُلنا مِثلَ ھٰذَآ اِن ھٰذآ اِلَّا اَسَاطیرُ الاَوَّلِینَ (we have heard, if we wish, we can say…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–31

25. Apprehending the Prophet's migration to Madina, the Quraysh convened a high-level council attended by all the tribal chiefs at Dar al-Nadwah (Council House) to decide on a decisive course of action against the Prophet (peace be on him). They realized that once the Prophet (peace be on him) left Makka, he would be beyond their reach, rendering them helpless in face of a formidable threat. A group of them was of the view that the Prophet (peace be on him) should be imprisoned for life and kept in chains. This proposal was, however, turned down on the ground that the Prophet's detention…

Read the full tafseer →